آخر اُردُوُ بولنے میں شرم کیوں؟
از قلم جنت ندیم۔۔۔
اُردُوُ ایک نہایت ہی خوبصورت زُبان ہیں جو کے ہماری قومی زُبان بھی ہیں اور ہمیں اپنی قومی زُبان کااستعمال نہایت ہی شاندار اور عمدہ طریقے سے کرنا چاہئے جہاں پر پاکستان میں اتنے اعلیٰ ادیب پائیں جاتے ہیں وہی پر ہمارے ملک میں چندایسے لوگ بھی پایئں جاتے ہیں جو اُردُو بولنے سے شرم محسوس کرتے ہیں ایسے لوگ اپنے ہی ملک میں رہ کے اپنی ہی قومی زبان بولنےسے خود کو کمتر محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ اردو کی جگہ اگر وہ انگریزی کا استعمال کریں گے تو وہ اپنی بات کو اچھے طریقے سےبیان کر پائیں اور جانتے ہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟
کیوں کے آجکل کے لوگوں نے اپنی ہی قومی زبان اُردو کو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جس کی وجہ سے لوگ اچھی طریقے سے اردو تک بول نہیں پاتے۔ ایسے لوگ دوسری زبانوں کا استعمال بھی کریں کسی نے منع نہیں کیا مگر ان لوگوں کے ساتھ جنہیں اُردو نہیں آتی۔ اُردو زبان ایک نہایت ہی میٹھی اورخوبصورت زبان ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ اُردو کا استعمال کرتے ہیں زیادہ تر وہ اپنی صوبائی زبانوں کے استعمال میں خود کو محفوظ سمجھتےہیں۔
مگریہ یاد رکھا جائے کہ اُردو ہماری قومی زبان خوبصورت زبان ہے۔ اس کو ہمیں فخریہ استعمال کرنا چاہئے آج میں خود کو بھی ملا کر میں یہ بات .سب کے لیے کہتی ہوں کے ہم میں بہت کم لوگ ایسے پائـے ہیں جن کو خالص اردو آتی ہوگی اور اُس کے بعد کچھ ایسی مخلوق بھی موجود ہے جن کویہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ خالص اردو نام كى بھى كوئی چیز ہوتی ہے اور اُس کے بعد کچھ ایسی مخلوق پائی جاتی ہیں جواکثر گلابی اردو کا استعمال کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کو لگتا ہےکہ وہ اُردو کی جگہ اگرانگریزی یا دوسری زبانوں کا استعمال کریں گے تو وہ زیادہ پڑھے لکھے اور پیشہ ورانہ کہلائیں گے مگر وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کےصرف زبان بدل لینے سے آپ پیشہ ور نہیں بن سکتے اصل قدر اور اثر تو صرف عمل سے آتا ہے
تو پھرآخر اُردو بولنے میں شرم کیوں؟
ان سب لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی مخلوق بھی پائی جاتی ہیں جو پیدائشی پاکستانی ہیں مگر خود کو ماہر، تجربہ کار ثابت کرنے کے لئے خود کو انگریز ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہی ہیں اور اگر ایسے لوگوں کے سامنے کوئی اُردو بولے تو ان کو غریب، ان پڑھ اور غیر پیشہ ور سمجھتے ہیں۔
ایسے لوگوں کابھی کچھ حصہ ہے ملک کی تباہی ہیں۔ کیونکہ ایسے لوگ اپنے ہی ملک میں رہ کر اپنے ہی ملک کی قومی زبان کو اہمیت نہیں دیتے۔
“ایسے لوگوں کا وہ حساب ہے کہ جس پلیٹ میں کھایا اُسی میں سوراخ کر دیا”
جن لوگوں کو اس کہاوت کی سمجھ نہیں آئی اُن کے لئے میں تھوڑا وضاحت سےپیش کرتی ہوں کہ اگر ہم اپنی ہی قومی زبان بولنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں گے تو یہ بالکل ویسا ہی ہیں جیسے اپنی ہی مہمان نوازی کا مذاق اڑانا۔
اپنی ہی قومی زبان میں بات کرنے میں شرمندہ ہونا بہت غیر مناسب ہے۔ اپنی زبان پر فخر کریں کیونکہ یہی زبان ہماری شناخت اور ثقافت کی نمائندہ ہے۔میری اتنی لمبی تمہید اُن لوگوں کے ہے جو اپنی ہی قومی زبان اردو بولنے سے کتراتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے عرض ہے کہ قومی زبان بولنے سے آپ غیر تجربہ کار اور غیر پیشہ ورنہیں کہلائیں گےاور نہ ہی کوئی آپکو یہ بولے گا۔
اپنی سوچ اور اپنے نظریے کو بدلیے، اپنی قومی زبان کا استعمال اچھے سے کریں یہ آپکو آپکی پہچانکو اور آپکی زبان کو بہت خوبصورت بنا دے گی۔
اور یاد رکھیے گا اپنی زبان کبھی مت بدلیں یہ آپکی پہچان ہے اور آپکو واضح کرتی ہے
ختم شدہ۔۔۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
