ناول کا نام
حرف حیا
از قلم
لائبہ مقبول احمد
قسط نمبر
08
اگلی صبح امامہ کے اٹھنے سے پہلے اس کے کمرے میں وہ کپڑے اور چیزیں آ چکی تھیں جو سے نے آج پہننی تھیں ۔
امامہ اٹھتے ہی واشروم میں فریش ہونے کے لئے چلی گئی ۔
میرون کلر کا جوڑا جس پر ہلکی ہلکی کڑھائی ہوئی تھی اور دوپٹہ فُل بارڈر والا تھا ۔
انتہائی خوبصورت جوڑا تھا۔ جیسے پہن کر امامہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی۔ اُس نے اپنی آنکھوں میں کاجل ڈالا چہرے پر ہلکا سے میک اَپ کیا۔ ہلکے گلابی رنگ کی لِپ اِسٹک لگائی اور پلین جو تا نکال کر پہن لیا ۔
اوہ ۔۔ ماشاء الله ما شاء اللہ کتنی پیاری لگ رہی ہو۔ کسی کی نظر نہ لگے ۔
اقصی نے امامہ کا ماتھا چوما ۔ آؤ۔ جلدی سے ناشتہ کر لو ۔تھوڑی ہی دیر میں تمھارے ابو کے دوست آ جائیں گے۔
امی اسلام آباد کی ٹریفک انہیں اتنی جلدی نہیں آنے دےگی۔ امامہ نے مسکراتے
ہوئے کہا ۔ مسکراتے ہوئے اس کی گال پر پڑھتے ہوئے ڈمپل اور بھی خوبصورت لگ رہے تھے۔
چلو ۔۔امی ۔
ہمم ۔لڑکا بھی ساتھ آ رہا ہے ۔ امامہ نے اقصی کو روک کر پوچھا ۔
نہیں۔
ہمم۔ اُنھوں نے لڑکے کی کوئی تصویر بیجھی ۔
نہیں ۔کیا مطلب میں ناں ہی لڑکا ساتھ آ رہا ہے اور ناں ہی انہوں نے لڑکے کی کوئی تصویر بھیجی ۔یہ کیا بات ہوئی۔ بعد میں بھیجنے کا کیافائدہ ۔وہ بعد میں بھی نہیں بھیجیں گے۔
کیا ؟
بیٹا ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں رواج نہیں ہے کہ لڑکا ،لڑکی کو یا لڑکی لڑکے شادی سے پہلے دیکھے یا ملے ۔
امی یہ کیا بات ہوئی۔
مجھے نہیں پتہ ۔اور تم فکر کیوں کر رہی ہو۔ تمھارے تایا ابو اور ابو تو اس سے مل چکے ہیں ناں ۔تو تم فکر مت کرو۔ پر امی یہ کیا بات ہوئی ۔
اچھا اب چھوڑو اُٹھو اور کھانا کھا لو۔ وہ لوگ آنے ہی والے ہوں گے ۔
وہ لوگ آگئے۔
امامہ ابھی ناشتہ کرکے فارغ ہوئی ہی تھی کہ تبھی برش نے آ کر سب کو بتایا ۔
اچھا ۔جاؤ زویا امامہ کو لے جاؤ اور اچھے سے تیار کردو ۔
کیا مطلب اچھے سے تیار تو ہوں ۔اور مجھے نہیں جانا اب کہیں بھی۔
اچھا بھابھی اب وہ نہیں جانا چاہ رہی تھی تو ناں بھیجیں ۔اب آپ خوامخواہ میں اپنا اور امامہ کا موڈ خراب کر رہیں ہیں ۔
اچھا ٹھیک ہے ۔جاؤامامہ کچن میں شیبہ چائے بنا رہی ہے۔جلدی سے جاؤ اور چائے لے کر آؤ۔
ہمم۔۔امامہ نے زبیدہ کی بات سن کر پاؤں کھینچ کر زمین پر مارا۔
امامہ ۔۔زبیدہ نے اسے غصے میں گھورا ۔
ہمم۔آخر مجھے سمجھ کیا رکھا ہے تائی امی نے ۔مجھے نہیں لے کر جانی چائے وائے۔امامہ نے برا ا منھ بنایا ۔
امامہ بیٹا صرف چائے کے کپ تم پکڑو گی باقی چیزیں میں لے کر جاؤں گی ۔
شیبہ نے امامہ کو کچن میں داخل ہوتے دیکھ کر کہا ۔
جی ۔۔۔امامہ نے جی کو لمبا کیا ۔
امامہ نے چائے کی ٹرے پکڑی اور شیبہ کے اگے چل پڑی۔
السلام علیکم ۔ہال میں داخل ہوتے ہی امامہ نے سب کو سلام کیا۔
واعلیکم السلام ۔ارے بیٹا اؤ۔میں تو کب سے تمہارا ہی پوچھ رہی تھی ۔اؤ میرے پاس بیٹھو۔ریحان کی بیوی سلمان امامہ سے چائے پکڑی اور اپنے پاس بیٹھنے کو کہا۔
جی۔امامہ نے اثبات میں سر ہلایا اور سلمہ کے پاس بیٹھ گئی۔
سچ کہوں بھائی صاحب جب سے میں نے امامہ کو زویا کی برتھ ڈے پر دیکھا ہے میں تو اس دن ہی سے امامہ کو اپنی بہو سمجھ چکی ہوں۔اور مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ اپ ہی مجھے نا امید نہیں کریں گے ۔سلمہ نے فرقان سے کہا۔
جی بہن جی بالکل۔فرقان نے ریحان کی طرف اور پھر امامہ کی طرف دیکھا۔
بس اب یہ فارمیلٹی ویلٹی نہیں کریں گے بس میں تو امامہ کو ابھی سے اپنی بہو سمجھ چکی ہوں۔سلمہ نے امامہ کے ہاتھ میں سونے کے کنگن پہناتے ہوئے کہا ۔
یہ مہری طرف سے امامہ کے لیے چھوٹا سا تحفہ ۔سلمہ نے ان سب کی طرف دیکھا ۔
تو اب آپ بتائیے کہ آپ لوگ کب آے رہے ہیں ہماری طرف۔ریحان نے فرقان سے طرف خوش کن انداز میں پوچھا ۔
کیا مطلب؟
وہ دراصل ہمارے ہاں لڑکا اور لڑکی کی اکھٹی منگنی نہیں کی جاتی ۔
جی وہ تو ہے پر آپ اتنی ۔۔ بھائی صاحب میں جانتی ہوں۔ پر شایان نے ہی مجھ سے کہا تھا۔
وہ کیا ہے کہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ وہ کتنا ہی سنجیدہ اور اپنے اصولوں کا پکا ہے۔
میں نے تو اُس سے تصویر دینے کا کہا ۔
لیکن اس نے مجھ سے کہا کہ روایات تو روایات ہیں ۔ وہ اُنہیں نہیں بدلے گا ۔
تو بس اسی وجہ سے ریحان بے حد افسوس لہجہ میں اُن سب کو یہ بتا رہا تھا ۔
اور وہی ابرش ، ساحل ، عدنان ، عیان اور اضلان ، زویا سب انکی طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
لیکن امامہ اس بات کو سن کر بالکل نارمل بی ہیوکر رہی تھی ۔ کیونکہ اقصیٰ نے اسے سب کچھ پہلے ہی بتا دیا تھا ۔
او اچھا ۔زیبا نے ان کی طرف دیکھا ۔
اچھا تو بھائی صاحب اب ہمیں اجازت دیجیے۔سدرہ اور رافع گھر ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔
اوہ۔میں نے تو کہا تھا کہ انہیں بھی ساتھ لے اتے۔
یہ بھی روایات میں شامل نہیں ہوگا۔امامہ اپنے منہ میں بڑبڑائی۔
ہمم۔سلمہ امامہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
کچھ نہیں ۔امامہ ہڑبڑائی۔
اچھا ہیں پہلے کھانا کھا لیں۔آ نہیں ۔دراصل پہلے ہمارا پلان یہی تھا کہ ہم اپ کے ہاں سے کھانا کھائیں گے۔لیکن اج صبح شایان کی طبیعت خراب ہو گئی۔پہلے تو آج کا پلین کینسل کر دیا تھا۔ مگر شایان ۔ وه کہاں مانتا ۔ اسلئے ہم آگئے ۔
اب ہمیں اجازت دیجئے ۔ ہمیں چلنا چاہیے ۔
ہمم ۔۔شایان کو کہئیے گا کہ اپنا خیال رکھے ۔
ہمم ۔۔ہم جلد ہی چکر لگائیں گے۔
جی ضرور آپ ہی کا گھر ہے ۔ جب مرضی آئیے گا۔
اسکے بعد تمام لوگ اُنہیں دروازے تک چھوڑ نے کے لیے چلے گئے۔
اتنی جلدی بھی کیا تھی تھوڑی دیراور بیٹھ جاتے۔ زویا نے برا سا منھ بنا تے ہوئے کہا۔
انشاءاللہ باقی آئندہ میں شمار رہے گا ۔۔۔
