گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۶
باب شمشم : دوسری لہر
رات کافی گزر چکی تھی۔
کمرے میں مدھم روشنی جل رہی تھی۔ میز پر چند فائلیں، کچھ تصاویر اور مختلف کاغذات بکھرے پڑے تھے۔ زرقان ایک فائل ہاتھ میں لیے کافی دیر سے کچھ دیکھ رہا تھا، جبکہ سنان صوفے پر نیم دراز، موبائل پر نہ جانے کیا کھوجنے میں مصروف تھا۔
زرقان نے ایک نظر اُسے دیکھا، پھر جھنجھلا کر پوچھا،
کچھ پتا چلا بھی یا بس ہوا بازی کر رہے ہو؟
سنان نے موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر نہایت اطمینان سے جواب دیا،
ہوا بازی کر رہا ہوں۔
زرقان نے فوراً سر اٹھایا۔
ابے نَلّے۔۔۔
سنان نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔
بھائی نے کہا ہے نا ہمیں، الگ الگ کام کرنا ہے۔ تو تُو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟
پیچھے نہیں پڑا، پوچھ رہا ہوں۔
پوچھ لیا ؟ سنان نے موبائل جیب میں ڈالا اور ہاتھ کے اشارے سے اُسے جانے کا کہا۔ اب نکل۔
زرقان نے گھور کر دیکھا۔
ابے تو دفع ہو۔۔۔ یہ کمرا میرا ہے،
سنان نے فوراً پلٹ کر اُسے دیکھا۔
جہیز میں لایا تھا کیا؟
زرقان نے بےیقینی سے آنکھیں پھیلائیں۔
ابے! جہیز لڑکے نہیں لاتے۔۔۔
سنان کی بات پر زرقان نے اُسے ایسی گھوری سے نوازا کہ اگر نظریں گولیاں چلاتیں تو سنان کب کا ڈھیر ہو چکا ہوتا۔
مگر سنان پر بھلا کب اثر ہونا تھا؟
وہ بڑے اطمینان سے بولا،
ورنہ تو لے آتا۔۔۔؟؟
پھر ذرا سنجیدہ بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا،
ویسے جہیز ایک لعنت ہے، بےبی گرل۔ ہم آپ سے جہیز تھوڑی لیتے۔۔۔
زرقان نے دانت بھینچ کر اُسے دیکھا۔
چپ کر، پاگل۔۔۔
تو پاگل۔۔۔ تجھے کچھ پتا چلا ہے کُچھ یا بس میرے اوپر بھرم مار رہا ہے،
زرقان نے فائل بند کی اور قدرے سنجیدہ ہو گیا۔
پتا چلا ہے۔
سنان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیا؟
زرقان نے میز پر پڑی چند تصاویر اُس کے سامنے پھیلا دیں۔
یہ دیکھ۔ ریپر نے جتنے بھی کام کیے ہیں نا۔۔۔ اُن میں ایک چیز بار بار سامنے آ رہی ہے۔
سنان نے تصاویر پر نظر دوڑائی۔
کیا؟
زرقان نے ایک تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا،
لڑکیاں۔
سنین نے بھنویں سکیڑیں۔
مطلب۔۔۔
مطلب یہ کہ اُس کے گینگ میں لڑکیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
زرقان نے ایک ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
جہاں ڈرگز اسمگلنگ کی خبر ملی، وہاں لڑکیاں موجود تھیں۔
جہاں اسلحے کی ڈیل ہوئی، وہاں بھی لڑکیاں۔
اور ابھی تک جتنے قتل ہوئے ہیں۔۔۔ اُن میں بھی کئی جگہ لڑکیوں کا نام سامنے آیا ہے۔
سنان زیرِ لب بولا،
لڑکیوں سے کافی obsessed وہ؟
زرقان نے کندھے اچکائے۔
یا پھر لڑکیوں کو استعمال کرتا ہے۔
سنان نے ناک سکیڑی۔
ہنہ۔۔۔ آئی ہیٹ لڑکیاں۔۔۔
زرقان نے اُس کی بات نظرانداز کی۔
اگر ہمیں ریپر تک پہنچنا ہے نا۔۔۔
اُس نے میز پر پھیلی تصاویر کو ایک جگہ جمع کیا۔
تو اُس تک پہنچنے سے پہلے ہمیں اُس کی ٹیم تک پہنچنا ہوگا۔
سنان نے فوراً تصحیح کی،
اُس کی ٹیم تک نہیں۔۔۔
وہ ذرا رک کر بولا، لڑکیوں تک۔
زرقان نے آنکھیں گھمائیں۔
ابے پاگل۔۔۔
سنان نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
تجھے جو سمجھ آ رہا ہے، تُو کر نا۔
زرقان نے طنزیہ انداز میں کہا،
تو، نَلّا تُو کیا کر رہا ہے؟
سنان کے چہرے پر اچانک ایک پراسرار سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
وہ صوفے سے سیدھا ہو کر بیٹھا۔
مجھے ایک بہت راز کی بات پتا چلی ہے۔
زرقان نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
کیا؟
سنان نے چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھا، جیسے بات بتانے سے پہلے ماحول بنانا ضروری ہو۔
پھر بڑے اطمینان سے بولا،
یسریٰ ایک چور ہے۔
زرقان چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
ابے پاگل۔۔۔
سنین نے فوراً تصحیح کی،
ہاں، وہ چورنی ہے۔
تجھے کیسے پتا چلا؟
سنان نے بڑے فخر سے سینہ پھلایا۔
میں نے اُس کا ریکارڈ نکلوایا ہے۔
زرقان کی دلچسپی فوراً جاگی۔
کہاں سے۔۔۔
سنین نے بےنیازی سے جواب دیا،
اپنے بندوں سے۔
وہ ہے تو بس شیف۔۔۔
زرقان نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
لیکن اُس کے پاس شیف کی آمدنی سے کہیں زیادہ پیسہ ہے۔ اور جب کسی انسان کے پاس اُس کی حیثیت سے زیادہ پیسہ نظر آئے نا۔۔۔ تو سمجھ جاؤ، دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔
زرقان نے بھنویں سکیڑیں۔
اُس کے پاس اتنے پیسے ہیں جو اُس کی اوقات سے کہیں زیادہ ہیں۔
میں نے اُس کا پورا ریکارڈ نکلوایا ہے۔ جب جب اُس نے کسی گھر سے کام چھوڑا۔۔۔ اُس کے کچھ ہی عرصے بعد اُس کے پاس اچانک بہت پیسہ آیا۔
زرقان اب پوری طرح متوجہ ہو چکا تھا۔
ابھی بھی اُس کے گھر سے بیس لاکھ روپے ملے ہیں۔
زرقان چونک کر سیدھا بیٹھ گیا۔
تو اُس کے گھر چلا گیا؟
سنان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔ اپنے بندوں کو بھیجا تھا۔۔۔ چیک کرنے۔
پھر؟
پھر اُس کے کمرے سے اُس کے سارے ثبوت مل گئے۔
زرقان نے حیرانی سے سنان کی طرف دیکھا۔
ثبوت؟
ہاں۔۔۔ یہاں تک کہ اُس کے پاس ڈائمنڈ کی ایک رنگ بھی ہے۔
وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔
اب تُو ہی بتا۔۔۔ ایک گھر میں کام کرنے والی لڑکی کے پاس ڈائمنڈ کی انگوٹھی کہاں سے آئی؟
زرقان خاموش رہا۔
سنان نے بات آگے بڑھائی۔
مانا کہ وہ پہلے امیر تھی۔ لیکن بچپن میں جب اُس کے ماں باپ فوت ہوئے تو دو تین سال تک اُس کا گزارا اُن کے ماں کے سونے سے ہوا۔ باقی پراپرٹی تو اُس کے چاچا لوگوں نے ہڑپ لی،
وہ ذرا آگے کو جھکا۔
اُس کے بعد؟
اُس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟
زرقان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،
ہو سکتا ہے کسی نے مدد کی ہو؟
سنان ہنس پڑا۔
مدد؟
تو ایک دفعہ جا کر اُس کا گھر دیکھ۔
اُس کا گھر نہیں۔۔۔ محل ہے، محل۔۔۔
زرقان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
سنان نے ہاتھ کے اشارے سے جیسے پورا نقشہ کھینچنا شروع کیا۔
پتا ہے، اُس کے گھر میں داخل ہوتے ہی تجھے ایک چھوٹا سا کمرہ نظر آئے گا۔
جس میں ایک چارپائی اور ایک الماری کے سوا کچھ نہیں۔
بس۔۔۔
لیکن اُس کے بالکل ساتھ ایک روم کا دروازہ ہے۔
اُس دروازے کے اندر جاؤ۔۔۔
سنان نے ڈرامائی انداز میں ایک لمحے کو توقف کیا۔
تو اندر جنت ہے، بھائی صاحب۔۔۔ جنت۔۔۔
زرقان نے بے یقینی سے اُسے دیکھا۔
مطلب؟
سنان نے آنکھیں سکیڑ کر کہا،
مطلب یہ کہ وہ سب کو بےوقوف بناتی ہے۔
اتنی اچھی نہیں ہے وہ، جتنی بننے کی کوشش کرتی ہے۔
زرقان نے فوراً کہا،
مجھے تو پہلے ہی اُس پر شک تھا۔
پھر وہ ذرا سوچ کر بولا،
ہو سکتا ہے وہ ریپر کی بندی ہو۔
سنان نے فوراً سر ہلایا۔
ابے نہیں۔۔۔ ریپر کی بندی ہوتی تو چوری کیوں کرتی؟
اُس کے پاس ویسے ہی پیسے ہوتے۔
زرقان نے فوراً سوال داغا،
تجھے کیسے پتا کہ وہ گھروں میں چوری کرتی ہے؟
سنان نے فخر سے مسکراتے ہوئے کہا،
اُس کی بھی خبر ملی ہے مجھے۔
اور تجھے سب سے مزے کی بات بتاؤں؟
زرقان نے بےتابی سے پوچھا،
بتا۔
سنان نے جیسے کوئی بہت بڑا راز کھولنے سے پہلے اردگرد دیکھا، پھر آہستہ سے بولا،
وہ اپنے بھائی پر فدا ہے۔
زرقان کی آنکھیں پھیل گئیں۔
ابے۔۔۔ اپنے بھائی پر؟!
سنان نے فوراً جھنجھلا کر کہا،
ارے ہمارے بھائی پر۔۔۔۔
امن بھائی پر۔۔؟؟ نہ کر۔۔۔۔
ابے ہاں، اور نہیں تو کیا۔۔۔
زرقان چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
ہیں۔۔۔ امن بھائی پر؟
ہاں۔
سنان نے اطمینان سے سر ہلایا۔
اور پھر یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنے محبوب کے دشمنوں سے جا ملے۔
زرقان نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں۔۔۔ یہ بات تو تُو صحیح کہہ رہا ہے۔
چند لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر زرقان نے قدرے الجھن سے کہا،
لیکن۔۔۔
سنان نے فوراً انگلی اُٹھا کر اُسے روک دیا۔
نہیں۔ یہ بات بھائی کو نہیں بتانی۔
زرقان نے حیرت سے پوچھا،
کیوں۔۔۔؟؟
سنان نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
بلاوجہ اُس کا کیریئر خراب ہو جائے گا۔
زرقان نے گھور کر اُسے دیکھا۔
یہ چوری کرنا اُس کا کیریئر ہے؟
سنان نے بالکل سنجیدگی سے سر ہلایا۔
ہاں تو۔۔۔۔
زرقان نے دانت پیسے۔
ابے نَلّا۔۔۔۔۔۔
سنان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
دیکھا؟ تُو بھی مانتا ہے کہ بندہ ٹیلنٹڈ ہے۔
سنان نے فوراً صفائی پیش کی،
اور ویسے بھی غریبوں کے ہاں تو چوری نہیں کرتی نا وہ۔۔۔
زرقان نے فوراً جواب دیا،
غریبوں کے پاس کچھ ہوگا تو چوری کرے گی نا؟
سنان نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا، پھر سر ہلا دیا۔
وہی تو۔۔۔
زرقان نے جھنجھلا کر کہا،
زیادہ اُس کی سائیڈ نہ لے۔ چپ چاپ بھائی کو بتا دے سب کچھ۔
سنان نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
نہیں بتاؤں گا۔۔۔
کیوں؟
یہ بتانے کے بھائی مجھے پیسے نہیں دیں گے۔
زرقان نے غصے سے اُسے گھورا
ابے! پیسوں کا بھوکا۔۔۔ آستین کا سانپ مت بن۔۔۔
سنان نے بالکل بےشرمی سے مسکراتے ہوئے کہا،
میں بنوں گا۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
زرقان ابھی اُسے گھور ہی رہا تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
اگلے ہی لمحے ایک ملازمہ اندر آئی اور مؤدبانہ انداز میں بولی،
دادی آپ دونوں کو ڈنر کے لیے بلا رہی ہیں۔
پھر ذرا رک کر اُس نے مزید کہا،
امن صاحب بھی آپ دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ کافی دیر سے۔
سنان اور زرقان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
ملازمہ کے جاتے ہی زرقان نے سنان کی طرف دیکھ کر قدرے حیرت سے کہا،
یہ فیملی کچھ زیادہ ہی اچھی ہے۔۔۔ یا پھر صرف مجھے ہی لگ رہی ہے؟
سنان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی۔
واقعی اچھی ہے۔ پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا،
چل، جلدی کر۔
ہمارے بڑے بھائی ہمارے بغیر ایک نوالہ بھی اپنے منہ میں نہیں ڈالیں گے۔
زرقان ہنس پڑا۔
ہاں، اور اگر زیادہ دیر کی تو خود آجائیں گے ہمیں لینے،
پھر تو چلنا ہی بہتر ہے۔
دونوں ہنستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
کمرے میں اب صرف بند فائل پڑی رہ گئی تھی۔۔۔ جس میں یسریٰ کے بہت سے راز ابھی بھی چھپے ہوئے تھے۔
++++++++++++
رات کافی گزر چکی تھی۔
امن آج بھی بےحد مصروف تھا۔
پولیس ڈیپارٹمنٹ کے معاملات نمٹانے کے بعد اب اُس نے سرکاری ہسپتالوں سے متعلق کام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ ہسپتالوں کی سہولیات، ادویات کی فراہمی، عملے کی حاضری اور مریضوں کی شکایات سے متعلق فائلیں ایک کے بعد ایک اُس کی میز پر آ رہی تھیں۔
وہ ایک فائل بند کرتا تو دوسری اُس کے سامنے رکھ دی جاتی۔
اور اسی مصروفیت میں اُسے آج بھی اُس لڑکی کے پاس جانے کا موقع نہیں مل سکا۔
ادھر رات کے اس پہر بھی حسبِ معمول نہات اُس کے لیے کھانا لے کر آیا۔
وہ خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا، کھانا میز پر رکھا اور بغیر کسی خاص بات کے واپس چلا گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز سنتے ہی لڑکی جو کافی دیر سے بستر پر بیٹھی تھی، فوراً اُٹھی۔
وہ تیزی سے دروازے کے پاس گئی اور ہینڈل گھما کر دیکھنے لگی۔
مگر دروازہ حسبِ معمول باہر سے لاک تھا۔
اُس نے ایک بار پھر ہینڈل گھمایا۔
اف۔۔۔ وہ بےزاری سے بڑبڑائی۔
اسی لمحے باہر سے نِہات کی کچھ مدھم آوازیں سنائی دیں۔
وہ فوراً دروازے کے قریب ہوئی اور اپنا کان دروازے سے لگا دیا۔
کچھ دیر تک وہ باہر کی آوازیں سننے کی کوشش کرتی رہی، پھر آہستہ سے پیچھے ہٹ گئی۔
++++++++++++
اُسے اسائنمنٹ کرتے کرتے کافی دیر ہو چکی تھی۔
اور اتنے وقت میں صرف ایک ہی اسائنمنٹ مکمل ہو سکی تھی۔
اُس نے تھکے ہوئے انداز میں لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھا۔
اُف۔۔۔
اُس کی آنکھیں تھکن سے بوجھل ہو رہی تھیں۔
سارا دن کام کرنے کے بعد بھی اُس کا دماغ سکون سے کام نہیں کر پا رہا تھا، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ایک ہی شخص تھا۔
ریپر!
اگر وہ اُسے بار بار کال کر کے تنگ نہ کرتا، اُس کا دماغ نہ کھاتا اور ہر چند منٹ بعد اُس کا فون نہ بجاتا رہتا تو اب تک وہ کم از کم دو اسائنمنٹس مکمل کر چکی ہوتی۔
پھر اُس نے باقی اسائنمنٹس کی فائل بند کر دی۔
باقی کل کر لوں گی۔
اُس میں اب مزید بیٹھنے کی ہمت نہیں تھی۔
وہ بستر سے اُٹھی، کھانا کھایا اور کچھ ہی دیر بعد دوبارہ بستر پر لیٹ گئی۔
چند ہی لمحوں میں تھکن اُس پر غالب آ گئی۔۔۔ اور وہ سو گئی۔
جبکہ شہر کے ایک دوسرے حصے میں امن اب بھی فائلوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔
اُس کی میز پر ہسپتالوں سے متعلق نئی فائل کھلی تھی۔۔۔
+++++++++++
صبح نِہات حسبِ معمول اُس کے لیے ناشتہ لے کر کمرے میں داخل ہوا۔
مگر اندر آتے ہی اُس کے قدم رک گئے۔
یہ کیا۔۔۔؟
اُس کی نظر سیدھی میز پر گئی۔
رات کا کھانا ویسے ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔ جیسے وہ رات کو رکھ کر گیا تھا۔
نِہاد نے حیرت سے لڑکی کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟
کھانا نہیں کھایا؟
لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
نِہات آگے بڑھا اور پلیٹ میں رکھی روٹی اور بیف کے سالن کو دیکھا۔
اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
اوہ۔۔۔
اُس نے ذرا سوچتے ہوئے خود ہی کہا،
یہ بھی تو لڑکی ہے۔
پھر جیسے اُسے ایک خیال آیا۔
کیا پتا یہ بھی امل کی طرح بیف نہیں کھاتی ہو۔
وہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،
بیف نہیں کھاتی تم؟
کمرے میں پھر بھی خاموشی رہی۔
کوئی جواب نہیں آیا۔
نِہات نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر آہستہ سے سر ہلایا۔
اچھا۔۔۔ شاید واقعی نہیں کھاتی۔
اُس نے مزید کچھ پوچھنے کے بجائے خاموشی سے ناشتہ میز پر رکھا، رات کا بچا ہوا کھانا اٹھایا
تبھی اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے جگ پر پڑی۔ جگ میں رات سے پڑا پانی جوں کا توں موجود تھا، جیسے پوری رات کسی نے اس میں سے ایک گھونٹ تک نہ پیا ہو۔ ایک لمحے کو اس کی نظر وہیں ٹھہر گئی، مگر اگلے ہی پل وہ اس خیال کو نظرانداز کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
دوپہر کے وقت نِہات دوبارہ کھانا لے کر کمرے میں داخل ہوا۔
لیکن اس بار جو منظر اُس نے دیکھا، اُس نے اُس کے صبر کا آخری کنارا بھی ہلا دیا۔
ناشتہ بھی ویسے ہی رکھا ہوا تھا۔
نہ پلیٹ ہلی تھی، نہ کھانے کو ہاتھ لگایا گیا تھا۔
نہ پانی کے جگ کو کسی نے چھوا تھا،
نِہات نے چند لمحے اُس پلیٹ کو دیکھا، پھر لڑکی کی طرف۔
اُس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟
لڑکی خاموش رہی۔
نِہات کا لہجہ سخت ہونے لگا۔
کھا کیوں نہیں رہی ہو؟
پھر بھی کوئی جواب نہیں۔
اُس کے دل میں آیا کہ ابھی اسے کھری کھری سنا دے۔
آخر کب سے وہ اُس کے نخرے برداشت کر رہا تھا؟
مگر اگلے ہی لمحے اُسے امن کی بات یاد آگئی۔
اُس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، نِہات۔
نِہات نے گہری سانس لی اور اپنے غصے کو قابو میں کیا۔
لہجہ نرم کرتے ہوئے بولا،
کیا ہوا؟ کھانے میں کوئی مسئلہ ہے؟
خاموشی۔۔۔
نِہات نے دوبارہ پوچھا،
کچھ اور چاہیے؟
کوئی جواب نہیں۔
اب اُس کے صبر کا پیمانہ واقعی لبریز ہو چکا تھا۔
وہ پلیٹ میز پر رکھتے ہوئے غصے سے پلٹا۔
ٹھیک ہے۔۔۔
دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے اُس نے دانت بھینچ کر کہا،
کُچھ مت کھاؤ بھوکی رہو۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے وہ غصے میں دروازہ بند کرکے باہر نکل گیا۔۔
+++++++++++++
شام کو ٹریننگ ختم ہونے کے بعد امل اپنے کمرے میں واپس آئی اور اسائنمنٹ لے کر بیٹھ گئی۔
ابھی اُس نے چند ہی لائنیں لکھی تھیں کہ اُس کے فون پر ایک بار پھر کال آنے لگی۔
اُس نے اسکرین پر نظریں ڈالیں۔
وہی نمبر۔۔۔ اور پھر وہی ریپر۔۔۔
امل نے جھنجھلا کر آنکھیں بند کیں۔
آج بات نہیں کروں گی اِن سے۔
اُس نے فون اٹھایا اور فوراً اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
راہداری میں زرقان سامنے سے آ رہا تھا۔ فون کان سے لگا ہوا تھا اور وہ کسی سے بات کرتے ہوئے شاید کہیں جا رہا تھا۔
امل نے اُسے دیکھتے ہی آواز دی،
علی بھائی۔۔۔
زرقان وہیں رک گیا اور فون کان سے ہٹاتے ہوئے اُسے دیکھا۔
صرف علی بولو مجھے۔
امل نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
زرقان نے منہ بنایا۔
یہ بھائی وائی مُجھے پسند نہیں۔۔۔
امل ہنسنے لگی۔
اچھا۔۔۔
پھر اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
سنیے، یہ لیں۔
اُس نے زرقان کی ہتھیلی پر اپنا فون رکھ دیا۔
فون کی اسکرین پر ریپر کی مسلسل آتی ہوئی کال واضح تھی۔
زرقان نے پہلے فون کو دیکھا، پھر امل کو۔
یہ تو تمہارا فون ہے۔ میں کیا کروں اس کا؟
امل نے فوراً اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔
دیکھیں، اس میں کال آ رہی ہے نا؟
زرقان نے اسکرین دیکھی۔
اب تو بند ہو گئی۔
امل نے اطمینان سے کہا،
ہاں، ابھی ہوئی ہے۔ ابھی دوبارہ آئے گی۔
زرقان نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
تو میں کیا کروں؟
امل نے جیسے کوئی بہت اہم ذمہ داری اُس کے سپرد کی ہو، سنجیدگی سے کہا،
یہ ریپر کی کال ہے۔
زرقان کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
کیا؟
وہ تمہیں کیوں کال کر رہا ہے؟
امل نے بےزاری سے جواب دیا،
مجھے تنگ کرنے کے لیے۔
پھر اُس نے زرقان کی طرف دیکھا۔
آپ یہ فون رکھیں اور نمبر ٹریس کریں۔
زرقان نے فوراً سر جھٹکا۔
امل۔۔۔ وہ ریپر ہے۔۔ ایک مافیا! ایسے عام نمبرز سے وہ تمہیں کال کر رہا ہوگا؟
امل نے کندھے اچکائے۔
جس بھی نمبر سے کال کر رہا ہے، اُس کا کچھ کریں۔
زرقان نے فوراً مشورہ دیا،
نمبر بلاک کر دو۔
امل نے ایسی نظر سے اُسے دیکھا جیسے یہ مشورہ وہ پچھلے سو سال سے سن رہی ہو۔
کر چکی ہوں۔
بہت دفعہ۔ پھر نئے نمبر سے کال کرتے ہیں۔
زرقان نے ایک لمحے کو سوچا، پھر بولا،
اچھا۔۔۔ میں کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
امل نے فوراً کہا،
ہاں، کچھ ایسا کریں کہ یہ مجھے دوبارہ کبھی کال نہ کرے۔
زرقان نے بےساختہ کہا،
یہ تو تم بھی کر سکتی تھی۔
امل نے حیرت سے پوچھا،
کیا؟
زرقان نے بالکل سادہ لہجے میں جواب دیا،
اُٹھ کر چار گالیاں دے دو۔ اور کیا؟ پھر کال نہیں آئے گی۔
امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
میں گالیاں نہیں دیتی۔
زرقان کے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ آگئی۔
پھر کیا دیتی ہو؟
امل نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا، پھر بڑے اطمینان سے بولی،
پیار دیتی ہوں۔
زرقان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ تمہارا پیار ڈیزرو نہیں کرتا۔
امل نے فوراً جواب دیا،
اُسے میں دے بھی نہیں رہی۔
زرقان نے بھنویں اُٹھائیں۔
پھر کس کو دے رہی ہو؟
امل نے بغیر کسی جھجک کے کہا،
اپنے آپ کو۔ اور ہاں آپ پلز اس کا کُچھ کردیے گا۔۔
یہ کہہ کر وہ مُڑی اور سیدھی انیسہ بیگم کے کمرے کی طرف چل دی۔اُن کا فون لینے کے لیے۔
زرقان چند لمحے اُسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے امل کا فون جیب میں ڈالا، ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے چہرے پر آئی اور وہ بھی اپنے کام کی طرف چل پڑا۔
++++++++++++
نِہات نے غصے میں اُسے ویسے ہی چھوڑ دیا۔
کھانا وہ حسبِ معمول وقت پر کمرے میں رکھتا رہا، مگر وہ لڑکی بھی جانے کس مٹی کی بنی ہوئی تھی کہ کھانا اور پانی سامنے موجود ہونے کے باوجود اُسے ہاتھ تک نہیں لگاتی تھی۔
صبح کا ناشتہ۔۔۔ ویسے ہی۔
دوپہر کا کھانا۔۔۔ ویسے ہی۔
اور رات کا کھانا بھی جوں کا توں پڑا رہتا۔
نِہات جتنا دیکھتا، اُتنا ہی اُس کا غصہ بڑھتا جاتا۔
مگر اب غصے سے زیادہ اُسے فکر ہونے لگی تھی۔
اگر یہ لڑکی بھوکی رہی اور اسے کچھ ہو گیا تو؟
پھر تو امن اُسے چھوڑنے والا نہیں تھا۔
آخر امن نے اُسے یہ ذمہ داری سونپی تھی۔
اور نِہات صرف اپنے غصے کی وجہ سے اپنے دوست کا اعتماد توڑ نہیں سکتا تھا۔
رات گئے وہ اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔
کافی دیر تک یہی سوچتا رہا کہ آخر کیا کرے۔
پھر اُس نے بےزاری سے کروٹ بدلی۔
بھائی کو بتا دیتا ہوں۔ پھر بھائی جانے اور یہ جانے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر خود ہی بڑبڑایا،
ورنہ بلاوجہ میرے ہی سر پر چڑھ جائے گا۔
اُس نے گہری سانس لی۔
کل صبح سب سے پہلے بھائی کو بتاؤں گا۔
کم از کم یہ ذمہ داری میرے سر سے تو اترے گی۔
آخرکار اُس نے فیصلہ کر لیا کہ صبح نہیں، ابھی امن سے بات کرے گا۔ ورنہ اُسے رات گئے نیند نہیں آئے گی۔۔۔
بھائی کو ابھی بتا دیتا ہوں صبح جیسا ہوگا وہ دیکھ لیں گے۔۔۔
رات کے دو بجے نِہات امن کے کمرے میں داخل ہوا۔
امن اُس وقت بھی جاگ رہا تھا۔ اُس کے سامنے میز پر کئی فائلیں پھیلی ہوئی تھیں اور وہ پوری توجہ سے اُن میں مصروف تھا۔
نِہات نے اندر آتے ہی کہا،
آپ کی تباہی کا دو دن کا روزہ چل رہا ہے۔
امن نے فوراً بھنویں سکیڑ کر اُسے دیکھا۔
کیا؟
نِہات نے قدرے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا،
وہ دو دن سے کھانا نہیں کھا رہی، اور نہ پانی پی رہی ہے،
امن کے ماتھے پر فوراً بل پڑے۔۔
کیوں؟
نِہات نے بےزاری سے کندھے اچکائے۔
پوچھوں گے نہیں کون؟
امن نے اُسے گھورا۔
مجھے وہ لڑکی اچھی طرح یاد ہے، نِہات۔۔
نِہات نے فوراً کہا،
میں تم سے کہہ رہا ہوں، وہ لڑکی تو اپنا نام تک نہیں بتا رہی۔ تم ہی اُس کا کوئی نام رکھ دو۔
امن نے فائل پر نظریں ڈالتے ہوئے بےفکری سے کہا،
اُس کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ویسے بھی مجھے بغیر نام کے یاد رہتی ہے۔ اور رہی بات نام کی تو وہ میں اپنے طریقے سے پوچھ لونگا۔۔۔
نِہات نے فوراً طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ہاں، تمہاری قاتلہ جو ہے۔۔۔ یاد کیسے نہیں رہے گی؟
امن نے اُسے گھور کر دیکھا۔
کام کی بات کرو۔ کھانا کیوں نہیں کھا رہی وہ؟
نِہات نے بےبسی سے کہا،
مجھے کیا معلوم؟
امن نے فوراً جواب دیا،
تو پوچھو اُس سے۔
نہیں بتا رہی ہے۔ نہ کھانا کھا رہی ہے، نہ پی رہی ہے، نہ کچھ بول رہی ہے۔ بہت دفعہ پوچھ چکا ہوں اُس سے۔
پھر ذرا رُک کر بولا،
اور اب میرے پاس اتنا پیشنٹ بھی نہیں ہے۔
غصہ آ جاتا ہے مجھے۔
امن نے فوراً نظریں اُٹھائیں۔
تم نے غصہ تو نہیں کیا اُس پر؟
نِہات نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔
امن نے سخت لہجے میں کہا،
کرنا بھی مت۔
نِہات نے بےزاری سے کہا،
پھر تم خود ہی ہینڈل کر لو اُسے۔
مجھ سے نہیں ہو رہی۔
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
جب تم نے اُسے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔ اور وہ پہلے کھانا کھا رہی تھی، تو پھر اب کیا ہو گیا؟
نِہات نے فوراً کہا،
وہی تو۔۔۔ پھر ذرا سوچتے ہوئے بولا،
ویسے مجھے تو وہ اب پکی پاگل لگ رہی ہے۔
سائیکوپیتھ۔۔۔
امن نے فوراً اُسے گھورا۔
چپ رہو۔ زیادہ نہیں بولو۔
وہ اپنی کرسی سے اُٹھا اور میز پر پھیلی ہوئی فائلیں سمیٹنے لگا۔
چلو۔
نِہات نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کہاں؟
امن نے بالکل سادہ انداز میں جواب دیا،
اُس کے پاس۔
نِہات نے فوراً گھڑی کی طرف دیکھا۔
رات کے دو بج رہے ہیں۔
امن نے بےفکری سے کہا،
ہاں تو۔۔۔ اُسے ایک رات اور بھوکا رکھو گے؟
نِہات نے بیزاری سے کہا
وہ خود اپنی مرضی سے بھوکی رہ رہی ہے۔
میں کھانا دے کر آیا ہوں اُسے۔
اور اب تک تو سو بھی گئی ہوگی۔
امن نے فوراً سوال کیا،
تمہیں خالی پیٹ نیند آ جاتی ہے؟
نِہات نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔۔۔
تو اُسے کیسے آئے گی؟ امن نے فوراً کہا
نِہات نے ذرا جھنجھلا کر کہا،
لیکن صبح چلے جانا۔ ابھی اپنا کام کر لو۔
امن نے سامنے پھیلی فائلوں پر ایک نظر ڈالی۔
کام بعد میں بھی ہوتا رہے گا۔
یہ کہتے ہی وہ اپنی جگہ سے اُٹھا۔
نِہات ابھی اُسے دیکھ ہی رہا تھا کہ امن نے الماری کھولی، جلدی سے ایک پینٹ اور شرٹ نکالی اور سیدھا واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
چند ہی لمحوں بعد دروازہ بند ہو گیا۔
نِہات وہیں کھڑا اُس کی اس پھرتی کو حیرت سے دیکھتا رہا۔
آج تک اُس نے امن کو کسی چیز یا کسی وجہ کے لیے اتنی تیزی سے کام سمیٹتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔
امن ہمیشہ سے ہر کام پُرسکون انداز میں، اطمینان سے اور اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ کرنے کا عادی تھا۔۔۔ اُسے کبھی کسی کام کے پیچھے یوں جلدی کرتے ہوئے نہات نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
وہ چند لمحے دروازے کو گھورتا رہا، پھر زیرِلب بڑبڑایا،
بھائی نے کہیں کچھ زیادہ ہی تو اُس لڑکی کو اپنے سر پر سوار نہیں کر لیا؟
++++++++++
وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں آنسو تھے۔ سامنے کھانا اور پانی رکھا تھا، مگر اُس نے اُسے چھوا تک نہیں تھا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ چونک کر اُٹھ بیٹھی۔
اُس نے حیرت سے دروازے کی طرف دیکھا۔
اِس وقت کون آ سکتا تھا؟
اُس نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے، چہرے پر سنجیدگی طاری کی اور بستر پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
دروازہ کھلا۔
امن اندر داخل ہوا۔
اُس نے ہلکے نیلے رنگ کی سادہ سی شرٹ پہن رکھی تھی، جس کی آستینیں کہنیوں تک فولڈ تھیں، ساتھ سیاہ پینٹ تھی۔ بال معمول کے مطابق سلیقے سے سیٹ تھے، جبکہ چہرے پر دن بھر کی مصروفیت اور تھکن کے باوجود وہی پُرسکون سنجیدگی قائم تھی۔
اُس کے ایک بازو پر ابھی بھی گولی کے زخم کی پٹی اب بھی موجود تھی،
اُس کے پیچھے ایک گارڈ بھی تھا، جس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی۔ ٹرے میں نوڈلز، برگر اور جوس کا ایک گلاس رکھا تھا۔
جیسے ہی اُس لڑکی کی نظریں امن پر پڑیں، اُس کی آنکھوں میں ٹھہرے چند لمحے پہلے کے آنسو جیسے اچانک اپنی جگہ بدل گئے۔
وہی آنکھیں، جو ابھی تک نمی سے بوجھل تھیں، اب غصے کی چنگاریوں سے دہک رہی تھیں۔
اُس نے بےاختیار ایک نظر آگے ڈالی، پھر پیچھے… جیسے خود بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ اُس کے اندر اُبلتے طوفان کو راستہ کہاں سے ملے۔
اچانک اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے ایک شو پیس پر جا ٹھہری۔
وہ ایک چھوٹے سے پنجرے کی شکل کا کھلونا تھا، جس کے اندر ایک ننھا سا طوطا بنا ہوا تھا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے جھٹکے سے وہ شو پیس اٹھایا۔
اور بغیر کچھ سوچے، پوری قوت سے امن کی طرف اچھال دیا۔
شو پیس سیدھا امن کے سینے سے جا ٹکرایا۔
اچانک ہونے والی چوٹ سے امن ایک لمحے کو ساکت رہ گیا، جبکہ شو پیس اُس کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر جا گرا۔
امن نے آہستہ سے جھک کر وہ شو پیس اٹھایا۔
اُس کی انگلیاں اُس ننھے سے پنجرے پر مضبوطی سے جم گئیں۔
پھر اُس نے نظریں اٹھائیں…
اور سیدھا اُس لڑکی کو دیکھا۔
وہ بستر پر ٹراؤزر اور شرٹ میں بیٹھی تھی، جبکہ سفید رنگ کا دوپٹہ بےترتیبی سے اُس کے کندھوں پر ڈال تھا۔۔ الماری میں ہر طرح کے برانڈڈ سوٹس موجود ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ ٹراؤزر شرٹ ہی کا انتخاب کرتی تھی۔ نِہات اُسے یونہی سائیکو نہیں کہتا تھا۔ اُس کی حرکتیں ہی عجیب وغریب سی تھی،
اُس کے کھلے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے،
اور اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، جیسے کئی راتوں سے اُنہیں سکون نصیب نہ ہوا ہو۔ آنکھوں کے گرد ہلکی سی سیاہی نمایاں تھی، جبکہ چہرہ غیرمعمولی طور پر زرد اور تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
اُس کے ہونٹوں کی رنگت بھی جیسے اُڑ چکی تھی، ہلکی سی نیلاہٹ لیے ہوئے۔
چہرے کی وہ معمولی سی رونق، جو اُس کے تاثرات کو نمایاں کرتی تھی، کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
وہ بظاہر خاموش بیٹھی تھی۔۔۔
مگر اُس کے چہرے پر گزری ہوئی راتوں کی بےچینی، اور اندر ہی اندر پلتی کسی اذیت کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔
لیکن پھر بھی وہ آنکھیں امن کو شدید غصے سے گھور رہی تھیں۔
مگر لب خاموش تھے۔…
امن کی نظریں اُس کی آنکھوں سے ملیں تو ایک لمحے کے لیے اُس کے ذہن میں وہی پرانا منظر دوبارہ زندہ ہو گیا۔
لوگوں کا ہجوم۔۔۔
اُس ہجوم کے سامنے کھڑی وہ لڑکی۔۔۔
اُس کے ہاتھ میں بندوق۔۔۔
پھر اُس کی آواز۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے گولی چلنے کی آواز۔۔۔
امن نے ایک گہری سانس لی اور نظریں ہٹا لیں۔
وہ کچھ کہے بغیر ایک کرسی کھینچ کر اُس کے سامنے بیٹھ گیا۔
پھر امن نے دروازے کے قریب کھڑے گارڈ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
اِسے اُس ٹرے کی جگہ رکھ دو۔۔۔ اور وہ لے جاؤ۔
گارڈ نے سر ہلایا، پرانا کھانا اُٹھایا اور نئی ٹرے سائڈ میز پر رکھ کر باہر نکل گیا۔۔۔
چند لمحوں تک دونوں کے درمیان صرف خاموشی رہی۔
ایک طرف وہ تھی۔۔۔ جس پر امن کے قتل کی کوشش کا الزام تھا۔
اور دوسری طرف وہ تھا۔۔۔ جسے اُسے قیدی بنا کر اپنے سامنے بٹھانا پڑا تھا۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس وقت کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔
کہ اصل میں قاتل کون تھا۔۔۔ اور قیدی کون۔
مجرم کون تھا۔۔۔ اور فیصلہ سنانے والا کون؟
امن اُس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
وہ لڑکی اب بھی اُسے اُسی غصے سے گھور رہی تھی۔
جیسے وہ قیدی نہ ہو۔۔۔ اور امن اُس کا مجرم ہو۔
امن نے چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔۔۔
وہ بھی غصے سے اُسے دیکھتی رہی۔۔۔
پھر امن نے دھیرے سے کہا،
دو دن سے کھانا کیوں نہیں کھا رہی؟
اس نے غصے سے اُسے گھورا۔
مجھ پر قاتل کے گھر کا کھانا حرام ہے۔
امن نے ذرا سا سر ٹیڑھا کیا۔
میں قتلِ ہوں۔۔؟؟
اس کے لہجے میں تلخی گھل گئی۔
ہاں۔ گولی آپ کو میں نے مذاق مذاق میں تو نہیں ماری تھی نا۔
امن چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
کس کا قتل کیا ہے میں نے۔۔۔؟؟
اس نے فوراً جواب دیا،
مجھے یہاں قید کرکے کیوں رکھا ہے؟
کیا ڈر گئے ہیں آپ؟
کہ اِس بار تو زندہ بچ گئے۔۔۔ اگلی بار نہیں بچیں گے؟
امن نے اُس کی بات کا جواب دینے کے بجائے ایک اور سوال کیا۔
کیا نام ہے تمہارا؟
اس نے بنا کسی تردد کے کہا،
ارحاء۔
امن کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔
اُسے بالکل توقع نہیں تھی کہ صرف ایک بار پوچھنے پر وہ اتنی آسانی سے اپنا نام بتا دے گی۔ اور ارحاء یہ کیسا نام ہے۔۔؟؟
وہ ذرا آگے کو جھکا۔
جب میں نے اُس دن اسٹیج سے پوچھا تھا، کون ہو تم؟ تب کیوں نہیں بتایا تھا؟
ارحاء نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا،
تب آپ نے نام نہیں پوچھا تھا۔
آپ نے کہا تھا، کون ہو تم؟
میں نے بتا دیا۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
تو تم واقعی میری تباہی ہو؟
ارحاء نے فوراً اُسے گھورا۔
ہاں۔ میں برباد کر دوں گی آپ کو۔
امن نے بالکل اطمینان سے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ کر دینا۔ پہلے کھانا کھا لو۔
ارحاء نے فوراً اُسی تلخی سے کہا،
کہا نا۔۔۔ قاتل کے گھر کا کھانا حرام ہے مُجھ پر۔۔۔
امن نے نرمی سے کہا، کھانا نہیں کھاؤں گی تو، میرا مقابلہ کیسے کرو گی،
ارحاء نے امن کو گھورتے ہوئے کہا، اپنے سنا نہیں ہے، شیرنی جب زخمی ہو تو زیادہ خونخوار وار کرتی ہے،
امن نے اپنی مُسکراہت چھپاتے ہوئے کہا، تو تُم خود کو شیرنی مانتی ہو۔۔؟
ارحاء نے طنزیہ انداز میں کہا، ہاں تو۔۔۔ اپنے نے کبھی دیکھا ہے، گیدڑ کو بھرے مجمعے کے سامنے قاتل پر تانے،
امن نے سکون سے جواب دیا، خیر تم میرے گھر پر نہیں، نِہات کے گھر پر ہو۔
ارحاء نے فوراً کہا،
ایک ہی بات ہے۔
امن نے نفی میں سر ہلایا۔
ایک ہی بات نہیں ہے۔ تمہاری دشمنی مجھ سے ہے نا؟
ارحاء نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
ہاں۔
امن نے جیسے اُس کے سامنے ایک سادہ سا حساب رکھا ہو، ویسے ہی کہا،
تو تمہیں نِہات نے اغوا کرکے اپنے گھر میں رکھا ہے، میں نے نہیں۔
ارحاء کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ہیں؟
امن نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹائی۔
ہاں۔۔ تم نے سب کے سامنے مجھ پر گولی چلائی تھی۔
آگے بھی چلا سکتی تھیں۔ اسی لیے نِہات نے مجھے محفوظ رکھنے کے لیے تمہیں یہاں اُٹھا لیا، تاکہ میں محفوظ رہوں۔ اور اب تم اُس کے گھر پر ہو۔
یہ کھانا بھی اُس کے گھر کا ہے۔۔۔
اور تمہیں یہاں رکھوانے والا بھی وہی ہے۔
میں نہیں۔
امن نے ذرا توقف کیا، پھر نہایت سادگی سے کہا،
ورنہ میں تو تمہارا دشمن ہوں نا؟
میں تمہیں اغوا کیوں کرتا؟
سیدھا پولیس کے حوالے نہیں کر دیتا؟
ارحاء چند لمحے اُسے دیکھتی رہی۔
پھر بےاختیار اُس کے لبوں سے نکلا،
ہاں۔۔۔
امن نے اُس کے سامنے رکھی ٹرے کی طرف اشارہ کیا۔
باقی تم خود دیکھ لو۔ اگر بھوکی رہو گی تو کمزوری ہوگی۔ اور اگر کمزور رہو گی۔۔۔ تو میرا مقابلہ کیسے کرو گی؟
ارحاء نے فوراً تیوری چڑھائی۔
زیادہ اچھے بننے کی ضرورت نہیں۔
میں جانتی ہوں آپ کی اصلیت۔
امن نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ آہستہ سے اپنی کرسی سے اُٹھا اور کھڑا ہو گیا۔
پھر جاتے جاتے ایک لمحے کے لیے اُس کی طرف دیکھا۔
دیکھ لو۔ میں نہیں چاہتا میرا مقابل کمزور ہو۔۔
اور میں بغیر کسی محنت کے جیت جاؤں۔
ارحاء نے اِتراتے ہوئے کہا،
یہ کہہ کر آپ مجھے چیلنج کر رہے ہیں۔۔۔؟
امن نے سنجیدگی سے کہا
ہاں بھی۔۔۔ اور نہیں بھی۔
یہ کہہ کر امن پلٹا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
الایا کچھ لمحے خاموش بیٹھی اُس بند ہوتے دروازے کو دیکھتی رہی۔
پھر اُس کی نظریں آہستہ سے سامنے رکھی ٹرے پر جا ٹھہریں۔
++++++++++++
باہر آیا تو نِہات وہیں کھڑا اُس کا انتظار کر رہا تھا۔
اُس نے فوراً پوچھا،
کہاں کی تیاری ہے؟
امن نے بےفکری سے جواب دیا،
نہیں… صبح چیک کرنا۔
نِہات نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
چلو، آج یہیں رک جاؤ۔ اب کیا واپس گھر جاؤ گے؟
امن نے ایک لمحے کو سوچا، پھر سر ہلا دیا۔
ہاں… میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔
نِہات فوراً مسکرایا۔
چلو پھر… آپ کا کمرہ آپ کا انتظار کر رہا ہے۔
امن نے چلتے چلتے اُس کی طرف دیکھا اور بڑے اطمینان سے بولا،
تمہارے ہوتے ہوئے مجھے بیوی کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔
نِہات نے فوراً سینہ پھلا لیا۔
ہاں… ملٹی ٹیلنٹڈ ہوں میں۔
امان نے اُسے گھورا۔
میں نے بےعزتی کی ہے تمہاری۔
نِہات نے بڑے اطمینان سے کندھے اچکائے۔
میں نے فیل نہیں کیا۔
++++++++++++
امل یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے زرقان آتا دکھائی دیا۔
زرقان نے اُسے دیکھتے ہی اُسے روکا امل روک گئی۔۔۔
پھر زرقان نے اُس کا فون اُس کی طرف بڑھا دیا۔
یہ لو، تمہارا فون۔ اب وہ تمہیں کال نہیں کر سکے گا۔
امل نے حیرت سے فون لیتے ہوئے اُسے دیکھا۔
ایسا بھی کیا کیا تم نے؟
زرقان نے اُس کی طرف دیکھ کر بڑے اطمینان سے کہا،
تم آم کھاؤ، گٹھلیاں کیوں گِن رہی ہو؟
امل نے الجھ کر اُس کی طرف دیکھا۔
پہلے یہ بتاؤ، کیا کیا ہے؟
زرقان نے فون کی طرف اشارہ کیا۔
اس میں سیٹنگ کر دی ہے۔ اب جس کا نمبر تمہارے فون میں سیو نہیں ہوگا، اُس کی کال تم تک نہیں آئے گی۔
امل نے فوراً سوال کیا،
اچھا… اور اگر کسی کو ایمرجنسی میں مجھے کال کرنی ہوئی تو؟
زرقان نے ایک لمحے کے لیے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر بالکل سنجیدہ لہجے میں بولا،
ایمرجنسی میں تمہیں کال کون کرے گا؟
امل نے اُسے گھورا۔
زرقان بےنیازی سے آگے بڑھ گیا، جیسے اُس نے کوئی بہت سنجیدہ اور عقلمند بات کی ہو۔
امل وہیں کھڑی اُسے دیکھتی رہ گئی۔
پھر بےاختیار بڑبڑائی،
عجیب۔۔۔
++++++++++++++++
صبح جیسے ہی دونوں یونیورسٹی پہنچیں، اُن کی پہلی ہی کلاس میتھ کی تھی۔
اور پھر ہوا کچھ یوں کہ…
میتھ کے سر نے بھی نہ جانے صبح صبح کیا سوچا کہ آج ہی ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کر لیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں بیسٹ فرینڈز کلاس سے باہر کھڑی اپنے اپنے نصیب کو کوس رہی تھیں۔
ہنزہ نے لمبی سانس لی۔
آج صبح صبح کس کی شکل سب سے پہلے دیکھ کر میں یونیورسٹی آئی تھی؟
امل نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
اپنی ہی دیکھی ہوگی۔ ہم سے بڑا پَنوتی کوئی بھلا ہو سکتا ہے؟
ہنزہ نے منہ بنایا۔
سر کو بھی آج ہی ٹیسٹ لینا تھا۔
امل نے فوراً رازدارانہ انداز میں کہا،
ارے، جس دن سر کی بیوی سر کو کھانا بنا کر نہیں دیتی نا… اُس دن یہ ایسے ہی کرتے ہیں۔
ہنزہ نے فوراً تائید کی۔
ہاں، صحیح بولی۔ لگتا ہے آج بھی اپنی بیوی سے لڑ کر آئے ہیں۔
امل نے سر ہلایا۔
لیکن مجھے پکا پتا ہے کہ اس میں سر کی ہی غلطی ہوگی۔ اُن کی بیوی تو بہت معصوم ہیں۔
ہنزہ نے فوراً سر ہلایا۔
ہاں نااا…
امل نے کچھ سوچتے ہوئے اُسے دیکھا۔
لیکن تم کام کر لیتی ہو میتھ کا… بس آتا جاتا، تمہیں کچھ نہیں۔ گھر سے سیکھ کر آتی نہ،
ہنزہ نے بےچارگی سے کہا،
یار، میں سیکھ لیتی بھائی سے… لیکن بھائی کو وقت ہی نہیں ملتا۔ اور جب وقت ملتا ہے تو وہ آگے کا سمجھاتے ہیں اور میں پیچھے کا بھول جاتی ہوں۔
امل نے ہنستے ہوئے پوچھا،
مجھے کیا لگتا ہے؟
ہنزہ نے فوراً پوچھا،
کیا؟
امل نے نہایت سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔
مجھے لگتا ہے تمہارا میتھ پڑھتے وقت دماغ ہی چینج ہو جاتا ہے۔
ہنزہ ایک لمحے کو خاموش رہی، پھر سر ہلا دیا۔
صحیح بولی… مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔
باقی سبجیکٹس کے اتنے بڑے بڑے سوال یاد رہ جاتے ہیں، اور میتھ میں میرا دماغ نیلا بتا سناتا ہے۔
امل ہنس پڑی۔
شکر ہے مجھے ایک دفعہ سمجھی ہوئی میتھ یاد رہتی ہے۔ ورنہ ہم دونوں تو ہمیشہ ساتھ بیٹھ کر روتے رہتے۔
ہنزہ نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
جیسے ابھی رو رہے ہیں؟
امل نے سنجیدگی سے سر ہلا دیا۔
ہاںاا…
دونوں چند لمحوں تک وہیں کھڑی اپنے آپ کو ہی کوستی رہیں۔
اُن سے کچھ فاصلے پر تانیہ بھی کھڑی اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
اُس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
شاید اسے پہلی بار اندازہ ہو رہا تھا کہ امل یونیورسٹی میں صرف پڑھنے نہیں آتی تھی… بلکہ اپنی دوست کے ساتھ مل کر اپنے نصیب کو کوسنے بھی آتی تھی۔
اتنے میں کلاس کا وقت ختم ہونے کا اعلان ہوا۔
طلبہ ایک ایک کر کے باہر نکلنے لگے۔
امل اور ہنزہ ابھی وہیں کھڑی تھیں کہ میتھ کے سر اُن کے پاس سے گزرے۔
وہ اچانک امل کے سامنے رکے۔
آپ ایک گھنٹے بعد مجھے میرے آفس میں ملیں۔
اتنا کہہ کر وہ رکے بغیر آگے بڑھ گئے۔
امل چند سیکنڈ تک اُنہیں دیکھتی رہی۔
پھر بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا۔
اللہ! اب میں نے کیا کیا؟
ہنزہ نے فوراً جواب دیا،
باتیں سنائیں گے اور کیا!
امل نے اُسے گھورا۔
کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟
ہنزہ نے کندھے اچکائے۔
جو کام ہوگیا، اُسے کون سمجھے گا؟
امل نے بےچارگی سے سر ہلایا۔
ہاں… عجیب سر ہیں۔ سب پتا ہے اُنہیں، پھر بھی…
ہنزہ نے فوراً بات کاٹ دی۔
چھوڑ دو۔ اُن کے پاس دماغ نہیں ہے۔
امل نے اُسے دیکھا، پھر دونوں بےاختیار ہنس پڑیں۔
+++++++++++++
یہاں امن اور نِہات بھی اُٹھ چکے تھے اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
امن نے نِہات کی طرف دیکھ کر کہا،
جاؤ، دیکھ کر آؤ۔
نِہات فوراً کرسی سے اُٹھا اور ارحاء کے کمرے کی طرف چلا گیا۔
دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اُس کی نظر سب سے پہلے کھانے کی ٹرے پر پڑی۔
ٹرے خالی تھی۔ نِہات کے چہرے پر فوراً حیرت ابھری۔
ارحاء دو دن بعد آخرکار کھانا کھا چکی تھی۔
اُس وقت وہ واش روم میں تھی۔
نِہات نے خالی ٹرے اُٹھائی اور اُس کی جگہ ناشتہ رکھ دیا، پھر کمرے سے باہر نکل آیا۔
واپس آتے ہی اُس نے امن کو دیکھا اور حیرت سے بولا،
اوہ بھائی! کون سا منتر پھونک کر تم آئے ہو؟
امن نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟
نِہات نے بڑے فخر سے خبر سنائی۔
باجی نے دو دن کا روزہ آخرکار توڑ ہی دیا ہے۔
امن کے چہرے پر سکون آگیا۔
شکر ہے۔
نِہات نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا،
کہیں یہ نوڈلز اور برگر کا کمال تو نہیں؟
امن نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
ہو سکتا ہے۔
نِہات نے فوراً اُس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا،
صحیح صحیح بتاؤ، کیا بول کر آئے ہو تم اُسے؟
امن نے اطمینان سے ناشتہ جاری رکھا۔
تم سے ہینڈل نہیں ہو رہی تھی نا وہ… تو میں نے ہینڈل کر لی۔ اب زیادہ مت سوچو۔
پھر جیسے کچھ یاد آیا، اُس نے نِہات سے پوچھا،
اور ہاں، تمہیں پتا ہے نا امل کو کون کون سی چیزیں پسند ہیں؟
نِہات نے فوراً کہا،
ہاں، کیوں؟
امن نے سادگی سے جواب دیا،
بس… وہی چیزیں اُسے دیا کرو۔
نِہات نے چند لمحے اُسے غور سے دیکھا۔
تمہیں سب پتا ہے؟
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
اندازہ لگایا ہے میں نے۔
نِہات نے سر ہلایا۔
اچھا… تو جناب اندازے بھی اب کافی پکے لگاتے ہیں۔
امن نے اُسے گھورا۔
ناشتہ کرو۔
++++++++++++
ایک گھنٹے بعد امل سر کیبن کے باہر پہنچی۔
اُس نے دروازے پر دستک دی۔
اندر سے اجازت ملنے پر امل نے ایک نظر اپنے ساتھ کھڑی تانیا پر ڈالی۔
تم یہیں باہر کھڑی رہو۔
تانیا نے سر ہلا دیا۔
امل نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔
مگر اندر قدم رکھتے ہی اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں،
آپ…؟!
سامنے سر کی کرسی پر سر نہیں، بلکہ ریپر بڑے اطمینان سے بیٹھا تھا۔
اب تو امل اُسے دیکھتے ہی پہچان جاتی تھی۔
ریپر نے اُسے دیکھتے ہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
تم جتنا مجھ سے دور بھاگو گی، میں اُتنا ہی تمہارے پاس آؤں گا، گریملِن۔
امل نے حیرت اور غصے سے اُسے دیکھا۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
ریپر کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا،
تمہیں اپنی طاقت دکھانے آیا ہوں۔
کہ دیکھو… باڈی گارڈ رکھوانے کے بعد بھی میں تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔
امل نے فوراً جواب دیا،
اپنی طاقت پر کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔
اور ابھی میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔۔
ریپر نے فوراً ہاتھ اٹھا کر اُسے روکا۔
نا نا، گریملِن۔
اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ شور مچا کر اپنے باڈی گارڈ کو اندر بلاؤ گی، پھر اُس کی مجھ سے لڑائی ہوگی…
تو ذرا یہ بھی سوچ لو کہ یہاں کے بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
امل نے غصے سے دانت بھینچے۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ دکھا دی نا اپنی طاقت؟ اب جائیں یہاں سے۔
ریپر نے بڑے اطمینان سے اُسے دیکھا۔
پتا ہے… میں چاہوں تو تمہیں فیل بھی کروا سکتا ہوں۔
امل نے فوراً جواب دیا،
تو کر دیں۔
ہر بات پر اُس کا یہ بےخوف انداز ریپر کے غصّے کو مزید بھڑکا دیتا تھا۔
آخر اُسے ریپر سے خوف کیوں نہیں آتا تھا؟
وہ جتنا اُسے ڈرانے کی کوشش کرتا، امل اُتنی ہی بےفکری سے اُس کے سامنے کھڑی ہو جاتی۔
اور یہی بات ریپر کو سب سے زیادہ غصّہ دلاتی تھی۔
کہتے ہیں دل کا حال اللہ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا، بالکل ویسے ہی ریپر بھی اب تک امل کے دل کا حال نہیں جان پایا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ امل کو ریپر سے کس قدر خوف آتا ہے کہ ہر بار اُس کے سامنے کھڑے ہوتے ہی اُس کا دل بےقابو ہونے لگتا تھا، مگر وہ اپنے خوف کو اُس کی آنکھوں تک پہنچنے نہیں دیتی تھی۔
ریپر کو صرف اُس کی بےخوفی نظر آتی تھی…
اُس خوف کے پیچھے چھپی حقیقت نہیں۔
پھر امل نے دونوں بازو باندھ لیے اور نہایت سنجیدگی سے کہا،
اور ویسے بھی… جتنا برا میرے ساتھ ہو چکا ہے، اب مجھے اپنے کسی برے انجام کی فکر نہیں۔
ریپر نے اُسے غور سے دیکھا، پھر قدرے حیرت سے پوچھا،
مجھ سے نکاح کو تم سب سے دردناک منظر کہہ رہی ہو؟
امل نے بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا،
بالکل۔ وہ منظر اتنا ڈرناک ہے کہ جب جب اُسے سوچتی ہوں تو میری سانسیں رکنے لگتی ہیں۔
اُس نے ایک لمحے کے لیے نظریں ریپر پر جمائیں، پھر دھیرے سے بولی،
اور جب جب آپ کو دیکھتی ہوں تو آپ کا قتل کرنے کا من کرتا ہے۔
ریپر کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
یہ تو اچھی بات ہے نا، گریملِن۔
امل نے فوراً سوال کیا،
آپ مجھے بتائیں گے کہ یہ گریملِن کا مطلب آخر ہے کیا؟
ریپر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا،
اپنے بھائی سے پوچھو نا… جو اتنا انٹیلیجنٹ بنا پھرتا ہے۔ جس کے پاس دنیا کا سارا گیان ہے۔
امل نے فوراً سر ہلایا۔
سو تو ہے، میں اُن سے ہی پوچھ لوں گی۔
ریپر نے غصے سے زیرِ لب بڑبڑایا،
بھائی کی بگڑی ہوئی بہن…
امل نے اُسے نظرانداز کیا اور سامنے پڑی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
اب اُس سے زیادہ دیر کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔
ویسے بھی ابھی ایک گھنٹہ وہ پنیشمنٹ میں کلاس سے باہر کھڑی رہی تھی۔ اور دل میں موجود اُس خوف کو قابو میں رکھنے کے لیے بھی اب بیٹھنا ضروری تھا…
ریپر نے امل کو دیکھتے ہوئے کہا،
یہ تم بیٹھی کس سے پوچھ کر ہو؟
امل نے بےفکری سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
ابھی آپ کا ہوا تو ہوگا نہیں… تو میں نے سوچا آرام سے بیٹھ کر آپ کی بکواس سن لیتی ہوں۔
ریپر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
جیسے تمہاری تڑتڑ زبان چلتی ہے نا…
کسی دن ویسے ہی میری گولی چل گئی تو؟
امل نے تھکے ہوئے انداز میں اُس کی طرف دیکھا۔
دیکھیں، میں آپ کی دھمکیاں سن سن کر اب تھک چکی ہوں..اب آپ کر بھی دیں۔
ریپر نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
اچھا…؟ چلو، میں تمہیں دکھاتا ہوں۔
تمہارے بھائی کے سیاست میں آنے کے باوجود میں ابھی بھی اپنے مقام پر موجود ہوں۔
یہ کہتے ہوئے ریپر نے جیب سے اپنا فون نکالا۔
اُس نے اسکرین پر کچھ کھولا اور فون امل کی طرف بڑھا دیا۔
امل کی نظریں فوراً اسکرین پر جم گئیں۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اسکرین پر پھر وہی ریپر کا خون خرابہ تھا۔
ایک پولیس اسٹیشن آگ میں جل رہا تھا۔
ایک اسپتال میں آگ لگی ہوئی تھی۔
ایک یتیم خانے کی عمارت شعلوں میں گھری ہوئی تھی۔
جس جس جگہ امن نے کام کا ہاتھ ڈالا تھا…
وہاں وہاں ریپر نے اپنے موت کے سائے چھوڑ دیے تھے۔
امل خاموشی سے اسکرین دیکھتی رہی۔
ریپر نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا، پھر دھیرے سے بولا،
تمہیں پتا ہے… امن روشنی بانٹتا ہے۔
اور میں… سایہ بانٹتا ہوں۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
اور روشنی جہاں جہاں جاتی ہے…
سایہ بھی اُس کے پیچھے ضرور جاتا ہے۔
امل نے چند لمحے اسکرین کو دیکھا، پھر آہستہ سے نظریں اٹھا کر ریپر کو دیکھا۔
آپ شاید ایک بات بھول رہے ہیں…
ریپر کی مسکراہٹ ذرا سی مدھم ہوئی۔
امل نے نہایت سکون سے کہا،
سایہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو…
روشنی کے سامنے اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
ریپر نے اُسے غور سے دیکھا۔
امل کے چہرے پر اب خوف نہیں تھا۔
پھر اچانک اُس نے فون اپنے ہاتھ میں لیا اور تیزی سے کچھ سرچ کیا۔
چند لمحوں بعد اُس کی نظریں اسکرین پر جم گئیں۔
اُس نے فون ریپر کی طرف بڑھا دیا۔
دیکھیں… اور غور سے دیکھیں۔
ریپر نے بےفکری سے فون کی طرف دیکھا۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
اسکرین پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔
موٹروے کے ذریعے دوسرے شہر جانے والی ایک گاڑی کو پولیس نے تحویل میں لے لیا تھا۔
گاڑی میں موجود تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اور سب سے اہم بات…
گاڑی میں بڑی مقدار میں منشیات موجود تھیں۔
ریپر کی نظریں اسکرین پر جم گئیں۔
اُس کا چہرہ ایک دم تن گیا۔
یہ… کیسے؟
یہ کب ہوا؟
اُس کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا۔
آج تک اُس کے کسی بڑے تو کیا، چھوٹے سے چھوٹے کام کی بھنک بھی پولیس تک نہیں پہنچی تھی۔
اُس کے راستے، اُس کے لوگ، اُس کی گاڑیاں…
سب کچھ ہمیشہ محفوظ رہا تھا۔
مگر آج… پہلی بار اُس کا ایک کام پولیس تک پہنچا تھا۔
اور وہ بھی اُس وقت… جب امن اُس کے خلاف کھڑا ہو چکا تھا۔
امل نے ریپر کی طرف دیکھتے ہوئے پُراعتماد لہجے میں کہا،
آپ ایسے ہی میرے بھائی کو ہلکے میں لیتے ہیں۔
نیوز اب بھی چل رہی تھی۔
اس کامیاب کارروائی کا کریڈٹ ظفر اور اُس کے سینئر افسر کے ساتھ ساتھ اُن کے چند ساتھی افسران کو دیا جا رہا تھا۔
ریپر کی نظریں اسکرین پر جمی رہیں۔
پھر وہ زیرِ لب بولا،
ہلکے میں ہی تو نہیں لیتا میں اُسے…
اُس کے لہجے میں غصّہ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے ریپر نے جھٹکے سے کرسی چھوڑ دی۔
وہ کھڑا ہوا اور بغیر امل کی طرف دیکھے سیدھا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
چند لمحوں بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔
امل وہیں بیٹھی اُسے جاتے دیکھتی رہی۔
پھر اُس نے ایک گہری سانس لی۔
جیسے ابھی ابھی اُس کے سینے پر رکھا کوئی بوجھ ذرا سا ہٹا ہو۔ اُس نے بےاختیار سکون کی سانس لی۔
کچھ دیر اپنی سانس بحال کرنے کے بعد امل کمرے سے باہر نکلی۔
تانیہ اب بھی وہیں اپنی جگہ کھڑی تھی۔
اُس نے امل کو دیکھتے ہی سوال کیا،
کمرے سے جو نکلے ہیں… وہ آپ کے سر تھے؟
امل نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔
نہیں، تمہیں سر لگے کیا؟
تانیہ نے فوراً جواب دیا،
نہیں لگے، تبھی تو پوچھ رہی ہوں۔ پھر کون تھے؟
امل نے بالکل اطمینان سے جواب دیا،
سینئر تھے۔ وہ اندر ہی تھے، سر نے پِھر اُن کو ہی مُجھ متھ سمجھنے کا کہہ دیا۔۔۔
تانیہ نے فوراً دوبارہ پوچھا،
اندر سر ہیں؟
امل نے بنا کسی جھجک کے جواب دیا،
ہاں، ہیں۔ سر بھی ساتھ تھے۔
یہ کہتے ہوئے امل نے بڑی صفائی سے جھوٹ بول دیا۔
کیوں بولا؟ شاید وہ یونیورسٹی کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی…
تانیہ نے چند لمحے سوچتے ہوئے کہا،
مجھے تو وہ سینئر بھی نہیں لگے۔
امل کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ہاں…کچھ لوگ وقت سے پہلے ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔
تانیہ نے ایک بار پھر اُس سمت دیکھا جہاں سے ریپر ابھی ابھی باہر نکلا تھا۔
اُس کے ذہن میں اُس شخص کا حلیہ گھوم گیا۔
اچھا خاصا بھاری بھرکم آدمی تھا…
تقریباً چھ فٹ کا قد، چوڑے کندھے اور ایسا رعب دار جسم کہ پہلی نظر میں ہی اُس کی شخصیت عام آدمی جیسی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
تانیا نے دل ہی دل میں سوچا،
سینئر…؟ یہ کیسا سینئر تھا؟
اُسے تو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ یونیورسٹی کا کوئی عام سینئر ہو سکتا ہے۔
مگر امل کے پُراعتماد انداز نے اُسے مزید سوال کرنے سے روک دیا۔۔۔
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔
