Girdaab Episode 10 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۰

باب پنجم: پہلی لہر

کمرہ نیم روشن تھا۔
دھندلی روشنی میں ڈرائنگ روم کی فضا غیر معمولی حد تک بوجھل محسوس ہو رہی تھی۔ صوفے پر ریپر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے بازو پر بندھی پٹی خون سے تو نہیں، مگر سرخی سے اب بھی اس زخم کی گواہی دے رہی تھی جہاں سے چند گھنٹے پہلے گولی نکالی گئی تھی۔
سامنے سینٹر ٹیبل پر نکاح نامہ رکھا تھا۔
اس کے اوپری کونے پر خون کے چند سوکھے دھبے اب بھی موجود تھے… جیسے وہ کاغذ صرف سیاہی سے نہیں، کسی کی تقدیر سے لکھا گیا ہو۔
کیٹی، ٹویٹی اور زوزی خاموشی سے صوفے کے آگے پیچھے کھڑی تھیں۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ایک لفظ بھی بول سکے۔
اچانک… ریپر پوری شدت سے کھڑا ہوا۔
اگلے ہی لمحے اس نے زور دار لات مار کر سینٹر ٹیبل کو الٹ دیا۔
کاغذات، شیشے اور کپ فرش پر بکھر گئے۔
کیا تھا یہ؟!
اس کی گرجتی ہوئی آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
کوئی مجھے بتایا گا یہ کیا تھا؟!
وہ غصے سے جبڑا بھینچتے ہوئے غصے سے سامنے رکھی میز پر ہاتھ مارا، میز پر رکھا سامان لرز اٹھا۔
کسی نے بتایا تھا مجھے؟!
اس کی سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں۔
وہ پاگلوں کی طرح سامنے پڑی ہر چیز اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگا۔
مجھے نکاح نہیں کرنا تھا!
اس نے زمین پر پڑا نکاح نامہ اٹھایا۔
چند لمحے اسے گھورتا رہا…
پھر پوری طاقت سے وہ کاغذ کیٹی کی طرف پھینک دیا۔
یہ… یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔
اس کی آواز اب چیخ میں بدل چکی تھی۔
یہ میں نے نہیں کرنا تھا…
یہ کیا کر دیا میں نے؟!
کیٹی نے ہمت کر کے دھیرے سے کہا،
سر… آپ اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہیں؟ اس نکاح نامے میں تو آپ کا اصلی نام بھی نہیں لکھا۔
ریپر کی چیخ اچانک رک گئی۔
اس نے آہستہ سے گردن اس کی طرف موڑی۔
کیا…؟
اس کی آواز پہلی بار بے یقینی میں ڈوبی ہوئی تھی۔
سچ؟
ٹویٹی نے فوراً جھک کر نکاح نامہ اٹھایا اور نظریں اس پر دوڑا دیں۔
چند لمحے بعد وہ چونک گئی۔
سر… مگر مولانا صاحب کا کیا؟
کیٹی کی نظریں فوراً زوزی پر جا ٹھہریں۔
یہ مولانا کو کون لایا تھا؟
زوزی نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔
میں… مجھے پہلے بتاتی۔ ہمیں جعلی نکاح کروانا تھا۔
یہ سنتے ہی ریپر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
وہ بجلی کی رفتار سے زوزی کے سامنے پہنچا اور اس کا بازو زور سے پکڑ لیا۔
کون سا نام لکھوایا تم نے؟
اس کی آواز میں ایسا غصہ تھا کہ زوزی کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
باس میں نے نام نہیں لکھوایا۔۔۔
ریپر چند لمحے اسے گھورتا رہا۔
پھر پوری طاقت سے ساتھ رکھے صوفے پر لات دے ماری۔
پھر کیٹی ہمت جمع کر کے بولی۔۔
سوری… سر… ہمیں نہیں معلوم تھا، یہ سب ایسے ہوجائے گا۔۔۔
کالم ڈاؤن…
ریپر نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
کیا کالم ڈاؤن؟!
اس کی آنکھوں میں پہلی بار خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔
تُم لوگوں کو اندازہ بھی ہے کہ یہ کیا ہو گیا ہے؟
اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
نکاح
وہ لفظ جیسے اس کے گلے میں اٹک گیا۔
نکاح…
اس نے دانت بھینچ لیے۔
دل چاہ رہا ہے تم تینوں کو یہیں ختم کر دوں۔
ریپر نے جھک کر دوبارہ نکاح نامہ اٹھایا۔
صِرف امن کو ڈرنا تھا مُجھے۔۔۔۔ نکاح نہیں کرنا تھا۔۔۔
اس کی نظریں سب سے پہلے اپنے نام پر جا کر رک گئیں۔
پھر آہستہ آہستہ نیچے سرکیں۔
سید امل ایمان افتخار۔
اس کے ہاتھ پہلی بار ہلکے سے کانپے۔
وہ کئی لمحوں تک انہی دو ناموں کو دیکھتا رہا۔
اب…
وہ اس نکاح کو جھٹلاتا بھی تو کیسے؟
زندگی میں پہلی بار…
اس کا اپنا منصوبہ اسی پر الٹ پڑا تھا۔
پہلی مرتبہ اسے محسوس ہوا کہ وہ چاروں خانے چِت ہو چکا ہے۔
اور حیرت کی بات یہ تھی…
اسے نہ کسی گولی نے ہرایا تھا…
نہ کسی دشمن کی چال نے…
بلکہ ایک لڑکی نے…
جس نے بغیر ہتھیار اٹھائے…
بغیر کوئی وار کیے…
اسے پہلی بار شکست کا مطلب سمجھا دیا تھا۔

+++++++++++++

شام اپنے آخری سائے سمیٹ رہی تھی۔
گھر کے صحن میں عجیب سی خاموشی بسی ہوئی تھی، جیسے دیواریں بھی کسی خبر کی منتظر ہوں۔
اسی لمحے گیٹ کے باہر گاڑی رکی۔
گیٹ پر موجود ملازم نے جیسے ہی گاڑی سے امل کو اترتے دیکھا، وہ گھبرا کر تقریباً دوڑتا ہوا اندر کی طرف بھاگا۔
بیگم صاحبہ…
بیگم صاحبہ… امل بی بی آ گئی ہیں۔۔۔۔
اس کی بلند آواز پورے گھر میں گونج گئی۔
چند ہی لمحوں میں انیسہ بیگم تقریباً دوڑتی ہوئی لانچ میں آئیں۔
جیسے ہی اُن کی نظر امل پر پڑی، اُن کے قدم ایک لمحے کو رک گئے۔
چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
اگلے ہی لمحے وہ لپک کر امل کے گلے سے لگ گئیں۔
یا اللہ… میری بچی…
آواز کانپ گئی۔
وہ امل کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر بار بار دیکھنے لگیں، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ اُن کی بیٹی واقعی اُن کے سامنے کھڑی ہے۔
امل نے بھی خاموشی سے انیسہ بیگم کو گلے لگا لیا۔
اس کی آنکھیں بند تھیں۔
وہ مضبوط بننے کی کوشش کر رہی تھی…
مگر انیسہ بیگم کی آغوش میں آتے ہی اُس کی ساری ہمت جیسے جواب دے گئی۔
افتخار صاحب بھی تیزی سے باہر آئے۔
وہ ہمیشہ کی طرح مضبوط دکھائی دے رہے تھے، مگر آج اُن کی آنکھوں کی نمی اُن کی بےبسی بیان کر رہی تھی۔
اُنہوں نے آگے بڑھ کر امل کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
الحمدللہ…
بس یہی ایک لفظ اُن کے لبوں سے نکلا۔
کچھ دیر بعد امل کو سہارا دے کر صوفے پر بٹھایا گیا۔
اُس کے پاؤں سے اب بھی خون رس رہا تھا۔
فرش پر سرخ قطرے گرتے جا رہے تھے۔
انیسہ بیگم فوراً فرسٹ ایڈ باکس لے آئیں۔
وہ گھٹنوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھ گئیں۔
کانپتے ہاتھوں سے پٹی کھولی۔
زخم کو صاف کیا۔
ہر بار جب روئی زخم سے لگتی، امل کی پلکیں بےاختیار بھیگ جاتیں، مگر اُس نے ایک آہ تک نہ بھری۔
انیسہ بیگم کے ہاتھ مسلسل لرز رہے تھے۔
بار بار آنکھوں سے آنسو ٹپکنے کو ہوتے، مگر وہ ہر بار انہیں پلکوں میں ہی قید کر لیتیں۔
افتخار صاحب سامنے والے صوفے پر بیٹھے مسلسل امل کا حال پوچھ رہے تھے۔
بیٹا… اُس نے تمہیں کہیں زیادہ تکلیف تو نہیں دی؟
کھانا کھایا تھا؟
ڈاکٹر کو بلاؤں؟
امل ہر سوال کے جواب میں بس ہلکا سا سر ہلا دیتی۔
پورے کمرے میں صرف دھیمی آوازیں اور سسکیوں جیسی خاموشی تھی۔
اور…
ان سب سے چند قدم دور… امن خاموش کھڑا تھا۔
وہ مسلسل امل کو دیکھ رہا تھا۔
چہرہ سپاٹ تھا۔
مگر آنکھوں کے نیچے اُترتی تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی۔
یہ وہ تھکن نہیں تھی جو کئی راتیں جاگنے سے آتی ہے۔
یہ وہ تھکن تھی…
جو انسان اپنی روح پر جنگ لڑنے کے بعد محسوس کرتا ہے۔
چند لمحے بعد اُس نے نظریں اٹھائیں۔
ارحم اور آئراہ اب بھی وہیں موجود تھے۔
امن نے صرف ایک مختصر سا اشارہ کیا۔
وہ دونوں خاموشی سے سر ہلا کر باہر نکل گئے۔
امن آہستہ سے افتخار صاحب کے قریب آیا۔
دادا…
آواز پہلے سے کہیں زیادہ مدھم تھی۔
نہات کہاں ہے؟
میں کافی دیر سے اُسے کال کر رہا تھا… فون نہیں اٹھا رہا۔
افتخار صاحب نے گہری سانس لی۔
وہ تو اپنے گھر چلا گیا۔
ہم نے پوچھا بھی تھا… مگر کچھ بتائے بغیر ہی نکل گیا۔
امن نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
اچھا۔۔۔
بس اتنا ہی۔
پھر وہ نظریں جھکائے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
اوپر…
سیڑھیوں کی ریلنگ کے ساتھ یسریٰ خاموش کھڑی تھی۔
وہ کافی دیر سے نیچے کا سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
انیسہ بیگم کی سسکیاں…
افتخار صاحب کی خاموش بےبسی…
امل کے زخمی قدم…
اور… امن۔ وہی امن…
جسے اُس نے ہمیشہ سر اُٹھا کر چلتے دیکھا تھا۔
وہ آدمی… جو ہر مشکل کے سامنے مسکرا دیتا تھا۔
جس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک عجیب سا اعتماد رہتا تھا۔ جیسے دنیا کی کوئی طاقت اُسے جھکا نہیں سکتی۔
لیکن… آج..
آج وہ امن کہیں کھو گیا تھا۔۔۔
اس کے ہاتھ بےاختیار ریلنگ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔
امن جیسے ہی سیڑھیوں کے قریب پہنچا…
اُس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
اور…
یسریٰ کے وجود میں جیسے کسی نے برف گھول دی۔
یہ…
یہ وہ آنکھیں نہیں تھیں…
جنہیں وہ ہمیشہ دیکھتی آئی تھی۔
وہ آنکھیں…
جن میں ہمیشہ اعتماد چمکتا تھا۔
وقار بولتا تھا۔
اور بےخوفی سانس لیتی تھی۔
مگر آج…
آج اُن آنکھوں میں عجیب سا خلا تھا۔
یسریٰ کے دل میں اچانک ایک ٹیس سی اٹھی۔
یہ…
یہی تو چاہا تھا اُس نے۔
امن ہار جائے۔
کمزور پڑ جائے۔
ٹوٹ جائے۔
اور پھر اُس کا ہوجائے۔۔۔
مگر…
یہ منظر دیکھنے کے بعد پہلی بار اُسے اپنی خواہش سے نفرت محسوس ہوئی۔
کیا یہی محبت تھی؟
جس انسان کو وہ دنیا سے زیادہ چاہتی تھی…
اُسی کو اپنے ہاتھوں اس حال تک لے آئی تھی۔
اُس کے لب لرزے۔
میں…
الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
امن نے صرف ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا۔
پھر خاموشی سے ہاتھ کے ایک مختصر اشارے سے راستے سے ہٹنے کو کہا۔
یسریٰ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔
امن اُس کے پاس سے گزرا گیا۔۔۔
امن کے قدم آہستہ آہستہ اوپر چڑھتے گئے…
اور یسریٰ وہیں سیڑھیوں کے پاس ساکت کھڑی رہ گئی۔
اُس کی نظریں امن کی دور ہوتی پشت پر جمی تھیں۔
مگر
امن کی آنکھیں… وہ خالی، تھکی ہوئی آنکھیں…
جو اُس نے آج پہلی بار دیکھی تھیں۔
یسریٰ نے بےاختیار دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے۔
یہ میں نے کیا کر دیا…؟
اُس کے ہونٹ کپکپا اٹھے۔
یہی تو چاہتی تھی وہ… کہ امن ٹوٹ جائے… مگر جب واقعی وہ اُس کے سامنے ٹوٹا کھڑا تھا… تو اُس کا اپنا وجود بکھرنے لگا۔۔۔۔
نہیں…
اُس نے بےاختیار سر نفی میں ہلایا۔
میں اپنے امن کو ایسے نہیں دیکھ سکتی…
کبھی بھی نہیں…
آنکھوں سے آنسو ایک کے بعد ایک گرتے چلے گئے۔
اُسے پہلی بار احساس ہوا…
محبت کسی کو حاصل کرنے کا نام نہیں…
اگر اُس کی خوشی کے لیے خود کو کھونا پڑے…
تب بھی سودا مہنگا نہیں ہوتا۔
چند ہی لمحوں میں نہ جانے کتنے خیال اُس کے ذہن میں گزر گئے۔
اگر امن کو سب کچھ معلوم ہو گیا تو…؟
وہ اُس سے نفرت کرے گا…
شاید ہمیشہ کے لیے۔
وہ پولیس کے حوالے کر دے…
تو بھی ٹھیک۔
وہ اُسے سزا دے…
تو بھی قبول۔
وہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے نکال دے…
یہ بھی منظور۔
مگر…
اب وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتی تھی۔
اگر آج بھی سچ نہ بولا…
تو شاید وہ خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی۔
اُس نے ایک گہری سانس لی۔
آنکھوں سے آنسو پونچھنے کی ناکام کوشش کی…
اور اچانک سیڑھیوں کی طرف دوڑ پڑی۔
اتنی تیزی سے…
جیسے دیر ہو جانے کا مطلب ہمیشہ کے لیے سب کچھ کھو دینا ہو۔
راستے میں ایک ملازمہ نے اُسے آواز دی۔
یسریٰ۔۔۔
مگر یسریٰ نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔
وہ صرف دوڑتی رہی۔
صرف ایک ہی خیال کے ساتھ… آج… ہر حال میں سچ بتانا ہے۔
ادھر…
امن اپنے کمرے میں داخل ہوا۔
دروازہ بند کیا۔
وہ اوپر والا لاک لگانے ہی والا تھا کہ…
ٹھک… ٹھک…
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
امن نے چند لمحے دروازے کو دیکھا۔
پھر خاموشی سے دروازہ کھول دی۔
دروازہ کھلا۔
سامنے… یسریٰ کھڑی تھی۔
اُس کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔
بال بکھرے ہوئے تھے۔
آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی…
مگر آواز ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
اگلے ہی لمحے…
وہ بےاختیار گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی۔
امن کی آنکھوں میں ایک لمحے کو حیرت ابھری۔
یسریٰ…۔
وہ تقریباً فوراً جھکا۔
دونوں ہاتھوں سے اُس کے بازو تھام کر اُسے اٹھایا۔
یہ کیا کر رہی ہو؟
اُس کی آواز میں حیرت تھی۔
یسریٰ اب اُس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
کبھی بھی کسی بھی انسان کے سامنے اس طرح گھٹنے مت ٹیکنا۔
یسریٰ کی ہچکی بندھ گئی۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
م… میں…
وہ ایک لفظ بھی پورا نہ بول سکی۔
امن نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
کیا ہوا ہے؟ اتنا کیوں رو رہی ہو؟
کسی نے کچھ کہا ہے تم سے؟
یسریٰ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
امن اُسے آہستہ سے اندر لے آیا۔ اور کمرے کے بیڈ پر اُسے بیٹھا دیا۔۔۔
کمرے میں ہلکی سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
وہ سائیڈ ٹیبل کے پاس گیا۔
جگ اٹھایا۔ گلاس میں پانی ڈالا۔
پھر گلاس اُس کی طرف بڑھا دیا۔
پہلے پانی پیو…
آرام سے…
پھر بات کرتے ہیں۔
یسریٰ کے ہاتھ اتنے لرز رہے تھے کہ گلاس بھی ٹھیک سے نہیں پکڑا جا رہا تھا۔
امن نے گلاس خود تھام لیا۔
آہستہ…
گر جائے گا۔
یسریٰ نے ایک گھونٹ پانی پیا۔
مگر آنسو پھر بھی نہیں رکے۔
امن اُس کے برابر بیٹھ گیا۔۔۔
اب بتاؤ…
کیا ہوا ہے؟
کسی نے ڈانٹا ہے؟
کسی نے کچھ کہا ہے؟
یسریٰ نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں…
نہیں.۔
پھر اُس نے نم آنکھوں سے امن کو دیکھا۔
جب مجھے چوٹ لگی تھی…
تو آپ بھی تو میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے…
پھر آج… مجھے کیوں نہیں بیٹھنے دیا…؟
امن کے چہرے پر ہلکی سی نرمی آگئی۔
تم میرے گھر کام ضرور کرتی ہو…
لیکن اگر کل کو تم سے کوئی بہت بڑی غلطی بھی ہو جائے… تب بھی… معافی کے لیے بھی کسی کے سامنے گھوٹنے مت ٹیکنا، اور نہ ہی کبھی محبت میں ایسا کرنا۔۔
یسریٰ نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔
میرے سوال کا جواب دیں…
امن نے گہری سانس لی۔
اُس وقت تمہیں چوٹ لگی تھی یسریٰ۔۔۔ اور میں کِسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔ تُمہارے جگہ اگر وہاں کوئی اور بھی ہوتا، تو میں یہی کرتا۔۔۔
یہ الفاظ سنتے ہی یسریٰ کے اندر بچی ہوئی آخری ہمت بھی بکھر گئی، جیسے کسی نے اس کے وجود سے سہارا ہی کھینچ لیا ہو۔
آنسو دوبارہ اُس کے آنکھیں سے گرنے لگے۔
امن گھبرا گیا۔
ارے… ارے ہوا کیا ہے؟
کہیں درد تو نہیں ہو رہا؟
کسی نے کچھ کہا ہے؟
یسریٰ نے روتے ہوئے سر جھکا لیا۔
آئی ایم سوری…
آئی ایم سوری…
یہ… یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے…
امن کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
کیا میری وجہ سے؟
کیا ہوا تمہاری وجہ سے؟
یسریٰ نے بمشکل کہا،
امل بی بی کے ساتھ…
امن نے فوراً اُس کی بات کاٹ دی۔
نہیں۔
بالکل نہیں۔
اپنے آپ کو قصوروار مت سمجھو۔۔۔۔
اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔۔
امن کو لگا۔۔۔ کہ یسریٰ امل کے ساتھ ساتھ رہتی تو وہ اُس کا دھیان نہیں رکھ سکی۔۔۔ اسی وجہ سے شاید امل کے اغواء ہونے کا قصوروار وہ خود کو سمجھ رہی ہے۔۔۔
یسریٰ نے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا،
آپ نے… سیاست چھوڑ دی نا…؟
امن حیران ہو کر اُسے دیکھنے لگا۔
کس نے کہا تم سے؟
یعنی…
یسریٰ کی آواز میں ہلکی سی امید جاگی۔
آپ نے نہیں چھوڑی؟
نہیں۔
امل مجھے پولیس کی مدد سے مل گئی۔
سب ٹھیک ہے۔
تم اتنا کیوں سوچ رہی ہو؟
یسریٰ نے لرزتے ہوئے لب کھولے۔
لیکن… میں…
اس سے پہلے کہ وہ آگے کچھ کہتی…
امن نے نہایت نرمی سے اپنی شہادت کی انگلی اُس کے لبوں پر رکھ دی۔
بس۔۔۔۔
اب ایک لفظ بھی نہیں۔
یسریٰ خاموش ہو گئی۔
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
تمہیں صرف ایک ہی کام آتا ہے نا…
اچھا کھانا بنانا۔
تو جاؤ… میرے اور امل کے لیے اپنے ہاتھ کی کوئی اچھی سی ڈِش بنا دو۔
ہم دونوں کو بہت بھوک لگی ہے۔
پھر اُس نے بڑے اطمینان سے کہا،
اور باقی سب باتیں…
میرے لیے چھوڑ دو۔
پھر اُس نے اُس کی آنکھوں سے آنسو اپنے رومال سے آہستہ سے صاف کیے۔
اور ایک بات…
جو باتیں تمہارے اختیار میں نہیں…
اُن کا بوجھ اپنے دل پر مت رکھا کرو۔
ورنہ دل بہت جلد تھک جاتا ہے۔….
یسریٰ نے بےاختیار امن کو دیکھا۔
وہ نہیں جانتی تھی…
جس شخص کے ہاتھ اس کے آنسو پونچھ رہے تھے…
اُسی کے آنسوؤں کی وجہ بھی وہ خود تھی۔
اُس کے لب پھر کانپے۔
وہ سچ بتانا چاہتی تھی…
بہت چاہتی تھی…
مگر ہمت نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا۔
امن آہستہ سے اُٹھا۔
دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے صرف اتنا کہا،
جلدی آنا…
امل بھوکی ہوگی۔
اور وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔
دروازہ بند ہونے کی ہلکی سی آواز پورے کمرے میں گونج گئی۔
یسریٰ وہیں بیڈ کے کنارے بیٹھی رہ گئی۔
اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔
اور پہلی بار…
وہ خود سے نظریں نہیں ملا سکی۔
اُس کے آنسو خاموشی سے اُس کے ہاتھوں پر گرتے رہے۔
کمرے میں اب کوئی آواز نہیں تھی…
سوائے ایک ٹوٹتے ہوئے ضمیر کی۔

+++++++++++++++

رات اپنی تمام تھکن، درد اور خاموشیوں سمیت گزر چکی تھی۔
فجر کی اذان کی آواز کمرے میں پھیلی تو امن نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
شاید وہ سویا ہی نہیں تھا…
صرف بستر پر آنکھیں بند کیے رات کے گزرنے کا انتظار کرتا رہا تھا۔
چند لمحے وہ خاموشی سے چھت کو دیکھتا رہا، پھر گہرا سانس لے کر اٹھ بیٹھا۔
آئینے کے سامنے جا کر رکا۔
سامنے کھڑا شخص وہی تھا…
مگر آنکھوں میں رات بھر کی تھکن، بےخوابی اور ایک ایسی خاموش جنگ کے آثار تھے، جس کا علم کسی اور کو نہیں تھا۔
اس نے دونوں ہاتھ واش بیسن کے کنارے پر رکھے، جھک کر چہرے پر ٹھنڈے پانی کے کئی چھینٹے مارے۔
جیسے اپنے اندر کے شور کو دبانے کی کوشش کر رہا ہو۔
ایک لمحے کے لیے نظریں دوبارہ آئینے سے ملیں۔
پھر اس نے خاموشی سے کپڑے بدلے۔
بال سنوارے۔
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر آہستہ آہستہ اپنی ٹائی باندھی، کوٹ پہنا اور ایک لمحے کے لیے خود کو غور سے دیکھا۔
چند لمحے پہلے آئینے میں ایک تھکا ہوا انسان کھڑا تھا…
اور اب…
وہی شخص دوبارہ وہی باوقار، پُراعتماد اور مضبوط امن بن چکا تھا، جسے دنیا کبھی کمزور دیکھنے کی عادی نہیں تھی۔
اس نے اپنے چہرے کے ہر تاثر کو اپنے اندر ہی قید کر لیا۔
دل اب بھی زخمی تھا…
مگر آج اسے اپنے زخموں کے ساتھ نہیں، ایک شہر کی امیدوں کے ساتھ نکلنا تھا۔
وہ آہستہ سے کھڑکی کے قریب آیا اور پردہ ہٹا دیا۔
باہر سورج افق سے آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا۔
سنہری روشنی عمارتوں کی چھتوں، سڑکوں اور دور تک پھیلے شہر پر بکھرنے لگی تھی۔
امن کی نظریں چند لمحے اسی منظر پر جمی رہیں۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
آج اس کی اپنی تکلیف کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔
آج اگر وہ کمزور پڑ جاتا…
تو شاید اس کے ساتھ ہزاروں لوگ بھی کمزور پڑ جاتے۔
آج اسے صرف خود کو نہیں…
بلکہ اپنے کارکنوں، اپنے چاہنے والوں اور پورے شہر کو سنبھالنا تھا۔

+++++++++++-+

صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کراچی بھی ایک نئے امتحان کے لیے جاگ اٹھا۔
آج عام دن نہیں تھا…
آج الیکشن کا دن تھا۔
وہ دن جس کا انتظار مہینوں سے کیا جا رہا تھا۔
شہر کی بڑی شاہراہوں سے لے کر تنگ گلیوں تک غیر معمولی چہل پہل تھی۔ لوگ ہاتھوں میں شناختی کارڈ لیے اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے تھے۔ کہیں نوجوانوں کا جوش نمایاں تھا، کہیں بزرگ آہستہ آہستہ لاٹھی کے سہارے چلتے ہوئے صرف اپنا ووٹ ڈالنے نکلے تھے۔
ہر طرف سیاسی جماعتوں کے انتخابی کیمپ قائم تھے، جہاں کارکن ووٹروں کی رہنمائی کر رہے تھے۔ پارٹی پرچم صبح کی ہوا میں لہرا رہے تھے، مگر انتخابی مہم ختم ہو چکی تھی، اس لیے اب صرف خاموش انتظار تھا۔
شہر کے تقریباً ہر حساس مقام پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔ پولنگ اسٹیشنوں کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب تھے۔ ووٹروں کی مکمل تلاشی کے بعد ہی اندر جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔
فضا میں ایک عجیب سا تناؤ گھلا ہوا تھا۔
کراچی ماضی میں کئی ایسے انتخابات دیکھ چکا تھا جہاں سیاسی کشیدگی معمولی جھگڑوں کو خونریز تصادم میں بدل دیتی تھی۔ اسی لیے اس بار انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پوری طرح الرٹ تھی۔
ہیلی کاپٹر وقتاً فوقتاً شہر کے مختلف علاقوں پر پرواز کر رہے تھے جبکہ پولیس موبائلیں مسلسل گشت میں مصروف تھیں۔
ٹی وی چینلز صبح سے ہی براہِ راست نشریات دکھا رہے تھے۔
کراچی میں پولنگ کا آغاز…
حساس حلقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ…
تمام امیدوار اپنے ووٹرز سے پرامن رہنے کی اپیل کر رہے ہیں…
شہر بظاہر پرسکون دکھائی دے رہا تھا…
مگر اس خاموشی کے نیچے ایک انجانا خوف سانس لے رہا تھا۔
ہر سیاسی جماعت جانتی تھی کہ آج صرف ووٹ نہیں ڈالے جائیں گے…
آج طاقت، صبر اور قیادت کا بھی امتحان ہوگا۔
ایک غلط فیصلہ…
ایک اشتعال انگیز نعرہ…
یا صرف ایک فائر…
پورے شہر کو آگ میں جھونک سکتا تھا۔
اسی لیے آج صرف الیکشن نہیں ہو رہا تھا…
آج کراچی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے نکلا تھا۔

+++++++++++++

امن نے گھڑی پر نظر ڈالی۔
پولنگ شروع ہونے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں تھا۔
پھر دروازے پر دستک ہوئی۔
آ جاؤں؟
ارحم کی آواز تھی۔
آؤ۔
ارحم اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل اور فون تھا۔ چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ صبح سے ایک لمحہ بھی فارغ نہیں بیٹھا۔
سب تیار ہے۔
امن نے مختصر سا سر ہلایا۔
رپورٹ دو۔
تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ہمارے نمائندے پہنچ چکے ہیں۔ حساس علاقوں میں وکلا کی ٹیم بھی موجود ہے تاکہ اگر کہیں کوئی قانونی مسئلہ ہو تو فوراً کارروائی کی جا سکے۔
امن خاموشی سے سنتا رہا۔
سیکیورٹی؟
تین لیئرز میں لگا دی ہے۔ پولیس اور رینجرز اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔ ہمارے رضاکار صرف نظم و ضبط برقرار رکھیں گے، کسی کے ساتھ الجھیں گے نہیں۔
اور کارکن؟
رات ہی سب کو ہدایات دے دی تھیں، پھر بھی میں نے صبح دوبارہ تمام زون انچارجز سے بات کی ہے۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔
پھر اس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا،
ارحم…
جی؟
آج کسی قیمت پر خون نہیں بہنا چاہیے۔
ارحم نے چونک کر اسے دیکھا۔
ہم بھی یہی چاہتے ہیں… لیکن سامنے والے اگر ماحول خراب کرنے کی کوشش کریں تو؟
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر کھڑکی سے باہر نظریں جمائے بولا،
الیکشن جیتنے سے زیادہ ضروری شہر کا پُرامن رہنا ہے۔
وہ پلٹا اور ارحم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،
میرے تمام کارکنوں تک میرا ایک ایک لفظ پہنچ جانا چاہیے۔
ارحم پوری توجہ سے سننے لگا۔
کوئی اشتعال دلائے…
خاموش رہنا۔
کوئی گالی دے…
جواب نہیں دینا۔
کوئی دھکا دے…
پیچھے ہٹ جانا۔
اور اگر…
ارحم کی آواز دھیمی پڑ گئی۔
…اگر فائرنگ ہو جائے؟
امن نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے جواب دیا،
پہلا فائر ہماری طرف سے نہیں ہوگا۔
لیکن اگر وہ لوگ۔
میں نے کہہ دیا، ارحم۔
اس بار اس کے لہجے میں ایسی مضبوطی تھی کہ ارحم خاموش ہو گیا۔
امن نے آہستہ سے کہا،
ایک گولی صرف ایک جان نہیں لیتی…
وہ پورے شہر کا سکون چھین لیتی ہے۔
میں نہیں چاہتا کہ آج شام کسی ماں کے گھر اس کے بیٹے کی لاش جائے… صرف اس لیے کہ ہم اپنا غصہ قابو میں نہ رکھ سکے۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔
ارحم نے گہرا سانس لیا۔
آپ فکر نہ کریں… میں خود ہر حساس پولنگ اسٹیشن سے مسلسل رابطے میں رہوں گا۔ اگر کہیں بھی حالات خراب ہونے لگے تو ہمارے لوگ پیچھے ہٹ جائیں گے۔
امن نے پہلی بار ہلکا سا سر ہلایا۔۔۔۔
مگر اس کی نظریں اب بھی کھڑکی سے باہر پھیلے شہر پر جمی تھیں۔
نہ جانے کیوں… اس کے دل میں ایک عجیب سا اضطراب جنم لے رہا تھا۔
ریپر…
وہ آدمی اتنی آسانی سے خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔
الیکشن جیسے دن کو وہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔
امن اچھی طرح جانتا تھا… اگر ریپر نے کوئی چال چلنی ہوئی، تو وہ صرف اسے نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہوگی… بلکہ پورے شہر کو افراتفری میں دھکیلنے کے لیے ہوگی۔

++++++++++++++

ریپر اپنے کمرے میں بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔
رات کے واقعے کے بعد اسے بھی کہاں نیند آنے والی تھی۔
پوری رات کروٹیں بدلتے گزر گئی تھی۔
سائیڈ ٹیبل پر نکاح نامہ اب بھی ویسے ہی رکھا تھا۔
کبھی اس کی نظر اس پر جا ٹھہرتی، کبھی وہ بےاختیار نظریں ہٹا لیتا۔
اتنے میں…
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
دروازے پر مسلسل دستک ہونے لگی۔
ریپر نے کوئی جواب نہ دیا۔
مگر دستک رکنے کے بجائے اور تیز ہو گئی۔
اچانک وہ جھنجھلا کر چیخا،
کون ہے؟!
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
کیٹی اندر داخل ہوئی۔
باس… آج الیکشن کا دن ہے۔
ریپر نے آنکھیں بند کیے ہی کہا،
تم لوگوں سے میرا سکون برداشت نہیں ہوتا کیا؟
پھر جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا۔
جاؤ یہاں سے… اور سونے دو مجھے۔
کیٹی نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
لیکن سر… آج الیکشن ہے۔
ریپر نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا،
یسریٰ کو فون لگاؤ… پوچھو وہاں کیا صورتحال ہے۔
کیٹی نے فوراً فون اسپیکر پر کر دیا۔
چند بیلز کے بعد دوسری طرف سے اونگھتی ہوئی آواز آئی۔
کیا ہے…؟ صبح صبح سونے بھی نہیں دیتے لوگ۔
کیٹی نے ماتھا پیٹا۔
تم ابھی تک سو رہی ہو؟ تمہیں پتہ بھی ہے آج الیکشن کا دن ہے؟
یسریٰ نے لمبی جمائی لیتے ہوئے کہا،
ہاں تو؟ کیا میں نے سب سے انگوٹھا لگوانا ہے۔۔
بکواس بند کرو، یہ بتاؤ وہاں کیا ہو رہا ہے؟
اچھا، رکو…
چند لمحوں بعد وہ دوبارہ بولی۔
یہاں ڈائننگ ٹیبل پر امن، دادا اور دادی ناشتہ کر رہے ہیں۔ دادا جی امن کو الیکشن کے حوالے سے لیکچر دے رہے ہیں۔ سننا ہے؟
نہیں! اور وہ لڑکی کہاں ہے؟
کون سی لڑکی؟
امن کی بہن۔
امل نام ہے اُس کا۔ سب امل بی بی کہتے ہیں، اور دادیاں امل بے بی کہتی ہیں۔
مجھے اس سے کیا؟ جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔
شاید سو رہی ہیں۔
کیا مطلب؟
مطلب اُس کے کمرے کا دروازہ ابھی تک نہیں کھلا، نیچے بھی نہیں آئیں… تو سو ہی رہی ہوں گی۔ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ آتی؟ بیوقوف۔۔۔
جا کر دیکھو۔
پاگل عورت۔۔۔
کیٹی دانت پیس کر بولی، تمیز سے بات کرو، فون اسپیکر پر ہے۔ باس سن رہے ہیں۔
جب آرام سے بولا کہ سو رہی ہیں تو بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔ یسریٰ نے جھنجھلاہٹ سے کہا
کیٹی نے آہستہ سے کہا، رات کے بعد وہ اتنے سکون سے کیسے سو سکتی ہے؟
یسریٰ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر بولی، تمہارے پاس دادی ہیں؟
نہیں۔
ہوتیں تو پتہ ہوتا…
کیا پتہ ہوتا؟
کہ دادی کے ساتھ سونے سے دنیا کی سب سے اچھی نیند آتی ہے۔ جب مجھے ڈر لگتا تھا نا… تو میں بھی اپنی دادو کے ساتھ چپک کر سوجاتی تھی۔۔ اور پھر اوۓ ہوۓ کیا مست نیند آتی تھی۔۔ کہ مت پوچھو۔۔۔
کیٹی بےاختیار مسکرا دی۔ تمہیں بھی ڈر لگتا ہے؟
ہاں… بھوتوں سے۔ تم جیسی چڑیلوں سے نہیں۔
فون رکھو۔۔۔۔
جس نے فون کیا ہے وہی رکھے۔ پھر یسریٰ نے خود ہی کہا، اور سن لو… تقریباً دس منٹ میں امن نکلنے والا ہے۔ امل بی بی شاید دوپہر سے پہلے نہ اٹھیں، اس لیے بار بار فون مت کرنا۔
کیٹی نے حیرت سے پوچھا، وہ اپنے بھائی کو الوداع کہنے کے لیے بھی نہیں اٹھتے گی۔۔۔؟؟
یسریٰ فوراً بولی، کیوں؟ وہ عمرے پر جا رہے ہیں کیا؟
یا خدا… یسریٰ۔۔۔۔
آگے بھی بولو… ‘یا خدا، یسریٰ کتنی پیاری ہے۔’
کیٹی نے جھنجھلا کر کہا، اللّٰہ حافظ۔۔۔
اور فون کاٹ دیا۔
کمرے میں چند لمحے خاموشی چھا گئی۔
ریپر خاموش بیٹھا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا،
کل اس نے امن کو سیاست چھوڑنے نہیں دی…
اور آج.. الیکشن کے دن ایسے سو رہی ہے… جیسے سیاست سے اس کا کوئی لینا دینا ہی نہیں۔۔۔
کیٹی نے پھر پوچھا، اب کیا کرنا ہے، باس؟
ریپر نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے نکاح نامے کی طرف دیکھا۔
چند لمحے خاموش رہا۔
کچھ نہیں… سونے دو مُجھے۔۔۔۔ ابھی میرا دماغ کام نہیں کر رہا۔
وہ دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔
جاتے ہوئے دروازہ اچھی طرح بند کر دینا…
کیٹی نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوتے ہی ریپر نے بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔
نیند اسے پھر بھی نہیں آنی تھی… مگر اس وقت وہ دنیا سے زیادہ خود اپنے خیالات سے بھاگنا چاہتا تھا۔

++++++++++++++++

امن ڈائننگ ٹیبل سے اٹھا اور کرسی کو آہستگی سے پیچھے سرکاتے ہوئے باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ کمرے میں موجود افتخارِ صاحب اور انیسہ بیگم اپنی  باتوں میں مصروف تھے، مگر دروازے تک پہنچ کر وہ اچانک رک گیا۔
چند لمحوں بعد وہ مڑا۔
ائرا اور ارحم کے قدم بھی امن کے ساتھ ہی وہیں رک گئے۔۔۔
اس کی نظریں سیدھی یسرٰی پر جا ٹھہریں۔
پیچھے یسرٰی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے فون کان سے لگائے کھڑی تھی۔ جیسے ہی اس کی نظر امن سے ملی، وہ ایک لمحے کے لیے گھبرا گئی۔ بےاختیار اس نے نظریں چرا لیں، مگر امن کی گہری نگاہیں اب بھی اسی پر جمی ہوئی تھیں۔
یہ منظر ائراہ کی نظروں سے بھی اوجھل نہ رہ سکا۔
اس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن ابھری۔
جبکہ یسرٰی تو جیسے جان چھڑانے کی کوشش میں تھی، مگر امن کی نظریں اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھیں۔
ائراہ نے بےاختیار اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں بھینچ لیں۔
کیا واقعی صرف مجھے ہی وہم ہو رہا ہے… یا امن واقعی اس معمولی سی چیف کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔۔۔
اس کے دل میں ایک انجانی سی چبھن اٹھی، جسے وہ لاکھ کوشش کے باوجود نظر انداز نہ کر سکی۔
پھر اس نے ہاتھ کے ہلکے سے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔
یسرٰی نے فون پر بات ختم کی، کال کاٹ کر ایک گہرا سانس لیا اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔
چھپ چھپ کے کیوں دیکھ رہی تھیں تم مجھے؟ امن نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔
یسرٰی نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں تو۔
ہاں تو۔
آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
کیا مسئلہ ہے؟
یسرٰی نے ہلکی سی جھنجھلاہٹ سے کہا، میں آپ کو ہزار دفعہ بتا چکی ہوں۔ نہ میں آپ کو دیکھتی ہوں، نہ آپ پر نظر رکھتی ہوں۔ یسرٰی کے پاس اتنا فارغ وقت نہیں ہے کہ وہ آپ پر ضائع کرے۔
امن کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آگئی۔
ہے… تبھی تو۔
پھر؟ اس نے بھنویں چڑھاتے ہوئے پوچھا۔
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر جیسے اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
اچھا… مجھے ‘آل دی بیسٹ’ نہیں بولو گی؟
یسرٰی نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
کیوں؟ آپ جنگ لڑنے جا رہے ہیں؟
ہاں… تم جنگ ہی سمجھ لو۔
یسرٰی نے بنا کسی توقف کے کہا، پھر… آل دی بیسٹ۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مزید بولی،
امید ہے آپ جنگ جیت جائیں… تاکہ تھوڑا مصروف ہو جائیں اور مجھ پر نظر رکھنا چھوڑ دیں۔
امن نے ایک بھنو اٹھائی۔۔
اچھا؟ میں تم پر نظر رکھتا ہوں؟
ہاں، اور نہیں تو کیا؟
اس کی بات پر امن بےاختیار مسکرا دیا۔ اس کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو عجیب سی نرمی اتر آئی، مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھال لیا۔
اچھا… امل اٹھے تو اسے کچھ کھلا پلا دینا۔
جی۔ یسرٰی نے آہستگی سے جواب دیا۔
امن نے ایک آخری نظر اس پر ڈالی اور پھر گھر سے باہر نکل گیا، جبکہ یسرٰی کچھ لمحے وہیں کھڑی دروازے کی سمت دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹوں پر بےاختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آگئی،
اس نے آہستہ سے اپنے دونوں بازو سینے پر باندھے اور زیرِ لب پُراعتماد لہجے میں بولی،
امن… اب تمہیں میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

+++++++++++++

صبح سے شروع ہونے والی پولنگ شام تک پُرامن انداز میں جاری رہی۔
کراچی کے مختلف علاقوں سے مسلسل ووٹنگ ٹرن آؤٹ کی خبریں آ رہی تھیں۔ کہیں بزرگ اپنی لاٹھیوں کے سہارے ووٹ ڈالنے پہنچے تھے، تو کہیں نوجوانوں کی لمبی قطاریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ اس بار لوگ اپنے شہر کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے تھے۔
امن پورا دن اپنے مرکزی الیکشن سیل میں موجود رہا۔
اس کے سامنے شہر کا بڑا نقشہ آویزاں تھا، جہاں ہر حلقے کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال اسکرینوں پر ظاہر ہو رہی تھی۔
نہات وقفے وقفے سے آ کر رپورٹس دے رہا تھا۔
شام پانچ بجتے ہی پولنگ کا وقت ختم ہو گیا۔
اب شہر بھر کی نظریں ووٹوں کی گنتی پر تھیں۔
پورے کراچی میں ایک عجیب سی بےچینی پھیل گئی۔
ٹی وی چینلز پر مسلسل بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔
ابتدائی نتائج آنے کا سلسلہ شروع…
کراچی کے اہم ترین حلقوں میں کانٹے دار مقابلہ…
گھر میں بھی سب لوگ ٹی وی کے سامنے جمع تھے۔
افتخار صاحب خاموشی سے اسکرین دیکھ رہے تھے۔
انیسہ بیگم کی انگلیوں میں تسبیح مسلسل چل رہی تھی۔
امل بھی اب کافی بہتر محسوس کر رہی تھی اور وہ بھی سب کے ساتھ بیٹھی نتائج کا انتظار کر رہی تھی۔
یسرٰی خاموشی سے سب کے لیے چائے بنا کر لے آئی، مگر اس کی نظریں بار بار ٹی وی اسکرین پر جا ٹک رہی تھیں۔
دل مسلسل دعا کر رہا تھا۔
یا اللہ… آج ان کی محنت رائیگاں نہ جانے دینا۔
اچانک نیوز اینکر کی آواز بلند ہوئی۔
کراچی کے حلقہ این اے۔۔۔ سے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق امن حنان کو واضح برتری حاصل ہے۔
امل خوشی سے اچھل پڑی۔
دادو… بھائی لیڈ کر رہے ہیں۔۔۔
انیسہ بیگم نے بےاختیار آسمان کی طرف دیکھا۔
الحمدللہ…
افتخار صاحب کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
ادھر الیکشن سیل میں کارکن خوشی سے نعرے لگا رہے تھے۔
امن بھائی زندہ باد۔۔۔
کراچی کا محافظ زندہ باد۔۔
مگر امن پہلے کی طرح خاموش کھڑا نتائج دیکھ رہا تھا۔
ابھی جشن نہیں…
اس نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
آخری نتیجہ آنے دو۔
رات گزرتی گئی۔
ہر نئے نتیجے کے ساتھ اس کی برتری بڑھتی جا رہی تھی۔
پھر…
رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج موصول ہونا شروع ہوئے۔
پورے ملک کی نظریں ٹی وی اسکرینوں پر جمی ہوئی تھیں۔
نیوز اینکر پُرجوش انداز میں نتائج سنا رہا تھا۔
کراچی کے تمام قومی اور صوبائی حلقوں کے نتائج تقریباً مکمل ہو چکے ہیں…
چند لمحوں بعد اس کی آواز مزید بلند ہو گئی۔
انصاف لیگ پاکستان (I.L.P) نے کراچی میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کراچی کی تقریباً تمام قومی اور صوبائی نشستوں پر I.L.P کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔
پورا الیکشن سیل نعروں سے گونج اٹھا۔
۔I.L.P… زندہ باد۔۔۔
سید امن افتخار… زندہ باد۔۔۔
نہات خوشی سے تقریباً چلّا اٹھا۔
ہم نے پورا کراچی جیت لیا۔۔۔
اگلے ہی لمحے پورا الیکشن سیل نعروں سے گونج اٹھا۔
امن…! امن…! امن…۔۔
کراچی کا شیر کون؟ امن۔۔۔
باہر کارکن ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، آتش بازی ہو رہی تھی اور پورا ماحول جشن میں ڈوبا ہوا تھا۔
اسی دوران دیگر شہروں کے نتائج بھی آنے لگے۔
لاہور میں حکمران جماعت کو برتری…
ملتان میں مخلوط اتحاد کامیاب…
پشاور اور کوئٹہ میں بھی مختلف جماعتوں نے میدان مار لیا…
کچھ دیر بعد اینکر نے پورے ملک کے نتائج کا خلاصہ پیش کیا۔
کراچی میں I.L.P نے تاریخی کلین سویپ کیا ہے، جبکہ کراچی سے باہر صرف دو سے تین قومی نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکی ہے۔ قومی اسمبلی میں I.L.P ایک مضبوط اپوزیشن قوت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ کراچی میں اس کی پوزیشن سب سے زیادہ مضبوط ہے۔
نہات نے خوشی سے امن کی طرف دیکھا۔
اب تو پورا کراچی ہمارا ہے۔۔۔
سید امن افتخار نے کھڑکی سے باہر جشن مناتے لوگوں کی طرف دیکھا۔
اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
کراچی میرا شہر ہے…
وہ آہستگی سے بولا۔
اور آج… کراچی نے مجھ پر اپنا اعتماد کیا ہے۔
نہات نے پوچھا،
لیکن باقی شہر میں تو صرف دو تین نشستیں ہی ملی ہیں۔
امن نے اطمینان سے جواب دیا۔
ہر انقلاب ایک شہر سے شروع ہوتا ہے، نہات
اس کی نظریں دور افق پر جم گئیں۔
اگر کراچی بدل گیا… تو ایک دن پاکستان بھی بدل جائے گا۔
گھر میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
امل دوڑ کر انیسہ بیگم کے گلے لگ گئی۔
دادو… بھائی جیت گئے۔۔
انیسہ بیگم کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔
الحمدللہ… اللہ نے میری دعا سن لی۔
افتخار صاحب نے خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھا۔
مجھے اپنے پوتے پر فخر ہے۔
یسرٰی سب کو خوش دیکھ کر خاموشی سے مسکرا دی۔
اس کی نگاہیں ٹی وی اسکرین پر جمی تھیں، جہاں امن کو “کراچی کا نیا منتخب نمائندہ” قرار دیا جا رہا تھا۔
اس نے دل ہی دل میں سرگوشی کی۔
مجھے معلوم تھا… آپ ہارنے والوں میں سے نہیں ہیں، امن۔
++++++++++++++++

ریپر کی نظریں ٹی وی اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔
اسکرین پر نیوز اینکر پُرجوش انداز میں اعلان کر رہا تھا۔
انصاف لیگ پاکستان (I.L.P) نے کراچی میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، جبکہ پارٹی چیئرمین سید امن افتخار نے بھی بھاری اکثریت سے کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔
اگلے ہی لمحے…
ریپر کے جبڑے بھینچ گئے۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا ریموٹ پوری قوت سے سامنے والی دیوار پر دے مارا۔
ٹھااااک!
ریموٹ کئی ٹکڑوں میں بکھر گیا۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔
ریپر نے دونوں ہاتھ بالوں میں پھیرے، پھر جھنجھلا کر بستر پر گر گیا۔
وہ سیدھا چھت کو گھورنے لگا۔
اس کی آنکھوں میں غصہ، بےبسی اور عجیب سی الجھن ایک ساتھ تیر رہی تھی۔
چند لمحوں بعد اس کے لب ہلے۔
تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں، امل…
اس کی آواز غیر معمولی حد تک سرد تھی۔
نکاح تو کر لیا تم نے…
وہ ہلکا سا طنزیہ مسکرایا۔
لیکن اس نکاح میں تمہیں کبھی سکون نہیں ملے گا۔
اس نے دانت بھینچ لیے۔
تم مجھ سے نفرت کرتی ہو نا…؟
میں تمہیں اس مقام تک لے جاؤں گا… جہاں نفرت کرنے کی بھی ہمت نہیں بچے گی۔
تُم اب مجھ سے کیا میرے سائے سے بھی پناہ مانگو گی…

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *