السلام علیکم
از قلم:- جویریہ ارشد عظیمی
افسانہ:- وطن کی خاطر
صبح کی پہلی کرن ابھی افق پر نمودار ہی ہوئی تھی۔ شہر کی گلیاں خاموش تھیں، مگر ایک چھوٹے سے گھر کی کھڑکی سے ہلکی سی روشنی باہر آ رہی تھی۔ کمرے کی دیوار پر سبز ہلالی پرچم آویزاں تھا، جس کے نیچے ایک بوڑھا شخص خاموش بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
وہ شخص حاجی عبدالرحمن تھا۔ عمر کی اسی بہاریں دیکھ چکا تھا۔ سفید بال، جھریوں بھرا چہرہ اور ہاتھوں پر وقت کی لکھی ہوئی لکیریں اس کی زندگی کی داستان سنا رہی تھیں۔ وہ اکثر اپنے پوتے حمزہ کو پاکستان کے قیام کی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔
آج بھی حمزہ اپنے دادا کے پاس آ بیٹھا۔
“دادا جان! آپ ہر بار پرچم کو اتنی دیر تک کیوں دیکھتے رہتے ہیں؟”
عبدالرحمن نے مسکرا کر پرچم کی طرف دیکھا۔
“بیٹا! تمہارے لیے یہ صرف ایک پرچم ہے، مگر میرے لیے اس کے ہر رنگ میں ایک داستان چھپی ہے۔”
حمزہ نے حیرت سے پوچھا، “کیسی داستان؟”
بوڑھے نے گہری سانس لی۔
“قربانی کی، ہجرت کی، جدوجہد کی اور وطن کی محبت کی۔”
حمزہ خاموشی سے دادا کی بات سننے لگا۔
عبدالرحمن نے کہنا شروع کیا، “جب پاکستان بنا تھا تو میں تمہاری عمر سے بھی چھوٹا تھا۔ ہمارے پاس نہ کوئی بڑا سامان تھا، نہ دولت۔ بس ایک خواب تھا کہ ہم اپنے وطن پہنچیں گے۔ راستے میں بہت سے لوگ بچھڑ گئے۔ کچھ لوگ منزل تک پہنچ ہی نہ سکے۔”
“کیا آپ بھی ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے؟” حمزہ نے پوچھا۔
“ہاں بیٹا! اور وہ سفر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔”
اس کی آواز بھرا گئی۔
“ہم ایک چھوٹے سے قافلے میں گھر سے نکلے تھے۔ میری ماں نے جاتے وقت مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، ‘یہ ہماری اپنی زمین ہے، اسے کبھی اجنبی مت سمجھنا۔'”
حمزہ نے دادا کا ہاتھ تھام لیا۔
“پھر کیا ہوا؟”
عبدالرحمن کچھ دیر خاموش رہا۔
“راستہ بہت مشکل تھا۔ کئی دن بھوک اور پیاس میں گزرے۔ ہمارے ساتھ چلنے والے کچھ لوگ راستے میں ہم سے جدا ہوگئے۔ میری بڑی بہن بھی ہم سے بچھڑ گئی۔ ہم اسے بہت تلاش کرتے رہے، مگر وہ دوبارہ کبھی نہ مل سکی۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
حمزہ نے آہستہ سے پوچھا، “دادا جان، پھر آپ پاکستان کیوں آئے؟”
عبدالرحمن کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
“کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ ایک دن ہمارا اپنا وطن ہوگا۔ ایسا وطن جہاں ہم اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں گے۔ ہم نے اپنی تکلیف کو برداشت کیا، کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری آنے والی نسلیں سکون سے زندگی گزاریں گی۔”
حمزہ نے پرچم کی طرف دیکھا۔
“دادا جان! کیا ہم نے آپ کا خواب پورا کر دیا؟”
یہ سوال سن کر عبدالرحمن چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا۔
“یہی تو سوال ہے، بیٹا۔”
اگلے دن حمزہ اسکول گیا تو وہاں جشنِ آزادی کی تیاری ہو رہی تھی۔ بچے سبز و سفید لباس پہنے ہوئے تھے۔ کلاس روم جھنڈیوں سے سجایا جا رہا تھا۔ ہر طرف ملی نغمے سنائی دے رہے تھے۔
حمزہ بھی اپنے دوستوں کے ساتھ سجاوٹ میں مصروف ہوگیا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ اسکول کے صحن میں کچھ کاغذ اور پلاسٹک بکھرا ہوا ہے۔
اس نے ایک دوست سے کہا، “آؤ پہلے یہ صفائی کرتے ہیں۔”
دوست نے ہنس کر کہا، “ارے چھوڑو! صفائی کرنے والے آ جائیں گے۔ ہم جشن منانے آئے ہیں۔”
حمزہ کو دادا کی بات یاد آگئی۔
“وطن سے محبت صرف جھنڈیاں لگانے کا نام نہیں۔”
اس نے جھک کر کچرا اٹھانا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد اس کے دو دوست بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔
اس دن اسکول میں ایک تقریری مقابلہ بھی تھا۔ موضوع تھا: “وطن کی خاطر ہماری ذمہ داریاں”۔
حمزہ کا نام بھی مقابلے میں شامل تھا۔
جب اس کی باری آئی تو وہ اسٹیج پر پہنچا۔ سامنے اساتذہ اور طلبہ بیٹھے تھے۔ اس نے چند لمحے خاموش رہ کر سب کو دیکھا اور پھر بولنا شروع کیا۔
“ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے، لیکن ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم وطن کے لیے کیا کر رہے ہیں؟”
ہال میں خاموشی چھا گئی۔
“ہم اپنے گھروں، گلیوں اور اسکولوں کو صاف نہیں رکھتے، قانون کی پابندی نہیں کرتے، وقت ضائع کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کیوں نہیں کر رہا۔ وطن صرف حکومت کا نام نہیں۔ وطن ہم سب سے مل کر بنتا ہے۔”
حمزہ کی آواز میں اعتماد پیدا ہوگیا۔
“میرے دادا نے مجھے بتایا کہ پاکستان حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے اپنے گھر، اپنی زمینیں اور اپنے پیارے قربان کیے تھے۔ اگر ہمارے بزرگ اتنی قربانیاں دے سکتے تھے تو ہم اپنے وطن کے لیے ایمانداری، محنت اور ذمہ داری کیوں نہیں دکھا سکتے؟”
اس نے آخری جملہ بہت مضبوط لہجے میں کہا۔
“وطن کی خاطر ہمیں دشمن سے لڑنے سے پہلے اپنے اندر کی برائیوں سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں جہالت کے خلاف علم کا چراغ جلانا ہوگا، کرپشن کے خلاف ایمانداری اختیار کرنا ہوگی، نفرت کے مقابلے میں محبت کو جگہ دینی ہوگی اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔ یہی وطن کی اصل خدمت ہے۔”
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
حمزہ نے دیکھا کہ اس کے استاد کی آنکھوں میں بھی نمی تھی۔
کچھ دن بعد اسکول میں ایک خبر پھیلی کہ شہر کے ایک سرکاری اسکول کی عمارت شدید بارش کے باعث متاثر ہوگئی ہے۔ وہاں پڑھنے والے بچوں کے پاس بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ نہیں تھی۔
حمزہ نے اپنے دوستوں سے کہا، “ہم ان بچوں کے لیے کچھ کیوں نہیں کرتے؟”
کسی نے کتابیں دینے کا مشورہ دیا، کسی نے کپڑے اور کسی نے رقم جمع کرنے کی بات کی۔
حمزہ نے اپنے دادا سے بھی اس بارے میں بات کی۔
عبدالرحمن نے اپنی پرانی الماری کھولی اور ایک چھوٹا سا لکڑی کا صندوق نکالا۔
“اس میں کیا ہے؟” حمزہ نے پوچھا۔
دادا نے صندوق کھولا۔ اندر کچھ پرانے خطوط، ایک تصویر اور کپڑے میں لپٹی ہوئی مٹی تھی۔
“یہ وہ مٹی ہے جو میری ماں پاکستان آتے وقت ساتھ لائی تھیں۔”
حمزہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
عبدالرحمن نے کہا، “بیٹا، میرے پاس دولت تو نہیں، لیکن اگر یہ رقم ان بچوں کی تعلیم میں کام آسکتی ہے تو اسے لے جاؤ۔”
حمزہ نے فوراً منع کیا۔
“نہیں دادا جان، یہ تو آپ کی یادگار ہے۔”
بوڑھا مسکرایا۔
“یادگار صندوق میں بند رکھنے سے نہیں، مقصد پورا کرنے سے زندہ رہتی ہے۔ اگر یہ رقم کسی بچے کے مستقبل کو روشن کر دے تو اس سے بڑی یادگار اور کیا ہوگی؟”
حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے دادا کو گلے لگا لیا۔
اگلے چند دنوں میں اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور محلے کے لوگوں نے مل کر چندہ جمع کیا۔ کتابیں خریدی گئیں، فرنیچر کا انتظام کیا گیا اور متاثرہ اسکول کی مرمت میں مدد دی گئی۔
جب وہ بچے دوبارہ اپنی کلاسوں میں بیٹھے تو ان کے چہروں پر خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
ایک چھوٹا سا بچہ حمزہ کے پاس آیا اور بولا، “بھائی! آپ نے ہماری مدد کیوں کی؟”
حمزہ مسکرایا۔
“کیونکہ تم بھی اسی وطن کے بیٹے ہو جس وطن سے میں محبت کرتا ہوں۔”
بچے نے معصومیت سے پوچھا، “کیا میں بڑا ہو کر پاکستان کے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟”
حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بالکل! تم دل لگا کر پڑھو، اچھے انسان بنو اور جو بھی کام کرو، ایمانداری سے کرو۔ یہی پاکستان کی خدمت ہے۔”
کئی سال گزر گئے۔
حمزہ بڑا ہوگیا۔ اس نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ایک انجینئر بن گیا۔ اسے بیرونِ ملک ایک بڑی کمپنی میں ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ تنخواہ بہت زیادہ تھی اور مستقبل بھی روشن دکھائی دیتا تھا۔
وہ کئی راتیں سوچتا رہا۔
ایک طرف آسائش بھری زندگی تھی، دوسری طرف اپنے ملک میں رہ کر کام کرنے کا فیصلہ۔
ایک رات وہ اپنے دادا کے پاس گیا۔ عبدالرحمن اب بہت کمزور ہوچکا تھا۔
حمزہ نے کہا، “دادا جان! مجھے بیرونِ ملک بہت اچھی ملازمت مل رہی ہے۔ میں کیا کروں؟”
دادا نے مسکرا کر پوچھا، “تمہارا دل کیا کہتا ہے؟”
“دل کہتا ہے کہ میں پاکستان میں رہ کر کچھ کرنا چاہتا ہوں۔”
عبدالرحمن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
“پھر یہی کرو۔ وطن کی خاطر ہمیشہ قربانی میدانِ جنگ میں نہیں دینی پڑتی۔ کبھی اپنا آرام قربان کرنا پڑتا ہے، کبھی اپنی خواہش اور کبھی اپنی آسانی۔”
حمزہ نے بیرونِ ملک کی ملازمت چھوڑ دی اور پاکستان میں رہ کر ایک ایسا منصوبہ شروع کیا جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے بچوں تک تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی پہنچانا تھا۔
کچھ لوگ اس کے فیصلے پر ہنسے، کچھ نے اسے نادان کہا، مگر وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹا۔
برسوں کی محنت کے بعد اس کے منصوبے سے ہزاروں بچے مستفید ہونے لگے۔
ایک دن وہ اپنے دادا کے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ عبدالرحمن خاموشی سے پرچم کو دیکھ رہے ہیں۔
حمزہ ان کے پاس بیٹھ گیا۔
دادا نے کمزور آواز میں پوچھا، “بیٹا! اب بتاؤ، کیا تمہیں معلوم ہوگیا کہ وطن کی خاطر کیا کرنا ہوتا ہے؟”
حمزہ نے پرچم کی طرف دیکھا اور مسکرا کر جواب دیا۔
“جی دادا جان۔ وطن کی خاطر صرف جان دینا ضروری نہیں، کبھی زندگی کو ایک مقصد دینا بھی وطن کی خاطر ہوتا ہے۔”
عبدالرحمن نے اس کا ہاتھ تھاما۔
“اب مجھے یقین ہے کہ میری ماں کی وہ مٹھی بھر مٹی ضائع نہیں ہوئی۔”
کھڑکی کے باہر سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا۔
حمزہ نے پرچم کو دیکھا اور دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ اپنی آخری سانس تک اپنے وطن کی تعمیر، ترقی اور عزت کے لیے کام کرتا رہے گا۔
کیونکہ اسے سمجھ آچکا تھا کہ وطن صرف وہ زمین نہیں جہاں ہم رہتے ہیں، وطن وہ ذمہ داری ہے جسے ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سنبھال کر رکھتے ہیں۔
