Girdaab Episode 20 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۰

نہات گھر پہنچا تو افتخار صاحب کے الفاظ اب بھی اُس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔
کہنے کو تو وہ کہہ دیتا تھا کہ اُسے فرق نہیں پڑتا۔۔۔ مگر حقیقت تو یہ تھی کہ کچھ باتیں انسان کے دل میں اُس جگہ جا لگتی ہیں، جہاں تک اُس کی اپنی رسائی بھی نہیں ہوتی۔
اور افتخار صاحب کی باتیں بھی کچھ ایسی ہی تھیں۔
ماں۔۔۔ باپ۔۔۔ بھائی۔۔۔ بہن۔۔۔ چچا۔۔۔ آخر یہ رشتے ہوتے کیسے ہیں؟ ان کے ہونے کا احساس کیسا ہوتا ہے؟ کوئی اپنا ہو تو کیسا لگتا ہے؟
نہات نے آج تک یہ سب محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
اُس نے تو بس یتیم خانے کی دیواریں دیکھی تھیں۔۔۔ وہی دیواریں، جن کے اندر اُس کا بچپن گزرا تھا، مگر جن کے پاس بھی اُس کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔
آخر کیوں؟
اُس کے ماں باپ نے اُسے قبول کیوں نہیں کیا تھا؟
کیا وہ زندہ تھے؟
یا اُن کے مر جانے کے بعد وہ یتیم خانے کی دہلیز تک پہنچا تھا؟
اور اگر وہ زندہ تھے۔۔۔ تو کیا کبھی اُنہیں اپنے اُس بچے کا خیال آیا ہوگا، جسے وہ دنیا میں تنہا چھوڑ گئے تھے؟
یہ کچھ ایسے سوال تھے جن کے جواب نہات نے کبھی نہیں پائے تھے۔ شاید وقت کے ساتھ اُس نے اُنہیں سوچنا چھوڑ دیا تھا، مگر آج افتخار صاحب کے چند لفظوں نے اُن سب سوالوں کو پھر سے زندہ کر دیا تھا۔
وہ گھر کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔
اُس کی نظریں سامنے خلا میں جمی تھیں، مگر ذہن ماضی کے اُن راستوں پر بھٹک رہا تھا، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
وہ اپنے خیالوں میں اس قدر گم تھا کہ اُسے احساس ہی نہ ہوا کہ اُس کے ساتھ والے صوفے پر ارحا بھی بیٹھی ہے۔
کچھ دیر اُسے خاموش دیکھنے کے بعد ارحا نے پوچھا۔
تمہارے گھر میں تمہارے علاوہ کوئی نہیں ہے؟ تمہاری فیملی نہیں ہے؟
نہات کی نظریں چند لمحوں کے لیے اُس کے چہرے پر ٹھہریں۔ پھر اُس نے نگاہیں پھیر لیں۔
نہیں۔۔۔ یتیم ہوں میں۔
آواز دھیمی تھی۔۔۔ لہجہ معمول کے مطابق، مگر اُس مختصر سے جواب کے پیچھے کتنی لمبی کہانی چھپی تھی، یہ شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
ارحا خاموش ہو گئی۔
کچھ لمحے دونوں کے درمیان خاموشی حائل رہی۔ پھر نہات نے اُس کی طرف دیکھے بغیر پوچھا۔
تمہاری فیملی تمہیں ڈھونڈ نہیں رہی؟
ارحا کی نظریں جھک گئیں۔
نہیں۔
نہات نے اب اُس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
مجھے نہیں پتا۔
یہ کہتے ہی وہ صوفے سے اُٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
نہات کی نظریں اُس کے جاتے ہوئے وجود کا تعاقب کرتی رہیں۔
وہ چاہتا تو اُسے روک کر مزید سوال کر سکتا تھا۔۔۔ مگر اُس نے ایسا نہیں کیا۔
کیونکہ کچھ سوالوں کے جواب انسان جانتا نہیں، اور کچھ کے جواب وہ کسی کو دینا نہیں چاہتا۔
اور شاید ارحا کے پاس بھی ایسا ہی کوئی سوال تھا۔۔۔ جس کا جواب اُس کے پاس نہیں تھا، یا وہ دینا نہیں چاہتی تھی۔
نہات نے ایک گہری سانس لی اور سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔
کچھ زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انسان خود اپنے ہی اندر ایک لاوارث یتیم خانے کی طرح اکیلا رہ جاتا ہے…

+++++++++++++++

میں نے امن سے موو آن کرنے کا سوچ لیا ہے۔۔۔
مائرہ نے سامنے بیٹھی دعا کو دیکھتے ہوئے  سنجیدہ لہجے میں کہا،
دعا نے ہاتھ میں پکڑی فائل سے نظریں اٹھائیں اور اُسے گھور کر دیکھا۔
لو بھئی! تم کب سے امن بھائی کی گرل فرینڈ تھیں جو اب موو آن کرنے کی نوبت آ گئی؟
ابے یار! مائرہ نے فوراً اُس کی بات کاٹی۔ میرا مطلب ہے، اپنی محبت سے۔۔۔
اچھااا! دعا نے بات سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا، پھر شرارت سے مسکرائی۔ یعنی اب کسی اور لڑکے پر ٹرائی مارو گی؟
مائرہ نے منہ کھول کر اُسے دیکھا۔
تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟
ارے، مذاق کر رہی ہوں یار! دعا ہنس پڑی۔ ویسے اچھی بات ہے۔ اب اپنی ڈیوٹی پر دھیان دو۔ یہ سب بےکار چکر ہے۔۔۔
ہاں نا۔۔۔ مائرہ نے فوراً تائید کی، جیسے دعا نے اُس کے دل کی بات کہہ دی ہو۔ میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ اب بس، بہت ہو گیا۔ اپنی زندگی پر توجہ دوں گی اور ان سب چکروں سے دور رہوں گی۔
ابھی مائرہ نے اتنا کہا ہی تھا کہ پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر اچانک کچھ ہلچل سی ہوئی۔
امن اندر داخل ہوا آج وہ اپنے معمول کے انداز سے کچھ مختلف دکھائی دے رہا تھا۔ کریم رنگ کے سادہ مگر نفیس شلوار قمیص میں ملبوس، بغیر کسی چادر یا کوٹ کے، وہ اپنی مخصوص سنجیدگی کے ساتھ اندر آیا۔ اُس کا سیاہ کوٹ شاید اُس کے سیکیورٹی گارڈ کے ہاتھ میں تھا، جو چند قدم پیچھے اُس کے ساتھ چل رہا تھا۔
اُس کے اندر داخل ہوتے ہی جو کانسٹیبل اپنی کرسیوں پر بیٹھے تھے، یکایک سیدھے نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور چند اہلکار تو اُس کے آگے پیچھے ہو لیے،
مائرہ بھی فوراََ اُس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔۔۔
سر! آپ یہاں؟ کوئی کام تھا تو ہمیں بلا لیا ہوتا۔
امن نے مائرہ کی طرف دیکھا…
نہیں، آپ سب کی ڈیوٹی ڈسٹرب ہوتی۔
پھر امن نے باقی سب کی طرف دیکھا۔۔
اور آپ سب لوگ بیٹھیں جائیں اور اپنا کام کریں۔
پھر مائرہ سے مخاطب ہوا۔۔ آپ، آفیسر مائرہ؟
جی، سر۔ مائرہ نے جلدی سے جواب دیا۔۔
اور فوراً اُس کے لیے کرسی آگے کھسکا دی۔
آپ بیٹھیں نا، سر۔
آپ بھی بیٹھ جائیں۔۔۔
امن نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، مگر مائرہ اپنی جگہ کھڑی رہی۔
بات صرف مائرہ کی نہیں تھی، وہاں موجود باقی اہلکار بھی ابھی تک کھڑے تھے۔ جب تک امن اپنی نشست پر نہ بیٹھتا، بھلا وہ کیسے بیٹھ سکتے تھے؟
امن نے ایک نظر سب پر ڈالی، پھر قدرے حیرت سے بولا۔
ارے بھئی! آپ سب بھی کھڑے رہیں گے کیا؟ اچھا، ٹھیک ہے، میں بیٹھ جاتا ہوں۔
یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تو باقی اہلکار بھی اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
مگر مائرہ اب بھی کھڑی تھی۔
امن نے نگاہ اٹھا کر اُسے دیکھا، پھر اپنے سامنے والی خالی کرسی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ساتھ ہی نگاہوں ہی نگاہوں میں اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
اور بس۔۔ پھر کیا تھا۔۔۔
مائرہ کا تو وہیں کام تمام ہو گیا۔
جس شخص سے چند لمحے پہلے وہ موو آن کرنے کے دعوے کر رہی تھی، اب اُسی کے نظر میں اُس کا سارا کھیل ختم کردیا تھا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی، نظریں جھکائے، لب بھینچے، جیسے اُس کی ساری توجہ صرف سامنے رکھی میز پر ہو۔
دعا نے اُسے دیکھا تو بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی، پھر معاذ کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔
حد ہے بھئی! ایسی شرمائی شرمائی والی حرکتیں کریں گی اب یہ۔۔۔
معاذ نے بھی مائرہ کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے آہستہ سے بولا۔
امن بھائی کے سامنے آتے ہی اس کا روپ کیسے چینج ہوجاتا ہے۔۔۔
دعا نے سر ہلایا۔
وہی تو۔۔۔ ابھی دیکھو ایسا لگ رہا امن بھائی اس کا رشتہ لے کر آگئے ہیں۔۔۔
معاذ ہلکا سا مسکرایا ہاں صحیح کہا
آفیسر مائرہ، آپ اُس دن میرے گھر آئی تھیں نا؟ جن ملزمان کو آپ لوگوں نے میرے گھر سے گرفتار کیا تھا، اور آفیسر رشید صاحب کہاں ہیں؟
مائرہ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیا امن نے اُس دن اپنے گھر پر نوٹس کیا تھا؟
اُس وقت میں کافی ٹینشن میں تھا، اس لیے آپ سے بات نہیں ہو سکی۔ آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ اُن سب کی کیا رپورٹ ہے؟ کچھ پتا چلا اُن سے؟
جی سر۔۔۔ مائرہ نے فوراً جواب دیا۔ سب کا یہی کہنا ہے کہ ایک لڑکی اُن کے پاس آئی تھی۔ کسی کے گھر، کسی دکان کسی کے راستے پر اور جاسوسی کرنے کی آفر کی تھی۔ اُن میں سے کسی کی بھی اُس لڑکی سے ذاتی طور پر کوئی خاص ملاقات یا جان پہچان نہیں تھی۔ سب صرف پیسوں کی لالچ میں آ گئے تھے۔  پیسے آتے کس کو اچھے نہیں لگتے،
امن نے غور سے اُس کی بات سنی، پھر پوچھا،
اچھا، اور ایف آئی آر کی کیا رپورٹ ہے؟
مائرہ ابھی جواب دینے ہی والی تھی کہ ظفر ان کے پاس چلا آیا۔۔۔
امن پر نظر پڑتے ہی اُن کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اپنی مخصوص چال کے ساتھ آگے بڑھے اور طنزیہ انداز میں بولے،
اوہو! دیکھیے تو ذرا۔۔۔ آج ہمارے پولیس اسٹیشن میں کس کے شبھ قدم پڑے ہیں۔۔۔
امن نے ظفر کو دیکھتے ہی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے نہایت شائستگی سے اُس کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
امن کے کھڑے ہوتے ہی پولیس اسٹیشن میں موجود باقی تمام لوگ بھی احتراماً اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر ظفر نے اپنے چہرے پر حقارت آمیز مسکراہٹ سجائے ہاتھ کے اشارے سے انکار کر دیا۔
نو تھینکس۔۔ وہ طنزیہ لہجے میں بولے۔ میرے ہاتھ بہت گندے ہیں۔ آپ جیسے پاک لوگوں سے ہاتھ ملاؤں گا تو اچھا نہیں لگے گا۔
اُن کے لہجے میں چھپا طنز وہاں موجود ہر شخص محسوس کر سکتا تھا۔
مائرہ نے ناگواری سے ظفر کو دیکھا، جب کہ امن کا ہاتھ اب بھی مصافحے کے لیے آگے بڑھا ہوا تھا۔
اُس کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ ناگواری۔۔۔ بس ایک پُرسکون سی مسکراہٹ تھی۔
لیکن مجھے آپ سے ہاتھ ملا کر اچھا لگے گا، امن نے نہایت اطمینان سے کہا۔
ظفر کی مسکراہٹ ایک لمحے کے لیے پھیکی پڑ گئی۔
آفینڈ ہونا، ایمبیریس ہونا۔۔۔ یہ سب کیا ہوتا ہے، جیسے امن کو تو معلوم ہی نہیں تھا۔ وہ اب بھی اسی اطمینان سے ظفر کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا، جیسے اُس کے طنزیہ الفاظ کا اُس پر کوئی اثر ہی نہ ہوا ہو۔
البتہ، امن کا یوں ہاتھ بڑھائے رکھنا اور باقی سب کا اُن دونوں کو دیکھنا ظفر کو ضرور ایمبیریس کر گیا تھا۔ آخرکار، سب کے سامنے مزید انکار کرنا اُسے خود اپنی سبکی محسوس ہونے لگا، سو شرمندگی کے باعث بالآخر اُس نے امن سے ہاتھ ملا ہی لیا۔
تو کہیے، سرکار۔۔۔ ظفر نے اپنی جھینپ چھپانے کے لیے دوبارہ طنز کا سہارا لیا۔ کیسے آنا ہوا اِدھر؟
امن نے اُس کے لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا۔رپورٹ لینے آیا ہوں۔
ارے ظفر نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔ ہمیں حکم کر دیا ہوتا۔ ہم آپ کے خادم، آپ کے قدموں میں حاضر ہو جاتے۔ آپ کو زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
امن نے ظفر کے طنزیہ انداز کو نظرانداز کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
آپ میری خدمت میں حاضر ہوں یا میں آپ کی خدمت میں، بات تو ایک ہی ہے، ظفر صاحب۔
ظفر کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے ناگواری ابھری، مگر وہ فوراً اپنی مسکراہٹ میں چھپا گئے۔
تو پھر آئیے سرکار، آپ کو ایف آئی آر کی رپورٹ دکھاتے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے وہ  اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ امن بھی خاموشی سے اُن کے پیچھے چل دیا۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی ظفر نے دروازہ کھولا اور امن کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔ امن اندر داخل ہوا تو ظفر نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔
اب کمرے میں اُن دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔

+++++++++++++++

زوزی، ریپر کے کہنے پر اورنگی ٹاؤن کے اُس علاقے میں رہنے آ گئی تھی، جہاں سے وہ لڑکی اچانک غائب ہوئی تھی۔ اکیلی لڑکی تو وہ یہاں رہ نہیں سکتی تھی۔۔۔ اسی لیے اُس نے یہاں اپنے ٹیم کے ایک لڑکے کے ساتھ کرائے پر ایک چھوٹا سا گھر لیا، اور دونوں نے خود کو میاں بیوی ظاہر کیا، تاکہ کسی کو اُن کے یہاں رہنے پر شک نہ ہو اور وہ عام لوگوں کی طرح اپنی زندگی گزارتے دکھائی دیں۔
زوزی کو یہاں آئے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تھا، اِس لیے وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس کی کسی حرکت سے لوگوں کو اُس پر شک کرنے کا موقع ملے۔
وہ ابھی کہیں سے واپس آ رہی تھی۔ وہ اپنے خیالوں میں گم، تیز قدموں سے گھر کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک پیچھے سے موٹر سائیکل کی آواز سنائی دی۔
اُس نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی، مگر اگلے ہی لمحے موٹر سائیکل اُس کے قریب آ کر رکی۔
اُس پر سوار دونوں لڑکے فوراً نیچے اترے اور اُس کے راستے میں آ کھڑے ہوئے۔
زوزی کے قدم وہیں رک گئے۔
کیا ہے؟ اُس نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
جو کچھ تمہارے پاس ہے، نکالو! ایک لڑکے نے رعب جھاڑتے ہوئے کہا۔ بیگ بھی اور فون بھی! جلدی کرو۔
زوزی نے باری باری دونوں کو دیکھا۔ ابھی وہ اُن کے انداز کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ دوسرے لڑکے نے اپنی کمر سے پستول نکال کر اُس کی طرف تان دیا۔
اب زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ اُس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔ خاموشی سے جو کچھ ہے، ہمارے حوالے کر دو۔
پستول دیکھ کر زوزی کے چہرے پر خوف کے تاثرات ابھر آئے۔ کم از کم دیکھنے والے کو تو یہی محسوس ہوتا کہ وہ بری طرح ڈر گئی ہے۔
حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی۔
زوزی کے لیے اُن دونوں سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ وہ چاہتی تو چند ہی لمحوں میں اُنہیں اُن کی اوقات یاد دلا سکتی تھی۔ مگر مسئلہ اُن دونوں لڑکوں کا نہیں تھا۔۔۔ مسئلہ وہ لوگ تھے جو ذرا سی آواز سن کر گھروں سے باہر نکل آتے۔ اور پھر ایک لڑکی کو دو مسلح لڑکوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے دیکھ کر سوالات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔
اور یہ کوئی ڈیفنس کا بنگلہ تو تھا نہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ یہ اورنگی ٹاؤن تھا، جہاں ذرا سا شور مچنے پر پورا محلہ گھروں سے باہر نکل آتا تھا۔
اور اگر وہ شور مچاتی تو عین ممکن تھا کہ وہ لڑکے گھبرا کر فوراً گولی چلا دیتے۔
اُسے ابھی اِس علاقے میں رہنا تھا۔ لوگوں کے درمیان گھلنا ملنا تھا، اُن کا اعتماد حاصل کرنا تھا اور خاموشی سے اپنا کام کرنا تھا۔ وہ اپنی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے ساری محنت پر پانی نہیں پھیر سکتی تھی۔
چنانچہ اُس نے اپنے اندر اٹھنے والے غصے کو بڑی مہارت سے دبایا اور ایک عام سی، خوف زدہ لڑکی بننے کا فیصلہ کیا۔
بھائی، میرے پاس کچھ خاص نہیں ہے، اُس نے دھیمی آواز میں کہا اور اپنا بیگ کندھے سے اتار لیا۔
دونوں لڑکوں کے چہروں پر اطمینان پھیل گیا۔ شاید اُنہیں توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے اُن کے حوالے اپنا سامان کر دے گی۔
ایک لڑکے نے اُس کے ہاتھ سے بیگ جھپٹا، جبکہ دوسرے نے ہاتھ بڑھا کر اُس کا موبائل فون لے لیا۔
اُس کے چہرے پر خوف کے ایسے تاثرات تھے کہ کوئی بھی اُسے دیکھ کر یہی سمجھتا کہ وہ اُن دونوں سے بری طرح ڈر گئی ہے۔ حالانکہ اُس کے ذہن میں اِس وقت اُن دونوں کی شکلیں، اُن کی موٹر سائیکل اور اُن کے بولنے کا انداز محفوظ ہو رہا تھا۔
پھر لڑکے نے بیگ اپنے ساتھی کی طرف اچھالا
چلو، نکل یہاں سے۔۔ ایک نے اُسے دھمکاتے ہوئے کہا۔
زوزی نے فوراً سر ہلایا اور دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
دونوں لڑکے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے اور اگلے ہی لمحے شور مچاتے ہوئے گلی سے نکل گئے۔
زوزی وہیں کھڑی اُنہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
چند لمحے پہلے اُس کے چہرے پر جو خوف تھا، وہ اب کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں اب ایک سرد سی سنجیدگی تھی۔
اُس نے ایک گہری سانس لی، پھر اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
بہت خوب! اُس نے زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ ابھی تو آئے ہوئے چند دن بھی نہیں ہوئے اور تم لوگوں نے استقبال کرنا بھی شروع کر دیا۔
اُس کے لہجے میں غصے سے زیادہ طنز تھا۔
وہ چاہتی تو اُن دونوں کے پیچھے جا سکتی تھی، مگر ایسا کرنے کا مطلب اپنے مقصد کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ فی الحال اُس کے لیے اپنے بھیس کو برقرار رکھنا زیادہ ضروری تھا۔
زوزی نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ پھر اُس نے اپنے چہرے پر دوبارہ پریشانی کے تاثرات سجائے اور آہستہ آہستہ گھر کی طرف چل پڑی۔
مگر اُس کے ذہن میں اب ایک نئی بات گردش کر رہی تھی۔
اگر اِس علاقے میں دن دہاڑے ایسی وارداتیں ہو رہی تھیں، تو کیا یہ محض اتفاق تھا؟
یا پھر اِس علاقے میں کچھ ایسا تھا، جس نے یہاں کے جرائم پیشہ لوگوں کو اتنا بےخوف بنا دیا تھا؟
زوزی نے اپنی رفتار تیز کر دی۔

++++++++++++++++

ظفر نے کچھ دیر پہلے ہی ایف آئی آر کی تمام رپورٹیں امن کے سامنے رکھ دی تھیں۔ امن خاموشی سے ایک ایک صفحہ پڑھتا رہا۔ اُس کے چہرے پر سنجیدگی تھی، اور نظریں رپورٹ کی سطروں پر جمی ہوئی تھیں۔
کچھ دیر بعد اُس نے فائل بند کی اور میز پر رکھتے ہوئے بولا۔
رپورٹ میں تو سب ٹھیک ہے۔۔۔
ظفر خاموش رہا۔ اُس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ امن کی بات سے متفق تھا یا محض خاموش رہنے کو ترجیح دے رہا تھا۔
خیر۔۔۔
امن نے بات وہیں ختم کی اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے ظفر کی طرف الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ ظفر نے بھی خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔
امن ہاتھ ملا کر جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ ظفر کی آواز نے اُس کے قدم روک لیے۔
میں کہہ رہا ہوں۔۔ عوام کو پانی دو، بجلی دو۔۔۔ یہ پولیس کے معاملات سے ہٹ جاؤ۔۔۔
امن نے پلٹ کر اُسے دیکھا۔
کیوں؟؟
اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی،
اب تک میرا فائدہ ہو رہا ہے۔۔ تو میں خاموش ہوں۔۔۔ جس دن ظفر کا فائدہ ہونا بند ہو گیا نا، تو ظفر انسان سے جنّات بن جائے گا۔۔۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
شکر ہے… تم خود کو ابھی بھی انسان سمجھتے ہو۔۔۔
خیر۔۔۔ چلتا ہوں۔۔۔
وہ دوبارہ جانے کے لیے مڑا، مگر ظفر کی آواز پھر سنائی دی۔
میری بات کو سیریس لے لو۔۔۔ ورنہ پچھتاؤ گے بہت۔۔۔
امن کے قدم ایک بار پھر رک گئے۔ اُس نے آہستگی سے پلٹ کر ظفر کی طرف دیکھا، جیسے اب اُسے بھی کچھ یاد آ گیا ہو۔
پتا ہے، میں نے تمہیں پہلی بار کب دیکھا تھا؟؟
ظفر نے قدرے الجھن سے اُسے دیکھا۔
جب میری پوسٹنگ یہاں ہوئی تھی۔۔۔
امن نے نفی میں سر ہلایا۔
جانتے ہو، تمہاری پوسٹنگ کس نے یہاں کروائی؟؟
ظفر کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
نہیں معلوم۔۔۔
میں نے کروائی۔۔۔
ظفر چند لمحے اُسے دیکھتا رہا، پھر حیرت اور ناگواری سے بولا۔
کیوں؟ تمہیں کیا کوئی بیماری ہے؟؟
امن نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
نہیں تو؟
ظفر نے طنزیہ انداز میں سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔
یا تمہارے اندر کوئی میگنیٹ لگا ہے، جو تم ہر بری چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہو۔۔۔
تم پر وہ محاورہ بالکل سوٹ کرتا ہے۔۔۔
امن کے چہرے پر دلچسپی ابھری۔
کون سا؟؟
ظفر نے فوراً جواب دیا۔
اے بیل! مجھے مار والا۔۔۔
امن ہلکا سا مسکرایا…. شکریہ۔۔۔
ظفر نے اُس کی ہنسی کو نظرانداز کرتے ہوئے قدرے آگے ہو کر پوچھا۔
اب بتا دو، کیوں پوسٹنگ کروائی تم نے میری؟؟
امن کی مسکراہٹ دھیرے دھیرے مدھم پڑ گئی۔ اُس نے چند لمحے ظفر کی آنکھوں میں دیکھا، پھر نہایت سنجیدگی سے بولا۔
میں نے تم میں جو دیکھا ہے۔۔۔ اُس کی وجہ سے تم یہاں ابھی تک اِس سیٹ پر بیٹھے ہو۔۔۔
تمہیں فائدہ اٹھانے کا بہت شوق ہے نا، تو میری مہلت کا فائدہ اٹھا لو۔۔۔
ظفر کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ وہ اپنی کرسی سے ذرا آگے ہوا اور تیز لہجے میں بولا۔
تم ہوتے کون ہو مجھے مہلت دینے والے؟ اگر تم مجھے یہ نوکری، یہ پوزیشن کی بات کر رہے ہو، تو تم مجھ سے یہ چھین بھی لو، پھر بھی۔۔۔
میں گِروں گا نہیں۔۔۔
امن نے اُس کی بات مکمل ہونے دی۔ پھر اُس کے چہرے پر ایک ایسی سنجیدگی ابھری جس نے چند لمحوں کے لیے کمرے کی فضا بدل دی۔
خسارہ اُس چیز کا نہیں ہوتا، جس چیز کے چلے جانے سے ہمیں فرق نہ پڑے۔۔۔
خسارہ اُسی چیز کا ہوتا ہے جو۔۔۔ جو ہمارے پاس سب سے قیمتی ہو۔۔۔
اُس نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، پھر ظفر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آخری بات کہی۔
تو اِس سے پہلے کہ تمہارا خسارہ ہو۔۔۔ سنبھل جاؤ۔۔۔
ظفر نے اُس کی بات سُن کر بےنیازی سے کندھے اچکائے اور سرد لہجے میں بولا۔
میرے پاس ایسا کچھ نہیں، جس کا خسارہ ہو مجھے۔
یہ تمہارا وہم ہے کہ تمہارے پاس کچھ نہیں۔۔۔ ہر انسان کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے، جو اُس کے لیے سب سے قیمتی ہوتا ہے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا، جبکہ ظفر اپنی جگہ کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے پر ناگواری تھی،
امن جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا، مائرہ جو بے چینی سے راہداری میں ٹہل رہی تھی، فوراً اس کی طرف بڑھی۔ اس کے چہرے پر پھیلی پریشانی اس بات کی گواہ تھی کہ وہ اندر ہونے والی گفتگو کو لے کر کس قدر فکرمند تھی۔
سر، سب ٹھیک تھا؟
ہاں۔۔۔ آپ اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہیں؟
وہ ظفر سر کی وجہ سے۔۔۔
اِٹس اوکے۔ امن نے اطمینان سے جواب دیا،
تبھی دعا نے مسکراتے ہوئے بولی سر، آپ اپنی عوام کو تو بڑی اچھی اچھی ایڈوائس دیتے ہیں۔۔۔ ہمیں بھی کوئی اچھی سی ایڈوائس دے دیں۔
ارے نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ تو میں بس کچھ لوگوں کو ویسے ہی۔۔۔
سر۔۔ ہم پولیس میں ہیں تو کیا ہوا؟ ہیں تو کراچی کے ہی عوام نا، کراچی میں ہی رہتے ہیں۔۔۔ اور ہم نے بھی آپ کو ووٹ دیا ہے، تو ہمارا بھی کچھ حق بنتا ہے کہ نہیں؟ دعا نے معصومیت سے اپنی بات مکمل کی تو امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے ایک نظر وہاں موجود سب لوگوں پر ڈالی، پھر قدرے سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا
آپ سب پولیس والوں کے لیے تو میری یہی ایڈوائس ہے کہ زندگی میں کچھ بھی کریں، اپنا جتنا مرضی نقصان کر لیں، لیکن کبھی کسی روتے ہوئے انسان کے آنسوؤں کی وجہ مت بنیں۔
مائرہ کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے امن کو دیکھا، پھر قدرے شوخ لہجے میں پوچھا۔
اور جو پہلے ہی اس بات پر عمل کرتا ہو، اُس کے لیے کیا کہنا چاہیں گے آپ؟
امن نے ہلکے سے سر کو جھکایا۔ اس کے لبوں پر ایک مانوس سی مسکراہٹ ابھری، جیسے مائرہ کے سوال نے اسے محظوظ کیا ہو۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بولا۔ ویسے تو آپ کو میری ایڈوائس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ لیکن اپنی بہن کو میں نے بہت سی ایڈوائسز دی ہیں۔ سب سے زیادہ ایک ہی بات دہراتا رہتا ہوں، تاکہ وہ اُس کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے۔
وہ ایک لمحے کے لیے رُکا، پھر مائرہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔ تو اُن ایڈوائسز میں سے ایک ایڈوائس آپ کے لیے بھی میرے پاس ہے۔
مائرہ نے مسکراتے ہوئے فوراً جواب دیا۔
جی سر، دیں۔
اس نے نہایت پُرسکون لہجے میں کہا۔
کبھی بھی اپنی خواہشات کو خود پر اس قدر سوار مت ہونے دیجیے گا کہ آپ صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنا بھول جائیں۔۔۔ کیونکہ خواہش جب حد سے بڑھ جائے تو انسان وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے، جس کا کبھی اُس نے خود بھی تصور نہیں کیا ہوتا۔
مائرہ کے چہرے پر موجود مسکراہٹ ایک لمحے کو ٹھہر گئی۔ وہ خاموشی سے امن کو دیکھتی رہی، جیسے اس کے الفاظ کے پیچھے چھپے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
اور امن۔۔۔ اپنی بات مکمل کرکے ایسے مسکرایا، جیسے اُس نے محض ایک نصیحت نہیں کی تھی، بلکہ زندگی کا ایک اہم اصول اُس کے سامنے رکھ دیا ہو۔
امن نے مسکراتے ہوئے مائرہ کی طرف دیکھا، پھر قدرے سنجیدہ لہجے میں بولا۔ تو یہ ایڈوائس آپ خود سے بار بار دہراتی رہیے گا، تاکہ آپ کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے۔۔۔ کہ کبھی بھی اپنی خواہشات کو خود پر سوار مت ہونے دیجیے گا۔.
جی سرر۔۔۔
مائرہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو دعا نے فوراً شرارت سے لقمہ دیا۔
اور اگر اِس نے نہیں دہرایا تو؟
امن کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ اس نے ایک اچٹتی سی نظر دعا پر ڈالی اور بےنیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
وہ اِس کی مرضی ہے۔
یہ کہہ کر اس نے سب کی طرف دیکھا اور الوداعی انداز میں سر ہلایا۔
اچھا، اب میں چلتا ہوں۔ اللہ حافظ! آپ سب اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔ فی امان اللہ۔۔
اللہ حافظ، سر۔۔۔
امن ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ چند ہی لمحوں بعد وہ پولیس اسٹیشن کے دروازے سے باہر نکل گیا، جبکہ مائرہ کی نظریں انجانے میں کچھ دیر تک اسی راستے پر ٹھہری رہیں جہاں سے وہ ابھی ابھی گیا تھا۔
مائرہ نے ایک گہری سانس لی اور امن کے جانے والے راستے کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولی۔
مجھے نہیں لگتا، کہ مجھے اس ایڈوائس کی ضرورت ہے۔۔۔ میں نے تو کچھ اور اچھی بات ایکسپیکٹ کی تھی، یہ تو اتنی چھوٹی سی بات کہہ کر چلے گئے۔
دعا نے فوراً حیرت سے اسے دیکھا۔ کیوں بھئی؟
مائرہ نے اس کی طرف دیکھا، پھر ہلکا سا منہ بناتے ہوئے بولی۔ کیونکہ میں نے کبھی ایسے پیسوں کی یا عزت اور اسٹیٹس کی لالچ نہیں کی۔۔۔
دعا نے مائرہ کی بات سنی تو چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر بے اختیار ہنس پڑی۔
اچھااا۔۔۔ تو تمہیں سر سے کوئی خاص ایڈوائس چاہیے تھی؟
مائرہ نے اسے گھورا، مگر دعا کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
خیر، ایک بات تو ہے۔۔۔ سر کی ایڈوائس تمہیں یاد رہے نہ رہے، اُن کی شکل دیکھ کر تمہارے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ ضرور یاد رہے گی۔
دعااا مائرہ کی جھنجھلاہٹ پر دعا ہنستی ہوئی آگے بڑھ گئی، جبکہ مائرہ وہیں کھڑی اسے گھورتی رہی۔
مگر چند لمحوں بعد اس کی نگاہیں بےاختیار پھر اُسی دروازے کی طرف اٹھ گئیں جہاں سے امن جا چکا تھا۔
شاید کچھ باتیں واقعی چھوٹی ہوتی ہیں۔۔۔ مگر اُنہیں کہنے والا غیر معمولی ہو، تو وہ دل و دماغ میں دیر تک ٹھہری رہتی ہیں۔

++++++++++++++

امن ابھی نہات کے گھر کے اندر ہی جا رہا تھا کہ سامنے سے آتے فہیم چچا پر نظر پڑی۔ وہ نہات کے گھر کے بہت پرانے شیف تھے۔ اس گھر میں گزرتے برسوں کے ساتھ ان کا تعلق محض ایک ملازم کا نہیں رہا تھا، بلکہ وہ اس گھر کا حصہ بن چکے تھے۔
آپ کہاں جا رہے ہیں؟
میں تمہارے پاس ہی آ رہا تھا، بیٹا۔
کیوں کیا ہوا؟  کوئی خاص بات ہے۔۔؟؟
فہیم چچا کے چہرے پر پھیلی اداسی نے امن کو متوجہ کیا۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی،
نہات بابا نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے۔
امن کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
لیکن کیوں؟
کہتا ہے، اب آپ کی عمر ہو گئی ہے، گھر بیٹھ کر آرام کریں۔ مہینے کی تنخواہ ویسے ہی ملتی رہے گی۔ لیکن بیٹا، اب میرے اندر اتنی طاقت نہیں رہی تو اس میں میری کیا غلطی ہے؟ تم اُس سے کہو، ٹھیک ہے، نوکری نہیں کرواتا تو نہ کروائے، لیکن ہمیں اس گھر سے جانے کا تو نہ کہے،
ان کی آواز میں نمی اتر آئی۔ ہم بچپن سے نہات کے ساتھ ہیں۔ اسے ہنستے دیکھا ہے، روتے دیکھا ہے، پڑھتے دیکھا ہے۔۔۔ کھیلتے دیکھا ہے، اس کی زندگی کے کتنے ہی سال دیکھے ہیں ہم نے۔ ہم سے کوئی چھوٹا موٹا کام ہی لے لے، لیکن میں نہات بابا کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ وہ بہت اکیلا ہے، بیٹا۔
کچھ دنوں پہلے ہی اُس نے مجھے اس گھر سے جانے پر مجبور  کردیا۔۔۔ آج میں دوبارہ اُس سے بات کرنے آیا تھا لیکن اُس نے میری ایک نہیں سنی۔۔۔ میں یہاں سے سیدھا تُمہارے پاس ہی آرہا تھا۔۔۔ تُم ہی اُسے کُچھ سمجھاؤ۔۔
امن نے ان کے چہرے کی طرف دیکھا۔ ان کی باتوں میں ملازمت چھن جانے کا دکھ کم اور نہات سے دور ہو جانے کا خوف زیادہ تھا۔
اچھا، اچھا۔۔۔ میں سمجھ گیا آپ کی بات۔ آپ پریشان مت ہوں، میں نہات سے بات کرتا ہوں۔ آئیے، آپ میرے ساتھ اندر چلیں۔
یہ کہتے ہوئے امن نے آگے بڑھ کر گھر کا دروازہ کھولا۔
اور پھر۔۔۔ اگلے ہی لمحے اس کی نگاہوں نے جو منظر دیکھا، اس کے قدم وہیں جم گئے۔
ارحا سامنے کھڑی تھی۔
اس کے ہاتھ میں چھری تھی، اور وہ چھری لیے ایسے کھڑی تھی کہ ابھی امن پر حملہ کر دے گی۔۔۔
وہ تیزی سے اُس کی طرف بڑھی۔۔۔
امن نے اپنا ہاتھ آگے کر کے خود کو بچانا چاہا۔۔۔۔
لیکن امن پر حملہ کرنے کے بجائے اُس نے فہیم چچا کو اپنی طرف کھینچا اور چھری فہیم چچا کے گردن پر رکھ دی۔۔۔
ارے بیٹی! یہ کیا کر رہی ہو؟ بیٹی،
امن کے حواس ایک لمحے کے لیے جیسے ساکت ہو گئے۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ اچانک یہ سب کیسے ہو گیا۔ اس کی نگاہ بار بار ارحا کے ہاتھ میں پکڑی چھری اور فہیم چچا کی گردن کے درمیان گردش کر رہی تھی۔
ایک انجانا خوف اس کے اندر سر اٹھانے لگا۔
کہیں ارحا کے ہاتھ سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو جائے، جس کا خمیازہ فہیم چچا کو بھگتنا پڑے۔
ارحا! انہیں چھوڑو۔۔۔ انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ چھوڑو انہیں۔۔۔
ارحا کی آنکھوں میں عجیب سی سختی تھی۔ اس نے چھری کی گرفت مزید مضبوط کر لی۔
میرے راستے سے ہٹ جائیں! نہیں تو۔۔۔ نہیں تو میں انہیں مار دوں گی۔۔۔
امن ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت ارحا کو مزید مشتعل کرنا ٹھیک نہیں، لیکن فہیم چچا کی گردن پر رکھی چھری دیکھ کر اس کا دل کسی انجانے خدشے سے گھرا جا رہا تھا۔
اس نے ارحا کو دیکھتے ہوئے قدرے بلند مگر قابو میں رکھے ہوئے لہجے میں کہا۔
اگر ان کی جگہ تمہارے پاپا ہوتے تو کیا تب بھی تم یہی کرتیں؟
ارحا کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے ساکت ہوا۔
امن نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
کیا تم اُن کے گلے پر بھی ایسے ہی چھری رکھتیں؟
ارحا نے امن کو گھور کر دیکھا اور بس۔۔۔
اگلے ہی لمحے چھری ارحا کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر جا گری۔
چھری کے فرش سے ٹکرانے کی آواز پورے ہال میں گونج اٹھی۔
اُس کی آنکھیں فوراً نم ہوئیں، آنسو آنکھوں سے گرنے ہی والے تھے، مگر اُس نے ضبط کر لیا۔
امن نے مزید ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور فہیم چچا کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
چچا! آپ ٹھیک ہیں؟ کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟ آپ کو کچھ ہوا تو نہیں؟
وہ بےچینی سے ان کا جائزہ لینے لگا، جیسے اس وقت اس کے لیے سب سے اہم یہی جاننا ہو کہ وہ محفوظ ہیں۔
دوسری طرف ارحا چند لمحے خاموشی سے ان دونوں کو دیکھتی رہی۔
فہیم چچا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
امن کو قدرے اطمینان ہوا تو اس نے ارحا کی طرف دیکھا۔
تو ارحا اپنے نم آنکھوں کے ساتھ رخ موڑا لیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
کاش وہ اس وقت ارحا کی آنکھوں میں دیکھ لیتا
تو شاید پہلے کی طرح وہ اب بھی بہت کچھ جان لیتا۔۔۔
ارحا۔۔۔
امن نے اسے آواز دی، مگر وہ نہ رکی، نہ پلٹی۔
وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی،
امن نے فہیم چچا کی طرف دیکھا۔
چچا، آپ اندر جائیں۔۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔
فہیم چچا کچھ کہنے کے لیے رکے، مگر امن کی نگاہیں پہلے ہی سیڑھیوں کی طرف اٹھ چکی تھیں۔ وہ تیزی سے ارحا کے پیچھے بڑھ گیا۔
اب وہ اس کے کمرے کے بند دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ دروازے کو دیکھتا رہا۔
کیا اسے بُرا لگا؟
کیا وہ میری بات سے ہرٹ ہو گئی؟
کیا میں نے کچھ زیادہ کہہ دیا؟
لیکن میں نے غلط بھی تو کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔ میں نے تو بس فہیم چچا کو بچانے کے لیے کہا تھا۔
وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے دروازے کے لاک کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اسے لگا شاید ارحا نے اندر سے دروازہ بند کر لیا ہو۔
اُس نے دروازے کا لاک گھمایا تو دروازہ لاک نہیں تھا۔
اس کا ہاتھ لاک پر ہی رُک گیا۔
پتہ نہیں کس احساس سے وہ وہیں روک گیا۔۔
پھر آہستگی سے اُس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
سوری، ارحا۔۔۔ میں ڈر گیا تھا۔
اس کی آواز میں وہ پُراعتماد ٹھہراؤ نہیں تھا جو ہمیشہ اس کی شخصیت کا حصہ رہتا تھا۔
مجھے لگا کہ کہیں چچا کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ میں جانتا ہوں، تمہارا ارادہ انہیں ہَـرٹ کرنے کا نہیں تھا۔۔۔ لیکن میں ڈر گیا تھا۔
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، پھر اس کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔
اس لیے نہیں کہ مجھے لگا تم جان بوجھ کر انہیں نقصان پہنچاؤ گی۔۔۔ بلکہ اس لیے کہ مجھے ڈر تھا، کہیں غلطی سے ہی انہیں کچھ نہ ہو جائے۔ 
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔
امن نے ایک بار پھر بند دروازے کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایسی الجھن تھی، جس سے وہ خود بھی ناواقف تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ وہ اندر جائے ارحا کے سامنے اُس سے باتیں کریں لیکن ہمت ہی نہیں ہورہی تھی اُس کی اندر جانے کی۔۔
امن نے آہستہ سے اپنی پلکیں جھپکیں، پھر دروازے سے پلٹ گیا۔
وہ شخص جو مشکل سے مشکل حالات کا سامنا بھی ہمیشہ پُرسکون رہ کر کرتا آیا تھا، جسے کبھی کسی صورتِ حال کا سامنا کرنے میں دشواری پیش نہیں آئی تھی۔۔۔
مگر آج۔۔۔ آج وہ اس صورتِ حال کا سامنا نہیں کر پا رہا تھا۔

++++++++++++

سنان کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر تین لڑکیوں کی تصاویر کھلی ہوئی تھیں۔ تینوں کے چہروں پر ماسک تھے اور سروں پر ایسی کیپس تھیں جن پر فرنٹ پر انگریزی  حرف میں ریپر لکھا ہوا تھا۔ پہلی لڑکی کے بال چھوٹے تھے، جو کانوں تک آ رہے تھے، جبکہ دوسری کے بال خاصے لمبے تھے۔ دونوں کا حلیہ تقریباً ایک جیسا تھا، مگر تیسری لڑکی کی تصویر کی جگہ ایک بڑا سا سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔
زوزی، ٹویٹی، کیٹی
یہ تین نام تھے، اور ان تینوں میں سے اگر ایک بھی سنان کے ہاتھ لگ جاتی تو ریپر تک پہنچنا اس کے لیے مشکل نہیں رہتا۔
وہ ابھی انہی تصاویر کو بغور دیکھ رہا تھا کہ اس کا فون بج اٹھا۔ اسکرین پر اپنے آدمی کا نام دیکھ کر اس نے فوراً کال اٹھائی۔
ہاں، بولو؟
دوسری طرف سے آواز آئی۔
بھائی، وہ زوزی۔۔۔ وہ ہمیں دکھ گئی ہے۔
ہاں؟ کہاں؟
بھائی، وہ یونیورسٹی جاتی ہے۔
ہیں؟
سنان کے لہجے میں حیرت ابھری۔
ہاں، بھائی! کراچی یونیورسٹی۔
اور؟
بس، بھائی۔۔۔ ابھی اتنا ہی پتا چلا ہے۔
سنان نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر پوچھا، اچھا، یونیورسٹی کا نام کنفرم ہے؟
جی بھائی، کراچی یونیورسٹی۔
اور روز جاتی ہے وہاں پڑھنے؟
یہ تو نہیں پتا، بھائی، لیکن جس طرح اسے دیکھا ہے، لگتا تو یہی ہے کہ پڑھنے ہی جاتی ہے۔
سنان نے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر کھلی تصویروں پر ایک نظر ڈالی۔
اس کی شکل دیکھی تم نے؟
نہیں، بھائی۔ اتنی بڑی یونیورسٹی ہے، وہاں ہر کسی پر نظر رکھنا بھی آسان نہیں۔ بس دو تین دفعہ اسے باہر نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ چہرے پر ماسک تھا، اس لیے شکل تو نہیں دیکھ سکا۔ لیکن بھائی، میں آپ کو اس کی تصویر بھیج رہا ہوں۔ آپ میچ کر کے دیکھ لیں، وہی لڑکی لگ رہی ہے یا نہیں۔
سنان کی انگلیاں لیپ ٹاپ کے ٹریک پیڈ پر رُک گئیں۔
صحیح ہے تصویر بھیج دے۔۔۔
اوکے، بھائی۔
کال منقطع ہوتے ہی سنان نے فون نیچے رکھا اور دوبارہ لیپ ٹاپ کی اسکرین کی طرف متوجہ ہو گیا۔
سنان چند لمحوں تک خاموش بیٹھا تصویر کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے فون میں موصول ہونے والی تصویر کھولی اور اسے لیپ ٹاپ پر موجود تصاویر کے ساتھ ملا کر دیکھا۔
وہی ماسک۔۔۔ لیکن سر پر کیپ نہیں تھی۔۔۔ تصویر میں موجود لڑکی زوزی سے کافی حد تک مل رہی تھی۔ سنان کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری۔ آخرکار اسے ایک سرا مل گیا تھا، اور وہ اسے ہاتھ سے جانے دینے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا۔
کراچی یونیورسٹی۔۔۔ ہاں۔۔۔
اس نے زیرِ لب دہرایا، اگلے ہی لمحے اس نے اپنا واٹس ایپ کھولا اور سیدھا اسٹیٹس کی پرائیویسی میں چلا گیا۔ اس کی کانٹیکٹ لسٹ تھی يا اس کے انسٹا کے فالوورز
پانچ ہزار سے پلس بندے اس کے کنٹیکٹ لسٹ میں ایڈ تھے، اور اُس کے کنٹیکٹ میں صرف لڑکے ہی لڑکے بھرے پڑے تھا، ایک بھی لڑکی کا نام اُس کے کنٹیکٹ لسٹ میں نہیں تھا شامل۔۔۔
اس نے اسٹیٹس کی پرائیویسی تبدیل کی اور اسے All My Contacts پر سیٹ کر دیا۔
پھر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے اسٹیٹس لگا دیا۔
کراچی یونیورسٹی میں کون کون پڑھتا ہے۔۔۔
اس نے فون ایک طرف رکھا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ فون پر ایک کے بعد ایک میسج آنے لگے۔ سنان نے اطمینان سے فون اٹھایا۔ کسی نے یونیورسٹی میں پڑھنے کی تصدیق کی تھی، تو کسی نے وہاں پڑھنے والے اپنے دوستوں کے بارے میں بتایا تھا۔
پھر سنان فرصت سے فون لے کر بیٹھ گیا اور سب کو پیغام دینے لگا۔۔۔
اس نے ایک دوست کا چیٹ کھولتے ہی اس نے زوزی کی تصویر بھیجی اور ساتھ بوائس نوٹ بھیجا۔۔
یار، یہ لڑکی میرے ایک دوست کی گرل فرینڈ ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ اس کے بارے میں کچھ بھی پتا چلے تو مجھے ضرور بتانا۔ کس ڈیپارٹمنٹ میں ہے، کیا پڑھتی ہے، کس وقت یونیورسٹی آتی ہے، کب واپس جاتی ہے۔۔۔ مطلب، اس کے بارے میں جو بھی معلومات مل سکیں، مجھے چاہیے۔
پیغام بھیج کر اس نے اگلی چیٹ کھول لی۔
نام پڑھتے ہی اس نے سب سے پہلے سلام کا میسیج بھیجا۔۔
السلام علیکم!۔ گھر میں سب کیسے ہیں؟ امی ابو کیسے ہیں؟
چند لمحوں بعد جواب آ گیا۔
وعلیکم السلام، بھائی! الحمدللہ، سب ٹھیک ہیں۔ آپ سنائیں؟
الحمداللہ سب ٹھیک ہے بھائی اللہ کہ شکر ہے میرے لیے دعا کرنا۔۔۔
ہاں ہاں بھی ضرور۔۔۔
پھر سنان نے اگلا میسیج بھیجا۔۔۔ بھائی ایک کام تھا۔۔۔
ہاں بولو نہ بھی۔۔۔۔ فوراََ جواب آیا۔۔۔
پھر اُس نے زوزی کی یونیورسیٹی والی پکچر جو اُس کے دوست نے اُسے بھیجا تھا وہ بھیج دیا پھر ساتھ بوائس نوٹ بھیجا۔۔۔
یہ لڑکی کراچی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ میرے دوست کی بہن ہے، نئی نئی وہاں پڑھنے آئی ہے۔ ذرا معلوم کرنا کہ کیسا پڑھ رہی ہے۔ اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات ملیں تو مجھے ضرور بتانا۔
بہنوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ہم ان کا خیال نہیں رکھیں گے تو اور کون رکھے گا؟
دوسری طرف سے فوراً جواب آیا۔
جی بھائی، ضرور! آپ فکر نہ کریں، میں معلوم کرتا ہوں۔
سنان نے جواب میں صرف اتنا لکھا۔
ٹھیک ہے، فی امان اللّٰہ اپنا خیال رکھنا گھر والوں کو بھی میرے سلام دینا۔۔۔
جی بھائی ضرور۔۔۔
اس نے چیٹ بند کی اور اگلے نام کا چيٹ کھولا اُس نے اُسے بھی ڈائریکٹ ذوزی کی پکچر بھیجی۔۔۔
مجھے اس لڑکی سے بدلہ لینا ہے۔ میرا خون جلا کر رکھ دیا ہے اس نے۔ یونیورسٹی میں کہیں بھی دکھائی دے تو مجھے فوراً بتانا۔
چند ہی لمحوں میں جواب آ گیا۔
فکر نہ کریں، بھائی۔ سب ہو جائے گا۔
سنان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
پھر ایک کے بعد ایک چیٹ کھلتی گئی۔
وہ ہر شخص سے الگ انداز میں بات کر رہا تھا۔ کہیں دوستی کا حوالہ دے رہا تھا، کہیں رشتے کا، اور کہیں اپنے غصے کو بدلے کا نام دے رہا تھا۔ وہ ہر نمبر پر ہر طرح کے مختلف میسیج کر رہا تھا۔۔۔
اسے ہر صورت زوزی تک پہنچنا تھا۔
اب سنان کی آنکھ کراچی یونیورسٹی جا چکی تھی۔۔۔
پھر اُس نے کولڈ ڈرنک کی بوتل لبوں سے لگا لی۔۔
لیکن یہ کیا کولڈ ڈرنک بوتل تو خالی ہوچکی تھی۔۔۔
ایک اور لاتا ہوں۔۔۔ وہ اُٹھا لیکن پھر واپس بیٹھ گیا۔۔۔
کیوں کہ اب اُسے اور کولڈ ڈرنک نہیں ملنے والی تھی۔۔۔
یہ بھائی بھی نہ۔۔۔ ناگ بنتے جا رہے ہیں میری زندگی میں۔۔۔

++++++++++++++

جب وہ ارحا کے کمرے سے واپس نیچے آیا تو فہیم چچا اس کے سامنے کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر ایسی پریشانی تھی جیسے وہ کافی دیر سے اس کا انتظار کر رہے ہوں۔
بیٹا،  نہات بابا نے مجھے نکال دیا، لیکن بیٹی کا تو سوچا نہیں کہ وہ کیا کھائے پیے گی۔
کیوں؟ اس نے الجھن سے پوچھا۔
وہ اتنے دنوں سے صرف میگی بنا کر کھا رہی ہے۔
امن کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
اسے کھانا بنانا نہیں آتا؟
نہیں آتا ہوگا بیٹا، تبھی تو اس نے کچھ بنایا نہیں۔ کچن میں بھی صرف میگی کا خالی برتن رکھا تھا۔
امن چند لمحے خاموش رہا، پھر اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
کتنا لاپروا انسان ہے یہ! آپ کو بھی گھر بھیج دیا اور دوسرے شیف کا بھی انتظام نہیں کیا۔ ہے کہاں وہ؟
اس نے جیب سے فون نکالا اور نہات کا نمبر ملایا۔
کہاں ہو تم؟
کمرے میں۔
نیچے آؤ۔
تم میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟
نیچے آؤ، بتاتا ہوں۔
کچھ ہی دیر بعد نہات سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا۔
کیا ہوا، بھائی؟
امن نے اسے غصے سے دیکھا۔
تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟
نہات نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔
کیوں، بھائی؟
اس کے ذہن میں فوراً افتخارِ صاحب کا خیال آیا۔ کہ افتخارِ صاحب اور اُس کی بحث کے بعد افتخارِ صاحب نے امن سے اُس کی شکایت تو نہیں لگاتی جیسے ہمیشہ سے وہ بچپن سے لگاتے تھے۔۔
ایک تو تم نے فہیم چچا کو گھر سے نکال دیا، اوپر سے دوسرے شیف کا بھی انتظام نہیں کیا۔ تمہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ اس گھر میں تمہارے علاوہ اب ایک لڑکی بھی رہتی ہے؟
نہات نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
ہاں، تو میں نیا شیف رکھنے والا تھا۔ ڈھونڈ رہا تھا۔ اب ایسے ہی کسی کو تو نہیں رکھ سکتا نا۔
ایک تھپڑ لگاؤں گا ابھی۔۔۔
امن نے غصے سے اسے گھورا۔
کیوں غصہ کر رہے ہو، بھائی؟ وہ دو سال کی بچی تھوڑی ہے۔ خود کھانا بنا سکتی ہے۔ کچن میں سارا راشن موجود ہے۔
امن نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
اسے کھانا بنانا نہیں آتا، نہات۔۔ چچا کو گھر بھیج دیا تھا،اسی لیے تم گھر آ کر کھانا کھا رہے تھے اور میں نے تم سے پوچھا بھی تھا تب بھی تُم نے مُجھے بتایا نہیں؟
نہات چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر اسے بات سمجھ میں آئی۔
اوہ
امن نے ایک گہری سانس لی اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
وہ اتنے دنوں سے میگی کھا رہی تھی…
اس نے جیسے خود سے کہا، پھر نہات کی طرف دیکھا۔
تمہیں اندازہ بھی ہے کہ یہ کتنی نقصان دہ بات ہے؟
نہات نے بے پروائی سے جواب دیا۔
تو کیا بھوکی تو نہیں رہی نا؟
امن نے فوراً سر اٹھایا۔
بیمار ہو جاتی وہ، پاگل! ہر روز صرف میگی کھا کر کوئی کتنے دن ٹھیک رہ سکتا ہے؟
اس کی آواز میں سختی تھی، مگر وہ چیخ نہیں رہا تھا۔ اس وقت اس کا غصہ نہات کی لاپروائی سے زیادہ اس خیال پر تھا کہ اس نے ابھی ابھی ارحا کو ہرٹ کیا تھا اور ارحا کو ہرٹ کر کے وہ خود ہرٹ ہوچکا تھا۔۔۔
تم ہر چیز کتنی ذمہ داری سے سنبھالتے ہو، پھر اس کے معاملے میں اتنی لاپروائی کیسے کر سکتے ہو؟ شیف نہیں مل رہا تھا تو مجھے بتا دیتے۔۔۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔
بس مجھے بتا دیتے، نہات۔۔۔
نہات خاموشی سے امن کو دیکھنے لگا۔ وہ بہت پریشان لگ رہا تھا۔ ورنہ ایسے معاملات میں تو وہ چیخ چیخ کر نہات کی جان کھا جاتا تھا، مگر آج وہ اتنی دھیمی آواز میں بات کر رہا تھا جیسے اس کے پاس غصہ کرنے کی ہمت نہیں بچی ہو۔
امن نے فہیم چچا کی طرف دیکھا۔
اور چچا، آپ یہیں رہیں گے۔ ارحا کے کھانے پینے کا خیال رکھیے گا۔
پھر جیسے اسے کوئی بات یاد آئی، اس نے فوراً پوچھا۔
خیال رکھ لیں گے نا، چچا؟
ہاں، ہاں بیٹا، ضرور۔
میں اپنے گھر سے کسی کو بھیجتا ہوں۔ وہ یہاں آ کر کھانا بنا دیا کرے گی۔ اور چچا، ایک بات کا خاص خیال رکھیے گا۔ وہ کھانا کھا رہی ہے یا نہیں، اس کی طبیعت ٹھیک ہے یا نہیں، اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں… کوئی بھی بات ہو تو مجھے فوراً فون کر دیجیے گا۔
میں لاکھ مصروف سہی، لیکن اس کے لیے فوراً یہاں آ جاؤں گا۔
فہیم چچا نے اثبات میں سر ہلایا۔
جی بیٹا، ٹھیک ہے۔
نہات نے حیرت سے امن کو دیکھا۔
ارے، انہیں گھر میں کیوں رکھ رہے ہو؟ انہیں آرام کی ضرورت ہے۔
امن نے اسے گھورا۔
پاگل مت بنو، ورنہ ابھی ایک تھپڑ لگا دوں گا۔۔۔
بھائی، میں تو بس۔۔۔ ان کا خیال کر رہا ہوں۔۔۔
ایسے خیال رکھتے ہیں۔۔۔؟؟ امن نے اسے گھورا۔ وہ یہاں بھی آرام کر سکتے ہیں۔ تم انہیں گھر میں بٹھا دو گے تو وہ اور بیمار ہو جائیں گے۔
امن نے کچھ توقف کے بعد سنجیدگی سے کہا۔
تمہیں نہیں معلوم، اس عمر میں انسان ویسے ہی بہت کچھ سوچنے لگتے ہیں۔ اکیلے بیٹھیں تو چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ذہن میں چلتی رہتی ہیں۔ اسی لیے بہتر ہوتا ہے کہ انہیں مصروف رکھا جائے، تاکہ ان کا دھیان بٹا رہے اور وہ فضول سوچوں میں نہ پڑیں۔
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا، پھر اس کی نگاہیں جھک گئیں۔
تم بھول گئے کیا؟ دادی نے ہم دونوں کو پالا تھا۔ وہ بھی تو اسی عمر میں تھیں۔ وہ بھی کوئی کام نہیں کرتی تھیں، بس ہمارا خیال رکھتی تھیں۔
نہات نے سر ہلایا ہاں، ٹھیک ہے، سمجھ گیا۔ لیکن بھائی، تم کچھ زیادہ ہی اس لڑکی کو سنجیدہ لے رہے ہو۔
امن نے اسے گھورا۔
اب پھر سے شروع مت ہو جانا۔ ابھی وہ بیمار ہو جاتی نا تو میں تمہیں بتاتا۔۔

+++++++++++++

اگلی صبح امل گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی موبائل میں مصروف تھی، جبکہ تانیہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ گاڑی یونیورسٹی کی طرف رواں دواں تھی اور امل حسبِ معمول اپنے فون میں کھوئی ہوئی تھی۔
امل کی یونیورسٹی اس کے گھر سے خاصی دور تھی، اس لیے راستے میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔ وہ اسی خیال سے آرام سے بیٹھی اسکرین پر انگلیاں چلا رہی تھی کہ اچانک تانیہ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
یہ کہاں لے کر جا رہے ہو؟ یونیورسٹی کا راستہ تو یہ نہیں ہے۔۔۔
امل نے چونک کر سر اٹھایا اور تانیہ کی طرف دیکھا، پھر فوراً کھڑکی سے باہر جھانکا۔
سامنے پھیلی سڑک دیکھ کر اس کی بھنویں سکڑ گئیں۔
یہ واقعی یونیورسٹی جانے والا راستہ نہیں تھا۔
دونوں جانب سنسان سڑکیں تھیں۔ کہیں کہیں فاصلے پر چند مکانات دکھائی دے رہے تھے، مگر سڑک پر لوگوں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے امل نے بےاختیار اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔
ڈرائیور! گاڑی کہاں لے جا رہے ہو تم؟ تانیہ نے غصے سے پوچھا۔
ڈرائیور کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
میں تم سے پوچھ رہی ہوں! سنائی نہیں دے رہا کیا؟
تانیا کی آواز مزید بلند ہو گئی، مگر ڈرائیور بدستور خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا۔
امل اب پوری طرح محتاط ہو چکی تھی۔ اس نے موبائل اپنی گود میں رکھا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
تبھی پیچھے سے ایک سیاہ گاڑی تیزی سے آگے نکلی۔
پھر دوسری۔
اور اس کے بعد تیسری۔
امل کی نگاہیں ان گاڑیوں کے پیچھے گھومتی رہیں، یہاں تک کہ اگلے ہی لمحے ایک سیاہ گاڑی ان کی گاڑی کے آگے آ کر رُکنے کے انداز میں آہستہ ہونے لگی۔
دائیں طرف سے ایک اور گاڑی ان کے برابر آ گئی، جبکہ پیچھے سے آنے والی گاڑی نے راستہ بند کر دیا۔
چند ہی لمحوں میں ان کی گاڑی چاروں طرف سے سیاہ گاڑیوں کے حصار میں تھی۔
بالکل ویسے ہی، جیسے امل نے پچھلی بار ریپر کو گھیرنے کا انتظام کیا تھا۔
امل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اس کا دل زور سے دھڑکا۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟
اس نے تیزی سے ادھر اُدھر دیکھا۔ ہر طرف سیاہ گاڑیاں تھیں،
اس کے ذہن میں فوراً ایک خیال ابھرا۔
ریپر۔۔۔
کیا یہ سب اسی کا کیا دھرا تھا؟
اب کیا کرنا چاہتا ہے وہ۔۔۔؟؟
ڈرائیور نے جیسے ہی گاڑی روکی، تانیہ غصے سے ڈرائیور کی طرف مڑی اور اس کے منہ پر مکا دے مارا۔ جاہل آدمی! کون ہو تم؟ اور کہاں لے کر آئے ہو ہمیں۔۔۔
ڈرائیور کا سر ایک طرف کو جھٹکا کھا گیا، مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بتاؤ مجھے۔۔۔ تانیہ نے دوبارہ اس پر جھپٹنے کی کوشش کی۔
امل بےبسی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ تانیہ کو کیسے روکے۔ کہ ڈرائیور کو مار کر کوئی فائدہ نہیں، باہر کی طرف دھیان دو، اور ایک طرف ڈرائیور تھا، جو خاموش سے مار کھا رہا تھا، اور دوسری طرف باہر موجود وہ سیاہ گاڑیاں، جنہوں نے ان کے فرار کے تمام راستے بند کر دیے تھے۔
اُس نے تانیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے باہر دیکھنے کا اشارہ کیا۔ تانیہ نے باہر دیکھا تو باہر کھڑی گاڑیوں کے دروازے ایک ایک کرکے کھلنے لگے۔
ایک کے بعد ایک سیاہ لباس میں ملبوس آدمی باہر نکلے۔ ان سب کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ وہ نہایت منظم انداز میں اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری گاڑی کو گھیر لیا۔
امل کا حلق خشک ہونے لگا۔
تانیہ بھی ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی، مگر اس کی آنکھوں میں غصہ اب بھی بھڑک رہا تھا۔
اسی دوران ایک گارڈ ان کی گاڑی کے قریب آیا اور تانیہ کی طرف کا دروازہ کھول دیا۔
تانیہ نے اسے دیکھا، پھر بنا کچھ سوچے سمجھے دروازہ کھلتے ہی اپنا پاؤں پوری قوت سے اس کے پیٹ میں دے مارا۔
گارڈ ایک لمحے کے لیے پیچھے ہٹا۔
امل نے فوراً آگے ہو کر اس کا بازو پکڑ لیا۔
ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔۔۔ خاموش رہوں۔۔۔
تانیہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، گارڈ نے آگے بڑھ کر  تانیہ کے منہ اور ناک پر کیمیکل میں بھیگا کپڑا رکھ دیا۔
تانیہ نے خود کو چھڑانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے، مگر چند ہی لمحوں میں اُس کی مزاحمت کمزور پڑنے لگی۔ اُس کی پلکیں بوجھل ہوئیں، نگاہ دھندلائی اور اگلے ہی لمحے اُس کا بے جان سا وجود گارڈ کے بازوؤں میں ڈھلک گیا۔
تانیہ۔۔۔۔
امل بےاختیار اس کی طرف بڑھی، مگر باہر کھڑے دوسرے گارڈز نے اپنی بندوقیں اس کی طرف کر دیں۔
امل وہیں رک گئی۔
اس نے بےبسی سے آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی۔
بس، امل۔۔۔ اب کوئی حماقت نہیں کرنی۔
اس نے گہری سانس لی اور اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کی۔
پرسکون رہو، امل۔ کچھ سوچو۔ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ہوگا۔
تبھی باہر سے ایک بھاری آواز سنائی دی۔
امل، باہر آؤ۔
اس کا دل جیسے ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔
یہ آواز۔۔۔ وہی انداز، وہی لہجہ، جیسے کسی کو حکم دیا جا رہا ہو کہ وہ خود چل کر سامنے آئے۔
امل کے ذہن میں پچھلا منظر بجلی کی طرح چمکا، جب اس نے ریپر کو پھنسانے کی کوشش کی تھی اور اس کے گارڈ نے اسی انداز میں اسے آواز دی تھی۔
مگر اس بار حالات بالکل الٹ تھے۔
اس بار وہ خود گاڑی میں قید تھی۔
اور باہر کھڑے لوگ اس کے آدمی نہیں تھے۔
اس نے بےاختیار آنکھیں بند کر لیں۔
یا اللہ! پھر سے نہیں۔۔۔
امل، باہر آؤ۔
اس بار آواز کچھ زیادہ قریب سے آئی۔
امل نے غصے سے ڈرائیور کی طرف دیکھا، جو اب بھی اپنی نشست پر ایسے بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
امل کا دل چاہا کہ اس کے سر پر کچھ دے مارے۔
کیڑے پڑیں گے، تمہاری قبر میں۔۔۔ وہ دانت پیستے ہوئے بڑبڑائی۔
وہ اُسے بددعا دیتی ویسے ہی گاڑی میں بیٹھی رہی۔۔
باہر اؤ۔۔۔
آواز پھر آئی، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔
اس نے ایک نظر بےہوش پڑی تانیہ پر ڈالی
پھر دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
باہر گارڈز اب بھی اپنی جگہ کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں، ہر طرف سیاہ گاڑیاں تھیں، مگر ان سب کے درمیان ریپر کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
امل کی نگاہیں مسلسل اسے تلاش کر رہی تھیں۔
وہ ابھی اسی سوچ میں گم تھی کہ اچانک گاڑی کے دوسری طرف کا دروازہ کھلا۔ دروازہ بند ہونے کی ہلکی سی آواز سنائی دی، مگر امل باہر دیکھنے میں اتنی محو تھی کہ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ کوئی خاموشی سے آ کر اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ چکا ہے۔
وہ بدستور کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی،
پھر اچانک ایک بھاری، مانوس آواز اس کے کان کے بالکل قریب ابھری۔
گریملن۔۔۔
امل کا دل جیسے ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔
اُس نے چونک کر سر موڑا تو اپنے بالکل قریب بیٹھے ریپر کو دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
آآآہ۔۔۔
امل کے حلق سے ایک زور دار چیخ نکلی۔ وہ بری طرح چونکی اور تقریباً اچھل کر دروازے کے ساتھ جا چپکی۔
پھر اس نے فوراً دروازے کا ہینڈل کھینچا، دروازہ کھولا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔
باہر آتے ہی اس نے غصے اور خوف سے چاروں طرف دیکھا۔
ہر گاڑی کے قریب چار چار گارڈز کھڑے تھے، سب کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں اور سب کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں۔
امل نے حیرت سے اپنے آس پاس جگہ کو دیکھا۔
کون سی جگہ تھی یہ؟ یوں سرِعام ریپر اُسے بھی گھیر  سکتا ہے؟
اسی لمحے اس کی گاڑی کا دروازہ دوبارہ کھلا۔
ریپر باہر نکلا۔
سیاہ لباس، چہرے پر وہی سیاہ ماسک اور جسم پر اس کا مخصوص لمبا سیاہ کوٹ، جس کی پشت پر سفید رنگ سے حرف R بنا ہوا تھا۔
ہوا کے جھونکے سے اس کا کوٹ لہرانے لگا۔
وہ پورے اطمینان سے گاڑی کا دروازہ بند کرکے امل کی طرف بڑھا۔ اس کے قدموں میں نہ جلدی تھی، نہ کسی قسم کی بےچینی۔ جیسے اس نے ہر چیز پہلے سے طے کر رکھی ہو اور اب صرف امل کے ردِعمل سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہو۔
امل وہیں کھڑی اسے گھورتی رہی۔
اس کا دل اب بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر چہرے پر غصہ نمایاں تھا۔
ریپر اس کے سامنے آ کر رُک گیا۔
چند لمحے وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، پھر اپنا سر ذرا سا ایک طرف جھکایا۔
تو۔۔۔کیسا لگا میرا سرپرائز؟
امل نے اُسے گھورتے ہوئے بولی
بہت گھٹیا اور بکواس۔۔۔
ریپر نے ایک ابرو اٹھائی۔
لیکن مجھے تو تمہارا سرپرائز گھٹیا اور بکواس نہیں لگا تھا؟
امل نے فوراً جواب دیا۔ سب کا اپنا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے۔
یقیناً۔ ریپر نے اطمینان سے سر ہلایا۔
ہاں، یقیناً۔ آپ کا ٹیسٹ خراب ہے۔
ریپر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔ اور امل ہمیشہ کی طرح اُس کی مسکراہٹ نہیں دیکھ سکتی تھی، ورنہ اگر دیکھ لیتی تو یقیناً اُس کا منہ نوچ لیتی۔۔۔
میرا ہی ٹیسٹ خراب کیوں؟ تمہارا بھی تو ہو سکتا ہے۔
امل نے جھنجھلا کر اپنے اردگرد کھڑے گارڈز کو دیکھا، پھر دوبارہ اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔
مجھے کیوں ایسے گھیر رکھا ہے؟ اب آپ کو مجھ سے کیا چاہیے؟
ریپر نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
اپنا سب کچھ تو تم میرے نام کر چکی ہو، اور میں تم سے کیا ہی مانگ سکتا ہوں؟
امل نے فوراً آنکھیں گھمائیں۔
بکواس نہیں کریں۔
اوکے۔۔۔ فون دو اپنا۔ ریپر نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا۔
امل نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟
مت دو۔ اُس نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ اور پھر اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک فون نکال کر امل کے سامنے لہرا دیا۔
امل کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہ فون اُسی کا تھا، جو وہ گاڑی میں چھوڑ آئی تھی اور ریپر وہاں سے اُٹھا لایا تھا۔
یہ۔۔۔ یہ میرا فون ہے۔۔۔
اُس نے آگے بڑھ کر ریپر کے ہاتھ سے فون لینا چاہا،
مگر ریپر نے فون والا ہاتھ فوراً اوپر کر لیا۔
ہاں، جانتا ہوں۔
دیں اِدھر! امل نے دوبارہ اچھل کر اُس کے ہاتھ پر جھپٹا مارا۔
سیدھی کھڑی رہو۔
امل نے غصے سے اُسے دیکھا۔ کیا کر رہے ہیں میرے فون کے ساتھ؟
اپنا نمبر سیو کر رہا ہوں۔
امل نے ہاتھ پیچھے کھینچ کر اپنے بازو سینے پر باندھ لیے اور بے نیازی سے کھڑی ہو گئی۔
کر لیں سیو، میں ڈیلیٹ کر دوں گی۔
ریپر نے اپنا ہاتھ نیچے کرلیا۔۔۔
تم میرا نمبر ڈیلیٹ کرو گی اور میں تمہارے بھائی کو دنیا سے ڈیلیٹ کر دوں گا۔
امل اپنے ہونٹ کاٹ کر رہ گئی۔
نمبر بتاؤ۔۔۔ ذرا۔
اُس کے کہنے پر وہاں کھڑے گارڈز ایک ایک کرکے نمبر بولنے لگے۔
ایک گارڈ نے آگے بڑھ کر کہا، زیرو۔۔۔
دوسرے نے فوراً اگلا ہندسہ دہرایا، تھری۔۔۔
پھر تیسرے کی آواز ابھری، نائن۔۔۔
اِسی طرح ہر گارڈ باری باری ایک ایک ہندسہ بولتا گیا، یہاں تک کہ پورا نمبر مکمل ہو گیا۔
امل حیرت سے کبھی ایک گارڈ کو دیکھتی، کبھی دوسرے کو۔ جس گارڈ کی آواز پر نمبر کا اگلا ہندسہ سنائی دیتا، اُس کی نظریں بے اختیار اُسی کی طرف اٹھ جاتیں۔
یہ کیا پاگل آدمی تھا! خود اپنا نمبر یاد نہیں تھا، جو ایسے گارڈز سے بلووا رہا تھا، وہ بھی ایک ایک ہندسہ۔۔
ریپر نے فون پر نمبر سیو کیا اور اطمینان سے بولا۔
اچھے سے نمبر یاد کر لو۔ وقتِ ضرورت کام آئے گا۔ آخر شوہر ہوں تمہارا، مصیبت کے وقت کال کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امل نے فوراً غصے سے بولی۔۔۔
میں مر کے بھی آپ کو کال نہ کروں۔۔۔
ریپر اُس کی طرف جھکا پھر دھیرے سے بولا۔۔۔
پہلے کال کر دینا، پھر مر جانا۔ ٹھیک ہے، گریملن؟
امل نے پھر غصے سے اُسے گھورا۔
میں آپ کا نمبر ڈیلیٹ کر دوں گی۔
ریپر نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
ٹھیک ہے، کر کے دیکھ لینا۔
یہ کہتے ہی اُس نے امل کا فون کار کی کھڑکی سے اندر، سیٹ پر پھینک دیا۔اور اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا۔
گارڈ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر امل فوراً ڈر گئی اور دو قدم پیچھے ہٹ گئی، آنکھیں پھیلا کر گارڈ کو دیکھنے لگی۔ یہ مجھے مارنے تو نہیں آ رہا؟
مگر گارڈ ریپر کے سامنے ہی آکر روک گیا اور پھر اپنا ہاتھ آگے کردیا جس پر ایک کیپ رکھی تھی۔۔۔
ریپر نے کیپ اُس کے ہاتھ سے لی اور امل کے سر پر پہنا دی۔
یہ کیا ہے۔۔۔؟ امل نے حیرت سے کہتے ہوئے کیپ کو پکڑا اور فوراً اتار لیا۔
کیپ کے فرنٹ پر بڑے بڑے حروف میں GREMLIN لکھا ہوا تھا۔
ریپر نے اطمینان سے کہا۔ یہ نکاح کا گفٹ ہے۔
امل کا دل چاہا کہ وہ وہی کیپ اُٹھا کر اُس کے منہ پر دے مارے، مگر اُس نے غصے میں اپنے ہونٹ بھینچ لیے اور کیپ کو مٹھی میں دبا لیا۔
اب دوسرے گارڈ نے آگے آکر ریپر کے سامنے ایک سیاہ رنگ کی سن گلاسز کی۔ جیسے ریپر نے اُس کے ہاتھ سے لے ک
لیا۔۔۔
اب یہ کیا ہے؟ امل نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
ریپر نے جواب دینے کے بجائے سن گلاسز اُس کی آنکھوں پر لگا دیں۔
باہر نکلا کرو تو یہ لگا کر نکلا کرو۔
پھر اُس نے ذرا سا جھک کر امل کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا۔
اپنی آنکھوں کی حفاظت نہیں کرو گی تو اپنی اِن خوبصورت آنکھوں سے مجھے کیسے دیکھو گی؟
اتنا کہہ کر وہ پلٹا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
اُس کے ساتھ ہی گارڈز بھی ایک ایک کرکے اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے لگے۔ چند ہی لمحوں بعد ریپر کی گاڑی آگے بڑھی، اور اُس کے پیچھے سیاہ گاڑیوں کا پورا قافلہ ایک ایک کرکے روانہ ہونے لگا۔
امل وہیں کھڑی اُن گاڑیوں کو جاتا دیکھتی رہی، یہاں تک کہ آخری گاڑی بھی اُس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
اُس نے آہستہ سے اپنی مٹھی کھولی۔ مٹھی میں وہی کیپ دبی ہوئی تھی، جس پر GREMLIN لکھا تھا۔
امل نے کیپ کو گھورا۔
پاگل۔۔۔ پورے کے پورے پاگل۔۔۔۔
پھر کیپ پوری قوت سے زمین پر دے ماری۔
پھر آنکھوں سے سن گلاسز اتار کر اُنہیں بھی غصے سے زمین پر پھینک دیا۔
آآآہ۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر چیخی۔
میری زندگی سے نکل کیوں نہیں جاتے۔۔
کہاں جاؤں میں، کیا کروں میں؟
ایسے تو پاگل ہو جاؤں گی میں۔۔
ایسے خوف کو دباتے دباتے ایک دن مر جاؤں گی میں۔۔۔
اُس نے غصے سے اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف دیکھا۔ ڈرائیور وہاں موجود نہیں تھا، جبکہ تانیہ اب بھی اپنی سیٹ پر بے ہوش پڑی تھی۔
امل نے جھنجھلا کر گاڑی کے ٹائر پر لات ماری، مگر چوٹ اُسی کے پاؤں پر لگ گئی۔
آہ۔۔۔! کیا مصیبت ہے۔۔۔
اُس نے اپنا پاؤں پکڑتے ہوئے منہ بنایا۔
کہاں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔
اُس کی نظر دور زمین پر پڑے سن گلاسز پر پڑی، جو ابھی تک صحیح سلامت پڑے تھے۔ امل غصے سے اُن کی طرف بڑھی اور اپنا پاؤں اُن پر رکھ کر زور سے دبانے لگی۔
ٹوٹے کیوں نہیں تم؟!
وہ اپنا شوز والا پاؤں اُس پر مارتی بڑبڑائی۔۔
کب پکڑے گے بھائی؟ کب؟ آخر کب پکڑے گے بھائی اِس ریپر کو؟ اور کب میں پہلے کی طرح اپنی زندگی جی پاؤں گی؟
اُس نے اچانک خود ہی سر جھٹکا۔
ڈر لگ رہا ہے؟
ایک لمحے کے لیے وہ خاموش ہوئی، پھر فوراً خود ہی جواب دیا۔
نہیں۔۔ دکھانا مت۔۔۔
چند لمحے بعد پھر اُس کے اندر سے ایک آواز ابھری۔
ریپر کے بارے میں کچھ کہنا ہے؟
امل نے دانت بھینچ لیے۔
نہیں۔۔ کُچھ کہنا مت، خاموش رہو۔۔۔
ریپر پر غصہ آ رہا ہے؟
نہیں غصے نکالو مت۔۔۔
اُس کے سامنے رونا آ رہا ہے؟
نہیں رونا مت۔۔۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر سن گلاسز پر مزید زور سے پاؤں مارنے لگی۔
عجیب۔۔۔ ریپر! ریپر! ریپر…
وہ ہر بار اُس کا نام غصے سے دہراتے ہوئے سن گلاسز کو کچلنے کی کوشش کر رہی تھی، جیسے اُن کی جگہ ریپر خود زمین پر پڑا ہو۔
تبھی اچانک سامنے سے ایک سفید رنگ کی گاڑی تیزی سے آتی دکھائی دی۔
گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ امل کی آنکھیں پھیل گئیں۔
اُس نے گھبرا کر گاڑی کی طرف دیکھا اور چیختے ہوئے فوراً دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں کے سامنے کرتے چیخی
آآآہ!
مگر گاڑی عین اُس کے قریب آ کر رک گئی۔
امل نے دھیرے دھیرے ہاتھ نیچے کیے۔ پہلے گاڑی کو دیکھا، پھر اپنے آپ کو، جیسے ابھی تک اُسے یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ بچ گئی تھی۔
چند لمحے وہ خاموش کھڑی گاڑی کو گھورتی رہی۔
پھر اُس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
اب اِسے خوش قسمتی سمجھوں یا بدقسمتی؟!
سفید گاڑی کا دروازہ کھلا اور گرے پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک شخص باہر نکلا۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے باہر آیا، دھوپ کی تیز روشنی اُس کے چہرے پر پڑی۔
امل نے نظریں اٹھا کر اُسے دیکھنے کی کوشش کی، مگر دھوپ کی تیزی کے باعث اُس نے فوراً اپنے ہاتھوں کا چھجا بنایا اور پھر اُسے غور سے دیکھا۔
اگلے ہی لمحے اُس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
ارے! یہ تو ہنزو کا بھائی ہے۔۔۔
امل کو دیکھ کر ارباز کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی۔ وہ بھی اُتنی ہی حیران نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
آپ یہاں؟
ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔ السلام علیکم!
وعلیکم السلام۔ آپ امن کی بہن ہیں، رائٹ؟
جی، جی۔۔۔ امل ہوں۔
آپ اِس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں؟
میں یونیورسٹی جا رہی تھی۔
پیدل؟
امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں، نہیں، وہ۔۔۔ یہ رہی نا میری گاڑی۔۔
اُس نے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ۔۔۔ یہ۔۔۔ وہ میری گاڑی خراب ہو گئی تھی نا، تو میں باہر نکل کر ٹھیک کر رہی تھی۔
ارباز نے امل کو گاڑی کی طرف دیکھا پِھر امل کو دیکھا بولا۔۔۔ اور گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی کر دی؟ گاڑی ٹھیک کرنے کے لیے سائیڈ پر آ گئی تھیں؟
امل نے اپنی گاڑی کو دیکھا، جو واقعی بیچ سڑک پر کھڑی تھی، جبکہ وہ خود سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔
نہیں، وہ۔۔۔!
اب وہ اُسے کیا بتاتی؟
اچانک ارباز کی نظر زمین پر پڑی کیپ پر جا ٹھہری۔
اوہ! تو آپ یہ اُٹھانے آئی تھیں؟
اُس نے کیپ اُٹھائی، اُس پر لگی گرد جھاڑی اور امل کی طرف بڑھا دی۔ پھر جیسے ہی اُس کی نظر کیپ کے اگلے حصے پر لکھے GREMLIN پر پڑی، اُس نے سوالیہ نظروں سے امل کو دیکھا۔
امل نے فوراً کیپ کی طرف دیکھا۔
اوہ، ہاں، ہاں۔۔۔
ارباز نے کیپ پر لکھے لفظ کو غور سے دیکھا۔
یہ گریملن کا مطلب جانتی ہیں آپ؟
امل نے جلدی سے اُس کے ہاتھ سے کیپ لے لی، کہیں اُسے کوئی شک نہ ہو جائے۔
ہاں، جانتی ہوں، تبھی تو اپنی کیپ پر لکھوایا ہے۔۔
ارباز نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر اپنی بات جاری رکھی۔
لیکن گاڑی بیچ سڑک پر کھڑی کرکے ٹھیک نہیں کرتے۔
امل کا دل چاہا کہ وہ وہیں زمین میں گڑ جائے یا کسی طرح غائب ہو جائے۔
یا اللہ! اب کیا سوچ رہے ہوں گے ارباز بھائی میرے بارے میں؟ کتنی پاگل لگ رہی ہوں گی میں اِنہیں۔۔۔ پاگل لڑکی جو بیچ سڑک پر اپنی گاڑی کھڑی کر کے ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔
ارباز نے گاڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
آپ کی گاڑی ٹھیک ہو گئی ہے یا میں ٹھیک کر دوں؟
نہیں، وہ ٹھیک ہو گئی ہے۔ اب میں جا رہی ہوں۔
ارباز نے اِدھر اُدھر دیکھا، جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہو۔
باڈی گارڈ کہاں ہے؟ اور آپ کا ڈرائیور؟ کیا آپ خود گاڑی چلا کر آئی ہیں؟
امل نے دل ہی دل میں اپنا سر پیٹ لیا۔ ابے یار۔۔۔ ایک سوال ختم ہوتا نہیں کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ اُس نے دِل ہی دل میں کہا
ہاں۔۔۔ اُس نے مختصراً جواب دیا۔
ارباز نے کچھ توقف کے بعد کہا۔
ویسے یہ محفوظ نہیں ہے۔
امل نے کوئی جواب نہ دیا۔
پھر ارباز نے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا۔
ویسے یہ یونیورسٹی جانے کا راستہ تو نہیں ہے؟
ہاں، راستے میں بہت ٹریفک تھا، تو میں نے دوسرا راستہ لے لیا۔ غلطی سے غلط راستے پر آ گئی، پھر گاڑی خراب ہو گئی۔ اب واپس جا رہی ہوں۔
اپنی بات مکمل کرکے امل نے فوراً سوال کیا۔
اور آپ یہاں؟
میں تو اِس راستے سے ایئرپورٹ جا رہا تھا۔ دوسرے شہر میں میٹنگ ہے۔
اوہ! تو یہ راستہ ایئرپورٹ تک جاتا ہے؟
جی، آپ بہت دور آ گئی ہیں۔ واپسی کا راستہ معلوم ہے نا؟ یا میں چھوڑ دوں؟
امل نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں، نہیں، مجھے راستہ معلوم ہے۔
ارباز نے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے۔
امل اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ وہ ابھی دروازہ کھولنے ہی والی تھی کہ ارباز کی نظر دوبارہ زمین پر پڑے ٹوٹے ہوئے سن گلاسز پر پڑی۔
اُس نے جھک کر انہیں اُٹھا لیا۔
آپ کا چشمہ تو ٹوٹ گیا ہے۔
امل نے بے پروائی سے ہاتھ ہلایا۔
ہاں، چھوڑ دیں، جانے دیں۔
آپ میرا لے لیں۔
امل فوراً اُس کی طرف مڑی۔
ارباز نے اُس کے چہرے پر حیرت دیکھ کر وضاحت کی۔
نہیں، نہیں، حیران نہ ہوں۔ آپ میرے پارٹنر کی بہن ہیں اور پھر میری بہن کی دوست بھی، تو خیال کر رہا ہوں۔
اچھا۔۔۔ امل نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔ کیونکہ ارباز بہت روکھے مزاج کا انسان تھا۔ کسی کی مدد کرنا تو دور، وہ کسی سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا تھا۔ ایسے میں اُس کا امل کو مدد کی پیشکش کرنا واقعی حیران کن تھا۔
ہاں، ورنہ یہ گاڑی بھی رُکتی نہیں۔ اگر آپ میرے پارٹنر کی بہن اور ہنزہ کی دوست نہیں ہوتی تو۔۔۔
امل نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر آہستہ سے بولی۔
اوہ۔۔۔
شاید ارباز  مدد کی آفر صرف اِس لیے کر رہا تھا کیونکہ وہ ہنزا کی دوست تھی، ورنہ ارباز جیسے روکھے مزاج کے انسان سے ایسی توقع رکھنا بھی بےوقوفی تھی۔
امل پِھر سمجھتے سر ہلاتے اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔ اُس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور وہاں سے روانہ ہو گئی۔
ارباز کچھ دیر تک اُس کی گاڑی کو جاتا دیکھتا رہا، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ پھر اُس نے اپنی جیب سے فون نکالا اور امن کا نمبر ملایا۔
کچھ ہی لمحوں بعد دوسری طرف سے کال اُٹھا لی گئی۔
اسلام وعلیکم۔۔۔۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *