Girdaab Episode 12 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی)

قسط نمبر ۱۲

شہر سے ذرا فاصلے پر واقع افتخار صاحب کا فارم ہاؤس کسی محل سے کم نہیں تھا۔
دور سے ہی بلند و بالا سیاہ رنگ کی عمارت اپنی شان و شوکت کی وجہ سے نمایاں نظر آتی تھی۔ فارم ہاؤس کے چاروں طرف گھنے درخت، خوبصورت سبزہ اور لمبا چوڑا لان پھیلا ہوا تھا۔
مرکزی عمارت کے سامنے ایک وسیع پتھریلا راستہ تھا جو بڑے سے آہنی گیٹ سے ہوتا ہوا سیدھا گھر کے داخلی دروازے تک جاتا تھا۔ راستے کے دونوں جانب چھوٹی چھوٹی روشنیاں لگی تھیں، جبکہ درمیان میں ایک خوبصورت فوارہ فارم ہاؤس کی شان میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔
عمارت کے ایک طرف بڑا سا سوئمنگ پول تھا اور دوسری طرف کھلا ہوا سرسبز لان، جہاں آج رات امن کی جیت کی تقریب سجائی گئی تھی۔
لان میں جگہ جگہ کرسیاں، میزیں اور کھانے پینے کے اسٹال لگے ہوئے تھے۔ روشنیوں سے پورا باغ جگمگا رہا تھا اور اردگرد موجود سیکیورٹی گارڈز ہر آنے جانے والے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
مگر اس وسیع و عریض فارم ہاؤس کے پیچھے، جہاں روشنیوں کا سلسلہ ختم ہوتا تھا، وہاں گھنے درختوں اور جھاڑیوں سے بھرا ایک سنسان علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ وہ جگہ اتنی گھنی تھی کہ چند قدم اندر جانے کے بعد فارم ہاؤس تقریباً نظروں سے اوجھل ہو جائے۔..
لان میں ایک طرف لائیو باربی کیو چل رہا تھا، تو دوسری طرف ہلکی موسیقی ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھی۔
شہر کی کئی معروف سیاسی شخصیات، کاروباری افراد اور خاندان کے قریبی لوگ دعوت میں شریک تھے۔
جیسے ہی امن کی گاڑی فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوئی…
مہمانوں کی نظریں بےاختیار اُس کی طرف اٹھ گئیں۔
مبارک ہو وزیر صاحب…
الیکشن جیتنے کی بہت بہت مبارک ہو…
ہر طرف سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
امن ہر ایک سے مسکرا کر مل رہا تھا۔
مگر اُس کی نظریں مسلسل اِدھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔
جشن اپنی جگہ…
لیکن ریپر کے بعد وہ اب کسی بھی جگہ کو مکمل محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔
امل گاڑی سے اتری تو یسریٰ فوراً اُس کے برابر آ کر کھڑی ہو گئی۔
آئراہ نے خاموشی سے پورے فارم ہاؤس کا جائزہ لیا۔
اُس کی نظریں مہمانوں پر کم…
اور اُن کے ہاتھوں، جیبوں اور حرکات پر زیادہ تھیں۔
زرقان بھی بظاہر سب سے ہنس کر مل رہا تھا…
مگر حقیقت میں وہ ہر ملازم، ہر گارڈ اور ہر داخلی راستے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
دوسری طرف سنان…
ہال میں داخل ہوتے ہی سیدھا فوڈ سیکشن کی طرف مڑ گیا۔ اور جلدی سے کولڈ ڈرنک کی بوتل اُٹھا لی۔۔۔
دور کھڑا زرقان اُسے دیکھ کر زیرِلب بولا،
سالہ نالائق۔۔۔
تھوڑی دیر بعد امن سب مہمانوں کے درمیان آ کر کھڑا ہو گیا۔
اُس کے ہاتھ میں مائیک تھا۔
چند میڈیا چینلز کے رپورٹرز اور کیمرہ مین بھی فوراً
امن کے سامنے موجود جگہ سنبھال کر کھڑے ہو گئے۔
کیمرے ایک ساتھ اُس کی طرف اٹھ گئے۔
امن نے سیاہ شلوار قمیض کے اوپر کریم رنگ کا نفیس کوٹ پہن رکھا تھا۔
پُراعتماد شخصیت، پُرسکون لہجہ اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ...
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولنا شروع کیا۔
سب سے پہلے…
میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
آپ لوگوں نے مجھ پر اعتماد کیا…
مجھے اس قابل سمجھا… اور آج مجھے یہ مقام دیا۔
یہ جیت صرف میری نہیں… یہ آپ سب کی جیت ہے۔
آپ کے اعتماد، آپ کی دعاؤں اور آپ کی امیدوں کی جیت ہے۔
میں جانتا ہوں…
الیکشن جیتنا آسان مرحلہ نہیں تھا۔
مگر اصل امتحان آج سے شروع ہوتا ہے۔
میں آپ سب سے وعدہ کرتا ہوں…
میں کسی جماعت، کسی خاندان یا کسی خاص طبقے کا نمائندہ نہیں…
بلکہ اس شہر کے ہر اُس انسان کا نمائندہ ہوں جس نے مجھ پر یقین کیا۔
اور جس نے نہیں بھی کیا…
اُس کے لیے بھی میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔
اور میں پوری کوشش کروں گا کہ کبھی آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے۔
مجھے آپ کی دعاؤں کی ضرورت پہلے بھی تھی…
اور آج بھی ہے۔
امید ہے…
آپ میرا ساتھ اسی طرح دیتے رہیں گے۔
یہ کہتے ہی پورا فارم ہاؤس تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔
فلیش لائٹس ایک بار پھر مسلسل چمکنے لگیں، جبکہ میڈیا کے کیمرے اُس کے ہر لفظ کو محفوظ کر رہے تھے۔
ابھی کل تک میڈیا پر میری بہن کے لاپتہ ہونے کی خبر چل رہی تھی…
اور آج…
وہ میرے ساتھ، میرے سامنے کھڑی ہے۔
اس کے لیے میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔
آپ سب کی فکر، آپ سب کی دعاؤں اور کوششوں کا بہت بہت شکریہ۔
یہ کہتے ہوئے امن نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے امل کو اپنے پاس بلایا۔
امل آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اُس کے برابر آ کر کھڑی ہو گئی۔
اُس کے نمودار ہوتے ہی میڈیا کے تمام کیمرے بےاختیار اُس کی طرف گھوم گئے۔
فلیش لائٹس مسلسل چمکنے لگیں۔ اُس نے آف وائٹ رنگ کا نہایت نفیس سوٹ پہن رکھا تھا، جس پر سنہری موتیوں اور باریک گوٹے کی ہلکی کڑھائی کی گئی تھی، گلابی، آسمانی اور ہلکے جامنی رنگوں کا دوپٹہ اُس کے کندھوں پر خوبصورتی سے ڈھلا ہوا تھا، جبکہ کلائیوں میں سنہری چوڑیاں اور ہاتھ میں دل کی شکل کا چھوٹا سا سنہری پرس تھا۔ کمر تک بکھرے ہلکے لہردار بال، آنکھوں میں باریک سا کاجل اور سبز و بھورے رنگ کی بلی جیسی آنکھیں اُس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھیں۔
امن نے ایک نظر اپنی بہن کو دیکھا، پھر دوبارہ مائیک کی طرف رخ کیا۔
یہ سب…
ہمارے ملک کے سیکریٹ ایجنٹ ڈیپارٹمنٹ اور پولیس آفیسرز کی محنت کی وجہ سے یہ سب ممکن ہو سکا۔
میں دل سے اُن سب کا شکر گزار ہوں۔
سیکریٹ ایجنٹس کا تو میں نام نہیں لے سکتا… البتہ سر ظفر اور اُن کی پوری ٹیم کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
مجمع میں کھڑے ظفر نے جیسے ہی اپنا نام سنا تو اُس کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
وہ آہستہ سے خود کلامی کرنے لگا۔
یہ ہماری تعریف کیوں کر رہا ہے…؟
جبکہ اس کی بہن کو تو ہم نے بازیاب ہی نہیں کروایا…
اُس کے برابر میں کھڑے رشید صاحب نے چونک کر ظفر کو دیکھا۔
سر…؟ آپ؟ آپ تو آنے والے نہیں تھے۔
ظفر نے نظریں اسٹیج سے ہٹائے بغیر جواب دیا۔
ہاں… لیکن افتخار صاحب کی خاص کال آ گئی تھی۔
اس لیے آنا پڑا۔
ادھر امن نے دوبارہ مائیک سنبھالا۔
اور یہاں ہمارے ساتھ سر ظفر اور اُن کی پوری ٹیم بھی موجود ہے۔۔۔
اتنا کہنا تھا کہ تقریب میں موجود تمام رپورٹرز اور اینکرز فوراً ظفر کی طرف لپکے۔
درجنوں مائیک ایک ساتھ اُس کے سامنے آ گئے۔
سر… آپ نے ریپر جیسے خطرناک مجرم کے چنگل سے سر امن کی بہن کو کیسے نکالا؟
کیا یہ کوئی خفیہ آپریشن تھا؟
کیا ریپر تک پہنچنے کا کوئی سراغ مل گیا ہے؟
ظفر نے پرسکون انداز میں سب کی طرف دیکھا۔
اس بارے میں… میں تفصیل سے کسی اور دن بات کروں گا۔ فی الحال… آج خوشی کا دن ہے۔ آئیے، اسے سوالوں میں ضائع نہیں کرتے۔
ظفر کے جواب کے ساتھ ہی میڈیا کا رخ دوبارہ اسٹیج کی طرف ہو گیا۔
امن نے مائیک مضبوطی سے تھاما۔
جس طرح آج…
میں اپنی بہن کو واپس لانے میں کامیاب ہوا ہوں…
بالکل اسی طرح…
میں اس شہر کو بھی ہر اس شخص سے محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری جان لگا دوں گا…
جو اس کے امن، اس کے سکون اور اس کے لوگوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
اور… ریپر ہو یا اُس جیسا کوئی اور…
اب اُن کے لیے اس شہر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
امن کے آخری جملے کے ساتھ ہی پورا فارم ہاؤس زور دار تالیوں سے گونج اٹھا،
چند ہی لمحوں بعد امن نے میڈیا والوں سے کیمرے بند کرنے کی درخواست کی۔
چونکہ یہ بات صرف وہاں موجود لوگوں کے لیے تھی، اس لیے میڈیا بھی احتراماً پیچھے ہٹ گیا۔
پورے لان میں خاموشی چھا گئی۔
امن نے ایک نظر اپنے سامنے موجود ہر شخص پر ڈالی۔
اُس کی پارٹی کے کارکن… پولیس افسران… سرکاری عہدیدار… اور اُس کے قریبی لوگ… سب کی نظریں اُسی پر جمی تھیں۔
امن نے پُرسکون مگر مضبوط لہجے میں کہنا شروع کیا۔
آج یہاں میری ٹیم کا ہر کارکن، پولیس آفیسرز، اور میرے تمام قریبی لوگ موجود ہیں۔
میں آپ سب سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔
جیسی زندگی آپ اب تک جیتے آئے ہیں… وہ آپ جی چکے۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں کون ایماندار ہے… اور کون نہیں۔
کون اپنے فرض کے ساتھ مخلص ہے… اور کون اپنے ضمیر کا سودا کر چکا ہے۔
وہ چند لمحوں کے لیے رکا۔ پورا ماحول خاموش تھا۔
لیکن… میں آج کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروں گا۔ یہ سنتے ہی کئی لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔
امن نے اُن کے تاثرات پڑھ لیے۔
کیونکہ… ہر انسان کو خود کو بدلنے کا ایک موقع ضرور دینا چاہیے۔۔۔
آپ سب جانتے ہیں… مجھے جھوٹ، رشوت، بےایمانی اور اختیار کا ناجائز استعمال کرنے والے لوگ کبھی پسند نہیں آئے۔
اس لیے… آج کے بعد خود کو بدل لیجیے۔
ایمانداری کے ساتھ میرا ساتھ دیجیے۔
ورنہ
امن کی آواز پہلے سے زیادہ سخت ہو گئی۔ اگر آپ خود کو نہیں بدلیں گے… تو میں آپ کو کسی اور سے بدل دوں گا۔
کئی چہروں کی مسکراہٹیں مدھم پڑ چکی تھیں۔
سب جانتے تھے… امن دھمکیاں نہیں دیتا تھا۔
جو کہتا تھا… کر کے دکھاتا تھا۔
امن ابھی خاموش ہی ہوا تھا کہ اچانک شیشے کے ٹوٹنے کی آواز پورے لان میں گونج اٹھی۔
سب چونک کر آواز کی سمت مڑے۔
سنان کے ہاتھ سے کولڈ ڈرنک کی بوتل نیچے گر کر ٹوٹ چکی تھی۔
ٹھنڈی ڈرنک لان کے فرش پر پھیل گئی…
چند لمحوں کے لیے پورا لان خاموش ہو گیا۔
سب کی نظریں بےاختیار سنان پر جم گئیں۔
سنان نے پہلے ٹوٹے ہوئے شیشے کو دیکھا، پھر سب کی طرف معصوم سا چہرہ بنا کر بولا،
ارے… ایسے نہ دیکھیں پیار ہوجائے گا ہم سے۔۔۔
اُس کا معصوم انداز دیکھ کر کئی لوگ بےاختیار ہنس پڑے۔
امن نے بھی مسکراہٹ دباتے ہوئے سر ہلایا۔
تم بھی نا…
سنان نے کندھے اچکائے، جیسے اس میں اُس کا کوئی قصور ہی نہ ہو۔
پھر بالکل سکون سے قریب رکھی کولڈ ڈرنک کی دوسری بوتل اٹھا لی۔
امل نے یہ منظر دیکھا تو فوراً بولی،
بس بھی کریں… کتنی کولڈ ڈرنک پئیں گے آپ؟
زرقان نے فوراً طنزیہ انداز میں کہا،
پینے دو… یہ یہاں صِرف کولڈ ڈرنک ہی تو پینے آیا ہے۔۔۔
سنان نے بوتل کا ڈھکن کھولتے ہوئے جواب دیا،
ہاں تو… تو اپنا کام کر۔
زرقان نے اُسے گھورا۔
وہی تو کر رہا ہوں۔ مجھے مت سکھا۔
سنان نے ایک گھونٹ بھرا اور بےنیازی سے بولا،
ابے جا…
یہ سنتے زرقان نے گہرا سانس لیا۔
اسے اب یقین ہونے لگا تھا… ریپر کو پکڑنا شاید آسان ہو… لیکن سنان کو برداشت کرنا نہیں۔
اسی دوران چند قریبی لوگوں کی نظریں بار بار سنان اور زرقان کی طرف اٹھیں، جو کچھ فاصلے پر کھڑے اپنی اپنی دنیا میں مصروف تھے۔
ایک شخص نے آخرکار امن سے پوچھ ہی لیا۔
امن… یہ دونوں کون ہیں؟ پہلے تو کبھی اِنہیں یہاں نہیں دیکھا۔
امن نے ایک نظر سنان اور زرقان کی طرف ڈالی، پھر بالکل اطمینان سے جواب دیا۔
یہ میرے چچا کے بیٹے ہیں… حیدر اور علی۔ دونوں لندن میں پڑھ رہے ہیں اور وہیں سیٹل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ابھی بس چند مہینوں کے لیے پاکستان آئے ہیں، پھر واپس چلے جائیں گے۔
سامنے کھڑے شخص نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اُس کے چہرے پر اب بھی ہلکی سی الجھن تھی۔
اتنے میں ایک اور قریبی ساتھی نے قدرے حیرت سے پوچھ لیا۔
مگر افتخار صاحب کا تو ہمیشہ سے ایک ہی بیٹا تھا نا؟
پھر یہ دونوں اچانک کہاں سے آ گئے؟
ایک اور شخص نے فوراً بات سنبھالی۔
ہاں… یہی بات تو ہے۔ ہم نے تو کبھی میڈیا میں بھی نہیں سنا کہ اُن کے دو اور بیٹے ہیں۔
امن نے اُن کی طرف دیکھا۔ چہرے پر وہی پُرسکون مسکراہٹ تھی۔
ہر بات میڈیا کو بتانا ضروری تو نہیں ہوتی۔
وہ میرے چچا کے بیٹے ہیں اور میرے لیے میرے بھائیوں جیسے ہیں۔ بس اتنا کافی ہے۔
بات سادہ تھی، مگر اُن لوگوں کے تجسس کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکی۔

++++++++++++++

امل نے سنان کے ہاتھ میں ایک اور کولڈ ڈرنک کی بوتل دیکھی تو بےاختیار بول اٹھی،
کچھ کھا بھی لیں…
صرف کولڈ ڈرنک ہی پیتے رہیں گے؟
اتنے میں پیچھے سے نہات کی آواز آئی۔
سرمئی رنگ کے کوٹ پینٹ میں ملبوس وہ آہستہ آہستہ اُن کی طرف بڑھا۔
گھر جا کر اپنا صدقہ دے دینا۔ جس طرح لوگ تمہیں دیکھ رہے تھے… نظر تو پکی لگ گئی ہوگی۔
امل کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
ہیں… سچی بھائی؟ میں اتنی پیاری لگ رہی ہوں؟
نہات چہرے پر اچانک ناگواری اُبھر آئی
نہیں… میں تو یسریٰ کو کہہ رہا تھا۔
امل کے برابر کھڑی یسریٰ کی بےاختیار ہنسی نکل گئی، مگر اُس نے فوراً ہونٹ دبا لیے۔
نہات نے اُسے دیکھ کر کہا،
دیکھو… سادی میں بھی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔
یسریٰ نے فخر سے گردن اکڑائی۔
میں تو ہوں ہی پیاری۔
اس بار امل اپنی ہنسی نہ روک سکی۔
نہات نے بےبسی سے سر ہلایا۔
ایک تو تم لڑکیاں بھی نا…
امل نے فوراً کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا،
اب یہاں ہمارے علاوہ کوئی تیسری لڑکی نہیں ہے۔۔
اب یہ مت بولیے گا کہ میں کسی اور کو کہہ رہا تھا
اچھا یہ سب چھوڑو.. نہات نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اپنے کوٹ کی طرف اشارہ کیا۔
یہ بتاؤ، میں کیسا لگ رہا ہوں؟
امل نے اُسے سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا، پھر سنجیدگی سے بولی،
کُچھ خاص نہیں۔۔۔ کچھ نیا چینج لے کر آیا، اپنے اندر۔۔
نہات نے فوراً انگلی اٹھا کر خبردار کیا۔
دیکھو… تم بھی اب مُجھے اپنے بھائی کی طرح ہی یہ مت کہنا… کہ یہاں اتنی ساری اچھی اچھی لڑکیاں آئی ہوئی ہیں، کسی ایک کو پسند کر کے شادی کر لیں۔
امل نے فوراً ہنسی دباتے ہوئے کہا،
کیوں؟ بھائی نے یہی کہا تھا کیا؟
نہات نے لمبا سانس بھرا۔
نہ پوچھ… پارٹی میں آتے ساتھ تین بار یہی سن چکا ہوں۔ اب چوتھی بار سننے کی ہمت نہیں ہے۔
امل زور سے ہنس پڑی۔۔
تو پھر کر لیں شادی… مسئلہ کیا ہے؟
نہات نے فوراً دونوں کان پکڑ لیے۔
اللہ معاف کرے… تمہیں میری سکون کی زندگی اچھی نہیں لگ رہی۔۔۔
امل نے فوراً شرارتی انداز میں کہا،
نہیں نا… ہم تو چاہتے ہیں، ہمارے علاوہ بھی کوئی ہو… جو آپ کو تنگ کرے۔
مجھے تو پہلے ہی معلوم تھا… تم دونوں بہن بھائی ہو ہی میرے دشمن۔
یسریٰ جو اب تک خاموش کھڑی تھی، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
اگر آپ دونوں اجازت دیں… تو میں بھی کچھ بولوں؟
امل نے فوراً ہاتھ سے اشارہ کیا۔
ہاں ہاں…
بولو۔
یسریٰ نے نہات کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے…
یہ شادی کرنے پر اس لیے راضی نہ ہوں کہ اِنہیں پہلے سے ہی کوئی پسند ہو۔
یہ سنتے ہی سنان کے کان جیسے کھڑے ہو گئے۔
اوہہ… ہاں! سمجھ گیا میں۔۔۔
نہات نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا،
کیا سمجھا؟
سنان نے فوراً گانا چھیڑ دیا۔
میرا دل جس دل پہ فدا ہے… وہ شادی شدہ ہے… دو بچوں کی ماں ہے…
سنان کے گاتے ہی امل اور یسریٰ اپنی ہنسی نہ روک سکیں۔
دونوں زور زور سے ہنسنے لگیں۔
یہ گانا گانے کا وقت ہے؟ اور وہ بھی یہی والا؟ نہات نے چڑ کر کہا۔۔۔
سنان نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
ارے بھائی… سچ کہہ دو۔ اب تو سب کو پتہ چل چکا ہے۔۔۔
نہات نے حیران ہو کر پوچھا،
کیا پتہ چل گیا؟
سنان نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا،
یہی… کہ جسے تم پسند کرتے تھے… اُس کی شادی ہو گئی۔ اور اب اُس کے دو بچے بھی ہیں۔ تُمہاری محبت ادھوری رہ گئی۔۔۔ تبھی تُم آج تک اُس کی یاد میں سنگل پھر رہے ہو۔
نہات نے فوراً اُسے گھورتے کہا
استغفراللہ… پاگل ہے کیا تو؟
سنان نے بےفکری سے جواب دیا،
نہیں…
امل کی ہنسی اچانک رک گئی۔
وہ حیرت سے نہات کی طرف مڑی۔
نہات بھائی…؟ کیا… سچ میں؟
نہات نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں! توبہ کرو… تم بھی اِس پاگل کی باتوں پر یقین کر رہی ہو؟
سنان نے منہ بنایا۔
دیکھا… سچی محبت کرنے والے ہمیشہ ایسے ہی مکر جاتے ہیں۔
یہ لوگ ابھی ہنسی مذاق میں مصروف ہی تھے کہ اچانک یسریٰ کی نظر دور کھڑے امن پر جا ٹھہری۔
امن اس وقت آئراہ کے ساتھ کسی بات میں مصروف تھا۔
یسریٰ کی نظریں چند لمحوں تک دونوں کے درمیان گھومتی رہیں۔
پھر اُس نے ہلکا سا ہونٹ بھینچا، جیسے دل میں کوئی بات کھٹک گئی ہو۔
اُس نے فوراً امل کی طرف رخ کیا۔
آپ یہیں رہیں… میں ابھی آئی۔
امل نے حیرانی سے پوچھا،
کہاں جا رہی ہو؟
یسریٰ نے نظریں چرائیں۔
بس… ایک کام ہے۔ ابھی آئی۔
یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے وہاں سے نکل گئی۔
امل نے چند لمحے اُس کی جاتی ہوئی پشت کو دیکھا، پھر کندھے اچکا کر دوبارہ سب کی باتوں میں مصروف ہو گئی۔

++++++++++++++

آئراہ ابھی امن سے بات کر کے پیچھے ہٹی ہی تھی کہ اچانک کسی نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
وہ ایک دم چونک گئی۔
کون ہے…؟
مگر جواب دینے کے بجائے وہ شخص اُسے زبردستی اندر کی طرف کھینچنے لگا۔
آئراہ نے فوراً اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی۔
مگر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اُس کی ایک نہ چلی۔ وہ بےاختیار اُس شخص کے ساتھ اندر کی طرف بڑھتی چلی گئی۔
جیسے ہی وہ ایک نسبتاً سنسان جگہ پر پہنچے، اُس شخص نے اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
اور آئراہ کی طرف پلٹا۔۔ اُس شخص کو دیکھتے ہی ائراہ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
وہ کوئی اور نہیں… آفیسر ظفر تھے۔
آئراہ نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔
سر…؟
مگر ظفر کے چہرے پر حیرت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ شدید غصے میں تھا۔ اور نہ ہی
اُسے اپنے اس جارحانہ رویّے پر ذرا بھی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔
اچانک اُنہوں نے ہاتھ بڑھایا اور آئراہ کے چہرے سے اُس کا ماسک اتار دیا۔
کیا کر رہی ہو تم یہاں؟
ہاں؟
آئراہ نے بےاختیار اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنا چہرہ چھپانا چاہا۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے گھبراہٹ اُتری۔
ظفر کی آواز مزید سخت ہو گئی۔
تمہاری ممی کی طبیعت خراب تھی نا؟
تمہیں اُن کی خدمت کرنی تھی نا؟
یا پھر…
تمہیں امن کی حفاظت کرنی تھی؟
آئراہ نے ہلکا سا سانس لیا۔
ممی کی طبیعت اب بہتر ہے۔ اور میں یہاں اپنی ڈیوٹی پر ہوں۔
ڈیوٹی؟ ظفر کے لہجے میں طنز اتر آیا۔
کس نے اجازت دی تمہیں یہ ڈیوٹی کرنے کی؟
میں نے منع کیا تھا نا؟
آئراہ نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ہاں۔ منع کیا تھا۔
پھر بھی تم نے میری بات نہیں مانی؟
نہیں مانی۔
ظفر نے غصے سے ہاتھ اٹھایا۔
آئراہ نے فوراً اپنا ہاتھ آگے کر کے خود کو بچایا، لیکن  ظفر کا ہاتھ اُس کے بجائے پیچھے دیوار سے جا ٹکرایا۔
تمہیں اپنے کیریئر کی کوئی پرواہ نہیں؟
آئراہ نے ایک لمحے کے لیے نظریں جھکائیں۔
ہے… لیکن۔۔
ظفر نے اُس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
تمہیں پتا ہے، اُس انسان سے میں کتنی نفرت کرتا ہوں؟
اور تم… تم اُسی کے ساتھ کھڑی ہو؟
تم اُس کی حفاظت کر رہی ہو؟
ہاں۔ تو کیا ہوا؟ آپ اُس سے نفرت کرتے ہیں…
میں نہیں کرتی۔۔۔
ظفر چند لمحے اُسے گھورتا رہا۔
پھر اُن کا لہجہ قدرے دھیما، مگر پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گیا۔
بس۔جو ہو گیا، سو ہو گیا۔
اب میں تمہارا سایہ بھی اُس کے آس پاس نہیں دیکھنا چاہتا۔
آئراہ نے فوراً جواب دیا۔
اور اگر دیکھ لیا تو؟
ظفر کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔
تو میں تمہارا قتل کر دوں گا۔
آئراہ ایک لمحے کو ساکت ہوئی، مگر اگلے ہی لمحے اُس کے اندر کا غصہ اُس کے خوف پر غالب آ گیا۔
یہ میری زندگی ہے، میری مرضی ہے،
آپ مجھ پر اس طرح چیخ نہیں سکتے،
اور میں کس کے ساتھ رہوں اور کس کے ساتھ نہیں اس کا فیصلہ بھی آپ نہیں کر سکتے۔۔۔
میں اُن کے ساتھ رہوں گی… اُن کی حفاظت بھی کروں گی۔ آپ کو جو کرنا ہے کر لیجیے۔ میری نوکری ختم کرنی ہے؟
کر دیجیے۔
I don’t care!
یہ کہتے ہوئے آئراہ نے ظفر کو ایک طرف دھکیلا اور وہاں سے جانے کے لیے قدم بڑھایا۔
مگر…
ظفر کی اگلی بات نے اُس کے قدم وہیں روک دیے۔
But I care…
آئراہ کی پشت اُن کی طرف تھی۔
اُس کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
ظفر نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا،
اگر تم نے میری بات نہیں مانی…
تو میں امن کو تمہاری ساری سچائی بتا دوں گا۔
آئراہ کی آنکھیں فوراً پھیل گئیں۔
اُس نے آہستہ سے پلٹ کر ظفر کی طرف دیکھا۔
ظفر اُس کے چہرے پر آنے والی تبدیلی دیکھ چکے تھے۔
اور جب اُسے سچ پتہ چلے گا نا…
تو پتا ہے وہ کیا کہے گا؟
کہ گارڈ مجھے اور بھی مل جائیں گے۔
تم اپنی ڈیوٹی نبھاؤ۔ جو تمہارا کام ہے…
وہی کرو۔
آئراہ کے چہرے سے جیسے سارا رنگ اتر گیا۔
ظفر اُس کے قریب سے گزرتے ہوئے روکا…
چپ چاپ یہ سب چھوڑ دو۔ کل سے پولیس اسٹیشن آ جانا۔
یہ کہہ کر وہ اُس کے برابر سے گزر گئے۔
آئراہ وہیں کھڑی رہ گئی۔ نہ اُس نے ظفر کو روکا…
نہ کچھ کہا
بس خاموشی سے اُس راستے کو دیکھتی رہی جہاں سے ظفر ابھی ابھی جا چکا تھا۔
اُس کے دل میں عجیب سی گھٹن پھیل گئی۔
محبت کی اُڑان ابھی تو اُس نے بھری ہی تھی…
اور ابھی ہی اُس کے پر کاٹ دیے گئے تھے،
ایک ہی لمحہ… ایک ہی دھمکی…
اور وہ جیسے آسمان سے سیدھی زمین پر آ گری۔

++++++++++++++

امل تھوڑی دیر بعد امن کے پاس آئی۔ اُس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی، پھر اچانک کچھ یاد آنے پر بولی،
ہنزہ نہیں آئی بھائی…؟
امن نے بےفکری سے جواب دیا،
نہیں… اُس کا بھائی تو آیا ہے۔ جاؤ، اُس کے بھائی سے پوچھ لو۔
امل نے فوراً پوچھا، کہاں ہے؟
امن نے ہاتھ کے اشارے سے دور کھڑے ارباز کی طرف اشارہ کیا۔
امل نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
بھائی… یہ یہاں؟
امن نے ہلکے سے سر ہلایا۔
ہاں۔ یہ بزنس مین ہے نا…
اِس نے ہماری پارٹی میں انویسٹ کیا ہے۔
امل نے اثبات میں سر ہلایا۔
اوہ… اچھا اچھا۔ میں اُس سے پوچھ کر آتی ہوں۔
وہ جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ امن کی نظر اچانک اُس پر پڑی۔
ایک منٹ… یسریٰ کہاں ہے؟
امل نے پلٹ کر جواب دیا،
وہ ابھی اندر گئی ہے۔
امن نے بےاختیار اندر کی طرف دیکھا۔
کہاں؟ اندر کیوں گئی ہے وہ؟
امل ابھی جواب دینے ہی والی تھی کہ اُسی وقت یسریٰ واپس آتی دکھائی دی۔
ہلکے رنگ کے لان کے لباس میں ملبوس، حسبِ معمول اُس کی مختصر فراک اور گلے میں لپٹا دوپٹہ، وہ پارٹی کے لحاظ سے کُچھ خاص تیار نہیں ہوئی تھی، وہ اس گھر میں ملازمہ تھی اور خود کو ملازمہ ہی رہنے دیا تھا
یسریٰ نے محسوس کیا کہ امن کی نظریں اُس پر ہی تھیں۔
وہ چند لمحوں کے لیے حیران ہوئی، پھر قریب آ کر پوچھا، کیا ہوا؟
امن نے فوراً پوچھا،
کہاں گئی تھی؟
اندر۔ یسریٰ نے بالکل سادہ جواب دیا۔
امن نے قدرے سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔
تمہیں کہا تھا نا… امل کے ساتھ ساتھ رہنا۔
یسریٰ نے فوراً جواب دیا،
ہاں تو… واش روم گئی تھی۔
اب واش روم بھی اِسے ساتھ لے کر جاؤں؟
امن نے اُسے گھورا۔
میں نے یہ نہیں کہا۔
یسریٰ نے فوراً جواب دیا،
کہنے کا مطلب تو وہی تھا آپ کا۔
امن نے ہلکا سا سر جھٹکا۔
تمہیں زیادہ پتہ ہے۔
یسریٰ کے منہ سے بےاختیار نکلا،
آپ کا سب پتہ ہے۔
امن نے فوراً اُسے دیکھا۔
امل بھی چونک کر یسریٰ کی طرف متوجہ ہوئی۔
کیا؟
یسریٰ ایک لمحے کو اٹکی، پھر فوراً بات سنبھالتے ہوئے بولی،
مطلب… کچھ نہیں بھئی۔ چلو تم۔
اُس نے امل کا ہاتھ پکڑا اور اُسے اپنے ساتھ لے جانے لگی۔
دونوں ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھیں کہ یسریٰ کی نظر سامنے کھڑے ظفر پر پڑی۔
ظفر خاموشی سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
یسریٰ نے اُسے ایک نظر دیکھا، پھر ذرا رک کر بولی،
ایکسکیوز می… سائیڈ پلیز۔
ظفر نے بغیر کچھ کہے دونوں کو دیکھا اور خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔
یسریٰ امل کو ساتھ لیے وہاں سے گزر گئی۔
کچھ دور آنے کے بعد امل نے آہستہ سے کہا،
کتنی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ہمیں۔
یسریٰ نے بےزاری سے جواب دیا،
ہاں… مرد ذات ہے نا۔
امل نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
مطلب؟
یسریٰ نے کندھے اچکائے۔
مطلب… مرد ذات ایسے ہی ہوتے ہیں۔
امل نے فوراً پوچھا،
عجیب نظروں سے گھورنے والے؟
یسریٰ نے اُس کی طرف دیکھا۔
نہیں… گندی نظروں سے گھورنے والے۔
امل چند لمحے خاموش رہی، پھر معصومیت سے بولی،
لیکن میرے بھائی تو کسی کو ایسے نہیں گھورتے۔
یسریٰ کے لبوں پر بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اُن کی تو بات ہی الگ ہے۔
امل نے یسریٰ کو ایک نظر دیکھا۔
اُمم… اُمم…
یسریٰ نے فوراً اُسے گھورا۔
بدتمیزی نہیں…
امل اپنی ہنسی دباتے ہوئے مسکرا دی۔
ہاہاہا…
اچھا وہ دیکھو، ہنزہ کے بھائی۔
اُن کے پاس چلیں، مجھے ہنزہ کے بارے میں پوچھنا ہے۔
یسریٰ نے اثبات میں سر ہلایا۔
چلو۔
دونوں آہستہ آہستہ ارباز کی طرف بڑھ گئیں۔
کچھ ہی دیر بعد وہ ارباز کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں۔
ارباز ہلکے نیلے رنگ کے کوٹ پینٹ میں ملبوس تھا۔ ایک ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا جبکہ دوسرے ہاتھ اُس کے جیبوں کے اندر تھا، اور وہ سامنے کھڑے شخص سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
امل اور یسریٰ نے قریب پہنچ کر دھیمی آواز میں سلام کیا۔
السلام علیکم…
مگر ارباز سامنے والے شخص کی بات میں اس قدر محو تھا کہ شاید اُس نے اُن کی آواز سنی ہی نہیں۔
امل نے ایک نظر یسریٰ کی طرف دیکھا۔
یسریٰ نے بھی خاموشی سے کندھے اچکا دیے۔
دونوں وہیں کھڑی ہو گئیں اور ارباز کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگیں۔
امل کبھی ارباز کو دیکھتی…
کبھی یسریٰ کو… جبکہ یسریٰ کی نظر ہر طرف دوڑ رہی تھی۔۔۔۔
ارباز کی توجہ ابھی تک سامنے کھڑے شخص کی باتوں پر ہی تھی۔ وہ مسلسل اُس سے گفتگو میں مصروف تھا کہ اچانک اُس شخص نے نگاہوں ہی نگاہوں میں اُسے سامنے کھڑی امل اور یسریٰ کی طرف متوجہ کیا۔
ارباز نے ذرا ترچھی نظروں سے دونوں کی طرف دیکھا۔
یسریٰ اُسی وقت امل کو سامنے کی طرف کچھ دکھا رہی تھی، جسے دیکھ کر امل ہلکی ہلکی ہنس رہی تھی۔
ارباز نے اُن دونوں کی طرف پوری توجہ کی، پھر سامنے والے شخص سے بات ختم کر کے اُن کی طرف متوجہ ہوا۔
جی…؟
امل فوراً سیدھی ہو گئی۔
وہ ہنزہ کہاں ہے؟ وہ نہیں آئی؟
ارباز نے ہلکا سا سر ہلایا۔
نہیں… اُس کی طبیعت کچھ ڈاؤن تھی۔
امل کے چہرے پر فوراً فکر مندی آ گئی۔
کیا ہوا اُسے؟ ٹھیک تو ہے نا وہ؟
ارباز نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا،
ہاں، ٹھیک ہے۔
بس طبیعت کچھ خراب تھی، دوا دے دی ہے میں نے۔
اب سو رہی ہے۔
صبح تک ان شاءاللہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔
امل نے قدرے اطمینان کا سانس لیا۔
اچھا… صبح جب وہ ٹھیک ہو جائے نا تو اُسے بولیے گا مجھ سے ملنے آئے۔ پچھلی بار میں اُس کے پاس نہیں پہنچ سکی تھی… اور اُسے میری طرف سے سوری بھی بول دیجیے گا۔
اُس نے تھوڑا رک کر پھر پوچھا،
ٹھیک ہے نا وہ؟
ہمم… وہ ٹھیک ہے۔ ڈونٹ وری۔
امل نے اچانک سامنے دیکھا اور مسکرا کر بولی،
اچھا، ہم آپ کو زیادہ ڈسٹرب نہیں کرتے۔
آپ آرام سے بات کریں۔
پھر اُس نے یسریٰ کا ہاتھ پکڑا۔
چلو۔
دونوں وہاں سے پلٹنے لگیں۔
وہ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر جیسے خود ہی اپنی نظروں کو جھٹک کر دوبارہ سامنے کھڑے شخص کی طرف متوجہ ہو گیا۔

++++++++++++++

پارٹی میں ہر شخص اپنی اپنی مصروفیت اور خوش گپیوں میں مگن تھا۔ کہیں قہقہے گونج رہے تھے، کہیں لوگ آپس میں باتوں میں مصروف تھے، جبکہ دوسری طرف موسیقی کی ہلکی آواز بھی ماحول کو خوشگوار بنائے ہوئے تھی۔
مگر…
اگلے ہی لمحے یہ خوشگوار ماحول ایک ایسی دہشت میں بدل گیا جس کا کسی نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔
اچانک…
گولی چلنے کی آواز پورے فارم ہاؤس میں گونج اٹھی۔
مین انٹرنس پر موجود چند گارڈز کو کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ ایک کے بعد ایک گولیاں اُن کی طرف آئیں، کئی گارڈز زمین پر جا گرے، جبکہ باقی نے فوراً اپنی بندوقیں نکال لیں۔
چیخیں بلند ہوئیں۔
ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔
لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ کچھ نے میزوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی، تو کچھ اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے ہوئے چیخ رہے تھے۔
اور پھر…
اسی وقت فارم ہاؤس کی پچھلی بیرونی دیوار کے قریب سے بھی مسلح افراد اندر داخل ہونے لگے۔
گارڈز نے فوراً اپنی بندوقیں نکال لیں۔
چند ہی لمحوں میں فضا گولیوں کی آواز سے گونجنے لگی۔
ایک طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی، دوسری طرف سے جوابی فائرنگ۔
زمین پر بےجان جسم گرنے لگے۔
خوشیوں سے بھرا وہ فارم ہاؤس چند لمحوں میں میدانِ جنگ بن چکا تھا۔

+++++++++++++++

حملہ شروع ہوتے ہی یسریٰ کے قدم جیسے وہیں جم گئے۔
ایک لمحے کے لیے اُسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے۔
چاروں طرف چیخیں تھیں… گولیوں کی آوازیں تھیں…
لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔
اُسی لمحے ایک گولی اُن کے قریب سے گزری اور پیچھے کھڑی میز کے شیشے سے جا ٹکرائی۔
شیشہ چھن سے ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔
امل گھبرا کر چیخی۔
بھائی…
یسریٰ نے فوراً اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
ادھر آئیے….
وہ اُسے اپنے پیچھے کرتے ہوئے قریب کھڑی ایک بڑی میز کے پیچھے لے گئی۔
امل بری طرح کانپ رہی تھی۔
یہ… یہ کیا ہو رہا ہے؟
یسریٰ نے جھک کر باہر کی طرف دیکھا۔
اُس کی نظریں تیزی سے پورے لان کا جائزہ لے رہی تھیں۔
مسلح افراد مختلف سمتوں سے اندر آ چکے تھے۔
گارڈز اُنہیں روکنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر فائرنگ مسلسل جاری تھی۔
یسریٰ نے فوراً امل کے کندھے پکڑے۔
آپ یہاں سے بالکل نہیں نکلیں گی۔
لیکن بھائی…
نہیں….
یسریٰ کی آواز پہلی بار اتنی سخت ہوئی کہ امل خاموش ہو گئی۔
آپ میرے ساتھ رہیں گی۔
جہاں میں جاؤں گی… آپ وہیں جائیں گی۔
امل نے گھبرا کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
امن بھائی کہاں ہیں؟
یسریٰ نے فوراً سر اٹھایا۔
اُس کی نظریں بےاختیار امن کو تلاش کرنے لگیں۔
کچھ فاصلے پر امن لوگوں کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
اُس کے ساتھ آئراہ بھی تھی۔۔۔
اللّٰہ کرے گولی اسے لگ ہی جائے۔۔۔
یسریٰ نے آئراہ کو دِل ہی دل میں گلی دیا۔۔۔
پھر اُس نے امل کو اپنے قریب کھینچ لیا۔
چلیں۔۔۔
کہاں؟
اندر۔۔۔۔
یسریٰ نے اردگرد دیکھا۔
مرکزی عمارت کا داخلی دروازہ ابھی نسبتاً محفوظ تھا، مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے کھلا ہوا لان عبور کرنا تھا۔
اُس نے گہری سانس لی۔
پھر امل کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
میرے پیچھے رہیے گا۔ اور جو بھی ہو… میرا ہاتھ مت چھوڑنا۔
امل نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
دونوں جھک کر میزوں کے درمیان سے آگے بڑھنے لگیں۔
ایک طرف گولیاں چل رہی تھیں۔ دوسری طرف لوگ چیخ رہے تھے۔ ہر طرف بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔
یسریٰ بار بار پیچھے مڑ کر امل کو دیکھ رہی تھی کہ وہ اُس کے ساتھ ہے یا نہیں۔
اچانک… ایک گولی اُن کے بالکل قریب سے گزری۔
امل خوف سے چیخ اُٹھی۔
یسریٰ نے فوراً اُسے اپنی طرف کھینچ کر زمین پر جھکا دیا۔
نیچے۔۔
دونوں چند لمحے وہیں دبک کر بیٹھ گئیں۔
یسریٰ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
مگر اُس کی گرفت ابھی بھی امل کے ہاتھ پر مضبوط تھی۔
اُس نے آہستہ سے اُس کی طرف دیکھا۔
ڈریں نہیں…
اُس کی اپنی آواز بھی ہلکی سی کانپ رہی تھی۔
کچھ نہیں ہوگا آپ کو۔
امل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اگر… اگر بھائی کو کچھ ہو گیا تو؟
یسریٰ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی۔
پھر اُس نے یقین سے کہا،
انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ وہ امن بھائی ہیں… وہ خود کو بھی بچا لیں گے، اور سب کو بھی بچا لیں گے۔
مگر یہ کہتے ہوئے یسریٰ کی اپنی نظریں ایک بار پھر بےاختیار امن کو تلاش کرنے لگیں۔
اور اگلے ہی لمحے… اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
امن جس سمت کھڑا تھا…
اُسی سمت ایک مسلح شخص تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
یسریٰ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
امن سر۔۔۔۔
مگر شاید امن نے اُس کی آواز نہیں سنی تھی۔
وہ مسلح شخص تیزی سے امن کی طرف بڑھ رہا تھا۔
یسریٰ نے ایک لمحے کے لیے امل کو دیکھا۔
پھر بغیر کچھ سوچے اُس کا ہاتھ چھوڑ کر کھڑی ہو گئی۔
آپ یہیں رہیں۔۔۔
یسریٰ… کہاں جا رہی ہو؟
بس… ایک منٹ۔۔۔۔
وہ جھک کر تیزی سے آگے بڑھی۔
مگر ابھی وہ چند قدم ہی آگے گئی تھی کہ ایک گولی اُس کے قریب زمین میں آ لگی۔
یسریٰ ایک دم رک گئی۔
اُس کا دل زور سے دھڑکا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے ہمت جمع کی اور دوبارہ امن کی طرف دیکھا۔
مسلح شخص اب اُس سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔
امن کسی دوسرے شخص کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
اُسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ خطرہ کس سمت سے اُس کے قریب آ چکا ہے۔
یسریٰ کی آنکھوں میں خوف اُتر آیا۔
امن سر۔۔۔۔
اس بار اُس کی آواز بلند تھی۔
امن نے چونک کر اُس سمت دیکھا۔
اُس کی نظر جیسے ہی مسلح شخص پر پڑی، اُس کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
وہ ایک جھٹکے سے ایک طرف ہٹا۔
گولی اُس کے بالکل قریب سے گزرتی ہوئی پیچھے کھڑے ایک گارڈ کے بازو کو چھوتی چلی گئی۔
گارڈ لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑا۔
امن۔۔۔
آئراہ فوراً اُس کی طرف بڑھی۔
امن نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے روک دیا۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔
اُس نے فوراً اپنی جیب سے پستول نکالی۔
مگر اُس سے پہلے ہی ارحم دوسری سمت سے آگے بڑھ چکا تھا۔
سر، آپ امل کو لے کر اندر جائیں۔۔
امن نے فوراً جواب دیا۔
پہلے سب لوگوں کو محفوظ کرو۔۔۔
میں سنبھال لیتا ہوں۔
ارحم نے ایک نظر سامنے موجود مسلح افراد پر ڈالی۔
آپ فکر نہ کریں۔
وہ آگے بڑھ گیا۔
ادھر یسریٰ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔
امن کی نظر اُس پر پڑی تو اُس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
یسریٰ۔۔
یسریٰ چونکی۔
جی…؟
امل کے پاس جاؤ۔۔۔
لیکن…
ابھی۔۔۔
امن کی آواز میں ایسی سختی تھی کہ یسریٰ فوراً پلٹ گئی۔
وہ واپس امل کی طرف بھاگی۔
امل ابھی بھی میز کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔
یسریٰ اُس کے پاس پہنچ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
چلیں۔۔۔
امل نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
امن بھائی ٹھیک ہیں نا؟
یسریٰ نے ایک لمحے کے لیے پیچھے دیکھا۔
امن اب مسلح افراد کا سامنا کر رہا تھا۔
ہاں… اُس نے خود کو مضبوط کرتے ہوئے کہا۔
وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ہمیں بس اُن کی بات ماننی ہے۔
دونوں جھک کر میزوں اور کرسیوں کی اوٹ لیتے ہوئے عمارت کی طرف بڑھنے لگیں۔
چاروں طرف گولیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
ہر فائر کے ساتھ امل چونک جاتی۔
یسریٰ اُسے اپنے جسم کی آڑ میں رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔
اچانک ایک گولی اُن کے بالکل قریب سے گزری۔
امل کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
یسریٰ نے فوراً اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
شش۔۔۔
آواز نہیں۔
اُس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔
چند لمحے انتظار کیا…
پھر امل کو ساتھ لیے دوبارہ آگے بڑھ گئی۔
بالآخر دونوں عمارت کے اندر داخل ہو گئیں۔
مگر اندر کا منظر بھی باہر سے کچھ کم خوفناک نہیں تھا۔
ہال میں موجود لوگ اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔
کچھ ملازم دروازے بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ سیکیورٹی گارڈز حملہ آوروں کو روکنے میں مصروف تھے۔
یسریٰ نے فوراً امل کو اپنے پیچھے کر لیا۔
دادی جان کہاں ہیں؟
امل نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔
پتا نہیں…
وہ تو ابھی باہر ہی تھیں۔
یسریٰ نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
پھر اُس نے فیصلہ کیا۔
چلو… پہلے دادی جان کو ڈھونڈتے ہیں۔
دونوں تیزی سے اندر کی طرف بڑھیں۔
چند قدم آگے ہی گئی تھیں کہ سامنے سے انیسہ بیگم گھبرائی ہوئی حالت میں آتی دکھائی دی۔
امل کی آنکھیں فوراً پھیل گئیں۔
دادی!
وہ بھاگ کر اُن کے پاس گئی۔
انیسہ بیگم نے اُسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
امل۔۔۔
تم ٹھیک ہو؟
کہاں تھی تم؟
میں ٹھیک ہوں دادی…
امل نے اُنہیں مضبوطی سے پکڑ لیا۔
یسریٰ بھی فوراً اُن کے پاس پہنچ گئی۔
دادی جان، ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔
ابھی وہ تینوں چند قدم ہی آگے بڑھی تھیں کہ اچانک باہر سے فائرنگ کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ قریب سنائی دی۔
اور پھر…
عمارت کے مرکزی دروازے پر زور دار دھماکا ہوا۔
سب چونک اٹھے۔
اگلے ہی لمحے چند مسلح افراد اندر داخل ہو گئے۔
ہال میں موجود لوگوں کی چیخیں بلند ہو گئیں۔
مگر اُن کے سامنے اچانک ایک شخص آ کر کھڑا ہو گیا۔
سنان۔ اُس کے ہاتھ میں پستول تھی،
اُس نے حملہ آوروں کو دیکھا۔
پھر ایک سرد مسکراہٹ اُس کے لبوں پر ابھری۔
لگتا ہے…
آج کولڈ ڈرنک کے بجائے کچھ اور ہی پینا پڑے گا۔
ایک حملہ آور نے اُس پر فائر کیا۔
سنان فوراً ایک طرف ہوا۔
جوابی فائر کی آواز گونجی۔
پہلا حملہ آور زمین پر جا گرا۔
باقی دونوں نے فوراً سنان کو گھیرنے کی کوشش کی۔
سنان نے ایک ستون کی آڑ لی اور تیزی سے دونوں کا مقابلہ کرنے لگا۔
یسریٰ نے ایک لمحے کے لیے پورے ہال پر نظر دوڑائی۔
پھر اچانک اُس کی نظر عمارت کے پچھلے حصے کی طرف گئی۔
وہاں ایک راہداری تھی جو واش رومز کی طرف جاتی تھی۔
اُس کے ذہن میں فوراً ایک راستہ آیا۔
میرے ساتھ آئیں۔
کہاں لے جا رہی ہو؟
پیچھے کی طرف۔
یسریٰ نے انیسہ بیگم کا ہاتھ تھاما اور دوسری طرف امل کو اپنے ساتھ کر لیا۔
وہ تینوں جھک کر راہداری کی طرف بڑھنے لگیں۔
پیچھے سنان مسلسل مسلح افراد کو روکے ہوئے تھا۔
گولیوں کی آوازیں اُن کے قدموں کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔
اچانک ایک گولی دیوار سے ٹکرائی۔
امل گھبرا کر رک گئی۔
یسریٰ۔
چلو۔
یسریٰ نے اُس کا ہاتھ کھینچا۔
رکنا نہیں ہے۔۔۔
وہ تینوں واش روم کے قریب پہنچ گئیں۔
یسریٰ نے فوراً دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔
انیسہ بیگم نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
یہاں؟
یسریٰ نے جلدی سے واش روم کے آخری حصے کی طرف اشارہ کیا۔
یہاں سے باہر جانے کا راستہ ہے۔
امل نے چونک کر اُسے دیکھا۔
تمہیں کیسے پتا؟
یسریٰ نے جواب نہیں دیا۔
بس جلدی سے ایک طرف موجود کھڑکی نما راستہ کھولا۔
باہر اندھیرا تھا۔ اور اُس اندھیرے کے پار…
وہی گھنا جنگل پھیلا ہوا تھا جو فارم ہاؤس کی پچھلی طرف واقع تھا۔
یسریٰ نے پہلے انیسہ بیگم کو باہر نکالا۔
پھر امل کا ہاتھ پکڑا۔
آہستہ… گرنا مت
دونوں باہر آ گئیں۔
یسریٰ نے ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر عمارت کی طرف دیکھا۔
گولیوں کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔
اُس کی آنکھوں کے سامنے امن کا چہرہ آ گیا۔
دل چاہا واپس جائے…
مگر امل اور انیسہ بیگم اُس کے ساتھ تھیں۔
اُس نے اپنے دل کو مضبوط کیا۔
اور پھر دونوں کو لے کر آگے بڑھنے لگی۔۔۔

++++++++++++++

حیدر
زرقان نے بلند آواز میں اُسے پکارا۔
کام ہو گیا؟
وہ فارم ہاؤس کے مرکزی داخلی دروازے کے قریب چُھپا تھا۔۔۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد گھر کے اندر سے سنان کی آواز آئی۔
ہاں… ہو گیا۔۔۔
اگلے ہی لمحے ایک وائر دروازے کے اندر سے زرقان کی طرف اچھالا گیا۔
زرقان نے فوراً اُسے پکڑ لیا۔
اُس نے ایک نظر وائر کو دیکھا، پھر سوئمنگ پول کی طرف دیکھا۔
اُس کے چہرے پر ایک سنجیدہ سی مسکراہٹ ابھری۔
وہ تیزی سے پول کے قریب گیا۔
پھر وائر کو پول کے پانی میں ڈال دیا۔
چند لمحوں کے لیے اُس نے پول کی طرف دیکھا، پھر فوراً پلٹ کر قریب موجود ایک مسلح شخص کی طرف بڑھا۔
اُس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، زرقان نے پیچھے سے اُسے قابو کیا اور اُس کے ہاتھ سے بندوق چھین لی۔
اگلے ہی لمحے اُس نے بندوق سوئمنگ پول میں پھینک دی۔
پھر وہ دوسرے مسلح شخص کی طرف لپکا۔
ایک لمحے میں اُس کے ہاتھ سے بھی ہتھیار چھین لیا۔
یہ بھی گئی۔۔۔
دوسری بندوق بھی اُس نے پول میں اچھال دی۔
اب زرقان تیزی سے ایک کے بعد ایک حملہ آور کے قریب جا رہا تھا۔
کسی کے ہاتھ سے بندوق چھینتا…
کسی کو پیچھے سے قابو کرتا…
اور پھر اُس کا ہتھیار پول میں پھینک دیتا۔
ایک اور بندوق پانی میں جا گری۔
اور یہ بھی۔۔۔
پول کا پانی مسلسل اچھل رہا تھا۔
دور موجود چند پولیس اہلکار اور سیکیورٹی گارڈز حیرت سے زرقان کو دیکھ رہے تھے۔
زرقان نے اُن کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں چلایا۔
تم لوگ بھی اِن سے بندوقیں چھین کر ادھر پھینکو۔۔۔
پولیس اہلکاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
پھر ایک ایک کر کے مسلح افراد کے پیچھے سے بچتے بچاتے اُن سب کی بندوقیں پول میں پھینکنے لگے۔
کچھ ہی دیر میں پول کے اندر ہتھیاروں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔
مگر حملہ آور بھی اب اس صورتحال کو سمجھنے لگے تھے۔
اچانک ایک مسلح شخص کی نظر پول کے اندر موجود بندوقوں پر پڑی۔
وہ فوراً اُن کی طرف لپکا۔
رکو…
زرقان نے بلند آواز میں چیخ کر اُسے روکنے کی کوشش کی۔
مگر وہ شخص پانی کے قریب پہنچ چکا تھا۔
اُس نے جھک کر پول کے اندر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کے پورے جسم میں شدید جھٹکا دوڑ گیا۔
آآآہ…
وہ ایک زوردار چیخ کے ساتھ پیچھے جا گرا۔
اُس کے ہاتھ سے ہتھیار چھوٹ گیا۔
دوسرا حملہ آور یہ منظر دیکھ کر ایک لمحے کے لیے وہیں رک گیا۔
کیا ہوا اُسے؟
زرقان نے دور سے ہی سخت لہجے میں کہا۔
جو بھی اُس پانی کو چھوئے گا، اُس کا یہی حال ہوگا..
حملہ آوروں میں بےچینی پھیل گئی۔
اب اُن کے سامنے مسئلہ صرف پولیس اور گارڈز نہیں تھے…
دوسری طرف ایک پولیس اہلکار ایک حملہ آور سے الجھ رہا تھا۔
حملہ آور نے موقع دیکھ کر اُس کی بندوق چھیننے کی کوشش کی۔
زرقان نے فوراً بیچ میں آ کر وہ ہتھیار بھی چھین لیا۔
یہ تمہارے ہاتھ نہیں لگنی چاہیے۔
اور اگلے ہی لمحے وہ بندوق بھی پول میں جا گری۔
اب صورتحال بدل چکی تھی۔
زرقان اور پولیس اہلکار صرف حملہ آوروں کو روک نہیں رہے تھے…
بلکہ اُن کے ہاتھوں میں موجود ہر ہتھیار ایک ایک کر کے ختم کر رہے تھے۔
حملہ آوروں نے بھی یہ بات سمجھ لی۔
چنانچہ اُن میں سے چند نے پولیس اہلکاروں اور گارڈز کو ہی قابو کرنے کی کوشش شروع کر دی تاکہ اُن کی بندوقیں چھین سکیں۔
مگر زرقان پہلے ہی اُن کی چال سمجھ چکا تھا۔
کسی کو اپنی بندوق مت دینا…
وہ بلند آواز میں چلایا۔
اگر یہ لوگ تمہاری طرف آئیں تو پیچھے ہٹنا…
ہتھیار اُن کے ہاتھ نہیں لگنا چاہیے..
پولیس اور گارڈز نے فوراً اپنی پوزیشن بدل لی۔
اب جو بھی حملہ آور کسی پولیس اہلکار یا گارڈ کی طرف بڑھتا…
وہ اُس کا راستہ روکنے کے بجائے اُسے پیچھے ہٹنے کا موقع دیتے۔
زرقان نے ایک نظر پورے لان میں دوڑائی، پھر زیرِلب بڑبڑایا،
بیوقوف سالے… سب کے سب۔
اگلے ہی لمحے اُس نے صرف دو سیکنڈ میں خود کو مکمل طور پر حملہ آوروں کے حلیے میں ڈھال لیا۔
اب اُسے دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اُن میں سے نہیں ہے۔
پھر وہ تیزی سے ایک پولیس اہلکار کی طرف بڑھا اور اُس کے ہاتھ سے بندوق چھین لی۔
اگلے ہی لمحے بندوق سیدھی سوئمنگ پول میں جا گری۔
زرقان نے دوسرے گارڈ کی طرف رخ کیا۔
اُس کے ہاتھ سے بھی بندوق چھینی اور اُسے بھی پول میں پھینک دیا۔
زرقان کو یہ کرتے دیکھ کر باقی حملہ آور بھی چونک گئے۔
اُنہیں لگا شاید یہی حکم ہے کہ سب کے ہتھیار ختم کر دیے جائیں۔
چنانچہ وہ بھی ایک ایک کر کے پولیس اہلکاروں اور گارڈز کے ہاتھوں سے بندوقیں چھیننے لگے۔
اور پھر…
ایک کے بعد ایک ہتھیار سوئمنگ پول میں پھینکا جانے لگا۔
چند ہی لمحوں میں زرقان کی چال کامیاب ہو چکی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر، اب مزید لوگوں کی جانیں بچنے لگی تھیں۔
اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ کسی کو یہ اندازہ تک نہیں ہوا کہ زرقان یہ سب جان بوجھ کر کروا رہا تھا، تاکہ مزید خون خرابہ نہ ہو۔

++++++++++++++

یسریٰ نے ایک نظر امل اور دادی جان کی طرف دیکھا۔
فائرنگ کی آوازیں اب اندر سے سنائی نہیں دے رہی تھیں، مگر اُن کے اردگرد چند لمحوں کے لیے نسبتاً سکون تھا۔
اُس نے دھیمی آواز میں کہا،
آپ دونوں یہیں رہیں۔۔۔
امل نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
کہاں جا رہی ہو؟
یسریٰ نے فارم ہاؤس کے دوسری طرف موجود پارکنگ کی سمت اشارہ کیا۔
میں پارکنگ کی طرف سے کوئی گاڑی لے کر آتی ہوں۔
امل کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
لیکن کیسے؟
اور کس کی گاڑی لے کر آؤ گی؟
یسریٰ نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا۔
پھر اچانک اُس نے اپنا ہاتھ اوپر کیا اور اپنی مٹھی کھول دی۔
مٹھی کھولی تو چابی اُس کے اُنگلی میں پھنسی لٹانے لگی۔۔۔
امل نے حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں۔
یہ۔۔۔؟
یسریٰ نے چابی کو ایک نظر دیکھا، پھر بےفکری سے کندھے اچکا دیے۔
یہ نہیں پتا کس کی ہے۔۔۔
پھر اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
لیکن گاڑی ڈھونڈ لوں گی۔ کِسی کی تو ہوگئی ہی۔۔
امل نے حیرت سے پوچھا،
تمہارے پاس یہ آئی کہاں سے؟
یسریٰ نے ہلکا سا مسکرا کر کہا،
بس… آ گئی نا۔
پھر اُس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
ابھی میں گاڑی لے کر آتی ہوں۔
وہ دیکھو۔۔۔
جنگل سے آگے ایک سیدھی سڑک تھی۔۔۔ لیکن ان سے بہت دور تھی۔۔۔
یسریٰ نے اُس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
جب تمہیں وہاں سے گاڑی کی لائٹس کی روشنی دکھائی دے تو دادی جان کو لے کر فوراً یہاں سے نکل آنا۔
امل نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
لیکن وہاں خطرہ ہے۔۔۔
یسریٰ نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
ہوگا۔۔۔ لیکن اتنا نہیں جتنا گھر کے اندر ہے۔ اور میں خطرو کی کھلاڑی ہوں۔۔۔ تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
گھر کے اندر حملہ آور موجود ہیں۔ پارکنگ کی طرف شاید کوئی نہ ہو۔
میں چپکے سے جاؤں گی۔۔۔ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔
امل ابھی بھی مطمئن نہیں تھی۔
لیکن یسریٰ۔۔۔
یسریٰ نے نرمی سے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
فکر مت کرو۔
میں ابھی آتی ہوں۔
انایسہ بیگم کافی دیر سے اپنی جگہ کھڑی کچھ پڑھ رہی تھیں۔
اُن کے لب مسلسل ہل رہے تھے اور انگلیاں بھی آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔
شاید وہ اپنے رب سے اُن سب کی حفاظت مانگ رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد اُن کی تلاوت مکمل ہوئی۔
انہوں نے ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے اور پھر جیسے ہی اُن کی نظر یسریٰ پر پڑی،
وہ آہستہ آہستہ یسریٰ کے قریب آئیں۔
یسریٰ نے بھی فوراً اُن کی طرف دیکھا۔
انایسہ بیگم نے بغیر کچھ کہے اُس کے محبت سے اُس پر پھونک ماری۔
یسریٰ کی آنکھیں بےاختیار نم ہو گئیں۔
اُسے دنیا میں اگر کسی ایک چیز کی سب سے زیادہ تمنا تھی…
تو وہ بزرگوں کی یہی محبت تھی۔
وہ محبت… جس میں کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
کوئی حساب نہیں ہوتا۔ بس ایک بےلوث اپنائیت ہوتی،
وہ اپنائیت جو انسان کو بنا کسی وجہ کے اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
جس کی ڈانٹ میں بھی یسریٰ کو محبت محسوس ہوتی تھی…
جس کے ہاتھ کے لمس میں بھی ایک عجیب سا سکون چھپا ہوتا تھا۔
بزرگ بھی تو ایسے ہی محبت کرتے تھے…
بالکل اپنے بچوں کی طرح۔ کبھی ڈانٹ دیتے، کبھی سمجھاتے، کبھی دعائیں دیتے… اور کبھی بس یونہی اپنے قریب بٹھا لیتے۔
یسریٰ کو سب سے زیادہ اگر کسی چیز سے عشق تھا…
تو وہ پیسہ تھا۔
مگر اگر بات اِن بزرگوں کی محبت کی آتی…
تو وہ اپنی ساری دولت بھی اُن کی ایک دعا کے صدقے میں وار دیتی۔
کیونکہ اُس کے لیے…
دنیا کی ہر کامیابی ایک طرف تھی…
اور بزرگوں کی محبت، اُن کی دعائیں اور اُن کا ہاتھ سر پر ہونا ایک طرف۔
آخر اُن کی محبت سے بڑھ کر تو کوئی کامیابی نہیں تھی۔۔
انیسہ بیگم نے اُس کے گال پر ہاتھ پھیرا اور دھیرے سے بولیں،
اب جا۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا تجھے۔ اللہ تیرے ساتھ ہے۔
یسریٰ نے اُن کی طرف نم آنکھوں سے دیکھا۔
پھر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر پھیل گئی۔
اُس نے خاموشی سے سر ہلایا۔
اور چابی اپنی مٹھی میں مضبوطی سے تھام کر پارکنگ کی طرف بڑھ گئی۔

++++++++++++++

ادھر فارم ہاؤس کے اندر صورتحال مزید سنگین ہو چکی تھی۔
گولیوں کی آواز اب روک چکی تھی لیکن اب بندوق ہاتھ سے جانے کے بعد ہاتھا پائی شروع ہو گئی تھی۔
حملہ آوروں کے ہتھیار چھین لیے گئے تھے، مگر وہ پھر بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔
کوئی کسی پر جھپٹ رہا تھا، کوئی مکے برسا رہا تھا، تو کہیں دو لوگ ایک دوسرے کو قابو کرنے میں مصروف تھے۔
حملہ آور نہ ختم ہو رہے تھے…
نہ ہی بھاگنے کا نام لے رہے تھے۔۔۔
سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اُن کا مقصد کیا تھا…؟
وہ یہاں صرف حملہ کرنے نہیں آئے تھے…
کیونکہ اگر مقصد صرف قتل و غارت ہوتا تو اتنی دیر تک اِس طرح ڈٹے رہنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

امن نے ایک حملہ آور کو پیچھے دھکیلتے ہوئے چند لمحوں کے لیے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔
اُس کی نظریں بےاختیار اپنے نہات کو تلاش کرنے لگیں۔
نہات…؟
وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔
امن نے دوبارہ پورے لان کا جائزہ لیا، مگر نہات کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
اُس نے فوراً زرقان کو تلاش کیا۔ زرقان بھی غائب تھا۔
امن کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
علی…؟
مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
حیدر…؟
وہ بھی کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
امن نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔
یہ سب کے سب کہاں غائب ہو گئے ہیں؟
چند لمحے پہلے تک تو سب اُس کے آس پاس موجود تھے…
اور اب جیسے ایک ایک کر کے سب نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔
امن کے دل میں ایک انجانا سا خدشہ جاگا۔
اُس نے مزید ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔
اور تیزی سے فارم ہاؤس کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گیا۔

++++++++++++++

یسریٰ کو گئے ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا۔
انیسہ بیگم اور امل دونوں کی بےچینی اب بڑھنے لگی تھی۔
بار بار اُن کی نظریں اُس راستے کی طرف اٹھ جاتیں جہاں سے یسریٰ نے گاڑی لانے کے لیے جانے کا کہا تھا۔
مگر نہ تو اب تک گاڑی کی کوئی آواز سنائی دی تھی…
نہ ہی سڑک کی طرف سے گاڑی کی روشنی دکھائی دی۔
امل نے بےچینی سے کہا،
دادی… یسریٰ ابھی تک نہیں آئی۔
انیسہ بیگم نے بھی تشویش سے اُس طرف دیکھا۔
آئی کیوں نہیں ابھی تک…؟
چند لمحے وہ خاموش رہیں، پھر اچانک بولیں،
اچھا… ہم خود دیکھ کر آتے ہیں۔
امل فوراً اُن کے سامنے آ گئی۔
نہیں دادی! وہاں خطرہ ہے۔
انیسہ بیگم نے بےبسی سے ہاتھ پھیلا دیے۔
اے… تو ہم کیا کریں؟
یہیں بیٹھتے ہیں۔ امل نے فوراً جواب دیا۔
نہیں۔۔۔ انیسہ بیگم نے دوٹوک انداز میں کہا۔
اے ہم جا رہے ہیں۔ تجھے چلنا ہے تو چل، ورنہ تو یہیں بیٹھی رہ۔ ہم اکیلے جا رہے ہیں۔
امل نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔
لیکن آپ جائیں گی کہاں؟
انیسہ بیگم نے ایسے دیکھا جیسے سوال ہی عجیب ہو۔
اے… اُس کو ڈھونڈنے جائیں گے اور کہاں۔۔۔
لیکن دادی، آپ کیسے جا سکتی ہیں؟
انیسہ بیگم نے فوراً اپنے قدم آگے بڑھائے۔
کیوں؟ میرے پاؤں ٹوٹا ہوا ہے۔۔؟؟
پھر امل کی طرف ہاتھ کرتے ہوئے بولیں،
تو پیچھے ہٹ…
وہ آگے بڑھنے لگیں تو امل نے فوراً اُن کا بازو پکڑ لیا۔
دادی، رُک جائیں۔۔۔
انیسہ بیگم نے اُسے گھورا۔
اے… ہاتھ ہٹا۔۔۔ اور پیچھے ہٹ، ورنہ مار کھائے گی۔۔۔
امل نے ناراضی سے منہ پھیر لیا۔
لیکن دادی…
پھر اُس نے جان بوجھ کر روٹھے ہوئے لہجے میں کہا،
میں نہیں جا رہی۔ آپ جاؤ۔۔۔
شاید امل کو یقین تھا کہ دادی اُسے یوں چھوڑ کر نہیں جائیں گی اور رک جائیں گی۔
مگر انایسہ بیگم نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔
ہاں تو ڈربوک کہیں کی… یہیں بیٹھی رہ۔۔۔
ہم جا رہے ہیں۔۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھ گئیں۔
امل چند لمحوں تک اُنہیں جاتا دیکھتی رہی۔
پھر اچانک اُس کے دل میں خوف اُبھرا۔
دادی…
وہ فوراً اٹھ کر اُن کے پیچھے بھاگی۔
مگر وہ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ…
اچانک پیچھے سے کسی نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔
مممم…
امل کی آواز وہیں دب گئی۔
اُس نے گھبرا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی، مگر اُس شخص کی گرفت مضبوط تھی۔
اُدھر انیسہ بیگم نے چند قدم آگے جا کر محسوس کیا کہ پیچھے سے امل کی آواز نہیں آ رہی۔
انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔
نہ امل… نہ اُس کی آواز۔
انایسہ بیگم نے چند لمحے اُسے ڈھونڈتی نظروں سے دیکھا، پھر بےفکری سے بڑبڑائیں،
ڈربوک کہیں کی…
اُنہیں لگا وہ آئی ہی نہیں۔۔۔ اور یہ سوچ کر وہ یسریٰ کو ڈھونڈنے کے لیے مزید آگے بڑھ گئیں۔

+++++++++++++

ریپر امل کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں مضبوطی سے جکڑے اُسے دیوار سے لگا کر کھڑا تھا۔
اُس کی وحشت زدہ آنکھیں امل کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، جبکہ امل بھی کسی خوف کے بغیر اُسی تیزی سے اُسے گھور رہی تھی۔
ریپر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
کیسی ہو، گریملن؟
امل نے تیوری چڑھائی۔
کیا مطلب ہے اِس کا؟
ریپر نے قدرے بےفکری سے کہا،
تم نے نکاح کی مبارک باد بھی نہیں دی مجھے…
امل نے فوراً جواب دیا،
میں آپ کو امن بھائی کے جیتنے کی مبارک باد نہ دوں؟
کیا تم میرے سالے کو ہم دونوں کے بیچ سے تھوڑی دیر کے لیے نکال نہیں سکتی ہو؟
امل نے طنزیہ انداز میں اُسے دیکھا۔
ہمارے بیچ سے…؟
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر بولی،
ہمارے بیچ کچھ ہونا بھی چاہیے۔
نکاح تو ہو ہی چکا ہے…. وہ قدرے جھک کر بولا،
رخصتی بھی کر ہی لیں گے۔
رخصتی کا لفظ سنتے ہی امل کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے پھیل گئیں۔.مگر اُس نے فوراً خود کو سنبھالا۔
اب آپ کو مجھے ڈرا کر کیا ملے گا؟
آپ کا مقصد تو میں فیل کر ہی چکی ہوں۔
ریپر نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ سر ہلایا۔
ارے ارے… میں کیوں اپنی چھوٹی سی بیگم کو ڈرانے لگا؟
ریپر کے جملے پر امل کو شدید غصے آیا۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا… پھر بتاتی ہوں میں آپ کو۔
ریپر نے دلچسپی سے پوچھا،
کیا کرو گی؟
امل نے فوراً جواب دیا،
جس بات کا آپ کو ڈر ہے۔
ریپر نے ایک بھنویں ذرا سا اوپر اٹھائیں اور بےنیازی سے بولا،
مجھے کسی بات کا ڈر نہیں۔
ہاتھ چھوڑیں پھر میرا۔
امل نے جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے چیلنجز کیا۔۔۔
ریپر چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس نے واقعی امل کے ہاتھ آزاد کر دیے۔
جیسے اُسے یقین ہو کہ یہ چٹک بھر کی لڑکی آخر اُس چھ فٹ کے فولادی جسم والے آدمی کا بگاڑ ہی کیا لے گی۔
امل نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ہاتھ آگے بڑھایا اور ریپر کے چہرے پر چڑھے سیاہ آدھے ماسک کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
اُس نے پوری طاقت سے ماسک کھینچا۔
ماسک اپنی جگہ سے ذرا سا سرکا ہی تھا کہ امل کی نظریں اُس کے چہرے تک پہنچنے والی تھیں…
مگر اُس سے پہلے ہی ریپر نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے امل کو ایک جھٹکے سے گھما کر اپنی پشت کی جانب کر لیا۔
اب امل کی پشت ریپر کے سینے سے لگی ہوئی تھی، جبکہ اُس کے دونوں ہاتھ ریپر کی مضبوط گرفت میں تھے۔
امل نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، مگر اُس کی ایک نہ چلی۔ وہ مکمل طور پر اُس کے حصار میں آ چکی تھی۔
امل نے گردن موڑ کر اُس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی…
مگر اُس کے چہرے پر سیاہ آدھا ماسک دوبارہ اپنی جگہ موجود تھا۔
اُس کی وحشت زدہ آنکھیں امل کے چہرے کے بالکل قریب تھیں۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے تمہیں میرا چہرے دیکھنے کی۔۔۔ ابھی تو صِرف نکاح ہی ہوا ہے،
وہ ذرا سا جھکا۔ رخصتی ابھی باقی ہے،
امل اُس کی بات سنتے ہی اچانک خاموش ہو گئی۔
نہ اُس نے کوئی جواب دیا، نہ کوئی طنزیہ جملہ بولا۔
بس خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
ریپر نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
کیا ہوا؟
امل پھر بھی خاموش رہی۔
ریپر نے قدرے الجھن سے اُس کے گال پر ہلکی ہلکی تھپکی دی۔
گریملن۔۔۔
امل نے جیسے کسی خیال سے چونک کر آہستہ سے کہا،
یہ۔۔۔ خوشبو۔۔۔
یہ۔۔۔ پرفیوم کی خوشبو۔۔۔
ریپر کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے بےچینی ابھری۔
کیا؟
امل نے اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا،
آپ پارٹی میں موجود تھے؟
یہ سوال سنتے ہی ریپر ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔
اُس نے فوراً امل کو چھوڑ دیا۔
جیسے اُسے اچانک احساس ہوا کہ اگر وہ ایک لمحہ بھی مزید اُس کے قریب رہا تو امل اُس سے جڑی کوئی ایسی بات محسوس کر لے گی جو اُسے نہیں کرنی چاہیے تھی۔
امل نے فوراً پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا۔
آپ۔۔۔؟
مگر اُس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کر پاتی، ریپر نے نہایت تیزی سے اُس کے قریب آ کر اُسے بےہوش کر دیا۔
امل کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں۔
اگلے ہی لمحے اُس کا وجود ریپر کی گرفت میں ڈھلک گیا۔
ریپر نے اُسے سنبھال لیا۔
چند لمحے خاموشی سے اُس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
پھر اُس کی آنکھیں دوبارہ سخت ہو گئیں۔
اِتنا قریب مت آؤ گریملن۔۔۔ ورنہ برباد ہوجاؤ گی۔۔۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *