Bashar Episode 18 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی)

قسط نمبر ۱۸

سمندر کی لہریں مسلسل ساحل سے آ کر ٹکرا رہی تھیں۔ شام کی ہلکی سی ٹھنڈی ہوا میں نمکین خوشبو گھلی ہوئی تھی اور ڈوبتے سورج کی سنہری روشنی پانی کی سطح پر بکھری ہوئی تھی۔ لوگ اپنے اپنے انداز میں ساحل سے لطف اندوز ہو رہے تھے، مگر ہان ووُ اور انشا جیسے باقی دنیا سے بےخبر لہروں کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے۔
کبھی انشا پانی کے قریب چلی جاتی اور اگلی لہر آتے ہی جلدی سے پیچھے ہٹ جاتی، کبھی گیلی ریت پر اپنے قدموں کے نشان دیکھ کر مسکرا دیتی۔
کچھ دیر خاموشی سے چلنے کے بعد ہان ووُ نے آخرکار وہ سوال کر ہی دیا جو نہ جانے کب سے اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔
ہان ووُ نے انشا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
تم نے یہ انگلش والا جھوٹ کیوں بولا؟
انشا نے فوراً نظریں چرا لیں۔
میں نہیں بتا رہی… ٹاپک چینج کر دیں۔
ہان ووُ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیوں بھئی؟
انشا نے کوئی جواب دینے کے بجائے اچانک اپنے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائی۔
اچھا… اب میں بھاگ رہی ہوں، آپ مجھے پکڑیں۔
ہان ووُ ایک لمحے کے لیے اسے دیکھتا ہی رہ گیا، پھر ہلکا سا ہنسا۔
یہ تو ڈراموں میں ہوتا ہے… ایک منٹ، تم کے-ڈراما دیکھتی ہو؟
انشا نے فوراً پلٹ کر اسے دیکھا۔
کیوں؟ میں نہیں دیکھ سکتی؟
ہان ووُ کی حیرت اب پہلے سے زیادہ واضح تھی۔
تم واقعی کے-ڈراما دیکھتی ہو؟
انشا نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔
ہاں بھئی، اس میں کیا ہو گیا؟
پھر ذرا آگے بڑھ کر بولی۔
اب پکڑیں مجھے۔
ہان ووُ نے سر ہلایا۔
یہ سب ڈراموں میں ہوتا ہے۔ اِدھر بھاگو گی تُم، تو گر جاؤ گی۔۔۔
انشا کے چہرے پر شرارت اور گہری ہو گئی۔
ہم رئیل میں کرتے ہیں۔
یہ کہتے ہی وہ اچانک بھاگ پڑی۔
ہان ووُ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر بےاختیار مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے لپک گیا۔
انشا کی ہنسی ساحل کی ہوا میں بکھر گئی۔
وہ کبھی پیچھے مڑ کر ہان ووُ کو دیکھتی اور پھر اپنی رفتار اور تیز کر دیتی۔ ہان ووُ بھی اسے پکڑنے کی کوشش میں اس کے پیچھے بھاگتا رہا۔ لہریں ان کے قدموں کے قریب آ کر واپس پلٹ جاتیں اور گیلی ریت پر ان دونوں کے قدموں کے نشان بنتے اور مٹتے جاتے۔
انشا کے لیے شاید یہ صرف ایک کھیل تھا، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو چکا تھا۔
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ جن مناظر کو وہ کے ڈراموں میں دیکھ کر صرف مسکرایا کرتی تھی، کبھی اپنی زندگی میں بھی ویسے ہی محسوس کرے گی۔
اور وہ بھی… کورین لڑکے ہان ووُ کے ساتھ۔
دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ انشا کی ہنسی میں ایسی بےفکری تھی جیسے دنیا میں اس وقت اس سے زیادہ خوش انسان کوئی اور نہ ہو۔
مگر اچانک گیلی ریت پر اس کا پاؤں پھسلا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی۔
اور نیچے جا گری۔
ہان ووُ فوراً رک گیا۔
انشا زمین پر بیٹھی ہوئی تھی… مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ گرنے کے باوجود وہ ہنس رہی تھی۔
ہان ووُ نے فوراً تشویش سے پوچھا۔
ارے! لگی تو نہیں تمہیں؟
انشا نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
لگی ہے، لیکن مزا آیا۔
ہان ووُ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسے سمجھ ہی نہ آیا ہو کہ چوٹ لگنے میں آخر مزا کس بات کا ہے۔
چوٹ لگنے سے مزا آیا؟
انشا نے ہنسی روکتے ہوئے وضاحت کی۔
ارے بھئی، کھیلنے میں مزا آیا۔
ہان ووُ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔
اچھا…
پھر اس نے اپنا ہاتھ انشا کی طرف بڑھا دیا۔
اب کچھ کھاؤ گی؟
انشا نے چند لمحے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
ہان ووُ نے اسے سہارا دے کر اٹھایا۔
دونوں دوبارہ ساحل پر ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔
ایک طرف شور مچاتی لہریں تھیں، دوسری طرف ڈوبتے سورج کی آخری روشنی…
اور ان دونوں کے درمیان وہ خاموش سی خوشی تھی، جسے نہ انشا نے کبھی نام دیا تھا اور نہ ہان ووُ نے۔

++++++++++++++

ساحل سے واپس لوٹتے لوٹتے انہیں ہوٹل پہنچنے میں دوپہر کے تقریباً تین بج گئے تھے۔
اور انشا کے چہرے پر اب بھی پورے دن کی خوشی صاف جھلک رہی تھی۔
آج نہ جانے کتنے سالوں بعد وہ یوں گھر سے باہر نکلی تھی۔
ورنہ اس کی زندگی تو جیسے چند جگہوں کے درمیان محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
گھر سے ہوٹل.. ہوٹل سے گھر…
اور پھر وہی روزمرہ کی مصروفیات۔
آج پہلی بار اسے لگا تھا جیسے زندگی میں بھی کبھی کبھی کوئی ایسا دن آ سکتا ہے جسے انسان دل کھول کر جی سکے۔
اور شاید اسی لیے ساحل سے واپسی کے باوجود اس کے چہرے سے مسکراہٹ ختم نہیں ہوئی تھی۔
ہان ووُ بھی خاموش تھا، مگر اس کے دل میں آج کی شام کی یادیں مسلسل چل رہی تھیں۔
وہ دونوں جیسے ہی ہوٹل کے اندر داخل ہوئے، ہان ووُ کے قدم اچانک رکنے کو آئے۔
سامنے ہی علیشہ مامی، انشا کا انتظار کرتے ہوئے تیز تیز قدموں سے ادھر اُدھر ٹہل رہی تھیں۔
ان کے چہرے سے غصہ صاف ظاہر ہو رہا تھا۔
انشا نے انہیں دیکھا تو اس کی مسکراہٹ فوراً ہلکی پڑ گئی۔
کیوں ہوا مامی؟
وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ علیشہ مامی تیزی سے اس کی طرف بڑھیں اور اگلے ہی لمحے ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔
ہان ووُ ایک دم چونک گیا۔
اس نے بغیر سوچے فوراً انشا کو ایک ہاتھ سے اپنے پیچھے کیا اور خود علیشہ مامی کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
کیا کر رہی ہیں آپ یہ؟ اُس نے انگریزی میں کہا
علیشہ مامی نے غصے سے اسے گھورا۔
تم ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔ علیشہ مامی نے بھی اُسے انگریزی میں ہی جواب دیا۔۔۔
نہیں ہٹوں گا۔
ہان ووُ کی آواز میں پہلی بار وہ سختی تھی جو شاید اس کے قریبی دوستوں نے بھی کم ہی سنی تھی۔
علیشہ مامی نے اس کے اعتراض کی پروا کیے بغیر اس کے پہلو سے ہاتھ بڑھایا، انشا کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے سامنے کر لیا۔
تم یہ کہاں آوارہ کی طرح پھر رہی تھی؟ معلوم نہیں تمہیں ایک بجے آیان اور عنایہ اسکول سے آتے ہیں۔
ہان ووُ نے فوراً جواب دیا۔
تو وہ ان کی ماں نہیں ہے۔
علیشہ مامی نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
اوہ بھئی، ہو کون تم؟ سامنے سے ہٹو۔ میں اپنی بیٹی سے بات کر رہی ہوں۔
انشا نے فوراً بیچ میں آتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔
آپ جائیں نا… میں دیکھ لوں گی۔
ہان ووُ نے انشا کی طرف دیکھا، پھر دوبارہ علیشہ مامی کی طرف۔
نہیں انشا… میں تمہیں ایسے مصیبت میں اکیلے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔
علیشہ مامی کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
کیا یہ لڑکا تمہارا بوائے فرینڈ ہے؟
انشا کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔
علیشہ مامی بولتی چلی گئیں۔
ایسے تو تم بہت دین دار بنتی پھرتی ہو۔ میرے سامنے روتی ہو کہ مجھے پردہ کرنے دیں… اور اب یہ بوائے فرینڈ؟ تمہیں بوائے فرینڈ بناتے شرم نہیں آئی؟
ہان ووُ نے فوراً وضاحت کی۔
Excuse me،
میں اس کا بوائے فرینڈ نہیں ہوں۔
علیشہ مامی نے اب کی بار قدرے حیرت سے پوچھا۔
تو کیا لگتے ہو تم اس کے؟
یہ سوال سنتے ہی ہان ووُ خاموش ہو گیا۔
اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ انشا کا کچھ لگتا ہی تو نہیں تھا۔ نہ کوئی رشتہ.. نہ کوئی نام…
نہ کوئی حق…
پھر بھی جانے کیوں اس وقت اسے اپنے اور انشا کے درمیان کوئی ایسی ڈور محسوس ہو رہی تھی جسے وہ خود بھی نام نہیں دے پا رہا تھا۔
علیشہ مامی نے اس کی خاموشی کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
دیکھو، مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تمہارا بوائے فرینڈ ہے یا کوئی بھی… تم ہزار بوائے فرینڈ بناؤ، میرے لیے تو اچھا ہے۔ کم از کم تم ہمارے سوشل سرکل میں فِٹ تو لگو گی۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر انشا کو سخت نظروں سے دیکھا۔
لیکن میرے بچوں کے معاملے میں میں کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ تمہیں کہیں جانا بھی تھا تو ایک بجے سے پہلے ہوٹل میں ہونا چاہیے تھا۔
ہان ووُ کی نظریں انشا کی طرف اٹھ گئیں۔
وہ خاموش کھڑی تھی۔ نہ کوئی جواب… نہ کوئی شکایت… اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تک نہیں تھے۔ شاید کچھ آنسو اتنے پرانے ہوتے ہیں کہ آنکھوں تک آنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔
انشا نے دھیمی آواز میں کہا۔
جی… میں آئندہ خیال رکھوں گی۔
علیشہ مامی نے جاتے جاتے ایک بار پھر ہان ووُ کو دیکھا۔
آئندہ خیال رکھنا۔ اور ہاں، یہ اپنے بوائے فرینڈ کو بھی اچھی طرح سمجھا دو کہ کون ہوں میں۔ آئندہ یہ میرے سامنے ایسے نہیں آئے۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئیں۔
ان کے قدموں کی آواز کچھ دیر تک لابی میں گونجتی رہی، پھر آہستہ آہستہ خاموشی میں ڈوب گئی۔
جیسے ہی وہ نظروں سے اوجھل ہوئیں، انشا فوراً اپنے اصل انداز میں واپس آ گئی۔
اس نے ہان ووُ کو گھورا۔
آپ کو کیا ہے؟ کچھ زیادہ ہی مار کھانے کا شوق ہو رہا تھا مامی سے آپ کو بھی؟
ہان ووُ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
تم کیوں ان کے بچوں کا خیال رکھتی ہو؟ تم ان کی ماں تھوڑی ہو۔
انشا نے جیسے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
ارے، آپ کو نہیں پتا میری مامی تھوڑی وہ ہے۔
ہان ووُ نے فوراً پوچھا۔
وہ کیا؟
انشا نے ادھر اُدھر دیکھا، پھر اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنے کان کے قریب آنے کو کہا۔
ہان ووُ ذرا سا جھکا۔
انشا نے اس کے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔
وہ سائیکو۔
ہان ووُ کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ آ گئی۔
اتنے ٹینس ماحول میں بھی اُس نے ہان وو کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی تھی،
انشا پیچھے ہٹی تو وہ ابھی تک مسکرا رہا تھا۔
خیال ویال کوئی نہیں رکھنا ہوتا یہاں۔ سب اسٹاف ہیں ان کا خیال کرنے کے لیے۔ ہر چیز تو ہاتھ میں مل جاتی ہے۔ مُجھے کُچھ کرنا تھوڑی پڑتا۔۔۔
ہان ووُ نے حیرت سے پوچھا۔
تو پھر…؟
انشا نے کندھے اچکائے۔
تو پھر دراصل وہ اپنے بچوں کو ٹائم نہیں دے پاتی نا… تو انہیں پھر غصہ آتا ہے۔
ہان ووُ کے چہرے سے مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔
تو وہ اپنا غصہ تم پر نکالے گی؟ حد ہے۔
اس کے لہجے میں غصہ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
انشا نے فوراً اسے روک دیا۔
زیادہ غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔
ہان ووُ کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر بےاختیار بول اٹھا۔
تم پاگل واگل تو نہیں ہو؟ تم چلو میرے ساتھ۔ میں تمہیں یہاں ایسے نہیں دیکھ سکتا۔
انشا نے اس کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی نرمی تھی، مگر اگلے ہی لمحے اس نے نظریں چرا لیں۔
زیادہ مجھ پر رحم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے نکل گئی۔
ہان ووُ وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
انشا کی پشت آہستہ آہستہ اس سے دور ہوتی گئی۔
وہ چاہتا تھا اسے روک لے۔
کچھ کہے۔
سمجھائے کہ وہ صرف رحم نہیں کر رہا۔
مگر الفاظ جیسے کہیں گلے میں اٹک گئے۔
اس نے بہت دھیمی آواز میں خود سے کہا۔
رحم…؟
نہیں…
محبت۔

+++++++++++++

باقی سب لوگ گھوم پھر کر واپس آ چکے تھے، مگر ہان وو کے قدم جیسے آج کسی ایک جگہ ٹھہرنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی سومین نے اسے دیکھا۔
وہ کبھی کھڑکی کے پاس جاتا، کبھی چند قدم چل کر واپس پلٹ آتا۔ کبھی بے مقصد میز پر رکھی کسی چیز کو دیکھنے لگتا اور پھر اگلے ہی لمحے بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگتا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی الجھن تھی، جیسے ذہن میں کئی سوال ایک دوسرے سے الجھ رہے ہوں اور کسی ایک کا جواب بھی ہاتھ نہ آ رہا ہو۔
سومین نے کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
دل نہیں لگا نا اکیلے؟
ہان وو نے چلتے چلتے رک کر اسے دیکھا۔ چند لمحے خاموش رہا، پھر بے بسی سے سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔
یار… یہ کانٹریکٹ ختم کروا، کچھ کر۔
سومین کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
کون سا کانٹریکٹ؟
ہان وو نے جیسے یقین نہ آنے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
یہ ہمارا جو کمپنی کے ساتھ ہے۔
سومین نے حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں۔
ہیں ہین۔۔۔
ہان وو نے نظریں چرا لیں۔
نہیں تو میں رولز توڑ دوں گا، پھر بھلے مجھے جیل ہو جائے۔
سومین چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہا،
ہیں ہیں… دیکھو تو کون بول رہا ہے! تجھے تو کبھی آج تک اس کانٹریکٹ سے مسئلہ نہیں ہوا۔ اور اب اچانک ایسا کیا ہو گیا؟
وہ آہستہ سے بولا۔
اب ہو گیا نا مسئلہ… اب کچھ سوچ۔
سومین نے ایک گہری سانس لی اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
کچھ نہیں ہو سکتا۔ ابھی دو سال ہیں۔ برداشت کر، پھر  دو سال بعد تو ویسے بھی ختم ہو جائے گا۔
ہان وو نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں بے قراری صاف دکھائی دے رہی تھی۔
برداشت ہی تو نہیں ہو رہا۔۔۔
وہ چند قدم آگے بڑھا، پھر رک کر بولا۔
اور دو سال… دو سال میں تجھے پتا ہے کتنے دن ہوتے ہیں؟
اس کے لہجے میں ایسی بے بسی تھی کہ سومین کی مسکراہٹ بھی ماند پڑ گئی۔
اس نے کچھ دیر ہان وو کو دیکھا، پھر قدرے سنجیدہ ہو کر پوچھا۔
لیکن مسئلہ کس چیز میں ہے؟ آخر چاہیے کیا تجھے؟ دادی کے پاس جانا ہے؟  سومین جانتا تھا ہان وو اپنی دادی سے بہت محبت کرتا تھا، اور اُسے اُن کی یاد بھی بہت آتی تھی، تو ہوسکتا ہے ابھی بھی یاد آرہی ہو، کیوں کہ اس چھٹی میں وہ اپنی فیملی سے ملنے بھی نہیں گیا۔۔۔
ہان وو نے پل بھر کے لیے نظریں جھکا لیں۔
جیسے اگلے چند الفاظ اس کے لیے عام بات نہیں تھے۔
پھر دھیرے سے بولا۔
لڑکی پسند آ گئی ہے۔
ہان وو اتنا کہنا تھا کہ سومین کی آنکھوں کے سامنے اچانک سوہان کی کہی ہوئی بات گردش کر گئی۔
ہان وو کسی فاطمہ نام کی لڑکی کو پسند کرتا ہے…
تو یہ وہی لڑکی تھی۔
سومین نے خود کو سنبھالا اور قدرے بے فکری سے بولا۔
دیکھ، انتظار کر۔ دو سال بعد کر لینا شادی جس سے کرنی ہوگی۔
ہان وو نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
دو دن کی بات تھوڑی ہے… دو سال ہیں۔ پورے دو سال۔۔۔
وہ بے اختیار کمرے میں پھر سے ٹہلنے لگا۔
مجھے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ عجیب مسئلے میں پھنس گیا ہوں میں…
اس کی آواز میں پہلی بار ایسی گھٹن محسوس ہوئی کہ سومین سنجیدہ ہو گیا۔
اس نے آگے بڑھ کر ہان وو کا راستہ روکا۔
کھل کر بتا، مجھے کیا مسئلہ ہے؟
ہان وو خاموش ہو گیا۔
اس کے لب ہلے، مگر آواز جیسے گلے میں ہی اٹک گئی۔
چند لمحوں بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
اس کی فیملی نہیں ہے…
سومین کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
ہان وو نے نظریں اٹھائیں۔
میں چاہتا ہوں… اسے اپنی فیملی دوں۔
سومین کے منہ سے بے اختیار ایک لمبی سانس نکلی۔
وہ چند لمحے ہان وو کو دیکھتا رہا، پھر حیرت اور شرارت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولا۔
اوہ مائی گاڈ…
وہ ذرا سا آگے جھکا۔
مطلب وہ اتنے دنوں میں تیرے دل کے اتنے قریب ہو گئی ہے کہ ڈیٹ یا ریلیشن شپ کُچھ بھی نہیں ڈائریکٹ تو اسے اپنی دادی اور امی بھی دینے لگا؟
ہان وو نے اس بار ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
اس نے بہت سادگی سے جواب دیا۔
ہاں، کیونکہ وہ بس محبت کے لیے بنی ہے، اور محبت ہی ڈیزرو کرتی ہے۔
سومین اسے دیکھتا رہ گیا۔
کبھی کبھی انسان کے چند الفاظ اس کی پوری شخصیت کا راز کھول دیتے ہیں۔
اور آج ہان وو کے ان چند لفظوں نے بھی بہت کچھ کہہ دیا تھا۔
وہ لڑکی صرف اسے پسند نہیں تھی۔
وہ ہان وو کے لیے اب ایک ذمہ داری بن چکی تھی، ایک خواہش، ایک وعدہ… شاید ایک ایسا گھر بھی، جو وہ اسے دینا چاہتا تھا جس کا وہ خود کبھی حصہ نہیں بنی تھی۔
سومین نے آخرکار سر جھٹکا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
چل… سوچتا ہوں میں۔ کیا حال ہے اس کا…
ہان وو نے فوراً کہا۔
سوچ۔
سومین کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، جیسے واقعی کسی سنجیدہ مسئلے کا حل تلاش کر رہا ہو۔
پھر اچانک اس کے ذہن میں کچھ آیا۔
اس نے ہان وو کی طرف دیکھا۔
قرآن نہیں پڑھو؟
ہان وو نے حیرت سے اسے دیکھا، جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو کہ اس وقت سومین کے ذہن میں یہ خیال کیسے آ سکتا ہے۔
ہیں؟ اس وقت قرآن؟
سومین نے پوری سنجیدگی سے سر ہلایا۔
ہاں۔۔۔ پھر قدرے اطمینان سے بولا۔
اس میں باسط نے کہا تھا نا… ہر مسئلے کا حل ہے۔ تو اس مسئلے کا بھی ہوگا۔
ہان وو نے چند لمحے اسے گھورا،
اوئے! اوہ پاگل انسان… وہ مذہبی کتاب ہے۔۔۔
سومین نے فوراً انکار کیا ۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔
ہان وو نے اسے گھورا۔
دِماغ خراب ہوگیا ہے تیرا۔۔۔
سومین نے اس کی بات کو زیادہ سنجیدہ نہ لیتے ہوئے کندھے اچکائے۔
پڑھ کے دیکھ لیتے ہیں نا۔
ہان وو نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر قدرے طنزیہ انداز میں بولا۔
اگر نہیں ہوا جواب تو؟
سومین کے لہجے میں عجیب سا یقین تھا۔
ہوگا…
ہان وو نے فوراً بھنویں اٹھائیں۔
اتنے یقین سے مت کہہ، نہیں تو بعد میں شرمندہ ہونا پڑے گا۔
سومین کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ کہتے ہوئے وہ ہان وو کی جھنجھلاہٹ کو بالکل نظرانداز کرتا ہوا واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
ہان وو نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور بے اختیار سر جھٹک دیا۔
پاگل…
کچھ دیر بعد سومین واپس آیا۔
اس کے چہرے پر وضو کے بعد کی تازگی نمایاں تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ خشک کیے اور مڑا، الماری کھولی اور اندر سے قرآن مجید نہایت احترام کے ساتھ باہر نکال لیا۔
ہان وو کی نظریں فوراً اس پر جا ٹھہریں۔
اس نے حیرت سے آنکھیں سکیڑیں۔
تم واقعی پڑھنے والے ہو؟
سومین نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
ہاں، کیوں؟
تو سچ میں پاگل ہوگیا ہے۔۔۔
سومین نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ قرآن مجید لیے صوفے پر آ بیٹھا اور اسے احتیاط سے اپنے سامنے رکھا۔
ہان وو بھی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
چند لمحوں تک کمرے میں عجیب سی خاموشی چھائی رہی۔
سومین کبھی عربی عبارت پر نظریں جما دیتا، کبھی نیچے موجود ترجمہ پڑھتا۔ اس کی انگلی آہستہ آہستہ صفحے پر چل رہی تھی۔
ہان وو کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر اچانک بولا۔
رک جا… ایسے نہیں پڑھ۔
سومین نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیا۔۔۔
ہان وو اٹھا اور اس کے قریب آ گیا۔
اس نے سومین کے ہاتھ سے قرآن مجید لے لیا، اسے بند کیا اور پھر بیچ سے ایک جگہ سے کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
اب پڑھ۔
سومین نے اسے گھورا۔
ابے، کیا کیا ہے؟
ہان وو نے بے فکری سے کندھے اچکائے۔ اُسے لگا تھا سومین تو قرآن پڑھ چکا ہے تو وہ اپنے مطلب کی جگہ کھول کر اُسے پڑھ کے سنا سکتا ہے، اسی لیے اس نے ایسا کیا،
سومین نے فوراً کتاب کی طرف دیکھا، پھر ہان وو کو غصے سے دیکھا، ہان وو کو لگا اُس نے اس کا سارا پلان خراب کردیا۔۔۔ اب اسی وجہ سے سومین کو غصّہ آرہا ہے، لیکن یہ کیا۔۔؟؟
وضو کے بغیر قرآن اب نہیں پکڑنا۔ سومین کو غصّہ اُس کے بغیر وضو کے قرآن پکڑنے میں آیا،
ہان وو کے چہرے پر حیرت ابھری۔
کیوں؟
سومین نے قدرے سنجیدگی سے قرآن کی طرف دیکھا۔
کیونکہ یہ پاک کتاب ہے۔
ہان وو نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر جیسے بحث ختم کرنے کے لیے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔
اچھا، صحیح صحیح پڑھ۔ اب دیکھتے ہیں جواب ملتا ہے یا نہیں۔
سومین نے ایک گہری سانس لی۔
اس نے اپنی نظریں صفحے پر جمائیں۔
پھر آہستہ سے تلاوت شروع کی۔
چند الفاظ ہی پڑھے تھے کہ اچانک اس کی آواز رک گئی۔
اس کی آنکھیں ایک ہی جگہ ٹھہر گئی تھیں۔
ہان وو نے فوراً اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟
سومین نے انگلی آیت پر رکھ دی۔
اس کے لبوں پر آہستہ آہستہ ایک فاتحانہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
لو… دیکھو۔ مل گیا جواب۔
ہان وو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیا؟
سومین نے آیت کی طرف دیکھا اور واضح آواز میں پڑھا نیچے لکھا انگلش ترجمہ پڑھا۔۔۔
اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔
نکلنے کی راہ… اس نے زیرِ لب دہرایا۔
پھر آہستہ سے ہان وو کی طرف دیکھا۔
یہ دیکھ… نکلنے کی راہ۔
ہان وو کچھ لمحے خاموش رہا۔
اس کی نظریں آیت پر تھیں، مگر ذہن میں صرف ایک ہی بات گردش کر رہی تھی۔
نکلنے کی راہ…
اس نے بے اختیار ہلکی سی سانس لی۔
لیکن اس کا میرے contract سے کیا تعلق؟
سومین نے فوراً جواب نہیں دیا۔
وہ دوبارہ ترجمہ پڑھنے لگا۔
اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے…
ہان وو نے قدرے بے بسی سے کہا۔
سومین، میری situation کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں ہے۔ دو سال کا contract ہے۔ میں چاہوں بھی تو اسے ختم نہیں کروا سکتا۔
سومین نے اس کی طرف دیکھا۔
لیکن یہاں صاف لکھا ہے کہ راستہ نکلتا ہے۔ لیکن نکالنا کیسے ہے، ؟؟؟
ہان وو کی نظریں اس سے ملیں۔
چند لمحوں تک دونوں خاموش رہے۔
پھر سومین نے قدرے سوچتے ہوئے کہا۔
شاید اس کا مطلب یہ نہیں کہ contract خود بخود ختم ہو جائے گا…
وہ رکا۔ اس کی نظریں دوبارہ قرآن پر جا ٹھہریں۔
شاید مطلب یہ ہے کہ ہمیں صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
ہان وو کے چہرے پر چھائی بے چینی میں ایک لمحے کو ٹھہراؤ آیا۔
مگر اگلے ہی لمحے سومین پھر آیت کے الفاظ میں الجھ گیا۔
اس نے دوبارہ پڑھنے کی کوشش کی، لیکن کچھ دیر بعد اس کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہو گئیں۔
لیکن… ہان وو نے فوراً پوچھا۔
اب کیا ہوا؟
سومین نے کتاب کو غور سے دیکھا۔
یہاں جو بات کہی گئی ہے… اس کا پورا مطلب مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔
ہان وو کے لبوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
تو پھر؟
سومین نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر فوراً اپنا موبائل اٹھا لیا۔
باسط کو فون کرتے ہیں۔
ہان وو نے حیرت سے پوچھا۔
ابھی؟
ہاں، ابھی۔
وہ باسط کا نمبر ملانے لگا۔
آخر اسی نے کہا تھا نا کہ قرآن میں ہر مسئلے کے لیے رہنمائی ہے۔ اب اسی سے پوچھ لیتے ہیں کہ اس آیت کا ہمارے مسئلے سے کیا تعلق ہے۔
ہان وو نے بے بسی سے سر ہلایا۔
تم دونوں مل کر مجھے پاگل کر دو گے۔
سومین نے کوئی جواب نہیں دیا۔
فون کی گھنٹی چند لمحے بجتی رہی۔
پھر دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی۔
ہیلو؟
سومین نے فوراً کہا۔
باسط، ایک بات پوچھنی ہے۔
دوسری طرف سے نیند میں ڈوبی آواز آئی۔
اس وقت؟ کیا ہوا؟
سومین نے سامنے کھلے قرآن مجید کی طرف دیکھا۔
میں قرآن پڑھ رہا تھا…
دوسری طرف چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر باسط کی آواز میں اچانک حیرت ابھری۔
تم قرآن پڑھ رہے تھے؟
سومین نے بالکل سادگی سے جواب دیا۔
ہاں۔ اور ایک آیت ملی ہے، لیکن مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی۔
باسط کی آواز اب سنجیدہ ہو چکی تھی۔
کون سی آیت؟
سومین نے دوبارہ صفحے پر نظریں جمائیں اور آیت پڑھی۔
ہان وو خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ باسط اس آیت کا کیا مطلب بتائے گا…
اور نہ ہی یہ کہ واقعی اس کے دو سالہ contract سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود تھا یا نہیں۔
مگر جانے کیوں، اس لمحے پہلی بار اس کے دل میں ایک بہت ہلکی سی امید نے جنم لیا تھا۔
شاید… واقعی کوئی راستہ تھا۔
بس اسے ابھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *