Girdaab Episode 11 written by siddiqui

گرداب (از قلم صدیقی)

باب پنجم: پہلی لہر

قسط نمبر ۱۱

رات کافی گزر چکی تھی۔

گھر میں خاموشی اتر آئی تھی، مگر اُس خاموشی کے پیچھے جشن کی خوشبو اب بھی باقی تھی۔ ٹی وی پر ہر نیوز چینل صرف ایک ہی خبر چلا رہا تھا۔
مگر…
امن اب تک گھر نہیں لوٹا تھا۔
شاید پارٹی آفس میں کارکن اب بھی اُس کی جیت کا جشن منا رہے تھے۔
انیسہ بیگم نے مسکراتے ہوئے امل کی طرف دیکھا۔
ارے تُو جا کر سو جا۔ پتہ نہیں امن کب آئے گا۔ کل اُس کے ساتھ آرام سے جشن منا لیں گے۔ آج رہنے دیں۔۔۔
امل نے دروازے کی طرف ایک اُداس سی نظر ڈالی۔
لیکن… بھائی کو آنا چاہیے تھا نا…
افتخار صاحب نے دھیرے سے کہا،
اب وہ صرف تمہارا بھائی نہیں رہا، امل… اب اُس پر ایک پورے شہر کی ذمہ داری ہے۔ ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اُس کی۔ اب ہمیں اُس کی مصروفیات کا خیال کرنا پڑے گا۔۔۔
امل نے ہلکا سا سر ہلا دیا۔
جی…
مگر دل پھر بھی نہیں مانا۔
وہ خاموشی سے اُٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
دل چاہ رہا تھا…
امن آئے… وہ سب سے پہلے اُس کے گلے لگے… اُسے مبارک دے…
اور دونوں مل کر اُس کی جیت کا جشن منائیں۔
مگر شاید…
سیاست واقعی انسان کو اپنوں سے دور کر دیتی ہے۔
سیاست کہیں امن کو اپنی فیملی سے دور نہ کر دے…
کمرے میں آ کر اُس نے گھڑی دیکھی۔
رات کا ایک بج رہا تھا۔
وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ پھر اُس نے لائٹ بند کی اور لیٹ گئی۔
کمرہ مکمل تاریکی میں ڈوب گیا۔
چند ہی لمحے گزرے تھے کہ…
ایک بھاری… کھردری…
اور خوفناک آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی۔
گریملن..
امل کی آنکھیں ایک جھٹکے سے کھل گئیں۔
کمرہ خالی تھا۔ اُس نے بےاختیار اِدھر اُدھر دیکھا۔
پھر… وہی آواز دوبارہ گونجی۔
Welcome to Hell… Gremlin.
امل کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ وہ فوراََ بیڈ سے اُٹھ بیٹھی۔۔۔۔
یہ… یہ آواز… یہ آواز کس کی۔۔۔۔
کون۔۔۔ ہے۔۔۔۔ اُس کے لب کپکپا گئے۔
دل کی دھڑکن اچانک بےقابو ہو گئی۔
وہ آہستہ آہستہ بیڈ سے نیچے اتری۔
ک… کون ہے؟
خاموشی…
صرف چند لمحوں کی خاموشی۔
پھر وہی آواز۔
نکاح مبارک ہو…گریملن…
امل کی ریڑھ کی ہڈی میں جیسے برف دوڑ گئی۔
یہ یہ۔۔۔۔ یہ آواز ریپر کی۔۔۔
ری پر ۔۔۔ ریپر۔۔۔ اُس کے لبوں سے دھیرے سے نکلا۔۔۔
وہ تیزی سے بالکونی کی طرف بڑھی۔
کانپتے ہاتھوں سے پردہ ہٹایا۔
باہر گھپ اندھیرا تھا۔ کوئی نہیں۔
اُس نے شیشے کا دروازہ کھولا اور بالکونی میں قدم رکھا۔
ٹھنڈی ہوا نے اُس کے چہرے کو چھوا۔
مگر وہاں… کوئی بھی موجود نہیں تھا۔
کون ہے؟! اُس کی آواز کانپ گئی۔
اسی لمحے… پھر وہ آواز سنائی دی۔
مگر… اس بار باہر سے نہیں۔ اندر سے۔ کمرے کے اندر سے۔
امل کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
اُس نے فوراً پلٹ کر کمرے کی طرف دیکھا۔
دل سینے میں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
وہ واپس اندر آئی۔
دروازہ بند کیا۔ لاک لگایا۔
پھر آہستہ آہستہ پلٹی۔
کریملن۔۔۔۔
اُس نے ایک جھٹکے سے پورے کمرے پر نظر دوڑائی۔
کوئی نہیں۔ وہ تیزی سے بیڈ کے نیچے جھکی۔
خالی۔ الماری کھولی باتھ روم دیکھا۔ پردوں کے پیچھے دیکھا۔
کمرے کا ایک ایک کونا چھان مارا۔
مگر… وہاں کوئی نہیں تھا۔
آخرکار وہ تھک کر بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔
تبھی…
وہی آواز ایک بار پھر سنائی دی۔
اس بار… پہلے سے بھی زیادہ قریب۔
کریملن۔۔۔۔ کوئی فائدہ نہیں…
تم مجھے ڈھونڈ نہیں سکتیں۔۔۔
امل کا دل جیسے سینے سے باہر نکلنے کو تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔
ہمت ہے تو سامنے آ کر بات کریں۔۔۔۔ چھپ کر کیوں بول رہے ہیں؟
چند لمحوں کی خاموشی بعد آواز پِھر سے آئی۔۔۔۔
میں تمہارے سامنے ہی ہوں، گریملن…
بس تم مجھے دیکھ نہیں پا رہیں۔
امل کی سانس سینے میں اٹک گئی۔
نہیں… یہ ممکن نہیں تھا۔
ریپر… اُس کے گھر؟ وہ بھی…
اُس کے کمرے میں…؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔

امل کے قدم بےاختیار کمرے سے باہر نکل آئے۔
اُس کا دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
پہلا خیال آیا…
دادی کے کمرے میں چلی جائے۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کی نظر سامنے پڑی۔
امن کے کمرے کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔
اُس کی دھڑکن ایک لمحے کو ٹھہری۔
بھائی… آ گئے؟
وہ تقریباً دوڑتی ہوئی اُس کمرے کی طرف بڑھی۔
ہاتھ سے دروازہ آہستہ سا دھکیلا۔
کمرے میں ہلکی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
امن ابھی ابھی واش روم سے نکلا تھا۔
کالے رنگ کی ٹی شرٹ پہنے، ایک ہاتھ سے تولیے کے ذریعے اپنے بھیگے ہوئے بال خشک کر رہا تھا۔
امن کو دیکھتے ہی امل کی لرزتی ہوئی آواز نکلی۔
بھائی…
امن نے جیسے ہی مڑا کر امل کو دیکھا۔۔۔
اگلے ہی لمحے امل تیزی سے اُس کے سینے سے لگ گئی۔
اور دھیرے سے بولی۔۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، بھائی…
اُس کی آواز بری طرح کانپ رہی تھی۔
امن نے آہستہ سے ایک ہاتھ امل کے سر پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اُسے اپنے قریب کر لیا۔
ارے…
وہ اُس کے بالوں پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا،
تم ڈر رہی ہو۔۔؟؟
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ارے۔۔۔۔ تم سے تو لوگوں کو ڈرنا چاہیے۔
اُس نے اُس کا ماتھا تھپتھپایا۔
جس لڑکی نے ریپر جیسے آدمی کا پورا کھیل الٹ دیا ہو… وہ اب ڈر رہی ہے۔۔۔
پھر ذرا جھک کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
اور ویسے بھی…
جب تک تمہارا بھائی زندہ ہے… ڈرنے کا حق صرف تمہارے دشمنوں کو ہے، تمہیں نہیں۔
یہ سنتے ہی امل نے اپنے بازو مزید مضبوطی سے امن کے گرد لپیٹ لیے۔
جیسے اُسے یقین ہو گیا ہو…
دنیا میں اگر کوئی جگہ اب بھی محفوظ ہے…
تو وہ صرف اپنے بھائی کا سینہ ہے۔
امن نے آہستہ سے امل کو خود سے الگ کیا اور اُس کے چہرے پر نظریں جما دیں۔
اب مجھے سکون سے بتاؤ… ہوا کیا ہے؟
امل نے ایک گہری سانس لی، مگر آواز اب بھی کانپ رہی تھی۔
میں… میں اپنے کمرے سے آ رہی ہوں…
امن کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
اپنے کمرے سے؟
امل نے فوراً سر ہلایا۔
ہاں… بھائی…
وہاں… ریپر کی آواز آ رہی تھی۔
یہ سنتے ہی امن کے چہرے کا ہر تاثر ایک لمحے میں بدل گیا۔
آنکھوں میں سنجیدگی اتر آئی۔
ریپر کی آواز…؟
جی…
وہ بار بار مجھے ‘گریملن’ کہہ رہا تھا… اور… اور کہہ رہا تھا، ‘نکاح مبارک ہو، گریملن’… گریملن کا کیا مطلب ہے بھائی۔۔۔؟؟
امل کی آواز دوبارہ لرز گئی۔
مجھے لگا… وہ میرے کمرے میں ہے…
امن چند لمحے خاموش رہا۔
نہ اُس نے امل کی بات کا مذاق اُڑایا…
نہ یہ کہا کہ شاید وہم ہوا ہوگا۔
بس ایک لمحے میں اُس کا ذہن ہر امکان کا جائزہ لینے لگا۔ پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
چلو…
امل نے بےیقینی سے اُس کی طرف دیکھا۔
کہاں…؟
تمہارا کمرہ چیک کرتے ہیں۔
امن نے بیڈ کے پاس رکھا اپنا پستول اٹھایا، میگزین پر ایک سرسری نظر ڈالی، پھر سیفٹی ہٹا کر خاموشی سے ہاتھ میں تھام لیا۔
اگر واقعی کوئی اندر ہے…
اُس نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
تو آج وہ باہر اپنے قدموں پر نہیں جائے گا۔
امل بےاختیار اُس کے پیچھے چل پڑی، مگر اس بار اُس نے امن کی شرٹ کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

+++++++++++

امن نے خاموشی سے امل کی طرف دیکھا، پھر کمرے کا دروازہ پوری طرح کھول دیا۔
وہ سب سے پہلے خود اندر داخل ہوا۔
اُس کی نظریں ایک ہی لمحے میں پورے کمرے کا جائزہ لے چکی تھیں۔
امل دروازے کے قریب ہی رکی رہی۔
اُس کے ہاتھ اب بھی خوف سے کانپ رہے تھے۔
امن نے ایک نظر اُس پر ڈالی۔
یہیں رہو۔
وہ آہستہ آہستہ کمرے کے اندر بڑھنے لگا۔
سب سے پہلے اُس نے پردے ایک جھٹکے سے ہٹا دیے۔
پیچھے… کوئی نہیں تھا۔
پھر وہ سیدھا بالکونی کی طرف گیا۔
شیشے کا دروازہ کھولا۔
رات کی ٹھنڈی ہوا اندر داخل ہوئی۔
امن نے ریلنگ کے اُس پار، لان، دیواروں اور آس پاس کی چھتوں پر نظریں دوڑائیں۔
ہر طرف سناٹا تھا…. کوئی سایہ… کوئی حرکت…
کچھ بھی نہیں۔…
وہ واپس پلٹا۔ بیڈ کے قریب آیا۔
ایک جھٹکے سے نیچے جھک کر بیڈ کے نیچے دیکھا۔
خالی۔ پھر الماری کا دروازہ کھولا۔ ایک ایک شیلف…
ہر خانہ… حتیٰ کہ اوپر رکھا سامان بھی غور سے دیکھا۔
مگر وہاں بھی کوئی موجود نہیں تھا۔
اُس نے باتھ روم کا دروازہ کھولا۔
لائٹ جلائی۔ شاور کے پیچھے… دروازے کے عقب میں…
ہر کونے کو بغور دیکھا۔
کچھ نہیں۔
امن چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
جیسے اُس کا ذہن اب دیواروں سے بھی سوال کر رہا ہو۔
پھر اُس کی نظر کھڑکی کے لاک پر گئی۔
دروازے کے ہینڈل پر گئی۔
فرش پر پڑے قالین پر گئی۔
کوئی نشان… کوئی قدموں کے آثار… کوئی زبردستی داخل ہونے کی علامت… کچھ بھی نہیں تھا۔
وہ آہستہ آہستہ واپس امل کے پاس آیا۔
کمرے میں کوئی نہیں ہے۔
امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں بھائی… میں نے واقعی اُن کی آواز سنی تھی۔
وہ… وہ مجھ سے بات کر رہے تھے۔۔۔۔
امن نے اُس کے خوفزدہ چہرے کو دیکھا۔
وہ جانتا تھا… امل جھوٹ نہیں بول رہی۔
مگر حقیقت یہ بھی تھی…
کہ کمرے میں کسی کے ہونے کا ایک بھی ثبوت موجود نہیں تھا۔
امن نے ایک بار پھر پورے کمرے پر نظر دوڑائی، پھر دھیرے سے امل کی طرف مڑا۔
امل… فی الحال تم اپنا کمرہ بدل لو۔
امل نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
کمرہ بدل لوں…؟
ہاں۔ امن نے سنجیدگی سے کہا۔ ممکن ہے ریپر نے یہاں کوئی مائیک، کیمرہ یا کوئی چھوٹا سا ڈیوائس لگا رکھا ہو، جس کی وجہ سے وہ تمہیں سن رہا ہو،
امل کی آنکھوں میں خوف ایک بار پھر لوٹ آیا۔
لیکن بھائی… وہ ہمارے گھر تک پہنچا کیسے؟
امن چند لمحے خاموش رہا۔
اس کی نظریں فرش پر جم گئیں، جیسے وہ ذہن میں بکھرے ہوئے تمام دھاگوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا،
بس… یہی بات مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے۔
اُس نے ایک گہری سانس لی۔
مجھے لگ رہا ہے… ہمارے ہی گھر کا کوئی آدمی ریپر سے ملا ہوا ہے۔
امل کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا۔
ک… کیا؟ امل بےاختیار بولی،
تو اب کیا کریں گے، بھائی؟
امن نے ہلکی سی تھکی ہوئی مسکراہٹ دی۔
گھر میں اتنے ملازم ہیں… ہر ایک پر شک بھی نہیں کر سکتے، اور بغیر ثبوت کے کسی پر الزام بھی نہیں لگا سکتے۔
وہ چند لمحے سوچتا رہا، پھر فیصلہ کن لہجے میں بولا،
فی الحال تم آج رات میرے کمرے میں سو جاؤ۔
امل نے فوراً سر ہلا دیا۔
پِھر صبح کرتا ہوں میں کُچھ۔۔۔۔
پھر جیسے اُسے اچانک کچھ یاد آیا۔
اُس نے امل کی طرف دیکھ کر کہا،
اور ہاں…گاڑی میں میں نے تمہیں جو سمجھایا تھا…
بالکل ویسا ہی کرنا۔
امل نے بغیر کوئی سوال کیے آہستہ سے سر جھکا دیا۔
جی، بھائی۔

امن دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک اُس کے قدم رک گئے۔
چند لمحوں تک وہ خاموش کھڑا کمرے کو دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
امل… تم نے کہا تھا آواز کبھی بالکونی سے آئی… کبھی کمرے کے اندر سے… ہے نا؟
امل نے فوراً سر ہلایا۔
جی… پہلے باہر سے محسوس ہوئی… پھر اچانک اندر سے۔
امن نے کچھ جواب نہ دیا۔
وہ دوبارہ بالکونی تک گیا۔
دروازہ کھولا… پھر بند کیا…
ایک بار پھر کھولا…
اُس کی نظریں مسلسل دیواروں، چھت اور دروازے کے فریم پر گھوم رہی تھیں۔
اچانک…
اُس نے گردن ذرا سی اوپر اٹھائی۔
بالکونی کے دروازے کے اوپر، لکڑی کی باریک سی پٹی کے نیچے کوئی ننھی سی سیاہ چیز چپکی ہوئی تھی۔
اتنی چھوٹی…
کہ عام آدمی کی نظر شاید کبھی اُس تک نہ پہنچتی۔
امن کی آنکھیں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
ہُم…
وہ آہستہ سے قریب گیا۔
دو انگلیوں سے وہ چیز اتاری۔
امل بھی فوراً اُس کے قریب آگئی۔
بھائی… یہ کیا ہے؟
امن نے ہتھیلی کھولی۔
ننھی سی سیاہ چِپ…
جس میں سوئی کے سر جتنا سوراخ تھا۔
امن کے ہونٹ سختی سے بھنچ گئے۔
Microphone…
امل کی سانس رک گئی۔
م... مطلب؟
امن نے چِپ کو انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا،
اس لیے تمہیں اُس کی آواز ہر جگہ سے آ رہی تھی۔ وہ تمہیں دیکھ نہیں رہا تھا…
وہ ایک لمحہ رکا۔
صرف تمہیں سن رہا تھا۔
امل نے بےاختیار پورے کمرے پر نظر دوڑائی۔
بھائی… یہ یہاں لگائی کس نے؟
امن کی نظریں اب دروازے پر جم چکی تھیں۔
لہجہ پہلے سے زیادہ سرد تھا۔
پتہ نہیں۔۔۔۔
امل نے ناگواری سے امن کے ہاتھ میں رکھیں چِپ کی طرف دیکھا۔۔۔
چھچھ… کتنے گرے ہوئے انسان ہیں یہ… اُس نے نفرت سے منہ بنایا۔
چیپ…۔۔۔
دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے ان کے پاس؟ پاگل… درندہ کہیں کے۔۔۔.
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دونوں ہاتھ امل کے کندھوں پر رکھے اور اُسے آہستہ آہستہ دروازے کی طرف لے جانے لگا۔
اچھا… اب یہ سب چھوڑو اور سو جاؤ۔
امل چلتے چلتے اچانک رُک گئی۔
لیکن بھائی…
ہمم؟ امن نے سوالیہ انداز میں کہا۔
آپ کہاں تھے؟ میں نے تو آپ کو ابھی تک مبارک بھی نہیں دی۔
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
ارے… کنگ کو اُس کی کوئین کی مبارک باد کی کیا ضرورت؟
امل بےاختیار ہنس پڑی۔۔۔
ہاہا… بھائی، پھر بھی۔
امن نے پیار سے اُس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
کل صبح کریں گے نا سیلیبریٹ… آرام سے۔
باتیں کرتے کرتے دونوں امن کے کمرے تک پہنچ گئے۔
امل نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی، پھر پوچھا،
بھائی… پھر آپ کہاں سوئیں گے؟
میں نہات کے کمرے میں چلا جاؤں گا۔
ویسے… آپ نے نہات بھائی سے پوچھا؟ انہوں نے آپ کی کال کیوں نہیں اٹھائی تھی؟
ہاں، پوچھا تھا۔ الیکشن کے سارے انتظامات میں بہت مصروف تھا۔ تمہیں تو پتا ہے، جب میں نہیں ہوتا تو تقریباً سب کچھ وہی سنبھالتا ہے۔
امل نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… یہ تو ہے۔ پھر شرارتی انداز میں بولی، ویسے… اچھا ہی ہوا انہوں نے کال نہیں اٹھائی۔
امن نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
یہ کہہ کر مُجھ غصّہ نہ دلاؤ۔۔۔ چلو سو جاؤ اب۔ اور ہاں، اگر ڈر لگے تو فوراً میرے پاس آ جانا۔
جی بھائی۔
امل بیڈ کی طرف بڑھی، مگر جیسے ہی اُس کی نظر بستر پر پڑے تولیے پر گئی، اُس نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے اور گھور کر امن کو دیکھا۔
یہ کیا ہے بھائی؟
امن نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
کیا؟
یہی! یہ تولیہ۔۔۔۔
وہ آگے بڑھی، تولیہ اٹھایا تو نیچے کی چادر بھیگ چکی تھی۔
دیکھیں! پھر گیلا کر دیا آپ نے۔ آپ کی یہ عادت کبھی ختم نہیں ہوگی نا؟
امن نے بےبسی سے کندھے اُچکا دیے۔
شاید نہیں۔
امل نے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
اتنے بڑے سیاستدان بن گئے ہیں… پورا شہر سنبھال لیتے ہیں، مگر اپنا ایک تولیہ نہیں سنبھالا جاتا۔
واش روم میں ہُک کس لیے لگا ہوا ہے؟ سجاوٹ کے لیے؟ دیکھیں بستر گیلا کردیا اپنے۔۔۔۔
سُکھ جائے گا… تم دوسری طرف سو جانا۔
امل نے مصنوعی غصے سے کہا،
مجھے یہ نہیں سننا کہ ‘سُکھ جائے گا’… مجھے یہ سننا ہے کہ ‘اب آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔’
امن بےبسی سے سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
بچپن سے امن کی یہی ایک عجیب عادت تھی۔
وہ شاور لے کر آتا، تولیہ کہیں بھی چھوڑ دیتا۔
حالانکہ اُس کی باقی ہر چیز اپنی جگہ پر ہوتی۔ کپڑے، فائلیں، کتابیں، گھڑی… سب نہایت ترتیب سے رکھتا تھا۔
مگر نہ جانے کیوں…
یہ ایک عادت تھی جو برسوں بعد بھی نہیں بدلی تھی۔
امن نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
اچھا، میں چلتا ہوں۔ تم بھی سو جاؤ۔
گڈ نائٹ، بھائی۔
گڈ نائٹ،
امل مسکرا دی۔
امن بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا، اور دروازہ آہستگی سے بند ہو گیا۔

++++++++++++

امن نے آہستگی سے دروازہ کھولا اور نہات کے کمرے میں داخل ہوا۔
نہات ابھی موبائل دیکھ رہا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اُس نے سر اٹھایا، مگر امن کو دیکھتے ہی چونک گیا۔
بھائی…؟
امن نے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا، ایسے کیوں حیران ہو رہے ہو؟ سونے آیا ہوں۔۔۔
مجھے لگا کوئی مسئلہ ہو گیا ہے۔
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلایا۔ نہیں… بس آج تمہارے ساتھ سونے آیا ہوں۔
یہاں؟
ہاں۔
کیوں؟
ویسے ہی۔
نہات نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔ ویسے ہی؟
شاید یہاں کسی کو اپنا بیڈ کسی اور کے ساتھ شیئر کرنا پسند نہیں؟
امن نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ہاں تو یہ میرا بیڈ تھوڑی ہے، تُمہارا ہے۔۔۔
بیٹا۔۔۔ بہت بڑی چیز ہو تُم۔۔۔۔
بلکل مانتا ہوں میں یہ بات۔۔۔
دونوں مسکرا دیے۔
امن آ کر اُس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا، مگر اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
مذاق اپنی جگہ… اُس نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
نہات بھی فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ کیا ہوا؟
امن نے جیب سے ایک چھوٹی سی چِپ نکال کر اُس کی طرف بڑھا دی۔ یہ… امل کے کمرے سے ملی ہے۔
نہات نے حیرت سے چِپ ہاتھ میں لی۔ یعنی…
ہاں۔
امن نے دھیرے سے کہا۔ ریپر اب ہمارے گھر تک پہنچ چکا ہے۔
پھر امن بولا، میں سب سے پہلے اسی معاملے پر ایکشن لوں گا۔
نہات نے سر ہلاتے ہوئے کہا، جلدی ضرور کریں گے… لیکن جلد بازی نہیں کریں گے۔
پہلے اُسے ٹارگٹ کریں گے… پھر وار۔
اور اُس سے پہلے… اُس نے چِپ کو دیکھتے ہوئے کہا، ہمیں خود کو محفوظ کرنا ہوگا۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔ اسی لیے سوچ رہا ہوں… سنان اور زرقان کو گھر بلا لوں۔
زرقان؟
ہاں۔
امن کی نظریں گہری ہو گئیں۔ باہر سے تو وہ کارروائی شروع کر ہی چکے ہیں… لیکن اصل خطرہ باہر نہیں……اندر ہے۔ اور جب دشمن گھر کے اندر تک پہنچ جائے……تو باہر کے دروازے بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
نہات نے دھیرے سے کہا، بات تو ٹھیک ہے۔
امن نے آگے کہا، مجھے پورا یقین ہے… ہمارے ہی کسی آدمی کا تعلق ریپر سے ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ… ہم کسی پر شک بھی نہیں کر سکتے۔
نہات نے گہری سانس لی۔ تو پھر؟
پھر سنان۔
امن نے بغیر توقف کے جواب دیا۔ میں اُسے کہوں گا… گھر کے اندر چھپے اُس جاسوس کو ڈھونڈنا۔
امن نے سر ہلایا۔ اور ایک کام اور کرنا ہوگا۔
کیا؟
امل کے لیے مستقل باڈی گارڈ۔

++++++++++++++

صبح کی نرم دھوپ کھڑکی کے پردوں سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی۔
یسریٰ کی آنکھ ابھی پوری طرح کھلی بھی نہیں تھی کہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون مسلسل وائبریٹ کرنے لگا۔ اس نے نیم غنودگی میں ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔ اسکرین پر کیٹی کا نام چمک رہا تھا۔
اس نے فوراً کال ریسیو کی، بلوٹوتھ کان میں لگایا اور کسی کے شک سے بچنے کے لیے خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آئی۔
ڈائننگ ہال میں حسبِ معمول سب ناشتے کی میز پر جمع تھے، مگر آج ماحول میں ایک الگ ہی خوشی تھی۔ ہر چہرے پر اطمینان دکھائی دے رہا تھا۔ آخر گزشتہ رات امن الیکشن جیت چکا تھا۔
افتخار صاحب چائے کا کپ رکھتے ہوئے بولے،
بس، آج شام صرف کچھ بڑے اور قریبی لوگوں کو بلائیں گے۔ انہی کے ساتھ امن کی جیت کا جشن منا لیتے ہیں۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں دادا، لیکن اُس سے پہلے مجھے ایئرپورٹ جانا ہے۔ علی اور حیدر آ رہے ہیں، اُنہوں نے کہا ہے کہ میں خود لینے آؤں۔
انیسہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا،
ہاں ہاں، چلا جا۔
یسریٰ بظاہر خاموشی سے وہاں کھڑی سب کے لیے ناشتے کی چیزیں ترتیب دے رہی تھی، مگر اُس کی پوری توجہ بلوٹوتھ میں آتی آواز پر تھی۔
کیٹی نے فوراً پوچھا،
کیا ہو رہا ہے وہاں؟
یسریٰ نے نظریں جھکائے ہوئے دھیرے سے جواب دیا،
امن کسی علی اور حیدر کو لینے ایئرپورٹ جا رہے ہیں۔
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی، پھر کیٹی نے موضوع بدل دیا۔
اچھا یہ چھوڑو… وہ باڈی گارڈ کہاں ہے؟
یسریٰ نے ہلکا سا چونک کر پوچھا،
کون باڈی گارڈ؟
امن کی باڈی گارڈ۔
یسریٰ نے ایک نظر پورے ڈائننگ ہال پر دوڑائی۔
یہاں تو نہیں ہے۔ امن کہیں جانے کی بات کر رہے ہیں، شاید وہ آنے والی ہو۔ ویسے بھی… بہت زہریلی ہے وہ۔
کیٹی کے ہلکے سے قہقہے کی آواز آئی۔
پولیس والی ہے… زہریلی ہی ہوگی۔
یسریٰ کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رُک گئے۔
پولیس والی…؟
وہ بے اختیار سرگوشی کے انداز میں بولی۔
ہاں، تمہیں نہیں معلوم؟
کیٹی نے حیرت سے کہا۔
وہ اصل میں پولیس آفیسر مایرا ہے۔ امن کو پروٹیکٹ کرنے کے لیے آئراہ بن کر آئی ہوئی ہے۔
یسریٰ کی پیشانی پر شکن پڑ گئی۔
اپنی شناخت چھپا کر؟
ہاں… سب سے چھپا کر۔ یہاں تک کہ پولیس والوں سے بھی۔
یسریٰ چند لمحے خاموش رہی۔ یہ بات اُس کے لیے نئی تھی۔
پھر اُس نے دھیرے سے پوچھا،
اچھا… لیکن کیوں؟
کیٹی نے لاپرواہی سے جواب دیا،
کیونکہ وہ امن پاگلو ہے۔
یہ سنتے ہی یسریٰ نے بےاختیار اپنے دل میں بڑبڑایا،
اس کی تو ایسی کی تیسی…
کیٹی نے فوراً پوچھا،
کیا بولی؟
یسریٰ چونکی، پھر فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے بولی،
کچھ نہیں…

+++++++++++++

چند ہی لمحوں بعد آئراہ اور ارحم بھی آ گئے۔
امن نے کرسی پر رکھی کوٹ اٹھائی اور نکلنے کے لیے قدم بڑھائے۔
ادھر افتخار صاحب اپنے چند قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کو جشن کی اطلاع دینے میں مصروف ہو گئے، جبکہ انیسہ بیگم ملازماؤں کو ہدایات دیتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئیں۔
گھر میں ایک خوشگوار سی ہلچل تھی۔
اسی دوران امن، ارحم اور آئراہ دروازے کی طرف بڑھے ہی تھے کہ اچانک آئراہ کے قدم ڈگمگا گئے۔
اس نے بےاختیار ایک ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھا۔
آنکھوں کے سامنے جیسے ایک لمحے کے لیے اندھیرا سا چھا گیا۔
وہ گرنے ہی والی تھی کہ امن نے فوراً آگے بڑھ کر اُس کے بازو مضبوطی سے تھام لیے۔
ار یو اوکے…؟
امن کی آواز میں واضح تشویش تھی۔
آئراہ نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور ہلکا سا سر ہلایا۔
ہاں… بس اچانک سر چکرا گیا تھا۔
امن نے اُس کا چہرہ غور سے دیکھا۔
نیند پوری نہیں ہوئی کیا…؟
آئراہ نے بمشکل مسکرا کر جواب دیا۔
نہیں۔۔۔ہوئی تھی۔۔۔پتہ نہیں یہ کیوں۔۔۔

یہ منظر دور کھڑی یسریٰ خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
جیسے ہی اُس نے امن کے ہاتھ آئراہ کے بازوؤں پر دیکھے…
اُس کے دل میں نہ جانے کیوں ایک تیز سی چبھن اٹھی۔
اُسے خود پر غصہ آنے لگا۔ وہ جانتی تھی…
امن نے صرف انسانیت کے ناطے آئراہ کو سنبھالا تھا۔
اگر اُس کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو امن یہی کرتا۔
مگر محبت… محبت کہاں دلیلیں مانتی ہے؟
وہ تو صرف ایک منظر دیکھتی ہے…
اور پھر انسان کے دل میں سینکڑوں بےنام سوال چھوڑ جاتی ہے۔
یسریٰ نے بےاختیار اپنے ہاتھ کی انگلیاں مضبوطی سے بھینچ لیں۔
دل میں ایک انجانا سا حسد سر اٹھا رہا تھا…
جسے وہ لاکھ چاہ کر بھی دبا نہیں پا رہی تھی۔
اور پھر…
اُس کے ذہن میں اُس رات کا وہ لمحہ پوری شدت سے زندہ ہو گیا۔
تمہاری جگہ اگر کوئی اور بھی ہوتا… تو میں یہی کرتا۔
یسریٰ کی پلکیں ایک لمحے کو جھک گئیں۔
تو پھر… وہ بھی کوئی خاص نہیں تھی۔
امن اب بھی آئراہ کی خیریت پوچھ رہا تھا، اُس کے لہجے میں وہی نرمی، وہی فکر تھی… جو ہر اُس شخص کے لیے ہوتی تھی جو تکلیف میں ہو۔
یسریٰ کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی، بےجان مسکراہٹ آئی۔
ہاں… یہ تو امن ہی ہے۔
وہ سب کے لیے ایسا ہی ہے۔
کسی کو سہارا دینا… کسی کے آنسو پونچھ دینا… کسی کے درد کو اپنا درد سمجھ لینا…
یہ اُس کی عادت ہے۔
حسد شاید آئراہ سے نہیں تھا…
حسد تو اس بات سے تھا کہ امن کی مہربانی پر صرف اُس کا حق نہیں تھا۔
اور یہی حقیقت اُس کے دل کو سب سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی۔
لیکن وہ تو یسریٰ تھی… امن کی مہربانی، اُس کی نرمی، اُس کی توجہ پر صرف اور صرف اُس کا حق تھا۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے اُس نے اپنے چہرے کے تاثرات سمیٹے اور تیزی سے اُن کی طرف بڑھ گئی۔
ار یو اوکے، میم؟
یہ کہتے ہوئے اُس نے فوراً امن کے ہاتھ سے آئراہ کا بازو تھام لیا اور خود اُسے سہارا دینے لگی۔
آپ کو چکر آ رہے ہیں تو یہاں بیٹھ جائیں… میں ابھی آپ کے لیے کیلسی لاتی ہوں۔
وہ جلدی جلدی اُسے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی تک لے گئی اور احتیاط سے بٹھا دیا۔
آئراہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلایا۔
نہیں… تم کیوں پریشان ہو رہی ہو؟ میں ٹھیک ہوں۔
اتنے میں پیچھے سے امن بھی اُن کے قریب آ گیا۔
وہ صحیح کہہ رہی ہے۔ اگر بلڈ پریشر لو ہے تو کیلسی پی لو۔
ارحم نے دونوں کو حیرت سے دیکھا۔
مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا… اسے اچانک کیا ہو گیا؟ ہمیشہ تو بالکل فِٹ نظر آتی ہے، ابھی اچانک چکر کیسے آ گئے؟
امن کی نظر آئراہ کے چہرے پر موجود ماسک پر گئی۔
اتنی باہر گرمی ہے اور تم ہر وقت یہ ماسک لگا کر رکھتی ہو۔ ہو سکتا ہے گرمی کی وجہ سے تمہارا سر چکرا گیا ہو۔
آئراہ نے بےاختیار ماسک کو چھوا۔
باہر پولوشن بھی تو دیکھیے آپ۔ یہ نہ لگاؤں تو میری سانس رکنے لگتی ہے۔
امن نے ہلکا سا سر ہلایا۔
ابھی تو گھر پر ہو نا… ابھی تو اُتار لو۔
یہ سنتے ہی یسریٰ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر تیزی سے کچن کی طرف چلی گئی۔
کیٹی نے شرارتی انداز میں گلا کھنکارا۔
اُوں ہُوں… یسریٰ… یہ تمہیں آخر کس کی اتنی فکر ہو رہی ہے؟
بلیو ٹوتھ اب بھی یسریٰ کے کان میں لگا ہوا تھا۔ کیٹی نے باقی لوگوں کی باتیں تو نہ سنیں، مگر یسریٰ کی ہر بات اُس تک صاف پہنچ رہی تھی۔
یسریٰ نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
ناگن کو زہر نہ دے دوں میں…
کیٹی چونک گئی۔
کیا… کیا کہا؟ مجھے زہر دو گی؟
یسریٰ نے آنکھیں گھمائیں۔
ارے تمہیں نہیں بھئی… تم ذرا چپ رہو۔
یہ کہہ کر وہ جلدی جلدی کیلسی کا گلاس لے کر کچن سے باہر نکلی۔
دل میں بس ایک ہی خوف تھا…
کہیں وہ ناگن اُس کے امن کے اور قریب نہ ہو جائے۔
وہ تیزی سے چلتی ہوئی آئراہ کے سامنے پہنچی اور گلاس اُس کی طرف بڑھا دیا۔
یہ لیں…
آئراہ نے گلاس کی طرف دیکھا، پھر بےاختیار اپنی نظریں امن پر جما دیں۔
گلاس پینے کے لیے اُسے اپنا ماسک اتارنا پڑتا…
اور وہ یہی نہیں چاہتی تھی۔
امن نے اُس کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے کہا،
کیا سوچ رہی ہو؟ پی لو…
یسریٰ نے دل ہی دل میں منہ بنایا۔
آئی بڑی… امن پگلو بننے… ہنہ۔ اب پیوں۔۔۔
آئراہ نے بےبسی سے ایک نظر ارحم کی طرف دیکھا۔
ارحم فوراً بات سمجھ گیا۔
وہ آگے بڑھا اور بولا،
سر، اس کی طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں لگ رہی۔ اسے آرام کرنے دیں، ہم چلتے ہیں۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔
پھر اُس نے آئراہ کی طرف دیکھا۔
تم یہیں آرام کرو۔ جب طبیعت بہتر ہو جائے تو گھر چلی جانا، پھر شام کو سیدھا دعوت میں آ جانا۔
آئراہ نے مختصر سا سر ہلایا۔
جی سر۔
امن نے جاتے جاتے ایک بار پھر گلاس کی طرف اشارہ کیا۔
اور ہاں… زیادہ مت سوچو، یہ پی لینا۔
یہ کہہ کر وہ ارحم کے ساتھ باہر نکل گیا۔
امن گیا تو آئراہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
پھر آہستہ سے اپنا ماسک نیچے کیا…
اور سکون کا سانس لیتے ہوئے پورا کیلسی ایک ہی بار میں پی گئی۔

++++++++++++++

ائیرپورٹ پہنچتے ہی امن نے گاڑی روکی۔
وہ باہر نکلا اور باقی سب کی طرف مڑ کر بولا۔
تم لوگ یہیں رہو… میں ابھی آیا۔
اتنا کہہ کر وہ تیز قدموں سے اندر چلا گیا۔
آمد و رفت کا معمول جاری تھا۔
لوگ اپنے پیاروں کے استقبال میں مصروف تھے۔
انہی کے درمیان کچھ فاصلے پر زرقان اور سنان کھڑے تھے۔
زرقان بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا، جبکہ سنان کو جیسے دنیا سے کوئی سروکار ہی نہ تھا۔
وہ فوڈ اسٹال کے سامنے کھڑا آرام سے کولڈ ڈرنک کے گھونٹ بھر رہا تھا۔
امن کو اندر آتا دیکھ کر زرقان سیدھا اُس کی طرف بڑھا۔
اتنی صبح صبح ائیرپورٹ کون بلاتا ہے؟
امن نے بےزاری سے اُسے دیکھا۔
تو اور کیا کرتا؟
یہ کہتے ہوئے اُس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔
سنان کہاں ہے؟
امن کی نظر فوڈ اسٹال پر جا ٹھہری۔
سنان پوری بےفکری سے کولڈ ڈرنک پینے میں مصروف تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے اُسے نہ ائیرپورٹ سے کوئی غرض ہو، نہ امن سے۔
امن آئے یا نہ آئے… اُسے کیا فرق پڑتا تھا؟
وہ تو جیسے صرف کولڈ ڈرنک پینے یہاں آیا ہو۔
امن نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے بلایا۔
سنان… اِدھر آؤ۔
سنان نے ایک اور گھونٹ لیا، پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اُن کے پاس آ گیا۔
اوہ…
تم کب آئے؟
امن نے اُسے گھورا۔
آنکھیں نہیں ہیں تمہارے پاس؟
سنان نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا۔
ہیں نا… تبھی تو تم نظر آ رہے ہو۔
امن نے گہرا سانس لیا۔
چپ رہو… اور دونوں میری بات غور سے سنو۔
زرقان نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا،
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں… میں کسی کی سنتا نہیں۔
سنان نے کولڈ ڈرنک کا آخری گھونٹ بھرا اور خالی کین قریب پڑے ڈسٹ بن میں پھینکتے ہوئے بولا،
سنتا تو میں بھی نہیں… لیکن پیسے دو تو پھر سن لیتا ہوں۔
امن نے دونوں کو گھور کر دیکھا۔
سنان نے فوراً سیدھا ہوگیا۔۔۔
اچھا… اچھا… بولو۔ مذاق تھا۔
امن نے ایک گہرا سانس لیا۔
دیکھو… اب تم دونوں کو میرے بھائی بن کر رہنا ہے۔
زرقان کی بھنویں سکڑ گئیں۔
بھائی…؟
امن نے سر ہلایا۔
ہاں۔ میرے ابو کے بھائی کے بیٹے۔
اور تم دونوں کے نام ہوں گے… حیدر اور علی۔
سنان نے فوراً احتجاج کیا۔
ابے! سنان نام ہے میرا… نام کیوں بدل رہے ہو؟
امن نے بےزاری سے اُسے دیکھا۔
تو حیدر نام نہیں تُمہارا۔۔؟؟
سنان نے کندھے اچکائے۔
ہے تو… دونوں نام میرے ہی ہیں۔
تو پھر۔۔۔؟؟
پر نام کیوں چھپانا۔۔۔ میرا نام میری پیچان ہے۔۔۔
زرقان نے طنزیہ نظر سے سنان کو دیکھا۔
یہ نلّا کون ہے؟
سنان نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
ابے! نلّا کسے بولا؟
تجھے بولا۔۔
تو بھی نلّا۔
کیا بولا تُو نے؟
دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھنے ہی والے تھے کہ امن بیچ میں آ گیا۔
بس۔۔۔ لڑنا شروع مت کرو۔۔۔
دونوں خاموش ہو گئے، مگر ایک دوسرے کو گھورنا نہیں چھوڑا۔
امن نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
میں نے تم دونوں کو ایک ہی مقصد کے لیے رکھا ہے۔
ریپر۔ زرقان… تم سیدھا ریپر کے نیٹ ورک میں گھسو۔ اپنے طریقے سے کام کرنا، میں تمہیں روکوں گا نہیں۔
پھر اُس نے سنان کی طرف دیکھا۔
اور تم… تمہارا کام میرے گھر کے اندر ہے۔
مجھے معلوم کرنا ہے کہ میرے گھر میں ریپر کا آدمی کون ہے۔
سمجھ گیا۔
امن نے دونوں کو باری باری دیکھا۔
تم دونوں اپنے اپنے طریقے سے کام کرو گے۔ میں تمہارے کام میں مداخلت نہیں کروں گا۔
لیکن ایک بات یاد رکھنا…
گھر میں کسی کو تم دونوں کی اصل شناخت کا پتہ نہیں چلنا چاہیے۔
سب یہی سمجھیں گے کہ تم دونوں میرے چچا کے بیٹے ہو۔
حیدر… اور علی۔
صرف دادا اور دادی حقیقت جانتے ہیں۔
اور وہ بھی یہی ڈرامہ کریں گے۔۔۔
اور تم لوگوں کو بھی ایکٹنگ کرنی پڑے گی۔۔۔
سنان نے فخر سے کالر سیدھا کیا۔
سنان کو تو آسکر ایوارڈ ملا ہے۔ ایکٹنگ پر،
زرقان نے بےتاثر لہجے میں کہا،
دِیکھا۔۔۔
سنان نے پلکیں جھپکائیں۔
کیا؟
ایوارڈ۔
سنان نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر ناک چڑھائی۔
شکل نہیں ہے تیری ایوارڈ دیکھنے والی۔
زرقان نے بےزاری سے ہاتھ جھٹکا۔
نکل… اور اس کو بول دو میرے معاملے میں نہ آیا… ورنہ…
سنان نے بھی آستینیں چڑھانے کا ڈرامہ کیا۔ ابے چل… سنان بھی اس کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔
امن نے دونوں کو سخت نظروں سے گھورا۔
میں نے تم دونوں کو الگ الگ کام دیا ہے۔ فضول کی بحث بند کرو۔
دونوں نے ایک دوسرے کو آخری بار گھورا، پھر خاموش ہو گئے۔
امن نے چلتے چلتے اچانک سنان کی طرف دیکھا۔
اور سنان… تمہارا سامان کہاں ہے؟
سنان نے معصوم سا چہرہ بنا لیا۔
سامان لانے کا تو تُم نے بولا ہی نہیں تھا۔۔؟
امن نے کچھ سوچتے بولا۔۔۔
چلو… اچھا ہی ہوا نہیں لائے۔ پھر سنو…
اگر ارحم پوچھے کہ تم لندن سے آ کر ہوٹل میں کیوں ٹھہرے ہوئے تھے تو یہی کہنا…
کہ تم علی کے ساتھ گھر میں ایک ساتھ انٹری مارنا چاہتے تھے، اس لیے پہلے ہوٹل میں رکے رہے۔
زرقان نے فوراً اعتراض کیا۔
یہ کیا فضول وجہ ہے؟
کون بےوقوف اس بات پر یقین کرے گا؟
امن نے پُرسکون انداز میں جواب دیا۔
ارحم اس سے پہلے ہی مل چکا ہے۔ وہ یقین کر لے گا۔
زرقان نے حیرت سے سنان کی طرف دیکھا۔
ہَیں…؟
سنان نے فوراً سینہ پھلا لیا۔
یہ “ہیں ہیں” مت کر۔ میں نے کہا نا… مجھے ایکٹنگ پر آسکر ایوارڈ ملا ہوا ہے۔ میری شکل ہی دیکھ کر لگتا ہے کہ میں کتنا سچا انسان ہوں۔
زرقان نے زور سے اُس کے کندھے پر دھکا دیا۔
ابے ہٹ.. پاگل آدمی۔

+++++++++++++

چند ہی لمحوں بعد وہ سب ائیرپورٹ سے باہر نکل آئے۔
زرقان کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ کہیں باہر سے آیا ہے۔
سیاہ جینز، سفید شرٹ کے اوپر ہلکی گرے جیکٹ، پاؤں میں صاف ستھرے اسنیکرز، کلائی پر مہنگی گھڑی اور آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ۔ اُس کے بال نفاست سے سیٹ تھے اور چلنے کے انداز میں ہمیشہ کی سی سنجیدگی اور وقار تھا۔
جبکہ…
سنان حسبِ معمول اپنے ہی عالم میں تھا۔
ڈھیلی بلیک کارگو پینٹ، اوور سائزڈ ہُڈی،گلے میں ہیڈفون، ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کا کین، اودر بال ایسے بکھرے ہوئے جیسے کنگھی سے اُس کی برسوں کی دشمنی ہو۔
اُسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے وہ دوستوں کے ساتھ پکنک منانے آیا ہو۔
دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے…
جیسے ہی وہ سب گاڑی کے قریب پہنچے، ارحم کی نظر سنان پر پڑی۔
وہ حیرت سے بولا،
آپ… یہاں؟
سنان نے بھنویں اچکا دیں۔
کیوں؟
یہاں انسانوں کا آنا جانا منع ہے کیا؟
ارحم نے ہلکی سی کھانسی کے ساتھ بات سنبھالی۔
نہیں… میرا مطلب… ائیرپورٹ پر؟
سنان نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا،
ہاں… ایک بےروزگار انسان کو لینے آیا تھا۔
زرقان نے فوراً گردن گھما کر اُسے دیکھا۔
تُو نے کیا بولا؟
سنان نے حیران بننے کی اداکاری کی۔
بہرا ہے کیا؟
امن نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
دونوں… گاڑی میں بیٹھو۔
ارحم نے آہستہ سے پوچھا،
سر… یہ کون ہیں؟
اس سے پہلے کہ امن کچھ کہتا، زرقان خود ہی بول پڑا۔
باڈی گارڈ ہے۔ باڈی گارڈ بن کر رہ۔ باڈی گارڈ بولتے نہیں۔
سنان نے فوراً سوال داغ دیا۔
کیوں؟ ان کے پاس زبان نہیں ہوتی؟
زرقان نے بےزاری سے اُسے دیکھا۔
ہوتی ہے… مگر وہ استعمال نہیں کرتے۔
بالکل تیری طرح… جیسے تیرے پاس دماغ تو ہے، مگر استعمال نہیں کرتا۔
سنان نے آستین چڑھانے کی اداکاری کی۔
میں ابھی یہیں کھڑے کھڑے تمہیں دکھا سکتا ہوں کہ دماغ کیسے استعمال کرتے ہیں۔
زرقان نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا،
ابے ہٹ…پاگل آدمی۔
یہ کہہ کر وہ گاڑی میں جا بیٹھا۔
سنان بھی بڑبڑاتا ہوا اُس کے پیچھے جا بیٹھا۔
ارحم آہستہ سے امن کے قریب جھکا اور دھیمی آواز میں بولا،
سر… یہ پکا سنان کا ہی بھائی ہے نا؟
امن نے ایک نظر گاڑی میں بیٹھے دونوں پر ڈالی، جو اب بھی ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔
پھر ہونٹ دبا کر مسکراہٹ روک لی۔
ہاں…
دل ہی دل میں وہ دونوں کی اداکاری کو داد دے رہا تھا۔
اُسے کیا معلوم تھا…
یہ دونوں اداکاری نہیں کر رہے تھے۔
وہ حقیقت میں ایک دوسرے کو نہ پسند کر رہے تھے۔۔۔
لیکن ارحم ابھی بھی الجھا ہوا تھا۔
لیکن سر…؟ یہ سنان ائیرپورٹ پر کیسے…؟
امن نے مختصر سا جواب دیا۔
یہ تم سنان سے ہی پوچھ لینا۔
اتنا کہہ کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
چند لمحوں بعد گاڑی گھر کی طرف روانہ ہو چکی تھی۔
ابھی چند ہی منٹ گزرے تھے کہ پیچھے سے سنان کی آواز آئی۔
بھائی… میرے اکاؤنٹ میں ایک ہزار اور دو سو روپے بھیج دینا۔
امن نے ریئر ویو مرر سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟
ایک ہزار پٹرول کے… جو تم نے مجھے ائیرپورٹ بلوایا۔ اور دو سو اُس کولڈ ڈرنک کے جو میں نے وہاں پی تھی۔
امن نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
تو تم سیدھے میرے گھر آ جاتے۔
سنان نے فوراً منہ بنا لیا۔
واہ واہ… سدا کتا کتا… سدا کتا ٹامی۔
امن نے بھنویں سکیڑ لیں۔
کیا بول رہے ہو؟
سنان نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا،
مطلب…
اس نلّے کو لینے تو تم خود ائیرپورٹ پہنچ گئے…
اور میں خود ہی گھر آ جاتا؟
ارحم نے حیرت سے پوچھا،
سر… یہ کون سا لاجک ہے؟
سنان فوراً بولا،
مجھے آئے ہوئے کتنے دن ہوئے؟
امن نے جواب دیا،
دو دن۔
ہاں…پورے دو دن۔ مجھے لینے تو کوئی ائیرپورٹ نہیں آیا۔ اور اِسے لینے تم خود پہنچ گئے۔
ارحم کی سمجھ سے بات مکمل طور پر باہر ہو چکی تھی۔
ہَیں…؟
سنان نے پوری سنجیدگی سے وضاحت دی۔
اب میں واپس گھر جا رہا ہوں۔ ایسے سمجھو…
جیسے آج ہی لندن سے آیا ہوں۔
ارحم نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
کیونکہ… یہ مجھ دو دن پہلے ایئرپورٹ لینے نہیں آیا تو میں ناراض گھر نہیں آیا۔۔۔ اس لیے… اب میں آج ایئرپورٹ سے انٹری ماروں گا۔ سمجھے؟
ارحم نے بےبسی سے گردن گھما کر امن کی طرف دیکھا۔
امن نے بھی اتنی ہی بےبسی سے سر ہلا دیا۔پِھر بولا۔۔
یہ دو دِن پہلے مُجھے بنا بتایا پاکستان آگیا۔۔۔ اور پھر میں اسے ایئرپورٹ لینے نہیں گیا تو یہ ناراض ہو کر ہوٹل رہنے چلا گیا۔۔۔اور اب علی آیا ہے، تو یہ غصے می ایئرپورٹ دوبارہ آیا۔۔ اور اب یہ میرے ساتھ گھر جا رہا ہے۔۔۔
ارحم کُچھ سمجھتے بولا۔۔۔
مطلب انہیں ایئرپورٹ سے ہی گھر آپ کے ساتھ جانا تھا۔۔۔
امن نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔
زرقان کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
دل ہی دل میں اُس نے ایک لمبی سانس بھری۔
یہ کیسا پاگل انسان ہے…
اِسے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا…
لوگ اِسے پاگل کہیں، نلّا کہیں یا کچھ بھی کہیں…
لوگ اِس کے بارے میں کیا سوچیں گے…
لوگ کیا سمجھیں گے…
اِسے کسی چیز سے فرق ہی نہیں پڑتا۔
جو دل میں آتا ہے… بس وہی کر دیتا ہے۔

+++++++++++++

گھر پہنچتے ہی دونوں سب سے پہلے افتخار صاحب سے ملے۔
افتخار صاحب نے مسکراتے ہوئے دونوں کو گلے لگایا، پھر انیسہ بیگم آگے بڑھیں۔
ارے میرے بچو…
وہ بالکل اپنے بیٹوں کی طرح دونوں سے ملیں۔
کب آئے؟
سفر میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟
کھانا کھایا یا نہیں؟
سنان نے فوراً معصوم سا چہرہ بنایا۔
دادی… جہاز میں کھانا ملا تھا۔
مگر وہ کھانا تھا یا سزا… ابھی تک سمجھ نہیں آیا۔
انیسہ بیگم بےاختیار ہنس پڑیں۔
اتنے میں…
اوپر سے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
امل سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آ رہی تھی۔
سفید پینٹ، اُس پر ہلکے رنگ کی کرتی اور گلے میں ڈھیلا سا دوپٹہ…
سادہ لباس میں بھی وہ غیر معمولی طور پر خوبصورت لگ رہی تھی۔
وہ جیسے ہی آخری سیڑھی پر پہنچی، چند لمحوں کے لیے وہیں رک گئی۔
نظریں باری باری دونوں پر گئیں۔
لگتا تو یہی ہے… یہی دونوں ہیں…
لیکن… اِن میں سے علی کون ہے؟ اور حیدر کون؟
ادھر گھر کی ملازماؤں میں بھی سرگوشیاں شروع ہو چکی تھیں۔
یہ دونوں ہینڈسم لڑکے کون ہیں؟ پہلے تو کبھی ان کا ذکر نہیں سنا…
یسریٰ بھی خاموشی سے ایک ملازمہ کے قریب آئی۔
یہ دونوں کون ہیں؟
ملازمہ نے بےبسی سے کندھے اچکا دیے۔
مجھے بھی نہیں معلوم۔
اُسی وقت امن کی آواز آئی۔
وہاں کیوں کھڑی ہو امل؟
ادھر آؤ۔
امن کے کہتے ہی سنان اور زرقان، دونوں کی نظریں پہلی بار امل پر ٹھہریں۔
گوری سی رنگت… باریک گلابی ہونٹ… معصوم سا چہرہ… اور سب سے الگ… اُس کی وہ بڑی بڑی بلیوں جیسی آنکھیں… جن میں ہلکا سا سبز اور بھورا رنگ ایک ساتھ جھلک رہا تھا۔
زرقان نے دل ہی دل میں سوچا۔
ریپر فضول میں تو اس کے پیچھے نہیں پڑا…
سنان نے فوراً بولا۔۔۔
نہیں… ہم تمہارا رشتہ لے کر نہیں آئے… جو اتنا شرما رہی ہو۔
زرقان نے سنجیدہ سا چہرہ بنا کر کہا،
لڑکی تو جوان ہو گئی ہے… بھئی…
سنان نے فوراً گردن ہلائی۔
ہاں… جوان تو ہو گئی ہے… لیکن ابھی بھی اُتنی کی اُتنی ہی ہے۔۔
امل نے فوراً منہ بنایا۔
لڑکیاں چھوٹی ہائٹ ہی اچھی لگتی ہیں۔
سنان نے مصنوعی سنجیدگی سے سر ہلایا۔
دل بہلانے کو غالبؔ خیال اچھا ہے۔
یہ سنتے ہی پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
امل نے غصے سے قریب پڑا کشن اٹھایا اور سیدھا سنان کی طرف اچھال دیا۔
سنان ہنستا ہوا ایک طرف ہٹ گیا۔
دیکھا…؟ میں نے سچ بولا تو حملہ کر دیا۔
زرقان نے ہلکی سی مسکراہٹ دبا لی۔
چند ہی لمحوں میں سب ایسے گھل مل گئے تھے…
جیسے وہ دونوں برسوں سے اسی گھر کا حصہ ہوں۔
اگر کوئی اُنہیں شک کی نظر سے بھی دیکھتا…
تب بھی شاید کبھی اندازہ نہ لگا پاتا…
کہ حیدر اور علی دراصل اس گھر کے فرد نہیں…
بلکہ ایک خفیہ مشن کا حصہ تھے۔

++++++++++++++

پولیس اسٹیشن میں معمول کے مطابق مصروفیت عروج پر تھی۔
کوئی فائلیں سمیٹ رہا تھا، کوئی کسی کیس پر بحث میں مصروف تھا،
اسی ہلچل کے درمیان رشید صاحب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ظفر کے کیبن کے سامنے آ کر رکے۔
ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوئے۔
کیسے ہیں سر؟
ظفر نے فائل سے نظریں اٹھائیں اور ہلکا سا مسکرا دیا۔
آپ اتنی فارملیٹی نہ کیا کریں۔ عمر میں آپ مجھ سے بڑے ہیں۔
رشيد صاحب بھی مسکرا دیے۔
لیکن رینک میں تو آپ بڑے ہیں نا، سر۔ خیر…
میں تو بس ایک اطلاع دینے آیا تھا۔
ظفر نے سوالیہ نظروں سے اُنہیں دیکھا۔
جی…؟ جس امن سے آپ اتنی نفرت کرتے ہیں…
اُنہوں نے آج اپنے فارم ہاؤس پر دعوت رکھی ہے۔
آپ کو بھی بلایا ہے۔
ظفر نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
الیکشن جیتنے کی خوشی میں؟
جی سر۔
ظفر چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
لیکن… مجھے تو کوئی کال نہیں آئی۔
رشيد صاحب نے ہلکا سا کھنکارا۔
مجھے آئی ہے۔
ظفر نے ایک بھنو اٹھائی۔
پھر ظاہر ہے… میں نہیں جا رہا۔
رشيد صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔
جی… آپ کی مرضی، سر۔
اتنا کہہ کر وہ پلٹے اور دروازے کی طرف بڑھنے لگے تھے کہ ظفر کی آواز نے اُنہیں روک لیا۔
رشيد صاحب…
وہ فوراً پلٹے۔
جی سر؟
ظفر نے میز پر پڑی فائل بند کرتے ہوئے پوچھا،
مایرا آفیسر ابھی تک واپس نہیں آئیں؟
رشيد صاحب نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں سر۔
ظفر چند لمحے سوچتا رہا۔
اُن کی والدہ کی طبیعت ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی کیا؟
سر… یہ تو مجھے معلوم نہیں۔ البتہ اُن کی دوست دعا بہتر بتا سکتی ہیں۔
ظفر نے سر ہلایا۔
اچھا… اُنہیں میرے کیبن میں بھیج دیں۔
جی سر۔
رشيد صاحب مختصر سا جواب دے کر باہر نکل گئے۔
چند ہی لمحوں بعد دروازے پر دستک ہوئی۔
کم اِن۔
دروازہ کھلا اور دعا اندر داخل ہوئی۔
سلام کر کے احترام سے کھڑی ہو گئی۔
جی سر۔
ظفر نے سیدھا سوال کیا۔
مایرا آفیسر کی والدہ کی طبیعت اب کیسی ہے؟
دعا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
الحمدللہ سر… اب پہلے سے کافی بہتر ہیں۔
میری اُن سے بات ہوئی تھی۔ شاید کل… یا پرسوں وہ دوبارہ ڈیوٹی جوائن کر لیں گی۔
ظفر نے اطمینان سے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے۔ آپ جا سکتی ہیں۔
جی سر۔
دعا نے سر جھکا کر اجازت لی اور خاموشی سے کیبن سے باہر نکل گئی۔

+++++++++++++

یسریٰ کچن میں کھڑی امل کے لیے پاستا بنا رہی تھی۔
اُسی وقت قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
یسریٰ نے مڑ کر دیکھا تو امن اندر آ رہا تھا۔
وہ فوراً چونک گئی۔
ارے… ارے… آپ کچن میں کیوں آ رہے ہیں؟
امن چلتے چلتے رکا اور ہلکا سا مسکرایا۔
مجھے تم سے بات کرنی تھی۔
یسریٰ نے بےاختیار اپنے ہاتھ صاف کیے۔
تو مجھے بُلا لیتے۔ میں خود آ جاتی۔
امن نے کندھے اچکا دیے۔
اب آ گیا ہوں نا۔
یسریٰ نے سر ہلایا۔
اچھا…
بولیے۔
آپ کو کچھ کھانا ہے؟
امن نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… بس ایک کام کہنا تھا۔ آج رات تم بھی تیار ہو جانا۔ ہم سب فارم ہاؤس جا رہے ہیں۔ اور پارٹی کا تو تمہیں پتہ ہی ہوگا۔۔۔
یسریٰ نے حیرت سے اپنی طرف اشارہ کیا۔
میں…؟
ہاں۔
امن کا لہجہ پہلے کی طرح سنجیدہ تھا۔
امل جب سے ریپر کے پاس سے واپس آئی ہے…
اکیلے میں گھبرا جاتی ہے۔ وہاں دعوت میں کافی لوگ ہوں گے۔ میں زیادہ تر مہمانوں میں مصروف رہوں گا۔
شاید اُس کی طرف اتنا دھیان نہ دے سکوں۔
اس لیے… تم ہر وقت اُس کے ساتھ رہنا۔
یسریٰ چند لمحے خاموش رہی۔
دل نے ایک لمحے کو چاہا…
کہ شاید امن اُسے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے حقیقت سامنے آ گئی۔
وہ اُسے نہیں… امل کے لیے ساتھ لے جا رہا تھا۔
اُس نے اپنے دل میں اٹھتی ہلکی سی چبھن کو زبردستی دبا لیا۔
پھر لبوں پر مسکراہٹ لا کر آہستہ سے بولی۔
جی… میں امل بی بی کا خیال رکھوں گی۔
امن نے اطمینان سے سر ہلایا۔
تھینک یو۔
یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا۔
اور یسریٰ…
کافی دیر تک اُسی کی جاتی ہوئی پشت کو خاموشی سے دیکھتی رہی۔

++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *