سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 14
وہ پچھلے پانچ دنوں سے اسلام آباد میں تھا۔ کاروباری
سلسلے میں شہر سے باہر آیا ہوا تھا اور انہی مصروفیات میں وقت گزر رہا تھا۔
آج صبح اسلام آباد میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں جب وہ سو کر اٹھا تو حسبِ معمول اس نے اپنا فون اٹھایا اور سوشل میڈیا کھولا۔
واٹس ایپ پر ایک ویڈیو شیئر ہوئی تھی۔ اس نے ویڈیو کھول کر دیکھی۔
اس نے صرف ایک پہلو دیکھا تھا۔ ویڈیو پر نظر پڑتے ہی اس کا خون کھول اٹھا تھا، مگر اس نے حقیقت کی تہہ تک پہنچنے یا معاملے کی مکمل تفصیلات جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔
ویڈیو مکمل دیکھنے کے بعد اس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اسی وقت اس نے اپنی واپسی کی فلائٹ بک کروائی اور اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔
کچھ دیر بعد وہ لاہور پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ سے نکل کر وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا ہی تھا کہ راستے میں اسے شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ صبح ہونے والے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی اور وہ بےبسی سے ٹریفک میں پھنس کر رہ گیا۔
گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے بی جان کی نظر اس پر پڑی۔ اسے اچانک گھر میں دیکھ کر وہ چند لمحوں کے لیے حیران رہ گئیں۔
“آپ آ گئے؟”
مگر اس نے کسی بات کا جواب دینے کے بجائے فوراً پوچھا،
“ہنی کہاں ہے؟”
“اپنے روم میں ہے۔”
وہ مزید کچھ کہے بغیر سیدھا ہنی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو ہنی کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، وہ بےاختیار خوشی سے چونکتے ہوئے بولی،
“ارے بھائی! آپ واپس آ گئے؟”
مگر جیسے ہی اس کی نظر بھائی کے چہرے پر پڑی، اسے ان کے تیور دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ وہ غصے میں ہیں۔
“کیا ہوا، بھائی؟”
اس کے لہجے میں بےاختیار کپکپاہٹ در آئی۔ بھائی کے چہرے پر چھایا غصہ دیکھ کر وہ سہم سی گئی۔ دل یکایک زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے بھائی کے چہرے کی طرف دیکھا، جیسے ان کے غصے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی ہو، مگر ہونٹوں پر آئے اگلے الفاظ حلق میں ہی اٹک کر رہ گئے۔
ارحم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سخت لہجے میں پوچھا،
“یہ سب کیا ہے؟”
ہنی خاموش کھڑی رہی۔ اسے فوراً اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مال کی ویڈیو کی بات کر رہا ہے۔
گھر میں اس وقت صرف بی جان موجود تھیں، جبکہ ہنی سہمی ہوئی نظروں سے صرف اسے دیکھ رہی تھی۔
“یہ سب کیا ہے؟” ارحم نے ایک بار پھر غصے سے اپنی بہن سے پوچھا۔ اس کے لہجے میں سختی اور آنکھوں میں واضح برہمی تھی۔
اسی دوران اچانک باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔
پری گھر کے اندر داخل ہوئی تو بی جان فوراً اس کے پاس آئیں۔
“کیا ہوا، بی جان؟ آپ اتنی پریشان کیوں ہیں؟” پری نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ارحم بیٹا گھر آ گیا ہے اور ہنی پر غصہ ہو رہا ہے۔”
پری نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا،
“آپ پریشان نہ ہوں، میں دیکھتی ہوں۔”
یہ کہتے ہی وہ بغیر مزید کچھ پوچھے سیدھی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی اور ہنی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“بتاؤ، یہ سب کیا ہے؟ یہ کیا چل رہا ہے؟ اور تمہارا اس سب میں کیا ہاتھ ہے؟”
ہنی نے اس کی طرف دیکھا، مگر اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکلا۔ بھائی کو اس قدر غصے میں دیکھ کر اس کی آنکھیں بےاختیار آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔
“کیا ہوا ہے؟”
ہنی نے جیسے ہی پری کو دیکھا، فوراً اس کے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئی، جیسے پری کی موجودگی نے اسے کچھ حوصلہ دے دیا ہو۔
ارحم نے فوراً موبائل اس کی طرف بڑھایا۔
“یہ دیکھیں۔”
پری نے ایک نظر اسکرین پر ڈالی۔
“مجھے پتا ہے۔ تم میرے ساتھ باہر آؤ، آرام سے بات کرتے ہیں۔”
ارحم نے اسے بھی حیرت اور غصے سے دیکھا۔
“یہ آپ کو پتا ہے؟”
یہ سنتے ہی ارحم غصے سے بولا،
“یہ آپ ہی کی دی ہوئی شہہ ہے، اسی لیے یہ ایسی ہو گئی ہے۔ ہر وقت دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتی رہتی ہے۔”
پری چند لمحوں تک اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔ آج تک ارحم نے کبھی اس سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ اس کے الفاظ سے زیادہ اس کا انداز پری کے لیے حیران کن تھا۔
بی جان نے خان صاحب کو فون کر دیا تھا۔ وہ بھی گھر کے لیے روانہ ہو چکے تھے، مگر ابھی تک پہنچے نہیں تھے۔ بی جان دل ہی دل میں دعا کر رہی تھیں کہ سب خیریت ہو۔
دوسری طرف ارحم غصے میں ہنی کے کمرے سے باہر نکل آیا اور ہال میں جا کر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے سے غصہ صاف ظاہر ہو رہا تھا۔
پری نے ہنی کو تسلی دی، پھر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے نرمی سے کہا،
“تم اپنے روم میں ہی رکو، میں آتی ہوں۔”
ہنی کے کمرے سے نکلنے کے بعد پری بھی واپس ہال میں آ گئی۔ وہاں اس نے ارحم کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اور ہنی سے متعلق پوری بات بتا دی۔
پری کی بات سنتے ہی ارحم کے چہرے پر غصہ مزید گہرا ہو گیا۔ وہ خاموش بیٹھا رہا، مگر اس کے انداز سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے اندر غصہ ابھی کم نہیں ہوا تھا۔
پری نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے آخرکار پوچھ ہی لیا،
“تمہیں آخر غصہ کس بات پر آ رہا ہے؟ ویڈیو وائرل ہونے پر؟ یا اس بات پر کہ ہنی نے اس لڑکی کی مدد کی؟”
ارحم نے پری کی طرف دیکھا اور قدرے سخت لہجے میں بولا،
“دوسروں کے معاملات میں پڑنا بھی آپ ہی نے اسے سکھایا ہے۔”
“ہاں، میں نے سکھایا ہے۔” پری نے بلاجھجک جواب دیا۔ “لیکن اگر اس لڑکی کی جگہ تمہاری اپنی بہن ہوتی تو کیا تم کسی اور لڑکی کی مدد نہ کرتے؟ اگر ہنی نے کسی لڑکی کی مدد کر ہی دی ہے تو اس میں کون سی بڑی بات ہو گئی؟”
ارحم نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔
“بڑی بات؟ آپ کو واقعی نہیں لگتا کہ یہ بڑی بات ہے؟ یہ ویڈیو پورے پاکستان میں وائرل ہو چکی ہے۔ ہر کوئی اسے دیکھ رہا ہے، ہر کوئی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کر رہا ہے۔ میری بہن کو تھانے جانا پڑا، کیا یہ سب ٹھیک ہے؟”
پری نے اسے دیکھتے ہوئے پُرسکون لہجے میں کہا،
“اس میں برا کیا ہے؟ مجھے یہ بتاؤ۔ اگر وہ ایک لڑکی کے لیے آواز اٹھائے گی تو اس میں برا کیا ہے؟”
“آپ نہیں سمجھیں گی۔”
“تو سمجھاؤ مجھے۔”
ارحم کا لہجہ مزید سخت ہو گیا۔
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ آپ ہمارے معاملات میں بولتی ہی کیوں ہیں؟ وہ میری بہن ہے، میں جانوں یا میرا باپ جانے۔ آپ نے اسے بگاڑ دیا ہے۔”
اسی لمحے پیچھے سے خان صاحب کی آواز گونجی۔
“ارحم! کیا بکواس کر رہے ہو؟”
پری اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
آج تک ارحم نے کبھی اس سے اس انداز میں بات نہیں کی تھی۔ نہ کبھی اس نے اپنے دل میں چھپی ناراضی اس طرح ظاہر کی تھی اور نہ ہی کبھی پری پر اس طرح الزام لگایا تھا۔
ارحم نے پلٹ کر انہیں دیکھا اور تلخی سے بولا،
“ہاں، آئیے آپ بھی۔ آپ دونوں نے ان دونوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے نا؟ اب دیکھ لیجیے، آج انہوں نے کیا کر دیا ہے!”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر دوبارہ بولا،
“آپ ہی اس لڑکی کو اپنے گھر لائے تھے نا؟ اور آج نتیجہ دیکھ لیجیے۔ آج آپ کی بیٹی بھی سرِعام لڑائی کرتی پھر رہی ہے، اور اب حال یہ ہے کہ اسے پولیس تھانے بھی جانا پڑا ہے۔ کیا عزت رہ جائے گی ہماری؟”
خان صاحب نے اسے سخت نظروں سے دیکھا۔
“کون سی عزت؟ کس عزت کی تم بات کر رہے ہو؟ کیا میں نے تم لوگوں کو یہ سکھایا ہے کہ کسی کی مدد کرنا اس کی عزت کے خلاف ہے؟”
وہ ایک لمحے کو رکے، پھر مضبوط لہجے میں بولے،
“میں اپنی بیٹی کے ساتھ ہوں اور مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ میری بیٹی نے کیا کیا ہے۔ اس نے کچھ غلط نہیں کیا۔ اگر اس وقت اس نے کسی لڑکی کی مدد کی تھی تو اس نے بالکل ٹھیک کیا۔ وہاں کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا، میں بھی ہوتا تو یہی کرتا۔”
انہوں نے ارحم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“میری بیٹی نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اور تم کس چیز کی عزت کی بات کر رہے ہو؟ صرف ایک ویڈیو وائرل ہو جانے سے کیا ہو جاتا ہے؟”
ارحم غصے سے بولا،
“ٹھیک ہے، آپ بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں تو دیں۔ کل اگر اس نے کوئی بڑا کام کر دیا اور پولیس اسے پکڑ کر تھانے لے گئی تو کون اسے چھڑوانے جائے گا؟”
اوپر کھڑی ہنی یہ سب سن چکی تھی۔ وہ غصے سے بول اٹھی،
“جس نے پانچ سال پہلے مجھے بچایا تھا، وہی اب بھی مجھے بچائے گی۔ مجھے آپ کی ضرورت نہیں ہے۔”
یہ سنتے ہی پری، ارحم اور خان صاحب نے بیک وقت سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
ہنی غصے سے سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی اور ارحم کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔
“پانچ سال پہلے آپ کہاں تھے، جب میں چیخ رہی تھی، مدد کے لیے پکار رہی تھی؟ آپ تو اپنی دنیا میں مگن تھے نا؟”
اس نے غصے سے پری کی طرف اشارہ کیا۔
“مجھے بچانے والی صرف یہی تھیں۔ انہوں نے مجھے بچایا تھا۔ آپ کہاں تھے؟ اور آج بھی یہی مجھے بچا رہی ہیں۔ آج بھی یہی میرے ساتھ کھڑی ہیں۔”
ہنی کی آواز میں شکوہ مزید گہرا ہو گیا۔
“اور آپ؟ آپ کو صرف اپنی عزت کی فکر ہے، اپنی بہن کی نہیں۔ کیا بھائی ایسے ہوتے ہیں؟”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر دوبارہ بولی،
“بس دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنی ہی بہن پر انگلی اٹھا رہے ہیں! کسی نے آپ کو بتایا نا اس بارے میں؟ وہ ہر مسئلے کی خبر آپ تک پہنچاتی ہے۔”
ارحم اس کی بات سن کر حیرت سے بولا،
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
ہنی ہلکا سا ہنسی، مگر اس ہنسی میں دکھ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“اب مطلب پوچھ رہے ہیں؟”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر بےنیازی سے بولی،
“نہیں، نہیں چاہیے مجھے آپ کی مدد۔”
ارحم ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک خان صاحب نے سینے پر ہاتھ رکھا اور درد سے جھک کر بیٹھ گئے۔ ان کے چہرے پر پسینہ نمودار ہو گیا تھا اور ایک دم سے ان کی طبیعت بگڑ گئی۔
پری فوراً گھبرا کر ان کے پاس پہنچی۔
“بابا! آپ ٹھیک ہیں؟”
ہنی نے باپ کی حالت دیکھی تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ روتے ہوئے باپ سے مخاطب ہوئی،
“بابا! کیا ہوا آپ کو؟”
ان کی حالت دیکھ کر پری کی پریشانی بڑھ گئی۔ اس نے فوراً بی جان کی طرف دیکھا اور بولی،
“بی جان! فوراً ان کی دوا لے کر آئیں۔”
ارحم بھی یہ دیکھ کر گھبرا گیا اور بےاختیار آگے بڑھا، مگر خان صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
“یہیں رک جاؤ۔”
ارحم وہیں رک گیا۔ اس کے چہرے پر غصے کی جگہ اب واضح پریشانی تھی۔
دوسری طرف بی جان فوراً پانی اور دوا لے کر آ گئیں۔
پری نے فوراً دوا نکالی اور خان صاحب کو کھلا دی۔ کچھ دیر بعد ان کی طبیعت پہلے سے قدرے بہتر محسوس ہونے لگی۔ پری اور بی جان نے انہیں سہارا دے کر ان کے کمرے میں پہنچایا اور بستر پر لٹا دیا۔
ہنی اب تک رو رہی تھی۔ جیسے ہی وہ بیڈ کے پاس پہنچی، فوراً خان صاحب سے لپٹ گئی۔
“بابا، آپ ٹھیک ہیں نا؟ ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”
خان صاحب نے اسے تسلی دینے کے لیے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں، بس تھوڑی سی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ میرا بہادر بیٹا ہے نا آپ؟”
ہنی نے آنسو پونچھتے ہوئے انہیں دیکھا۔
“آپ کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔”
اس کی آواز بھرّا گئی اور وہ دوبارہ ان سے لپٹ گئی۔
ارحم کمرے کے اندر نہیں آیا تھا۔ وہ دروازے کے باہر ہی خاموش کھڑا تھا۔ اندر ہونے والی ہر بات اس کے کانوں تک صاف پہنچ رہی تھی۔
خان صاحب نے پری کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں بولے،
“بیٹا، میں بہت شرمندہ ہوں۔”
پری نے فوراً ان کی طرف دیکھا اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔
“بابا، ایسی باتیں مت کریں۔”
“آج بھی تمہیں میری وجہ سے اتنی باتیں سننی پڑیں۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے خان صاحب نے بےبسی سے ہاتھ جوڑنے چاہے، مگر پری نے فوراً ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔
“نہیں، بالکل نہیں۔ مجھے شرمندہ مت کریں۔ آپ نے تو مجھے سہارا دیا تھا، مجھے اس قابل بنایا کہ آج میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔ آپ کی وجہ سے ہی میں آج یہاں ہوں۔”
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“اور ارحم غصے میں تھا۔ مجھے اس کی کسی بات کا برا نہیں لگا۔ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔”
دروازے کے باہر کھڑا ارحم یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا۔ اس کے دل میں پچھتاوا مزید گہرا ہو گیا۔
اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا۔ اس کی نظریں بےاختیار جھک گئیں۔
کسی کی باتوں میں آ کر اس نے خود کو غصے میں مبتلا کر لیا تھا، مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر اس کے بابا اور اپنی بہن کے خاندان سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں۔
آخر پانچ سال پہلے ایسا کیا ہوا تھا کہ ہنی آج بھی پری کو اپنا سہارا سمجھتی ہے؟
یہ سوال پہلی بار اس کے ذہن میں پوری شدت سے ابھرا تھا۔
+++++++++++++++++++++++
عدالت کا فیصلہ سنایا جا چکا تھا۔
ملزم کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی، جبکہ اس مقدمے میں نامزد دوسرے لڑکے کے خلاف کارروائی ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔ وہ اب بھی قانون کی گرفت سے باہر تھا۔
فیصلہ سنتے ہی اقراء کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“یہ انصاف نہیں ہے۔۔۔”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“میری بہن کے ساتھ جو ہوا، اس کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے تھی۔ دوسرا ملزم کہاں ہے؟ اسے ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟”
قریب کھڑے شخص نے اسے خاموش کروانے کی کوشش کی، مگر اقراء کے ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا تھا۔
“ہمیں انصاف چاہیے تھا۔۔۔”
“مس اقراء! عدالت کے فیصلے کو غلط کہنا آپ کا حق ہو سکتا ہے، مگر عدالت کے قانون اور ضابطے کو چیلنج کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ یہ عدالت جذبات کی بنیاد پر نہیں، قانون اور پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ اگر آپ کو فیصلے سے اختلاف ہے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپیل کا حق آپ کے پاس موجود ہے، مگر آپ قانون کے خلاف جا کر اس فیصلے کو تبدیل نہیں کروا سکتیں۔”
“ہاں!” اقراء روتے ہوئے چیخی۔ “میں نے انصاف مانگا ہے۔۔۔ صرف انصاف! مگر اس انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی سزا مجھے دی جا رہی ہے۔ میں ایک غریب عورت ہوں، اسی لیے شاید میری آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی۔”
وہ آنسو پونچھتے ہوئے چند لمحوں کے لیے رکی، مگر اگلے ہی لمحے اس کا لہجہ پھر پتھر ہو گیا۔
“لوگ مجھے اس کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ میرے گھر میں لوگ بھیجے جا رہے ہیں، مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، میری فیملی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔۔۔ تو پھر بتائیے، یہ کیسا قانون ہے؟”
اس کی آواز درد سے لرز رہی تھی۔
“جہاں ایک عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے خاموش کروانے کی کوشش کی جائے۔۔۔ جہاں وہ اپنی بہن کے لیے انصاف مانگے تو اسے ہی خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔۔۔ تو پھر ایک عورت محفوظ کہاں ہے؟”
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرّا گئی اور وہ اپنی ماں کے کندھے سے لگ کر دوبارہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اس کی آواز میں دکھ کے ساتھ بےبسی بھی شامل تھی۔
اتنے دنوں تک وہ عدالتوں، پولیس اور کاغذی کارروائی کے درمیان بھٹکتی رہی تھی۔ ہر پیشی کے ساتھ اسے امید ہوتی کہ شاید اب اس کی بہن کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا، شاید دوسرے ملزم کو بھی گرفتار کیا جائے گا، شاید کوئی اس سوال کا جواب دے گا کہ آخر حقیقت کیا تھی۔
مگر آج فیصلہ آ گیا تھا۔
عدالت میں کھڑے سب لوگ اسے دکھ سے دیکھ رہے تھے، لیکن کسی نے کچھ نہیں کہا۔ سب خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔
افی آگے بڑھی اور اسے گلے لگا لیا، جس پر اقراء پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
افی بھی آج ہار گئی تھی۔ آج تک اس نے جو بھی کیس لڑے تھے، وہ جیتے تھے، لیکن پہلی دفعہ اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آج اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا۔
اس کے پاس بھی الفاظ نہیں تھے کہ وہ اسے کیا کہتی۔ وہ اسے انصاف نہیں دلا سکی تھی۔
اس کی بہن کے ساتھ انصاف ابھی بھی ادھورا تھا۔
وہ عدالت سے باہر نکلی تو میڈیا کا ہجوم بھی موجود نہیں تھا۔ چند لوگ رسمی طور پر مقدمے کی بات کر رہے تھے، پھر سب اپنی اپنی مصروفیات میں لوٹ گئے۔
کسی بڑی خبر کی طرح اس کیس پر بھی زیادہ دیر گفتگو نہیں ہوئی۔
لوگوں کے لیے شاید یہ صرف ایک اور مقدمہ تھا۔
سوشل میڈیا پر اٹھنے والا شور رفتہ رفتہ کم ہونے لگا۔ نئی خبریں سامنے آنے لگیں، نئے واقعات لوگوں کی توجہ سمیٹنے لگے اور ایمان کے لیے انصاف مانگنے والی آوازیں بھی خاموش ہوتی چلی گئیں۔
لوگوں نے اپنے اپنے اکاؤنٹس پر ویڈیوز اپلوڈ کیں، تبصرے کیے اور چند دن تک اس واقعے کو موضوعِ بحث بنائے رکھا، لیکن جب حقیقت میں اس کی مدد کرنے اور اسے انصاف دلانے کا وقت آیا تو کوئی آگے نہ بڑھا۔ ہر شخص اپنی جگہ بیٹھ کر انصاف کے مطالبے تو کر رہا تھا، مگر اس مطالبے کو حقیقت بنانے کے لیے کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں تھا۔
مگر اقراء کے لیے؟
یہ اس کی بہن کی پوری زندگی کا سوال تھا۔
وہ باہر آ کر کچھ دیر خاموش کھڑی رہی۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر اس بار اس نے انہیں پونچھنے کی بھی کوشش نہیں کی۔
اسے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا کہ شاید اس کی آواز اس شور میں کہیں کھو گئی تھی۔
اقراء کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
عدالت کا فیصلہ اس کے سامنے تھا، مگر دل اسے ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے اور چہرے پر ایسی بےبسی تھی، جیسے وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی بہن کے لیے انصاف حاصل نہ کر سکی ہو۔
افی نے اسے کچھ دیر خاموشی سے دیکھا، پھر آہستہ سے بولی،
“تم میرے ڈرائیور کے ساتھ گھر چلی جاؤ۔”
اقراء نے صرف سر ہلا دیا اور آگے بڑھ گئی۔
افی ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اسی وقت التمش کی نظر اس پر پڑی۔ وہ بھی عدالت آیا ہوا تھا اور مقدمے کا فیصلہ سن چکا تھا۔
افی کو دیکھ کر وہ رک گیا۔
التمش اس کے قریب آیا اور چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
“کیا ہوا؟”
افی نے آنکھیں جھکا لیں۔
“کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہوا۔۔۔”
التمش خاموش رہا۔
افی کے اندر جمع غصہ اور دکھ ایک بار پھر لفظوں میں ڈھلنے لگا۔
“ہم نے اتنی کوشش کی تھی، مگر آخر میں کیا ملا؟ ایک فیصلہ۔۔۔ اور بس۔ اس کی بہن دوبارہ زندہ تو نہیں ہو سکتی تھی، لیکن ہمیں لگا تھا کم از کم اسے انصاف تو ملے گا۔”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“غریب آدمی جتنی مرضی کوشش کر لے، آخر میں تکلیف اسی کے حصے میں آتی ہے۔ جن کے پاس پیسہ اور طاقت ہو، وہ اپنا کام نکال لیتے ہیں۔”
التمش اس کی بات خاموشی سے سنتا رہا۔
وہ پولیس میں رہ چکا تھا اور اپنی سروس کے دوران ایسے کئی مقدمات دیکھ چکا تھا جہاں کاغذ پر سب کچھ واضح ہونے کے باوجود اصل حقیقت تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقت کو جھوٹ میں بدلتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
التمش کی نظر افی پر پڑی تو وہ چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتا رہ گیا۔ آج پہلی بار اسے افی کے چہرے پر ایسی شکست دکھائی دی تھی، جسے وہ چاہ کر بھی چھپا نہیں پا رہی تھی۔
اس نے ہمیشہ افی کو حالات کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے دیکھا تھا، مگر آج وہ خود بےبس کھڑی تھی، جیسے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کسی کے لیے کچھ نہ کر پانے کا دکھ اسے اندر سے توڑ رہا ہو۔
التمش کو اس کا یہ روپ بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔ شاید اس لیے کہ وہ افی کو ہمیشہ مضبوط دیکھنے کا عادی ہو چکا تھا، یا پھر اس لیے کہ آج پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ دوسروں کے لیے لڑنے والے لوگ بھی کبھی کبھی ایسے موڑ پر آ کھڑے ہوتے ہیں جہاں ان کی تمام تر قابلیت اور کوشش بےمعنی محسوس ہونے لگتی ہے۔
اس کی نگاہ افی کے چہرے پر ٹھہر گئی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا کہے۔ آخر وہ اسے تسلی کیسے دیتا، جب کہ اسے ابھی تک خود کوئی سراخ نہیں ملا تھا۔
افی نے ذہن میں ابھرتے خیالات کو جھٹکا اور خود کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ پُراعتماد انداز اپنایا۔ پھر التمش کی طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھا،
“مجھے ایک بات بتاؤ،” اس نے سنجیدگی سے پوچھا، “کیا واقعی اس دوسرے لڑکے کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا تھا؟”
التمش نے فوراً اسے دیکھا۔
“نہیں۔”
افی کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں۔
“کیوں؟”
التمش نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اسے غور سے دیکھا۔
“کوئی بات ہے؟”
“مجھے یہ معاملہ شروع سے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔”
افی کی آنکھوں میں ایک بار پھر سوال ابھرا۔
“وہ سیاست دان کا بیٹا ہے۔۔۔ یقیناً انہوں نے کچھ نہ کچھ کیا ہوگا۔”
افی نے اسے مال میں پیش آنے والے واقعے اور اس لڑکے کے بارے میں بتایا تو التمش بھی ساری بات سن کر گہری سوچ میں پڑ گیا۔
التمش پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا،
“میں نے بھی تھوڑی معلومات نکلوائی تھیں۔”
افی بےچینی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“پھر؟”
“وہ پاکستان سے باہر جا چکا ہے۔”
افی کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
“کیا؟”
التمش نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں۔”
افی کے ذہن میں جیسے ایک ساتھ کئی سوالات نے جنم لیا۔
“مجھے پہلے ہی شک تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اگر وہ بےقصور تھا تو اچانک ملک سے باہر کیوں چلا گیا؟”
التمش خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
افی نے عدالت کی عمارت کی طرف دیکھا۔
“یہاں کبھی کسی غریب کو انصاف ملے گا بھی؟”
اس سوال کا جواب التمش کے پاس بھی نہیں تھا۔
وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ یہ مقدمہ شاید اتنا سادہ نہیں تھا جتنا آج عدالت کے فیصلے کے بعد دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــ
سڑک پر ٹریفک معمول سے کچھ زیادہ تھی۔ کچھ ہی دیر بعد سگنل سرخ ہوا تو اس نے گاڑی روک دی۔
سامنے ایک گاڑی کھڑی تھی۔ پری نے ایک نظر موبائل کی اسکرین پر ڈالی، چند لمحے کچھ چیک کیا، پھر فون ایک طرف رکھتے ہوئے گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ نیچے کر دیا۔ ایک بازو کھڑکی پر ٹکایا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیاں ماتھے کے ایک جانب رکھتے ہوئے وہ کبھی سامنے کھڑی گاڑی کو دیکھتی، کبھی سگنل پر نظر ڈال لیتی۔
اسی دوران ایک گیارہ سالہ بچی ہاتھ میں چند پنسلیں اور چھوٹے چھوٹے پھول لیے گاڑیوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ شاید وہ انہیں بیچنے کے لیے نکلی تھی۔
وہ پری کی گاڑی تک پہنچنے سے پہلے سامنے کھڑی گاڑی کے پاس رک گئی۔
اگلے ہی لمحے اس گاڑی کی فرنٹ سیٹ کا شیشہ نیچے ہوا۔
پری کی نگاہ بےاختیار وہاں جا ٹھہری۔
اسے صرف ایک مردانہ ہاتھ دکھائی دیا، جس کی کلائی پر سیاہ رنگ کی گھڑی بندھی تھی۔ چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا، نہ ہی وہ شخص پری کی نظر کے سامنے آیا۔ بس وہ ہاتھ اور بچی کے درمیان ہونے والی مختصر سی گفتگو اس کی سماعت تک پہنچ رہی تھی۔
بچی نے کچھ کہا اور ہاتھ میں پکڑی پنسلیں آگے بڑھا دیں۔
اس ہاتھ نے ان میں سے ایک پنسل کا پیکٹ لے لیا، پھر بچی کی ہتھیلی پر چند سرخ نوٹ رکھ دیے۔
پری کی نگاہ ایک لمحے کے لیے ان نوٹوں پر ٹھہر گئی۔
پنسل کی قیمت اتنی زیادہ تو ہرگز نہیں تھی۔
وہ شخص شاید قیمت سے کہیں زیادہ دے رہا تھا۔
پھر وہ ہاتھ بچی کے سر تک گیا اور نہایت شفقت سے اس کے سر پر رکھا گیا۔ بچی کچھ کہہ کر مسکرائی تو وہ شخص بھی شاید اسے کوئی تسلی یا نصیحت دے رہا تھا۔
پری کے ہونٹوں پر بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اس نے ایک اجنبی کو پہلی بار دیکھا تھا جو کسی ضرورت مند کو صرف چند روپے دے کر آگے بڑھ جانے کے بجائے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس سے بات بھی کر رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے سگنل سبز ہو گیا۔
سامنے والی گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی اور بچی بھی فوراً دوسری طرف چل دی۔
پری نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی، پھر شیشہ اوپر کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
مگر جانے کیوں، کچھ دیر تک اس کے ذہن میں وہی سیاہ گھڑی پہنے ہاتھ اور بچی کے سر پر رکھا ہوا شفقت بھرا ہاتھ گردش کرتا رہا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عرشمان آفس جانے کے لیے تیار ہو کر گاڑی میں بیٹھا ہی تھا۔ اس نے ابھی گاڑی اسٹارٹ کی ہی تھی کہ اچانک ساتھ والی سیٹ کا دروازہ کھلا اور زرنش آ کر بیٹھ گئی۔
عرشمان نے چونک کر اسے دیکھا۔
“کہاں؟”
زرنش نے فوراً سیٹ بیلٹ لگاتے ہوئے اسے دیکھا۔
“پلیز، مجھے بھی راستے میں چھوڑ دیں۔ میری گاڑی خراب ہو گئی ہے۔” زرنش نے جلدی سے کہا۔ “پلیز بھائی، پلیز چھوڑ دیں۔ میں پہلے ہی لیٹ ہو رہی ہوں۔”
عرشمان نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی۔ پھر چند لمحے اسے دیکھا اور خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
گاڑی سڑک پر رواں ہو گئی۔
کچھ دیر بعد سگنل پر گاڑی رکی تو عرشمان نے بےخیالی میں سامنے دیکھا۔ اسی لمحے ایک ننھی سی بچی گاڑی کے قریب آئی۔ اس کے ہاتھ میں مختلف رنگوں کے چند پین تھے۔
وہ گاڑی کے شیشے کے قریب آ کر ہلکی سی آواز میں بولی،
“صاحب، پین لے لیں۔ اچھا پین ہے۔”
عرشمان نے شیشہ تھوڑا سا نیچے کیا۔
“کتنے کا ہے؟”
بچی نے فوراً ایک پین آگے کرتے ہوئے قیمت بتائی۔
عرشمان نے اپنے والٹ سے چند نوٹ نکال کر بچی کے ہاتھ میں تھما دیے۔ بچی نے پیسے دیکھے تو اسے اندازہ ہوا کہ رقم کچھ زیادہ ہے، جس پر وہ فوراً بولی،
“یہ تو زیادہ ہیں۔”
عرشمان نے بےفکری سے کہا،
“کوئی بات نہیں، رکھ لو۔ اور یہ سارے پین مجھے دے دو۔”
بھائی کی اس حرکت پر زرنش حیران ہوئی، مگر اگلے ہی لمحے مسکرا دی۔
بچی نے پیسے ہاتھ میں لیے تو عرشمان نے اسے غور سے دیکھا۔
“تم روز یہاں آتی ہو؟”
بچی نے سر ہلا دیا۔
“جی۔”
“اسکول نہیں جاتی؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی،
“کبھی کبھی جاتی ہوں۔”
عرشمان نے حیرت سے پوچھا،
“کبھی کبھی کیوں؟”
بچی نے کندھے اچکا دیے۔
“جب کام کم ہو۔”
عرشمان کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے پوچھا،
“اور یہ پین کہاں سے لاتی ہو؟”
“وہ سامنے والے انکل دیتے ہیں۔ میں بیچتی ہوں۔”
عرشمان نے اس کے ہاتھ میں موجود باقی پین دیکھے۔
“آج کتنے بیچے؟”
بچی نے انگلیوں پر گنتی کی۔
“چار۔”
“صرف چار؟”
“جی، پر ابھی آپ نے سارے لے لیے۔”
اس کے معصوم جواب پر عرشمان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اس نے بچی سے پوچھا،
“تمہارے گھر والے کہاں ہیں؟ وہ کام نہیں کرتے؟”
جس پر بچی نے معصومیت سے جواب دیا،
“میرے بابا نہیں ہیں، صرف امی ہیں۔ وہ بھی کام کرتی ہیں، لیکن پھر بھی گھر کا گزارا نہیں ہوتا۔ اسی لیے میں بھی یہ چیزیں بیچ کر کچھ پیسے کما لیتی ہوں۔”
اس کی بات سن کر عرشمان کے چہرے پر اداسی کی ہلکی سی لہر آئی۔ وہ ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سگنل کھل گیا۔
اس نے بچی کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
“خوش رہو۔”
بچی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“تو آج گھر جلدی جاؤں گی۔”
یہ کہتے ہوئے وہ خوشی سے زور زور سے سر ہلانے لگی، کیونکہ اس کے سارے پین بھی عرشمان نے خرید لیے تھے۔ اس کے چہرے پر پھیلی خوشی اور مسکراہٹ دیکھ کر عرشمان بھی بےاختیار خوش ہو گیا۔
اس نے ایک بار پھر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
“ہمیشہ ایسی ہی مسکراتی رہنا۔”
بچی کے چہرے پر معصوم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“اللہ آپ کو خوش رکھے۔”
عرشمان نے بس سر ہلا دیا۔ گاڑی آگے بڑھ گئی۔
مگر چند لمحوں تک اس کی نظر آئینے میں اسی ننھی بچی پر رہی، جو شاید گھر کی طرف جا رہی تھی۔
زرنش کافی دیر سے اپنے بھائی کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ آخرکار اس نے پوچھ ہی لیا،
“کیا ہے؟ ایسے کیوں گھور رہی ہو؟”
زرنش نے مسکراتے ہوئے کہا،
“کچھ نہیں، بس سوچ رہی ہوں آپ اتنے بدل کیسے گئے؟”
وہ بھنویں سکیڑ کر بولا،
“میں بدل گیا؟”
“ہاں!” زرنش نے فوراً سر ہلایا۔ “پہلے تو اتنے کھڑوس تھے کہ بندہ آپ سے بات کرنے سے پہلے دس بار سوچے۔ ہر وقت منہ بنا کر رکھتے تھے اور ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرتے تھے۔”
وہ اسے گھورنے لگا۔
“اچھا؟ اور اب؟”
زرنش اپنی ہنسی روکتے ہوئے بولی،
“اب بھی کھڑوس ہی ہیں، بس کبھی کبھی انسان بن جاتے ہیں۔”
اس نے اسے گھور کر دیکھا تو زرنش کھلکھلا کر ہنس دی۔
زرنش کو راستے میں ڈراپ کرنے کے بعد عرشمان اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔
ابھی وہ لفٹ کے سامنے پہنچا ہی تھا کہ لفٹ کے دروازے کھل گئے اور وہ اندر داخل ہو گیا۔
اسی لمحے پیچھے سے پری بھی وہاں آ گئی۔
عرشمان نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“السلام علیکم۔”
“وعلیکم السلام۔”
مختصر سا سلام دعا کا تبادلہ ہوا، اس کے بعد دونوں خاموشی سے اپنی اپنی سمت دیکھتے رہے۔ لفٹ کی خاموشی میں صرف منزلوں کے بدلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد لفٹ رکی اور دونوں میٹنگ ہال کی طرف بڑھ گئے۔
ہال میں داخل ہوئے تو سامنے والی قطار میں دو نشستیں خالی تھیں اور اتفاق سے دونوں ایک دوسرے کے بالکل ساتھ تھیں۔
پری اپنی جگہ بیٹھ گئی، جبکہ عرشمان بھی اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
پری کے عین سامنے زین بیٹھا تھا، جبکہ عرشمان کے سامنے زین کے والد بیٹھے ہوئے تھے۔
رسمی سلام دعا کے بعد میٹنگ کا آغاز ہوا۔ فائلیں سب کے سامنے رکھ دی گئیں۔
پری نے اپنے سامنے رکھی فائل کھولی اور صفحات پر نظر دوڑانے لگی۔
اس نے پورا کنٹریکٹ پڑھا، مگر اسے اس میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا۔ اس نے سر اٹھا کر زین کی طرف دیکھا اور کہا،
“یہ ٹھیک ہے۔”
زین نے فوراً پین اس کی طرف بڑھا دیا۔
پری نے پین لے لیا اور دستخط کرنے لگی، مگر کچھ ہی لمحے بعد پین رک گیا۔
اس نے چند بار چلانے کی کوشش کی، مگر پین نے ساتھ نہ دیا۔
عرشمان کی نظر بھی اس طرف اٹھ چکی تھی۔ وہ فائل پڑھتے ہوئے اس صورتحال کو دیکھ رہا تھا۔
جب اس نے دیکھا کہ پری کا پین نہیں چل رہا تو اپنی پاکٹ سے پین نکالا اور ہاتھ بڑھا کر خاموشی سے اس کی طرف بڑھا دیا۔
پری کی نظر بےاختیار اس کے ہاتھ پر پڑی۔
لمبی انگلیاں، ہاتھ کی وہی ساخت۔۔۔
ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن میں سڑک کنارے رکی گاڑی اور وہ ہاتھ ابھرا جو شیشے سے باہر نکلا تھا۔
اس کی نگاہ چند لمحوں تک وہیں ٹھہری رہی۔ ذہن میں ایک خیال آیا، مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود ہی اسے رد کر دیا۔
پری نے بغیر کچھ کہے پین اس کے ہاتھ سے لے لیا، دستخط مکمل کیے اور پھر پین واپس اسی کی طرف بڑھا دیا۔
عرشمان خاموشی سے پین واپس لے کر فائل پر دستخط کرنے لگا۔
میٹنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو سب نے اپنی فائلیں سمیٹ لیں۔ کمپنی کے اونر نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے خوش دلی سے کہا،
“آپ سب کے ساتھ کام شروع کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ امید ہے ہمارا یہ تعاون اچھا رہے گا اور ہم مل کر ایک بہترین کام کریں گے۔ ان شاء اللہ، آگے بھی ہمارے درمیان یہ شراکت اسی طرح قائم رہے گی۔”
“یقیناً، ہمیں بھی امید ہے کہ یہ ایک اچھا تجربہ ثابت ہوگا۔ آپ لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ہمارے لیے بھی خوش آئند ہے۔”
زین کے والد نے کہا،
“باقی تفصیل آپ کو زین دے دے گا۔”
ان کی بات سن کر پری اور عرشمان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اس کے بعد سب اپنی اپنی نشستوں سے اٹھنے لگے۔
سب کے چلے جانے کے بعد میٹنگ ہال میں صرف وہ تینوں رہ گئے، جبکہ زین نے پری کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بات شروع کی۔
“مس پری!”
پری نے اس کی طرف دیکھا۔
“آپ کی کمپنی یہاں سے کافی دور ہے، اور چونکہ اگلے ایک ہفتے تک دونوں ٹیموں نے یہیں بیٹھ کر کام کرنا ہے، اس کے بعد بھی آپ کو بار بار یہاں آنا پڑے گا۔ روزانہ اتنا فاصلہ طے کرنا آپ کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔”
وہ ذرا رکا، پھر قدرے خوش دلی سے بولا،
“اس لیے جب تک ڈیزائننگ اور باقی کام مکمل نہیں ہو جاتا، آپ ہماری کمپنی میں ہی کام کر سکتی ہیں۔ ہم آپ کے لیے الگ جگہ کا انتظام کر دیں گے، تاکہ آپ کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔”
زین کی بات بظاہر پری کی سہولت کے لیے تھی، مگر اس کے انداز میں ضرورت سے زیادہ اپنائیت تھی۔ اس نے ایک نظر عرشمان کی طرف بھی ڈالی۔
پری خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔ اس نے ابھی کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ عرشمان بول اٹھا،
“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
زین نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
عرشمان نے پُرسکون انداز میں کہا،
“پہلا ہفتہ تو طے ہو چکا ہے کہ دونوں ٹیمیں اسی کمپنی میں بیٹھ کر کام کریں گی۔ اس کے بعد بھی ہمارے پاس تیس دن کا وقت ہے، اس لیے کام کو دونوں کمپنیوں کے درمیان تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پندرہ دن یہ ہماری کمپنی میں کام کر لیں گی اور پندرہ دن ہم ان کی کمپنی میں کام کر لیں گے۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر بولا،
“کیونکہ ہماری دونوں ٹیموں نے مل کر کام کرنا ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ ہم آپس میں کولیب کریں، نہ کہ یہاں آ کر کام کے سلسلے میں ایک دوسرے کو تنگ کریں۔”
عرشمان کی بات زین کو کچھ ہضم نہیں ہوئی۔ وہ ناگواری سے اسے دیکھنے لگا۔ ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ پری نے کہا،
“یہ ٹھیک رہے گا۔”
پری کی بات سن کر زین خاموش ہو گیا۔
“اور اگر ڈرافٹ اس دوران مکمل نہ ہوا تو دونوں ٹیمیں ضرورت کے مطابق ایک دوسرے کی کمپنی میں آ کر کام کر سکتی ہیں۔”
زین نے پری کی بات سنتے ہوئے کہا،
“ٹھیک ہے، جیسے آپ کو مناسب لگے۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو یا کوئی کام ہو تو آپ مجھے کہہ سکتی ہیں۔”
پری نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا۔
عرشمان خاموشی سے دونوں کو دیکھتا رہا۔
پری نے دونوں کو خدا حافظ کہا اور باہر چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی دونوں نے ایک دوسرے کو گھورا۔ پھر عرشمان بھی زین کو ایک نظر دیکھتے ہوئے اپنا کوٹ درست کر کے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
عرشمان کے جاتے ہی زین کی نظریں کچھ دیر تک اسی سمت جمی رہیں، جیسے وہ دور جاتے ہوئے عرشمان کو پیچھے سے بھی گھور رہا ہو۔
اسی دوران اس کا سیکریٹری اندر آیا۔
زین نے اسے دیکھتے ہی کہا،
“کل کے لیے مس پری کا ایک اچھا سا آفس ریڈی کرو، اور ان کے لیے گلاب کا ایک پیارا سا گلدستہ بھی تیار کروانا۔ ان کا ویلکم اچھے طریقے سے ہونا چاہیے۔”
سیکریٹری نے اثبات میں سر ہلایا اور مسکراتے ہوئے بولا،
“جی، سر۔”
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رومی اور ہنی آج مارکیٹ آئی ہوئی تھیں۔ ان کے برانڈ کی پاکستان میں لانچنگ کی تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی تھیں۔ اس سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے تھے۔ دکان کی تیاری سے لے کر لانچنگ تک کے معاملات طے ہو چکے تھے۔ بس انہیں اپنے مال کی آمد کا انتظار تھا، جو اب ختم ہو چکا تھا۔
مال پہنچنے کے بعد اب وہ آخری بار چند چیزیں دیکھنے اور باقی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے مارکیٹ آئی تھیں۔
رومی آگے آگے چل رہی تھی، جبکہ ہنی اس کے پیچھے تھی۔ وہ مختلف دکانوں پر رکھے ملبوسات دیکھتی ہوئی اس کے ساتھ چل رہی تھی کہ اچانک ایک طرف کھڑی لڑکی پر اس کی نظر پڑی۔ ہنی کے قدم وہیں رک گئے۔ اس نے غور سے اس لڑکی کو دیکھا، جو کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی تھی۔
چند لمحوں تک اسے دیکھنے کے بعد ہنی نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کی۔ وہ لڑکی اسے عائشہ جیسی لگ رہی تھی۔
رومی کچھ آگے نکل گئی تھی، مگر جب اسے ہنی اپنے ساتھ نظر نہ آئی تو وہ پلٹ کر واپس اس کے پاس آ گئی۔
“کیا ہوا؟ تم رک کیوں گئی ہو؟”
اس نے ہنی کو ایک طرف دیکھتے ہوئے پایا تو خود بھی اسی سمت دیکھنے لگی۔
“رومی! مجھے لگ رہا ہے کہ وہ عائشہ ہے۔” ہنی نے الجھن سے کہا۔
“عائشہ؟” رومی نے حیرت سے اسے دیکھا، پھر اس لڑکی کی طرف نگاہ دوڑائی۔ “وہ یہاں کیا کرے گی؟ وہ تو یونیورسٹی میں ہوگی۔”
“مجھے بھی یہی لگ رہا ہے، لیکن اس کا چہرہ بالکل عائشہ جیسا ہے۔” ہنی نے ایک بار پھر غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
رومی نے ایک نظر اس لڑکی کی طرف دیکھا، مگر اب وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ شاید وہ اپنے ساتھی کے ساتھ آگے جا چکی تھی۔
“ہنی، شاید تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ وہ عائشہ نہیں ہوگی، بس اس سے ملتی جلتی کوئی لڑکی ہوگی۔” رومی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
ہنی نے ایک بار پھر اردگرد نگاہ دوڑائی، لیکن وہ لڑکی کہیں دکھائی نہیں دی۔
“ہاں، شاید مجھے ہی وہم ہوا ہو۔” ہنی نے قدرے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
دونوں واپس جانے کے لیے پارکنگ کی طرف بڑھ گئیں، کیونکہ اب انہیں اپنی شاپ پر بھی جانا تھا۔ مال پہنچ چکا تھا اور لانچنگ کی تیاریاں مکمل تھیں، اس لیے رومی چاہتی تھی کہ وہ جلد از جلد وہاں پہنچ کر باقی معاملات بھی دیکھ لے۔
لیکن ہنی کے ذہن سے ابھی تک اس لڑکی کا خیال نہیں نکلا تھا۔ اسے بار بار یہی محسوس ہو رہا تھا کہ وہ عائشہ ہی تھی۔ اگرچہ رومی نے اسے سمجھا دیا تھا کہ شاید اسے غلط فہمی ہوئی ہو، مگر ہنی کا دل اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے رومی کی طرف دیکھا۔
“رومی، مجھے اپنی ایک دوست سے ملنے جانا ہے۔۔۔ تم مجھے یہیں اتار دو، میں آگے خود چلی جاؤں گی۔”
رومی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔
“اچھا، ٹھیک ہے۔” اس نے مختصر سا جواب دیا اور گاڑی ایک طرف روک دی۔
ہنی گاڑی سے اتری تو رومی نے اسے خدا حافظ کہا اور خود اپنی شاپ کی طرف روانہ ہو گئی۔
اس کے جاتے ہی ہنی نے اپنا فون نکالا اور ایک کیب بک کر لی۔ اس کا رخ یونیورسٹی کی طرف تھا۔
وہ لڑکی واقعی عائشہ تھی یا نہیں، یہ جاننے کے لیے ہنی کو وہاں جانا ہی تھا۔ اسے اب بھی امید تھی کہ شاید وہ اپنی دوست کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئی تھی۔
ایمان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور اس کے کیس کے بعد سے ہنی پہلے کی نسبت زیادہ محتاط ہو گئی تھی۔ اس واقعے نے اسے اندر تک خوف زدہ کر دیا تھا، اسی لیے اب وہ کسی بھی معاملے کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتی تھی۔
مارکیٹ میں اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد سے اس کے ذہن میں مسلسل ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا۔ اگر وہ واقعی عائشہ تھی تو وہاں ایک لڑکے کے ساتھ کیا کر رہی تھی؟
وہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے اس شک کو دور کرنا چاہتی تھی۔ اسی لیے اس نے رومی سے جھوٹ بول کر یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی کہ عائشہ وہاں موجود ہے یا نہیں، تاکہ اس کے دل میں پیدا ہونے والا یہ شک ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پری نے اپنی فائل بند کرکے آرزو کی طرف دیکھا۔
“ویسے، تم نے انٹرویو کب رکھا ہے؟”
“کل ہے۔” آرزو نے جواب دیا۔
“اچھا، تو پھر جانے سے پہلے اسے اچھی طرح کام سمجھا دینا، تاکہ تمہارے بعد ہمیں زیادہ پریشانی نہ ہو۔” پری نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“جی، بالکل۔ میں اسے سب کچھ سمجھا دوں گی۔” آرزو نے یقین دلایا۔
ابھی ان کی بات جاری تھی کہ دروازہ کھلا اور افی اندر داخل ہوئی۔
“ہیلو، گائز! کیا ہو رہا ہے؟” اس نے اندر آتے ہی پوچھا اور ان کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“کچھ خاص نہیں۔” پری نے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
افی نے فوراً آرزو کی طرف دیکھا۔
“اچھا! تو مسز برائیڈ، ذرا ہمیں بھی بتاؤ کہ تیاریاں کہاں تک پہنچی ہیں؟ یا ابھی تک ہمیں صرف یہی سننے کو ملے گا کہ بس، ہونے والی ہیں؟”
آرزو ہنس پڑی۔
“نہیں، نہیں! اب تقریباً ساری تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ بس، تھوڑا بہت کام باقی ہے، وہ بھی جلدی ہو جائے گا۔”
“اچھا، یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ویسے شادی کب ہے تمہاری؟” افی نے پوچھا، پھر فوراً شرارت سے بولی، “اور ہاں، ہمیں بلانے کا ارادہ بھی ہے یا شادی کے بعد تصویریں دکھا کر ہی ٹرخا دو گی؟”
“کیا بات کر رہی ہیں آپ!” آرزو نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “آپ دونوں کو بھلا کیسے نہیں بلاؤں گی؟ آپ دونوں تو میری فیورٹ ہیں۔ میری شادی میں میرے سب سے خاص مہمان آپ ہی ہوں گی۔ بس، آپ دونوں نے ضرور آنا ہے، کوئی بہانہ نہیں چلے گا!”
“اچھا بھئی، ہم ضرور آئیں گے۔ اب اتنی محبت سے بلاؤ گی تو کیسے انکار کر سکتے ہیں؟” افی نے ہنستے ہوئے کہا، پھر کچھ یاد آنے پر بولی، “لیکن ایک بات ہے، آرزو!”
“وہ کیا؟” آرزو نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“تم شادی کرکے جا رہی ہو، ہمیں تمہاری یاد بہت آئے گی۔۔۔ ایسا کرو، اپنے جیسی ایک اچھی سی سیکریٹری ڈھونڈ کر جانا، جو تمہاری طرح ہمارے کام سنبھال سکے۔ تمہارے جیسا کام تو یہاں کوئی کرتا ہی نہیں!”
پری نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی تائید کی۔
“آپ دونوں کو میری فکر ہے یا اپنے کام کی؟” آرزو نے شرارت سے پوچھا۔
“دونوں کی!” افی نے فوراً جواب دیا۔ “تم بھی اچھی ہو اور تمہارا کام بھی۔ اب بتاؤ، تمہارے جانے کے بعد ہم کس کے پیچھے پڑیں گے؟”
پری اور افی ہمیشہ آرزو کو اپنی چھوٹی بہن کی طرح سمجھتی تھیں۔ انہوں نے کبھی اسے اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ ان کی سیکریٹری ہے۔ ان کے درمیان باس اور ملازمہ کا رسمی تعلق کبھی حائل نہیں ہوا تھا، بلکہ وقت کے ساتھ ان کی دوستی اتنی گہری ہو گئی تھی کہ وہ ایک دوسرے کے لیے بہنوں جیسی بن گئی تھیں۔
گزشتہ پانچ سال سے آرزو ان کے ساتھ کام کر رہی تھی۔ ان پانچ برسوں میں اس نے نہ صرف اپنے کام میں مہارت حاصل کی تھی، بلکہ ان دونوں کے ساتھ ایک ایسا مضبوط رشتہ بھی بنا لیا تھا جسے محض دفتری تعلق کا نام نہیں دیا جا سکتا تھا۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہنستی، مذاق کرتی اور ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیتی تھیں۔
پری اور افی دونوں نے دیکھا تھا کہ آرزو نے کس طرح اپنی فیملی کو سنبھالا تھا۔ گھر میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے اس پر بہت سی ذمہ داریاں تھیں۔ اسے اس نوکری کی شدید ضرورت تھی۔
پری کو آرزو کی سب سے اچھی بات اس کی ایمانداری لگی تھی۔ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری محنت اور دیانت داری سے نبھاتی تھی۔ پانچ سال کے عرصے میں اس نے کبھی اپنے کام کے ساتھ بےایمانی نہیں کی تھی، نہ ہی کبھی ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پری اور افی نے اسے کبھی محض اپنی سیکریٹری نہیں سمجھا تھا۔
آرزو دونوں کی باتیں سن کر ہنس دی۔ اس کی بات پر پری بھی ہنس پڑی، جبکہ آرزو نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔
“فکر نہ کریں، میں کل انٹرویو لے رہی ہوں۔ کوئی اچھی سی لڑکی مل گئی تو اسے سب کچھ سمجھا کر جاؤں گی۔ پھر آپ دونوں کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔”
“بس، ہمیں تو ایسی ہی لڑکی چاہیے جو تمہاری کمی پوری کر سکے۔” افی نے اطمینان سے کہا۔
“اچھا، اب آپ دونوں مجھے اتنا بھی مت چڑھائیں۔ ابھی میری شادی میں وقت ہے!”
افی نے کچھ یاد آنے پر آرزو سے پوچھا،
“اچھا، ایک بات بتاؤ، تم شادی کے بعد کام کیوں نہیں کرو گی؟”
آرزو کی مسکراہٹ کچھ مدھم پڑ گئی۔
“میری ساس کو پسند نہیں ہے کہ میں شادی کے بعد بھی کام کروں، اور میرے ہونے والے شوہر کی بھی یہی خواہش ہے کہ میں شادی کے بعد گھر سنبھالوں۔ اسی لیے میں نے کام چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
اس کی بات سن کر پری اور افی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
“خیر، یہ تمہارا فیصلہ ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، آرزو!” افی نے اسے مخاطب کیا۔ “تم جب بھی واپس آنا چاہو، آ سکتی ہو۔ اور اگر کبھی تمہیں ہماری یا کسی کام کی ضرورت پڑے تو بلاجھجک بتا دینا۔”
پری نے بھی اس کی تائید کی۔
“بالکل! ہمارے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔”
آرزو کے چہرے پر ایک شکر گزار مسکراہٹ پھیل گئی۔
“تھینک یو سو مچ! آپ دونوں واقعی بہت اچھی ہیں۔ میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھوں گی۔”
افی نے آرزو کو دیکھتے ہوئے کہا،
“کل سے اقراء جوائن کر رہی ہے، تو تم ایچ آر کو انفارم کر دینا۔”
آرزو نے سر ہلایا اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔
سیکریٹری کے جانے کے بعد پری نے افی کی طرف دیکھا، جیسے اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہو۔
“اقراء اب کیسی ہے؟” پری نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
“اب وہ ٹھیک ہے، لیکن اسے اور اس کی فیملی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد اس کے لیے سب کچھ برداشت کرنا آسان نہیں تھا، لیکن اگر وہ خود کو مصروف رکھے گی تو شاید جلد ہی خود کو سنبھال پائے گی اور اس تکلیف سے نکلنے کی کوشش کر سکے گی۔” افی نے افسردگی سے جواب دیا۔
پری نے خاموشی سے سر ہلایا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی تھی۔
اسی وقت ایک ای میل کا نوٹیفکیشن آیا۔ پری نے اسکرین کی طرف دیکھا۔
اس نے ای میل کھول کر پڑھنا شروع کیا تو اچانک اس کی نظریں اسکرین پر ٹھہر گئیں۔ چند لمحے وہ خاموشی سے ای میل کو دیکھتی رہی، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو۔
افی کی نظر اس پر پڑی تو وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
“کیا ہوا، پری؟ سب ٹھیک ہے؟”
پری نے جواب دینے کے بجائے لیپ ٹاپ اس کی طرف گھما دیا۔
افی نے اسکرین پر نظر دوڑائی تو حیرت سے اسے دیکھا۔
“یہ کیا ہے؟”
“میں نے اپنا پروجیکٹ ایک بیرونِ ملک کمپنی کو بھیجا تھا۔ ان کی طرف سے منظوری مل گئی ہے۔ وہ ہمارے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔” پری نے پُرسکون لہجے میں بتایا۔
یہ سنتے ہی افی کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
“ارے، یہ تو بہت اچھی خبر ہے! چلو، یہ تو کمپنی کے لیے اچھا ہو گیا۔”
اس نے خوش دلی سے کہا، پھر اپنے آفس روم کی طرف بڑھتے ہوئے بولی،
“چلو، اب میں بھی اپنے کام پر لگتی ہوں اور اس نئے معاہدے کی تیاری کرتی ہوں۔”
“ہاں، ٹھیک ہے۔ میں تمہیں تمام تفصیلات بھیج دیتی ہوں۔” پری نے جواب دیا۔
افی آفس روم کی طرف چلی گئی، جبکہ پری کی نظریں دوبارہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جم گئیں۔
وہ خاموشی سے ای میل کو دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــ
ایزل اپنی سہیلیوں کے ساتھ کافی شاپ میں بیٹھی ہوئی تھی، جب ایک سہیلی نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اچھا، یہ سب چھوڑو! تم یہ بتاؤ کہ شادی کب کر رہی ہو؟‘‘
ایزل نے مسکراتے ہوئے کافی کا مگ اٹھایا۔ ’’ابھی تو کچھ پتا نہیں۔‘‘
’’ارے، تمہارا منگیتر اتنا ہینڈسم ہے، پھر شادی میں دیر کیوں؟ اچھا، ہمیں اپنے منگیتر کی تصویر تو دکھاؤ!‘‘ دوسری سہیلی نے بےصبری سے کہا۔
ایزل نے فوراً اپنا موبائل نکالا اور عرشمان کی تصویر انہیں دکھا دی۔
تصویر دیکھتے ہی ایک لڑکی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’او مائی گاڈ! یہ تو واقعی بہت ہینڈسم ہے! تمہاری تو قسمت ہی اچھی ہے۔‘‘
’’سچ میں! اتنا پیارا منگیتر ملا ہے تمہیں، اور تم ہو کہ شادی کا نام ہی نہیں لے رہی۔‘‘ دوسری لڑکی نے اسے چھیڑا۔
ایزل مسکرا دی۔ اس نے اپنی سہیلیوں کو پہلے ہی عرشمان کے بارے میں بہت کچھ بتا رکھا تھا۔ لندن میں اس کے ساتھ گزارے ہوئے وقت اور گھومنے پھرنے کی کہانیاں سن سن کر وہ سب اس کے نصیب پر رشک کرتی تھیں، جب کہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس نے ان سے جھوٹ بولا تھا۔
تبھی ایک سہیلی نے عرشمان کی تصویر کو غور سے دیکھا، جیسے اسے کچھ یاد آیا ہو۔
’’ایک منٹ! یہ کہیں وہی تو نہیں جس کی کمپنی کے ساتھ آئی جی کمپنی مشترکہ پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے؟‘‘
ایزل نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’ہاں، وہی ہے۔ کیوں؟‘‘
’’اوہ، تبھی مجھے یہ چہرہ جانا پہچانا لگ رہا تھا! میں نے کہیں اس کی تصویر دیکھی تھی۔ اچھا، تو تمہارا منگیتر وہی عرشمان ہے جس کی کمپنی کے ساتھ آئی جی کی کمپنی کام کر رہی ہے؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ کیا تم اسے جانتی ہو؟‘‘
’’آئی جی کمپنی کو کون نہیں جانتا؟ میرے ڈیڈ بھی ان کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ بہت اچھی لڑکی ہے وہ۔‘‘
’’ایک منٹ! کیا آئی جی کمپنی کی اونر کوئی لڑکی ہے؟‘‘
’’ہاں، وہ تو ایک لڑکی ہے۔‘‘ دوسری سہیلی نے جواب دیا۔ ’’اور تمہیں پتا ہے، وہ بہت ذہین ہے۔ صرف پانچ سالوں میں اس نے بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اب تو وہ شاہ کمپنی کے ساتھ مل کر ایک بڑے پروجیکٹ پر بھی کام کر رہی ہے۔‘‘
پھر اس نے ایزل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’تم اسے نہیں جانتی؟‘‘
ایزل نے نفی میں سر ہلا دیا۔
یہ سنتے ہی دوسری لڑکی نے شرارت سے ایزل کو دیکھا۔
’’اوہ! تو اب تمہارے ہینڈسم منگیتر کو ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ کام بھی کرنا پڑے گا۔ ذرا سنبھل کر رہنا، کہیں وہ تمہارا منگیتر ہی نہ لے اڑے!‘‘
اس کی بات پر سب ہنس پڑیں، مگر ایزل کی مسکراہٹ ایک لمحے کے لیے مدھم ہو گئی۔
’’بکواس مت کرو! عرشمان ایسا نہیں ہے۔ وہ کسی بھی لڑکی میں دلچسپی نہیں لیتا۔ آج تک نہ اس کی کوئی گرل فرینڈ رہی ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کسی لڑکی کی طرف دھیان دیا ہے۔ اس کی توجہ صرف مجھ پر رہتی ہے۔‘‘
ایزل نے پُراعتماد لہجے میں کہا، جیسے اسے اپنی بات پر مکمل یقین ہو۔
’’اچھا بھئی، تم کہتی ہو تو مان لیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یاد رکھنا، وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا! یہاں کب کیا ہو جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔‘‘
ایزل نے بےپروائی سے کندھے اچکائے۔
’’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مجھے عرشمان پر پورا بھروسا ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے دوبارہ کافی کا مگ اٹھا لیا اور یوں ظاہر کیا جیسے اسے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔
مگر دل ہی دل میں ایک انجانا سا خوف سر اٹھانے لگا تھا۔
پری اور عرشمان ایک ساتھ کام کرنے والے تھے، اور یہ خیال ہی ایزل کے لیے بےچینی کا باعث بن گیا تھا۔
گھر واپس آئی تو اس کی نظر سب سے پہلے اپنی ماں پر پڑی، جو کمرے میں بیٹھی تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اپنا بیگ ایک طرف رکھتے ہوئے فوراً ان کے پاس آئی اور ان کے گلے لگ گئی۔
’’مما! آپ کو پتا ہے، آج اپنی ساری فرینڈز سے مل کر مجھے کتنا اچھا لگا؟‘‘
اس کی آواز میں چھپی خوشی محسوس کرتے ہوئے ماں بھی مسکرا دیں۔
’’اچھا جی! ہماری بیٹی کی دوستوں سے ملاقات اتنی خاص تھی؟‘‘ انہوں نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’مما، ہم کتنے سالوں بعد ملے ہیں! اتنی ساری باتیں کیں، اتنا ہنسے کہ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔‘‘ وہ خوشی سے بتانے لگی، پھر اگلے ہی لمحے ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
ماں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے نرمی سے کہا، ’’چلو، اچھا ہے۔ اب تم پاکستان واپس آ گئی ہو تو تمہارا دل بھی یہاں لگ جائے گا۔‘‘
’’ان شاء اللہ، مما!‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا، لیکن پھر اچانک جیسے کچھ یاد آیا تو فوراً سر اٹھا کر ماں کو دیکھا۔
’’مما، ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’ہاں، پوچھو۔‘‘
’’مما، آپ خالہ سے میری شادی کی بات کب کریں گی؟‘‘ اس نے ماں کی گود میں سر رکھتے ہوئے پوچھا۔
ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’کیوں؟ اب تمہیں اپنی شادی کی فکر کیوں ہونے لگی؟‘‘
’’بس مما، ایسے ہی پوچھ رہی ہوں۔‘‘ اس نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا، مگر دل میں چھپی خواہش کو اس کے لیے چھپانا آسان نہیں تھا۔
سچ تو یہ تھا کہ ایزل اندر ہی اندر ڈر گئی تھی۔ اسے خوف تھا کہ کہیں دیر ہو گئی تو عرشمان کسی اور کو پسند نہ کرنے لگے یا اس کی زندگی میں کوئی دوسری لڑکی نہ آ جائے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جلد از جلد اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
’’بیٹا، ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ لڑکی والے خود رشتے کی بات کریں۔ لڑکے والے رشتہ لے کر آتے ہیں۔‘‘ ماں نے اسے سمجھایا۔
’’تو مما، کیا ہم انتظار ہی کرتے رہیں؟‘‘ اس نے فوراً سر اٹھا کر پوچھا۔
ماں اس کی بےچینی پر مسکرا دیں۔ ’’ارے، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ جب وقت آئے گا تو سب ہو جائے گا۔ تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو۔‘‘
پھر ایزل نے اپنی ماں کو اپنی سہیلی کی بات بتائی۔ یہ سب سننے کے بعد اس کی ماں بھی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔ انہیں بھی تھوڑی سی پریشانی ہوئی، مگر انہوں نے ایزل کے سامنے اس کا اظہار نہیں کیا۔
وہ بھی یہی چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا رشتہ اپنی بہن کے گھر ہی ہو جائے۔ آخر اپنی بہن کا گھر تھا، وہ لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے، اور اس طرح ان کی بیٹی بھی ان کی نظروں کے سامنے رہتی۔
ماں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا، پھر محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’اچھا، میں تمہاری خالہ سے باتوں باتوں میں ذکر کر دوں گی۔ باقی جو اللہ کو منظور ہوا، وہی ہوگا۔‘‘
’’سچ، مما؟ آپ بات کریں گی نا؟‘‘ وہ فوراً ان کی گود سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’ہاں بھئی، کر لوں گی۔ اب تم سکون سے بیٹھو۔‘‘
انہوں نے خاموشی سے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ اپنی بہن سے اس معاملے میں بات ضرور کریں گی۔ آگے کیا ہوگا، یہ تو بات کرنے کے بعد ہی پتا چلتا، مگر وہ مزید انتظار کرنے کے حق میں نہیں تھیں۔
ماں کے جواب پر ایزل نے دل ہی دل میں سکون کا سانس لیا۔
وہ ابھی اپنی ماں سے بات ہی کر رہی تھی کہ پیچھے سے اس کے والد کی آواز سنائی دی۔
’’ہاں بھئی، یہاں کس کی شادی کی باتیں ہو رہی ہیں؟‘‘
ان کی آواز پر ماں نے پلٹ کر دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے بولیں، ’’آپ کی بیٹی کی شادی کی بات ہو رہی ہے۔ اب اس کی عمر بھی ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ کی لڑکیوں کی شادیاں ہو رہی ہیں، اب ہمیں بھی اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘
والد نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا، ’’ہاں، میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ میرے دو جاننے والے اپنے بیٹوں کے لیے اس کا رشتہ مانگنے کی بات کر رہے تھے۔ کیوں نہ انہیں گھر بلا لیتے ہیں؟ ملنا جلنا بھی ہو جائے گا اور ہمیں بھی لڑکے دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔‘‘
یہ سنتے ہی ایزل کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
’’نہیں! بالکل نہیں!‘‘
اس کے اچانک بولنے پر ماں باپ دونوں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ والد نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
ایزل نے ایک لمحے کے لیے ہونٹ بھینچے، جیسے اب دل میں چھپی بات کو مزید دبانا ممکن نہ ہو، پھر صاف الفاظ میں بولی۔
’’میں عرشمان کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی!‘‘
اس کی بات سنتے ہی کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
باپ اسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی کے دل میں عرشمان کے لیے ایسی خواہش موجود ہے۔
’’ایزل، یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ ماں نے حیرت سے پوچھا۔
’’مما، آپ بتائیں نا بابا کو!‘‘ ایزل نے فوراً ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں، اس نے مجھے بتایا ہے۔‘‘ ماں نے جواب دیا۔
ایزل کی بات سن کر اس کے والد نے گہری سانس لی اور قدرے سنجیدگی سے بولے، ’’ایزل، تم عرشمان کا انتظار کیوں کر رہی ہو؟ کیا اس نے تم سے کہا ہے کہ وہ تم سے شادی کرے گا؟ اگر ایسا ہے تو مجھے بتاؤ۔‘‘
مگر ایزل کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔
اسے خاموش دیکھ کر وہ سمجھ گئے تھے۔ پھر بولے، ’’اچھے رشتے بار بار نہیں آتے، بیٹا!‘‘
’’لیکن پاپا۔۔۔‘‘ ایزل نے کچھ کہنا چاہا، مگر انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’لیکن کیا؟ میں تمہارا باپ ہوں، تمہارے لیے اچھا ہی سوچوں گا۔ اگر کوئی اچھا رشتہ آ رہا ہے تو ہمیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ محض کسی کی امید میں اپنی زندگی کے فیصلے نہیں روکے جاتے۔‘‘
ماں نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، پھر ایزل کو سمجھانے کے انداز میں بولیں، ’’تمہارے پاپا ٹھیک کہہ رہے ہیں، بیٹا۔ بہرحال، میں ایک دفعہ اپنی بہن سے بات کرتی ہوں۔ پہلے ان سے معلوم تو کر لیں کہ وہ کیا سوچتے ہیں، پھر اس کے بعد دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے۔ اپنی بہن سے بات کر لو۔ اگر ان کی طرف سے کوئی مثبت جواب آ جاتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر میں اپنے جاننے والوں کو جواب دے دوں گا۔‘‘ اس کے والد نے سنجیدگی سے کہا۔
’’آپ کو جو کرنا ہے، کر لیں!‘‘ ایزل نے غصے سے جواب دیا۔ ’’لیکن میں ایک بات صاف صاف بتا رہی ہوں، چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں عرشمان کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گی!‘‘
یہ کہتے ہی وہ غصے سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے قدموں کی تیزی اس کی ناراضی کا پتا دے رہی تھی۔
اس کے کمرے میں جاتے ہی ماں نے بےبسی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جبکہ وہ بھی گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایزل عرشمان کے معاملے میں اس قدر ضد پر اتر آئے گی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ اپنی گاڑی میں ایئرپورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں اچانک ایک دوسری گاڑی ان کے سامنے آ کر رک گئی، جس کے باعث ڈرائیور کو بھی فوراً بریک لگانی پڑی۔
حمزہ ابھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ آخر اچانک ہوا کیا ہے کہ ڈرائیور غصے سے دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
’’تم لوگوں نے گاڑی کیوں روکی ہے؟ راستہ بند کرنے کا کیا مطلب ہے؟‘‘ اس نے سامنے کھڑے افراد سے سوال کیا۔
مگر جواب دینے کے بجائے ان میں سے ایک شخص تیزی سے آگے بڑھا اور اسے کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر سر پر وار کر کے بےہوش کر دیا۔ وہ وہیں لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑا۔
یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ حمزہ کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ اس نے گھبرا کر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور باہر نکل کر بھاگنے کی کوشش کی، مگر اس سے پہلے کہ وہ چند قدم آگے بڑھ پاتا، کسی نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔
’’چھوڑو مجھے! تم لوگ کون ہو؟ آخر چاہتے کیا ہو مجھ سے؟‘‘ حمزہ نے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے چیخ کر پوچھا۔
لیکن اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا گیا۔
چند ہی لمحوں میں اسے قابو کر کے دوسری گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ دروازہ بند ہوا اور اگلے ہی لمحے گاڑی سڑک پر تیزی سے آگے بڑھ گئی۔
پیچھے سڑک پر ڈرائیور بےہوش پڑا تھا، جبکہ حمزہ کو لے جانے والی گاڑی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔
تین دن بعد جب ڈرائیور کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ہسپتال کے بستر پر پایا۔ سر میں شدید درد تھا اور ذہن ابھی تک پوری طرح کام نہیں کر رہا تھا۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں تو سامنے موجود ڈاکٹر کو دیکھ کر دھیمی آواز میں پوچھا۔
’’ڈاکٹر صاحب! میں یہاں کیسے پہنچا؟ میرے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘‘
ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا، ’’آپ کے سر پر گہری چوٹ آئی تھی۔ اسی وجہ سے آپ گزشتہ تین دن سے بےہوش تھے۔ اب آپ کی حالت پہلے سے بہتر ہے، لیکن ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
تین دن تک بےہوش رہنے کی بات سنتے ہی وہ یک دم چونک اٹھا۔ اچانک اس کے ذہن میں وہ تمام واقعات تازہ ہونے لگے جو ہسپتال پہنچنے سے پہلے پیش آئے تھے۔ اسے حمزہ یاد آیا تو اس کے چہرے پر گھبراہٹ پھیل گئی۔
’’میرا فون کہاں ہے؟ مجھے ابھی فون چاہیے!‘‘ اس نے بےچینی سے ڈاکٹر سے کہا۔
ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے نرس کو فون لانے کی ہدایت کی۔ فون ملتے ہی اس نے کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے کال اٹھائے جانے پر وہ جلدی سے بول پڑا۔
’’صاحب! وہ۔۔۔ وہ حمزہ صاحب کو کوئی اپنے ساتھ لے گیا ہے!‘‘
دوسری طرف چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے سنی گئی بات پر یقین کرنا ممکن نہ ہو۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟ میرے بیٹے کو کوئی لے گیا؟‘‘ فاروق صاحب کی آواز یک دم بلند ہوئی۔ ’’یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟ تم لوگ تو ایئرپورٹ جا رہے تھے، پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟‘‘
ڈرائیور نے گھبرا کر ساری بات بتانا شروع کی۔
’’صاحب، راستے میں اچانک ایک گاڑی ہماری گاڑی کے سامنے آ کر رک گئی تھی۔ میں ان سے پوچھنے کے لیے باہر نکلا تو انہوں نے میرے سر پر وار کیا، جس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ ابھی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ میں تین دن سے ہسپتال میں بےہوش تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ حمزہ صاحب کو کہاں لے گئے ہیں۔‘‘
’’تین دن؟‘‘ فاروق صاحب نے بےیقینی سے دہرایا۔ ’’تم مجھے اب بتا رہے ہو؟ مجھے تو یہی بتایا گیا تھا کہ تم لوگ بحفاظت لندن پہنچ گئے ہو! اگر تم تین دن سے ہسپتال میں بےہوش تھے تو پھر مجھے یہ خبر کس نے دی؟ اور میرا بیٹا کہاں ہے؟‘‘
ان کے لہجے میں غصے کے ساتھ ساتھ بےبسی بھی در آئی تھی۔ وہ چند لمحے پہلے تک جس بات کو محض ایک غلط فہمی سمجھ رہے تھے، اب وہ ان کے لیے ایک بھیانک حقیقت بن چکی تھی۔
ان کا بیٹا لاپتا تھا۔
تین دن گزر چکے تھے اور انہیں اس بات کی خبر تک نہیں تھی۔
فاروق صاحب نے غصے سے فون پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ ذہن میں ایک کے بعد ایک سوال اٹھ رہا تھا، مگر کسی سوال کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔ آخر حمزہ کو کون لے جا سکتا تھا؟
’’مجھے حمزہ چاہیے، زندہ اور سلامت!‘‘ انہوں نے سخت لہجے میں کہا۔
’’صاحب، میں ابھی ابھی ہوش میں آیا ہوں۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ۔۔۔‘‘
فاروق صاحب نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فون بند کر دیا۔
ان کے قدم بےچینی سے کمرے میں ادھر ادھر چلنے لگے۔ غصہ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سب سے پہلے کیا کریں۔ پولیس کو اطلاع دیں، اپنے آدمیوں کو بھیجیں یا ان لوگوں کا پتا لگانے کی کوشش کریں جنہوں نے انہیں تین دن تک اندھیرے میں رکھا تھا۔
مگر ایک بات وہ اچھی طرح جانتے تھے۔
جس نے بھی ان کے بیٹے کو ہاتھ لگانے کی جرأت کی تھی، وہ اسے کسی صورت معاف نہیں کریں گے
ــــــــــــــ
