Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 10

 
رات کا سایہ اسلام آباد کے پرسکون در و دیوار پر پھیل چکا تھا۔ رحال شیخ کے گھر کی فضا میں مصالحوں کی بھینی بھینی خوشبو رچی بسی تھی جو کچن سے اٹھ کر پورے گھر میں پھیل رہی تھی۔ باورچی خانے کا منظر آج بہت مصروف تھا، جہاں گھر کی خواتین رات کے کھانے کی تیاری میں مگن تھیں۔

رحال کچن کے کاؤنٹر پر بیٹھی نہایت نفاست سے سبزیاں کاٹ رہی تھی۔ اس کے گورے ہاتھوں میں چھری کی روانی اس کی طبیعت کے ٹھہراؤ کی عکاسی کر رہی تھی۔ اس نے سفید رنگ کا سادہ سوتی سوٹ پہن رکھا تھا اور بال ایک ڈھیلی سی چوٹی میں بندھے ہوئے تھے، مگر چند آوارہ لٹیں بار بار اس کی پیشانی پر آ کر اسے تنگ کر رہی تھیں۔
اس کی والدہ، سلیماں بیگم، چولہے کے پاس کھڑی سالن کو تڑکا لگا رہی تھیں۔ انہوں نے مڑ کر رحال کو دیکھا جو گم صم سی گاجریں کاٹ رہی تھی۔
رحال بیٹا! کیا بات ہے؟ آج تم بہت خاموش ہو۔ یونیورسٹی میں سب ٹھیک تو تھا نا؟”
رحال نے ایک لمبا سانس لیا اور گردن ہلا کر مسکرانے کی کوشش کی۔ “جی مما، سب ٹھیک تھا۔ بس تھوڑی تھکن ہو گئی ہے۔”
مگر رحال کا ذہن وہیں یونیورسٹی کے اس کوریڈور میں اٹکا ہوا تھا جہاں وہ قیسن سے ٹکرائی تھی۔ قیسن کی وہ نیلی آنکھیں، ان میں چھپا وہ کرب اور وہ اعتراف کہ “محبوب کی بھی بھلا کوئی غلطی ہوتی ہے کیا”، رحال کے دل پر کسی بوجھ کی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ اسے علی مصطفیٰ سے اپنی عقیدت اور محبت پر پورا یقین تھا، مگر قیسن کے ان لفظوں نے اسے ایک عجیب سی خلش میں مبتلا کر دیا تھا۔ اسے رہ رہ کر خیال آ رہا تھا کہ کیا واقعی کسی کی محبت اتنی بے بس ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی شکست کا اعتراف اتنی ڈھٹائی اور دکھ کے ساتھ کرے؟
اس نے گاجر کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اسے بے خیالی میں کاٹنے لگی۔ اسے علی مصطفیٰ کا وہ سنجیدہ اور رعب دار چہرہ یاد آیا جو ہمیشہ اسے اپنی طرف کھینچتا تھا، مگر آج پہلی بار اس کے مقابل قیسن کا وہ لرزتا ہوا لہجہ آ کھڑا ہوا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ محبت آخر انسان کو اتنا مجبور کیوں کر دیتی ہے؟
دوسری طرف اوپر کے کمرے میں معراج ابھی ابھی بیکری سے لوٹی تھی۔ وہ شاور لے کر تازہ دم ہو رہی تھی۔ آج کا دن اس کے لیے بہت مختلف تھا۔ برہان کے ساتھ وہ نوک جھونک، وہ کافی کی پیالی اور پھر وہ گہری گفتگو۔۔۔ معراج آئینے کے سامنے کھڑی اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کر رہی تھی اور اس کے لبوں پر ایک خود بخود مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ اسے برہان کا وہ جملہ یاد آیا، “میں تو زن مرید بننے کو بھی تیار ہوں”۔ وہ ہنسی تو اس کے گالوں پر پڑے گڑھے مزید گہرے ہو گئے۔ اس کے لیے یہ سب نیا تھا، مگر اسے یہ احساس بہت اچھا لگ رہا تھا۔

لاؤنج میں فرحان صاحب اپنے دونوں بیٹوں، سلمان اور عثمان کے ساتھ بیٹھے کسی دفتری میٹنگ کے سلسلے میں فائلیں دیکھ رہے تھے۔
“دیکھو سلمان! کل کی میٹنگ بہت اہم ہے۔
نہ جانے کیوں عثمان کو ایک خیال دماغ میں ایا ۔۔۔ کو خود کو روک نہ سکا اور اپنے بابا سے پوچھا ۔۔۔عثمان نے ایک فائل اٹھاتے ہوئے پوچھا، “پاپا، کیا علی اسلام آباد آ رہے ہیں؟ سنا ہے وہ اپنے نئے پرفیوم کے سلسلے میں یہاں ایک بڑی لانچنگ تقریب کرنا چاہتے ہیں۔”
فرحان صاحب نے سر ہلایا۔ “ہاں، امکان تو ہے۔ اگر وہ آیا تو ہمارے گھر ہی رکے گا۔” لیکن اس کو اور بہت کام ہے اُس کے انے کے امکان بہت کم لگتے ہے مجھے تو ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد سلیماں بیگم نے آواز لگائی، “کھانا لگ گیا ہے، سب آ جائیں!”
معراج سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی، اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ “واہ مما! آج تو خوشبو بتا رہی ہے کہ کچھ خاص بنا ہے۔”
سب دسترخوان پر جمع ہو گئے۔ رحال خاموشی سے پلیٹیں رکھ رہی تھی۔
کھانے کے دوران معراج برہان کے قصے سنانے لگی، جس پر سلمان اور عثمان اس کا مذاق اڑانے لگے مگر رحال مسلسل اپنی پلیٹ میں لقمے گنتی رہی۔ اس کے ذہن میں بار بار قیسن کا وہ جملہ گونج رہا تھا: “اس کہانی میں وہ ادھورا کردار قیسن کامیار ہی کیوں نہ ہو؟”
رات کا کھانا ختم ہوا، مگر رحال کے دل کی بے چینی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ سب کے سونے کے بعد بالکونی میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں دعا کی، “یا اللہ! میرے لیے وہ راستہ منتخب کر جو میرے لیے بہتر ہو۔ مجھے اس الجھن سے نکال دے۔”
وہ نہیں جانتی تھی کہ علی مصطفیٰ کا وقار، برہان کی اپنائیت اور قیسن کا جنون، یہ تینوں اس کی زندگی میں ایک ایسا طوفان لانے والے ہیں جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔

رات کی تاریکی نے لاہور کے مضافات میں واقع “مصطفیٰ محل” کو اپنی آغوش میں لے رکھا تھا۔ یہ محل نما بنگلہ علی مصطفیٰ کی محنت، اس کے ذوق اور اس کی بے پناہ دولت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ بلند و بالا ستون، سنگِ مرمر کے فرش اور باغ میں جابجا لگے سفید گلابوں کے پودے چاندنی میں نہائے ہوئے کسی خواب کا منظر پیش کر رہے تھے۔

رات کے گیارہ بج رہے تھے جب علی کی کالی لینڈ کروزر مصطفیٰ محل کے آہنی گیٹ کے سامنے آ کر رکی۔ گارڈ نے مستعدی سے سلیوٹ کیا اور بھاری دروازہ ایک گھرراہٹ کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ گاڑی پورچ میں آ کر رکی، جہاں پیلی روشنیوں نے گاڑی کے چمکتے ہوئے باڈی ورک کو مزید نمایاں کر دیا۔
علی نے گاڑی بند کی اور چند لمحے وہیں بیٹھا رہا۔ اس کا سر اسٹیئرنگ پر تھا، دن بھر کی تھکن، دفتر کی رینوویشن کے مسائل، ہانیہ کی وہ جذباتی باتیں اور پھر پرفیومز کے نئے فارمولے—اس کا دماغ جیسے معلومات کا ایک بوجھل رجسٹر بن چکا تھا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا، اپنے کوٹ کا بٹن کھولا اور گاڑی سے باہر نکلا۔
اندر داخل ہوتے ہی ہال کی خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔ یہ خاموشی علی کو پسند تھی، مگر کبھی کبھی یہ اسے کاٹنے کو دوڑتی تھی۔ اس کی والدہ، زرینہ بیگم، لاؤنج میں تسبیح لیے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
“السلام علیکم امی!” علی نے ان کے پاس جا کر ان کے سر پر بوسہ دیا۔
“وعلیکم السلام میرے شیر! بہت دیر کر دی آج تم نے۔ چہرہ بتا رہا ہے کہ بہت تھک گئے ہو،” زرینہ بیگم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے محبت سے کہا۔
“بس امی، کام کا بوجھ ذرا زیادہ تھا۔ میں ذرا تازہ دم ہو کر آتا ہوں، پھر کھانا کھاتے ہیں،” علی نے مختصر جواب دیا اور بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
علی کا کمرا اس کی شخصیت کا عکس تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ پر، کوئی بے ترتیبی نہیں، دیواروں پر گہرے رنگوں کا استعمال اور کمرے کے ایک کونے میں رکھی ہوئی وہ بڑی سی میز جہاں وہ اپنے عطر کے تجربات کرتا تھا۔ اس نے اپنی سفید قمیض کے کف لنکس کھولے اور آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ تھکن کے باوجود اس کی آنکھوں کی چمک برقرار تھی—وہی وقار جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔
تازہ دم ہونے کے بعد وہ باہر نکلا۔ کھانے کی میز لگ چکی تھی۔ علی اور اس کی والدہ دسترخوان پر آمنے سامنے تھے۔ پورے گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف چمچوں کے برتن سے ٹکرانے کی آواز آ رہی تھی۔ علی خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا، اس کا ذہن ابھی بھی اپنی نئی ایجاد ‘رحال’ پرفیوم کی خوشبو کے گرد گھوم رہا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس خوشبو میں ابھی وہ ‘کمی’ باقی ہے جو اسے مکمل کر سکے۔
زرینہ بیگم اسے دیکھ رہی تھیں، وہ جانتی تھیں کہ ان کا بیٹا جسمانی طور پر یہاں ہے مگر ذہنی طور پر وہ کسی اور ہی دنیا میں مقیم ہے۔ انہوں نے اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ علی کو کھانے کے دوران خاموشی پسند ہے۔
کھانے کے بعد علی باورچی خانے میں چلا گیا۔ اس کے گھر میں ملازمین کی فوج تھی، مگر کافی وہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے بنانا پسند کرتا تھا۔ کافی مشین کی گھرگھراہٹ خاموش کچن میں گونجی۔ بھاپ اڑتی ہوئی کافی کی خوشبو نے اس کے اعصاب کو تھوڑا سکون پہنچایا۔ وہ مگ پکڑ کر اپنے کمرے میں واپس آ گیا۔
کمرے میں آ کر اس نے بالکونی کا دروازہ کھول دیا۔ لاہور کی ٹھنڈی ہوا اندر داخل ہوئی۔ اس نے کافی کا ایک سپ لیا اور اپنی میز کی دراز سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی۔ یہ وہ خاص عطر تھا جو اس نے رحال کے لیے تیار کیا تھا۔ اس نے اسے اپنی کلائی پر لگایا اور آنکھیں بند کر کے اس کی مہک کو اپنے اندر اتارنے لگا۔
اس خوشبو میں صندل تھا، مشک تھا، اور ایک ایسی مہک تھی جو اسے اسلام آباد کے ان پرسکون درختوں کی یاد دلاتی تھی جہاں رحال رہتی تھی۔ علی کے لبوں پر ایک ادھوری سی مسکراہٹ آئی۔ اس کے لیے رحال صرف ایک نام نہیں تھا، وہ ایک ایسا معیار تھا جسے پانے کے لیے اس نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔
اس نے لیپ ٹاپ کھول لیا رات گہری ہوتی جا رہی تھی، کافی کا مگ خالی ہو چکا تھا، مگر علی کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔ اس کو بھی لیپ ٹاپ پر بہت کام کرنا تھا۔۔۔۔۔۔

سورج کی پہلی کرن نے ابھی اسلام آباد کی پہاڑیوں کو چھوا ہی تھا کہ کامیار صاحب کے پرتعیش بنگلے میں زندگی کی رمق جاگنے لگی، مگر اس گھر کا سب سے شوخ اور چنچل چراغ، قیسن، آج بجھا بجھا سا تھا۔ رات بھر کی بے خوابی اس کی نیلی آنکھوں کے گرد ہلکے سائے بن کر ابھر آئی تھی۔
قیسن آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے سفید شرٹ پہن رکھی تھی جس کے اوپر کے دو بٹن کھلے تھے اور سیاہ پینٹ اس کی قد آور شخصیت پر جچ رہی تھی، مگر آج اس کے چہرے پر وہ مخصوص مسکراہٹ نہیں تھی جو آئینے کو بھی شرما دیا کرتی تھی۔ اس کے بال، جو وہ ہمیشہ بہت نفاست سے سنوارتا تھا، آج بے ترتیبی سے اس کی چوڑی پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے ایک بار بھی کنگھی اٹھانے کی زحمت نہیں کی، جیسے اسے اپنے حلیے سے کوئی غرض ہی نہ رہی ہو۔
اس کی آنکھوں میں وہ شرارتی چمک غائب تھی جو کبھی قیسن کامیار کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ آج وہاں صرف ایک ٹھہرا ہوا سمندر تھا، جس کی تہوں میں دکھ اور اداسی کی کئی چٹانیں چھپی تھیں۔ اس نے بوجھل دل کے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ بیگ کندھے پر ڈالا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
لاؤنج میں کامیار صاحب اخبار لیے بیٹھے تھے، مگر ان کی نظریں مسلسل سیڑھیوں پر جمی تھیں۔ جیسے ہی قیسن نیچے آیا، کامیار صاحب کا دل اس کی مرجھائی ہوئی رنگت دیکھ کر کٹ کر رہ گیا۔
“قیسن! بیٹا، آج تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ آج یونیورسٹی نہ جاؤ، گھر پر آرام کر لو،” کامیار صاحب نے فکر مندی سے کہا۔
قیسن کے قدم ایک لمحے کو رکے۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، اس کی نظریں اتنی خالی تھیں کہ کامیار صاحب تڑپ اٹھے۔ “نہیں بابا، آج جانا لازمی ہے۔ ایک بہت ضروری اسائنمنٹ ہے جو آج جمع کروانی ہے، ورنہ سمسٹر میں مشکل ہو جائے گی۔”
اس کی آواز میں وہ ہمک اور توانائی نہیں تھی، بس ایک سپاٹ پن تھا۔ کامیار صاحب کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر قیسن ان کا جواب سنے بغیر ہی باہر کی طرف بڑھ گیا۔ پورچ میں کھڑی اس کی تیز رفتار گاڑی کا انجن گرجا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بنگلے کے بھاری گیٹ سے باہر نکل گیا۔ سڑکوں پر ٹریفک ابھی کم تھا، قیسن نے رفتار بڑھا دی، جیسے وہ اپنی ہی سوچوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہو۔
یونیورسٹی کا گیٹ ابھی کھلا ہی تھا کہ قیسن کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ وہ خاموشی سے گاڑی پارک کر کے سیدھا اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف چل دیا۔ وہ طالب علم جو اسے دور سے دیکھ کر ہاتھ لہراتے تھے، آج اس کی سنجیدگی دیکھ کر پاس آنے کی ہمت نہ کر سکے۔
قیسن کلاس روم میں داخل ہوا تو وہاں چند ہی طالب علم موجود تھے۔ اس کی نظریں غیر ارادی طور پر اس مخصوص نشست کی طرف اٹھیں جہاں رحال (رحال) بیٹھی تھی۔ رحال اپنی کتابوں میں گم تھی، اس کے سامنے کاغذات پھیلے ہوئے تھے اور وہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ قیسن نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور خاموشی سے پچھلی نشستوں میں سے ایک پر جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا بیگ میز پر رکھا اور سر اس پر ٹکا لیا، جیسے وہ دنیا سے کٹ جانا چاہتا ہو۔
تھوڑی دیر میں کلاس پوری بھر گئی اور پروفیسر ہاشمی کمرے میں داخل ہوئے۔ آج کا لیکچر نیورولوجی کے ایک پیچیدہ موضوع “برین ٹیومرز” (Brain Tumors) کے بارے میں تھا۔ پروفیسر نے وائٹ بورڈ پر انسانی دماغ کی ساخت بنانا شروع کی اور نہایت تفصیل سے ٹیومر کے خلیات کی نشوونما اور ان کے اثرات پر گفتگو کرنے لگے۔
رحال ہمیشہ کی طرح ایک مثالی طالب علم تھی۔ پروفیسر کا ایک ایک لفظ اس کے لیے اہمیت رکھتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا پین کاغذ پر تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ وہ ٹیومر کی مختلف اقسام، جیسے گلیوما (Glioma) اور مینیجیوما (Meningioma) کے نوٹس بنا رہی تھی۔ اس کی پوری توجہ اس وقت میڈیکل کی ان پیچیدگیوں پر تھی کہ کس طرح ایک چھوٹا سا غیر ضروری خلیہ پورے انسانی جسم کے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔
“اگر ٹیومر بروکاز ایریا (Broca’s area) کے قریب ہو، تو مریض کی قوتِ گویائی متاثر ہو جاتی ہے،” پروفیسر کی آواز گونجی۔
رحال نے یہ نکتہ تیزی سے ڈائری میں نوٹ کیا۔ اسے علم تھا کہ زندگی کتنی نازک ہے، مگر اسے یہ احساس نہیں تھا کہ اس کے پیچھے چند نشستیں چھوڑ کر ایک ایسا انسان بیٹھا ہے جس کے دل میں ایک ایسا جذباتی ٹیومر پرورش پا رہا ہے جس کا علاج شاید میڈیکل کی کسی کتاب میں نہیں تھا۔
قیسن نے سر اٹھایا اور رحال کی پشت کو دیکھا۔ وہ کتنی سکون میں تھی، اپنے کام میں کتنی مگن! اسے علی مصطفیٰ کی محبت کا یقین تھا، اسے اپنی منزل کا پتہ تھا، اسی لیے اسے بھٹکنے کا ڈر نہیں تھا۔ قیسن کو لگا جیسے اس کا اپنا دماغ کسی ٹیومر کی زد میں ہے—ایک ایسا ٹیومر جو صرف یادوں اور ناامیدی سے بنا تھا۔ اسے پروفیسر کی باتیں دور کہیں گونجتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
“جس طرح دماغ کا ٹیومر انسان کے ہوش و حواس چھین لیتا ہے، اسی طرح یکطرفہ محبت انسان کی روح کو مفلوج کر دیتی ہے،” قیسن نے تلخی سے سوچا۔
پروفیسر ہاشمی اب ٹیومر کے علاج اور سرجری کے مراحل بتا رہے تھے، مگر قیسن کی نظریں اب بھی رحال کے ان بکھرے بالوں پر جمی تھیں جو اس کے دوپٹے سے باہر نکل کر اس کی گردن کو چھو رہے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا کبھی ایسا ممکن ہوگا کہ رحال مڑ کر اسے دیکھے اور اسے اس کی آنکھوں میں چھپی وہ سچائی نظر آئے جسے وہ “اوقات” اور “معیار” کے نام پر ٹھکرا چکی تھی؟
کلاس میں خاموشی تھی، صرف پروفیسر کی آواز اور طلبہ کے پین چلنے کی سرسراہٹ تھی۔ رحال کے کاغذات تیزی سے بھرتے جا رہے تھے، وہ علم کی جستجو میں تھی، اور قیسن، جو کبھی اس کلاس کا سب سے روشن ستارہ تھا، آج ایک بجھے ہوئے چراغ کی مانند کونے میں پڑا اپنی بربادی کا تماشہ دیکھ رہا تھا۔
لیکچر ختم ہوا تو پروفیسر نے کچھ اسائنمنٹس کا ذکر کیا اور کلاس سے باہر نکل گئے۔ طلبہ اٹھنے لگے، مگر قیسن وہیں بیٹھا رہا۔ رحال نے اپنی فائلیں سمیٹی، اپنا بیگ کندھے پر ڈالا اور اٹھ کر باہر جانے لگی۔ اس کے قدموں کی چاپ قیسن کے دل کی دھڑکنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ جیسے ہی وہ قیسن کے قریب سے گزری، اس نے ایک لمحے کے لیے رک کر قیسن کی طرف دیکھا۔
قیسن نے نظریں نہیں اٹھائیں، مگر اسے محسوس ہوا کہ رحال وہاں رکی ہے۔ رحال کے دل میں ایک عجیب سی لہر اٹھی، اسے قیسن کی یہ خاموشی اور یہ بکھرا ہوا حلیہ دیکھ کر تھوڑا دکھ ہوا، مگر اس نے کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی سے باہر نکل گئی۔
قیسن نے جب دیکھا کہ وہ جا چکی ہے، تو اس نے ایک لمبا اور تکلیف دہ سانس خارج کیا۔ آج کا لیکچر اس نے جسمانی طور پر تو سن لیا تھا، مگر ذہنی طور پر وہ ایک ایسی جراحی (Surgery) سے گزر رہا تھا جہاں اس کے خوابوں کو ایک ایک کر کے کاٹ کر الگ کیا جا رہا تھا۔….

سورج کی تپتی روشنی جب لاہور کے “مصطفیٰ محل” کے ریشمی پردوں کو چیر کر اندر داخل ہوئی، تو خوابوں کی وادی میں گم علی مصطفیٰ نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ اس کی پہلی نظر دیوار پر لگی قدیم اطالوی گھڑی پر پڑی۔ سوئیوں کی پوزیشن دیکھتے ہی علی کے چہرے پر ایک جھٹکا سا لگا۔
“نو بج گئے؟” اس نے بڑبڑاتے ہوئے گھڑی کو دوبارہ دیکھا۔ علی، جو ہمیشہ وقت سے پہلے کام شروع کرنے کا عادی تھا، آج بری طرح لیٹ ہو چکا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھا، اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو پیچھے جھٹکا اور تیزی سے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ آج اس کے پاس سوٹ پہننے یا ٹائی کی نفاست سنوارنے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے نہایت عجلت میں شاور لیا اور الماری سے ایک سادہ سی سفید شرٹ اور گہرے نیلے رنگ کا ٹراؤزر نکالا۔ بالوں کو بس انگلیوں سے ترتیب دیا اور گھڑی پہنتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے قدموں کی چاپ میں ایک اضطراب تھا۔ لاؤنج میں زرینہ بیگم ناشتے کی میز پر اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
“امی! آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟” علی نے اپنی کلائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھوڑے شکوے سے پوچھا۔ “آپ کو پتہ ہے نا آج رینوویشن کے اہم فیصلے ہونے ہیں اور نئی کلیکشن کی میٹنگ ہے۔ میں بہت لیٹ ہو گیا ہوں۔”
زرینہ بیگم نے محبت سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ “بیٹا، کل رات تم بہت تھکے ہوئے اور پریشان لگ رہے تھے۔ میں نے سوچا اگر تھوڑی دیر سکون سے سو لو گے تو دن بہتر گزرے گا۔ ماں کا دل ہے نا، کام سے زیادہ تمہارا سکون عزیز ہے۔”
علی کے چہرے کی سختی تھوڑی مدھم پڑی، مگر اس کی گھبراہٹ کم نہ ہوئی۔ “امی، آپ کا پیار اپنی جگہ، مگر پروفیشنل لائف میں ایک منٹ کی تاخیر بھی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ اب میں جا رہا ہوں، اللہ حافظ۔”
“ارے کھانا تو کھا لو علی! خالی پیٹ کام کیسے کرو گے؟” انہوں نے آواز دی، مگر علی تب تک پورچ کی طرف جا چکا تھا۔
“نہیں امی، بالکل وقت نہیں ہے۔ رات کو ملیں گے کھانے پر۔” اس نے پیچھے مڑے بغیر جواب دیا اور اپنی لینڈ کروزر میں جا بیٹھا۔ انجن کی گرج کے ساتھ ہی گاڑی کسی تیر کی طرح گیٹ سے باہر نکل گئی۔…

جب علی کی گاڑی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے رکی، تو گارڈز نے مستعدی سے گیٹ کھولا۔ علی گاڑی سے اترا اور تیز قدموں سے مین ہال کی طرف بڑھا۔ اس کے چلنے کے انداز میں وہ مخصوص وقار تھا جو لوگوں کو خود بخود راستہ دینے پر مجبور کر دیتا تھا۔ اسٹاف کے لوگ اسے دیکھ کر احتراماً کھڑے ہو گئے، مگر علی کے پاس آج جوابی مسکراہٹ کا وقت نہیں تھا، وہ محض سر ہلا کر آگے بڑھتا گیا۔
ہانیہ، جو پہلے سے ہی آئی پیڈ (iPad) ہاتھ میں لیے لابی میں کھڑی تھی، علی کو دیکھتے ہی اس کے پیچھے بھاگنے لگی۔
“گڈ مارننگ سر! آج کا شیڈول کافی ٹائٹ ہے۔ ساڑھے گیارہ بجے ڈیزائننگ ٹیم کے ساتھ میٹنگ ہے، دو بجے سپلائرز کے ساتھ لنچ ہے اور شام کو پیکیجنگ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ لینی ہے،” ہانیہ نے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے بریفنگ دینا شروع کی۔
علی خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کی نظریں سیدھی سامنے تھیں اور وہ سیدھا اس ڈیپارٹمنٹ کی طرف مڑ گیا جہاں “پھولوں کے عطر” تیار کیے جاتے تھے۔
“ہانیہ، پہلے ہم ایکسٹریکشن یونٹ (Extraction Unit) جائیں گے۔ مجھے وہ نئی ‘ٹیوب روز’ (گلِ شب بو) کی کھیپ چیک کرنی ہے،” علی نے کٹیلی آواز میں کہا۔
جیسے ہی وہ اس مخصوص یونٹ میں داخل ہوئے، ہوا میں ہزاروں پھولوں کی آمیزش سے بنی ایک سحر انگیز مہک نے ان کا استقبال کیا۔ یہاں بڑے بڑے چاندی کے رنگ کے ٹینک لگے تھے جن میں مختلف درجہ حرارت پر پھولوں سے تیل نکالا جا رہا تھا۔.
علی ایک ٹینک کے پاس رکا اور وہاں موجود کیمسٹ سے سوال کیا، “اس کھیپ کا پی ایچ (pH) لیول کیا ہے؟ مجھے خوشبو میں تھوڑی سی کڑواہٹ محسوس ہو رہی ہے۔”
کیمسٹ نے تھوڑی گھبراہٹ میں رپورٹ دکھائی۔ علی نے ایک شیشی میں موجود سیمپل کو سونگھا۔ اس کی گھان (Sense of Smell) اتنی تیز تھی کہ وہ ایک سیکنڈ میں بتا سکتا تھا کہ خوشبو میں کس چیز کی کمی ہے۔
“اس میں لیوینڈر کا تناسب 2 فیصد زیادہ ہے۔ اسے بیلنس کرو،…
ہمیں پرفیوم میں ایک خاص نزاکت چاہیے، تیکھا پن نہیں،” علی نے ہدایت دی اور ہانیہ کو اشارہ کیا کہ وہ یہ نوٹ کر لے۔
وہاں سے نکل کر وہ لفٹ کی طرف بڑھے۔ ہانیہ نے بٹن دبایا اور وہ دونوں لفٹ میں سوار ہو گئے۔ لفٹ کی بند فضا میں ہانیہ کو علی کے وجود سے اٹھنے والی وہ خاص خوشبو محسوس ہوئی جو علی نے خود اپنے لیے تیار کی تھی۔
علی نے لفٹ کے آئینے میں اپنا عکس دیکھا اور پھر ہانیہ کی طرف مڑا۔ “ہانیہ، پیکیجنگ ہی وہ پہلی چیز ہے جو کسٹمر کو متوجہ کرتی ہے۔ آج ہمیں کچھ ایسے بوتل ڈیزائنز فائنل کرنے ہیں جو نہ صرف جدید ہوں بلکہ ہماری روایت کے مطابق باوقار بھی ہوں۔ اب ہم پیکیجنگ ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ جا رہے ہیں۔”
ہانیہ نے سر ہلایا، “جی سر، ڈیزائنرز نے کچھ پروٹو ٹائپ (Prototype) تیار کیے ہیں۔”
لفٹ تیسری منزل پر رکی۔ وہاں کا ماحول بہت تخلیقی تھا۔ دیواروں پر مختلف خاکے لگے تھے اور ڈیزائنرز تھری ڈی سافٹ ویئرز پر کام کر رہے تھے۔ علی کے پہنچتے ہی سب متوجہ ہو گئے۔
ہانیہ نے آئی پیڈ سے کچھ ڈیزائنز بڑی اسکرین پر منتقل کیے۔ “سر، یہ ‘کرسٹل ایج’ (Crystal Edge) سیریز ہے اور یہ دوسری ‘سلور میسٹ’ (Silver Mist)۔”
علی نے خاموشی سے ہر ڈیزائن کو دیکھا۔ اس نے ایک ڈیزائن کی طرف اشارہ کیا جس کی بوتل کا ڈھکن لکڑی اور سونے کے کام کا مرکب تھا۔
“یہ بہتر ہے، مگر اس کی بوتل کے کنارے تھوڑے اور ہموار (Smooth) کرو۔
وہ ایک ایک ڈیزائنر کے پاس گیا، ان کا کام دیکھا، کہیں تنقید کی اور کہیں مشورہ دیا۔ اس کا کام کرنے کا طریقہ بہت باریک بین تھا۔ وہ صرف ایک بزنس مین نہیں تھا، وہ ایک آرٹسٹ تھا جو اپنی کمپنی کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں اپنا خون پسینہ شامل دیکھنا چاہتا تھا۔
گھڑی کی سوئیاں اب ایک بجا رہی تھیں۔ علی نے ہانیہ کی طرف دیکھا۔ “آج کے لیے یہ کافی ہے۔ اب لنچ میٹنگ کی تیاری کرو۔”
علی واپس اپنے کیبن کی طرف چل دیا،….

یونیورسٹی کے گیٹ پر طلبہ کا شور و غل تھا، لیکن رحال کے دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ رقص کر رہی تھی۔ آسمان پر بادلوں کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور ہوا میں نمی کا احساس بڑھ گیا تھا۔ ڈرائیور انکل کی بیٹی کی اچانک بگڑتی ہوئی طبیعت کی وجہ سے آج وہ اور معراج اپنی اپنی جگہوں سے کیب بک کروانے پر مجبور تھیں۔
رحال نے اپنے موبائل پر ایپ کھولی۔ لوکیشن تھوڑی دور کی شو ہو رہی تھی، شاید مین روڈ کے اس پار۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی فائلیں سینے سے لگا کر گیٹ سے باہر نکلی۔ سڑک پر ٹریفک کی روانی تیز تھی۔ وہ خاموشی سے سڑک پار کرنے کے لیے فٹ پاتھ سے نیچے اتری۔ اس کا دھیان سڑک کی دوسری طرف تھا جہاں اسے اپنی کیب نظر آ رہی تھی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ موت کی رفتار اس کے تعاقب میں ہے۔
اچانک ایک تیز رفتار گاڑی موڑ کاٹتی ہوئی نمودار ہوئی۔ ٹائروں کے رگڑ کھانے کی چیخ فضا میں گونجی، مگر اس سے پہلے کہ رحال سنبھل پاتی، وہ گاڑی پوری قوت سے اس کے نازک وجود سے ٹکرائی۔ رحال ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ ہوا میں اچھلی اور کئی فٹ دور جا کر سڑک کے سخت کنارے پر گری۔
اس کے ہاتھ سے فائلیں چھوٹ کر ہوا میں بکھر گئیں، جیسے کسی ادھوری کہانی کے پتے ہوں۔ سر سڑک سے ٹکرانے کی وجہ سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا اور سفید دوپٹہ سرخ رنگ میں نہانے لگا۔ ارد گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ کوئی ایمبولینس کو فون کر رہا تھا، تو کوئی اس کے بکھرے ہوئے سامان کو سمیٹ رہا تھا۔ ایک نوجوان نے رحال کا فون اٹھایا جو سڑک کے ایک کونے میں گرا تھا۔ اس نے آخری ڈائل نمبر پر فون کیا جو اس کی والدہ، کا تھا۔
ہیلو! بی بی، جس کا یہ فون ہے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، جلدی اسلام آباد کے ہسپتال Shifa International Hospitals پہنچیں!”
لوگوں نے م سہارا دیتے ہوئے اسے ایک قریبی گاڑی میں ڈالا۔ رحال کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں۔ اسے دھندلا سا آسمان اور لوگوں کے چہرے نظر آ رہے تھے، مگر پھر سب کچھ سیاہ ہو گیا۔۔۔۔
معراج ابھی اپنے کالج سے نکلنے ہی والی تھی کہ اس کا فون بجا۔ اسکرین پر مما کا نام دیکھ کر اس نے ہنستے ہوئے فون اٹھایا، “ہاں مما! میں بس نکل ہی رہی ہوں۔۔۔”
مگر دوسری طرف سے صرف سسکیاں اور دہائی تھی۔ “معراج۔۔۔ بیٹا۔۔۔ شفا ہسپتال پہنچو! رحال۔۔۔ ہماری رحال کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے!” سلیمہ بیگم کی آواز سے ٹوٹتا ہوا دل صاف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ فرحان صاحب کے ساتھ شفا ہسپتال کی طرف بھاگ رہی تھیں۔
معراج کے ہاتھ سے بیگ چھوٹ کر گر گیا۔ اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کی وہ معصوم بہن، جو کسی کا دل نہیں دکھاتی تھی، اس کے ساتھ یہ کیا ہو گیا تھا؟ اس کے بھائی، سلمان اور عثمان بھی اپنے دفتروں سے ہسپتال کے لیے نکل چکے تھے۔ معراج کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ وہ لرزتے ہاتھوں سے سڑک پر کھڑی تھی کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ وہاں تک کیسے پہنچے۔ اسی لمحے اس کے فون کی گھنٹی دوبارہ بجی۔

لاہور میں “علیحال” کے عالی شان دفتر میں، علی مصطفیٰ اپنی کرسی پر بیٹھا ایک فائل کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اچانک اس کے سینے میں ایک تیز ٹیس اٹھی۔ اس کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کائنات میں کہیں کچھ بہت غلط ہوا ہے۔
دل سے دل کو راہ ہوتی ہے” کی حقیقت آج علی پر کھلی تھی۔ اس نے بے چینی میں اپنا فون اٹھایا اور معراج کا نمبر ڈائل کیا۔ پہلی ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا، مگر جواب میں سلام نہیں، بلکہ ایک دلدوز سسکی آئی۔
“ہیلو! السلام علیکم معراج؟ کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے نا؟ رحال کہاں ہے؟” علی نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔
“ع۔۔ علی۔۔۔ علی وہ۔۔۔ رحال کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے!” معراج کی آواز رونے کی وجہ سے مشکل سے نکل رہی تھی۔ “اس کی حالت بہت خراب ہے، ہم سب ہسپتال جا رہے ہیں۔”
علی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ ساکت ہو گیا، جیسے کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہو۔ مگر وہ علی مصطفیٰ تھا، اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔ “کچھ نہیں ہوگا اسے معراج! تم ہمت مت ہارو، اللہ سب ٹھیک کرے گا۔ میں۔۔۔ میں اسلام آباد آ رہا ہوں۔”
علی کمرے سے باہر نکلا تو ہانیہ ہاتھ میں فائل لیے کھڑی تھی۔ “سر! وہ اہم میٹنگ بس شروع ہونے والی ہے۔”
بھاڑ میں گئی میٹنگ! ہانیہ، سب کینسل کر دو،” علی نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
“مگر سر! یہ بزنس کے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔” ہانیہ نے روکنے کی کوشش کی۔
“اور میرے لیے ایک لڑکی کی زندگی بہت ضروری ہے ہانیہ! وہ اس وقت ہسپتال میں ہے،” علی یہ کہتے ہوئے لفٹ کی طرف بھاگا۔ ہانیہ وہیں کھڑی رہ گئی، اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کا مقابلہ کسی عام جذبے سے نہیں ہے۔
علی گھر پہنچا تو زرینہ بیگم پہلے ہی فون پر سلیماں بیگم سے بات کر رہی تھیں اور رو رہی تھیں علی نے اپنی والدہ کو ساتھ لیا۔ اس کی آنکھوں میں اب صرف ایک ہی مقصد تھا: رحال تک پہنچنا۔
لاہور سے اسلام آباد کا سفر عام طور پر پانچ گھنٹے کا ہوتا ہے، مگر آج علی کے اندر کا خوف اور محبت گاڑی کے ایکسیلیٹر پر دباؤ بن کر اتر آئی تھی۔ وہ کسی ماہر ڈرائیور کی طرح گاڑی کو شاہراہ پر دوڑا رہا تھا۔ اس کے دماغ میں رحال کا وہ معصوم چہرہ گھوم رہا تھا۔
“یا اللہ! اسے کچھ نہ ہو، میں اسے کھو نہیں سکتا،” وہ دل ہی دل میں تکرار کر رہا تھا۔ زرینہ بیگم برابر والی سیٹ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
ساڑھے تین گھنٹے کا وہ طوفانی سفر علی نے ایسے طے کیا جیسے موت اور زندگی کے درمیان کوئی دوڑ ہو۔ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوتے ہی اس نے گاڑی کا رخ سیدھا ہسپتال کی طرف موڑ دیا۔ اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر جمے ہوئے تھے، مگر اس کا دل ہسپتال کے اس آئی سی یو (ICU) میں پہنچ چکا تھا جہاں رحال اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی۔
ہسپتال کے گیٹ پر گاڑی رکتے ہی علی باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں، بلکہ ایک جنونی فکر تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اب اسے پہاڑ بن کر اس خاندان کا ساتھ دینا ہے، اور رحال کو موت کے منہ سے نکال کر لانا ہے۔ لیکن قسمت کا کسی کو کیا پتہ تھا ۔۔۔ ہاسپٹل کے اندر داخل ہوتے ہوئے اس کے قدم اتنے بھاری ہوتے جا رہے تھے جیسے پاؤں کے ساتھ اس نے پتھر باندھ رکھے ہوں۔۔۔۔ وہ اُس چھوٹی لڑکی کے حوالے سے ایک بھی بری خبر نہیں سن سکتا تھا ۔۔۔


سردیاں لوٹ ائی تھیں ٹھنڈ اپنے عروج پر تھی۔۔۔۔
قیسن اپنے کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھا تھا ۔۔ شام چھا رہی تھی ۔۔اور شام کے بعد رات ہو جانی تھی ۔۔۔ وہ اوندھے موں اپنے بیڈ پر لیٹا تھا شاید وہ سو رہا تھا ۔۔ نہیں شاید جاگ رہا تھا ۔۔ اچانک دماغ کے بند حصے کام کرنے لگے وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا ۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا ۔۔۔ کوئی نمبر ملانے لگا ۔۔ نہ جانے کیوں لیکن دل میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں جیسے کچھ ہوا تھا یہ کچھ برا ہونے والا تھا ۔پہلی بیل گئی فون بند ۔۔
دوسری بیل گئی ۔۔ پھر فون بند ۔۔ اور تیسری بیل پر فون اٹھایا گیا ۔۔ لیکن فون اٹھانے والی رحال نہیں تھی ۔۔ ہیلو ” قیسن بات کر رہا ہوں اس نے دوسری طرف سے انجان اواز سنتے ہی کہا ۔۔
جی میں جانتی ہوں اپ ہمارے گھر بھی ائے تھے
معراج نے یاد کرتے ہوئے کہا کو کافی جلدی میں لگتی تھی ۔۔
و۔۔ وہ ۔رحال کا فون تمہارے پاس کیسے اور وہ خود کہاں ہے بات کر سکتا ہوں کیا اُس سے ۔۔؟
رحال کا گاڑی سے اکسیڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔ شفاء ہاسپٹل میں داخل ہے وہ ۔۔ ہم بھی ہاسپٹل میں ہیں ۔۔ معراج بول رہی تھی اواز بھاری تھی رونے کی وجہ سے ۔۔۔ لیکن فون کے دوسری طرف وہ لڑکا اُس حادثے کی اطلاع کے علاوہ کچھ سن ہی نہیں سکا تھا ۔۔ وہ جھٹکے سے بیڈ سے اُترا اور جس حال میں تھا ویسے ہی باہر کو بھاگا ۔۔۔ کمیار صاحب جو صوفے پر بیٹھے کافی پی رہے تھے اس کو باہر بھاگتا دیکھ کر بولے ۔۔
کیا ہوا ہے قيسن ۔۔ کہا جا رہے ہو ۔۔
لیکن وہ روکا نہیں اور باہر نکل گیا ۔۔ کمیار صاحب اُس کو دیکھ کر رہ گئے ۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھا گاڑی بھاگا رہا تھا بس ایک لڑکی کا خیال دماغ میں تھا ۔۔ وہ ٹھیک تھی یہ نہیں ۔۔ اُس کو کیسے کچھ ہو سکتا تھا ۔۔۔ ؟
اُسے کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔ شام سے رات ہو رہی تھی مغرب کی اذان ہو گئی تھی ۔۔
اور رات سے بھی گہرا اندھیرا ہاسپٹل میں ریسیپشن پر کھڑے علی مصطفیٰ کے دل میں تھا
کہانی کا ایسا اختتام تو نہیں چاہتا تھا علی ۔۔ لیکن قسمت پر اُس کو زور نہیں تھا ۔۔۔ ریسیپشن پر بیٹھی دوپلی پتلی لڑکی نے بتایا کہ اُن کا علاج چل رہا ہے وہ icu میں ہیں ۔۔ وہ جگہ جہاں سے قسمت والے زندہ لوٹ کر اتے تھے ۔۔ کو آئی سی یو کے قریب ہی تھا جب معراج اور اس کے سارے گھر والے اس کو نظر اگائے تھے ۔۔
وہ اُن تک ایا تو سلیماں بیگم اُس کو دیکھ کے رونے لگی ۔۔۔ ۔۔ علی کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اپنی ماں کو چُپ کرواتا یہ اپنی ماسی کو ۔۔ یہ وہ خود کو سنبھلتا ۔۔۔ فرحان صاحب خاموشی سے ایک طرف بیٹھے تھے ۔۔اب سب کو انتظار کرنا تھا ڈاکٹر کے باہر انے کا اور اس آمد کیا خوف سب کے دل میں تھا ۔۔ ڈاکٹر کیا کہے گا ۔۔ وہ ٹھیک ہے یہ نہیں ۔۔ انتظار کی گھڑیاں گھومتی جا رہی تھی ۔۔۔ اور دل کی دھڑکنیں بے قابو ہوتی کا رہی تھی ۔۔۔ جب سامنے سے علی مصطفیٰ نے کسی کو ان کی طرف بھاگتے دیکھتا ۔۔ علی اُس کو پہچانتا تھا ۔۔ علی کے چہرے پر نہ گواری ائی لیکن یہ وقت کچھ بولنے کا نہیں تھا ۔۔ ساتھ چلنے کا تھا ۔۔۔
رحال کیسی ہے اب وہ اتے ساتھ بولا ۔۔ فرحان صاحب اور سب ہی حیران ہوئے کے اُس کو کس نے بتا دیا ۔۔ کے رحال شیخ ہاسپٹل میں ہے
ڈاکٹر اُس کا علاج کر رہے ہیں ابھی کچھ نہیں پتہ بیٹھا ۔سلیماں بیگم نے انسو بھری آنکھیں صاف کرتے کہا ۔۔ قیسن کمیار خاموشی سے بیٹھ ایک طرف بیٹھ گیا ۔۔ خاموش سرخ چہرے کے ساتھ۔۔ محبت اس طرح دو دراز قد اور بلند حوصلے والے مردوں کو تار تار کرے گی وہ دونوں نہیں جانتے تھے۔۔تقریباً دو گھنٹے بعد ایک ڈاکٹر باہر نکلا تھا ہاتھوں میں پہنے دستانے اترتے اُس نے ان کی طرف دیکھا علی جو پہلے ہی کھڑا تھا بھاگ کے ڈاکٹر کی طرف گیا ۔۔ رحال کیسی ہے اب قيسن بھی نے صابروں کی طرح کھڑا ہو گیا ۔۔
ڈاکٹر نے کہنا شروع کیا ۔۔۔
دیکھیں اُن کے سر سے بہت خون نکلا ہے ۔۔ اور اُن کو اس وقت خون کی ضرورت ہے نہیں تو وہ مر سکتی ہیں ۔۔
بلڈ گروپ کیا ہے ۔۔ قيسن کی اواز ائی تو علی نے گھوم کے دیکھا ۔۔۔ O positive ڈاکٹر نے کہا تو قيسن خاموش ہو گیا ہے بلڈ گروپ اُس کا نہیں تھا اگر ہوتا تو کو دے دیتا ۔۔
علی کا بھی یہ بلڈ گروپ نہیں تھا ۔۔ اور نہ ہی وہ کسی اور کا یہ بلڈ گروپ تھا ۔۔ ڈاکٹر تو کہتا اگے بڑ گیا ۔۔ علی اب اپنے جان پہچان والوں سے فون پر پوچھ رہا تھا ۔۔ اور قسین اپنے دوستوں سے ۔۔ لیکن ہر طرف سے انکار مل رہا تھا اور سب کی فکر بڑھتی جا رہی تھی ۔۔
معراج اپنی کالج کی دوستوں کو فون کر رہی تھی ۔۔ پر بہت کوشش کی بعد معراج نے ہار مانتے ہوئے برہان کو فون ملایا تھا ۔۔۔ کے اس کا اگر کوئی جاننے والا ہوا جو بلڈ دے دے تو کام بن جائے گا ۔۔۔ برہان نے پہلی بیل پر فون اٹھا لیا تھا ۔۔
ہاں بولو مینیجر صاحبہ کیا ہوا ٹھیک ہے سب ۔۔؟
برہان میری بات سنو ۔۔ تمہارے کیسی جاننے والے کا بلڈ گروپ او پوزیٹو ہے کیا بہت ضرورت ہے میری بہن ہاسپٹل میں داخل ہے اگر بلڈ جلدی نہیں ملا تو وہ مر جائے گی برہان ۔۔ اور اخر پر وہ رونے لگ گئی ۔۔۔ برہان پریشان ہوا پھر سمبھل کے بولا ۔۔ تم فکر نہ کرو میں اتا ہوں
تم نہ اؤ کیسی ایسے بندے کو لاؤ جس کا بلڈ گروپ او پوزیٹو ہو ۔۔
معراج میرا بلڈ گروپ او پوزیٹو ہے ۔۔ ارہا ہو میں رونا بند کرو کچھ نہیں ہو گا تمھاری بہن کو ۔۔ برہان نے کہتے فون بند کر دیا ۔۔۔۔
معراج نے علی کو اطلاع دی سب کو سکون کا سانس ایا ۔۔۔
کچھ دیر بعد برہان وہ موجود تھا ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں شاید جیسے وہ گھر پر تھا ویسے ہی وہ اگیا تھا۔۔
ڈاکٹر کو اطلاع ملی تو ڈاکٹرز نے اپنا کام شروع کیا برہان کو ایک روم میں کے جایا گیا اور اس کیا خون نکلا گیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ خاموشی سے اٹھ کے باہر آگیا ۔۔ معراج خاموشی سے اُس کو دیکھ رہی تھی اور پھر وہ رو پڑی ۔۔۔
اگر تم نہ اتے تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا ۔۔
اگر میں نہیں اتا تو میری جگہ کوئی اور ا جاتا معراج اس میں رونے والی کون سی بات ہے چلو شاباش چپ کرو برہان نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔
علی خاموشی سے ایک طرف بیٹھا تھا قيسن اُس کے پاس ا کے بیٹھ گیا علی نے اُس کی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔
تم کب ائے تھے ۔۔ ؟ نیلی آنکھوں والے لڑکے نے دھیمی اواز میں پوچھا ۔۔
تمہارے انے سے ٹھیک گھنٹے پہلے علی نے دیکھے بغیر جواب دیا ۔۔
میں جانتا ہوں تم میرے سے بات بھی نہیں کرنا چاہتے اور میں یہ بھی جانتا ہوں تم رحال کو پسند کرتے ہو کوئی اندھا بھی دیکھ کے بتا سکتا ہے علی کے تم اس کو محبت کرتے ہو اور اس محبت کو عبادت کی طرح سمجھتے ہو ۔۔عبادت فرض ہوتی ہے اور تم فرض کذا نہیں کرنا چاہتے میں جانتا ہوں
علی مصطفیٰ نے پہلی بار سر اٹھا کے اس کو دیکھا
میں یہ بھی جانتا ہوں تم مجھے پسند نہیں کرتے شاید تم ہر اُس انسان کو پسند نہیں کرتے جو تمھیں اور رحال کے درمیان اتا ہے ۔۔ اس لیے تم فکر نہ کرو میں تمہاری رحال کو تم سے نہیں چھینو گا ۔۔ وہ تمہاری ہی رہے گی علی ۔۔ وہ خود بھی تمہارے نام کی مالا جپتی ہے ۔۔وہ تمھیں بہت پسند کرتی ہے علی ۔۔ میں نے اُس کی محبت دیکھی ہے تمہارے لیے ۔۔ قيسن زخمی سا مسکرایا ۔۔
میں چاہتا تھا کوئی میرے سے دیوانوں سی محبت کرے ۔۔ لیکن ویسی محبت مجھے تمہاری رحال سے ہو گئی۔۔ علی نیلی انکھوں والے لڑکے کو گھورا ۔۔۔ اُس کی نظریں سمجھتا وہ جلدی سے بولا ۔۔ لیکن فکر نہ کرو ۔۔ میں نہیں اوں گا تم دونوں کے درمیان۔۔ تم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہو ۔۔ میں تیسرا انسان بن کے ایا تھا میں اس کہانی کا حصہ کبھی تھا ہی نہیں ۔۔ اہم کردار تو تم دونوں ہو اور تم دونوں کو ایک دوسرے کے لیے بنایا گیا ہے لکھا گیا ہے ۔۔۔۔ میں جانے کے لیے ایا تھا علی ۔۔۔ میں تم دونوں کے راستے میں نہیں اوں گا ۔۔میں کمیار کا بیٹا ہوں علی مصطفیٰ میں ایک بار اپنے باپ سے کہتا تو رحال میری بیوی کی روپ میں میرے پاس ہوتی ۔۔ لیکن نہیں ۔۔ میں اُس کو پا لیتا تو اس کی محبت کو کیسے پاتا ۔۔ دنیا میں کئی انسان ہوتے ہے میں کو یہ تو محبت ملتی ہے یہ محبوب ۔۔ میں نے محبت کا انتخاب کیا محبوب میں نے تمہیں دیا علی ۔۔ اور میری مُراد ہے تم اس کو خوش رکھو ۔۔ اُس سے محبت کرو عبادت جیسی محبت ۔۔۔ وہ کہتا اٹھ گیا ۔۔۔ علی خاموشی سے اُس کو دوسری طرف جاتے دیکھ رہا تھا وہ اب فرحان صاحب کوئی دلاسہ دے رہا تھا ۔۔۔ حقیقت تو کھلی تھی علی اور ۔۔ کے وہ لڑکی علی مصطفیٰ کو چاہتی تھی ۔۔بس یہی کافی تھا ۔اور رہی اُس کی زندگی کی بات ۔۔تو علی مصطفیٰ کو اپنے اللہ پر اندھا یقین تھا کے وہ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔اور دل میں نہ جانے وہ کس کس طرح اللہ سے اس کی سلامتی منگ رہا تھا ۔۔۔ سلمان عثمان کو آفس کا کام بھی سنبھالنا پڑ رہا تھا اور ہاسپٹل کا بھی ۔۔وہ کبھی آفس جاتے تو کبھی ہاسپٹل ۔۔۔
معراج اور برہان سلیماں اور زرینہ بیگم کو دلاسہ دینے میں لگے تھے۔۔ علی خاموشی سے ایک طرف بیٹھا تھا ۔۔ قيسن فرحان صاحب سے باتوں میں لگا تھا باتیں زیادہ نیلی آنکھوں والا لڑکا کر رہا تھا فرحان صاحب تو بس جواب دے رہے تھے ۔۔۔
علی کو لگ رہا تھا یہ انتظار ایک دن کا نہیں صدیوں کو ہو گیا تھا ۔۔۔ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا کب ڈاکٹر ائے گا کب بتائیں گا کے وہ کسی ہے ۔۔؟
ہسپتال کی سفید، سرد راہداریوں میں تناؤ اس قدر زیادہ تھا کہ سانس لینا بھی دوبھر محسوس ہو رہا تھا۔ آئی سی یو (ICU) کے باہر لگی سرخ بتی بجھی اور آپریشن تھیٹر کا بھاری دروازہ ایک گھراہٹ کے ساتھ کھلا۔ ڈاکٹر کو باہر نکلتے دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کے دل کی دھڑکن تھم گئی۔
علی مصطفیٰ، جو پچھلے کئی گھنٹوں سے بت بنا دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا، ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا اور لپک کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ دوسری طرف سے قیسن بھی بدحواس سا آگے بڑھا، اس کی نیلی آنکھیں بے چینی سے ڈاکٹر کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

 

“ڈاکٹر! رحال کیسی ہے؟” علی کی آواز میں ایک ایسی تھرتھراہٹ تھی جو اس نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
ڈاکٹر نے اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور ایک لمبی سانس لی۔ “دیکھیں، ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے۔ سر کی چوٹ گہری تھی، اندرونی خون بہنا (Internal Bleeding) روک دیا گیا ہے، لیکن۔۔۔”
“لیکن کیا ڈاکٹر؟” قیسن نے تڑپ کر پوچھا،
لیکن وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئیں۔ وہ سانس تو لے رہی ہیں، ان کا دل بھی دھڑک رہا ہے، مگر ان کا دماغ بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔” ڈاکٹر نے رک کر سب کے چہروں پر پھیلی اذیت کو دیکھا۔ “ایسے حادثات میں جب جسم کو اچانک اتنا بڑا صدمہ پہنچتا ہے، تو کبھی کبھی دماغ خود کو ایک حفاظتی خول میں بند کر لیتا ہے۔ اسے ہم ‘ٹرامیٹک سلیپ’ کہتے ہیں۔ اگر وہ اگلے چند گھنٹوں میں ہوش میں نہیں آتیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کوما (Coma) میں چلی گئی ہیں۔”
‘کوما’ کا لفظ سنتے ہی سلیماں بیگم کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی اور فرحان صاحب نے انہیں سہارا دیا۔ علی کو لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے فرش سرک گیا ہو۔
ڈاکٹر نے بات جاری رکھی، “کوما ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان زندہ تو ہوتا ہے مگر مردہ سے بدتر۔ وہ سن سکتا ہے، شاید محسوس بھی کر سکے، لیکن وہ جواب نہیں دے سکتا۔ وہ ایک ایسی گہری نیند میں ہوتا ہے جس کی کوئی انتہا معلوم نہیں ہوتی۔ آپ سب دعا کریں کہ ان کا دماغ زندگی کی طرف واپس آنے کا فیصلہ کر لے۔”
علی نے لڑکھڑاتی آواز میں پوچھا، “کیا میں مل سکتا ہوں اس سے؟”
ڈاکٹر نے کچھ تامل کے بعد کہا، “صرف دس منٹ کے لیے۔ آپ میں سے کوئی ایک ہی اندر جا سکتا ہے۔ شاید کسی قریبی آواز کو سن کر ان کا دماغ ردعمل (Response) دے۔”
علی نے اپنے لرزتے قدموں کو سنبھالا اور سفید گاؤن پہن کر آئی سی یو کے اندر داخل ہوا۔ اندر کی خاموشی صرف مشینوں کی ‘بیپ بیپ’ سے ٹوٹ رہی تھی، جو اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ رحال ابھی زندہ ہے۔
بیڈ پر لیٹی وہ لڑکی کسی موم کی گڑیا کی طرح بے جان لگ رہی تھی۔ اس کے سر پر سفید پٹی بندھی تھی جس سے خون کی ہلکی سی لالی اب بھی جھلک رہی تھی۔ چہرہ نیلگوں پڑ چکا تھا، اور وہ ہاتھ جن سے وہ پین پکڑ کر نوٹس لکھتی تھی، آج بے جان سے پڑے تھے، جن میں ڈرپ کی سوئیاں پیوست تھیں۔
علی دھیرے سے اس کے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے بہت آہستگی سے، جیسے اسے ڈر ہو کہ وہ ٹوٹ نہ جائے، رحال کا وہ ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا جس پر ڈرپ لگی تھی۔ اس کا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔
علی نے ایک گہری اور بوجھل سانس لی۔ “میں جانتا ہوں رحال۔۔۔ تم سن رہی ہو۔ تمہاری آنکھیں بند ہیں، تم سو رہی ہو، لیکن تمہارا دل جاگ رہا ہے،” اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
“تمہیں میرے آنے کا احساس ہو گیا ہے نا؟ کہتے ہیں محبوب کو عاشق کے آنے کی خبر ہو جاتی ہے،” علی نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ اسی لمحے، وہ مضبوط انسان جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا تھا، اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور رحال کے بے جان ہاتھ پر جا گرا۔ یہ علی مصطفیٰ کی زندگی کا پہلا آنسو تھا جو کسی دوسرے کے لیے نکلا تھا۔
پھر جیسے بند ٹوٹ گیا۔ علی کی آنکھوں سے آنسو مسلسل گرنے لگے۔ کچھ رحال کے ہاتھوں پر، کچھ اس کی اپنی قمیض پر۔ “ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ تم کوما میں جا رہی ہو، لیکن مجھے پتہ ہے تم ایسا نہیں کرو گی۔ تم ٹھیک ہو جاؤ گی، ہے نا؟ دیکھو، میں لاہور چھوڑ کر یہاں آگیا ہوں، صرف تمہارے لیے۔”
وہ اس نیند میں ڈوبی لڑکی سے ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے وہ ابھی اٹھ کر اسے ٹوک دے گی۔ “خدا کے لیے ٹھیک ہو جاؤ رحال! میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ یہ وقت سونے کا نہیں ہے، اور اتنی گہری نیند تو بالکل نہیں۔ تم نہیں جانتیں میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں نے کبھی کہا نہیں، کبھی جتایا نہیں ۔۔کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ سامنے سے انکار نہ مل جائے۔۔۔۔علی نے اس کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھام لیا۔ “لیکن دیکھو، آج میں اپنی ہر انا، اپنا معیار، اپنا رتبہ سب تمہارے قدموں میں رکھ کر اقرار کر رہا ہوں کہ میں تمہارے بنا نہیں رہ سکوں گا۔ تم نے مجھ جیسے اکڑو اور خاموش انسان کو جینا سکھایا، ہنسنا سکھایا۔ تم میری زندگی مجھ سے نہیں چھین سکتیں۔ اٹھ جاؤ چھوٹی لڑکی! مجھے جیتے جی مت مارو۔”
کمرے میں صرف مشینوں کی آواز تھی، رحال کی طرف سے کوئی جنبش نہیں ہوئی۔ علی کا دل پارہ پارہ ہو رہا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ کبھی انکھوں پر لگتا جلتی انکھوں کو سکون ملتا ۔۔تو کبھی ہونٹوں پر لگتا ۔۔۔اچانک دروازہ کھلا اور نرس اندر داخل ہوئی۔ علی نے فوراً اپنے ہاتھ سے آنسو صاف کیے اور خود کو سنبھالا، مگر اس کی سرخ اور سوجی ہوئی آنکھیں اس کے کرب کی داستان سنا رہی تھیں۔
“سر! آپ کے دس منٹ پورے ہو گئے ہیں۔ مجھے مریضہ کو انجکشن لگانا ہے، آپ پلیز باہر چلے جائیں،” نرس نے پیشہ ورانہ لہجے میں کہا۔
علی نے ایک آخری بار رحال کے پرسکون مگر بے جان چہرے کو دیکھا، جیسے وہ اسے اپنی یادداشت میں نقش کر رہا ہو۔ اس نے بوجھل دل کے ساتھ اس کا ہاتھ چھوڑا، ایک گہرا سانس لیا اور گردن جھکائے آئی سی یو سے باہر نکل آیا۔ باہر کھڑے لوگ اسے دیکھ کر امید کی تلاش میں تھے، مگر علی کی خاموشی اور اس کی بھیگی آنکھیں سب کچھ بیان کر رہی تھیں۔
آئی سی یو کے باہر کا منظر یکسر بدل چکا تھا۔ وہ علی مصطفیٰ، جو ہمیشہ ایک آہنی دیوار کی طرح مضبوط اور ناقابلِ تسخیر نظر آتا تھا، جب کمرے سے باہر نکلا تو اس کی سوجی ہوئی سرخ آنکھیں اس کے اندر کے ٹوٹ پھوٹ کی گواہی دے رہی تھیں۔ وہاں موجود ہر شخص—سلیماں بیگم، فرحان صاحب، عثمان اور یہاں تک کہ قیسن بھی—حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
وہ شخص جو جذبات کو اپنی کمزوری سمجھتا تھا، آج ایک لڑکی کی محبت میں سرِ عام رو دیا تھا۔ قیسن، جو خود بھی دکھ کے حصار میں تھا، علی کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ علی کی رحال سے محبت محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک جنون ہے
علی کسی سے نظریں ملائے بغیر، تیز قدموں سے ہسپتال کے عقبی باغ کی طرف نکل آیا۔ رات اب اپنے آخری پہر میں تھی اور ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ علی نے ایک درخت کے نیچے رک کر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور زیرِ لب کچھ آیات پڑھنے لگا۔ اس کے اندر کا تلاطم اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
معراج، جو دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی، برہان کو وہیں چھوڑ کر دبے قدموں علی کے پیچھے آئی۔ “آپ ٹھیک ہیں علی؟” اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
علی نے مڑ کر معراج کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہرا ہوا ضبط اب جواب دے رہا تھا۔ “تم دعا کرو نا معراج! تم تو اس کی بہن ہو، سنا ہے بہنوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ تم خدا سے اس کی زندگی مانگ لو، میں اسے کھو نہیں سکتا۔” اس کی آواز میں ایک ایسی التجا تھی جس نے معراج کا کلیجہ چیر دیا۔
معراج نے آنسو بھری آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا جو کبھی اس کی ‘ضد’ ہوا کرتا تھا۔ اسے اچانک برہان کی باتیں یاد آئیں۔ برہان ٹھیک کہتا تھا، وہ کسی ایسے کے لیے بنی ہے جو اسے علی کی طرح چاہے۔ معراج کو اس وقت اپنے دل میں کسی تکلیف کا احساس نہیں ہوا، بلکہ ایک سکون سا چھا گیا۔ اس کی وہ تمام ضد، وہ حسد جو رحال کے لیے تھا، اس ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ علی اور رحال کے درمیان وہ کبھی تھی ہی نہیں، اور نہ کبھی ہو سکتی تھی۔
“آپ تو عاشق ہیں نہ اس کے علی۔۔۔” معراج نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔ “آپ دعا کریں، میں نے سنا ہے محبت میں مانگی گئی دعا عرش ہلا دیتی ہے۔ وہ آپ کی زندگی ہے، خدا آپ کی پکار ضرور سنے گا۔”
کچھ فاصلے پر فرحان صاحب کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ علی کو ڈھونڈتے ہوئے یہاں آئے تھے، مگر ان دونوں کی باتیں سن کر وہیں ساکت رہ گئے۔ جب انہوں نے علی کا وہ تڑپتا ہوا وجود اور اس کا سرخ چہرہ دیکھا، تو ان کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ وہ جس علی مصطفیٰ کو جانتے تھے، وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا، مگر آج انہوں نے ایک سچا انسان دیکھا تھا۔ وہ خاموشی سے مڑے اور وہاں سے چلے گئے تاکہ علی کو شرمندگی محسوس نہ ہو
اندر لاؤنج میں زرینہ بیگم اور سلیماں بیگم اب بھی رو رہی تھیں۔ برہان اور قیسن انہیں تسلی دے رہے۔۔
تھے کہ اچانک آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور ایک نرس تیزی سے بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ “ڈاکٹر! ڈاکٹر!” اس کی آواز میں ایک عجیب سی عجلت تھی۔
برہان لپک کر باغ کی طرف بھاگا جہاں علی اور معراج موجود تھے۔ “علی! معراج! جلدی چلو، رحال کو کچھ ہوا ہے!”
سب آئی سی یو کے باہر جمع تھے، جہاں ڈاکٹر ہاشمی اندر گئے ہوئے تھے۔ علی کی حالت غیر تھی، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دیواریں پھاند کر اندر چلا جائے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر نکلے، ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
علی ان کی طرف لپکا۔ “کیا ہوا ڈاکٹر؟ رحال ٹھیک ہے؟”
ڈاکٹر نے خاموشی سے علی کا چہرہ دیکھا اور پھر ہلکے سے ہنسے۔ “علی صاحب! پہلے یہ بتائیں کہ آپ کوئی جادوگر ہیں کیا؟”
علی حیران رہ گیا۔ “مطلب؟ میں سمجھا نہیں۔۔۔”
“رحال کو ہوش آ گیا ہے!” ڈاکٹر نے خوشخبری سنائی۔ “ابھی ہم نے انہیں نیم بیہوشی کا انجکشن دیا ہے تاکہ درد محسوس نہ ہو۔ سچ کہوں تو میں امید کھو بیٹھا تھا، مجھے لگا وہ کوما میں چلی جائیں گی، مگر نہ جانے آپ نے اندر جا کر ان سے کیا کہا کہ ان کا دماغ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ یہ آپ کی دعاؤں کا ہی معجزہ ہے۔”
بے ساختہ علی کے لبوں سے نکلا ۔۔ الحمدللہ۔۔
معراج علی کے پاس آئی اور سرگوشی کی، “میں نے کہا تھا نہ، عاشق کی دعا رد نہیں ہوتی۔” علی نے ایک بڑے بھائی کی طرح معراج کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دیا۔
کچھ دیر بعد رحال کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ وہ بیڈ پر نیم دراز تھی، اس کی آنکھیں کھلی تھیں مگر نقاہت بہت زیادہ تھی۔ سب کمرے میں موجود تھے اور اسے مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔ علی کمرے میں داخل ہوا اور سیدھا رحال کے بیڈ کے پاس گیا۔ اس نے سب کے سامنے رحال کا ہاتھ تھام لیا۔ رحال تھوڑا ٹھٹک گئی، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی مغرور علی مصطفیٰ ہے۔
علی تھوڑا جھکا اور رحال کے کان کے قریب ہو کر نہایت دھیمی آواز میں بولا، جو صرف رحال ہی سن سکتی تھی:
“رحال! میں تمہیں بہت چاہتا ہوں۔ میں تمہیں اپنی منکوحہ، اپنی دلہن بنانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں تم سرخ جوڑے میں میری زندگی میں آؤ۔ میں تمہیں اتنا چاہوں ا کہ دنیا دیکھے ۔ تم علی مصطفیٰ کی لاڈلی بن کر رہو گی، ہمیشہ میرے دل میں۔”
میں چاہتا ہوں تم میری بیوی بنی ۔۔ میری دلہن بنو علی مصطفیٰ کی دلہن ۔۔۔۔ اظہار ایسا تھا کے سامنے لیٹی لڑکی سکت رہ گئی
رحال کا چہرہ، جو بیماری سے نیلا پڑ گیا تھا، اچانک حیا سے سرخ ہونے لگا۔ اس کا دل سینے سے باہر نکلنے کو تیار تھا۔ وہ علی کو حیرت اور محبت کے ملے جلے تاثرات سے دیکھ رہی تھی۔ علی نے سیدھے ہو کر سب کو دیکھا، جو ان کی سرگوشی پر تجسس میں تھے۔ “کچھ نہیں، میں تو بس اسے کہہ رہا تھا کہ اب زیادہ نخرے نہ دکھائے اور جلدی ٹھیک ہو جائے،” علی نے بات بناتے ہوئے کہا۔
مگر وہاں ایک شخص ایسا تھا جو سب جان گیا تھا۔ قیسن کامیار، وہ نیلی آنکھوں والا لڑکا، دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ علی نے رحال سے اس کی زندگی کا سب سے بڑا وعدہ کر لیا ہے۔ قیسن نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ اسے احساس ہوا کہ اس کہانی میں اس کا کردار اب مکمل ہو چکا ہے۔ وہ کبھی رحال کی منزل تھا ہی نہیں، وہ تو بس ایک مسافر تھا جو غلط راستے پر نکل آیا تھا۔
اس نے ایک آخری حسرت بھری نگاہ رحال پر ڈالی، پھر خاموشی سے مڑا اور ہسپتال کی راہداریوں میں گم ہو گیا۔ قیسن کامیار اب ایک گزرا ہوا کل تھا، جبکہ رحال اور علی کی ایک نئی زندگی کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔۔۔۔

قیسن کوریڈور سے گزرا ۔۔لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ۔۔۔
جہاں انسان کو اپنی ذات کا ہوش رہے اسے محبت کہتے ہیں۔۔۔
نیلی آنکھوں میں انسو تھے ۔۔ اور وہ بے جان قدموں سے چلتا جا رہا تھا ۔۔۔
جہاں انسان کو اپنی ذات کا ہوش نہ رہے اسے عشق کہتے ہیں۔۔
وہ ہسپتال کی عمارت سے باہر نکلا تھا۔ اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی اور روح میں ایک ایسی شکست کا بوجھ، جسے اٹھانا اب اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔
جس کے سامنے انسان بن سور کر جائے اسے محبوب کہتے ہیں۔۔۔
قیسن اپنی سیاہ گاڑی میں آ کر بیٹھا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ چکی تھی وہ تو اپنا ہوش گنوا کر اس کے لیے بھاگتا ہوا آیا تھا،سا اپنا سکون سب پیچھے چھوڑ آیا تھا، مگر رحال؟ رحال نے تو اس کی موجودگی تک محسوس نہیں کی تھی۔
جس کے سامنے اسے اپنے کپڑوں کی ہوش نہ ہو اسے معشوق کہتے ہیں۔۔۔
قیسن کے دل میں ایک آگ جل رہی تھی، ایک ایسی آگ جسے بجھانے کے لیے اس کے پاس کوئی ہمدرد نہیں تھا۔
جس کے کپڑے دھلے ہوئے ہوں اسے محب کہتے ہیں۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے گاڑی اسٹارٹ کی۔ انجن کی آواز خاموش سڑک پر کسی زخمی درندے کی دھاڑ کی طرح گونجی۔ اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھا اور گاڑی تیزی سے ہسپتال کے احاطے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
جس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوں اسے عاشق کہتے ہیں۔۔
گاڑی کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔ 80… 100… 120 کلومیٹر فی گھنٹہ۔
تم نے پروانے کو نہیں دیکھا پروانہ اگ سے عشق کرتا ہے۔۔ہاں عشق میں آگ میں کودنا پڑتا ہے ۔۔
اسلام آباد کی کشادہ سڑکیں اسے تنگ محسوس ہو رہی تھیں۔
جہاں اپنا خیال رکھا جائے اُسے محبت کہتے ہیں۔۔
رحال اس کی زندگی بھر کی حسرت بن گئی تھی۔ ایک ایسی حسرت جو اسے جیتے جی مار گئی تھی۔
جسے محبت حسرت سے دیکھے اُسے عشق کہتے ہیں۔۔۔
شاعری : از قلم ” سعید علی اصغر

رات گہری ہو رہی تھی اور اندھیرا اس کے ذہن پر بھی چھاتا جا رہا تھا۔ آنسوؤں کی وجہ سے سامنے کا منظر دھندلا رہا تھا، مگر قیسن کو اب کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔ اس نے جان بوجھ کر گاڑی کی سمت بدلی اور اسے غلط لین میں، سامنے سے آنے والی ٹریفک کی سڑک پر چڑھا دیا۔ اسے اب زندگی سے کوئی غرض نہیں تھی، کیونکہ جس کے لیے وہ جی رہا تھا، وہ کسی اور کی ہونے والی تھی
اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر کانپ رہے تھے۔ اسے دور سے ایک ٹرک کی ہیڈ لائٹس نظر آئیں جو کسی دیو مالائی عفریت کی آنکھوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ قیسن نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور گاڑی کی رفتار مزید بڑھا دی۔
اگلے ہی لمحے ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ سامنے سے آتے ہوئے تیز رفتار ٹرک نے قیسن کی سیاہ گاڑی کو بری طرح ہٹ کیا۔ گاڑی کا دروازہ چٹاخ کر کے ٹوٹ گیا اور گاڑی ہچکولے کھاتی ہوئی سڑک سے اتر کر ایک پرانے درخت سے جا ٹکرائی۔ ٹرک ڈرائیور، جو شاید خود بھی نشے میں دھت تھا، ایک لمحے کو بھی نہیں رکا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ ونڈ اسکرین کا شیشہ ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ کر قیسن کے چہرے اور ہاتھوں پر پیوست ہو گیا تھا۔ اس نیلی آنکھوں والے لڑکے کا سر اسٹیئرنگ سے بری طرح ٹکرایا تھا۔ ایک گہری، سرخ خون کی لکیر اس کی پیشانی سے پھوٹی اور آہستہ آہستہ اس کے کپڑوں کو رنگنے لگی۔
سڑک پر اب موت جیسی خاموشی تھی۔ دور کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی، مگر وہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھی جو قیسن کی مدد کر سکے۔ اس کا وجود گاڑی کے اندر پچکا ہوا تھا، سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور دل کی دھڑکنیں آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہی تھیں۔
اس نے ایک آخری بار اپنی بوجھل پلکیں اٹھائیں، اسے سامنے دھندلی سی رحال نظر آئی، جو شاید اب کسی اور کے خواب بن رہی تھی۔ قیسن کی وہ نیلی آنکھیں اب آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں۔ اس کی روح اس قفس سے آزاد ہونے کے لیے تڑپ رہی تھی جہاں اسے صرف ناکامی اور دکھ ملا تھا۔ اندھیرا مکمل طور پر اسے اپنی آغوش میں لے چکا تھا، اور سنسان سڑک پر پڑی وہ تباہ شدہ گاڑی قیسن کامیار کی ادھوری محبت کا آخری نشان تھی۔۔۔
سنسان سڑک پر پھیلی خاموشی کو ایک پرانی گاڑی کی آواز نے توڑا۔ ایک بزرگ میاں بیوی، جو قریبی شہر سے واپس لوٹ رہے تھے، سڑک کنارے کچلی ہوئی سیاہ گاڑی اور اس سے اٹھتے دھوئیں کو دیکھ کر ٹھٹک گئے۔

بزرگ شخص نے لرزتے ہاتھوں سے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی جو بری طرح پچک چکا تھا۔ اندر کا منظر دہلا دینے والا تھا۔ قیسن کا سر اسٹیئرنگ پر جھکا ہوا تھا، بال خون سے لت پت تھے اور وہ نیلی آنکھیں، جو کبھی زندگی کی علامت تھیں، اب ادھوری کھلی اور بے نور ہو چکی تھیں۔ بزرگ نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا، مگر وہاں کوئی جنبش نہ تھی۔ نبض تھم چکی تھی۔
اچانک گاڑی کے فرش پر گرے فون کی اسکرین روشن ہوئی۔ قیسن کا فون اب بھی چل رہا تھا۔ بزرگ نے اسے اٹھایا، کال لسٹ میں سب سے اوپر “Dad” (بابا) کا نمبر تھا۔ انہوں نے فوراً ڈائل کیا۔
دوسری طرف کامیار صاحب نے فون اٹھایا، ان کا دل پہلے ہی کسی ان ہونی کے خوف سے بیٹھا جا رہا تھا۔ “ہیلو! قیسن؟ بیٹا تم کہاں ہو؟”
“ہیلو۔۔۔ بھائی صاحب، میں ایک مسافر ہوں۔ یہاں ایک ہولناک حادثہ ہوا ہے اور یہ فون جس لڑکے کا ہے، اس کی حالت بہت نازک ہے
ہم اسے اسلام آباد کے بڑے ہسپتال لے جا رہے ہیں، آپ فوراً وہاں پہنچیں۔” بزرگ کی آواز میں چھپی ہمدردی نے کامیار صاحب کے وجود کو برف کر دیا۔..
کچھ ہی دیر میں ہسپتال کا ماحول چیخ و پکار سے بھر گیا۔ ایمبولینس کا سائرن بجا اور اسٹریچر پر قیسن کے ساکت وجود کو آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا جانے لگا۔ اسی لمحے کامیار صاحب اور قیسن کی والدہ ہانپتے کانپتے وہاں پہنچے۔
ڈاکٹر نے جیسے ہی اسٹریچر کے قریب آ کر قیسن کی نبض دیکھی، اس کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس نے نرس کو اشارہ کیا، “رکیں! اسے اندر لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
کامیار صاحب نے تڑپ کر ڈاکٹر کا ہاتھ تھاما۔ “کیا ہوا ڈاکٹر؟ میرا بیٹا۔۔۔ میرا قیسن ٹھیک تو ہے نا؟” پیچھے کھڑی قیسن کی ماں، جن کی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں، ڈاکٹر کے لبوں کی جنبش کی منتظر تھیں۔
ڈاکٹر نے سر جھکا لیا۔ “آئی ایم سوری۔۔۔ اس کی موت پندرہ منٹ پہلے ہی ہو چکی ہے۔”
ایک ایسا سناٹا چھایا جس نے ہسپتال کی دیواروں کو بھی لرزا دیا۔ قیسن کی ماں کے حلق سے ایک ایسی چیخ نکلی جو شاید عرش تک گئی ہوگی، اور وہ وہیں زمین پر گر کر بیہوش ہو گئیں۔ کامیار صاحب ساکت کھڑے رہ گئے، جیسے ان کی روح بھی اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ پرواز کر گئی ہو۔
قیسن کامیار، وہ نیلی آنکھوں والا ضدی اور محبت کرنے والا لڑکا، اب ہمیشہ کے لیے رحال اور علی مصطفیٰ کے راستے سے ہٹ گیا تھا۔ اس نے اپنی جدائی کا ایسا راستہ چنا تھا جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔
کامیار ہاؤس” آج ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ وہ گھر جو قیسن کے قہقہوں سے گونجتا تھا، آج بین کرتی عورتوں اور افسردہ مردوں سے بھرا تھا۔ قیسن کا جنازہ جب گھر سے نکلا تو آسمان بھی جیسے اداس ہو گیا۔ اس کے دوست، رشتے دار اور وہ لوگ جو اسے صرف دور سے جانتے تھے، سب کی آنکھیں نم تھیں۔
قبرستان میں تماشائے زندگی کا آخری باب لکھا جا رہا تھا۔ قیسن کو اس کی آخری آرام گاہ میں اتارا گیا۔ کفن کا کپڑا جب چہرے سے ہٹایا گیا تو کامیار صاحب کے آنسو اپنے بیٹے کے ٹھنڈے ماتھے پر گرے۔
“مجھے نہیں پتہ تھا قیسن کہ یہ عشق تمہیں کھا جائے گا،” انہوں نے لرزتی آواز میں سرگوشی کی۔ “ورنہ میں تمہیں ساری دنیا سے چھپا کر رکھتا۔ تم تو میری جان تھے، آج سے کامیار بھی تمہارے ساتھ مر گیا ہے۔”
اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالتے ہوئے ان کا جگر چھلنی ہو رہا تھا۔خدا حافظ قیسن ۔۔۔
رات ڈھل رہی تھی اور تیز بارش شروع ہو چکی تھی۔ قبرستان کی کچی مٹی گیلی ہو کر ایک بوجھل خوشبو پھیلا رہی تھی۔ قیسن کی قبر پر لگی کالی تختی بارش میں دھل کر صاف ہو رہی تھی جس پر لکھا تھا:
قیسن کامیار ولد کامیار
تاریخِ پیدائش: 10 جون
تاریخِ وفات: 1 دسمبر
دسمبر کے بچھڑے دوبارہ کبھی نہیں ملتے
موت رحال کو لینے ائی تھی لیکن وہ زندہ بچ گئی ۔۔
موت نے کسی کو تو لے کے جانا تھا ۔۔تو قیسن کمیار ہی صحیح ۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *