Bashar Episode 16 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۶

سی سائیڈ سے واپس آتے آتے سب بری طرح تھک چکے تھے۔
پورا دن گھومنے پھرنے، سمندر کنارے چلنے، اونٹ کی سواری کرنے اور تصویریں بنوانے میں گزر گیا تھا۔ اب سب کے چہروں پر صرف ایک ہی چیز لکھی تھی…
بھوک۔
منیجر اُن سب کو شہر کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں لے آیا۔
خوش قسمتی سے انہیں کھڑکی کے ساتھ والی بڑی سی میز مل گئی، جہاں سے باہر سڑک کا خوبصورت منظر صاف نظر آ رہا تھا۔
دور دور تک روشنیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ سڑک پر لوگوں کی آمدورفت جاری تھی، گاڑیاں آ جا رہی تھیں اور شہر اپنی معمول کی زندگی میں مصروف تھا۔
سب اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
تائیجون نے مینو بند کرتے ہوئے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
مجھے لگ رہا ہے اگر کھانا پانچ منٹ اور لیٹ آیا تو میں یہی میز کھا جاؤں گا۔
سوہان زور سے ہنس پڑا۔
پہلے اپنا آرڈر تو ختم کر لینا… پھر میز کی باری آئے گی۔
اسی دوران…
قریب کی مسجد سے مؤذن کی پُرسکون آواز بلند ہوئی۔
اللہ اکبر… اللہ اکبر…
ایک لمحے کے لیے ماحول ہی بدل گیا۔
وہ آواز نہ زیادہ بلند تھی، نہ دھیمی…
مگر اُس میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
چند لمحے گزرے تو جےکیونگ نے پورے ریسٹورنٹ پر نظر دوڑائی۔
اسے حیرت ہوئی۔
اذان ختم ہونے کے باوجود ریسٹورنٹ میں بیٹھا کوئی شخص اپنی جگہ سے نہیں اٹھا تھا۔
وہ حیرانی سے بولا،
یہ کیسے لوگ ہیں…؟
سب نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
اذان ہوگئی… لیکن یہاں سے کوئی بھی نہیں اٹھا۔
ہیوک نے بےپرواہی سے پوچھا،
کیوں اٹھتے؟
نماز پڑھنے کے لیے…
اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتا، سیونگ نے کھڑکی سے باہر اشارہ کیا۔
انہیں چھوڑو….وہ دیکھو۔
سب کی نظریں فوراً باہر چلی گئیں۔
سڑک کے دوسری طرف ایک چھوٹی سی جنرل اسٹور تھی۔
دکان کا مالک بڑی جلدی جلدی باہر رکھی ہوئی چیزوں پر ایک بڑا سا کپڑا ڈال رہا تھا۔
اس نے چپس، بسکٹ، کولڈ ڈرنکس اور دوسری تمام چیزیں ایک ہی کپڑے سے ڈھانپ دیں۔
پھر اُس نے جیب سے سفید ٹوپی نکالی، سر پر پہنی، دکان کو ویسے ہی کھلا چھوڑا اور تیز قدموں سے مسجد کی طرف چل دیا۔
یہ منظر دیکھ کر ہیوک کی آنکھیں پھیل گئیں۔
یہ اپنی دکان ایسے ہی چھوڑ کر جا رہا ہے…؟
تائیجون بھی حیران رہ گیا۔
اگر کوئی سامان اٹھا کر لے گیا تو؟
رین یون مسلسل دکان کو دیکھ رہا تھا۔
یہاں نہ کوریا جیسا سیکیورٹی سسٹم ہے… نہ ہر جگہ کیمرے لگے ہیں… پھر یہ کس بھروسے پر پوری دکان کھلی چھوڑ کر جا رہا ہے؟
جےکیونگ نے بےاختیار کہا،
پاگل آدمی ہے۔
سیونگ نے آہستہ سے کہا،
شاید آس پاس والے لوگ خیال رکھتے ہوں گے۔
ہیوک نے فوراً بات کاٹی۔
لیکن وہ کسی کو بول کر تو نہیں گیا۔
تائیجون نے کندھے اچکائے۔
چھوڑو….اگر اسے اپنی دکان میں چوری کروانے کا شوق ہے تو ہمیں کیا۔
ہان ووُ اب تک خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے پوچھا،
لیکن….کوئی اُس کی دکان سے چوری ہی کیوں کرے گا؟
رین یون نے اُس کی طرف دیکھا۔
یہ کوریا نہیں ہے…
جہاں تم اپنا بیگ یا موبائل کہیں بھی رکھ دو اور گھنٹوں بعد بھی وہیں پڑا مل جائے۔.یہاں حالات مختلف ہیں.
ہان ووُ نے فوراً سوال کیا،
کیوں؟
رین یون نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
کیونکہ یہاں سیکیورٹی اتنی مضبوط نہیں ہے۔
ہان ووُ نے نفی میں سر ہلایا۔
سیکیورٹی سے کیا تعلق؟ لوگ اچھے ہونے چاہییں۔
رین یون ہلکا سا مسکرایا۔
اچھا… فرض کرو سامنے سے تین آدمی آ رہے ہیں۔ تم اُنہیں جانتے نہیں۔ تمہیں نہیں معلوم اُن کی نیت کیسی ہے۔.اور تم اُن سے کہو کہ میرے گھر میں بہت سارے پیسے رکھے ہیں، میں تھوڑی دیر کے لیے جا رہا ہوں، ذرا خیال رکھنا۔
وہ چند لمحے رکا۔
ہو سکتا ہے تین میں سے دو واقعی ایماندار ہوں۔
ہو سکتا ہے صرف ایک ایماندار ہو۔
لیکن باقی…؟ کون ضمانت دے سکتا ہے؟
اب انہی لوگوں سے کہہ دو کہ گھر کے اندر ہِڈن کیمرے لگے ہوئے ہیں…
پھر دیکھنا…
تینوں پوری ایمانداری سے تمہارے گھر کی حفاظت کریں گے۔
تائیجون نے فوراً سر ہلایا۔
بات میں واقعی وزن ہے۔
رین یون نے کہا،
اسی لیے سیکیورٹی ضروری ہوتی ہے۔
انسان کی نیت ہر وقت ایک جیسی نہیں ہوتی۔
کب کس کی نیت بدل جاتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔
جےکیونگ نے حیرانی سے پوچھا،
تمہیں اتنا سب کیسے معلوم؟
رین یون مسکرایا۔
تم لوگ صرف گھومنے آئے ہو۔۔میں اس ملک کو سمجھنے بھی آیا ہوں۔۔روز منیجر سے بات ہوتی رہتی ہے۔ وہ مجھے یہاں کی بہت سی چیزیں تفصیل سے بتاتے ہیں۔ اور میں خود بھی لوگوں سے کافی سوال کرتا رہتا ہوں۔
اتنے میں ویٹر گرم گرم کھانے سے بھری ٹرے لے آیا۔
چند لمحوں میں پوری میز مختلف کھانوں سے بھر گئی۔
کھانے کی خوشبو نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
باتیں وہیں ختم ہوگئیں اور سب کھانے میں مصروف ہوگئے۔
لیکن…
سیونگ کی نظریں ہر دو تین منٹ بعد کھڑکی کے باہر ضرور چلی جاتیں۔
نہ جانے کیوں…
اسے اُس دکان کی فکر ہونے لگی تھی۔
وہ ہر بار یہی دیکھتا کہ کہیں کوئی وہاں سے کچھ اٹھا کر تو نہیں لے جا رہا۔
اچانک…
اس کی نظر ایک نوجوان لڑکے پر پڑی۔
وہ پہلے دکان کے سامنے رکا۔
چند لمحے ادھر اُدھر دیکھا۔
پھر آہستہ سے دکان کے اندر داخل ہوگیا۔
سیونگ کی آنکھیں فوراً سکڑ گئیں۔
وہ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی سے کھڑا ہوگیا۔
رین یون نے چونک کر پوچھا،
کیا ہوا؟
سیونگ نے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔
جلدی… باہر نکلو… کوئی اُس دکان کے اندر گھس گیا ہے۔
یہ سنتے ہی سب اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
اتنی جلدی میں سب کے باہر نکلنے پر ریسٹورنٹ میں بیٹھے دوسرے لوگ بھی حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگے۔
چند ہی لمحوں میں وہ سب دوڑتے ہوئے دکان کے سامنے پہنچ گئے۔
وہ لڑکا ابھی دکان سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ سیونگ نے آگے بڑھ کر اُس کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
لڑکا گھبرا کر وہیں رک گیا۔
اس کے ہاتھ میں صرف ایک بریڈ کا پیکٹ اور ایک بٹر تھا۔
سیونگ نے انگریزی میں سخت لہجے میں اُس سے کچھ کہا۔
مگر لڑکا صرف اُس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
صاف ظاہر تھا کہ اُسے انگریزی کا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا۔
رین یون فوراً آگے بڑھا۔
وہ کیا کر رہے ہو یہاں؟ تمہیں معلوم ہے دکان والا یہاں نہیں ہے… پھر بھی اندر کیوں گئے؟
لڑکے نے گھبراہٹ میں فوراً جواب دیا۔
میں چچا کو جانتا ہوں۔
وہ واپس آ جائیں گے تو پیسے دے دوں گا۔
میں تو بس یہ لینے آیا تھا۔
اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بریڈ اور بٹر دکھا دی۔
رین یون نے سنجیدگی سے کہا،
تو انتظار کر لیتے۔ وہ آ جاتے پھر سامان لے لیتے۔
سیونگ فوراً بولا،
یہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔میں نے اسے خود دیکھا ہے۔
پہلے یہ اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا… پھر دکان کے اندر گیا۔
اسی لمحے مسجد کی طرف سے دکاندار واپس آتا دکھائی دیا۔
اپنی دکان کے سامنے اتنے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر وہ تقریباً بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔
خیر تو ہے؟ کیا ہوا؟
رین یون نے پوری بات اُسے اردو میں سمجھائی۔
پھر پوچھا،
آپ اس لڑکے کو جانتے ہیں؟
دکاندار نے ایک نظر لڑکے کو دیکھا۔
پھر آہستہ سے نفی میں سر ہلا دیا۔ نہیں…
یہ سنتے ہی لڑکے کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
وہ فوراً اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنے لگا۔
کانپتے ہاتھوں سے پیسے نکال کر بولا،
میں پیسے دے دیتا ہوں… واقعی دینے والا تھا…
بس مجھے جانے دیں۔
رین یون نے دکاندار کی طرف دیکھا۔
آپ اپنی دکان کس کے حوالے کر کے گئے تھے؟
دکاندار کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
اس نے نہایت سادگی سے جواب دیا۔
اللہ کے حوالے۔
تائیجون بےاختیار بول پڑا۔
یہ مذاق نہیں ہے۔ اگر واقعی کوئی بڑی چوری ہو جاتی تو؟
دکاندار نے پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا۔۔پھر آہستہ سے بولا،۔ہوئی تو نہیں نا…
یہ کہتے وقت اُس کے چہرے پر ایسا یقین تھا…
جیسے اُسے اپنے جواب پر ذرا برابر بھی شک نہ ہو۔
جےکیونگ کئی لمحوں تک خاموش اُس آدمی کو دیکھتا رہا۔ پھر دھیرے سے بولا،عجیب پاگل آدمی ہے..
دکاندار نے سکون سے اپنی دکان کے اندر نظر دوڑائی۔
سامان تقریباً اپنی جگہ موجود تھا۔
صرف وہی بریڈ اور بٹر اُس لڑکے کے ہاتھ میں تھے۔
اس نے لڑکے کی طرف دیکھا۔
لڑکا نظریں جھکائے کھڑا تھا، چہرے پر ندامت صاف لکھی تھی۔
دکاندار نے آہستہ سے اس کے ہاتھ سے بریڈ اور بٹر لے لیا۔
پھر اُس کی ہتھیلی پر رکھے پیسے بھی واپس اس کی طرف بڑھا دیے۔
لڑکے نے چونک کر سر اٹھایا۔
وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔
دکاندار نے نرم لہجے میں اُردو میں کہا،
بھوک لگی تھی…؟
لڑکے نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
دکاندار نے ایک لمحہ اُس کے چہرے کو دیکھا۔
پھر دوبارہ بریڈ اور بٹر اُس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے بولا،
لے جا… پیسے رہنے دے۔
لڑکے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں چچا… پیسے لے لیں۔
دکاندار مسکرا دیا۔
بیٹا… جو اللہ کے گھر جا کر اُس سے رزق مانگ کر آیا ہو… وہ کسی بھوکے سے اُس کے دو نوالوں کے پیسے نہیں لیتا۔
یہ سنتے ہی آس پاس کھڑے کئی لوگوں کے چہرے بدل گئے۔
وہ لڑکا بھی بے اختیار رو پڑا۔
اس نے جلدی سے دکاندار کے ہاتھ چوم لیے۔
چچا… معاف کر دیں….آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔
دکاندار نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
اللہ تمہیں حلال رزق دے۔
بس آئندہ بغیر پوچھے کسی کی چیز مت اٹھانا۔
لڑکے نے بار بار سر ہلایا۔
پھر وہ بریڈ اور بٹر سینے سے لگائے وہاں سے چلا گیا۔
یہ سارا منظر کورین لڑکے خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔
کچھ لمحوں تک کسی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔
آخر جے کیونگ نے خاموشی توڑی۔
یہ… یہ آدمی پاگل ہے۔
سیونگ نے اُس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
جے کیونگ نے حیرت سے کہا،
چوری بھی ہوئی…
پھر بھی اُس نے پیسے بھی نہیں لیے… اوپر سے سامان بھی دے دیا۔
رین یون بھی گہری سوچ میں تھا۔
اگر یہ کوریا ہوتا… تو پہلے پولیس آتی… پھر رپورٹ بنتی… پھر سی سی ٹی وی دیکھی جاتی…
ہیوک نے دھیرے سے کہا،
لیکن… مجھے نہیں لگتا یہ آدمی بےوقوف تھا۔
سب کی نظریں اُس کی طرف اٹھیں۔
ہیوک نے دکاندار کو دیکھا، جو اب آرام سے اپنی دکان دوبارہ ترتیب دے رہا تھا۔
رین یون ابھی بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہوا تھا۔
اس نے ایک بار پھر دکاندار کی طرف دیکھا۔
لیکن آپ… اپنی دکان اس طرح کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے کیسے چلے جاتے ہیں؟
دکاندار نے کپڑا تہہ کرتے ہوئے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔
جب انسان اپنی کسی چیز کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے نا…
پھر اُسے اُس چیز کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔
کیونکہ اُس کے بعد اُس کا خیال اللہ رکھتا ہے۔
رین یون نے فوراً سوال کیا۔
پھر بھی…
اگر کوئی بڑی چوری ہو جاتی تو؟
دکاندار نے بغیر کسی گھبراہٹ کے جواب دیا۔
کیسے ہوتی؟
جب اللہ دیکھ رہا ہو…
تو پھر بندے کو کس بات کا ڈر؟
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر نرم لہجے میں بولا،
میں اپنے گھر میں اکیلا کمانے والا ہوں۔
نماز بھی فرض ہے… اور دکان بھی چلانی ہے۔
اب بتاؤ….دکان کس کے حوالے کر کے جاؤں؟
میرے پاس نہ کوئی ملازم ہے، نہ کوئی رشتہ دار جو ہر نماز کے وقت آ کر بیٹھ جائے۔
اگر نماز چھوڑ دوں تو اللہ ناراض ہوگا…
اور اگر اللہ پر بھروسا ہی نہ کروں، تو ایمان کیسا؟
اس نے آسمان کی طرف ایک نظر اٹھائی۔
رزق دینے والا بھی وہی ہے…
اور رزق کی حفاظت کرنے والا بھی وہی۔
اگر اُس نے چاہا…
تو لاکھوں کا مال بھی محفوظ رہے گا۔
اور اگر اُس کی مشیت کچھ اور ہوئی…
تو تالے اور پہرے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
یہ کہتے ہوئے اُس کے چہرے پر ایسا اطمینان تھا کہ جیسے وہ دلیل نہیں دے رہا تھا…
بلکہ ایک حقیقت بیان کر رہا ہو۔
دکاندار نے سب نوجوانوں کی طرف محبت بھری نظر سے دیکھا، پھر مسکرا دیا۔
اور پھر…
اللہ نے ہی آج کے دن میری نگرانی کے لیے تم لوگوں کو بھیج دیا۔
کل شاید کوئی اور ہوگا… پرسوں شاید کوئی بھی نہ ہو… لیکن جس کے بھروسے میں نے دکان چھوڑی تھی، وہ تو ہر دن ایک ہی ہے۔ اس لیے میں فکر نہیں کرتا۔ اگر وہ چاہے… تو اجنبی لوگوں کو بھی میرے لیے محافظ بنا دیتا ہے۔ جیسے آج تم لوگ بن گئے۔
یہ سن کر رین یون نے باقی سب کا چہرہ دیکھنے لگے۔
واقعی… وہ سب تو صرف کھانا کھا رہے تھے۔
اگر سیونگ بار بار کھڑکی سے باہر نہ دیکھتا…
اگر اُس کی نظر اُس لڑکے پر نہ پڑتی…
تو شاید کسی کو کچھ معلوم بھی نہ ہوتا۔
دکاندار کی بات ختم ہوئی تو چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
سوہان، ہان ووُ، سیونگ، ہیوک، تائیجون، جے کیونگ اور سومن سب حیرانی سے صرف رین یون کو دیکھ رہے تھے۔
کیونکہ اُن میں سے کسی کو بھی اُردو سمجھ نہیں آتی تھی،
وہ صرف دکاندار کے چہرے کے تاثرات اور رین یون کے ردِعمل سے اندازہ لگا رہے تھے کہ اُس نے کوئی اہم بات کہی ہے۔
جے کیونگ بےصبری سے بولا،
اب بتاؤ بھی… اُس نے کہا کیا ہے؟
سیونگ نے بھی فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، اتنی دیر سے تم دونوں ہی باتیں کیے جا رہے ہو۔
ہان ووُ کی نظریں بھی رین یون پر ہی تھیں۔۔
وہ جاننا چاہتا تھا کہ ابھی ابھی اس دکاندار نے کیا کہا تھا… جس کے بعد اُس کے چہرے پر وہ عجیب سا اطمینان مزید گہرا ہو گیا تھا۔
رین یون نے ایک نظر سب پر ڈالی۔
پھر دکاندار کی طرف دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا کر اُسے شکریہ کہا اور بولا،
چلو…۔اندر چل کر بتاتا ہوں۔
سب خاموشی سے اُس کے پیچھے مڑ گئے۔
چند ہی لمحوں بعد سب دوبارہ ریسٹورنٹ کے اندر آ کر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
کھانا ابھی تک گرم رکھا ہوا تھا…
مگر اس وقت سب کی بھوک سے زیادہ تجسس جاگ چکا تھا۔
سب کی نظریں ایک ساتھ رین یون پر جم گئی تھیں۔
وہ سب صرف ایک ہی بات سننا چاہتے تھے…

++++++++

رین یون نے پانی کا ایک گھونٹ لیا۔
پھر آہستہ سے بولا،
میں نے اُس سے پوچھا…
کہ وہ اپنی دکان کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے کیسے چلا جاتا ہے؟
سب خاموشی سے سنتے رہے۔
رین یون نے دکاندار کے الفاظ جوں کے توں دہرانا شروع کیے۔
اُس نے کہا…
جب انسان اپنی چیز اللہ کے سپرد کر دیتا ہے…
تو پھر اُس چیز کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔
کیونکہ اُس کے بعد اُس کا خیال اللہ رکھتا ہے۔
ہان ووُ خاموشی سے سنتا رہا۔
رین یون نے بات جاری رکھی۔
پھر میں نے اُس سے پوچھا…
اگر بڑی چوری ہو جاتی تو؟
اُس نے کہا… کیسے ہوتی؟
جب اللہ سب دیکھ رہا ہے۔
میں اپنے گھر میں اکیلا کمانے والا ہوں۔
نماز بھی فرض ہے… اور دکان بھی چلانی ہے۔
میرے پاس کوئی نہیں جس کے حوالے دکان چھوڑ سکوں۔
اس لیے میں اللہ کے حوالے کر کے چلا جاتا ہوں۔
کچھ لمحے خاموشی چھا گئی۔
تائیجون نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا،
یہ تو بہت خطرناک قسم کا کانفیڈنس ہے۔
رین یون نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں…۔ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔
سب دوبارہ متوجہ ہوگئے۔
رین یون نے آہستہ سے کہا،
پھر اُس نے ہم سب کی طرف دیکھ کر کہا…
آج اللہ نے میری نگرانی کے لیے تم لوگوں کو بھیج دیا۔۔کل کسی اور کو بھیج دے گا۔۔لیکن جس کے بھروسے میں نے دکان چھوڑی ہے…۔وہ ہر دن ایک ہی ہے۔
سیونگ نے بےاختیار کھڑکی سے باہر دکان کی طرف دیکھا۔
دکاندار ایسے ہی سکون سے اپنی دکان سجا رہا تھا…
جیسے چند منٹ پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
جے کیونگ نے دھیرے سے کہا، یعنی…۔وہ سمجھتا ہے کہ ہم یہاں اتفاق سے نہیں آئے تھے؟
رین یون نے سنجیدگی سے جواب دیا،
ہاں…ماُس کے مطابق یہ اتفاق نہیں تھا۔
یہ اللہ کی طرف سے انتظام تھا۔
ٹائیجون نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
عجیب لوگ ہیں…
ہر چیز کو اپنے خدا سے جوڑ دیتے ہیں۔
سیونگ نے آہستہ سے بولا،
میں نے اُس آدمی کے چہرے پر ڈر نہیں دیکھا…
حالانکہ اُس کی پوری روزی اُس دکان میں تھی۔
اگر کوئی واقعی اتنا بےفکر ہو سکتا ہے…
تو یا تو وہ بہت بڑا بےوقوف ہے…
یا پھر… اُسے واقعی اپنے رب پر ایسا یقین ہے…
جو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔۔۔
تائیجون نے ہلکی سی ہنسی اڑاتے ہوئے بولا
پاگل آدمی ہے… اور کچھ نہیں۔
ہم نے اس کی مدد کی، شکریہ ادا کرنے کے بجائے کہہ رہا تھا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے تھا۔
کیسے کیسے بےوقوف لوگ ہوتے ہیں…
ہیوک نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی آ گئی تھی۔
نہیں تائیجون… ایسا واقعی ہوتا ہے۔ خدا ہمارا خیال رکھتا ہے۔
تائیجون نے فوراً بےزاری سے ہاتھ ہلایا۔
ابے یار…
رین یون نے فوراً دونوں کی بات کاٹ دی۔
اچھا… بس، بہت ہو گیا۔ اپنا اپنا اوپینین اس میں مت گھساؤ۔ جس کو جو بات سمجھ آ رہی ہے…
وہی اپنے لیے رکھو۔ کسی پر زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔
تائیجون نے کندھے اچکا کر دوبارہ کھانا شروع کر دیا۔
ہیوک بھی خاموشی سے پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

++++++++++++++

ہوٹل واپس پہنچتے پہنچتے رات کے تقریباً گیارہ بج چکے تھے۔
پورا دن گھومنے پھرنے کی وجہ سے سب بری طرح تھک چکے تھے۔
بس سے اترتے ہی سب اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھنے لگے۔
مگر ہان ووُ کے قدم باقی سب سے مختلف تھے۔
وہ چل تو اپنے فلور کی طرف ہی رہا تھا…
مگر اس کی نظریں مسلسل اِدھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔
ہر کوریڈور… ہر موڑ…
ہر طرف وہ بےاختیار انشا کو تلاش کر رہا تھا۔
شاید وہ کہیں نظر آ جائے…
شاید اتفاقاً دوبارہ ملاقات ہو جائے…
شاید وہ پھر اپنی انہی عجیب سی شکلوں کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہو۔
مگر… وہ کہیں نظر نہ آئی۔
ہان ووُ خاموشی سے اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔
کپڑے بدلے…
منہ دھویا…
مگر نہ جانے کیوں دل بےچین ہی رہا۔
ادھر باقی سب اپنے اپنے بستروں پر گر چکے تھے۔
ہان ووُ کی آنکھوں میں ابھی تک نیند نہیں تھی۔
وہ آہستہ سے اٹھا۔ کمرے کا دروازہ کھولا…
اور سومین کو جگائے بغیر باہر نکل آیا۔
خاموش راہداری میں صرف ہلکی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا انشا کے کمرے کے سامنے آ کر رک گیا۔
چند لمحے وہ دروازے کو دیکھتا رہا۔
اس کا دل چاہا… بس ایک بار دستک دے دے۔
شاید وہ جاگ رہی ہو۔
شاید دروازہ کھول دے۔
مگر…
ہاتھ اٹھا کر بھی وہ دروازہ نہ کھٹکھٹا سکا۔
کیا کہوں گا…؟
صرف یہ کہ… میں تمہیں ڈھونڈ رہا تھا…؟
وہ خود ہی اپنے خیال پر ہلکا سا مسکرا دیا۔
آخر وہ اسے ڈھونڈ ہی کیوں رہا تھا؟
وہ تو صرف ایک اجنبی لڑکی تھی…
جس سے اس کی صرف دو بار ملاقات ہوئی تھی۔
ہان ووُ نے ایک لمبی سانس لی۔
پھر دروازے کے بالکل سامنے والی دیوار کے ساتھ جا کر ویسے ہی ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا…
بالکل اُسی جگہ…
جہاں کل کھڑا تھا۔
اُس کے ذہن میں کل کی ساری باتیں ایک ایک کر کے چلنے لگیں۔
مسٹر وال…
مس کارٹون…
اور پھر وہ بےساختہ ہنسی…
جس کی آواز اب بھی نہ جانے کیوں اُس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
وقت گزرتا رہا۔
پانچ منٹ…
دس منٹ…
پندرہ منٹ…
پورا کوریڈور خاموش تھا۔
صرف کبھی کبھار لفٹ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آتی۔
ہان ووُ ہر آواز پر چونک کر دروازے کی طرف دیکھتا…
مگر دروازہ بند ہی رہتا۔
آخرکار اس نے گھڑی دیکھی۔
رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے۔
اس نے ایک بار پھر انشا کے دروازے کی طرف دیکھا۔
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی۔
لگتا ہے… مس کارٹون آج واقعی سو گئی ہے۔
ہان ووُ ابھی اسی خیال میں گم تھا کہ اچانک پیچھے سے قدموں کی آواز سنائی دی۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔
سومن تھا۔
وہ تیز تیز چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
یہاں کھڑا کیا کر رہا ہے؟
ہان ووُ نے چند لمحے خاموش رہ کر سامنے بند دروازے کو دیکھا۔ پھر آہستہ سے بولا،
اپنی تقدیر کی خوش نصیبی چاہتا ہوں…
خود کو ایک بار لکی کہنا چاہتا ہوں۔
سومن نے چند سیکنڈ اسے خالی نظروں سے دیکھا۔
پھر ماتھے پر بل ڈال کر بولا،
کیا بک رہا ہے۔۔ ؟
ہان ووُ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
کچھ نہیں،
سومن نے ایک لمبی سانس بھری۔
چل اب… سونے چل۔ ایک بج گیا ہے۔
تجھے نیند نہیں آ رہی؟
اور یہ کھڑے کھڑے تیرے پاؤں میں درد نہیں ہو رہا؟
ہان ووُ چونک گیا۔
ایک… بج گیا؟
سومن نے بےاختیار کہا۔۔۔
اور نہیں تو کیا؟
میں آدھا گھنٹہ تیرے روم میں تیرا انتظار کرتا رہا۔
پھر پورا فلور چھان مارا۔
تو یہاں مجسمہ بنا کھڑا ہے۔
ہان ووُ نے بےاختیار دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھا۔
واقعی…
رات کا ایک بج چکا تھا۔
اتنی دیر…؟
اسے خود احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ وقت کب گزر گیا۔
اس نے ایک آخری بار انشا کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا۔
پھر دل ہی دل میں سوچا،
شاید… واقعی سو گئی ہوگی۔
سومن نے اس کے کندھے کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔
کہاں کھو گیا؟
ہان ووُ نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
کچھ نہیں…
چلو۔
وہ سومن کے ساتھ چل پڑا۔
چند قدم چلنے کے بعد سومن نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
تجھے بھی راتوں کو دورے پڑتے ہیں کیا؟
رات کے ایک بجے بندے لوگوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے نہیں رہتے۔
ہان ووُ نے کوئی جواب نہ دیا۔
بس خاموشی سے چلتا رہا۔
مگر…
ہر دو چار قدم بعد…
وہ بےاختیار مڑ کر پیچھے دیکھ لیتا۔
شاید… اچانک دروازہ کھل جائے۔
شاید… وہ باہر آ جائے۔
شاید… ایک بار پھر ہنستے ہوئے کہہ دے…
مسٹر وال…
مگر… کوریڈور پہلے کی طرح خاموش تھا۔
دروازہ بند تھا۔
اور اُس خاموش دروازے کے پیچھے…
جس شخص کا وہ ایک گھنٹے سے انتظار کر رہا تھا…
اُسے اس انتظار کی خبر تک نہیں تھی۔
آخرکار ہان ووُ نے بھی نظریں پھیر لیں…
اور سومن کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف واپس چل دیا۔
++++++++++++

اگلی صبح…
ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں حسبِ معمول خاصی رونق تھی۔
کھڑکیوں سے چھن کر آتی ہلکی سنہری دھوپ پورے ہال میں پھیل رہی تھی۔
کسی میز پر خاندان بیٹھا ناشتے میں مصروف تھا، کہیں سیاح آپس میں ہنستے بولتے اپنے دن کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
ہان ووُ اور اُس کے دوست بھی اپنی مخصوص میز پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
سوہان حسبِ عادت سب سے زیادہ بول رہا تھا۔
تائیجون کسی بات پر جے کیونگ سے بحث کر رہا تھا۔
سیونگ خاموشی سے کافی پی رہا تھا۔
اور ہان ووُ…
وہ خاموشی سے پلیٹ میں رکھا آملیٹ کانٹے سے کاٹ رہا تھا۔
رات بھر کی ادھوری نیند اُس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔
وہ ابھی ایک نوالہ منہ میں رکھنے ہی والا تھا کہ اچانک…
کسی نرم سی چیز نے اُس کے ٹخنے کو ہلکے سے چھوا۔
ہان ووُ چونک گیا۔
اُس نے فوراً اپنا پاؤں پیچھے کھینچا۔
چند لمحے وہ ساکت بیٹھا رہا۔
شاید…
غلطی سے کسی کا پاؤں لگ گیا ہوگا۔
اُس نے دوبارہ نوالہ اٹھایا۔
مگر اگلے ہی لمحے…
وہی لمس ایک بار پھر محسوس ہوا۔
اس بار جیسے کسی نے جان بوجھ کر اُس کے جوتے کو انگلی سے ہلکا سا چھیڑا ہو۔
ہان ووُ نے فوراً کانٹا پلیٹ میں رکھا۔
بھنویں سکڑ گئیں۔
یہ کیا…؟
وہ آہستہ سے میز کے نیچے جھکا۔
اور…
اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
انشا…!!
وہ واقعی میز کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی۔
گھٹنوں کو سمیٹے، دونوں ہاتھ اُن کے گرد لپیٹے، بالکل آرام سے بیٹھی تھی۔
جیسے یہ دنیا کا سب سے معمولی کام ہو۔
ہان ووُ کو جھکا ہوا دیکھ کر اُس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
اُس نے فوراً ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
پھر ایک بڑی سی مسکراہٹ دی…
اور دونوں ہاتھ جوڑ کر منت کرنے لگی۔
پلیزززز… کسی کو مت بتانا۔
ہان ووُ چند لمحے تو صرف اُسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
اُسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
یہ…
یہ میز کے نیچے کیا کر رہی ہے؟
وہ سیدھا ہو کر دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
چہرے پر صاف حیرت تھی۔
شاید…
میں نے غلط دیکھا۔
شاید رات کی کم نیند کی وجہ سے وہم ہوا ہے۔
آخر انشا جیسی لڑکی ناشتے کے وقت کسی کی میز کے نیچے کیوں بیٹھی ہوگی؟
یہ سوچ کر اُس نے ایک بار پھر آہستہ سے نیچے جھانکا۔
اور…
وہ پھر وہیں تھی۔
اس بار اُس نے ہان ووُ کو دیکھتے ہی دونوں ہاتھ ہلا کر مسکراتے ہوئے Hi کا اشارہ کیا۔
پھر ایسے منہ بنایا جیسے کہہ رہی ہو،
پکڑوانا مت…
ہان ووُ کے چہرے پر بےاختیار حیرانی اور بےبسی ایک ساتھ اُتر آئی۔
واقعی… یہی ہے۔
نجانے یہ لڑکی کس مٹی کی بنی ہوئی تھی۔
اوپر سے اُس کی ہر حرکت…
دنیا کی باقی لڑکیوں سے بالکل اُلٹ۔
کبھی کوریڈور میں دوڑتی پھرتی…
کبھی اجنبی کو مسٹر وال بنا دیتی…
اور اب…
صبح صبح ناشتے کی میز کے نیچے چھپی بیٹھی تھی۔
ہان ووُ نے دل ہی دل میں ایک لمبی سانس لی۔
مس کارٹون… یہ نام شاید میں نے غلط نہیں رکھا تھا۔

ہان ووُ نے ایک بار پھر احتیاط سے اِدھر اُدھر دیکھا۔
سب اپنے اپنے ناشتے اور باتوں میں مصروف تھے۔
کسی کی بھی نظر اُس کی طرف نہیں تھی۔
وہ دوبارہ آہستگی سے میز کے نیچے جھک گیا۔
انشا ابھی بھی وہیں بیٹھی تھی۔
جیسے ہی ہان ووُ نیچے آیا، اُس نے فوراً دونوں ہاتھ جوڑ لیے۔
پھر بڑی بڑی معصوم آنکھوں سے دوبارہ منت کرنے لگی۔
پلیز… کسی کو مت بتانا۔
ہان ووُ نے ہلکا سا سر ہلایا۔ پھر آہستہ سے سرگوشی کی،
تم… یہاں کر کیا رہی ہو؟
انشا نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
پھر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔
اس کے بعد دونوں ہاتھوں سے “بعد میں” کا اشارہ بنایا۔
اور آخر میں انگلی سے اپنے ہونٹ بند کرنے کا اشارہ کیا۔
ہان ووُ چند لمحے اسے دیکھتا رہا…
پھر بےاختیار اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اچھا… بعد میں وہ سمجھ گیا تھا۔
ابھی وہ کچھ نہیں بتانے والی۔
ہان ووُ نے فوراً ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ سیدھا ہو کر اپنی کرسی پر بیٹھ جائے، کہیں کسی کو شک نہ ہو جائے۔
انشا نے بھی فوراً سمجھتے ہوئے تیزی سے سر ہلا دیا۔
ہان ووُ جلدی سے سیدھا ہو کر دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
خوش قسمتی سے…
کسی نے بھی اُس کی یہ حرکت نوٹ نہیں کی تھی۔
ویسے بھی…
اس محفل میں ہان ووُ پر کسی کا خاص دھیان نہیں رہتا تھا۔
اگر اُس کی جگہ سوہان ہوتا…
تو اب تک آدھا ریسٹورنٹ اُس سے پوچھ چکا ہوتا کہ میز کے نیچے کیا خزانہ ملا ہے۔
ہان ووُ نے پانی کا گلاس اٹھایا۔
مگر اُس کے ہونٹوں پر اب بھی وہی مدھم سی مسکراہٹ موجود تھی۔
کل رات…
وہ ایک گھنٹے سے زیادہ اُس کے کمرے کے باہر کھڑا اُس کا انتظار کرتا رہا تھا۔
صرف ایک بار…
صرف ایک لمحے کے لیے اُس سے بات کرنے کی امید میں۔
اور آج… جب وہ ملی بھی…
تو کہاں؟ ناشتے کی میز کے نیچے۔
ہان ووُ نے بےاختیار سر جھکا کر ہلکی سی ہنسی روکنے کی کوشش کی۔
واقعی… مس کارٹون، مس کارٹون ہی تھی۔
اور اب…
جب سے اُسے معلوم ہوا تھا کہ انشا اسی میز کے نیچے بیٹھی ہوئی ہے…
اُس کے لیے ناشتے پر توجہ دینا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔
پلیٹ ویسے ہی اُس کے سامنے رکھی تھی۔
کانٹا ہاتھ میں تھا… مگر ذہن کہیں اور۔ دل تو بس یہی چاہ رہا تھا…
کہ یہ سب لوگ جلدی سے اٹھ جائیں…
اور وہ انشا سے پوچھے کہ آخر وہ میز کے نیچے کر کیا رہی ہے۔
ہر چند لمحوں بعد اُس کی نظریں بےاختیار میز پر بیٹھے اپنے دوستوں کی پلیٹوں کی طرف چلی جاتیں۔
کب کسی کی پلیٹ خالی ہوگی…
کب کوئی کہے گا، چلو چلتے ہیں۔
کب یہ سب یہاں سے اٹھیں گے…
اور کب وہ آخرکار انشا سے بات کر سکے گا۔
اس نے چوری سے ایک بار پھر میز کے نیچے جھانکنے کی کوشش کی…
مگر فوراً خود کو روک لیا۔
زیادہ بار دیکھتا…
تو یقیناً کسی نہ کسی کو شک ہو جاتا۔
ہان ووُ نے ایک لمبی سانس بھری۔
کتنا عجیب تھا یہ سب…
پہلے…
وہ ہمیشہ یہی چاہتا تھا کہ یہ لوگ اُس کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔
اُسے نوٹس کریں۔ اُس سے باتیں کریں۔ خاص طور پر سومن… اُس کی موجودگی ہی ہان ووُ کے لیے کافی ہوتی تھی۔
مگر…
آج پہلی بار صورتحال بالکل اُلٹ تھی۔
آج وہ دل ہی دل میں یہی دعا کر رہا تھا…
کہ یہ سب جلدی جلدی اپنا ناشتا ختم کریں…
اور یہاں سے چلے جائیں۔
تاکہ…
وہ صرف چند لمحوں کے لیے ہی سہی…
مس کارٹون سے بات کر سکے۔
یہ سوچتے ہی وہ خود چونک گیا۔
کب… اور کیسے…
ایک ایسی لڑکی، جس سے اُس کی ابھی صرف چند ملاقاتیں ہوئی تھیں…
اُس کی توجہ اس قدر اپنی طرف کھینچنے لگی تھی؟
اس سوال کا جواب… خود ہان ووُ کے پاس بھی نہیں تھا۔

++++++++++++++

کچھ ہی دیر بعد سب کا ناشتا تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
ایک ایک کر کے سب نے اپنی پلیٹیں ایک طرف سرکائیں اور کرسیوں سے اٹھنے لگے۔
مگر پھر اچانک…
سب کی نظریں ایک ساتھ ہان ووُ پر جا ٹھہریں۔
وہ اب بھی سکون سے بیٹھا تھا۔
اس کی پلیٹ میں آدھا آملیٹ ویسے کا ویسا پڑا تھا۔
سوہان نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
ہان ووُ…؟
ہان ووُ نے بالکل اطمینان سے پلیٹ کی طرف دیکھا، پھر بولا،
تم لوگ جاؤ… میں یہ ختم کر کے آتا ہوں۔
سوہان نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے۔
ابے! کس رفتار سے ناشتا کر رہا تھا تُو؟
جے کیونگ ہنستے ہوئے بولا،
ہم سب باتیں بھی کر رہے تھے، ہنس بھی رہے تھے، پھر بھی ختم کر لیا۔ اور ایک یہ حضرت ہیں…
ہان ووُ نے بغیر سر اٹھائے کہا،
تم لوگ جاؤ نا۔ میں آ جاؤں گا۔ جا کر تیار ہو جاؤ۔ تم لوگوں کو ویسے بھی تیار ہونے میں بہت وقت لگتا ہے۔ میں تو فوراً تیار ہو جاتا ہوں۔
تائیجون نے حیرت سے اسے دیکھا۔
ارے ارے… بریک لگا۔ ایک ہی سانس میں اتنی لمبی تقریر کیسے کر دی؟
سومن نے مشکوک نظروں سے ہان ووُ کو دیکھا۔
میرے خیال میں… اس کا پیٹ ابھی نہیں بھرا۔
اسی لیے دماغ بھی صحیح کام نہیں کر رہا۔
ہان ووُ نے بےزاری سے کانٹا اٹھایا۔
ہو گیا؟ اب جاؤ۔
سوہان نے کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھ کر کہا،
ابے… ہم لوگ تیرا قرض لے کر بھاگے ہیں کیا۔۔۔؟؟
جو ہمیں اتنی ایسے بھگا رہا ہے۔
ہان ووُ نے پہلی بار سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
چھوٹی دماغ… اگر تمہارا قرض لیا ہوتا… تو تمہیں بھگاتا کیوں؟ پکڑ کر رکھتا۔
تائیجون نے فوراً سنجیدگی سے سر ہلایا۔
بات میں پوائنٹ تو ہے۔
سوہان نے منہ بنایا۔
ہاں.. لیکن اس میں “چھوٹی دماغ” بولنے والی کون سی بات تھی؟
ہان ووُ نے آخرکار ہار مانتے ہوئے کانٹا پلیٹ میں رکھا۔
جاؤ یار… تم لوگوں سے بات ہی نہیں کرنی مجھے۔
یہ کہہ کر وہ دوبارہ خاموشی سے آملیٹ کھانے لگا۔
اسی دوران سیونگ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
چلو… چھوڑ دو اسے۔ کھا کر آ جائے گا۔ تم سب چلو۔
تم لوگوں کی باتوں سے اور ڈسٹرب ہوگا۔ پھر کھانے میں اور دیر لگائے گا۔
سوہان نے فوراً احتجاج کیا۔
تو بول تو ہم رہے ہیں… کھا تو یہ رہا ہے۔
ہاتھ تھوڑی پکڑ رکھا ہے ہم نے اس کا۔ کھائے آرام سے۔
اسی لمحے… جے کیونگ نے ہلکا سا چپت اس کے سر پر مارا۔
اوئے… بھول گیا ہے کیا؟ وہ ہان ووُ ہے۔
زیادہ باتوں سے ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔
سوہان نے سر سہلاتے ہوئے منہ بنایا۔
عجیب آدمی ہے… جا رہا ہوں میں۔
یہ کہہ کر وہ بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا۔
رین یون اور ہیوک تو پہلے ہی ڈائننگ ہال سے جا چکے تھے۔
سیونگ نے بھی ہان ووُ کی طرف ایک نظر ڈالی اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔
جے کیونگ جاتے جاتے مسکرا کر بولا،
جلدی آ جانا۔
ہان ووُ نے صرف ہلکا سا سر ہلا دیا۔
تائیجون بھی بغیر کچھ کہے اُن کے پیچھے چل پڑا۔
چند ہی لمحوں میں…نپوری میز خالی ہو گئی۔
ہان ووُ نے اُن سب کے جاتے ہوئے قدموں کو دیکھا…
اور پھر بےاختیار نظریں آہستہ آہستہ میز کے نیچے کی طرف جھکنے لگیں۔
ادھر…
جیسے ہی انشا نے بھی اُن کے دور جاتے قدموں کی آواز سنی، اُس نے فوراً سکون کا سانس لیا۔
پھر جلدی جلدی گھٹنوں کے بل آگے سرکنے لگی۔
مگر اگلے ہی لمحے…
اُس کا سر زور سے میز کے نیچے والے حصے سے جا ٹکرایا۔
آہ…
اُس نے فوراً دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے اور درد سے آنکھیں بند کر لیں۔
احتیاط سے… اتنی بھی جلدی کس بات کی ہے؟
کہتے ہوئے وہ فوراً اپنی برابر والی کرسی پیچھے کھسکانے لگا تاکہ انشا آرام سے باہر نکل سکے۔
انشا نے ایک ہاتھ سے اب بھی اپنا سر پکڑا ہوا تھا۔
دوسرے ہاتھ سے میز کا کنارہ تھام کر آہستہ آہستہ باہر نکلی۔
جیسے ہی وہ سیدھی کھڑی ہوئی…
سب سے پہلے اُس نے دوبارہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرا۔
پھر منہ بنا کر بڑبڑائی،
ظالم میز…
ہان ووُ ہونٹ دبا کر ہنسی روکنے لگا۔
انشا نے فوراً اُسے گھور کر دیکھا۔
ہنسیں مت… بہت زور سے لگا ہے۔
ہان ووُ نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی۔
میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا… آہستہ۔
انشا نے ہونٹ پھلا لیے۔
آپ نے کہا تھا… میں نے مانا نہیں۔ اب خوش؟
ہان ووُ نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا۔
نہیں… لیکن تم واقعی… مس کارٹون ہو۔
انشا نے فوراً آنکھیں گول کر دیں۔
دیکھا! ابھی ابھی سر لگا ہے… اور آپ کو پھر بھی میرا مذاق سوجھ رہا ہے۔
ہان ووُ نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
بیٹھ جاؤ…
انشا نے اُس کی طرف منہ بنایا…
پھر خاموشی سے اُس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
ہان ووُ نے ہلکی سی فکر مندی سے اُس کی طرف جھکتے ہوئے کہا،
دکھاؤ… زیادہ زور سے تو نہیں لگی؟
انشا نے فوراً اپنا سر پیچھے کرلیا۔۔۔
نہیں… مجھے ہاتھ مت لگائیے۔
ہان ووُ وہیں رک گیا۔
اچھا… ویسے تم تو کافی اچھی انگلش بول رہی ہو۔
انشا نے فوراً ناک ذرا سی اوپر کی۔
اب میں بالکل جاہل بھی نہیں ہوں… تھوڑی بہت انگلش آتی ہے مجھے۔
ہان ووُ مسکرا دیا۔
تھوڑی بہت؟ مجھے تو کافی اچھی لگی۔
انشا نے فوراً انگلی اُس کی طرف کر دی۔
مار دوں گی میں… اگر اب ہنسے تو آپ۔ اور… مجھے آپ سے بات بھی نہیں کرنی۔
ہان ووُ نے ہنسی دباتے ہوئے فوراََ سنجیدہ ہوا
اچھا… نہیں ہنستا۔ لیکن بات کیوں نہیں کرنی؟
انشا نے مصنوعی خفگی سے منہ بنایا
بتایا تو… مجھے انگلش نہیں آتی۔ آپ سے بات کرنے کے لیے مُجھے انگلش بولنی پڑتی ہے۔۔۔
ہان ووُ کے ہونٹوں پر دوبارہ پھر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
اُس نے خاموشی سے جیب سے اپنا موبائل نکالا، ٹرانسلیٹر کھولا…
اور فون اُس کی طرف بڑھا دیا۔

انشا نے جیسے ہی فون دیکھا…
اُس نے آسمان کی طرف دیکھ کر لمبی سانس لی۔
آہہہ…
گاڈ…
پھر ڈرامائی انداز میں اپنا سر دوبارہ میز پر مارنے کے لیے جھکایا۔
مگر اس سے پہلے کہ اُس کا ماتھا میز سے ٹکراتا…
ہان ووُ نے فوراً اپنا ہاتھ میز کے کنارے پر رکھ دیا۔
انشا کا سر سیدھا اُس کی ہتھیلی سے آ لگا۔
ہان ووُ نے فوراً کہا،
ابھی سر پر دوبارہ لگ جاتی۔
یہ کیا کر رہی ہو؟
انشا نے آہستہ سے اپنا سر اُس کی ہتھیلی سے اٹھایا…
پھر چند لمحے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھتی رہی۔
انشا نے فون دیکھا…
پھر آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں۔
آہ… یا اللہ…
اتنا کہہ کر اُس نے ڈرامائی انداز میں اپنا سر دوبارہ میز پر مارنے کے لیے جھکایا۔
مگر اس سے پہلے کہ اُس کا سر میز سے ٹکراتا…
ہان ووُ نے فوراً اپنا ہاتھ میز کے اوپر رکھ دیا۔
انشا کا ماتھا میز کے بجائے ہان ووُ کی ہتھیلی سے آ لگا۔
وہ چونک کر فوراً سیدھی ہو گئی۔
انشا نے بےپروائی سے کندھے اچکائے۔
ارے… چوٹ تھوڑی لگتی مجھے۔
میں نے آرام سے ہی سر نیچے کیا تھا۔
ہان ووُ نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
انشا نے ہاتھ کے اشارے سے بات ٹال دی۔
ارے چھوڑیں..آپ اپنا ناشتا ختم کریں اور جائیں۔
میں بھی چلتی ہوں۔
وہ کرسی سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ ہان ووُ نے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے کر کے اس کا راستہ بلاک کردیا۔۔۔
ایک منٹ… ایک منٹ۔ پہلے یہ تو بتاؤ…
تم میز کے نیچے کر کیا رہی تھیں؟
انشا نے ہلکی سی سانس بھری، پھر دوبارہ بیٹھ گئی۔
اس نے ہان ووُ کا فون اٹھایا اور تیزی سے اس پر ٹائپ کرنے لگی۔
میں مامی سے چھپنے کے لیے میز کے نیچے آ گئی تھی۔ پھر باہر نکلنے ہی والی تھی کہ آپ لوگ آ گئے۔ اب اچانک نکلتی تو کتنی شرمندگی ہوتی، اس لیے خاموشی سے وہیں بیٹھی رہی۔
ہان ووُ نے پڑھ کر فوراً سوال کیا،
لیکن… اگر میری جگہ کوئی اور تمہیں دیکھ لیتا تو؟
انشا نے شرارتی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب ٹائپ کیا۔
تو اُسے بھی آپ کی طرح خاموش رہنے کا کہتی۔
پھر اس نے فون نیچے رکھا اور مسکراتے ہوئے بولی،
ویسے…یہ تو آپ کی خوش نصیبی تھی کہ آپ نے مجھے دیکھ لیا۔
ہان ووُ نے بھنویں اٹھائیں۔
اچھا؟ میری خوش نصیبی…۔یا تمہاری؟
انشا نے فوراً ٹھوڑی اوپر کر لی۔
میری۔
ہان ووُ ہلکا سا ہنسا، پھر اچانک اسے کل کا منظر یاد آ گیا۔
اس کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
کل… تمہارے ساتھ کون تھا؟
انشا نے حیرانی سے دیکھا۔
کب؟
دوپہر کے وقت۔
انشا نے بےفکری سے جواب دیا،
مامی ہی ہوں گی…اور کون ہوگا؟
ہان ووُ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے پوچھا،
پھر… انہوں نے تمہیں تھپڑ کیوں مارا تھا؟
انشا کی آنکھیں ایک دم پھیل گئیں۔
آہہ… آپ نے وہ بھی دیکھ لیا؟
ہان ووُ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
ہمم… اب بتاؤ… کیوں مارا؟
انشا نے جیسے بات کو معمولی بنانے کی کوشش کی۔
ارے… وہ مجھ سے بڑی ہیں۔ میں شرارت کروں گی…
تو ماریں گی ہی نا۔
ہان ووُ نے فوراً اگلا سوال کر دیا۔
کیا شرارت کی تھی تم نے؟
انشا نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھا۔
آپ کو سب جاننا ہے؟
ہان ووُ نے بغیر سوچے فوراً کہا،
ہاں۔
انشا نے ہونٹ دبا کر مسکراہٹ روکی، پھر سر نفی میں ہلایا۔
میں نے بتانا نہیں۔۔۔
یہ کہہ کر وہ دوسری طرف سے نکلنے کے لیے مڑی۔
ہان ووُ بھی فوراً اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔
ارے… سنو تو!
انشا نے پیچھے مڑ کر دیکھا، پھر شرارتی انداز میں بولی
پھر کبھی…
اگلے ہی لمحے وہ ہلکی سی ہنسی کے ساتھ تیزی سے بھاگ گئی۔
ہان ووُ چند لمحے وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
پھر بےاختیار اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
نجانے کیوں… ہر بار… وہ اُسے صرف اُس وقت ملتی تھی… جب اُس کی ملاقات کی کوئی امید ہی نہیں ہوتی تھی۔

+++++++++++++

رین یون روم میں تیار ہو رہا تھا۔ وہ شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے کچھ لمحوں تک خاموش رہا، پھر اچانک آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے بولا،
آج ہوٹل میں ایک لڑکی کو دیکھا… وہ پردے میں تھی۔۔۔
سیونگ نے بیڈ پر بیٹھے بیٹھے سر اٹھایا۔
اُسے دیکھ کس کی یاد آ گئی؟
رین یون کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔
اگر… میں ابھی واپس اسلام آباد جاؤں… تو کیا وہ مجھے مل جائے گی…؟
سیونگ نے گہری سانس بھری۔
پھر وہی بات…
وہ بس ایک لڑکی ہے۔۔ ایسے سوچو۔۔ ایک لڑکی تمہیں ملی… تمہیں اچھی لگی… اور بس پھر وہ تُمہاری زندگی سے چلی گئی۔۔ بس ختم۔۔۔
رین یون نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا۔
جا ہی تو نہیں رہی وہ میری زندگی سے…
سیونگ چند لمحے خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا،
وہ نہیں جا رہی… یا تم اسے جانے نہیں دے رہے؟
جتنا اُس کے بارے میں سوچو گے… اُتنا ہی وہ تمہیں یاد آئے گی۔
رین یون نے کوئی جواب نہ دیا۔
سیونگ اٹھ کر اس کے قریب آیا اور اسے آئینے کے بالکل سامنے کھڑا کر دیا۔
ذرا خود کو دیکھ۔
رین یون خاموشی سے آئینے میں خود کو دیکھنے لگا۔
سیونگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
ایک پوری دنیا ہے… جو تم سے محبت کرتی ہے۔
لاکھوں لوگ تمہارا ایک دیدار کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ اس چہرے پر… اس مسکراہٹ پر… تمہاری آواز پر… کتنے لوگ مرتے ہیں، تمہیں اندازہ بھی ہے؟
رین یون خاموش رہا۔
سیونگ نے آہستہ سے کہا،
اب آنکھیں بند کرو۔
رین یون نے بغیر کچھ کہے آنکھیں بند کر لیں۔
سیونگ کی آواز پھر سنائی دی۔
اب… اس لڑکی کے بارے میں سوچو۔
وہ کون ہے؟ ایک عام سی لڑکی… عام سا چہرہ…
نہ کوئی شہرت… نہ کوئی خاص مقام…
کیا دنیا اسے جانتی ہے؟
رین یون نے آہستہ سے سر نفی میں ہلا دیا۔
کیا لاکھوں لوگ اس کے ایک دیدار کے لیے بےتاب ہوتے ہیں؟
کیا اس میں کوئی ایسی غیر معمولی بات ہے… جو کسی اور لڑکی میں نہیں ہو سکتی؟
سیونگ نے اس کے کندھے کو ہلکا سا دبایا۔
تو پھر بتاؤ…
کیا تمہیں اس سے بہتر لڑکی کبھی نہیں مل سکتی؟
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
رین یون نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں۔
اس کی نظریں سیدھی آئینے میں اپنے ہی عکس پر تھیں۔
پھر اس نے بہت دھیمے لہجے میں کہا،
نہیں…
نہیں…
کیونکہ بات “بہتر” ہونے کی نہیں ہے۔
سیونگ کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
رین یون آئینے سے نظریں ہٹائے بغیر بولا،
اگر محبت خوبصورتی، شہرت یا خاص ہونے سے ہوتی…
تو شاید میں ہر ہفتے کسی نئی لڑکی سے محبت کر بیٹھتا۔
مگر… ایسا کبھی نہیں ہوا۔
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آئینے میں خود کو دیکھا۔
تم پوچھ رہے تھے نا… اس میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ میں آج تک یہی نہیں سمجھ سکا۔
بس… جب وہ سامنے ہوتی تھی…
تو وہ مجھے دنیا کی سب سے خاص لڑکی لگتی ہے۔۔
سیونگ خاموش ہو گیا۔
رین یون نے آہستہ سے جیکٹ اٹھائی اور پہن لی۔
پھر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے صرف ایک جملہ کہا،
بعض لوگ… خاص ہوتے نہیں… بن جاتے ہیں۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *