اندھیری رات میں روشنی کی امید
ازقلم انیقہ شعیب
یہ دل اگرچہ اندھیروں میں بھی جلا رہے گا
کوئی چراغ خامشی میں بھی کھلا رہے گا
غموں کی دھوپ سے چہرہ اگرچہ جل بھی جائے
مگر یقین کا موسم ہرا بھرا رہے گا
وہ ایک خواب جو ٹوٹا تو آنکھ نم سی ہوئی
مگر وہ خواب کا مفہوم جاگتا رہے گا
میں اپنے حصّے کی ٹھوکر بھی مسکرا کے سہی
قدم قدم پہ مرا حوصلہ چلا رہے گا
کسی نے پوچھا کہ کیا اب بھی اُس سے چاہت ہے؟
میں مسکرا کے کہوں گی، ہاں، دل بھلا رہے گا
رات کتنی بھی گہری ہو وقت کے ہاتھوں
سحر کا رنگ افق پر سجا رہے گا
