SAFAR E YARA BY MOMNA AZAM EPISODE 1.

ناول کا نام: سفرِ یاراں

لکھاری :مومنہ اعظم

قسط :پہلی

انسٹا گرام اکاؤنٹ:
@mominaaz_pen
https://www.instagram.com/mominaaz_pen?igsh=ajM5ZnZnM2pucmJ3

سفرِ یاراں از مومنہ اعظم

الارم کی تیز آواز سے اسکی نیند میں خلل پیدا ہوا۔ اس نے اٹھ کے الارم بند کیا اور وضو کر کے نمازِ فجر پڑھنے کھڑی ہو گئی۔ نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ وہ بستر پر لیٹ گئی اور اپنے پسندیدہ کام میں مشغول ہو گئی۔ ناول پڑھنا یا ان کے بارے میں باتیں کرنا اسکا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔ ناول پڑھتے پڑھتے اسے وقت کا احساس ہی نہ ہوا سات بج چکے تھے۔ وہ اٹھی اور کالج جانے کیلئے تیار ہونے لگی۔ یونیفارم پہن کر بال بنائے اور ناشتہ کر کے عبایہ پہنا۔ اچھے سے خود کو ڈھانپ کر وہ کالج کی طرف روانہ ہوئی۔ معمول کے مطابق ہی آج بھی ملتان شہر کی سڑکوں پر زندگی رواں دواں تھی۔ انسان اپنی اپنی منزل کے حصول کیلئے مختلف بھیس اپنائے اپنے گھربار چھوڑے مختلف راستوں کے مسافر بنے نظر آتے تھے۔ پانچ منٹ کی مسافت کے بعد وہ کالج کے گیٹ پر موجود تھی۔
سرخ رنگ کی اینٹوں سے بنا وہ خوبصورت کالج سورج کی روشنی میں اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ دائیں ہاتھ پر باغ تھا۔سبزے نے ماحول کو تروتازہ اور پرسکون کر رکھا تھا۔ اس نے عبایا اتارا اور نقاب لگا کر باہر آگئی۔ غالباً اس کی دوستیں ابھی تک نہیں آئی تھیں۔ وہ سٹاف روم میں گئی اور طالبات کا اینٹری رجسٹر اٹھا کر برآمدے میں رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ کالج کی ہیڈ پراکٹر تھی۔ آہستہ آہستہ طالبات کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔”مومنہ، مومنہ۔۔” اپنے نام کی پکار پر جب اس نے سامنے دیکھا تو اس کی بہت پیاری دوست علشبہ آگئی تھی اور اب اسے پکار کر اپنی آمد کا پتہ دے رہی تھی۔ ان دونوں نے ایک دوسرے سے سلام دعا لی۔ اتنے میں اُمِ ہانی، وثقیٰ اور سویرا بھی آچکی تھیں۔ وہ سب باری باری ایک دوسرے سے ملیں۔وہ سب سیکنڈ سمیسٹر کی طالبات تھیں۔ مومنہ، اُمِ ہانی، علشبہ اور سویرا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طالبات تھیں، جبکہ وثقیٰ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ تھی۔
وہ سب وہیں برآمدے میں لگی کرسیوں پر ہی بیٹھ گئیں۔ “کس کس نے ناظرہ کی اسائنمنٹ تیار کر لی؟” یہ سوال پوچھنے والی سویرا تھی۔اس نے آج بھی سر پر نماز اسٹائل دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا اور آنکھوں پر نظر کا چشما ٹکا تھا۔سویرا اکثر نہیں بلکہ بہت زیادہ ہی پڑھائی کے متعلق باتیں کرتی پائی جاتی، وہ ہی ان سب کو لیکچر کیلیے لیکر جاتی۔” ہاں میں نے بنا لی ہے۔ “اُمِ ہانی نے پانی کی بوتل اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔ باقی سب نے بھی باری باری مثبت جواب دیا۔ کیونکہ اگر انہوں نے اسائنمنٹ مکمل نہ کی ہوتی تو آج میم سارہ سے انکی اچھی خاصی بے عزتی ہونی تھی۔جو وہ کسی حال میں افورڈ نہیں کر سکتی تھیں۔اسمبلی کے بعد سب نے اپنی اپنی کلاس کا رخ کیا۔ وثقی اپنی فرسٹ کلاس (لیکچر) میں جا چکی تھی اور یہ چاروں بھی ایجوکیشن کی کلاس جو کہ میم نمرہ لیتی تھیں میں پہنچے۔ میم نمرہ ایک بہت ہی اچھی استاد تھیں۔ انکا بچوں سے بہت دوستانہ رویہ ہونے کی وجہ سے طالبات خصوصاً یہ چاروں انکا لیکچر بخوشی لیتی تھیں۔
اپنے لیکچرز لیکر اب وہ پانچوں پھر سےگارڈن میں موجود تھیں ۔ ساڑھے دس ہو چکے تھے ۔ اب انکی پیٹ پوجا کا وقت تھا۔وہ پانچوں ایک درخت کے نیچے آ بیٹھیں۔سب نے باری باری اپنا جیب خرچ نکالا اور کینٹین کا رخ کیا۔اپنی من پسند چیز لے کر وہ سب واپس درخت کے نیچےآ بیٹھے ۔ ” ایکسپوزیٹری کی کلاس بھی لینی ہے ابھی میم آ چکی ہیں۔” ۔ لو جی سویرا کو پھر سے پڑھائی کے کیڑے نے کاٹا تھا۔”” جی، جی جناب کالج پڑھنے ہی آئے ہیں۔پڑھ لکھ کر ہی جائیں گے۔۔آپ اتنی ٹینشن نہ لیں۔۔یہ نہ ہو آپ کے سر کر بال سفید ہوجائیں۔”مومنہ اور ام ہانی مسکراہٹ دبا کر بولیں۔” کیوں نہ لوں بھئی ٹینشن۔۔بال سفید ہوتے ہیں تو ہوں میری بلا سے۔۔لیکن سی جی پی اے خراب نہ ہو۔۔ڈگری پر اثر پڑتا ہے۔۔”” اچھا ،اچھا لڑکی فکر نہ کرو ہوجائے گی پڑھائی بھی۔۔فی الحال آؤ چیز کھائیں۔۔سموسے گرم ہیں یہ نہ ہو ٹھنڈے ہوجائیں۔۔پھر میں تو نہیں کھاؤنگی۔۔”علشبہ نے سموسے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔” مومنہ کھانا کھا کر لائبریری چلیں گے۔۔پیرِ کامل ناول ایشو کروانا ہے میں نے۔” وثقیٰ عرف سالار سکندر کی دیوانی نے چٹنی اٹھاتے ہوئے مومنہ کو مخاطب کیا ۔ان دونوں کو ناول کا بہت کریز تھا ۔ اور جہاں تک ہے سالار سکندر کی بات تو وثقیٰ انور تو اسکی دیوانی ہے ۔ وثقیٰ اور مومنہ ناول پارٹنرز تھے۔ ” ارےلڑکی نیکی اور پوچھ پوچھ چلو چلو چلیں۔ “مومنہ نے ہاتھ جھاڑے اور بیگ سے لائبریری کارڈ نکالنے لگی۔۔”بالکل نہیں چپ چاپ بیٹھ جاؤ تم دونوں۔۔کھانا ختم ہونے سے پہلے تم یہاں سے مت ہلنا۔” امِ ہانی نے دونوں کو ڈانٹا تو وہ دونوں پھر سے بیٹھ گئیں۔” چلو جی پھرسے ناول نامہ شروع ، پتہ نہیں یہ دونوں اتنےاتنے صفحات پر مشتمل ناول کیسے پڑھ لیتے ہیں۔ہم سے تو دو سو صفحوں والی کورس کی کتاب نہیں پڑھی جاتی ” ۔ علشبہ نے سموسے کو چٹنی میں ڈبوتے ہوئے کہا۔۔” دیوانوں کی یہ باتیں دیوانے جانتے ہیں۔۔”مومنہ فوراً بولی تو وثقیٰ نے اثبات میں سر ہلادیا۔” شکر ہے علشبہ تم نے یاد کروا دیا میں تو بھول ہی گئی تھی ابھی ناظرہ کا لیکچر بھی لینا ہے۔۔” “اُف سویر ۱۱۱۱۱ یار بس بھی کر دو۔۔ مومنہ نے صحیح تمہیں “مستقل پریشان لڑکی” کا لقب دے رکھا ہے۔” ام ہانی جھنجھلا اٹھی۔” اچھا اچھا بھئی چھوڑو سب باتوں کو آؤ چکن رول کھاتے ہیں۔۔”وثقیٰ نے چکن رول کی پلیٹ سامنے رکھی۔ کھانے کے بعد مومنہ اور وثقیٰ لائبریری چلے گئے۔” لڑکیوں میم سارہ آج نہیں آئیں”۔۔وہ دونوں واپس آتے ہیں خوشی سے اطلاع دینے لگیں۔ “کیااااا۔۔۔۔۔۔! یار سچ بتاؤ؟ ” “ہاں ابھی ابھی دامیہ نے بتایا ہے۔۔۔”شکر ﷲ کا ” علیشہ نے گہرا سانس لیا۔ اتنے میں دامیہ بھی وہاں آ ٹپکی۔ دامیہ انتہائی پکاّؤ قسم کی لڑکی تھی اس کی باتوں سے تو بس ﷲ ہی بچائے۔۔۔اور پھر بیٹھتے ساتھ ہی اس نے بال کھول دیے۔۔” دامی خیر تو ہے کیابات ہے بھئی ذولفی کو ان اداؤں سے مارنے کا ارادہ ہے تمہارا؟ یہ نہ ہو بے چارا مر مرا جائے کبھی” وثقیٰ نے مسکراہٹ دبائی۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی دامیہ شرمانے لگی۔ ذُلفی کے نام پر ایسے ہی وہ مسکرا دیا کرتی۔۔۔ اب آپ سب پُر تجسس ہوں گے کہ بھئی یہ ذولفی صاحب ہیں کون؟ تو جناب یہ ان کے کالج کا چوکیدار ہے۔۔ جسے آدھے کالج کی لڑکیاں نقلی شاہ رخ خان اور ذُلفن بھی کہتی ہیں۔۔ وجہ اسکے لمبے بال ہیں۔۔اصل نام اسکا کوئی اور تھا۔وہ اس قدر پتلا تھا اور لمبا تھا کہ اگر اسکے ساتھ کسی جھاڑو کو رکھ دیں تو دور سے دیکھنے والے کو صرف جھاڑو ہی نظر آئے۔۔کالج کی ناول ریڈر لڑکیوں میں وہ مالا ناول کے ولن زیاد سلطان عرف “ٹال اینڈ ڈارک” کے نام سے بھی مشہور تھا۔یہ پانچوں دامیہ کو روز ایسے ہی چھیڑتے تھے۔ روز چھٹی سے پہلے وہ سب گارڈن میں موجود ہوتیں تاکہ دامیہ کو تنگ کر سکیں۔۔۔ وثقٰی بے چاری کو تو اس سے بات کرتے ہوئے اپنے اتنی محنت سے سیٹ کئے گئے ماسک کی فکر کھائی رہتی۔ کہ اب دوبارہ اسے نئے سرے سے سٹالر لینا پڑے گا۔ کیونکہ دامیہ کی باتیں ایسی ہوتیں کہ وہ سب ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتیں۔ “یار بس کرو تم بھی نہ”دامیہ شرماتے ہوئے بولی۔ “ارے ارے لڑکی شرما رہی ہے ہووووو” علشہ چہکتی ہوئی بولی۔ بڑی بڑی آنکھوں اور کندھے تک آتے بالوں والی علشبہ ان کے گروپ کی واحد لڑکی تھی جو انگیجڈ تھی۔وہ ایک انتہائی چلبلی لڑکی تھی۔ہنس مکھ مگر حساس۔مومنہ کو یہ معصوم سی لڑکی بہت پسند تھی۔باتوں باتوں میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور چھٹی ہوگئی۔
____________
گھر سے تیار ہو کر وہ کالج کیلیے نکل چکی تھی۔ عینک کو صحیح سے ناک پر جمائے وہ آج کے دن ہونے والے لیکچرز کا سوچ رہی تھی۔ اسے ہی اپنی نکمی دوستوں کو لیکچرز کے مطابق آگاہ کرنا ہوتا تھا۔ورنہ اسکی دوستیں تو کالج پڑھنے کم بلکہ گھومنے پھرنے یا کھیلنے زیادہ آتی تھیں خاص طور پر مومنہ اور علشبہ۔۔۔ انہیں تو جہاں کہیں اگر غلطی سے بیٹ بال دکھ جائے وہ دنیا کو بھلائے فوراً کرکٹ کھیلنے چل پڑیں گی۔۔پہلا سیمسٹر آدھا ان کی کرکٹ کی نظر ہوا تھا۔۔علشبہ تو کرکٹ اور بیس بال میں چیمپئن تھی۔۔مومنہ کرکٹ اچھی کھیل لیتی۔۔پڑھائی تب تک کیلئے جائے بھاڑ میں۔۔اس ٹہنی سے بھی کئی گنا زیادہ پتلی لڑکی کے نازک کندھوں پر اس کی نالائق دوستوں کا مستقبل سوار تھا۔۔وہ اپنی سوچ میں اس قدر گم تھی کہ سامنے سے آتی بائیک کو دیکھ ہی نہ سکی۔۔اور سامنے والے نے اس لڑکی کو بچانے کیلئے اپنی بائیک جیسے ہی گھمائی سامنے لگے کھمبے سے ٹکرا گیا اور بیچارہ منہ کے بل نیچے گرا کراہنے لگا۔۔ “آہ، آہ،–” تھوڑی دیر کیلئے تو سویرا کو ہوش ہی نہیں رہا کہ آخر یہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔ وہ اپنی جگہ پر حیرت زدہ سی کھڑی تھی کہ جب کراہنے کی آواز سن کر اپنی سوچ سے باہر نکلی۔سامنے وہ لڑکا زمیں پر لیٹا کراہ رہا تھا اس کی ٹانگ پر چوٹ لگی تھی شاید خون بھی بہہ رہا تھا۔”آپ ٹھیک تو ہیں؟ سوری میں آپ کو دیکھ نا سکی۔ پلیز اٹھیں۔۔آپ کو تو بہت خون بہہ رہا ہے۔”سویرا نے اسے سہارا دیا۔وہ واقعی پریشان ہوگئی تھی۔”محترمہ کن سوچوں میں گم تھیں آپ میں کب سے آپ کو آوازیں دے رہا تھا۔۔۔” بازل مسلسل کراہ رہا تھا شاید چوٹ زیادہ آئی تھی۔صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے وہ گلی سنسان پڑی تھی۔”آپ پلیز ہمت کر کے اٹھنے کی کوشش کریں۔دیکھیں آپ کی ٹانگ سے خون نکل رہا ہے۔”وہ نہایت پریشانی سے اسے سہارا دے کر اٹھانے کی ناکام سی کوشش کررہی تھی۔
” محترمہ آپ ذرہ اپنا وزن دیکھیں ایسا نہ ہو کہ آپ مجھے اٹھاتے اٹھاتے خود کی کوئی ٹانگ وانگ توڑوا بیٹھیں۔۔۔” بازل اسکے وزن پر چوٹ کر رہا تھا۔سویرا کا سارا کا سارا منہ کھلا رہ گیا۔اس نے اس لڑکے کو بھرپور گھوری سے نوازا “ایکسکیوزمی آپ نے پہلے بھی میر اتنا ٹائم ضائع کروادیا ہے پہلا لیکچر شروع ہو چکا ہو گا۔۔” “محترمہ؟؟ “بازل کے لہجے میں بے یقینی واضح تھی۔۔یہاں اسکی ٹانگ کا حشر ہو چکا تھا اور اس لڑکی کو کوئی پرواہ ہی نہ تھی۔۔”کیا محترمہ؟ “سویرا نے اسے گھورا۔” ایک تو آپ نے میری ٹانگ توڑ دی جس کا آپ کو کوئی افسوس نہیں ہے اور اوپر سے آپ کو آپ کے لیکچر کی پڑی ہے یہ جو میری ٹانگ ٹوٹ گئی اس سے آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔” بازل انتہائی صدمے کی حالت میں تھا۔ “ہاں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ آپ کو باقی سڑک نظر نہیں آرہی تھی جو اس کھمبے سے جاٹکرائے آپ۔۔؟” سویرا تپ کر بولی اسے اس لڑکے پر بہت غصہ آرہا تھا جسکی وجہ سے اسکا پہلا لیکچر مس ہو گیا تھا تقریباً۔۔۔ ” محترمہ۔۔اس نے دانت کچکائے۔” مجھے تو نظر آتا ہے مگر شاید آپ کو ان ایکسٹرا(ایکسٹرا پر کچھ ایکسٹرا ہی زور دیا گیا تھا) دو آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتا۔۔ میں نے آپ کو بچانے کے چکر میں اپنا نقصان کیا ہے۔” بازل غصے اور افسوس سے بولا۔
“اچھا پلیز آپ اٹھیں اور یہ کیا آپ نے محترمہ، محترمہ کی رٹ لگا رکھی ہے دماغ گھوم کر رہ گیا ہے میرا۔چلیں میں آپ کو کسی ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں۔”سویرا نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور قریب موجود کلینک میں لے گئی۔دس بج چکے تھے اس کے تین لیکچر ضائع ہو گئے تھے اس کھمبے والے لڑکے کے چکر میں۔ جسکا وہ بار بار اسے احساس دلا چکی تھی۔اس لڑکے کی مرہم پٹی کروا کر وہ گھر چل دی کیونکہ کالج اب وہ جا نہیں سکتی تھی۔
صبح وہ معمول کے مطابق تیار ہو کر کالج روانہ ہوئی آج سویرا نہیں آئی تھی۔۔حالانکہ رات کو اسنے واٹس ایپ گروپ میں کہا تھا کہ “میں آؤں گی۔جنرل میتھڈ آف ٹیچنگ کا ٹیسٹ ہے۔۔” مگر ان سب کا دن روز کی مستیوں میں آرام سے گزر گیا۔ ان چاروں نے سوچ رکھا تھا کہ کل سویرا کو اچھا خاصا سنائیں گی۔۔مطلب عزت افزائی ہونے والی ہے محترمہ کی۔
_________
اگلی صبح کالج پہنچتے ہی سب نے سویرا پر چڑھائی کی۔” کہاں تھی کل؟ کل کیوں نہیں آئی؟ ہمیں آنے کا بول کے تم خود گھر بیٹھ گئیں؟یاد نہیں تھا کل ٹیسٹ ہے۔”سب نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی تھی۔۔”یار ہٹو سارے۔اس بیچاری کو سانس تو لینے دو کم از کم۔سویرا چندا تم میرے ساتھ آؤ۔یہ کیا طریقہ ہے آتے ہی چڑھائی کر دی ہے تم سب نے اس پر “مومنہ انہیں گھور کر سویرا کو لے کر چل دی۔” اچھا اب بتاؤ مجھے کیا کل تمہارے گھر کوئی دعوت وغیرہ تھی؟اور آنٹی نے بریانی تو ضرور ہی بنائی ہوگی اور میرے لیے بھی بھیجی ہوگی شرافت سےنکالو پہلے میری بریانی۔”مومنہ نے اسکے بیگ کی طرف اشارہ کیا۔”کیااا۔۔۔! تم یہ پوچھنے کیلیے مجھے یہاں لائی تھی۔ﷲ ﷲ مومنہ ایک تو تم اور تمہاری یہ بریانی اور ناولز کا کریز۔” سویرا صدمے سے بولی۔” محترمہ یہ تم میرے ناول کو بیچ میں کیوں لارہی ہو ہاں؟ ” مومنہ نے اسے نقاب میں لپٹی بھوری آنکھوں سے گھورا۔
“پلیز مجھے یہ “محترمہ” نہ ہی بولو تو بہتر ہے۔۔ پہلے بھی اس لڑکے نے یہ لفظ بول کر میرا دماغ پکا دیا تھا” سویرا کل والا واقعہ یاد کر کے بولی اسے اس لڑکے پر نہایت غصہ تھا۔۔ “ہیں ہیں کون لڑکا؟؟ کس کی بات کر رہے ہو تم دونوں؟؟ لو جی باقی تینوں بھی وہاں آ ٹپکی تھیں۔۔ “کچھ نہیں کل مجھے ایک سر پھرا مل گیا تھا کالج آتے ہوئے” سویرا بولی “۔ کیا مطلب کل تم کالج آرہی تھیں؟؟ ۔ اُمِ ہانی پورا منہ کھولے حیران کھڑی پوچھ رہی تھی۔۔ جیسے سویرا کو پورا پورا نگلنے کا ارادہ ہو۔۔ ویسے بھی سویرا بیچاری کی صحت بھی اتنی تھی کہ وہ اسے با آسانی نگل جاتی۔۔۔۔ سویرا نے انہیں کل کا سارا واقعہ بتایا۔۔ “کیااااا۔۔۔۔! ہائے للہ تم نے اس بیچارے کی ٹانگ توڑ دی؟؟” وثقیٰ کو شدید صدمہ ہوا۔ “ایکسکیوز می میں نے نہیں توڑی، وہ خود ہی کھمبے میں گھس گیا تھا۔۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔” سویرا ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولی۔”اس انسان کی ٹانگ کا حشر ہوگیا صرف تمہیں بچانے کی وجہ سے اور تمہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے؟”علشبہ نے اسے گھورا۔ “یار تم مجھے ایک بات بتاؤ اس کی وجہ سے میرے پورے ایک دن کے لیکچر رر۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ اپنا لیکچر نامہ پھر سے شروع کرتی مومنہ نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔” سویرا اپنا یہ لیکچر نامہ بند کرو اور پلیز بتاؤ کیا تم نے اس لڑکے سے معذرت کی؟ کیونکہ جو بھی ہو تمہیں بچاتے ہوئے اسے چوٹ لگی ہے۔اور ہم تمہیں جانتے ہیں تم نے لیکچرز اور ٹیسٹ کی وجہ سے اس لڑکے سے جان چھڑانے کی کوشش بھی کی ہوگی۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ زخمی صرف تمہیں بچانے کیلئے ہوا تھا۔۔تمہیں کم از کم اس سے معذرت ضرور کرنی چاہیے تھی۔۔” مومنہ بولی” ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔ کیونکہ میں نے کل اسے بہت ڈانٹا تھا۔۔۔ مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب اگر وہ مجھے دوبارہ کبھی دیکھا تو میں معذرت کر لونگی۔اچھا چلو اب لیکچر لینے چلیں۔”لیں جناب تو ثابت ہو ہی گیا کہ فطرت کبھی نہیں بدلتی۔۔ سویرا اور اس کے لیکچر کے کیڑے ۔۔۔ مگر اب اسے یہ احساس ضرور ہو گیا تھا کہ اسے اس لڑکے سے معافی مانگ لینی چاہیے تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بھی سب لیکچر لے کر گارڈن میں پہنچ چکے تھے۔آج ان کا ارادہ دامیہ کو چھیڑنے کا تھا۔”دامیہ اوپر کیا کر رہی ہے ابھی تک؟ مومنہ نے پوچھا ( جس نے نقاب اتار رکھا تھا کیونکہ اب سامنےمرد موجود نہ تھے۔ وہ کالج میں پردہ کرتی تھی۔دو سال پہلے اس نے ہردہ شرقع کیا تھا۔کالج میں مکمل خود کو ڈھانپتی تھی۔گرمی ہو یا سردی اسے موسموں سے فرق نہیں پڑتا تھا۔اس نے انٹر بھی اسی کالج سے کیا تھا۔۔انٹر میں وہ پردہ نہ کرتی تھی۔۔ہر طرح کا فیشن اس نے کیا تھا۔۔بال کھولے تھے۔میک اپ کرتی۔تیار ہوتی۔تب اس نے کالج کے ہر فن فیئرز ہر فیئر ویل ہر تقریب میں حصہ لیا تھا۔۔مختلف ٹیبلوز کیے تھے۔۔وہ لڑکیاں اچھی نہیں ہوتیں جو گھروں سےخود کو ڈھانپ کر نکلتی ہیں اور کالج آتے ہی سرجھاڑ منہ پھاڑ گھومتی پھرتی تھیں۔ اور یہی نہیں بلکہ گارڈ، اورکلرک حضرات سے گپیں ہانکنا تو جیسے ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔ کالج میں اکثر طالبات اسے حجابی گرل کہتی تھیں۔ اس کی عادت نہ جانے کتنی اور طالبات نے بھی اپنا لی تھی۔ اکثر لڑکیاں اس سے سوال کرتی ہیں کہ آپ نے پردہ کر رکھا ہے کیا آپ عالمہ ہیں؟آپ کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے کیا آپ نے حفظ کیا ہوا ہے۔۔آپ سیدہ ہیں۔۔وغیرہ
وہ کہتی کہ “مجھے بتائیں جب پردے کا حکم نازل ہوا تھا تو کیا یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ ایک لڑکی صرف تب ہی پردہ کرسکتی ہے جب وہ عالمہ یا حافظہ ہوگی؟
یا ایک لڑکی صرف تب ہی رب تعالٰی کی تسبیح و تحمید بیان کرسکتی ہے جب اس نے حفظ کر رکھا ہو؟

کیا جب کلام الہی نازل ہوا تھا تو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ اسے صرف مولویوں،اور اسکالرز کیلئے نازل کیا جارہا ہے باقی کے ” کلمہ پڑھے مسلمان ” اسے ہاتھ بھی نہ لگائیں۔
اور اگر ہاتھ لگا بھی لیں تو عربی پڑھ کر واپس شیلف پر عقیدت سے چوم کر رکھ دیں۔نہیں ناں؟
وہ کہتی کہ قرآن ایک کتاب ہے!
اسے پڑھیں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔جو بھی مسئلہ ہے اسے اٹھائیں اور اس کتاب کو بتائیں۔
اس کلام کو بتائیں !
وہ کتاب کلام کرنا جانتی ہے !
وہ آپ سے بات کر کے آپ کے مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
ہاں لیکن کلام شرط ہے !وہ کتاب اس سے بات کرے گی جو اس سے بات کرنا چاہتا ہو !

وہ پوچھتی کہ جنت ایسی ہی مل جاتی ہے؟
نور ایسے ہی عطا کر دیا جاتا ہے؟

نہیں! نور انہیں عطا کیا جاتا ہے جو سیاہی کو ہرا دیتے ہیں۔جو جنت کو پانے کیلئے جتن کرتے ہیں نور انکا مقدر ٹہرتا ہے۔)
“وہ آرہی ہوگی میم سارہ سے بات کرنے کیلئے رکی تھی شاید” سویرا بولی۔ “لو آگئی “اُمِ ہانی دور سے آتی ہوئی دامیہ کو دیکھ کر بولی۔ “کہاں رہ گئی تھی؟” یار بس وہ ایک کام تھا وہ کر کے آئی ہوں۔”دامیہ نے اپنا دیگ جیسا بیگ زمین پر پھینکنے کے انداز میں رکھا۔ “کون سا کام؟ تمہارا کام تو وہ دیکھو سامنے دروازے کے ساتھ سنڈی بنا لٹکا ہے۔” علشبہ نے ذلفن کی طرف اشارہ کیا۔ ” بس کر دو انسان ہے وہ تم نے اسے آئیندہ سنڈی یا کچھ اور بنایا نہ تو میں ماروں گی۔ بالکل شاہ رخ خان کی شکل کا ہے۔” دامیہ مسکرا کر بولی مومنہ جو بیچاری پانی پی رہی تھی اس دنیا کے آٹھویں عجوبے کی باتیں سن کر سارا پانی اس کے حلق میں اٹک چکا تھا اور اب وہ کھانس کھانس کر دوہری ہو رہی تھی۔ باقی سب کا بھی یہی حال تھا وہ سارے منہ پھاڑے دامیہ کو دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ سب سنبھلے تو دامیہ کو گھورا۔ جس پر وہ بیچاری سٹپٹا کر رہ گئی۔
“یار کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ “دامیہ سٹپٹائی۔”چپ رہ ایک منٹ” علشبہ صدمے سے بولی” پتہ کرو اس ذولفی سے اسکا کالا چشمہ (ذولفی کے سن گلاسس جو وہ اکثر لگاتا تھا) فارغ ہیں اور ساتھ میں کہیں سے ایک عدد لاٹھی کا بھی بندوبست کرنا اس اندھی کو بہت ضرورت ہے “مومنہ دامیہ کا منہ بند کروا کر سویرا اور ہانی سے بولی۔جس پر سب نے چھت پھاڑ قہقہہ لگایا۔ اور دامیہ منہ بسور کر بیٹھ گئی۔ اور سب نے شکر کیا کہ چلو تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی پر بلا ٹلی۔
________
یہ ایک سفید رنگ کا نہایت ہی خوبصورت،پُرتعیش، وسیع و عریض بنگلہ تھا۔ جس کے اندر داخل ہوتے ہی ایک انتہائی وسیع پارکنگ ایریا دیکھنے کو ملتا تھا۔ جس میں کاریں اور نئے سے نئے ماڈل کی موٹر بائیکس موجود تھیں۔ غالباً نئے ماڈلرز کی موٹر بائیکس جمع کرنا اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا۔بنگلے کے سب سے اوپر والے فلور سے لگاتار گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔شاید وہاں کوئی پریکٹس کر رہا تھا۔ اس سے نچلے فلور پر اگر نظر ڈالی جاتی تو وہاں فائٹنگ ٹریننگ دی جا رہی تھیں۔ اس سے نچلے فلور پر سناٹا تھا۔یہ ساری دولت اس شخص کی تھی جو بالکل اکیلا تھا۔خاندان کے نام پر اس کے پاس کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جسے وہ اپنا کہہ سکتا۔ دنیا کی ایسی کوئی بھی نعمت نہ تھی جو اس کے پاس موجود نہ ہو، ہاں سوائے کسی اپنے کے۔ نہ ماں، باپ نہ اس کی پیاری بہن نینا۔۔ اسے آج بھی اپنے ماں، بابا اور پھول جیسی معصوم بہن کی خون آلود لاش یاد تھی۔ اسے یاد تھا کہ وہ ان سبکے بے جان وجود سے لپٹ لپٹ کر نا جانےکتنی دیر تک روتا رہا تھا۔اگر وہ اس رات اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر نہ جاتا تو وہ آج اس کے ساتھ ہوتے۔ اور انکا گھرانہ بھی ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کر رہا ہوتا۔ وہ اٹھائیس سال کا تھا۔وقت اور حالات نے اسے ایک گینگسٹر بنا دیا تھا۔ مگر وہ کوئی برا انسان نہیں تھا وہ صرف ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارتا تھا جو انتہائی سفاکیت سے معصوم بناتِ حوّا کی جانیں لے لیتے ہیں۔ تاکہ کوئی اور معصوم جان اس کی طرح بازل شاہ دا وولف (بھیڑیا) نا بنے۔۔۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ حدائق خان آیا۔ خوبصورت سے پٹھانوں جیسے نقوش والا حدائق۔ بازل اسے اپنا بھائی کہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اسکا رازدار بھی تھا۔ “یار وولف تم نے جس لڑکی کے بارے میں معلومات لینے کا کہا تھا میں نے اس کی ساری معلومات نکلوالی ہیں۔ اسکا نام سویرا ہے اور اس دن جب وہ تم سے ٹکرائی تھی۔۔” وہ ابھی آگے کچھ بولتا کہ وولف نے ٹوکا “وہ مجھ سے نہیں بلکہ میں کھمبے سے ٹکرایا تھا۔”تصحیح لازم تھی۔”ارے ہاں ہاں وہی مطلب تھا میرا۔۔ وہ اس دن اپنے کالج جا رہی تھی۔” حدائق نے مزید بتایا” “ہاں یہ تو میں جان ہی گیا تھا کیونکہ اسے میری ٹانگ سے زیادہ اپنے لیکچرز کی پڑی تھی اور اس کی وجہ سے وہ بار بار میری عزت افزائی بھی کررہی تھی۔” بازل نے منہ بنایا” “یارا تم مجھے ایک بات بتاؤ ادھر کوئی تمہارے سامنے ایک سے دوسری بات نہیں کر سکتا کہ کہیں تم اس کی جان نہ لے لو اور اس دن اس لڑکی نے تم سے یعنی بازل شاہ دا وولف سے اتنی بدتمیزی سے بات کی۔اور تم نے اسے کچھ کہا ہی نہیں آخر معجزہ کیا ہے؟
؟” حدائق خان اپنے مخصوص پٹھانوں والے لب و لہجے میں پر تجسس سا بولا۔ “یار میں تو خود نہیں جانتا پتا نہیں اس دن ہو کیا گیا تھا مجھے۔ تم نے اس کے کالج کی ٹائمنگ پتہ کروالی ہیں؟ “۔ بازل نے پوچھا تو حدائق نے فوراً سے سر ہاں میں ہلایا۔” ہاں میں نے پتہ کروالی ہیں ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے بارہ تک کی ہیں۔۔ “حدائق بولا۔” اچھااا۔۔! چلو تم جاؤ میری بائیک تیار کرواؤ میں نے ابھی نکلنا ہے اسے چھٹی ہونے ہی والی ہوگی دو گھنٹے رہتے ہیں “وولف ٹائم دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔”کیا مطلب اتنی جلدی کیوں جارہے ہو؟ مشکل سے بیس منٹ کا ہی راستہ ہے اور تم اتنی جلدی جا کر وہاں کیا کرو گے؟ تمہیں اتنی دیر اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔” حدائق منہ کھولے حیران کھڑا تھا کیونکہ اس نے کبھی بھی بازل کو کسی کا انتظار کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔ ایک اتنا بڑا گینگسٹر کسی لڑکی کا انتظار کریگا۔اس کا دل یہ بات قبول کرنے سے انکاری تھا۔ہاں مگر وہ یہ بات جان گیا تھا کہ اب یہ دل کا معاملہ ہے اور محبت کبھی بھی انتظار لفظ سے نا آشنا نہیں رہی تھی۔محبت کا دعویٰ کرنے والوں کو تو نا جانے کس قدر انتظار کرنا ہوتا تھا۔کبھی دیدارِ یار کیلئے تو کبھی کسی ایسے معجزے کے واقع ہونے کا جو انکی محبت ان سے آ ملوائے۔انتظار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔۔ یہ لمحوں کو صدیوں میں بدلنے کی سکت رکھتا ہے۔۔۔اور پھر بازل شاہ دا وولف جا چکا تھا۔وہ محبت کے راستے کا مسافر بننے کیلئے تیار تھا۔۔۔ وہ انتظار کرنے کیلئے تیار تھا۔۔۔ وہ دیدارِ یار کیلئے تیار تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ جب سے اس لڑکی سے ملا ہے تب سے اپنے ذہن میں بار بار، لگاتار صرف اس لڑکی کے خیالات کو ہی کیوں پایا۔وہ لڑکی اس کی سوچوں پر اس قدر کیوں قبضہ کر کے بیٹھی تھی۔۔ بازل ایک گھنٹے سے وہاں کھڑا انتظار کر رہا تھا۔چھٹی ہونے میں اب صرف پندرہ منٹ ہی باقی تھے۔ لیکن یہ پندرہ منٹ اسے پندرہ سال کےبرابر لگ رہے تھے۔ اور پھر بالآخر چھٹی ہوہی گئی۔ بہت سی لڑکیاں نکل چکی تھیں۔وہ اپنی سپورٹس بائیک کے ساتھ کھڑا اس کا انتظار کر رہاتھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔بہت سی لڑکیوں کی نگاہیں اس حسین اور مغرور شخص کو حسرت سے دیکھ رہی تھیں۔اور پھر اسے وہ آتی ہوئی نظر آئی۔ وہ اپنی دوستوں کو الوداع کہتی اپنے گھر کے راستے چل دی تھی۔ وولف نے اپنی بائیک سٹارٹ کی اور وہ اسکے پیچھے چل دیا۔
___
سویرا ناجانے کتنی دیر سے اس بائیک کو اپنا پیچھے کرتے دیکھ رہی تھی۔ پہلے تو اس نے کوئی توجہ نہ دی مگر اب اسکے مستقل پیچھا کرنے کی وجہ سے سویرا تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔۔۔ مگر شاید وہ بائیک والا انتہائی ڈھیٹ تھا۔ سویرا نے نا محسوس انداز میں اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور موقع پاتے ہی ساری بوتل اس موٹر-سائیکل سوار پر الٹ دی۔۔ بازل اس اچانک افتاد کیلیے تیار نہ تھا۔ اسنے ہڑبڑاتے ہوئے بریک لگائی۔”یہ کیا کیا آپ نے کیا حرکت ہے یہ؟” وولف پہلے حیرت سے اسے اور پھر افسوس سے اپنی گیلی شرٹ کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ” اوہ تو آپ تھے ، میں سوچ رہی تھی کہ ناجانے کون لفنگا میرا پیچھا کر رہا ہے۔” سویرا نے گہرا سانس لیا ۔”یہ لفنگا آپ سے بات کرنے کیلئے آیا ہے۔” بازل نے منہ بنایا۔وہ خفا لگ رہا تھا۔۔لفنگا؟ ” مطلب سیریسلی؟ “جی میں نے بھی آپ سے سوری کہنا تھا اس دن کیلیے شکر ہے آپ مجھے مل گئے۔ اب آپ کی ٹانگ کیسی ہے ایکس رے وغیرہ کروایا تھا؟” سویرا کا انداز فکرمندانہ تھا جسے سن کر وولف کے دل کو سکون محسوس ہوا۔ اسے اس کا اسطرح اپنے لیے فکرمند ہوتا دیکھنے کا انداز بہت بھایا تھا۔” ہاں میں ٹھیک ہوں اب۔ ایکس رے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تو نہیں کروایا زخم زیادہ نہیں تھے تو جلدی بھر گئے۔آپ کیسی ہیں؟ سٹڈیز کیسی جارہی ہیں؟” بازل بائیک سائیڈ پر کرتا سویرا کے ساتھ چلتے اپنی گیلی شرٹ خشک کرنے لگا۔گرمیوں کی دوپہر ہونے کی وجہ سے گلیاں سنسان تھیں اس لیے وہ اسکے ساتھ ایک فاصلے پر چل رہا تھا۔اسے سویرا کی عزت بہت عزیز تھی۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ کبھی اسکی وجہ سے سویرا پر کوئی بات آئے۔”جی میری سٹڈیز اچھی جا رہی ہیں اور میں بھی ٹھیک ہوں” سویرا نے اپنے بیگ سے رومال نکال کر اسے دیا تھا تاکہ وہ اپنی شرٹ خشک کر لے وولف نے مسکرا کر اسکا شکریہ ادا کیا اور اسکے ہاتھ سے رومال لے لیا” اچھی بات ہے”کالج میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوتا یا راستے میں آتے جاتے کسی سے؟ ” بازل محتاط سا پوچھ رہا تھا۔ سویرا نے نوٹ کیا تھا کہ وہ خود دھوپ میں چل رہا تھا اور اسے سایے میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ وہ اجنبی سا شخص اسے تحفظ کا احساس دلا رہا تھا۔” خیریت آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟” سویرا نے وجہ جاننی چاہی۔” ویسے ہی جنرل انفارمیشن کیلئے۔” بازل نے کان کھجایا۔”مجھے اپنا نام تو بتائیں۔؟” سویرا نے اسکی طرف گردن گھمائی۔” “میرا نام؟ وولف نے اپنی طرف انگلی سے اشارہ کرتے پوچھا۔” جی آپ کا۔۔ سویرا نے اثبات میں سر ہلایا۔ “میرا نام بازل ولی شاہ ہے۔ دنیا مجھے وولف کہتی ہے۔ اور شاید آپ بھی مجھے جانتی ہوں۔۔۔ ہر روز نیوز میں میرا نام آتا ہے ناں۔” وہ اسکے ساتھ چلتے بتا رہا تھا۔” ہاں جیسے آپ تو کوئی بہت بڑے سیلیبریٹی ہیں ناں۔” سویرا ہنستے ہوئے بولی۔ اسکی بات پر بازل بس کندھے اچکا گیا۔ مگر دو قدم چلنے کے بعد سویرا ٹھٹھکی۔۔ “گریٹ گینگسٹر دا وولف ” کل رات کو نیوز کاسٹر کے بولے جانے والے الفاظ اسے یاد آئے۔” ا، ایک منٹ رکیں۔ “اس نے آگے چلتے وولف کو بازو سے تھام کر روکا۔ وولف اسکی طرف مڑا اور سوالیہ انداز میں بھنویں اچکائیں۔” جیسے پوچھنا چاہتا ہو کیا ہوا؟” “آپ گ گ گ گینگسٹر ہیں؟ ” سویرا ہکلائی۔ اسے شاید یقین نہیں آرہا تھا۔”ہاں!” وولف جواب دیتا آگے چل دیا۔ مگر سویرا۔۔وہ نہیں چل سکی۔ وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی۔”گ گگ گینگسٹر “سویرا بڑبڑائی۔ اور پھر وہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس پہنچی اور وولف کے سامنے جا کے رکی، وہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے اس سے پہلے ہی وولف جھٹکے سے رکا اور سویرا کو الجھی نظروں سے دیکھا “کیا ہوا ہے؟ آپ ٹھیک ہیں؟” وولف نے سویرا کی حیرت سے پھٹتی آنکھوں میں دیکھا۔ ” آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھے مارنے آئیں ہیں میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟؟ دیکھیں کل میری پریزینٹیشن ہے اور اس کے علاوہ ایک بہت اہم ناظرہ کا لیکچر بھی ہے۔۔ اور تو اور پرسوں بھی میری پریزینٹیشن ہے۔ میں ابھی نہیں مر سکتی۔بلکہ ابھی تو کیا میں اس پورے سیمیسٹر کے ختم ہونے سے پہلے نہیں مر سکتی۔ بلکہ صرف یہ سیمیسٹر کیا میں تو یہ پورا بی اے ہونے سے پہلے مرنا افورڈ نہیں کر سکتی۔” وہ انتہائی پریشانی سے اِدھر اُدھر ٹہلتے بول رہی تھی۔اور وولف بیچارہ۔۔۔ ممکن تھا کہ وہ بےہوش ہو کے گر پڑتا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ لڑکی اس قدر کھسکی ہوئی ہے۔ “ارے محترمہ ایک سیکنڈ سے بھی پہلے اپنی یہ زبان بند کریں اس سے پہلے کہ میں آپکی جان لے لوں۔” وولف چیخا دماغ پھٹ رہا تھا اسکا۔اور یہ الفاظ سننے کی دیر تھی کہ سویرا کی ٹرٹر چلتی زبان کو بریک لگی۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی گئی۔ “نہیں۔۔ بھئی میں کیوں چپ رہوں؟ میں نے بی اے کر کے ابھی جاب بھی کرنی ہے اور پھر میرے گھر والوں نے میری شادی بھی کرنی ہے جسکا مجھے شوق نہیں ہے۔آپ ایسا کیجئے گا کہ میری شادی کے دن مجھے مار دیجئے گا پر ابھی آپ مجھے نہ ماریں۔کچھ سال ویٹ کرلیں۔پلیز۔۔” سویرا منت سماجت پر اتر آئی تھی۔” محترمہ؟”وولف کی آواز صدمے میں ڈوبی تھی۔” دیکھیں مسٹر بھیڑیا! ضروری نہیں کہ ہر گینگسٹر برا ہو اور اس کا دل نہ ہو۔ آپ تو شکل سے ہی اتنے اچھے اور پیارے لگتے ہیں۔آپ کا دل بھی اتنا ہی اچھا ہوگا۔ہیں ناں؟ ” سویرا اب امید سے اسے دیکھ رہی تھی “میرا دل؟ اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا( یہ تو نہ جانے کب سے دھڑکنا ہی بھول گیا تھا۔ یہ تو بنجر ہو چکا تھا۔ مگر جب بھی آپ سے ملتا ہے یہ سرسبز ہونے لگتا ہے۔یہ دھڑکتا ہے۔” بازل کا دل معترف ہوا زبان البتہ گونگی رہی۔
اور پھر وہ بغیر کچھ کہے چلا گیا۔سویرا سراپا سوال بنی کھڑی رہی۔ جانے والا جا چکا تھا بغیر مڑے اور جو لوگ چلے جائیں تاریخ گواہ تھی کہ وہ واپس نہیں لوٹا کرتے۔ ہاں سویرا نے ایک بات نوٹ کی تھی کہ جاتے وقت اسکا چہرہ ویسا نہ تھا جیسا اس تمام وقت رہا تھا اس کے آنکھوں کی وہ چمک ماند پڑ چکی تھی۔ وہ اسے کافی الجھا الجھا اور زخمی لگا تھا۔ سویرا کو لگا کہ اس نے اس بار بھی اسے زخمی کر دیا تھا مگر فرق صرف یہ تھا کہ پچھلی چوٹ جسمانی تھی جبکہ اس بار کی چوٹ روحانی۔وہ اسکے پیچھے جانا چاہتی تھی۔ وہ اسے روکنا چاہتی تھی۔ وہ اس سے اپنے دیے ہر زخم کی تلافی کرنا چاہتی تھی۔ مگر وہ جا نہ سکی۔وہ واپس اپنے گھر کی طرف پلٹ گئی۔لڑکیوں کو پلٹ آنا چاہیے۔یہ انکی بقا کیلئے بہت اہم ہوتا ہے۔ورنہ ٹوٹنا، بکھرنا اور فنا ہونا انکا مقدر ٹہرتا ہے۔چھٹی ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔ اسکے گھر والے پریشان ہو رہے ہونگے۔اور بازل ولی شاہ۔۔ وہ آج بھی اکیلا تھا۔شاید اسے اب اکیلا ہی رہنا تھا۔ اسنے اپنے زخموں پر خود مرہم رکھنا سیکھ لیا تھا۔
اور شاید یہ اسکی بقا کیلئے بھی اہم تھا۔
__________
آج بھی وہ سب معمول کے مطابق اپنے لیکچرز لے کر فارغ گھوم پھر رہے تھے۔ مومنہ پرنسپل آفس گئی ہوئی تھی۔ سارے دن کی اپڈیٹ دینے اور سالِ اول کی طالبات کا نیا ٹائم ٹیبل لینے، کیونکہ اسے ہی ان سب کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ یہ سب بیک سائیڈ جانے لگے تھے جب کالج کا گیٹ کھلا۔ سی گرین کلر جینز پر بیج کلر شرٹ پہنے آنکھوں پر سیاہ گلاسز لگائے ہاتھ میں ایک فائل تھامے وہ لڑکا اندر داخل ہوا۔اُمِ ہانی نے سر سے پیر تک اسکا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔ “شکل اور حلیے سے ایسے لگ رہا ہے جیسے آکسفورڈ کی ڈگری لے کر آئے ہیں جناب۔مگر باہر لکھا وومن کالج نہیں پڑھ سکتے۔ہر کوئی منہ اُٹھا کر چلا آتا ہے۔ ہونہہ! ” اُمِ ہانی نے علشبہ کے کان میں سرگوشی کی تھی جس کی آواز اتنی تھی کہ ان سے چند قدم آگے چلتا وہ لڑکا باآسانی سن سکا۔ اور یہی نہیں اس کے قدم ایک پل کو تھمے بھی تھے۔ مگر صرف ایک پل۔ وہ پھر سے آگے چل دیا۔ “انہوں نے سن لیا ہے۔” علشبہ نے اُمِ ہانی کے سر پر ایک چپت لگائی۔ “ہاں تو میں کیا کروں؟ میری بلا سے” اُم ہانی نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
“جی میم کل ہی ساری فرسٹ ایئر کو میں نے انکے لیکچرز کی ٹائمنگز بتادیں تھیں۔ اور ان کے یونیفارم کے متعلق بھی گائیڈ کر دیا ہے۔اور میم میں نے آپ سے ناظرہ کی نیو ٹیچر یا انٹرن کیلئے کہا تھا۔ طالبات کو پہلے والی ٹیچر کی بالکل بھی سمجھ نہیں آتی۔ “مومنہ نے پینسل اور نوٹ پیڈ جسمیں اس نے مزید ٹاسکس لکھ رکھے تھے اپنی پاکٹ میں رکھتے ہوئے کہا۔ “ہاں بیٹا میں نے ڈائریکٹر صاحب سے بات تو کی ہے مگر ابھی تک انہوں نے کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ پر میں پھر ایک بار ٹرائے کرتی ہوں۔ ان شاءاللہ یہ مسئلہ بھی جلد ہی حل ہو جائےگا۔” پرنسپل میم بول رہی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔”جی آ جائیں” میم کی اجازت پر باہر موجود شخص اندر داخل ہوا۔ “السلام علیکم!مسز کشمالہ خان؟ ” اس لڑکے نے ادب سے پوچھا
“وعلیکم السلام! جی بیٹا، آپ کون ہیں؟”میرانام میر بخت ہے۔ مجھے ڈائریکٹر سر نے بھیجا ہے۔۔میں القرآن کا انٹرن لیکچرار ہوں۔ “وہ مؤدب سا کھڑا تھا۔”ارے بیٹا میں اور مومنہ بیٹی ابھی اسی موضوع پر ہی بات کر رہےتھے۔ “میم نے ساتھ کھڑی مومنہ کی طرف اشارہ کیا تھا جس پر اس نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا مگر اسے مکمل پردے میں دیکھتے ہی نظریں جھکا کر سر اثبات میں ہلایا۔” السلام و علیکم سر” مومنہ نے سلام کیا “وعلیکم السلام بیٹا آپ اپنی کلاس کی جی آر ہیں؟” “بیٹا مومنہ صرف اپنی کلاس کی ہی نہیں بلکہ یہ کالج کی تمام پروکٹرز کی ہیڈ بھی ہیں۔” پرنسپل صاحبہ مسکرائیں۔ “ڈیٹس گریٹ ماشاءاللہ” میر بخت نے مسکرا کر اسے سراہا۔ “مومنہ بیٹا آپ سر کو لے جا کر انہیں کلاس کے متعلق ساری معلومات دیں اور ہر مسئلے میں آپ دونوں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ اور میر بخت بیٹا معذرت اب مجھے جانا ہوگا میری ایک بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے میں آپ سے کل ملوں گی ان شاءاللہ”۔ کشمالہ صاحبہ بولیں۔ “ارے میم کوئی بات نہیں ہم کل مل لیں گے آپ اپنا خیال رکھیں۔ اللہ حافظ” وہ دونوں باہر آگئے۔ “مومنہ بیٹا آپ مجھے ناظرہ کے نوٹس دے دیں میں کل سے آپ لوگوں کو لیکچر دونگا۔ اور مجھے لیکچر ٹائمنگز بھی بتا دیں۔”وہ ساتھ چلتے ہوئے مومنہ سے کہہ رہا تھا۔ “اوکے سر آپ میرے ساتھ آئیں میں آپ کو نوٹس دے دیتی ہوں۔ اور ہمارا لیکچر روز گیارہ بجے سے گیارہ پینتالیس تک ہوتا ہے۔” مومنہ نے انہیں آگاہ کیا۔اچانک ہی مومنہ کو خیال آیا کہ اسکے پاس تو نوٹس ہیں ہی نہیں۔وہ تو پی ڈی ایف سے پڑھنے کی عادی تھی۔ مگر پھر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی کہ اُمِ ہانی سے نوٹس لے کر سر کو دے دے گی۔
” لڑکیوں ان سے ملو یہ ہمارے ناظرہ کے نئے ٹیچر ہیں۔” مومنہ نے میر بخت کی طرف اشارہ کیا۔ “السلام و علیکم بچوں!وہ ان سے تقریباً 4،5 سال ہی بڑا تھا لیکن رتبہ کی وجہ سے وہ انہیں بچے کہہ رہا تھا۔” وعلیکم السلام سر! ” سویرا اور وثقٰی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ جبکہ علشبہ منہ کھولے آنے والے شخص کو دیکھ رہی تھی۔ اُم ہانی پانی پی رہی تھی اسکا منہ دوسری طرف تھا۔ مگر جیسے ہی اس نے مردانہ آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو سارا پانی اسکےحلق میں ہی اٹک گیا۔ اور کھانسی کا ایک نہ تھمنے والا دورہ شروع ہوا تھا۔سب بوکھلا گئے۔ ہانی کا چہرہ لال سرخ ہورہا تھا۔ مومنہ نے اسے پانی پلایا۔مگر کھانسی تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ میر بخت جان چکا تھا کہ یہ وہی لڑکی تھی۔ اسنے اپنی شرٹ کی پاکٹ میں سے ایک ٹافی نکال کر (وہ کینڈیز بچوں کو دینے کیلئے اکثر اپنے پاس رکھتا تھا۔) اُم ہانی کی طرف بڑھائی”اسے منہ میں رکھیں۔ ” وہ صرف اتنا ہی بولا تھا۔ٹافی منہ میں رکھتے ہی اس کی کھانسی کم ہونا شروع ہوچکی تھی۔ میر بخت نے مومنہ کو اشارہ کیا کہ وہ اُم ہانی کو ساتھ موجود بینچ پر بٹھا دے۔تھوڑی دیر میں اسکی کھانسی بالکل تھم چکی تھی۔ “کیا ہوا تھا یار تم ٹھیک تو ہو نا اب؟ سب نے ایک ساتھ پوچھا۔ہانی نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا اور وہ پانچوں ایک دوسرے کو گلے لگا گئیں۔ بلا شبہ وہ پانچوں جان تھیں ایک دوسرے کی۔ میر بخت ان پانچوں کو گلے لگا دیکھے مسکرایا تھا۔ ایک وقت تھا کہ جب اسکا بھی ایسے ہی پانچ دوستوں کا گروپ ہوتا تھا۔ مگر اب وہ سارے اپنے اپنے راستے کے مسافر بن چکے تھے۔وہ یہاں پر انٹرن شپ پر آیا تھا “مجھے تو آپ لوگ بھول ہی گئے ہیں۔ پلیز میرا کام کردیں کیوں کہ میں یہاں کھڑا انتہائی عجیب لگ رہا ہوں۔” وہ سر کھجاتے کہہ رہا تھا۔اور کیوٹ بھی لگ رہا تھا۔ “اوہ سوری سر، ریلی سوری۔اُم ہانی میں تمہارے نوٹس اٹھا رہی ہوں ناظرہ کے۔ سر کو چاہیے۔” مومنہ نے اُم ہانی کے بیگ سے نوٹس نکال کر سر کو تھمائے۔ ” آپ کل مجھ سے یہ لے لیجیے گا، شکریہ “۔وہ کہہ کر واپس چل دیا۔”یار کیا ہوا تھا تمہیں؟ ” سر کے جاتے ہی مومنہ اُم ہانی کی جانب متوجہ ہوئی۔ جس پر اُم ہانی نے اسے ساری بات بتائی۔” لِلّٰہ سچی یار؟ نہ کرو۔ شرم نام کی چیز جب بانٹی جا رہی تھی تب تم کہاں تھیں؟” مومنہ نے اُمِ ہانی کو جھاڑا۔ “اوہ تب رکو ذرا مجھے یاد کرنے دو۔ہاں یاد آگیا۔ بریانی بٹ رہی تھی وہی لینے گئی تھی۔” اُمِ ہانی شرارتی انداز میں بولتی بھاگی۔ “پھر سے بریانی کا مذاق۔رکو ذرا تمہیں تو میں بتاتی ہوں۔” مومنہ بھی اسکے پیچھے بھاگ نکلی۔ اور باقی تینوں کے قہقہے بلند ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
اگلی قسط ان شاء اللہ تعالیٰ دس دن بعد جاری کی جائے گی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *