اندھے دیکھ لیتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں….
رات کے نو بج رہے تھے۔ پورا شہر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا مگر انسانوں کی بنائی مصنوعی دنیا کے لیے رات اور دن کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔
ٹرین اسٹیشن پر کھڑی سات سالہ مفرہ اپنی ماں کے ساتھ سامان اٹھائے انتظار میں کھڑی تھی۔ اس کی ماں نے کپڑوں سے بھرا بھاری بیگ کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔ مفرہ کی نگاہیں مسلسل آتے جاتے لوگوں کو تک رہی تھیں۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے اور شور ہی شور تھا۔ ہر کوئی جلدی میں تھا۔ مسافر سامان اٹھائے، کلائیوں پر بندھی گھڑیوں پر نظریں جمائے، پٹری سے محض تین سیکنڈ کی دوری پر کھڑے تھے۔ سب کی گردنیں بائیں طرف مڑی ہوئی تھیں، جہاں سے ٹرین نے آنا تھا۔
مفرہ جہاں بھی دیکھتی، وہاں بے چینی تھی۔
’انسانوں کی دنیا۔۔۔!‘ اس کے ننھے ذہن میں خیال آیا۔
’ڈرم ڈرم‘ کی خوفناک آواز پیدا کرتی ہوئی ٹرین آہستہ آہستہ ان کے سامنے آ کر رک گئی۔ کھڑکیوں سے آنے والی روشنی میں مفرہ نے دیکھا کہ وہ بالکل خالی تھی۔ اندر کوئی نہیں تھا۔ مفرہ کی ماں سامان کندھے پر لادے ٹرین میں سوار ہو گئی۔
ٹرین چلنا شروع ہو گئی۔
اب بھی وہاں ہر طرف مسافر ہی مسافر تھے۔ ماں کے ساتھ بیٹھی مفرہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہاں اندھیرے میں تیزی سے پیچھے چھوٹتے درختوں اور آبادی کے سوا کچھ نہ تھا۔
’انسانوں کی دنیا۔۔۔!‘
’ماں۔۔۔۔۔‘
مفرہ نے گردن اٹھا کے اپنی ماں کو دیکھا جو نیچے جھکی ہوئی تھیلی میں سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔
’ہمم بولو‘
’ماں دنیا صرف ٹرین میں ہی کیوں چلتی ہے؟‘
اس کے اس معصومانہ سوال پہ انہوں نے اسے دیکھا۔
مخصوص چیز مل گئی تھی۔
اب کے وہ سیدھی ہوئی۔
’یہ کیا بات ہوئی مفرہ؟‘
’ماں دیکھیں نا دنیا چل رہی ہے سڑک درخت چاند۔۔۔‘
ذرا نے ہاتھ میں پیکٹ کھولا اور اپنی بیٹی کی گود میں رکھا۔
’دنیا ٹرین میں اس لیے چلتی ہے تاکہ ہم اسے چلتا ہوا دیکھ سکیں‘
’پر ماں ہم گارڈن میں بیٹھتے ہیں تب تو دنیا نہیں چلتی‘
’ہاں کیوں کہ تب ٹرین نہیں ہوتی‘
’ماں ۔۔۔‘
مفرہ نے ایک دفعہ پھر باہر دیکھا۔ تاریکی میں ڈوبی دنیا چل رہی تھی۔ اس کے دماغ میں یہی تھا۔
درختوں کی دنیا۔
’ماں جب میں بڑی ہو جاؤں گی نا تب میں ایک ایسی دنیا بناؤں گی کہ جب ہم گارڈن میں بیٹھے ہوں تو دنیا چلتی ہوئی نظر آئے پھر ہمیں ٹرین کی ضرورت نہیں ہوگی نا۔۔۔‘
’ہاں بالکل نہیں ہوگی۔‘
مفرہ نے پیکٹ کے اندر ہاتھ ڈالا۔ مونگ پھلیاں نکالیں۔
اور انہیں پھ نکتی ہوئی باہر کا نظارہ کرنے لگی۔
آدھا گھنٹہ گزرا تھا اور ٹرین اک اسٹیشن پہ آکے رکھی تھی۔
بہت سے لوگ سوار ہوئے بہت سے اترتے گئے۔
مفرہ کو معلوم تھا ان کا سب سے آخری اسٹیشن تھا۔
کچھ منٹس میں ٹرین چلنا شروع ہوئی۔
اتنے میں اسے اک عجیب سی آواز سنائی دی۔
کوئی کراہ رہا تھا، جیسے اسے درد ہو رہا ہو جیسے اسے مدد کی ضرورت ہو۔
پھر بہت سی آوازیں اک ساتھ آنے لگی۔
اس نے گردن موڑی۔
وہ ماں کے سامنے والی سیٹ پہ بیٹھی تھی۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔
اک دم سے شور بڑھ گیا تھا۔
اس نے ماں کے تاثرات دیکھے اور اسے بس اک ہی لفظ سوجھا۔
’خوف‘
وہ گردن موڑ کے بار بار پیچھے دیکھ رہی تھی۔
وہاں نیچے فرش پر۔۔۔
سب کی نظریں فرش پہ تھی۔
لوگوں کا جم گھٹا پیچھے جا رہا تھا کیوں کہ دروازے سے تھوڑا آگے۔۔۔
اس نے اک بار پھر پیچھے اب کے ترچھا ہو کے غور سے دیکھا اور اس کے جسم میں سانپ رینگنے لگے، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ دل خوف سے دھک دھک کرنے لگا۔
اس نے زندگی میں شاید پہلی دفعہ کچھ ایسا دیکھا۔
وہ اک بوڑھا شخص جس کے کپڑے پرانے تھے، چہرے پہ میل جمی ہوئی تھی۔
مگر صرف اتنا ہی نہیں۔
وہ خون میں لت پت تھا۔
اس کے آس پاس خون تھا۔
اس کا چہرہ جھکا ہوا تھا وہ بار بار اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
مگر خون آیا کہاں سے۔
پھر مفرہ نے اس کا دوسرا ہاتھ دیکھا جو پیر پہ رکھا ہوا تھا-
اس کا پیر زخمی تھا جیسے وہاں چھری گھونپی گئی ہو اور اس سے وہ کپڑا پھٹ گیا ہو۔
اس کو مدد۔۔۔۔۔
’مفرہ اسے مت دیکھو منہ پھیر لو‘
اس کی ماں کی آواز اسے سنائی دی تھی۔
اس نے سر موڑا۔
’ماں وہ زخمی ہے آ۔۔۔ کوئی اس کی مدد کیوں نہیں کر رہا‘
’آہستہ بولو‘ ذرا نے اس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھا۔
’ماں پر۔۔۔‘ بولتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔
’وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے، کوئی ڈاکو وغیرہ ایسے لوگ خود کو مظلوم ثابت کر کے دوسروں کو لوٹ لیتے ہیں اس لیے ان کی مدد کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ آئی نا بات سمجھ میں‘
’ماں پر ایسے کون خود کو زخمی کرتا ہے ضرور اسے لگی ہوگی۔۔‘
’ہاں یہ ہمارا کام نہیں ہے‘
اور اس پہ مفرہ چپ ہو گئی تھی۔
لوگ اسے دیکھتے ہوئے پیچھے کو ہٹ گیا تھا۔
اسے اک ادھیڑ عمر کا شخص نظر آیا جس نے اک نیا اور شاندار سوٹ پہنا تھا دائیں ہاتھ میں لیپ ٹاپ بریف کیس پکڑا ہوا تھا اور آنکھوں پر چشمہ تھا۔
پھر اس نے اک جوان کو دیکھا جس نے پرنٹڈ شرٹ اور جینز پہنی ہوئی تھی اور اس کی نظریں اس زخمی پہ تھی۔ پر ان میں کوئی تاثر نہیں تھا۔ پھر اک باپ جو اپنے بیٹے کو اٹھائے ہوا تھا نظریں زخمی پر تھی۔
پھر اک بوڑھی عورت جو ہاتھ میں کتاب پکڑے ہوئے تھی نظریں زخمی پر تھی۔
اور ایسے بہت سے لوگ۔
وہاں کوئی اس کی مدد کیوں نہیں کر رہا تھا۔ وہ اب بھی کراہ رہا تھا-
پہلے اس کی آواز آہستہ تھی اب کے وہ چیخنے لگا۔
’میری مدد کرو، میں مر جاؤں گا‘
اور ان سب نے نظریں پھیر لی تھی۔
وہ کچھ کرنا چاہتی تھی۔
اب کے اس نے اک ۱۶ سال کے لڑکے کو دیکھا جو موبائل ہاتھ میں پکڑے ویڈیو بنا رہا تھا۔
اس کے وجود کے اندر غصے کی اک لہر دوڑ گئی۔
اب کے خوف کی جگہ غصہ تھا۔
’ماں وہ مر جائے گا ماں‘
’میں نے کہا نا یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے‘
’ماں ہم اٹھ کے سب کو کہہ تو سکتے ہیں بلا تو سکتے ہیں نا ماں۔۔‘
اس نے اونچی آواز میں بولا۔
’بکواس بند کرو اپنی ہم اک بڈھے اور لٹیرے کی مدد کیوں کریں باقی دنیا مر گئی ہے کیا اور اب مجھے تمہاری زبان چلتی ہوئی نظر آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا‘
مفرہ آنکھوں میں موٹے موٹے تازہ آنسو لیے روح موڑ گئی۔
دنیا اب بھی چل رہی تھی مگر اب اک آواز کے ساتھ۔
’مجھے بچا لو، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میں مر جاؤں گا‘
اور اس میں اس نے اپنی آواز کو دبا دیا۔
اب وہ اک ایسی دنیا بنائے گی جہاں انسانوں جیسی بے حس مخلوق نہ ہو۔ تختہ اک دم الٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔
گھر آنے کے بعد اس مفرہ نے دیکھا بابا ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے فیصلہ کیا وہ سب سنا دے گی اپنے دل کا حال بیان کرے گی۔
ماں اندر دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی۔
’بابا‘
’بولو‘
وہ کوئی نیوز دیکھ رہے تھے جہاں حال میں ہی کسی کا قتل ہوا تھا۔
’بابا آپ کو معلوم ہے آج ٹرین میں کیا ہوا‘
’بکو بھی‘
انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
اک دم مفرہ کا دل اچٹ ہو گیا۔
اس نے منہ کھولا ہی تھا کہ بس ہونٹ واپس سی لیے۔
وہ اٹھ گئی وہاں سے بابا نے غصے سے اسے دیکھا۔
’کچھ تمیز سکھاؤ اپنی بیٹی کو یہ کیا چیز تم نے پالی ہے یہ دیکھ تمہاری تربیت ہے کیسے اٹھ کے گئی ہے کوئی اثر ہی نہیں ہے آج کل کے بچوں کو۔ تمیز ختم ہو گئی ہے‘
وہ چلا چلا کے بول رہے تھے۔
مفرہ چلتے ہوئے گارڈن میں آئی۔ دل گھبرا رہا تھا۔
وہ نیچے گھاس میں بیٹھ گئی۔
سر پیروں پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اس کی دنیا ایسی کیوں تھی۔
اتنی بے حس کیوں۔
وہ وہاں آدھے گھنٹے سے بیٹھی بس آنسو بہائے جا رہی تھی اور اتنے میں اسے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ رات کے وقت وہ درختوں کے پاس آ گئی تھی حالانکہ وہاں اسے گھاس میں بھی نہیں بیٹھنا چاہیے تھا اسے کوئی چیز نقصان دے سکتی تھی۔
اپنے نقصان کی پرواہ نہیں تھا اسے۔
اس نے سر اٹھایا آسمان کو دیکھا۔
دنیا نہیں چل رہی تھی۔
وہ رک گئی تھی ابھی۔ گارڈن میں دنیا رک جاتی ہے۔
اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی۔ اس نے دوپٹے سے آنسو صاف کرنے کی کوشش کی ہی تھی کہ گھاس میں سسسسس کی آواز آنے لگی۔
پہلے آواز سنی پھر وہ وجود اس کے سامنے آیا جسے ہم سانپ کہتے ہیں۔
وہ بدک کے پیچھے ہٹی تھی۔
مگر وہ ادھر ہی رک گیا تھا۔
خوف کے مارے اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی وہ وہی جم گئی تھی۔
پر معلوم نہیں اس کا ذہن اک دم کام کرنے لگا۔ خوف انسان کو الرٹ کر دیتا ہے۔
مفرہ نے کہیں سنا تھا کہ اگر سانپ سامنے آئے تو اس کو تین دفعہ کہنا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کا وعدہ یاد کرو۔ انہوں نے وعدہ لیا تھا کہ وہ انسانوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
اگر وہ شیطان ہوا تو نہیں جائے گا اگر سانپ ہوا تو چلا جائے گا۔
پر پہلے وہ کچھ بولتی تو سہی۔
سانپ سسسس کرتا نزدیک آیا۔ اس کی خوفناک آنکھیں تھی۔ زبان چھری کی سی باہر نکلی ہوئی تھی۔ جلد کھردری تھی۔
مفرہ پیچھے ہٹی کیوں کہ وہ آگے آ رہا تھا۔ اس نے بھاگنے کا سوچا ہی تھا کہ۔
’تم مفرہ ہو نا‘
وہ سانپ اس کے پاؤں میں آکے رکھا پھر گردن اٹھائی اور جھولتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
اس کا وجود خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
اس نے سوچا شاید غلط سن لیا۔
’تم مفرہ ہو نا جواب دو‘
وہ زبان باہر نکالتا پھر اندر کر لیتا۔
’ہا۔۔۔ ہاں میں مفرہ ہوں پر تم۔۔۔ بول کیسے رہے ہو۔۔؟‘
’اسے چھوڑو مجھے تمہارے لیے بھیجا گیا ہے‘
’میرے لیے؟‘
اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا-
’ہاں تمہارے لیے۔ مجھے سرکار نے بھیجا ہے بولتا ہے کہ اس بچی کا انسانیت سے دل اچٹ ہو گیا ہے اسے ہمارے پاس بھیجو‘
اور مفرہ کو اک دم سمجھ آ گیا وہ اب کے خود آگے آئی۔
’میں تم پہ کیسے یقین کروں تم تو اک سانپ ہو اور میرے سوالوں کا جواب تمہاری سرکار کیسے دے گی تم لوگ تو بہت برے ہو‘
مفرہ نے نڈر ہو کے کہہ ڈالا مگر اندر ہی اندر وہ خوفزدہ تھی۔
’سسسسسس سسس ہاں ہم سانپ ہے‘
اس نے گردن توڑی اور بلند کی۔
’مگر ہم انسانوں سے کہیں بہتر ہیں۔ مجھے بتاؤ تم ہماری سرکار کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں جاؤ گی تو انسان تمہارے مار ڈالیں گے بالکل اس بوڑھے زخمی کی طرح‘
مفرہ شاک کے مارے کچھ بول نہ سکی۔
’تمہیں اس کا کیسے پتا؟‘
’سسس ہمیں سب پتا ہوتا ہے اور سوال نہیں۔ بتاؤ ہاں یا نا تمہارے پاس وقت کم ہے‘
مفرہ نے رک کے کچھ سوچا اور پھر کہا۔
’ٹھیک ہے پر۔۔۔‘
’کل رات کو پورے آٹھ بجے اس پہاڑی کے ساتھ والے جنگل میں آ جانا ہم تمہیں وہاں مل جائے گا‘
کہتے ساتھ ہی وہ رینگتا ہوا واپس چلا گیا۔
وہ دور خلا میں سوچتے ہوئے اس درخت کو دیکھتی گئی جس کے اوٹ سے وہ نکل کے آیا تھا۔
……
وہ اس جنگل کے سامنے کھڑی تھی۔ رات کے اس وقت وہ اپنا مقصد لیے اندر داخل ہوئی۔ اونچے اونچے پیڑوں کو دیکھتے ہوئے اس کے وجود پہ کپکپی طاری ہونے لگی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی گئی مگر اس کے پاس کسی راستے کا پتا نہ تھا۔
’میرے پیچھے آؤ‘
اس نے اوپر دیکھا اس کے سر پر اک کالا کوا تھا جو پر پھیلائے ہوا میں اڑ رہا تھا۔
وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتی گئی۔
تقریباً اک گھنٹے بعد وہ اس سرنگ کے سامنے کھڑی تھی۔
کوا اس کو وہی چھوڑے کہیں دور جا کے درخت پہ بیٹھ گیا۔
مفرہ نے گہری گہری سانس لے کے خود کو بحال کیا۔
’سرکار‘
مفرہ نے ڈرتے ڈرتے آواز لگائی۔
’دستک کس نے دی؟‘ با رعب اور بھاری آواز اندر تاریک سرنگ سے آئی۔
’سرکار سوالوں کے جواب تلاش کرنے آپ کے در پر آئی ہوں‘
مفرہ نے کہا۔
’کسی کی اتنی جرات۔ بتا نام اور پتا بتا‘
’سرکار مفرہ نام ہے میرا اور اس پہاڑی کے پار اس بستی سے آئی ہوں جہاں انسان رہتے ہیں‘
’کس نے بتایا تجھے‘
’آپ کے اک بندے نے‘
’کیا ضرورت پیش آئی کہ اک انسان سرکار کے در پر آیا ہے‘
’سرکار کل ہوئے معاملے کا تو آپ کو معلوم ہوگا نا‘
اس نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے گردن کھڑی رکھی۔
جو بھی اندر سے بول رہا تھا اس کے وجود دکھائی نہ دے رہا تھا۔
’معلوم ہے پوچھ‘
’انسانوں سے اچھائی کی امید ختم ہو چکی ہے آپ کے پاس آئی ہوں کوئی حل بتائیں‘
اندر اک دم خاموشی چھا گئی۔ مفرہ نے انتظار کیا۔
کوئی آواز نہیں آئی تو اس نے قدم بڑھائے۔
’خبردار جو آگے آنے کی ہمت کی‘
وہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی۔
’یہ سرکار کا در ہے یہاں بہت کم انسان آتے ہیں اور تو پہلی ہے جو بچی ہے۔ جا انتظار کر بڑی ہو جائے گی تجھے سب پتا چل جائے گا‘
’سرکار مجھے بڑا نہیں ہونا۔ بڑے انسان بہت برے ہوتے ہیں کل انہوں نے اس زخمی کی ذرا مدد نہیں کی آج کے انسان بے حس ہو گئے ہیں۔ مجھے آپ اک ایسا حل بتائیں جس سے میں اس بری دنیا سے نکل آؤں‘
بہت اچھے۔ اندر بیٹھے سرکار نے سوچا-
’چل تو نہیں مانے گی تو پھر اک دنیا ہے جو انسانوں سے کہیں بہتر ہے۔ ادھر چلی جا‘
’وہ کہاں ہے؟‘
’ادھر ہی ہے نیچے زمینوں میں‘
’کیا وہ اچھی جگہ ہے‘
’وہ ایسی جگہ ہے جہاں برے نہیں ہوتے کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا سب بہت ہی اچھے ہوتے ہیں۔ ایسی دنیا کا سب ارمان کرتا ہے مگر وہ کسی کسی کو ملتی ہے‘
’سرکار کیا آپ بھی اسی دنیا سے ہیں‘
’ہاں میں بھی وہاں سے ہوں۔ اسی لیے تو تمہاری مدد کر رہا ہوں‘
’ٹھیک ہے سرکار آپ مجھے وہاں بھیج دیں‘
’نہیں نہیں اس کے لیے تمہیں قیمت چکانی پڑے گی‘
بھاری آواز اک دم بہت تیز ہو گئی تھی۔ مفرہ سوچ میں چلی گئی تھی۔
’کیسی قیمت‘
’اندر آ‘
مفرہ اک لمحے کے لیے رک گئی تھی۔ کیا اسے جانا چاہیے۔
وہاں تاریکی ہی تاریکی ہو گی۔
اسے باہر سے نہیں نظر آ رہا تھا تو اندر سے کیا آتا۔
’تمہارا وقت ختم ہونے والا ہے‘
اس آواز کے سبب اس نے اپنے وجود کو رکنے سے روک دیا۔
اور بس اس نے چھلانگ لگائی اور اس کے پاؤں اندر ہی کہیں جم گئے تھے۔
…..
مفرہ کو اپنا وجود اک دم بہت ہلکا محسوس ہوا۔اس نے بند آنکھیں کھولیں۔ اس کا سر بہت بھاری محسوس ہو رہا تھا۔
وہ زمین پہ کیوں تھی؟ اسے اپنا پورا جسم زمین پہ محسوس ہوا۔
پر کیوں؟
اور جیسے ہی اسے کچھ سمجھ آتا۔
اس کی ٹانگیں؟
ہاتھ؟
اس کا پورا وجود تبدیل ہو چکا تھا۔
یعنی وہ اک سانپ بن چکی تھی۔
سرکار نے اسے سانپ بنا دیا تھا۔ ہوش آنے پہ اس نے سر اٹھا کے دیکھا یہ جگہ زمین کے نیچے تھی جگہ جگہ سوراخ ہوئے تھے۔ مٹی مٹی بھری تھی۔
اس نے آس پاس دیکھا۔
مختلف سانپوں کا جھنڈ آ جا رہا تھا۔ وہاں انڈے پڑے تھے۔
یعنی ان کی دنیا کی طرح یہ بھی اک دنیا تھی۔
یقیناً سرکار نے اسے یہاں بھیجا تھا۔
پر وہ سب اس سے بڑے تھے۔
کوئی اسے نہیں دیکھ رہا تھا ہر کوئی رینگ رہا تھا۔
’یہاں سے ہٹ جاؤ سرکار نے اوپر والی دنیا سے خوراک لانے کو کہا ہے۔ جاؤ یہاں بیٹھو مت‘
اک بڑے سانپ نے رکتے ہوئے اپنی خوفناک آنکھیں اسے دکھائی تھی۔
اس نے ڈرتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔
کیا وہ اتنی بدقسمت تھی؟
’یہ تمہاری دنیا نہیں ہے جہاں ہر کوئی خوش ہوگا یہ سانپوں کی دنیا ہے یہاں تمہیں کام کرنا پڑے گا چلو نکلو یہاں سے میرے پیچھے پیچھے آنا ہم اپنا کام شروع کریں گے‘
اس سانپ نے اسے غصے سے کہا اور اسے ساتھ لیا اوپری دنیا کی طرف چل دیا۔
کچھ لمحوں بعد اس نے دیکھا وہ سانپ ان کے گھر داخل ہو رہا تھا وہ چپ چاپ اس کے پیچھے آئی۔
یہ تو۔۔۔۔
وہ وہی گارڈن تھا جہاں بیٹھ کے وہ رو رہی تھی۔
اس نے دیکھا اس کا بابا سامنے راکنگ چیئر پہ بیٹھا ہس ہس کے اپنی بیوی سے باتیں کیا جا رہا ہے۔
کیا ان کو کوئی پرواہ نہیں ان کی بیٹی کہاں ہے؟
مفرہ کی آنکھیں آنسو سے بھر گئیں۔ وہ اپنے باپ کی طرف دوڑنا چاہتی تھی جو ہس رہا تھا جو خوش تھا۔ پر اس کے پاس پاؤں نہیں تھے۔ وہ رینگ رینگ کے اس طرف چل رہی تھی۔
وہ ان کے سمت جا رہی تھی جہاں انسان تھے۔
پیچھے سانپ نے شاک سے اسے دیکھا۔ اس کے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی!
مفرہ کسی ٹرانس میں چلتی ہوئی اپنے بابا کے پاس جا رہی تھی۔
’سانپ!‘ ذرا نے چیخ کر اپنے خاوند کو اس طرف متوجہ کیا۔
وہ بدک کے اٹھا تھا۔
’بابا‘
مفرہ کے لبوں سے الفاظ ادا ہوئے تھے۔
سامنے میز پہ گلاس پڑا تھا انہوں نے اٹھا کے اس سانپ کو دے مارا تھا اس سے اس کا وجود زخمی ہو گیا تھا۔ شیشے اس کے وجود میں گھستے چلے گئے۔ انہوں نے دوسرا گلاس بھی دے مارا اور ان کا نشانہ خطا نہ ہوا۔
وہ تڑپتی ہوئی اپنے باپ کو دیکھے گئی۔
کیسی دنیا تھی یہ۔
بے حس دنیا۔
انسانوں کی دنیا۔
وہ آہستہ آہستہ اپنے وجود کو بے دم دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کرتی گئی۔
’سرکار!‘ پیچھے اس سانپ نے اپنے آگے والے سانپ کو مخاطب کیا وہ دونوں درخت کے اوٹ میں بیٹھے ہوئے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔
’بول‘
’سرکار آپ نے اسے سانپ بنانا تھا تو اس وقت ہی بنا دیتے یہ ناٹک کرنے کی اور اسے جنگل بلانے کی کیا ضرورت تھی؟‘
’مان۔۔۔’مان تجھے معلوم ہے میں نے اسے مہلت دی تھی‘’انسانوں کو سب سے بڑا دکھ قریب سے ملتا ہے اپنوں سے اور اک سانپ اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ اس کے ماں باپ نے اسے پناہ نہیں دی اور وہ بیچاری غیروں کی بستی میں پناہ ڈھونڈنے آ گئی تھی۔ خیر چلو واپس چلیں‘
اور یوں راتیں آنسو سے بھیگنے لگی اور مفرہ کے وجود پہ قطرہ قطرہ برستی گئی۔
ختم شدہ.
