Bashar Episode 17 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۷

شام ڈھلنے لگی تھی۔ آسمان پر سورج کی روشنی اب پہلے جیسی تیز نہیں رہی تھی، بلکہ سنہری رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے لمبے سائے پھیلنے لگے تھے اور ٹھنڈی ہوتی ہوا دن بھر کی گرمی کو اپنے ساتھ بہا لے جا رہی تھی۔

تقریباً چھ سے سات بجے کا وقت تھا جب ان کی گاڑی اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔

منیجر نے کئی بار گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی، مگر انجن نے ساتھ نہ دیا۔ آخرکار وہ گاڑی سے باہر نکلا، بونٹ کھولا اور کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد باقی سب کی طرف متوجہ ہوا۔
یہاں سے تھوڑا آگے ایک پارک ہے۔ آپ سب وہاں چلے جائیں، میں گاڑی ٹھیک کروا کر آتا ہوں۔
رین یون نے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے۔
سب نے بھی رضامندی ظاہر کی اور سڑک کے کنارے سے تھوڑا آگے موجود پارک کی طرف چل پڑے۔
پارک خاصا وسیع تھا۔ چاروں طرف گھنے درخت، سبز گھاس کے کشادہ میدان، رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں اور جگہ جگہ لکڑی کی بینچیں لگی ہوئی تھیں۔ ایک طرف بچوں کے لیے جھولے اور سلائیڈز بنی ہوئی تھیں، جہاں ننھے بچے شور مچاتے، ہنستے اور ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے پھر رہے تھے۔
کچھ فاصلے پر چند بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔
جیسے ہی سوہان کی نظر اُن پر پڑی، وہ فوراً اُن کی طرف بڑھ گیا۔
میں بھی کھیلوں؟
اس نے انگریزی میں پوچھا۔
بچوں نے پہلے اسے حیرت سے دیکھا، پھر اگلے ہی لمحے خوشی سے اچھل پڑے اور زور زور سے سر ہلانے لگے۔
سوہان بھی ہنستے ہوئے اُن کے ساتھ کھیل میں شامل ہو گیا۔
باقی سب بھی پارک میں مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ کوئی بینچ پر بیٹھ گیا، کوئی درختوں کے سائے میں کھڑا ہو کر موبائل دیکھنے لگا، جبکہ کچھ لوگ اردگرد کے منظر سے لطف اندوز ہونے لگے۔
کچھ دیر بعد کھیلتے کھیلتے سوہان کی نظر پارک کے ایک نسبتاً پرسکون حصے میں موجود بینچ پر جا ٹھہری۔
وہاں تقریباً سات سال کا ایک بچہ اکیلا بیٹھا تھا۔
بچے کا سر جھکا ہوا تھا اور دونوں ہاتھ دعا کے لیے اس کے چہرے کے سامنے جڑے ہوئے تھے۔ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ رو رہا ہو،
وہ فوراً اس کے قریب چلا گیا۔
ہیلو…؟ تم رو رہے ہو؟
بچے نے فوراً سر اٹھا کر اُسے دیکھا۔
مگر سوہان حیران رہ گیا۔ بچے کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں تھا۔ وہ رو نہیں رہا تھا۔
بچے نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں۔
سوہان نے اُس کے برابر بیٹھتے ہوئے پوچھا،
You are upset?
بچے نے کچھ لمحے اسے دیکھا، پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
سوہان اس کے برابر بینچ پر بیٹھ گیا۔
کیوں؟ کیا ہوا ہے؟
بچے نے سامنے کھیلتے ہوئے بچوں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں کھلا رہے۔
سوہان نے حیرت سے پوچھا۔
کیوں؟
وہ کہتے ہیں میں چھوٹا ہوں۔
بچے کی آواز میں معصوم سی شکایت تھی۔
سوہان نے چند لمحوں کے لیے اُن بچوں کو دیکھا، پھر دوبارہ اُس کی طرف متوجہ ہوا۔
اچھا… پھر تم یہاں بیٹھ کر کیا کر رہے تھے؟ کسی بڑے سے کہتے۔۔
بچے نے اپنے ننھے ننھے ہاتھ دوبارہ دعا کی حالت میں جوڑ دیے۔
میں اپنے اللہ سے دعا کر رہا تھا۔
سوہان کی بھنویں ہلکی سی بلند ہوئیں۔
دعا؟
اس وقت؟
بچے نے معصومیت سے سر ہلایا۔
ہاں۔
پھر اس نے سامنے کھیلتے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
مجھے وہ بیٹ چاہیے نا…
وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں کھلا رہے۔
اسی لیے میں اپنے اللہ سے دعا کر رہا تھا کہ وہ مجھے بیٹ مل جائے۔
سوہان چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
بچے کے چہرے پر نہ کوئی شکایت تھی، نہ غصہ۔ بس ایک معصوم سا یقین تھا کہ اگر وہ اللہ سے مانگے گا تو اسے ضرور ملے گا۔
سوہان کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آ گئی۔
اچھا… چلو۔
بچے نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کہاں؟
سوہان نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
آؤ، میں تمہیں بیٹ دلواتا ہوں۔۔
بچے کی آنکھیں فوراً چمک اٹھیں۔
پکا؟
سوہان ہنس دیا۔
ہاں، پکا۔
پھر کچھ یاد آنے پر اس نے پوچھا۔
ویسے تمہارا نام کیا ہے؟
بچے نے فوراً جواب دیا۔
محسن۔۔
سوہان نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
میں سوہان۔
محسن نے ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھ کو دیکھا، پھر خوشی سے اپنا ننھا سا ہاتھ آگے بڑھا کر سوہان کی ہتھیلی تھام لیا۔
سوہان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اسے لے کر اُن بچوں کی طرف چل پڑا۔
ویسے کونے میں بیٹھ کر رونے کے بجائے… یہاں اتنے بڑے بڑے لوگ ہیں، تم اُن سے بیٹ مانگ سکتے تھے۔ وہ تمہاری مدد کر دیتے۔
محسن نے فوراً احتجاج کیا۔
میں رو نہیں رہا تھا… اور میں مان ہی تو رہا تھا اپنے اللہ سے۔
سوہان کے قدم ایک لمحے کو رکے، پھر اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
محسن نے فوراً اُسے گھور کر دیکھا۔
آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟
سوہان نے اپنی مسکراہٹ دبانے کی کوشش کی۔
محسن نے معصومیت سے اپنی بات جاری رکھی۔
میں اپنی آپو کے پاس جانے والا تھا… لیکن وہ غصہ کرتی مجھ پر۔
سوہان نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
محسن نے سامنے جھولوں کی طرف دیکھا، جہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے، پھر دھیرے سے بولا،
ارے… اُن کے آنے کا دل نہیں تھا پارک۔ میں زبردستی لے آیا۔ ابھی دیکھیں… وہ کونے میں بیٹھی اپنی دوست سے بات کر رہی ہیں۔ میں جاتا تو تنگ ہو جاتیں، پھر غصہ کرتیں۔
سوہان نے مسکراتے ہوئے بولا
اِسی لیے تم کونے میں بیٹھ کر رونے لگے؟
محسن نے فوراً منہ بنایا۔
میں نے آپ کو کہا نا کہ میں رو نہیں رہا تھا… مانگ رہا تھا۔
سوہان بےاختیار ہنس پڑا۔
دونوں باتیں کرتے ہوئے اُن بچوں کے قریب پہنچ گئے۔
سوہان تو پہلے ہی اُن کے ساتھ کھیل رہا تھا، اس لیے بچوں نے محسن کو اپنے ساتھ آتے دیکھا تو چند لمحوں کے لیے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
سوہان نے اُنہیں انگریزی میں کچھ سمجھایا اور محسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُس سے کھیلنے کی اجازت مانگی۔
بچوں نے پہلے کچھ ہچکچاہٹ دکھائی، مگر آخرکار مان گئے۔
ایک بچے نے اپنا بیٹ محسن کی طرف بڑھا دیا۔
محسن کا چہرہ فوراً خوشی سے کھل اٹھا۔
وہ بیٹ ہاتھ میں لیے ایسے کھڑا ہوا جیسے ابھی پوری ٹیم کا اکیلا مقابلہ کرنے والا ہو۔
سوہان ایک طرف کھڑا اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
کھیل شروع ہوا۔
محسن نے پوری توجہ سے بیٹنگ کی۔
گیند آئی تو اُس نے زور سے بیٹ گھمایا اور کسی طرح گیند کو آگے دھکیل دیا۔
وہ خوشی سے اچھل پڑا۔
کچھ دیر تک وہ اسی جوش میں کھیلتا رہا۔
مگر چند منٹ بعد اُس کا جوش آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔
آخرکار اُس نے بیٹ نیچے کیا اور بچوں کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا،
بس… اب میرا دل بھر گیا۔
ایک بچے نے اُسے بولا۔۔
اب تم فیلڈنگ کرو۔
محسن نے فوراً سر ہلا دیا۔
نہیں… میرا دل بھر گیا ہے اب۔ اور نہیں کھیل رہا میں کرکٹ۔
اگلے ہی لمحے کئی بچوں کی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں۔
یہ دیکھ لیں آپ۔۔۔ اسی لیے ہم اِسے نہیں کھلاتے۔
ایک بچہ فوراً بولا،
ایک تو یہ چھوٹا ہے، اِس کی وجہ سے ہمیں سلو کھیلنا پڑتا ہے۔
دوسرے نے فوراً اُس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
اور جب اِس کی بیٹنگ ہو جاتی ہے تو یہ بھاگ جاتا ہے!
سوہان نے بچوں کی شکایتیں سنیں تو بےاختیار ہنس پڑا۔
ارے کوئی بات نہیں… بچہ ہے۔
پھر اُس نے محسن کی طرف دیکھا، جو اب بیٹ ایک بچے کو پکڑتے یہاں سے جانے لگا۔۔۔
تم لوگ اگر روز دس منٹ اِس کے ساتھ ایسے کھیل لو گے تو کیا ہو جائے گا؟
بچوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
سوہان نے مسکراتے ہوئے کہا،
چلو اب تم لوگ کھیلو۔
وہ بچوں سے کہتا محسن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
محسن اب پارک کی ایک خالی سیٹ پر آرام سے بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا اور وہ بڑے اطمینان سے اسٹرا کے ذریعے جوس پی رہا تھا، جیسے ابھی کچھ دیر پہلے بیٹ لے کر میدان میں دوڑنے والا یہی بچہ نہ ہو۔
سوہان اُس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
تمہیں بس بیٹنگ کرنی تھی؟
محسن نے جوس پیتے پیتے اثبات میں سر ہلا دیا۔
سوہان نے ہنستے ہوئے کہا،
چلو… اب تم میرا شکریہ ادا کرو۔
محسن نے اسٹرا سے منہ ہٹایا اور حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟
کیونکہ میں نے تمہیں بیٹ جو دلوایا۔
محسن نے فوراً مسکرا کر کہا،
ہاں… تھینک یو۔
سوہان ہنس پڑا۔
ویسے جو تم کر کے آئے ہو نا… اِس کے بعد وہ لوگ پھر کل تمہیں بیٹ نہیں دیں گے۔
محسن نے بالکل بےفکری سے کندھے اچکا دیے۔
کل کی کل دیکھی جائے گی۔
پھر جوس کا ایک گھونٹ بھرا اور بڑے اطمینان سے بولا،
میں کل بھی اللہ سے بیٹ مانگ لوں گا۔
سوہان چند لمحے اُسے دیکھتا رہا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے چہرے پر آ گئی۔
تم روز آتے ہو یہاں؟
محسن نے فوراً سر ہلایا۔
ہاں۔ میرا گھر پاس ہی ہے۔ میں آپو کے ساتھ روزانہ یہاں آتا ہوں۔
پھر اُس نے انگلیوں پر وقت گنتے ہوئے بتایا،
لیکن صرف ایک گھنٹہ… چھ سے سات۔
سوہان نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
محسن نے ایسے جواب دیا جیسے یہ تو بالکل واضح سی بات ہو۔
کیونکہ اُس کے بعد مغرب ہو جاتی ہے۔ پھر آپو مغرب کے بعد گھر سے نہیں نکلتی۔
سوہان نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
اچھا…
پھر اُس کی نظر بےاختیار پارک میں ادھر اُدھر گھومنے لگی۔
کہاں ہے تمہاری آپو؟
محسن نے فوراً دور ایک بنچ کی طرف اشارہ کیا۔
ارے… وہ رہی۔
سوہان نے اُس سمت دیکھا۔
پارک کے نسبتاً پُرسکون کونے میں ایک بنچ پر دو لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ ایک نے گلابی رنگ کا خوبصورت سا حجاب کیا ہوا تھا، جبکہ دوسری نے چہرے کو سیاہ نقاب سے ڈھانپ رکھا تھا۔ دونوں آپس میں کسی بات میں مصروف تھیں اور کبھی کبھار ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیتی تھیں۔
سوہان نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا،
کون سی والی؟
محسن نے فوراً جواب دیا،
دونوں آپو ہیں میری۔
پھر ایک لمحے کو سوچ کر گلابی حجاب والی لڑکی کی طرف انگلی کی۔
لیکن ایک آپو کی دوست ہے… وہ والی۔
سوہان کی نظریں دوبارہ اُس لڑکی پر جا ٹھہریں۔
محسن نے جوس کا ڈبہ اپنی گود میں رکھتے ہوئے بتایا،
آپو مجھے روز یہاں لے کر آتی ہے۔ پھر پتا نہیں کیوں آج نہیں لے کر آ رہی تھی۔ میں زبردستی لے کر آیا۔
سوہان نے شرارت سے اُس کی طرف دیکھا۔
کیسے؟ اللہ سے مانگ کر؟
محسن نے فوراً منہ بنایا۔
ارے نہیں! رو کر۔
سوہان بےاختیار ہنس پڑا۔
محسن نے اُسے گھورا، پھر اپنی بات جاری رکھی۔
آپ بھی نا… پھر ہسنے لگے۔۔۔
پھر اُس نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا،
دیکھیں، پھر آپو کہتی ہیں کہ تمہیں کوئی بھی چیز چاہیے ہو تو پہلے ابّو، امّی یا مجھ سے مانگا کرو۔ اگر ہم وہ چیز تمہیں نہ دیں تو اللہ سے مانگو۔
سوہان کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ مدھم پڑ گئی۔ وہ اب پوری توجہ سے محسن کی بات سن رہا تھا۔
محسن نے معصومیت سے کہا،
اِس کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں مانگنا۔
سوہان نے چند لمحے سوچا، پھر پوچھا،
اچھا… اور اگر اللہ تمہیں کوئی چیز تمہارے مانگنے کے بعد بھی نہ دے تو؟
محسن نے فوراً جواب نہیں دیا۔
اُس نے جوس کا ڈبہ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور چند لمحے سامنے کھیلتے بچوں کو دیکھتا رہا۔ پھر بالکل سادگی سے بولا،
تو آپو کہتی ہیں وہ چیز ہمارے لیے نقصان دہ ہو گی۔
سوہان نے ہلکا سا سر ہلایا۔
لیکن میں ایسا ابھی نہیں سوچتا۔
سوہان نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
محسن نے اُس کی طرف دیکھا۔
کیونکہ میں اُس بارے میں تب سوچوں گا نا… جب اللہ مجھے کوئی چیز نہیں دے گا۔
پھر اُس کے چہرے پر ایسی معصوم سی مسکراہٹ آئی جیسے اُسے اپنے جواب میں کوئی شک ہی نہ ہو۔
ابھی تو وہ مجھے سب چیزیں دیتا ہے۔
سوہان چند لمحوں تک خاموش اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
اچھا… سچ میں؟
محسن نے سر ہلا دیا۔
ہاں نا… آپ بھی مانگ کر دیکھو۔
سوہان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیا مانگوں؟
محسن نے فوراً پوچھا،
آپ کو اِس وقت کیا چاہیے؟
سوہان نے ایک لمحہ سوچنے کی اداکاری کی، پھر یونہی ہنستے ہوئے بول دیا،
چاکلیٹ۔
محسن فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
چلیں، اب دعا کریں۔
سوہان نے بےاختیار اُس کی طرف دیکھا۔
کیسے کروں؟
محسن نے فوراً اُس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور ہنس پڑا۔
ارے! آپ کو دعا کرنا نہیں آتا؟
پھر اُس نے خود اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دکھائے اور سوہان کے ہاتھ بھی اُسی طرح اوپر کروائے۔
ایسے… دونوں ہاتھ اٹھائیں اور مانگیں۔
سوہان نے بھی اُس کی نقل کرتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا لیے۔
محسن نے فوراً ہدایت دی،
اب بولیں… یا اللہ۔
یا اللہ۔ سوہان نے اُس کے پیچھے دہرایا۔
محسن نے فوراً کہا، میں تو آپ کا فیورٹ ہوں نا۔
سوہان کی بھنویں حیرت سے اوپر اٹھ گئیں۔
ایئن؟
محسن نے جیسے کوئی بہت ضروری بات سمجھاتے ہوئے کہا،
ارے بولیں نا! اللہ خوش ہوتا ہے۔
سوہان نے ہنسی دباتے ہوئے دوبارہ ہاتھ اٹھائے۔
اچھا… اچھا۔
یا اللہ… میں تو آپ کا فیورٹ ہوں نا۔
محسن فوراً خوش ہو گیا۔
آپ بھی میرے بہت فیورٹ ہو۔
سوہان نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھا۔
ایئن ؟ مکھن لگا رہے ہو؟
محسن نے فوراً معصومیت سے کہا،
ارے ہاں تو لگانا پڑتا ہے۔
سوہان ہنس پڑا۔
محسن نے فوراً اپنی آپو کی بات دہرائی،
آپو کہتی ہیں جتنا پیار سے مانگو گے، اتنا پیار سے اللہ دے گا۔
پھر اچانک اُس نے سوہان سے پوچھا،
آپ نے کسی سے کچھ مانگا نہیں کیا؟
سوہان نے فوراً کہا،
مانگا ہے نا۔
محسن نے سر ہلایا۔
ہاں تو پھر..
وہ ذرا سنجیدہ ہوا اور بولا،
ایسا مانگا ہوگا…
پھر اُس نے بڑے لوگوں کی نقل کرتے ہوئے ہاتھ آگے کیا۔
ابّو! لاؤ مجھے پیسے دو۔
پھر ابو کی طرف سے آئے گا سیدھا تھپڑ۔۔۔
اُس نے فوراً خود ہی فرضی تھپڑ کا اشارہ کیا۔
سوہان کا قہقہہ نکل گیا۔
محسن بھی ہنسنے لگا۔
پھر اُس نے دوبارہ دونوں ہاتھ اٹھا لیے۔
چلیں… دعا مانگیں۔
سوہان نے بھی ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا،
ہاں، آگے۔
محسن نے آنکھیں بند کیں اور بڑے دھیان سے بولنے لگا،
آپ نہیں دو گے تو مجھے دے گا کون؟ آپ کے سوا میرا ہے ہی کون؟
سوہان نے وہی الفاظ دہراتے ہوئے کہا،
آپ نہیں دو گے تو مجھے دے گا کون؟ آپ کے سوا میرا ہے ہی کون؟
محسن نے فوراً اگلی بات کہی،
میرا چاکلیٹ کھانے کا بہت من ہے۔
سوہان نے بھی دہرایا،
میرا چاکلیٹ کھانے کا بہت من ہے۔
محسن نے فوراً کہا،
آپ دلا دو نا۔
سوہان نے بھی اُس کی نقل کی۔
آپ دلا دو نا۔
محسن نے مزید سنجیدگی سے کہا،
مجھے کوئی چاکلیٹ نہیں دے رہا… اور میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔
سوہان نے فوراً آنکھیں کھول کر کہا،
لیکن میرے پاس تو پیسے ہیں؟
محسن نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر ماتھے پر ہاتھ مارنے والے انداز میں بولا،
ایئن؟ تو جا کر خریدیں نا! دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟
سوہان نے ہنستے ہوئے پوچھا،
کیوں؟ ایسی دعا نہیں مانگ سکتے؟
محسن نے گہری سانس لی۔
اُفف اوہ… پھر سر ہلاتے ہوئے بولا،
آپ کی آپو نہیں ہے نا!
سوہان نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
نہیں نا۔
محسن نے ایسے سر ہلایا جیسے اب اُسے سب سمجھ آ گیا ہو۔
تبھی تو آپ کو کچھ پتا ہی نہیں ہے۔
سوہان خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
محسن نے اپنی چھوٹی سی انگلی اٹھا کر سمجھانا شروع کیا۔
جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہوتی… جسے آپ چاہ کر بھی نہیں لے سکتے، اُس چیز کے لیے دعا کرتے ہیں۔
پھر اُس نے اپنے آج کے واقعے کی طرف اشارہ کیا۔
جیسے مجھے بیٹ چاہیے تھا۔ میں نے مانگا، کسی نے نہیں دیا۔
ایک لمحے کے لیے اُس کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
آپو کے پاس بھی میں نہیں جا سکتا تھا۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا،
میں بےبس ہو گیا تھا۔
سوہان کی مسکراہٹ بھی اب کہیں غائب ہو چکی تھی۔ وہ پوری توجہ سے محسن کی بات سن رہا تھا۔
محسن نے آخری بات بہت سادگی سے کہی،
جب انسان بےبس ہو جاتا ہے نا… تو دعا کرتا ہے۔
سوہان چند لمحے خاموش رہا۔
پھر آہستہ سے سر ہلایا۔
اوہ… اچھا، اچھا۔
محسن نے بڑے اطمینان سے کہا،
اب جائیں، چاکلیٹ خریدنے۔
سوہان نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں…
پھر وہ اُٹھ کر قریب ہی موجود دکان کی طرف بڑھ گیا۔ اُس کی جیب میں کچھ پاکستانی کرنسی موجود تھی۔ دکان پر پہنچ کر اُس نے دو چاکلیٹ خریدیں اور واپس پلٹ آیا۔
وہ ابھی چاکلیٹ ہاتھ میں لیے مڑا ہی تھا کہ اُس نے دیکھا، محسن اُس کے پیچھے کھڑا تھا۔
سوہان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
تم یہاں کیوں آ گئے؟
محسن نے معصومیت سے جواب دیا،
ارے، میں آپ کو اللہ حافظ بولنے آیا ہوں۔
سوہان نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
محسن نے بڑے اطمینان سے کہا،
کیونکہ اب میں گھر جا رہا ہوں۔
سوہان نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
اتنی جلدی؟
محسن فوراً بولا،
جلدی نہیں… سات بج گئے ہیں۔ آپ ہی دیر سے آئے ہیں یہاں۔
سوہان نے بھی وقت دیکھا تو ہنس دیا۔
اچھا، اچھا…
پھر اُس نے ہاتھ میں موجود دونوں چاکلیٹ میں سے ایک محسن کی طرف بڑھا دی۔
یہ لو۔
محسن کے چہرے پر فوراً خوشی پھیل گئی۔ اُس نے مسکراتے ہوئے چاکلیٹ لے لی۔
ابھی وہ چاکلیٹ کو غور سے دیکھ ہی رہا تھا کہ اتنے میں وہی لڑکی اُن دونوں کی طرف آ گئی۔ قریب پہنچ کر اُس نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا،
سوری… لیکن یہ چاکلیٹ نہیں کھاتا۔
پھر اُس نے محسن کی طرف دیکھا اور قدرے سختی سے بولی، واپس کرو۔
سوہان فوراً چونک گیا۔
ارے، ارے… لیکن کیوں؟
لڑکی نے چاکلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔
بس… آپ یہ واپس لے لیں۔
سوہان نے فوراً وضاحت کی۔
ارے، ارے! آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ میں نے اِس میں کچھ نہیں ملایا۔ ابھی ابھی یہیں دکان سے خریدی ہے۔
پھر نہ جانے کیوں اُس نے اپنے ہاتھ میں موجود دوسرے چاکلیٹ کو دیکھا۔
دل ہی دل میں اُس بےزبان چاکلیٹ سے معذرت کی،
سوری…
پھر اُس نے وہ چاکلیٹ بھی لڑکی کی طرف بڑھا دی۔
آپ کو یقین نہیں تو یہ آپ رکھ لیں۔ خود کھا کر دیکھ لیجیے گا۔
لڑکی نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیے۔
نہیں، نہیں…
محسن نے فوراً اپنی بہن کی طرف دیکھا اور بولا،
لے لیں آپو… انکل اچھے ہیں۔
سوہان نے فوراً اُس کی بات کاٹ دی۔
انکل ونکال یہ کیا ہوتا ہے۔۔۔ یہ سب نہیں بولو مجھے۔ میرا نام سوہان ہے۔ سوہان بولو مجھے۔
محسن نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
ایئن؟
سوہان نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔
ہاں۔
پھر اُس نے لڑکی کی طرف دیکھا۔
کیا اب میں دکاندار سے پوچھواؤں؟
لڑکی مزید شرمندہ ہو گئی۔
نہیں، نہیں…
اُس نے چند لمحے سوہان کے ہاتھ میں موجود چاکلیٹ کو دیکھا، پھر آہستہ سے بولی،
آپ نے محسن کو دے دیا نا… میں اِسی میں سے کھا لوں گی۔
پھر اُس نے محسن کا ہاتھ تھاما۔
چلو، محسن۔
محسن جاتے جاتے پلٹا اور سوہان کو دیکھ کر ہاتھ ہلانے لگا۔
سوہان بھی وہیں کھڑا اُسے ہاتھ ہلاتا۔۔
محسن پھر مُڑ گیا۔۔۔ سوہان اُن دونوں کو دیکھتا رہا۔
محسن اپنی بہن سے کچھ کہہ رہا تھا اور وہ بھی اُس سے بات کرتی ہوئی اُسے اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ رہی تھی۔
سوہان کی نظریں دونوں کے دور ہوتے قدموں پر جمی رہیں۔
پھر اچانک اُس کی نظر اپنے ہاتھ میں پکڑی دوسری چاکلیٹ پر پڑی۔
وہ چند لمحے اُسے گھورتا رہا۔
اور پھر منہ بنا کر بڑبڑایا،
ہنہ…
کتنی مشکل سے اپنے بڑے سے دل کو اور بڑا کر کے اُس کی طرف چاکلیٹ بڑھائی تھی… اور وہ!
اُس نے چاکلیٹ کو دیکھتے ہوئے ناک سکیڑی۔
یہ پاکستانی لڑکیاں نا…
ہر چیز میں نہیں… نہیں… نہیں…
پھر اُس نے ایک گہری سانس لی اور خود ہی بڑبڑایا،
ابھی کوئی اُس کے ملک کی لڑکی ہوتی تو فوراً لے لیتی۔
وہ کچھ دیر تک اُسی سمت دیکھتا رہا جہاں محسن اپنی بہن کے ساتھ جا چکا تھا۔
وہ بھی پھر سومین لوگوں کی طرف بڑھ گیا۔۔

+++++++++++++

ہوٹل واپس پہنچتے پہنچتے سب کافی تھک چکے تھے۔ پورے دن کی مصروفیت کے بعد سب کے قدم تیزی سے خود بخود اپنے کمروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔
مگر ہان ووُ کی نظر جیسے ہی لابی میں موجود ونڈو والی میز کی طرف پڑی، اُس کے قدم اچانک دھیمے پڑ گئے۔
وہاں انشا بیٹھی تھی۔
کھڑکی کے شیشے سے باہر کا منظر دیکھتے ہوئے، بالکل اپنے ہی خیالوں میں گم۔
ہان ووُ کی نگاہ اُس پر پڑی تو اُس کے چہرے پر بےاختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ ابھی چند لمحے پہلے تک جو شخص سب سے آگے چل رہا تھا، اب آہستہ آہستہ باقی سب سے پیچھے ہوتا چلا گیا۔
وہ جان بوجھ کر اپنی رفتار کم کرتا رہا۔
بس اتنا چاہتا تھا کہ سب لوگ پہلے اوپر چلے جائیں۔
آخرکار سب لفٹ سے اوپر پہنچے۔ جیسے ہی مینیجر اور باقی سب اپنے اپنے کمروں میں داخل ہوئے اور راہداری میں خاموشی چھا گئی، ہان ووُ نے ایک لمحے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔
پھر وہ فوراً نیچے واپس آ گیا۔
وہ آہستہ آہستہ انشا کی میز کے قریب پہنچا اور اُس کے سامنے جا کر رک گیا۔
ہان ووُ نے مسکرا کر کہا،
ہیلو…
انشا نے سر اٹھا کر اُسے دیکھا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے اپنا سر میز پر ہلکا سا مار دیا۔
اُف! آپ پھر آ گئے… مجھے نہیں کرنی نا آپ سے بات۔
ہان ووُ نے کرسی کھینچ کر اُس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا،
مجھے تو کرنی ہے بات۔ اور یہ تُم جب مُجھے سے ملو گی تب کرو گی۔۔۔؟؟
انشا نے اُسے گھور کر دیکھا۔
ہاں۔۔۔ اور کیوں؟ میرے علاوہ یہاں آپ سے بات کرنے والا کوئی نہیں؟
ہان ووُ نے بغیر کسی جھجک کے جواب دیا،
نہیں نا…
انشا نے فوراً کہا،
جھوٹ بولنے سے پہلے ذرا بھی نہیں سوچا۔
ہان ووُ نے بالکل سادگی سے جواب دیا،
نہیں…
انشا نے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر پوچھا،
ابھی آپ باہر سے آئے ہو نا؟
ہان ووُ نے سر ہلایا۔
ہاں…
انشا نے کھڑکی کی طرف ایک نظر ڈالی اور پھر اُس سے کہا۔۔
تو جائیے… آرام کیجیے۔ باہر سے تھک کر آئے ہیں، ریلیکس کیجیے جا کر روم میں۔
ہان ووُ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر نہایت سادگی سے بولا،
مجھے تمارے ساتھ ہی آرام ہے۔
انشا کی آنکھیں فوراََ حیرت سے پھیل گئی۔۔۔
ہیں؟
ہان ووُ نے فوراً بات بدل دی۔
چھوڑو… یہ بتاؤ یہاں کیا کر رہی ہو؟ اکیلی بیٹھی؟
انشا نے اپنی نظریں دوبارہ کھڑکی کی طرف کر لیں۔
کچھ نہیں… سوچ رہی تھی۔
ہان ووُ نے فوراً پوچھا،
کیا؟
انشا کچھ لمحے خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے اُس کی طرف دیکھ کر بولی،
اگر آپ اداس ہوتے تو آپ کہاں جاتے ہیں؟
ہان ووُ نے ایک لمحہ سوچے بغیر جواب دیا،
سي سائڈ پر۔۔
انشا نے فوراً کہا،
مجھے بھی جانا ہے۔
ہان ووُ کی آنکھوں میں دلچسپی جاگی۔
کہاں؟ سی سائڈ ؟
انشا نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں۔
ہان ووُ نے حیرت سے پوچھا،
پھر؟
انشا خاموش ہو گئی۔
وہ بس سامنے دیکھتی رہی، جیسے ابھی اپنے ذہن میں موجود کسی خیال کو الفاظ دینے کی کوشش کر رہی ہو۔
ہان ووُ نے اُس کی خاموشی کو دیکھا، جیسے اُس کی پریشانی فوراََ سمجھ گیا۔۔ اور بولا۔۔۔
اچھا چلو میرے ساتھ، جہاں بولو گی وہاں لے جاؤں گا۔
انشا نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر بولی،
ٹھیک ہے لیکن آج نہیں، کل… صبح دس بجے ہم یہاں ہوٹل سے نکلیں گے۔ پہلے میری پسندیدہ جگہ پر جائیں گے، پھر آپ کی سي سائڈ پر…
یہ سنتے ہی ہان ووُ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی… شاید آج وہ واقعی اپنی تقدیر کی خوش نصیبی دیکھ رہا تھا۔
اُس نے فوراً کہا،
ٹھیک ہے، ڈن کرو۔
انشا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
اوکے۔۔۔
پھر وہ کرسی سے اٹھی اور وہاں سے جانے لگی۔
ہان ووُ نے فوراً پوچھا،
کہاں جا رہی ہو؟
انشا نے جاتے جاتے پلٹ کر جواب دیا،
آرام کرنے… آپ بھی آرام کر لیجیے۔
ہان ووُ بھی فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
میرے ساتھ ہی چلو پھر۔
انشا نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر سادہ سے انداز میں کہا،
آجائیں۔
دونوں ایک ساتھ لفٹ کی طرف بڑھ گئے۔
لفٹ کے دروازے بند ہوئے تو دونوں خاموش کھڑے رہے۔ پھر اوپر پہنچ کر ایک ہی راہداری میں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھنے لگے۔
کہنے کو تو یہ بہت معمولی سی بات تھی۔
دو لوگ ایک ساتھ لفٹ میں گئے تھے، ایک ہی راہداری میں چلے تھے، پھر اپنے اپنے کمروں کی طرف جانے والے تھے۔
مگر ہان ووُ کے لیے…
یہ معمولی سی بات ہرگز معمولی نہیں تھی۔
کل تک جس لڑکی کے ایک لمحے کے دیدار کے لیے وہ گھنٹوں اُس کے دروازے کے باہر کھڑا رہ سکتا تھا، آج وہی لڑکی خود اُس کے ساتھ اگلی صبح گھومنے کا وعدہ کر کے اُس کے ساتھ چل رہی تھی۔
اور ہان ووُ کے دل میں اس وقت جو خوشی تھی…
وہ شاید کسی کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

++++++++++++

اگلی صبح ہوتے ہی ہان ووُ نے کسی سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اُسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ اگر وہ رین یون، سومین یا گروپ کے کسی بھی دوسرے ممبر کو اپنی بات بتائے گا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ الٹا سب اُسے ساتھ چلانے کی ضد شروع کر دیں گے۔
اسی لیے وہ سیدھا مینیجر کے پاس پہنچ گیا۔
وہاں جا کر اُس نے بڑی سنجیدگی سے اپنی طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کیا۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اُس کی طبیعت بالکل ٹھیک تھی، بس وہ آج انشا کے ساتھ باہر جانا چاہتا تھا۔
ہان ووُ نے مینیجر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ اُس کی طبیعت ابھی زیادہ خراب نہیں ہے، لیکن اگر وہ آج باہر گھومنے گیا تو شاید واقعی خراب ہو جائے۔
پھر اُس نے خاص طور پر مینیجر سے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ باقی ممبرز کو اس بارے میں نہیں بتانا چاہتا۔
وہ ایک تو بلاوجہ پریشان ہو جاتے ہیں، پھر زبردستی اُسے بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اور اگر وہاں جا کر میں آرام سے بیٹھنا چاہوں تو بیٹھنے بھی نہیں دیتے۔
مینیجر ہان ووُ کی یہ بات سن کر زیادہ حیران نہیں ہوئے۔
وہ جانتے تھے کہ ہان ووُ کو ویسے بھی زیادہ گھومنا پھرنا پسند نہیں تھا۔ کوریا میں بھی جب کبھی ٹرپ، شوٹنگ یا کنسرٹ کے سلسلے میں زیادہ مصروف دن گزرتا، تو ہان ووُ کا یہی حال ہوتا تھا۔ ہر چیز سے بیزار، خاموش سا، اور آخر میں سر درد کی شکایت۔
اسی لیے مینیجر کو اُس کی بات میں کوئی خاص غیرمعمولی چیز محسوس نہیں ہوئی۔
اُنہوں نے سوچا کہ اگر ہان ووُ واقعی آرام کرنا چاہتا ہے تو اُسے ہوٹل میں چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
ویسے بھی وہ باقی سب کو اچھی طرح جانتے تھے۔
تائیجون، سومین اور سوہان جیسے شرارتی ممبرز کے ساتھ اگر ہان ووُ باہر چلا جاتا تو اُس کا آرام کرنا تقریباً ناممکن ہی تھا۔
اور ہان ووُ…
وہ تو پورے گروپ کا سب سے زیادہ سمجھدار اور ذمہ دار لڑکا تھا۔
آج تک اُس نے نہ کوئی اصول توڑا تھا، نہ کسی مینیجر کے فیصلے کے خلاف جانے کی کوشش کی تھی۔ مینیجر جو کہتے، ہان ووُ عموماً بس سر ہلا کر کہتا،
صحیح ہے، ہاں جی… اوکے۔
اُس کی یہی عادت مینیجر کے اعتماد کی سب سے بڑی وجہ تھی۔
اگر یہی بات کسی اور ممبر نے آ کر کہی ہوتی تو شاید مینیجر کو فوراً شک ہو جاتا۔
لیکن ہان ووُ تھا۔
اور اس سے بھی بڑھ کر اچھی بات یہ تھی کہ وہ اپنا مسئلہ لے کر خود مینیجر کے پاس آیا تھا۔
ورنہ جے کیونگ اور تائیجون کا تو طریقہ ہی الگ تھا۔ پہلے مسئلہ کھڑا کرتے، پھر جا کر مینیجر کو بتاتے۔۔۔
اور یہی بات مینیجر کو اُس کی بات ماننے پر مجبور کر گئی۔
آخرکار ہان ووُ کو ہوٹل میں رہنے کی اجازت مل گئی۔
ہان ووُ کو خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ کام اتنی آسانی سے ہو جائے گا۔
اُسے لگا تھا کہ مینیجر کئی سوال کریں گے، شاید منع کر دیں گے، یا کم از کم باقی کِسی ایک ممبرز کو ساتھ چھوڑنے کا کہیں گے۔
مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
اجازت مل گئی تھی۔
اور اب سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اگر مینیجر خود کہہ دیں کہ ہان ووُ ہوٹل میں رہے گا، تو گروپ کا کوئی ممبر بھی اُسے زبردستی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا۔
ہان ووُ نے دل ہی دل میں سکون کا سانس لیا۔
اب بس ناشتہ ختم ہونے کا انتظار تھا۔
کچھ ہی دیر بعد سب ناشتہ کرنے کے لیے میز کے گرد جمع تھے۔
جب ہان ووُ نے بتایا کہ وہ آج اُن کے ساتھ نہیں جا رہا تو سب نے فوراً اُسے منانے کی کوشش شروع کر دی۔
سومین نے اصرار کیا۔
سوہان نے بھی اُسے ساتھ چلنے کو کہا۔
تائیجون نے بھی اپنی طرف سے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
مگر ہان ووُ خاموشی سے سب کی باتیں سنتا رہا۔
آخرکار مینیجر نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ہان ووُ آج کہیں نہیں جائے گا۔
وہ نہیں جائے گا تو نہیں جائے گا۔
اس کے بعد کسی کے پاس بحث کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
کیونکہ بگ ہٹ کے لیے سب سے اوپر ایک ہی چیز تھی…
اُن کے اسٹارز کا فٹ اور صحت مند رہنا۔
اگر آرٹسٹ ہی فٹ نہیں رہے گا تو بارہ بارہ گھنٹے کے کنسرٹس کیسے کرے گا؟
اسی لیے چاہے کوئی ممبر کتنا ہی اصرار کرے، صحت اور آرام کے معاملے میں مینیجر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔
اور آج ہان ووُ کے لیے یہی اصول اُس کے سب سے بڑے فائدے میں تبدیل ہو چکا تھا۔
وہ خاموشی سے بیٹھا ناشتہ کرتا رہا…
مگر اُس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات چل رہی تھی۔
دس بجے۔ انشا کے ساتھ۔
اور اِس خیال کے آتے ہی اُس کے ہونٹوں پر بےاختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اس سب کے بعد وہ واقعی اپنے آپکو دنیا کا سب سے لکی انسان کہہ سکتا تھا۔۔۔

+++++++++++++++

سب لوگوں کے نکلنے کے بعد ہان ووُ نیچے ہی رک گیا۔
ٹھیک دس بجے وہ تیار ہو کر انشا کا انتظار کر رہا تھا۔ کبھی لابی میں اِدھر اُدھر ٹہلتا، کبھی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو جاتا اور کبھی بےزاری کا دکھاوا کرتے ہوئے کسی میز پر بیٹھ جاتا۔
حقیقت میں اُس کی نظریں بار بار لفٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
پھر اچانک لفٹ کا دروازہ کھلا۔
انشا سامنے آتی دکھائی دی۔
آج وہ سیاہ عبایا میں تھی، جس کے ساتھ ہلکے نیلے رنگ کا حجاب اور نقاب تھا۔
وہ سیدھی ہان ووُ کے پاس آ کر رکی۔
چلیں۔
ہان ووُ نے اُسے دیکھا تو چند لمحوں کے لیے وہیں کھڑا رہ گیا۔ اُس کی نظریں بےاختیار انشا کے سر سے پاؤں تک گئیں، جیسے وہ اُسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔
انشا نے اُس کی حیرت محسوس کی تو پوچھا،
کیا ہوا؟
ہان ووُ نے قدرے حیرانی سے کہا،
تم اِس میں تو کافی چینج لگ رہی… میں تمہیں پہچان بھی نہیں پا رہا ہوں۔
انشا نے حیرت سے پوچھا،
چینج مطلب؟
ہان ووُ نے جیسے مناسب لفظ ڈھونڈتے ہوئے کہا،
مطلب… بڑی بڑی۔
انشا اُس کی بات سمجھ تو نہ سکی، بس ہلکا سا مسکرا دی۔
چلیں۔
ہان ووُ نے اُسے ایک نظر پھر دیکھا۔
ایسے جاؤ گی؟
انشا نے سادگی سے جواب دیا،
ہاں، اور کیسے؟
ہان ووُ نے کندھے اچکائے۔
چلو۔
دونوں ہوٹل سے باہر نکل آئے۔ چند قدم چلنے کے بعد ہان ووُ نے پوچھا،
تم اپنی جگہ کا نام تو بتاؤ۔
انشا نے اُس کی طرف دیکھے بغیر کہا،
آپ بس میرے ساتھ ساتھ چلے۔ میں نے کیب والے کو ایڈریس سمجھا دیا ہے۔
ہان ووُ نے سر ہلا دیا۔
یہ بھی ٹھیک ہے۔
پھر دونوں سڑک کے کنارے کھڑی ایک کیب میں جا بیٹھے۔
ہان ووُ نے دروازہ بند کیا اور ایک نظر انشا کی طرف دیکھا۔
آج کا دن اُس کے لیے پہلے ہی اُس کی توقع سے کہیں زیادہ خاص شروع ہو چکا تھا۔
دور… بہت دور۔
گاڑی شہر کی مصروف سڑکوں سے نکل کر نسبتاً خاموش راستوں پر آ چکی تھی۔ کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھیں تو کبھی چھوٹی چھوٹی دکانیں پیچھے رہ جاتیں، کبھی سنسان سڑک کے دونوں طرف درختوں کی قطاریں نظر آتیں۔ ہان ووُ کبھی باہر دیکھتا اور کبھی خاموشی سے انشا کی طرف۔
کچھ دیر تک دونوں کے درمیان ہلکی پھلکی باتیں چلتی رہیں۔
انشا نے اچانک اپنے ابائے کی طرف دیکھا، پھر ہان ووُ سے پوچھا۔
میں ابائے میں اچھی نہیں لگتی کیا؟
ہان ووُ نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
نہیں، اچھی لگ رہی ہو… تُم کُچھ بھی پہنو تُم پر سب اچھا لگتا ہے، وہ تو میں نے ویسے ہی کہا کہ کافی چینج لگ رہی ہو۔
انشا نے بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا۔
چند لمحوں بعد اس نے پھر پوچھا۔
آپ آج اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں گئے؟
ہان ووُ نے بےساختہ اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا۔
ان کے ساتھ جاتا تو پھر تمہارے ساتھ کیسے جاتا؟
انشا چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر نظریں کھڑکی سے باہر کر لیں۔
مجھے تو لگا تھا آپ آج منع کر دو گے جانے کے لیے۔
کیوں؟
ویسے ہی… میرا دل نے کہا۔
ہان ووُ ہلکا سا مسکرایا۔
ہم جا کہاں رہے ہیں؟
پتا چل جائے گا۔
ہان ووُ نے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ وہ بس خاموشی سے سامنے دیکھتا رہا، جبکہ انشا بھی کھڑکی کے باہر گزرتے راستوں کو دیکھتی رہی۔
کافی دیر بعد گاڑی کی رفتار آہستہ ہوئی۔
پھر چند لمحوں بعد ڈرائیور نے گاڑی ایک جگہ روک دی۔
ہان ووُ نے باہر دیکھا۔
سامنے ایک خاموش سا قبرستان پھیلا ہوا تھا۔
چاروں طرف عجیب سی خاموشی تھی۔ دور دور تک قبریں نظر آ رہی تھیں، جن کے درمیان پتلی پتلی راہیں بنی ہوئی تھیں۔ شہر کا شور جیسے یہاں آ کر کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
ہان ووُ نے پہلے قبرستان کو دیکھا، پھر آہستہ سے انشا کی طرف رخ کیا۔
اس کے چہرے پر صاف حیرت تھی۔
اسے واقعی یقین نہیں آ رہا تھا۔
وہی انشا… جو ہر وقت ہنستی رہتی تھی۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسکرا دیتی تھی۔
جس کے چہرے پر جیسے اداسی ٹھہرتی ہی نہیں تھی…
اُس لڑکی کی پسندیدہ جگہ ایک قبرستان تھی؟
ہان ووُ کچھ لمحے اسے خاموشی سے دیکھتا رہا، جیسے اس کے سامنے بیٹھی لڑکی کو پہلی بار سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
انشا نے اس کی حیرت محسوس کی، مگر کچھ نہیں کہا۔
آپ چلو گے میرے ساتھ اندر؟
انشا نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے ہان وو کی طرف دیکھا۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر مختصر سا جواب دیا۔
ہاں۔۔۔
دونوں گاڑی سے اترے۔
قبرستان میں داخل ہوتے ہی شہر کا شور جیسے پیچھے رہ گیا۔ ہوا میں مٹی کی نمی گھلی ہوئی تھی اور کہیں کہیں قبروں کے درمیان اگے ہوئے گھاس کے تنکے ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے۔
انشا خاموشی سے آگے بڑھتی رہی۔
ہان وو اس کے پیچھے چلتا رہا۔
کچھ فاصلے پر جا کر انشا اچانک رک گئی۔
اس نے سامنے ایک قبر کو دیکھا، پھر آہستہ سے اس کے پاس بیٹھ گئی۔
ہان وو بھی وہیں رک گیا۔
انشا نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
آنکھیں بند کیں۔ اور دعا کرنے لگی۔
ہان وو کی نظریں بےاختیار اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
اس نے انشا کو ہمیشہ ہنستے، چھیڑتے، باتوں میں الجھاتے دیکھا تھا۔
مگر اس وقت اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
پھر ہان وو کے دل میں ایک انجانا سا خوف ابھرا۔
کہیں وہ رو نہ دے۔ اور اگر وہ رو دی…
تو وہ خود کو کیسے سنبھالے گا؟
وہ اُسے روتا کیسے دیکھ پائے گا۔۔؟؟
ہان وو کی نظریں انشا کے چہرے پر ہی ٹیکتی رہی۔۔
اور دل تیز تیز دھڑکا رہا تھا۔۔۔
مگر انشا نہیں روئی۔
دعا ختم کرنے کے بعد اس نے اپنے آنسوؤں کو آنکھوں تک آنے ہی نہیں دیا۔
وہ اٹھی اور اپنے ساتھ لائے ہوئے پھول نکالنے لگی۔
ایک پھول پہلی قبر پر ڈالا۔
پھر دوسرے پر۔ پھر تیسرے پر۔ اور پھر چوتھے پر۔
ہان وو کی نظریں ان قبروں کے درمیان گھومنے لگیں۔
چار قبریں۔
اس کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
یہ سب… کون ہیں؟
انشا نے کچھ لمحے قبروں کو دیکھا۔
پھر ہاتھ کے اشارے سے ایک ایک قبر کی طرف اشارہ کیا۔
ماما… پاپا… بہن… اور بھائی۔
ہان وو کے چہرے سے بےاختیار سنجیدگی جھلکنے لگی۔
تمہاری پوری فیملی؟
انشا نے سر ہلا دیا۔
ہاں۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے بہت سادگی سے کہا
ایک حادثے کی وجہ سے۔
بس اتنا ہی۔ نہ کوئی شکوہ۔ نہ کوئی لمبی داستان۔
نہ قسمت سے سوال۔
ہان وو نے اسے غور سے دیکھا۔
کچھ لوگ اپنے دکھ اتنے عرصے تک اپنے اندر رکھتے ہیں کہ آخرکار انہیں بیان کرنا بھی غیرضروری لگنے لگتا ہے۔
اور تم؟ اس کے منہ سے بےاختیار نکلا۔
انشا نے اس کی طرف دیکھا۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آگئی۔
میرے لیے اللہ نے زندگی لکھی تھی… اسی لیے میں بچ گئی۔
ہان وو چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
وہ جملہ بہت سادہ تھا۔
مگر نہ جانے کیوں اس کے دل میں اتر گیا۔
میرے لیے اللہ نے زندگی لکھی تھی۔
ایسے جیسے انشا نے اپنی زندگی کو حادثے کے بعد دوبارہ حاصل نہیں کیا تھا…
بلکہ اسے ایک امانت سمجھ کر قبول کیا تھا۔
ہان وو نے نظریں چرا لیں۔
تو اب تم کس کے ساتھ رہتی ہو؟
انشا نے پھولوں کی ٹوکری ایک طرف رکھتے ہوئے جواب دیا
ماموں مامی کے ساتھ۔
پھر ذرا رک کر بولی
اور وہ دونوں میرے بہن بھائی ہیں۔ ماموں کے بچے ہیں۔
اچھا… ہان وو نے کچھ سوچا، پھر سوال کیا
تو پھر ہوٹل میں کیوں رہتی ہو؟
انشا نے اس کی طرف دیکھا، جیسے یہ بات بالکل معمولی ہو۔
مامی بھی جاب کرتی ہیں۔ جب ان کی نائٹ شفٹ ہوتی ہے تو ہم ہوٹل میں رہتے ہیں۔
ہان وو نے حیرت سے پوچھا
ہوٹل میں؟
ہاں۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
کیونکہ وہ ہوٹل میرے ماموں کا ہے، اور وہاں کے سب لوگ ہمیں جانتے ہیں۔
وہ قبرستان کے خاموش راستے کی طرف دیکھنے لگی۔
گھر سے زیادہ ہوٹل ہمارے لیے محفوظ ہے۔
پھر اس نے بہت سادہ انداز میں کہا
مسافروں کے لیے وہ ہوٹل ہے… وہ ہلکا سا مسکرائی۔
مگر ہمارے لیے تو ہمارا گھر ہے۔
ہان وو کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
پھر اسے کل کی رات یاد آگئی۔
اچھا۔۔۔
اس نے آہستہ سے پوچھا،
تو کل تم اپنے والدین کو یاد کر رہی تھیں؟
انشا نے سر ہلا دیا۔
ہاں
تو کل ہی یہاں آجاتیں۔
انشا نے فوراً اسے دیکھا۔
کس کے ساتھ آتی؟
ہان وو خاموش ہوگیا۔
انشا نے ایک گہری سانس لی۔
اصل میں ہمارے ہاں لڑکیوں کا قبرستان آنا منع ہے نا۔
تو ماموں نہ ہی مجھے آنے دیتے۔ اور نہ ہی خود آتے۔
ہان وو نے حیرت سے اسے دیکھا۔
تو اسی لیے تم میرے ساتھ آئی ہو؟
ہاں ورنہ ابھی اتنے اچھے دن نہیں آئے آپکے……جو میں آپ کے ساتھ گھومتی پھروں۔
ہان وو کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی۔
مگر اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔
میں کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھاتا۔
اس کی آواز میں پھر وہی سنجیدگی واپس آگئی۔
تمہارا کام ہوگیا نا؟
وہ گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
چلو، اب واپس ہوٹل چلتے ہیں۔
انشا نے اسے چند لمحے دیکھا۔ پھر آنکھیں ذرا سی سکیڑیں۔
اتنا اچھا انسان بننے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو…
میں جانتی ہوں۔
ہان وو نے ابرو اٹھائے۔ کیا جانتی ہو؟
انشا نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا۔
یہی کہ آپ پورے کے پورے پتھر کے انسان ہیں۔ تبھی تو ہر وقت وہ یہ کہتے ہوئے ہان ووُ کی نقل اتارنے لگی۔ چہرے پر مکمل سنجیدگی طاری کی، جسم کو بالکل سیدھا کیا اور اسی کی طرح بےتاثر انداز میں کھڑی ہو گئی۔
ایسے رہتے ہیں آپ…
پھر ذرا گردن اکڑائی۔
بالکل مسٹر ول لگتے ہیں۔۔۔
انشا کی اسی حرکت پر ہان وو کو پِھر ہنسی آگئی۔۔۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ بہت ہلکی تھی۔
اب آپ مجھے یہاں لے کر آئے ہیں۔ میرا کام ہوگیا ہے… تو اب میں آپ کو ایک چانس دیتی ہوں۔
کہ آپ مجھے جہاں چاہیں لے جا سکتے ہیں۔
ہان وو کے ہونٹوں پر معنی خیز سی مسکراہٹ آئی۔
جہاں چاہوں… وہاں لے جاؤں؟
انشا اس کے لہجے میں چھپی بات سمجھ نہ سکی۔
وہ بےفکری سے بولی
ہاں۔ پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
آپ سی سائڈ جانا چاہتے ہیں نا؟
ہان وو نے اسے دیکھا۔ ہاں۔۔
انشا نے فوراً کہا تو پھر چلیں۔
ہان وو نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔
دونوں واپس گاڑی میں آ بیٹھے۔
انشا نے دروازہ بند کیا اور سیٹ سے ٹیک لگا لی۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی قبرستان کی خاموش حدود سے نکل کر شہر کی روشن سڑکوں پر آ گئی۔
ہان ووُ خاموشی سے انشا کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس کے ذہن میں ابھی تک انشا کی باتیں گھوم رہی تھیں۔
ایک ہی حادثے میں اُس نے اپنے ماں باپ، بہن اور بھائی… سب کو کھو دیا تھا۔
اور پھر بھی وہ لڑکی ہر وقت اتنی ہنستی رہتی تھی۔
انشا کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ چہرے پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جیسے زندگی نے اُس سے سب کچھ چھین لینے کے باوجود اُس کے اندر جینے کی خواہش نہیں چھینی تھی۔
تم چاہتی تو اکیلی بھی یہاں آ سکتی تھیں۔
ہان وو کی آواز پر انشا نے اس کی طرف دیکھا۔
نہیں۔ مجھے اکیلے باہر نکلنے سے ڈر لگتا ہے۔
کیوں؟
انشا نے کندھے اچکائے۔
کیوں کہ ڈر لگتا ہے تو لگتا ہے۔
یہ بھی کوئی جواب ہوا؟
میرے لیے تو ہے۔
ہان وو خاموش ہوگیا۔
کچھ لمحوں بعد اس نے ایک اور سوال کیا۔
تمہاری مامی تمہیں پسند نہیں کرتیں نا؟
اس بار انشا نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
نہیں۔
ہان وو کے لہجے میں حیرت تھی۔
کیوں؟
انشا نے چند لمحے سوچا، پھر بہت سادگی سے جواب دیا۔
کیونکہ میں ان کی اولاد تھوڑی ہوں۔
ہان وو نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس جواب میں شکایت نہیں تھی۔ بس ایک حقیقت تھی جسے انشا نے بہت پہلے قبول کر لیا تھا۔
تمہیں پھر رونا آتا ہوگا؟
انشا کی پیشانی پر ہلکی سی شکن آئی۔
نہیں۔ کیوں؟
ہان وو نے اس کی طرف دیکھا۔
کیونکہ وہ تمہیں پسند نہیں کرتیں۔
انشا ہلکا سا مسکرائی۔
دیکھیں، مجھے رونا تب آتا نا جب وہ میری ماما ہوتیں اور مجھ سے محبت نہ کرتیں۔
ہان وو خاموش رہا۔ انشا نے بات جاری رکھی۔
کیونکہ ہر ماں اپنے بچوں سے محبت کرتی ہے۔
اس نے ذرا توقف کیا۔
اور وہ تو مامی ہیں۔ پھر جیسے اس کے لیے بات بالکل واضح ہو، بولی۔
تو وہ میرا خیال رکھتی ہیں، یہی بہت ہے۔
ہان وو نے فوراً پوچھا۔
وہ تمہارا خیال رکھتی ہیں؟
ہاں۔ مہنگے کپڑے، کھانا پینا، گھومنے پھرنے کے پیسے، سب وہی دیتی ہیں مجھے۔
یہ خیال رکھنا نہیں ہوا۔ انشا نے چونک کر اسے دیکھا۔
یہ ضرورتیں پوری کرنا ہوا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر انشا نے بےفکری سے کہا۔
وہی ایک ہی بات ہے۔
نہیں۔
ہان وو کا جواب فوراً آیا۔
کسی کے لیے پیسے خرچ کرنا اور کسی کو یہ احساس دینا کہ وہ تمہارا ہے، دونوں الگ چیزیں ہیں۔
انشا کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ مدھم پڑ گئی۔
آپ مجھ سے یہ سب باتیں کر کے مجھے بدگمان نہ کریں۔
پتا ہے، کہتے ہیں جنہیں آپ سے محبت نہیں ہوتی، انہیں آپ چاہ کر بھی خود سے محبت نہیں کروا سکتے۔
ہان وو نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا۔
انشا کی آواز میں اب پہلے جیسی شوخی نہیں تھی۔
اور جنہیں آپ سے محبت ہوتی ہے، انہیں آپ چاہ کر بھی خود سے نفرت نہیں کروا سکتے۔
گاڑی کے اندر پھر خاموشی پھیل گئی۔
انشا نے اپنی انگلی سے شیشے پر بننے والی دھند کو صاف کیا۔
اسی لیے اگر کوئی آپ سے محبت نہیں کرتا تو وہ کبھی بھی آپ سے محبت نہیں کرے گا۔
اور اگر کرتا ہے تو آپ لاکھ کوشش کرلیں، اس کے دل میں اپنے لیے نفرت نہیں پیدا کر سکتے۔
ہان وو نے کچھ کہنا چاہا، مگر انشا نے پہلے ہی بات مکمل کردی۔
مان لیں مامی کے دل میں میرے لیے دس فیصد جگہ ہے۔
تو وہ دس فیصد نہ کم ہو سکتی ہے، نہ زیادہ۔
میں کچھ بھی کرلوں، اس دس فیصد کو پچاس فیصد نہیں بنا سکتی۔
پھر اس نے ہان وو کی طرف دیکھا۔
اور اگر میں ساری عمر اس بات پر آنسو بہاتی رہوں کہ انہوں نے مجھے باقی نوے فیصد جگہ کیوں نہیں دی تو اس کا کیا فائدہ ہے؟
انشا نے ہان وو کی طرف دیکھا۔
پھر بہت سادگی سے بولی۔
اس سے اچھا ہے میں اپنا وقت خود سے محبت کرنے میں لگا دوں۔
لوگوں سے آپ کو جتنی محبت ملتی ہے، اسے لے کر خوش رہیں۔ انہیں بھی خوش رہنے دیں اور خود بھی خوش رہیں۔ ان سے شکوہ کرکے یا خود سے نفرت کرکے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ہان وو خاموش ہوگیا۔
انشا کے الفاظ بظاہر بہت سادہ تھے، مگر نہ جانے کیوں اس کے اندر کہیں جا کر ٹھہر گئے۔
اچانک اسے سومن یاد آئی۔ سومن…
اُس کا سب سے اچھا دوست جیسے وہ سب سے اوپر رکھتا تھا، وہ کتنی محبت کرتا تھا اس سے۔
اسے ضرورت ہوتی تو ہان وو موجود ہوتا۔ وہ پریشان ہوتا تو ہان وو سنتا۔ اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو ہان وو بغیر پوچھے پوری کرنے کی کوشش کرتا
ہان وو نے سومن کو اپنی طرف سے سو دیا تھا۔
اور بدلے میں… اسے ہمیشہ پچاس ہی ملے تھے۔
کبھی کبھی پچاس بھی نہیں۔
وہ کافی دیر خاموش رہا۔
پھر جیسے اپنے دل میں چھپے ہوئے سوال کو پہلی بار زبان دے رہا ہو، آہستہ سے بولا۔
اگر میں کسی سے سو فیصد محبت کروں، مگر وہ مجھ سے نہ کرے تو؟
انشا نے اس کی طرف دیکھا۔
تو خود کو سمجھا لینا چاہیے۔
ہان وو کی نظریں پھر سڑک پر جم گئیں۔
انشا نے بات جاری رکھی۔
محبت کوئی قرض نہیں ہوتی کہ آپ نے سو دیا ہے تو سامنے والا بھی سو لوٹائے۔
ہان وو کے دل پر جیسے کسی نے ہاتھ رکھ دیا ہو۔
اسے سومن کے ساتھ گزارے ہوئے برس یاد آنے لگے۔
وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جو وہ اس کے لیے کرتا رہا اور جنہیں سومن نے شاید کبھی اس نظر سے دیکھا ہی نہیں۔
اسے ہمیشہ لگتا رہا تھا کہ ایک دن سومن سمجھ جائے گی۔
ایک دن اسے بھی وہی شدت محسوس ہوگی۔
مگر شاید کچھ لوگ ہماری محبت کو سمجھ تو لیتے ہیں… بس اسے واپس نہیں کر سکتے۔
انشا نے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
اور ہاں…
ہر بار محبت کم ملنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا کہ سامنے والا برا ہے۔
ہان وو نے اسے دیکھا۔
کبھی کبھی سامنے والا برا نہیں ہوتا۔ بس اس کے دل میں آپ کے لیے اتنی جگہ نہیں ہوتی جتنی آپ نے اس کے لیے بنا رکھی ہوتی ہے۔
ہان وو کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
پھر اس نے نظریں واپس سڑک پر جما دیں۔
انشا کی بات بہت سادہ تھی، مگر شاید اسی سادگی میں وہ بات چھپی تھی جسے وہ برسوں سے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا، شاید انشا ٹھیک کہہ رہی ہے۔
سومن برا نہیں تھا۔
اس نے کبھی جان بوجھ کر ہان وو کو تکلیف نہیں دی تھی۔ نہ کبھی اس سے جھوٹ بولا، نہ دوستی سے انکار کیا۔ بس فرق اتنا تھا کہ ہان وو نے اس رشتے کو اپنی زندگی میں جس جگہ رکھا تھا، سومن کے دل میں شاید اس رشتے کی جگہ اتنی بڑی نہیں تھی۔
اور شاید یہ بھی کوئی جرم نہیں تھا۔
ہر انسان محبت، دوستی اور تعلق کو اپنے اپنے انداز میں نبھاتا ہے۔
ہان وو نے ایک گہری سانس لی۔
اسے یاد آیا، کتنی بار سومن کی ایک مصروفیت اسے اپنی بےقدری محسوس کرواتی رہی تھی۔ کتنی بار اس نے سوچا تھا کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو ایسا نہ کرتا۔
مگر شاید یہی اصل مسئلہ تھا۔
وہ سومن کو اپنے پیمانے سے ناپتا رہا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ سومن بھی اسی طرح سوچے، اسی طرح محسوس کرے، اسی طرح دوستی نبھائے جیسے وہ نبھاتا ہے۔
مگر لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔
ہان وو نے چپکے سے انشا کی طرف دیکھا۔
وہ اب بھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
اس کے چہرے پر کوئی فتح کا احساس نہیں تھا، جیسے وہ کسی کو سمجھا کر خوش نہیں ہو رہی تھی۔
وہ بس اپنی بات کہہ کر خاموش ہوگئی تھی۔
ہان وو کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
شاید اسے آج پہلی بار انشا کی بات سمجھ آئی تھی۔
کسی کی محبت کم ہو تو ضروری نہیں کہ اپنی قدر بھی کم ہو جائے۔
اور شاید سومن کی پچاس فیصد دوستی کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہان وو اپنی سو فیصد دوستی واپس لے لے۔
بس اسے یہ سیکھنا تھا کہ باقی پچاس فیصد کی کمی کو اپنی زندگی کی کمی نہ بنائے۔

کچھ دیر بعد ہان وو نے خاموشی توڑی۔
تمہیں پتا نہیں چلا کیا؟
انشا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیا؟
ہان وو کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
تم اتنی دیر سے میرے ساتھ انگلش میں بات کر رہی تھیں۔
انشا کے چہرے پر ایک دم حیرت پھیل گئی۔ اس کی آنکھیں گول ہو گئیں، ہونٹ ذرا سے کھل گئے اور چند لمحوں تک وہ بالکل بےیقینی سے ہان وو کو دیکھتی رہی۔
ہین؟
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر جیسے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو فوراً نظریں چرا لیں۔
ہان وو نے ہنسی دباتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں انگلش آتی ہے تو مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تھا؟
انشا نے فوراً نظریں چرا لیں۔ پھر ایسے ظاہر کیا جیسے باہر کا منظر اچانک دنیا کی سب سے دلچسپ چیز بن گیا ہو۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی تھی، اسی لیے۔
ہان وو نے فوراً سوال کیا۔
لیکن کیوں؟
ہان وو کے سوال پر انشا نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔ پہلے اس کی آنکھیں ذرا سکڑیں، پھر اس نے ہونٹ آگے نکال کر ایسا منہ بنایا جیسے ہان وو نے ایک ہی سوال میں اس کی پوری زندگی کا حساب مانگ لیا ہو۔
زیادہ کیوں، کیا، کیسے نہیں کریں۔ سچ بتا دیا نا میں نے آپ کو اب۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش ہونے کا کہا۔
اب خاموش رہیں۔
ہان وو چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر اس کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جسے وہ خود بھی چھپا نہ سکا۔
تو مس کارٹون اتنی دن سے میرے ساتھ ڈرامہ کر رہی تھیں؟
انشا نے فوراً پلٹ کر اسے دیکھا۔
میں نے کوئی ڈرامہ نہیں کیا!
اچھا؟
ہان وو نے بھنویں اٹھائیں۔
تو پھر یہ کیا تھا کہ مجھے انگلش نہیں آتی؟
انشا نے منہ بنایا۔
میں نے صرف یہ کہا تھا کہ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔ وہ ایک لمحے کو رکی۔
آپ نے خود ہی سمجھ لیا کہ مجھے انگلش نہیں آتی۔
ہان وو بےاختیار ہنس پڑا۔ کیسی لڑکی تھی منہ پے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔
انشا نے اسے گھورا۔
بس اب ہنسیں نہیں۔
ہان وو نے ہنسی روکنے کی کوشش کی۔ پھر اُس کی طرف دیکھا۔۔
وہ ابھی بھی منہ پھلائے بیٹھی تھی، جیسے اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا حساب دنیا کے ہر قانون میں درج ہونا چاہیے۔
ہان وو کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آگئی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ لڑکی اسے زیادہ تنگ کرتی تھی یا اس کی خاموشیوں کو۔
بس اتنا ضرور تھا کہ جب انشا ساتھ ہوتی، تو اسے اپنی سنجیدگی کچھ غیرضروری سی لگنے لگتی۔
وہ چاہتا بھی تو اس کے سامنے زیادہ دیر سنجیدہ نہیں رہ پاتا تھا۔
اور شاید یہی بات اسے سب سے زیادہ حیران کرتی تھی۔
انشا کی موجودگی میں اسے ہنسنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
بس وہ سامنے ہوتی…
اور اس کا کوئی نہ کوئی نیا انداز دیکھنے کو مل جاتا۔
شاید یہ پہلی لڑکی تھی، جس کے سامنے ہان وو بےاختیار ہنستا تھا۔
ورنہ وہ تو مسکرانے کے لیے بھی وجہ ڈھونڈتا تھا۔
انشا کے سامنے اسے وجہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *