تعلیم یافتہ مگر بے حس معاشرہ
ہم اکثر کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ وہاں موجود اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ڈگری یافتہ افراد کی تعداد سے لگاتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جس قوم میں تعلیم عام ہو جائے، وہاں شعور، اخلاق اور انسانیت بھی خود بخود پروان چڑھنے لگتی ہے۔ لیکن اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم شاید پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ تو ہو گئے ہیں، مگر کیا ہم پہلے سے زیادہ انسان بھی ہوئے ہیں؟
آج ہمارے پاس اعلیٰ ڈگریاں ہیں، جدید معلومات ہیں اور دنیا بھر کی خبریں چند لمحوں میں ہماری انگلیوں کی پہنچ میں ہیں، لیکن ایک زخمی انسان سڑک کنارے مدد کا منتظر ہو تو اکثر لوگ مدد کرنے کے بجائے ویڈیو بنانا ضروری سمجھتے ہیں۔ کسی غریب کے حالاتِ زندگی پر چند لمحوں کے لیے افسوس ضرور کیا جاتا ہے، مگر اس کے دکھ کو کم کرنے کے لیے عملی قدم اٹھانے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کی تکلیف کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں اور پھر اپنی مصروف زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
یہی بے حسی شاید ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت حاصل کرنا یا
زیادہ پیسہ کمانا نہیں ہوتا۔ اصل تعلیم انسان کو سوچنے، سمجھنے اور دوسرے انسانوں کے درد کو محسوس کرنے کا ہنر دیتی ہے۔ اگر ایک شخص بڑی سے بڑی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود اپنے گھر کے ملازم کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ رکھتا ہے، کسی ضرورت مند کو حقیر سمجھتا ہے یا اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کی تعلیم نے اسے کیا دیا؟
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو چکا ہے۔ ہم بچوں کو بہترین اسکولوں میں داخل کروانے کے لیے بے حد فکر مند ہوتے ہیں، مگر ان کی تربیت پر اتنی توجہ نہیں دیتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا کامیاب کاروباری شخص بنے، مگر کم ہی سوچتے ہیں کہ وہ ایک اچھا انسان بھی بنے۔ ہم انہیں مقابلہ کرنا سکھاتے ہیں، آگے بڑھنا سکھاتے ہیں، مگر پیچھے رہ جانے والے کا ہاتھ تھامنا نہیں سکھاتے۔
سوشل میڈیا نے بھی اس بے حسی کو کسی حد تک بڑھا دیا ہے۔ روزانہ اتنے حادثات، جنگیں، ظلم اور المناک خبریں ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں کہ شاید ہمارا دل ان سب کا عادی ہو گیا ہے۔ کسی کی موت چند گھنٹوں کی خبر بنتی ہے، کسی کا دکھ چند لمحوں کی گفتگو، پھر ایک نئی خبر آتی ہے اور ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ دکھ بھی اب ہمارے لیے ایک خبر بن کر رہ گیا ہے، احساس نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس معاشرے کو بدلنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ حکومت کی، تعلیمی اداروں کی یا عام شہری کی؟ حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی ہم سب سے شروع ہوتی ہے۔ ایک استاد اگر اپنے طالب علم کو صرف کتابی علم کے ساتھ اخلاق بھی سکھائے، والدین اگر بچوں کو دوسروں کے حقوق کا احساس دلائیں اور ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں تھوڑی سی مہربانی شامل کر لیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
بے حسی کا علاج بڑی تقریروں میں نہیں، چھوٹے چھوٹے عمل میں چھپا ہے۔ کسی پریشان شخص کی بات توجہ سے سن لینا، کسی ضرورت مند کی مدد کر دینا، اپنے سے کمزور انسان کے ساتھ عزت سے پیش آنا اور کسی کے دکھ پر سچی ہمدردی محسوس کرنا بھی انسانیت کی تعلیم ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈگریاں ہماری قابلیت کا ثبوت ہو سکتی ہیں، مگر ہمارا کردار ہماری اصل پہچان ہوتا ہے۔ ایک ترقی یافتہ معاشرہ وہ نہیں جس میں صرف بلند عمارتیں اور بڑی یونیورسٹیاں ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں انسان دوسرے انسان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں: ہم واقعی تعلیم یافتہ ہیں یا صرف ڈگری یافتہ؟ کیونکہ علم اگر انسان کے اندر محبت، احساس اور رحم پیدا نہ کر سکے تو وہ معلومات کا بوجھ تو ہو سکتا ہے، مگر حقیقی تعلیم نہیں۔
شاید ہمارے معاشرے کو مزید ڈگریوں سے زیادہ، مزید انسانوں کی ضرورت ہے۔
