Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 12

محبت عبادت
قسط 12
از قلم ردا فاطمہ
کامیار ہاؤس کے پرسکون اور وسیع و عریض لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا قیسن اپنی کافی کا مگ تھامے سامنے دیوار پر لگی ایک پینٹنگ کو بے خیالی میں گھور رہا تھا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد وہ اب جسمانی طور پر کافی بہتر تھا، مگر اس کے اندر ایک عجیب سا ٹھہراؤ اور خاموشی آ چکی تھی، جیسے طوفان کے گزر جانے کے بعد سمندر بالکل پرسکون ہو جاتا ہے۔
لاؤنج کے دوسرے کونے میں اس کے والد، کامیار صاحب ہاتھ میں کچھ فائلز پکڑے فون پر اپنے کسی بزنس مینیجر سے بہت سنجیدہ لہجے میں آفس کے کسی اہم معاملے پر بات کر رہے تھے۔
“دیکھیں، اب میں خود آفس آ رہا ہوں تو سب کچھ کلیئر ہونا چاہیے۔” انہوں نے آخری ہدایت دی اور “خدا حافظ” کہہ کر فون بند کر دیا۔
ابھی انہوں نے فون میز پر رکھا ہی تھا کہ ایک بار پھر لاؤنج میں موبائل کی رنگ ٹون گونج اٹھی۔ کامیار صاحب نے جھک کر اسکرین دیکھی تو وہاں “Farhan Sheikh” کا نام چمک رہا تھا۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا، قیسن پر ایک سرسری نظر ڈالی جو اب بھی اپنی سوچوں میں گم تھا، اور گرین بٹن سوائپ کر کے فون کان سے لگا لیا۔
“ہیلو! السلام علیکم فرحان بھائی، کیسے ہیں آپ؟” کامیار صاحب نے اپنے لہجے کو ہمیشہ کی طرح باوقار رکھا۔
دوسری طرف سے فرحان صاحب نے سلام کا جواب دیا، دونوں نے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا۔ فرحان صاحب کی آواز میں ایک عجیب سی جھجک اور ندامت تھی، جیسے وہ کوئی ایسی بات کہنا چاہ رہے ہوں جو اس وقت کہنا مناسب نہ ہو۔
جیسے ہی قیسن کے کانوں میں “فرحان” کا نام پڑا، اس کے پورے وجود میں ایک کرنٹ سا دوڑا۔ اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ اس نے کافی کا مگ دھیرے سے میز پر رکھا اور بالکل ساکت ہو کر اپنے بابا کے چہرے کے تاثرات پڑھنے لگا۔ اس کا دل ایک بار پھر اسی پرانی، مانوس دھڑکن پر لوٹنے لگا تھا۔
دوسری طرف سے فرحان صاحب ایک بوجھل سانس لے کر بولے، “کامیار صاحب۔۔۔ سچ کہوں تو مجھے آپ کو اس وقت فون کرتے ہوئے اور یہ بات کہتے ہوئے بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے آپ کے جوان بیٹے کی فوتگی کا اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے، آپ لوگ کس کرب سے گزر رہے ہیں، اس کا میں اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔۔۔” فرحان صاحب کی آواز میں سچا افسوس تھا۔
کامیار صاحب نے قیسن کی طرف دیکھا، جو اب پوری توجہ سے ان کی باتیں سن رہا تھا، اور بولے، “جی فرحان بھائی، میں سمجھ سکتا ہوں۔ آپ فرمائیے، کیا بات ہے؟”
“کامیار صاحب، میں آپ کو اپنی بیٹی رحال کی شادی پر انوائٹ کرنے کے لیے فون کر رہا تھا۔۔۔ رحال کا نکاح علی مصطفیٰ کے ساتھ طے پا گیا ہے اور بس چند ہی دن میں بارات ہے۔ مجھے بہت دکھ ہے قیسن کا، وہ ایک بہت اچھا بچہ تھا، لیکن۔۔۔ زندگی تو نہیں رکتی نا۔ اس لیے ہمت کر کے آپ کو فون کیا ہے۔”
کامیار صاحب نے جیسے ہی فرحان صاحب کی بات سنی، انہوں نے فوراً ان کی بات کاٹی اور دھیمے مگر پراعتماد لہجے میں بولے، “فرحان بھائی! قیسن زندہ ہے اور اس وقت میرے بالکل سامنے بیٹھا ہے۔”
لاؤنج کے اس پار فرحان صاحب جیسے گنگ ہو گئے۔ فون پر چند سیکنڈز کے لیے ایسا جادوئی سناٹا چھایا کہ کامیار صاحب کو لگا شاید لائن کٹ گئی ہے۔
“کیا۔۔۔ کیا کہا آپ نے کامیار صاحب؟! قیسن۔۔۔ قیسن زندہ ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔” فرحان صاحب کی آواز حیرت سے کانپنے لگی۔…
کامیار صاحب نے ایک طویل سانس لیا اور ہسپتال کا وہ سارا واقعہ، کامران کا قبرستان جانا، قیسن کا سانس لینا اور ایک دوسرے پرائیویٹ ہسپتال میں اس کا خفیہ علاج ہونا۔۔۔ سب کچھ تفصیل سے بتا دیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ابھی اس بات کو دنیا سے چھپا کر رکھنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے کسی کو نہیں بتایا۔
یہ سب سن کر فرحان صاحب کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ ان کے منہ سے بے اختیار “یا اللہ تیرا شکر ہے” “کامیار صاحب! یہ تو سراسر معجزہ ہے! اللہ کا بہت احسان ہے، میری روح کانپ گئی تھی اس دن۔ کیا میری بات ہو سکتی ہے قیسن سے؟”
کامیار صاحب نے فون قیسن کی طرف بڑھایا۔ قیسن نے لرزتے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور کان سے لگایا۔ “السلام علیکم انکل۔۔۔” اس کی آواز بہت مدہم تھی۔
“وعلیکم السلام! قیسن میرے بچے! اللہ تمہیں لمبی زندگی دے، میں بیان نہیں کر سکتا کہ مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے یہ سن کر۔ تم بالکل ٹھیک ہو نا؟” فرحان صاحب جذباتی ہو رہے تھے۔ “دیکھو بیٹا، اب تو تمہیں میری خوشی میں، رحال کی شادی میں ضرور آنا ہے۔ کوئی بہانہ نہیں چلے گا، تمہیں آنا ہی ہوگا!”
قیسن کے حلق میں جیسے کوئی گولا پھنس گیا۔
اس نے اپنے لبوں کو سختی سے بھینچا اور بنا کچھ کہے، خاموشی سے فون واپس اپنے بابا کے ہاتھ میں تھما دیا۔ کامیار صاحب نے فرحان صاحب سے چند اور باتیں کیں، شادی کی مبارکباد دی اور فون بند کر دیا۔
جیسے ہی فون بند ہوا، لاؤنج میں ایک بھاری خاموشی چھا گئی۔ کامیار صاحب نے نظریں اٹھا کر اپنے اکلوتے بیٹے کی طرف دیکھا، اور جو کچھ انہوں نے دیکھا، اس نے ان کا دل چیر کر رکھ دیا۔
قیسن کے دونوں ہاتھ، جو گھٹنوں پر رکھے تھے، کسی چھوٹے بے بس بچے کی طرح بری طرح کانپ رہے تھے۔ اس کی وہ نیلی آنکھیں، جو اب تک پرسکون تھیں، آنسوؤں سے اس حد تک بھر چکی تھیں کہ وہ کسی بھی وقت باہر چھلکنے کو تیار تھیں۔ اس کے گلابی لب بری طرح کپکپا رہے تھے، جیسے وہ اپنے اندر اٹھنے والے درد کے طوفان کو باہر نکلنے سے روکنے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔
کامیار صاحب نے اس خاموشی کو توڑنے کے لیے بہت ہی نرم اور ہمدردانہ لہجے میں کہا، “تم چلو گے میرے ساتھ؟ دیکھو قیسن۔۔۔ اگر میری بات مانو، تو اس دن گھر میں ہی رہو۔ میں نہیں چاہتا کہ تم اس لڑکی کو کسی اور کے نام کا سرخ جوڑا پہنے ہوئے دیکھو۔ اور وہ دلہن بھی کس کی؟ کسی اور کی۔۔۔”
انہوں نے رک کر قیسن کے چہرے کو دیکھا۔ “تم نے اسے ہمیشہ اپنی حسرت کی نظر سے دیکھا ہے قیسن، وہاں اسے کسی اور کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ کر تمہیں بہت زیادہ تکلیف ہوگی۔ میں تمہارا باپ ہوں، میں تمہیں دوبارہ اس آگ میں جلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔”
قیسن نے اپنی وہ آنسوؤں سے ڈبڈباتی ہوئی نیلی آنکھیں اٹھائیں اور اپنے بابا کو دیکھا۔ اس کا چہرہ اس وقت اس قدر معصوم اور دکھی لگ رہا تھا کہ کامیار صاحب کو لگا اگر انہوں نے اب ایک لفظ بھی مزید کہا، تو قیسن کا سارا ضبط ٹوٹ جائے گا اور وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے گا۔
“نہیں بابا۔۔۔ میں جاؤں گا اس کی شادی میں،” قیسن نے اپنی لرزتی آواز کو سنبھالتے ہوئے بہت مشکل سے کہا۔ “میں جانتا ہوں کہ وہ میری نہیں ہے، وہ کبھی میری تھی ہی نہیں۔ لیکن۔۔۔ ایک آخری دیدار تو نسیب ہوگا نا اس کا؟”
اس نے ایک گہرا سانس لیا، اس کے لہجے کا درد صاف محسوس ہو رہا تھا، “میں اسے آخری بار جی بھر کے دیکھ تو لوں گا نا بابا؟ بس ایک آخری بار۔۔۔ اس کے بعد میں کبھی اس کا نام بھی اپنے لبوں پر نہیں لاؤں گا۔”
یہ کہتے ہی قیسن کی آنکھ سے ایک موٹا سا آنسو ٹوٹ کر نیچے گرا اور اس کے گورے گال پر ایک لکیر بناتا ہوا ٹھوڑی سے نیچے ٹپک گیا۔ اس سے پہلے کہ اس کے اور آنسو باہر آتے، وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا، تاکہ اس کا باپ اسے اس طرح ٹوٹتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔
کامیار صاحب صوفے پر بیٹھے پچھلی دیوار سے سر ٹکا کر ایک لمبی اور بوجھل سانس لے کر رہ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ قیسن کی یہ محبت کوئی عام ضد نہیں تھی، یہ اس کے وجود کا وہ حصہ بن چکی تھی جسے وہ مر کر بھی اپنے اندر سے نکال نہیں پا رہا تھا۔

شام ڈھلنے کو تھی اور سورج کی آخری سنہری کرنیں اسلام آباد کے خوبصورت پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہی تھیں۔ موسم میں بلا کی سردی تھی اور ہلکی ہلکی دھند اب سڑکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ علی، معراج، رحال، کنزہ اور آنچل اپنی شاپنگ کے لیے اسلام آباد کے سب سے بڑے اور پرتعیش شاپنگ مال، “سینٹورس مال” (Centaurus Mall) پہنچ چکے تھے۔ مال کے اندر داخل ہوتے ہی تیز لائٹس، برانڈز کے چمکتے ہوئے شیشے اور لوگوں کا رش ایک الگ ہی دنیا کا منظر پیش کر رہا تھا۔
کنزہ، معراج اور آنچل مال میں آتے ہی اپنی شاپنگ کے جوش میں آگے بڑھ گئیں۔ “بھائی! ہم ذرا اس سامنے والی شاپ سے اپنا میک اپ اور جیولری دیکھ لیں، آپ دونوں یہیں ہیں نا؟” کنزہ نے چہکتے ہوئے پوچھا۔
علی نے اثبات میں سر ہلایا، “ہاں تم لوگ جاؤ، ہم یہیں برائیڈل سیکشن کی طرف ہیں۔” وہ تینوں ہنستی کھیلتی ایک بڑی سی دکان میں داخل ہو گئیں، اور اب پیچھے علی اور رحال اکیلے بچ گئے تھے۔
علی نے بہت محبت سے رحال کی طرف دیکھا، جو سردی کی وجہ سے شال میں خود کو لپیٹے بہت معصوم لگ رہی تھی۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک بہت بڑی اور نامور برائیڈل شپ میں لے گیا جہاں ہر طرف دلہنوں کے لیے مہنگے اور خوبصورت عروسی لباس، لہنگے، میکسیز اور فراکس سجے ہوئے تھے۔ دکان کا ماحول دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ یہاں کا ایک ایک جوڑا لاکھوں کا ہے۔
اندر داخل ہوتے ہی علی کی نظر ایک شوکیس میں لگے سفید رنگ کے انتہائی نفیس لہنگے پر پڑی۔ اس سفید لہنگے پر سلیقے سے سنہری رنگ کے گوٹے کا باریک اور چمکدار کام ہوا تھا، جو بہت ہی شاہانہ لک دے رہا تھا۔ دکان کا مینیجر علی کا شاندار حلیہ اور رعب دار شخصیت دیکھ کر فوراً ان کے پیچھے آ کر باادب کھڑا ہو گیا۔
“یہ کیسا ہے رحال؟” علی نے اس سفید لہنگے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
رحال نے پہلے اس لہنگے کو دیکھا، پھر علی کے چہرے کو دیکھ کر مسکرائی، “پہلے آپ اپنے لیے تو کپڑے لے لیں نا آپ کا جوڑا فائنل ہو گا تو پھر میں اپنا لوں گی۔”
علی نے گہری نظروں سے اسے دیکھا اور دھیمے سے بولا، “پہلے تمہارا ڈریس فائنل کریں گے، بعد میں میں اپنے لیے کپڑے لوں گا۔۔
اب چلو، جلدی سے بتاؤ تمہیں یہ پسند ہے یا نہیں؟”
رحال نے علی کی آنکھوں میں دیکھا، “اگر آپ کو پسند ہے تو لے لیں۔”
علی کے لبوں پر ایک خوبصورت قہقہہ ابھر آیا، “ارے، پہننا تم نے ہے بیگم صاحبہ! میری پسند تو تم ہو، لیکن جوڑے پر پسند تمہاری چلے گی۔”
رحال نے اب کی بار بہت دھیان سے اس لباس کو دیکھا، پھر آہستہ سے بولی، “اچھا تو ہے بہت۔۔۔ لیکن علی، مجھے روایتی سرخ (Red) لباس لینا ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ میں اپنے نکاح پر لال جوڑا پہنوں گی۔”
علی نے مسکرا کر اسبات میں گردن ہلائی، “جو میری بیگم کا حکم۔”
علی رحال کو لیے دکان کے دوسرے حصے کی طرف چلا گیا، جہاں صرف اور صرف سرخ رنگ کے عروسی ملبوسات لگے ہوئے تھے۔ وہاں طرح طرح کے بھاری لہنگے تھے، مگر اچانک ایک لباس پر آ کر علی کی نظریں ٹھہر سی گئیں۔
وہ کوئی بہت زیادہ چمک دمک والا یا بھاری جورا نہیں تھا، مگر اس کی نفاست دیکھنے والی تھی۔ وہ قدموں تک آتی ایک لمبی، گھیر دار سرخ میکسی (Maxi) تھی، جس کے اوپر خالص سنہری رنگ کے گوٹے اور کڑھائی کا ایسا خوبصورت کام تھا کہ وہ کلاسک لک دے رہی تھی۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ بنی ہی صرف رحال شیخ کے لیے ہو۔
علی نے بغیر کچھ کہے رحال کا نرم ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑا اور اسے لے کر اس ڈریس کے بالکل سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ “دیکھو، یہ کیسا ہے؟” اس نے پوچھا۔
رحال کے چہرے پر ایک سچی خوشی ابھر آئی، لباس واقعی لاجواب تھا۔ اس نے شرارت سے علی کو دیکھا، “آپ بتائیں نا۔۔۔ مجھ پر یہ کیسا لگے گا؟”
علی کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ پھیل گئی، اس نے جھک کر دھیمی آواز میں کہا، “تم یہ پہنو گی نا رحال، تو یہ ڈریس اپنی خوش قسمتی پر ناز کرے گا۔ یہ تمہاری خوبصورتی سے اور چمک اٹھے گا، چھوٹی لڑکی۔۔۔”
رحال علی کی اس بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی، اس کے گالوں پر لالی دوڑ گئی۔ “ٹھیک ہے، مجھے بھی یہ بہت زیادہ پسند آیا ہے۔ بس پھر یہی فائنل کرتے ہیں، ہم اسے لے رہے ہیں۔”
علی نے فوراً دکاندار کو اپنے پاس بلایا، “جی سر! فرمائیے؟”
اس کے پرائس (Price) کیا ہیں؟” علی نے پوچھا۔
دکاندار نے ایک لمحے کے لیے جوڑے کو دیکھا اور بولا، “سر، یہ بالکل ایکسکلوزو ڈیزائن ہے، اس کی قیمت 4لاکھ روپے ہے۔”
چار لاکھ؟!” یہ سنتے ہی رحال کے تو جیسے ہوش اڑ گئے۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں، جبکہ علی کے چہرے پر ایک شکن تک نہ آئی اور وہ بہت سکون سے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے اپنا کریڈٹ کارڈ نکالنے لگا۔

رحال نے فوراً علی کے بازو کو پکڑا اور اس کے کان کے پاس جا کر دھیمی، ہڑبڑائی ہوئی آواز میں بولی، “علی! پاگل ہو گئے ہیں کیا؟ یہ بہت زیادہ مہنگا دے رہا ہے4 لاکھ روپے ایک جوڑے کے؟ چلیں یہاں سے، ہم کہیں اور سے دیکھ لیتے ہیں،
علی نے اپنا کارڈ دکاندار کے ہاتھ میں تھمایا اور پھر مڑ کر رحال کا گھبراہٹ سے بھرا چہرہ دیکھا۔ اس نے محبت سے مسکرا کر کہا، “فکر نہ کرو رحال، یہ بہت سستا ہے۔ میرے لیے 4 لاکھ روپے کوئی بڑی رقم نہیں ہے، خاص کر تب جب بات تمہاری خوشی کی ہو۔”
لیکن علی۔۔۔” رحال نے احتجاج کرنا چاہا، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی، علی نے اپنی دائیں ہاتھ کی انگلی بہت نرمی سے رحال کے گلابی لبوں پر رکھ کر اسے چپ کروا دیا۔
یہ بالکل بھی مہنگا نہیں ہے رحال، اور زندگی میں شادی صرف ایک ہی بار ہونی ہوتی ہے۔ اگر اس ایک بار میں بھی رحال شیخ دنیا کا سب سے خوبصورت اور اپنی پسند کا جوڑا نہ پہنے، تو علی مصطفیٰ کی محبت پر لعنت ہے۔”
علی کے لہجے میں ایک ایسا مان اور رعب تھا کہ رحال اب کی بار بالکل خاموش ہو گئی۔ اس کا دل علی کی اس بے پناہ محبت پر قربان ہونے کو چاہ رہا تھا۔
علی نے بل پے کیا، دکاندار نے احترام سے وہ بڑا سا برائیڈل باکس علی کے ہاتھ میں تھمایا، اور وہ دونوں دکان سے باہر نکل آئے۔
اب باری علی کے لباس کی تھی۔ وہ دونوں مال کے مردانہ برانڈز کی طرف چلے گئے۔ بہت سی دکانوں میں گھومنے اور کئی ڈریسز دیکھنے کے بعد، ایک نامور برانڈ کی دکان سے علی کو اپنے لیے ایک انتہائی کلاسک، زپ لیس، سیاہ رنگ کا تھری پیس پینٹ کوٹ (Black Suit) پسند آ گیا۔ وہ بالکل رحال کی سرخ میکسی کے ساتھ ایک بہترین میچنگ تھی۔ علی نے وہ بھی فوراً خرید لیا۔
شاپنگ کے بیگز اب علی کے ہاتھ میں تھے، مگر اس نے رحال کا دوسرا ہاتھ کسی چھوٹے، معصوم بچے کی طرح اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے جکڑ رکھا تھا تاکہ مال کے رش میں وہ اس سے دور نہ ہو۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بہت پیارے لگ رہے تھے۔
کچھ ہی دیر میں کنزہ، آنچل اور معراج بھی اپنی ڈھیروں شاپنگ کے بیگز لٹکائے ان سے آ ملیں۔ مال اب بند ہونے کے قریب تھا، سب بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔ علی ان سب کو مال کے ایک بہترین اور پرتعیش ریسٹورنٹ میں لے گیا، جہاں انہوں نے گرما گرم کھانا کھایا، اور خوب باتیں کیں۔
جب وہ لوگ سینٹورس مال سے باہر نکلے تو رات کے پونے گیارہ ہو رہے تھے اور سردی اپنے عروج پر تھی۔ گاڑی جب اسلام آباد کی سنسان سڑکوں سے ہوتی ہوئی رحال کے گھر کے سامنے پہنچی، تو رات کے ٹھیک 11 بج رہے تھے۔
سب گاڑی سے اترے تو تھکن کے مارے برا حال تھا۔ رحال تو اتنی تھک چکی تھی کہ اس کے پاؤں جواب دے رہے تھے۔ اصل پلان کے مطابق واپسی پر علی نے رحال کو سیلون (Salon) چھوڑنا تھا تاکہ وہ اپنی سکن کیئر کی اپوائنٹمنٹس پوری کر سکے، مگر رات کی اس تاخیر اور شدید تھکن کی وجہ سے یہ ناممکن ہو چکا تھا۔
گھر کے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی رحال نے صوفے پر گرتے ہوئے خود ہی کہہ دیا، “اف اللہ! میں تو بالکل ٹوٹ گئی ہوں۔ علی، اب اس وقت سیلون جانا ممکن نہیں ہے، رات بہت ہو گئی ہے اور سب بہت تھک گئے ہیں۔ میں کل صبح ہی جلدی اٹھ کر سیلون چلی جاؤں گی، اب بس مجھے سونے کے لیے بستر چاہیے۔”
علی نے اس کے تھکے ہوئے معصوم چہرے کو دیکھ کر نرمی سے ہنس دیا، “ٹھیک ہے ، تم آرام کرو۔ کل صبح میں خود تمہیں ڈراپ کر دوں گا۔”
شاپنگ کے خوبصورت بیگز کمروں میں سج گئے اور سبھی اس یادگار اور تھکا دینے والے دن کے بعد گہری نیند کی وادیوں میں اترنے کے لیے اپنے اپنے بستروں کی طرف بڑھ گئے،
آخر کار وہ دن بھی اگیا تھا جس کا علی مصطفیٰ نے نہ جانے کتنا عرصہ انتظار کیا تھا جو خواب وہ برسوں سے دیکھتا آیا تھا وہ کل صبح حقیقت بننے جا رہا تھا اج 19 جنوری کا دن تھا علی اور رحال کی مہندی کا دن وہ دن جب رحال شیخ کے ہاتھوں پر علی کے نام کی مہندی رچنے جا رہی تھی ۔۔ مہندی کی تقریب رحال کے گھر میں رکھی گئی تھی گھر کافی بڑا تھا باہر گارڈن میں سارا اہتمام کیا گیا تھا عثمان اور سلمان کھانے کا اہتمام دیکھ رہے تھے فرحان اور مصطفیٰ صاحب مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے ۔۔ زرینہ اور سلیماں باقی عورتوں کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں علی اور رحال کے سب کزن دوست وہاں موجود تھے ۔۔ کچھ سبز لباس میں تو کچھ پیلے رنگ کے لباس میں ۔۔ معراج اور رحال اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھیں دونوں ہی اج پارلر نہیں گئی تھیں ۔۔
دوسری طرف علی مصطفیٰ کے کمرے میں اؤ تو علی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا پرفیوم لگا رہا تھا ۔۔ اُس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی
بالوں کو جیل سے سیٹ کیے اس وقت وہ انتہا کا حسین لگ رہا تھا ۔۔
اُس نے وقت دیکھا ۔۔ بس تھوڑی دیر میں اُس نے کمرے سے باہر نکلنا تھا ۔۔
رحال پیلے شرارے میں چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی وہ تیار ہو گئی تھی بس بال بنانے رہتے تھے جو کے پیچھے کھڑی معراج بنا رہی تھی ۔۔ وہ رحال کے بالوں کو کرل کر رہی تھی ۔۔ معراج خد تیار تھی ۔۔ سبز رنگ کا خوبصورت انار کلی پہنے بالوں کی چوٹی بنائے گلابی رنگ کی لپسٹک لگائے بھر بھر کے آنکھیں میں لائنر مسکارا اور کاجل لگائے وہ اس وقت قیامت خیز لگ رہی تھی ۔۔
دوسری طرف شیشے میں رحال کا عکس دیکھو تو وہ انتہا کی معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی جیسے کوئی موم کی گڑیا ہو ۔۔ پیلے رنگ کا شرارا پہنے ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے سر پر پھولوں سے بنی بیندی اور گلابی گلابی سا میک اپ کیے گلابی رنگ کی لپسٹک اور ہلکا سا کاجل لگائے وہ انتہا کی معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
رحال کے بال بنے ہی تھے کے کمرے کا دروازہ کھولا سلیماں اندر کمرے میں داخل ہوئی معراج نے گھوم کے ماں کو دیکھا
کتنی دیر ہے تم دونوں کو مہمان انے لگ گئے ہیں تقریب شروع کرنی ہے مہندی کی ۔۔ جلدی کرو
جی بس امی چلے میں رحال کا دوپٹا صحیح کر کے لے کے ارہی ہوں اس کو معراج نے جلدی سے کہا سلیماں نے اپنی بیٹی کو دیکھا مسکرائی ۔۔ اپسرا لگ رہی ہے میری بچی ۔۔ رحال مسکرا دی انکھوں میں کہیں ہلکا سا پانی چمک اج اس کا آخری دن تھا کل اُس نے لاہور چلے جانا تھا اپنے گھر کو چھوڑ کر ۔۔۔
سلیماں باہر چلی گئی معراج نے اپنی بہن کا دوپٹا صحیح کیا اور اُس کو لے کے باہر گارڈن کی طرف چلنے لگی ۔۔
سامنے سے اتے برہان نے بے ساختہ معراج کا چہرہ دیکھا ۔۔ انکھوں میں چمک اگئی ۔۔ وہ اس کے پاس ا کے روکا
اج کس کو مارنے کا ارادہ ہے معراج صاحبہ ۔۔
معراج اُس کی بات پر مسکرائی ۔۔ کسی کو نہیں اب لوگ خود مر جائیں تو اس میں میرا کیا قصور
ویسے یہ بھی صحیح کہہ رہی ہو تم
لیکن سچ میں تم دونوں بہنیں بہت زیادہ حسین لگ رہی ہو اور ہاں رحال تمھیں دیکھ کے علی اپنا ہوش کھو دے گا لکھوا لو ۔۔ برہان کی بات پر رحال مسکرائی ۔۔۔بہت شکریہ برہان کہتی معراج کے ساتھ آگے بڑ گئی ۔۔۔
شام کا وقت تھا اور فرحان صاحب کے گھر کا وسیع و عریض گارڈن (لان) رنگ برنگی بتیوں اور گیندے کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ لان کے عین درمیان میں ایک خوبصورت اسٹیج سجایا گیا تھا، جس پر ایک بڑا سا اورنج (نارنجی) رنگ کا صوفہ رکھا تھا۔ یہ رحال اور علی کی مشترکہ مہندی کی تقریب تھی۔ دونوں کی مہندی ایک ہی دن اور ایک ہی جگہ رکھی گئی تھی، جس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کا رش اور رونق دیکھنے والی تھی۔
رحال صوفے پر بیٹھی تھی اس کے ساتھ ہی علی مصطفیٰ سفید رنگ کے کلف لگے کرتے شلوار میں ملبوس، پورے رعب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ دونوں کے چہروں پر ایک دوسرے کو پانے کی سچی خوشی تھی۔
ابھی مہندی کی رسم باقاعدہ شروع ہی ہوئی تھی کہ اچانک گارڈن کے مین گیٹ سے کامیار صاحب اور ان کی فیملی داخل ہوتی ہوئی نظر آئی۔ جیسے ہی فرحان صاحب کی نظر ان پر پڑی، وہ تیزی سے آگے بڑھے اور بہت گرمجوشی سے ان کا استقبال کرنے لگے۔ صوفے پر بیٹھی رحال کی نظر جیسے ہی گیٹ پر پڑی، اس کی نظریں ایک جگہ ٹھہر گئیں۔ وہاں کامیار صاحب کے بالکل پیچھے قیسن چل رہا تھا۔ قیسن کو اس حالت میں دیکھ کر رحال کے دل میں ایک دم اس کے لیے شدید ترس اور ہمدردی جاگی، وہ جانتی تھی کہ قیسن کے لیے یہاں آنا کسی آگ کے دریا کو پار کرنے جیسا ہے، مگر وہ خاموش رہی اور اپنی نظریں جھکا لیں۔
قیسن سفید شلوار قمیض میں ملبوس، بہت خاموشی سے گارڈن کے ایک کونے میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنے دونوں بازو سینے پر باندھ رکھے تھے اور وہ دور کھڑا خاموشی سے اس خوشی کے ماحول کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نیلی آنکھیں بے جان سی لگ رہی تھیں، مگر وہ خود پر جبر کیے وہاں موجود تھا۔
اسی دوران اسٹیج پر رونق بڑھ گئی۔ سب سے پہلے برہان ہنستا ہوا آگے آیا۔ اس نے پلیٹ سے مہندی اٹھائی اور مضحکہ خیز طریقے سے علی اور رحال کے ہاتھوں پر لگاتے ہوئے بولا، “یار علی! شادی کے بعد تو تم بالکل بدل جاؤ گے، ابھی سے بھابھی کے سامنے اتنے شریف بن کر بیٹھے ہو۔” اس کی بات پر وہاں موجود سب لوگ ہنس پڑے۔
پھر سلیماں بیگم اور زرینہ بیگم آگے بڑھیں۔
مہندی کی رسم کی اور مٹھائی کھلائی۔ سلیماں بیگم جذباتی ہو کر بولیں، “میری بچی آج دنیا کی سب سے پیاری دلہن لگ رہی ہے، نظر نہ لگے میری جان کو۔” زرینہ بیگم نے بھی رحال کا ماتھا چوما اور بولیں، “میری بہو تو پہلے ہی چاند جیسی ہے، علی بہت خوش قسمت ہے۔”
معراج بھی چہکتی ہوئی آگے آئی اور دونوں کے پاس کھڑی ہو کر بولی، “ماشاءاللہ! آپ دونوں کی جوڑی اتنی پرفیکٹ لگ رہی ہے کہ میرا دل کر رہا ہے نظر اتار دوں آپ لوگوں کی!” اسی طرح ہنسی مذاق اور دعاؤں کا سلسلہ چلتا رہا۔
جب خاندان کے تمام لوگوں کی باری ختم ہو گئی، تو آخر میں قیسن اور کامیار صاحب بالکل ہلکے اور دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھے۔ قیسن جیسے جیسے اسٹیج کے قریب آ رہا تھا، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی ان گہری نیلی آنکھوں سے رحال کو دیکھا، جو مایوں کی دلہن بنی صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔ مگر وہ علی مصطفیٰ کی دلہن تھی۔
قیسن نے بہت خاموشی اور ضبط کے ساتھ مہندی کی پلیٹ سے ایک پتی اٹھائی اور رحال کی ہتھلی پر رکھی۔ پھر اس نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اٹھایا اور رحال کو کھلایا۔ مٹھائی کھلاتے ہوئے اس کی نظریں ایک سیکنڈ کے لیے رحال کے چہرے پر ٹکیں۔
“تم بہت حسین لگ رہی ہو رحال۔۔۔” قیسن کے لبوں سے یہ جملہ بہت دھیمی اور لرزتی ہوئی آواز میں نکلا۔ علی مصطفیٰ بالکل خاموشی سے بیٹھ کر قیسن کو دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر کوئی غصہ نہیں تھا، بس ایک سنجیدگی تھی۔
پھر قیسن نے مڑ کر علی کی طرف دیکھا اور اپنے لبوں پر ایک مصنوعی مگر خوبصورت مسکراہٹ سجا کر بولا، “تم بہت خوش قسمت ہو علی، جو تمہیں رحال ملی۔”
علی نے قیسن کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں اب درد کا سمندر تھا، علی نے ہلکا سا مسکرا کر عزت کے ساتھ اپنی گردن ہلا دی، جیسے وہ قیسن کے اس ظرف کی لاج رکھ رہا ہو۔
قیسن نے ایک آخری بار ان دونوں کو دیکھا، اس کی نیلی آنکھوں میں آنسو شیشے کی طرح چمک رہے تھے، مگر اس نے انہیں باہر گرنے نہیں دیا۔ اس نے رندھے ہوئے گلے سے کہا، “مہندی مبارک ہو۔۔۔ اللہ خوش رکھے تم دونوں کو۔” یہ کہتے ہی وہ فوراً پیچھے ہٹا اور اسٹیج سے نیچے اتر گیا، کیونکہ اس کا ضبط اب جواب دے رہا تھا۔
قیسن کے جاتے ہی رحال نے تھوڑا سا جھک کر علی کے کان کے قریب ہو کر آہستہ سے کہا، “علی۔۔۔ قیسن مجھے پسند کرتا تھا بہت پہلے سے۔”
علی نے سامنے دیکھتے ہوئے بہت سکون سے جواب دیا، “میں جانتا ہوں رحال۔”
رحال نے اداسی سے قیسن کی پشت کو دیکھا جو دور جا رہا تھا، “مجھے اس کے لیے بہت برا لگ رہا ہے علی، اس کا دل ٹوٹ گیا ہے۔”
علی نے رحال کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بہت گہرے لہجے میں بولا، “برا تو لگ رہا ہے رحال، لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ جو جس کی قسمت میں ہوتا ہے، وہ اس کو مل کر ہی رہتا ہے۔ تم میری قسمت تھی، تمہیں گھوم پھر کر میرے پاس ہی آنا تھا۔ تم صرف میرے لیے بنائی گئی ہو اور میں تمہارے لیے۔”
علی کی اس پراعتماد اور محبت بھری بات پر رحال کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ اس نے ایک آخری نظر قیسن پر ڈالی جو اب گارڈن کے ہجوم میں کہیں دور جا چکا تھا، اور پھر اس کی نظریں گارڈن کے دوسرے کونے میں کھڑے برہان اور معراج پر پڑیں۔
گارڈن کے ایک کونے میں معراج جلدی جلدی مہندی کے کسی کام سے گزر رہی تھی کہ دوسری طرف سے برہان ہاتھ میں جوس کا گلاس لیے الٹی طرف مڑا۔ دونوں کا دھیان نہیں تھا اور معراج جیسے ہی برہان کے بالکل قریب سے گزری، وہ اس سے زور سے ٹکرا گئی۔
برہان کے ہاتھ سے جوس کا گلاس اچھلا اور اس میں سے کافی سارا اورنج جوس معراج کے مہندی کے خوبصورت فینسی کپڑوں پر جا گرا۔
“اوہ ہو! آئی ایم سو سوری معراج، میرا دھیان نہیں تھا بالکل،” برہان نے فوراً گھبرا کر معراج کے کپڑے دیکھتے ہوئے معافی مانگی۔
معراج نے اپنے خراب ہوئے لباس کو دیکھا تو اس کا پارہ ایک دم ہائی ہو گیا۔ اس نے غصے سے اپنی بڑی بڑی آنکھیں برہان پر ٹکائیں اور دانت پیستے ہوئے بولی، “برہان! میرا دل کر رہا ہے کہ میں تمہارا ایک ایک بال نوچ لوں اس وقت!”
برہان معراج کے اس غصے والے روپ کو دیکھ کر ہنس پڑا۔ اس نے اپنا سر تھوڑا نیچے جھکایا اور معصومیت سے بولا، “اچھا چلو، اگر تمہارا دل کر رہا ہے نا، تو نوچ لو بال، میں کچھ نہیں کہوں گا۔”
برہان کی اس بے نیازی پر معراج نے اسے گھورا، تو برہان نے مسکرا کر نرمی سے کہا، “ارے کچھ نہیں ہوتا یار، غلطی سے ہو گیا نا۔ جاؤ اندر جا کر ڈریس چینج (Change) کر لو۔”
معراج نے اپنے دوپٹے کو جھٹکا اور بولی، “نہیں، میں اب اس وقت پورا ڈریس چینج نہیں کروں گی، فنکشن خراب ہو گا۔ میں بس اندر جا کر اسے تھوڑا سا دھو کر، ہیئر ڈرائر (Hair Dryer) سے سکھا کر ابھی واپس آتی ہوں۔ تم یہیں رہنا، میں آ کر تم سے حساب لیتی ہوں!”
معراج غصے میں پیر پٹختی ہوئی اندر گھر کی طرف چلی گئی، جبکہ برہان ہاتھ میں خالی گلاس پکڑے، پچھے سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور اس کے لبوں پر ایک گہری، دلکش مسکراہٹ پھیل گئی جو معراج کے غصے پر اکثر آ جایا کرتی تھی۔

مہندی کی رنگ برنگی اور پرشور رسمیں اپنے اختتام کو پہنچیں تو گارڈن کے ایک بڑے حصے میں گرما گرم کھانوں کے اسٹالز کھول دیے گئے۔ فضا میں تکوں، کبابوں اور قورمے کی خوشبو پھیل گئی۔ مہمان باری باری اپنی پلیٹیں اٹھائے مختلف ٹیبلز پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ اسٹیج پر لگے اسی اورنج صوفے پر اب ایک بڑی سی فینسی ٹرے سجی تھی، جہاں رحال اور علی مصطفیٰ ایک ساتھ بیٹھے بہت محبت سے کھانا کھا رہے تھے۔ دونوں کے چہروں پر ایک دوسرے کا ساتھ پانے کا سکون تھا۔
دوسری طرف، معراج گارڈن کے ایک کونے میں کھڑی خاموشی سے پلیٹ ہاتھ میں لیے چمچ ہلا رہی تھی۔ اس کا کھانا کھانے کا بالکل دل نہیں تھا۔ وہ بے خیالی میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر گارڈن کے ایک انتہائی دور دراز، اندھیرے اور خالی کونے پر پڑی۔
وہاں قیسن اکیلا کھڑا تھا۔ اس نے اپنے دونوں بازو پیٹھ کے پیچھے باندھ رکھے تھے، گردن اوپر کو اٹھی ہوئی تھی اور وہ گہری نظروں سے آسمان پر چمکتے ہوئے چودھویں کے پورے چاند کو تک رہا تھا۔ سرد ہوا اس کے بالوں کو چھو کر گزر رہی تھی۔
وہ جو گھنٹوں اسمان کو تکتے ہیں انہوں نے زمین پر کچھ تو کھویا ہوگا
معراج اسے دیکھ کر ایک پل کے لیے حیران رہ گئی۔ اسے یاد آیا جب قیسن پہلے دن ان کے گھر آیا تھا، تو اسے وہ بالکل اچھا نہیں لگا تھا، اس کا رویہ اور انداز عجیب لگا تھا۔ مگر آج، اس سفید شلوار قمیض میں، چاند کی روشنی تلے کھڑا وہ قیسن کتنا دلکش اور حسین لگ رہا تھا، جیسے کسی کتاب کا کوئی اداس کردار ہو۔
معراج نے اپنی پلیٹ ایک میز پر رکھی اور دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب چلی گئی۔
“تم یہاں اکیلے کیوں کھڑے ہو؟” معراج نے بہت نرمی سے پوچھا۔
قیسن نے چونک کر اپنی گردن نیچے کی اور گھوم کر معراج کو دیکھا۔ چاند کی مدہم روشنی میں معراج صاف دیکھ سکتی تھی کہ قیسن کی وہ نیلی آنکھیں اس وقت نم تھیں، ان میں پانی تیر رہا تھا۔
“اپنی قسمت پر آنسو بہا رہا ہوں۔۔۔” قیسن کے لبوں سے ایک بے بس سی مسکراہٹ کے ساتھ یہ جملہ نکلا۔
معراج کو اس کی بات کی گہرائی سمجھ نہ آئی، اس نے حیرت سے پوچھا، “کیا مطلب؟”
“مطلب کچھ نہیں۔۔۔” قیسن نے ایک بوجھل سانس لے کر اپنا رخ دوبارہ چاند کی طرف کیا اور بولا، “تم یہاں کیوں آئی ہو؟ جاؤ، اپنی بہن اور بہنوئی کے پاس بیٹھو، وہاں رونق ہے۔”
“بس ایسے ہی آئی ہوں، تمہارا حال پوچھنے،” معراج نے سادگی سے جواب دیا۔
قیسن دھیما سا مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں صرف درد تھا، “میرا حال پوچھنے کو اب کچھ بچا ہی نہیں ہے معراج۔ اب تو میرا حال میں خود بھی نہیں جانتا۔ تمہاری بہن کا اثر میرے دل و دماغ سے اب تک ختم نہیں ہو رہا، جبکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ میری نہیں ہے۔ وہ علی کی ہے، ہمیشہ کے لیے علی کی ہو چکی ہے۔”
معراج نے حیرت سے اپنی آنکھیں بڑی کیں، اسے ایک بہت بڑا جھٹکا لگا تھا۔ اس نے دبی زبان میں پوچھا، “قیسن۔۔۔ تم رحال کو چاہتے تھے نا؟”
معراج کے اس سیدھے سوال پر قیسن نے کوئی انکار نہیں کیا، اس نے خاموشی سے اپنی گردن جھکا لی، جو اس کی بے پناہ اور ادھوری محبت کا اعتراف تھا۔
“لیکن قیسن۔۔۔ وہ اب تمہاری نہیں ہو سکتی،” معراج نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ “تم اسے بھول کیوں نہیں جاتے؟ اسے بھول جاؤ نا اور اپنی ایک نئی زندگی شروع کرو۔”
قیسن نے دھیرے سے اپنی گردن اٹھائی اور اپنی وہ گہری نیلی آنکھیں سیدھی معراج کے چہرے پر ٹکا دیں، “بھول جانا۔۔۔ کیا بھول جانا اتنا آسان ہوتا ہے معراج؟”
معراج ایک پل کے لیے بالکل خاموش ہو گئی۔ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، پھر وہ خود کو سنبھال کر بولی، “میں جانتی ہوں کہ یہ آسان نہیں ہوتا، بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن کوشش تو کرو نا قیسن۔”
“میں کوشش کر رہا ہوں۔۔۔” قیسن کی آواز دھیمی ہو گئی، “میں بہت کوشش کر رہا ہوں، لیکن میں اسے بھول نہیں پا رہا۔ میرے لیے کم سے کم اس زندگی میں تو اسے بھولنا ممکن نہیں ہے۔ ہاں، میں جانتا ہوں کہ مرنے کے بعد میں اسے بھول جاؤں گا، یہ مجھے یقین ہے۔۔۔ لیکن میرے مرنے میں ابھی بہت وقت ہے، میں مروں گا نہیں ابھی۔”
معراج نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا، “تم کتنی عجیب باتیں کرتے ہو قیسن۔”
قیسن کے لبوں پر ایک بار پھر وہ اداس مسکراہٹ آئی، “تمہیں کبھی محبت نہیں ہوئی نا معراج؟ اور نہ ہی وہ محبت تم سے دور ہوئی ہے، اس لیے تمہیں لگ رہا ہے کہ میں عجیب باتیں کر رہا ہوں۔ جس دن دل ٹوٹتا ہے، اس دن بندہ ایسی ہی باتیں کرتا ہے۔”
معراج نے تڑپ کر کہا، “لیکن قیسن، زندگی میں آگے تو بڑھنا پڑتا ہے نا۔ زندگی کسی کے لیے رکتی نہیں ہے۔ رحال اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے گی، وہ علی کے ساتھ بہت خوش رہے گی۔ تمہیں بھی اپنے لیے آگے بڑھنا چاہیے، خود کو اس طرح برباد نہیں کرنا چاہیے۔”
قیسن نے چاند کی طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا، “ہاں۔۔۔ میں نے سوچا ہے نا معراج۔ میں آگے بڑھ جاؤں گا۔ میں اب پاکستان میں نہیں رہوں گا، میں لندن چلا جاؤں گا۔ بس یہ شادی ختم ہو جائے، پھر میں یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا۔ پاکستان میں رہ کر اب میں کیا کروں گا؟ یہاں کی ہر چیز مجھے اسی کی یاد دلائے گی۔”
معراج نے اسے غور سے دیکھا، “تو لندن جا کر کیا کرو گے تم؟”
“وہاں جا کر کچھ نہیں۔۔۔ بس اپنی پڑھائی پر توجہ دوں گا، اپنا میڈیکل پورا کروں گا اور پھر وہیں کوئی جاب کر لوں گا۔ اور۔۔۔ اور رحال کو بھولنے کی کوشش کروں گا،” قیسن نے اپنی بات مکمل کی تو اس کا لہجہ بالکل خالی تھا۔
“ٹھیک ہے، یہ بہت اچھی بات ہے،” معراج نے ایک اطمینان کا سانس لیا اور وہاں سے ہٹنے ہی والی تھی کہ اچانک قیسن نے اسے روکا اور گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
تمہیں برہان پسند کرتا ہے معراج،” قیسن نے اچانک کہا۔
معراج کے قدم وہیں رک گئے، وہ بری طرح حیران ہوئی، “کیا؟! تمہیں۔۔۔ تمہیں کیسے پتہ؟”
قیسن کے لبوں پر ایک سچی اور ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، “عاشق ہوں نا معراج۔۔۔ ایک عاشق دوسرے عاشق کی نظریں بہت اچھے سے پہچان لیتا ہے۔ برہان کی نظریں بتاتی ہیں کہ وہ تمہیں کس حد تک چاہتا ہے۔ وہ جب بھی تمہیں دیکھتا ہے، اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک ہوتی ہے۔”
قیسن کی یہ بات سن کر معراج کے چہرے پر ایک حیا اور خوشی سے بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے نظریں جھکا کر دھیرے سے اعتراف کیا، “میں جانتی ہوں۔۔۔ اس کی باتوں سے بھی اب ایسا ہی لگتا ہے۔ اور۔۔۔ اور مجھے بھی وہ اچھا لگتا ہے۔ بہت اچھا آدمی ہے وہ، ہمیشہ میرا بہت خیال رکھتا ہے، ہر بیکار کی بات میں بھی میرا ساتھ دیتا ہے۔”
قیسن نے معراج کو خوش دیکھ کر اطمینان سے سر ہلایا اور مسکرایا۔
معراج نے ماحول کا بوجھل پن کم کرنے کے لیے پوچھا، “اچھا، میں تمہارے لیے اندر سے جوس یا کچھ پینے کے لیے بھیجوں؟”
قیسن نے بہت نرمی سے نفی میں اپنی گردن ہلا دی، “نہیں، شکریہ معراج۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
معراج نے الوداعی نظر اس پر ڈالی اور واپس ہجوم کی طرف بڑھ گئی، جبکہ قیسن ایک بار پھر بالکل تنہا، ہاتھ پیچھے باندھے، اسی خاموشی سے چودھویں کے چاند کو تکنے لگا، جیسے وہ چاند سے اپنے دل کے سارے دکھ سکھ شیئر کر رہا ہو اور اسلام آباد کی وہ سرد رات اس کے درد کی گواہ بن رہی ہو۔

مہندی کی رنگ برنگی اور پرشور تقریب رات گئے تک پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہی۔ ڈھولک کی تھاپ، ہنسی مذاق اور گانے بجانے کے بعد اب آہستہ آہستہ مہمان اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے تھے۔ گارڈن، جو کچھ دیر پہلے تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا، اب بالکل خالی اور پرسکون ہو چکا تھا اور وہاں لگی رنگ برنگی بتیاں مدہم معلوم ہو رہی تھیں۔
رحال شیخ اپنے کمرے کے پرسکون اور معطر ماحول میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی تھی۔ معراج، جو تھوڑی دیر پہلے ہی نہا کر آئی تھی، گیلے بالوں کو تولیے میں لپیٹے، ایک سادہ اور آرام دہ نائٹ ڈریس پہنے رحال کے پیچھے کھڑی تھی۔ وہ بہت احتیاط اور نرمی سے رحال کے گلے اور کانوں سے مہندی کی بھاری جیولری اتار رہی تھی، جبکہ رحال وائپس کی مدد سے اپنے چہرے کا ہلکا پھلکا مایوں کا میک اپ صاف کر رہی تھی۔
اس پرسکون رات میں دونوں بہنیں آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے دل کی باتیں کرنے لگیں۔

تمہیں ایک بات کہوں رحال؟” معراج نے رحال کے گلے سے ہار اتار کر میز پر رکھتے ہوئے دھیمے سے پوچھا۔
“ہاں کہو،” رحال نے شیشے میں معراج کا اداس چہرہ دیکھ کر کہا۔
“تم جب شادی کر کے یہاں سے چلی جاؤ گی نا
میں بہت اکیلی ہو جاؤں گی یار۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں تمہارے بغیر اس اتنے بڑے کمرے میں کیسے رہوں گی،” معراج کی آواز میں اپنی بڑی بہن سے جدائی کا سچا دکھ تھا۔
رحال نے صوفے پر گھوم کر اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں بھی ممتا جیسی محبت چمک اٹھی۔ “مجھے بھی تم سب کی بہت یاد آئے گی معراج۔ امی، بابا اور تمہارے بغیر میرے لیے بھی نئے گھر میں ایڈجسٹ ہونا آسان نہیں ہوگا، لیکن یہ زندگی کا اصول ہے نا۔”
ہاں جانتی ہوں وہ خلا کا گھر ہے لیکن پھر بھی اب نے اُن کی بہو بن کے اُس گھر میں جاؤں گی
معراج نے جذباتی ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے شرارت سے اپنی بہن کو دیکھا، “اور ویسے میں اچھی طرح جانتی ہوں، تم وہاں جا کر علی بھائی کو بہت زیادہ تنگ کرو گی!”
رحال کے لبوں پر اب ایک خوبصورت اور کھلکھلاتی ہوئی مسکراہٹ ابھر آئی، “ہاں، تنگ تو میں بالکل کروں گی! شوہر ہوں گے وہ میرے، اب کیا میں انہیں تنگ بھی نہیں کر سکتی کیا؟ یہ تو میرا حق ہے۔”
معراج کھلکھلا کر ہنس پڑی، “ہاں ہاں کر لینا، لیکن یاد رکھنا۔۔۔ وہ بھی تمہیں برابر کا تنگ کریں گے۔ علی بھائی کوئی سیدھے سادھے نہیں ہیں، وہ اپنا بدلہ لینا اچھی طرح جانتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے معراج اب رحال کے بالوں میں لگی آخری چند پنز (Pins) بہت دھیان سے اتار رہی تھی تاکہ اس کے بال آزاد ہو سکیں۔
رحال بھی ہنس پڑی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے بولی، وہ تو مجھے پتہ ہے کہ وہ کتنے تیز ہیں۔”
ان کی باتیں یوں ہی چلتی رہیں
پھر رحال نے الماری سے اپنا ایک نرم اور ہلکا نائٹ سوٹ نکالا اور فریش ہونے کے لیے واش روم چلی گئی۔ کچھ دیر بعد جب وہ شاور لے کر باہر آئی، تو اس کے گیلے سیاہ بال اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے، جن سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ چہرے سے سارا میک اپ اتر چکا تھا اور اس کا قدرتی رنگ صاف، سفید موتیوں کی طرح چمک رہا تھا۔
وہ بالکل ہلکی پھلکی ہو کر خاموشی سے اپنے بیڈ پر آئی اور کمبل تان کر لیٹ گئی۔ ابھی وہ سونے کے لیے اپنی آنکھیں موندنے ہی لگی تھی کہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے فون کی اسکرین ایک دم چمکی۔
اس نے فون اٹھا کر دیکھا، اسکرین پر نام لکھا تھا: Qesen Kamiyaar۔
رحال نے میسج اوپن کیا۔ قیسن نے صرف دو الفاظ لکھے تھے:
“کیسی ہو؟”
رحال نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، بہت خوش دلی اور سادگی سے ٹائپ کیا:
“ٹھیک ہوں، تم کیسے ہو؟”
دوسری طرف، اپنے عالی شان کمرے کے بیڈ پر اکیلا بیٹھا قیسن، رحال کا یہ جواب دیکھ کر ایک پل کے لیے جیسے وہیں اٹک گیا۔ اس کی انگلیاں کی پیڈ پر جم گئیں۔
کیا وہ ٹھیک تھا؟
نہیں! وہ بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا۔ جس لڑکی کو اس نے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا، آج اس کی مہندی تھی اور کل وہ کسی اور کی دلہن بننے جا رہی تھی۔۔۔ ایسے میں وہ کیسے ٹھیک ہو سکتا تھا؟ اس کا دل اندر سے ریزہ ریزہ ہو رہا تھا۔
لیکن وہ رحال کو اپنی تکلیف کا احساس دلا کر اس کی خوشی برباد نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر میسج میں لکھا:
“ہاں، میں ٹھیک ہوں
پھر ایک لمبی ہچکچاہٹ کے بعد قیسن نے اگلا میسج بھیجا:
“تم آج بہت خوبصورت لگ رہی تھیں رحال۔۔۔ بہت زیادہ۔”
رحال نے یہ میسج پڑھا تو اس کے لبوں پر ایک سادہ سی مسکراہٹ آئی، اس نے جواب دیا:
“تمہارا بہت شکریہ قیسن۔”
پھر رحال کو یاد آیا کہ رات بہت ہو چکی ہے اور کل اس کا زندگی کا سب سے بڑا دن ہے، اس نے جلدی سے ٹائپ کیا:
“اچھا قیسن، میں تم سے بعد میں بات کروں گی، میں ابھی سونے لگی ہوں۔ صبح بارات ہے اور مجھے پارلر بھی بہت جلدی جانا ہے۔”
دوسری طرف بیٹھا قیسن اس کا یہ میسج پڑھ کر سکرین کو دیکھتا رہ گیا۔ وہ اس سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، اپنے دل کا حال سنانا چاہتا تھا، اسے روکنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اب سب بیکار تھا۔ اس نے ٹائپنگ بند کی، اپنا ابھرتا ہوا آنسو صاف کیا اور صرف اتنا لکھ سکا:
“ٹھیک ہے۔ خدا حافظ۔”
رحال نے فون سائیڈ پر رکھا، لائٹ آف کی اور کمبل اپنے اوپر اچھے سے اوڑھ کر لیٹ گئی۔ چند ہی منٹوں میں وہ گہری نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی، جبکہ دوسری طرف اسلام آباد کی اس سرد رات میں قیسن کی آنکھیں اب تک جاگ رہی تھیں،


اسلام آباد کی صبح کا اپنا ہی ایک شاہانہ سحر ہوتا ہے۔ مارگلہ کی سرسبز، بلند و بالا پہاڑیوں کو چومتی ہوئی دھند جب آہستہ آہستہ چھٹتی ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے قدرتی حسن نے خود اپنے ہاتھوں سے اس شہر کو تراشا ہو۔ سرسبز درخت، صاف ستھری چوڑی سڑکیں، فضا میں صنوبر کے درختوں اور بھیگی مٹی کی رچی بسے خوشبو اس شہر کو دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار کراتی ہے۔
اس شہر کو “اسلام آباد” کا نام اس لیے دیا گیا تھا کیونکہ لفظ “اسلام” کا مطلب امن و سلامتی ہے اور “آباد” کا مطلب بسایا گیا شہر—یعنی “اسلام کا شہر” یا “امن و سلامتی کا مسکن”۔ یہ وہ شہر ہے جہاں سکون، نفاست اور خوبصورتی ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔


صبح کا ماحول بالکل الگ ہی تھا!
رحال اپنے آرام دہ بیڈ پر کمبل اوڑھے، دنیا و مافیہا سے بے خبر گہری نیند کے مزے لے رہی تھی۔ رات کی شدید تھکن، مہندی کا پرشور فنکشن اور دیر تک جاگنے کی وجہ سے اسے صبح کے وقت کا اندازہ ہی نہیں رہا۔
اچانک۔۔۔ دھپ!
ایک بھاری تکیہ سیدھا رحال کے منہ پر آ کر لگا! رحال ہڑبڑا کر اٹھی، اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور بال بکھرے ہوئے تھے۔
“کیا بیماری ہے تمہیں معراج؟! کیوں اٹھا رہی ہو سونے دو نا!” رحال نے غصے سے تکیہ پرے پھینکتے ہوئے چلیائی۔
معراج نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اور ڈرامائی انداز میں بولی، “اوہ دلہن صاحبہ! ذرا ہوش کے ناخن لیں۔۔۔ دوپہر کا ایک (1) بج رہا ہے!”
“کیاااا؟!” رحال نے جھٹکے سے سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون اٹھایا۔ اسکرین پر واقعی 1:00 PM چمک رہا تھا۔
“اوہ خدایا!” رحال کی تو چیخ ہی نکل گئی۔ “میں اتنی لیٹ ہو گئی؟ مجھے تو صبح ہی پارلر کے لیے نکلنا تھا!” وہ جلدی سے بیڈ سے اتری۔ رات کی تھکن ایسی غالب آئی تھی کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا اور صبح کی جگہ دوپہر ہو چکی تھی۔

رحال نے سیکنڈز میں واش روم جا کر منہ ہاتھ دھویا، بالوں کا تیزی سے جورا بنایا، گلے میں ڈھیلا سا دوپٹہ ڈالا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل آئی۔
لاؤنج میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ سامنے ہی علی مصطفیٰ انتہائی باوقار انداز میں صوفے پر بیٹھا فرحان صاحب سے کسی اہم بات پر گفتگو کر رہا تھا۔ جبکہ سلمان اور عثمان Marriage Hall) کی طرف گئے ہوئے تھے تاکہ شام کی بارات کے تمام انتظامات کو آخری شکل دے سکیں۔
رحال کچن کی طرف بھاگی، جہاں سلیماں بیگم گرم گرم کھانا تیار کر رہی تھیں۔
امی! میں اتنی لیٹ اٹھی ہوں، آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟” رحال نے ہانپتے ہوئے شکایت کی۔
امی نے مڑ کر اپنی بیٹی کو دیکھا اور پیار سے مسکرائیں، “نہیں میری جان، تم رات کو بہت تھک گئی تھی، اسی لیے میں نے سونے دیا۔ اب جلدی سے تم اور معراج کچھ کھا لو، علی تم دونوں کو سیلون چھوڑ دے گا۔”
رحال نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلایا۔ سلیماں بیگم نے ڈائننگ ٹیبل پر اس کے لیے کھانا لگایا اور رحال وہیں بیٹھ کر کھانے لگی۔ سلیماں بیگم اس کے پاس ہی بیٹھ گئیں اور رحال کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔

تمہارے بغیر ہم اکیلے ہو جائیں گے رحال۔۔۔” امی کا لہجہ اچانک بھاری ہو گیا۔ “بیٹیاں بہت جلدی بڑی ہو جاتی ہیں نا۔”

رحال کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ اس نے مسکرا کر امی کی طرف دیکھا، “امی! میں ملنے آیا کروں گی نا آپ سے، لاہور کون سا دوسرے ملک میں ہے۔”
“جانتی ہوں بیٹے،” امی کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، “لیکن ہم تمہیں پھر بھی بہت یاد کریں گے۔ بس آج کا دن ہے ہمارے پاس۔۔۔ اس کے بعد تو تم ہمارے گھر کی مہمان بن جاؤ گی۔ جب بھی آؤ گی، مہمان بن کر آؤ گی۔”
امی! آپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں؟” رحال کا دل بھر آیا۔
“بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں رحال۔۔۔ انہیں ایک دن اپنے اصل گھر جانا ہی ہوتا ہے،”
افف امی! آپ کی باتیں مجھے رلا دیں گی، میں پہلے ہی لیٹ ہوں!” رحال نے بمشکل اپنے آنسو روکے۔
امی مسکرا دیں اور اس کا ماتھا چوم کر بولیں، “رونا بالکل نہیں ہے! جاؤ، اب جا کر اپنا سامان پیک کرو اور سیلون کے لیے نکلو، علی باہر انتظار کر رہا ہے۔”
رحال کھانا ختم کر کے تیزی سے اپنے کمرے میں آئی۔ اس نے ایک بڑے اور خوبصورت سفری بیگ میں اپنا وسرخ عروسی جوڑا
جیولری باکس، میک اپ اور دیگر ضروری سامان بہت احتیاط سے پیک کیا۔ معراج بھی اپنے کپڑوں کا بیگ تیار کر چکی تھی کیونکہ ان دونوں نے ایک ساتھ ہی سیلون جانا تھا۔
تب ہی علی مصطفیٰ کمرے کے دروازے پر نمودار ہوا۔
“سب سامان ہو گیا؟” علی نے اپنے رعب دار مگر نرم لہجے میں پوچھا۔
“جی علی بھائی، یہ رہے ہمارے بیگز،” معراج نے کہا۔
علی نے آگے بڑھ کر رحال اور معراج دونوں کے بھاری بیگز اٹھائے اور باہر پورچ کی طرف بڑھ گیا۔
باہر پورچ میں علی کی چمکتی ہوئی سیاہ گاڑی کھڑی تھی۔ علی نے بیگز کو ڈگی (Trunk) میں رکھا اور ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا۔ رحال خاموشی سے جا کر علی کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی، جبکہ معراج پچھلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی۔
علی نے گاڑی سٹارٹ کی، ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی سرخ دوپٹے میں لپٹی رحال پر ڈالی جس کے چہرے پر تھوڑی گھبراہٹ اور تھوڑی خوشی تھی
علی اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔

بیوٹی سیلون کا ماحول بہت پرسکون تھا
ہلکی سی مدہم موسیقی پس منظر میں چل رہی تھی اور اے سی کی ٹھنڈک میں گلاب کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ بیوٹیپشین نے رحال کو بڑی سی شیشے والی کرسی پر بٹھایا اور اس کا عروسی میک اپ شروع کر دیا۔
معراج پاس ہی دوسری کرسی پر بیٹھی، کبھی رحال کے اترتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ہنستی تو کبھی بیوٹیپشین کو ہدایات دیتی، “دیکھیں آپ نے میری بہن کو دنیا کی سب سے پیاری دلہن بنانا ہے، ویسے تو یہ بغیر میک اپ کے بھی بلا کی خوبصورت ہے، لیکن آج علی بھائی کے ہوش اڑنے چاہیے!”
رحال نے شیشے میں معراج کو گھورا، “معراج، تم بس اپنا میک اپ کرواؤ، مجھے مت چھیڑو پہلے ہی دل اتنی زور سے دھڑک رہا ہے۔”
معراج نے کھلکھلا کر کہا، “ابھی سے دھڑک رہا ہے؟ ابھی تو علی بھائی کا بارات لے کر آنا باقی ہے دلہن صاحبہ!” دونوں بہنوں کا یہ ہلکا پھلکا ہنسی مذاق اور نوک جھوک پورے وقت چلتا رہا۔
بیوٹیپشینز نے بہت تسلی اور مہارت سے دونوں بہنوں کو تیار کیا۔ وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور دیکھتے ہی دیکھتے باہر اسلام آباد کی شام ڈھلنے لگی، سورج کی نارنجی اور سنہری کرنیں فضا میں گھلنے لگیں۔

معراج جب تیار ہو کر شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی تو اس کا روپ دیکھنے والا تھا! اس نے (سنہرے) رنگ کا سحر انگیز لہنگا پہن ر رکھا تھا۔۔۔
جس کا دوپٹہ اس نے بہت نفاست سے سارھی کے انداز میں ڈریپ کیا ہوا تھا۔ اس کے لمبے بال پیچھے کھلے ہوئے تھے اور نیچے سے خوبصورتی سے کرل (Curl) کیے گئے تھے۔ آنکھوں پر سنہرے رنگ کا نازک سا میک اپ، لبوں پر ہلکی گلابی لپ اسٹک اور ماتھے پر چمکتی ہوئی چھوٹی سی بندیا اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔
ہاتھوں میں چنکتی ہوئی چوڑیاں اس کی ہر حرکت پر چھنک اٹھتی تھیں۔ وہ واقعی بے حد حسین اور دلکش لگ رہی تھی۔
لیکن جب رحال پر نظر پڑتی… تو سانسیں تھم جاتی تھیں!

رحال نے سرخ رنگ کا دلکش عروسی لباس پہن رکھا تھا، جو اس کے وجود پر شاندار لگ رہا تھا۔ اس کے بال پیچھے ایک سلیقے سے بنے جوڑے میں باندھے گئے تھے اور سر پر روایتی دلہنوں کی طرح لال دوپٹہ بہت خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا،
جبکہ بالوں کی چند نٹکھٹ لٹیں گالوں پر لہراتی ہوئی اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
اس کی جھیل سی آنکھوں میں بھر بھر کر گہرا کاجل لگایا گیا تھا، جبکہ آنکھوں کا باقی میک اپ بہت ہلکا اور قدرتی رکھا گیا تھا تاکہ اس کی اپنی آنکھوں کی معصومیت قائم رہے۔ پرکشش لبوں پر گہری سرخ لپ اسٹک چمک رہی تھی۔ ہاتھوں میں لال چوڑیاں، گلے میں جگمگاتا ہوا نفیس نیکلس، ناک میں پہنا ہوا چھوٹا سا کوکا اور ماتھے پر سجا مانگ ٹیکا… ہر ایک چیز اس کے روپ کو نکھار رہی تھی۔
وہ آج علی مصطفیٰ کی دلہن تھی اور واقعی زمین پر اتری کوئی اپسرا معلوم ہو رہی تھی!
شام کا سرمئی اندھیرا گہرا ہو رہا تھا جب پورچ میں گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ عثمان ان دونوں بہنوں کو سیلون سے پک کرنے آ چکا تھا۔
عثمان نے جب گاڑی سے اتر کر رحال اور معراج کو دیکھا تو ایک پل کے لیے ٹھٹھک گیا، “ماشاءاللہ! آج تو میری دونوں بہنیں حد سے زیادہ پیاری لگ رہی ہیں۔ چلو جلدی بیٹھو، بھائی وہاں بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔”
عثمان ان دونوں کو لے کر سیدھا مارکی (Marriage Hall) پہنچا۔
دوسری طرف، مارکی کے ایک خاص پرائویٹ روم میں علی مصطفیٰ اکیلا کھڑا تھا۔ وہ ایک دم شاہانہ اور خوبصورت دلہے کے لباس میں ملبوس تھا، جس میں اس کی رعب دار اور وجیہہ شخصیت مزید نکھر کر سامنے آ رہی تھی—جیسے کوئی شہزادہ ہو۔ وہ بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا اور شیشے میں اپنا عکس درست کر رہا تھا، اس کے چہرے پر ایک فاتحانہ اور پرسکون مسکراہٹ تھی۔
بس کچھ ہی دیر کا انتظار باقی تھا… اور رحال ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہونے والی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *