بڑھتا ہوا ڈپریشن
ازقلم جویریہ ارشد۔۔۔
آج کے جدید دور میں ڈپریشن ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو خاموشی سے انسان کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے، مگر اندر ہی اندر انسان ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ مشکلات کا سامنا حوصلے سے کرتے تھے، لیکن آج کا انسان چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس بیماری کی لپیٹ میں زیادہ آ رہی ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔
ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ معاشرتی دباؤ اور دوسروں سے موازنہ کرنا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کا بہترین حصہ دکھاتا ہے، جسے دیکھ کر دوسرے لوگ خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کچھ بھی اچھا نہیں ہو رہا، اور یہی سوچ انہیں اداسی اور مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔
اس کے علاوہ گھریلو مسائل بھی ڈپریشن کی ایک اہم وجہ ہیں۔ والدین کی زیادہ توقعات، تعلیمی دباؤ اور مالی مشکلات انسان کو ذہنی طور پر کمزور بنا دیتی ہیں۔ کئی نوجوان اپنی بات کسی سے کہہ نہیں پاتے اور اپنے دکھ کو دل میں چھپا لیتے ہیں۔ یہ خاموشی آہستہ آہستہ ایک بڑے مسئلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ڈپریشن کے اثرات صرف ذہن تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسم پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ انسان کو نیند نہیں آتی، ہر وقت تھکن محسوس ہوتی ہے اور کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ وہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتا ہے اور تنہائی کو ترجیح دینے لگتا ہے۔ اگر اس حالت کو بروقت نہ سمجھا جائے تو یہ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف دواؤں میں نہیں بلکہ رویوں کی تبدیلی میں بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کو سمجھیں اور ان کی بات سنیں۔ کسی کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اکیلا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں بلکہ ان کے جذبات کو اہمیت دیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر توجہ دیں اور مثبت سوچ اپنائیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ ڈپریشن ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، مگر اس کا حل ممکن ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں، محبت اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں تو ہم اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔ زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں، مگر حوصلہ اور امید ہی وہ طاقت ہیں جو انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
