Antal Hayat Episode 22 Written by siddiqui

انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۲

ایشیائی لکڑی کی میز کے پیچھے بیٹھی حیات فائلیں پلٹتے پلٹتے سر اٹھتائی۔ سامنے بیٹھی لڑکی کے چہرے پر معصومیت بھی تھی اور بےچینی بھی—

حیات نے سامنے بیٹھی لڑکی سے کہا
اچھا بتاؤ… یہ نوکری تمہیں کیوں چاہیے؟

سوال عام تھا، مگر جواب غیر معمولی حد تک سچا نکل آیا۔۔

پیسوں کے لیے…
عشاء کا جواب اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ پھسل کر آیا تھا،

حیات نے اسے غور سے دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولی،
اور qualification؟

اصل میں… میں ابھی intern ہوں۔ پڑھائی چل رہی ہے۔ یونی کے تیسرے سال میں ہوں۔

اچھا تو… کمپیوٹر سائنس پڑھ رہی ہو؟
حیات کے لہجے میں رسمی پن کے ساتھ تھوڑی سی دلچسپی بھی شامل ہوگئی۔

جی…
عشاء کا جواب ہمیشہ کی طرح مختصر تھا۔

حیات نے اس کے بالوں پر ایک نگاہ ڈالی۔
یہ تم نے اتنے بال سجا کر کیوں آئی ہو؟ میک اپ تو کیا بھی نہیں…

عشاء لمحہ بھر کو چونکی، پھر نظریں جھکاتے ہوئے بولی،
بس… مجھے اچھا لگتا ہے اپنے بال سنوارنا۔ اسی لیے…

اچھا… خود بناتی ہو بال؟
حیات کی آواز میں حیرت سے زیادہ تجسس تھا۔

عشاء نے ہلکا سا سر ہلایا،
جی…

کچھ لمحے تک حیات اُس کی cv پڑھتی رہی۔۔۔پھر حیات نے فائل بند کی۔

اچھا… تم باہر جاؤ، سامنے زارا سے اپنا نام اور نمبر لکھوا دو۔ اور یہ سی وی میں رکھ لوں گی ابھی کے لیے۔

جی ٹھیک ہے…
عشاء نے آہستگی سے کرسی پیچھے سرکائی بغیر کسی آواز کے، وہ خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھی،
اور کمرے سے باہر چلی گئی۔

نیکسٹ, آپ چلے جائیے…
مایا نے سمیر کی طرف دیکھا اور رسمی لہجے میں کہا۔ قطار آگے بڑھ گئی، ہال میں بیٹھے لوگوں کی خفیف سرگوشیاں پھر سے ہوا میں گھل گئیں۔

عشاء کاؤنٹر کے پاس آئی اور زارا سے کہا۔۔
سنیے…

زارا نے چونک کر چہرہ اٹھایا،
Yes…?

اندر میم نے کہا ہے کہ اپنا نام اور نمبر لکھوا کر جاؤں…
عشاء نے دھیرے سے بتایا،

زارا نے فوراً کہا
اچھا… مطلب تم پسند آگئی ہو۔۔۔

مطلب…؟

زارا نے مُسکرا کر سر ہلایا،
کچھ نہیں… چھوڑو۔ نمبر لکھوا دو۔

فارم پر اپنا نام اور نمبر لکھوانے کے بعد عشاء آہستہ سے باہر نکلی۔ دوپہر کی دھوپ اب نرم پڑ چکی تھی،
اس نے بیگ سے موبائل نکالا اور کیب بک کرنے کے لیے اسکرین پر انگلی پھیری۔ ٹیکسیوں کی لسٹ اسکرین پر جھلملانے لگی۔

اسی لمحے، پاس کھڑی ایک گاڑی کا شیشہ آہستہ آہستہ نیچے سرکنے لگا، بےحد ہموار،

پھر ایک گہری، خاموش، سی نظر یکایک اُس پر ٹھہری۔
وہ نظر چند سیکنڈ اسی پر مرکوز رہی… پھر اچانک شیشہ دوبارہ اوپر چڑھنے لگا، اور گاڑی نے اپنا رخ موڑ لیا۔۔

++++++++++++

حیات نے فائل بند کرکے سامنے بیٹھے سمیر کی طرف دیکھا۔
اور بتاؤ…؟

سمیر نے بےچینی سے کرسی کی پشت سیدھی کی۔
اور کیا بتاؤں، میم؟ سب کچھ تو بتا دیا۔ باقی آپ سی وی میں دیکھ لیجیے۔ اگر ٹھیک لگے تو ٹھیک… نہ لگے تو نہ دیجیے نوکری۔

حیات نے بھنویں چڑھائیں۔
کیوں؟ تمہیں یہاں نوکری نہیں چاہیے؟

سمیر نے ہلکی، تھکی ہوئی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر لائی۔
ایسا نہیں ہے، میم۔ چاہتا ہوں کہ یہاں لگ جائے۔ لیکن قسمت سے کون لڑ سکتا ہے؟ کرنا تو بزنس چاہتا تھا… بس حالات اور پیسوں نے جکڑ لیا ہے، اس لیے جاب کر رہا ہوں…

اچھا اچھا بھئی تُم تو رونا ہی شروع ہوگئے۔۔۔
حیات نے ہاتھ اٹھا کر بات روکی۔

سمیر نے بےساختہ سانس چھوڑا۔
کیا کروں میم… عادت سے مجبور ہوں۔ بس دل کی بات نکل جاتی ہے…

حیات نے فائل دوبارہ کھولی،
ٹھیک ہے، ٹھیک۔ جا کر اپنا نام اور فون نمبر لکھوا دو کاؤنٹر پر۔

جی بہتر…
یہ کہتے ہوئے سمیر اٹھا اور آہستہ قدموں سے باہر چلا گیا۔

دروازہ بند ہوا تو حیات نے پیشانی مسلی،
پتا نہیں… کب ختم ہوں گے یہ لوگ…
اس کے لہجے میں بیزاری بھی تھی اور تھکن بھی،
جیسے ایک ہی دن میں کئی زندگیوں کا وزن سن لیا ہو۔

++++++++++++

دو گھنٹے بعد…

آخرکار انٹرویوز کا سلسلہ ختم ہوا۔ حیات کی سانس جیسے واقعی بھاری ہو گئی تھی۔ شاید آج اس نے معمول سے زیادہ کام کر لیا تھا۔ فائلیں سمیٹنے کے بعد وہ سیدھی اَمن کے کیبن میں داخل ہوئی۔

حیات نے ہلکے غصے سے کہا،
آئندہ یہ سارے کام مجھے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ حیات یہ سب نہیں کرے گی۔

اَمن نے کمپیوٹر اسکرین سے نظریں ہٹائیں اور بھنویں اٹھائیں،
تو حیات پھر کیا کرے گی؟ ٹائم پاس؟

ہاں تو اس میں برائی بھی کیا ہے…
حیات نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، جیسے اس کے نزدیک یہ بالکل منطقی جواب ہو۔

اَمن نے سنجیدگی سے کہا
میں آپ کو تنخواہ ٹائم پاس کی دیتا ہوں؟

واٹ ایور
حیات نے آنکھیں پھیر لیں،

اَمن نے مسکرا کر کہا
اچھا، جاؤ میرے لیے ایک کافی لے آؤ۔

حیات سیدھی بولی
حیات وایت نہیں جا رہی۔ خود جائیں۔
اس کے لہجے میں صاف غصہ تھا۔

اَمن نے کرسی سے ذرا آگے آ کر پوچھا،
باس میں ہوں یا تم؟

حیات نے بغیر سوچے جواب دیا،
اَسسٹنٹ میں ہوں یا آپ؟

اَمن پلکیں جھپک کر رہ گیا،
یہ کیسا سوال ہے؟

ویسا ہی جیسا آپ نے کیا تھا…
حیات نے بےنیازی سے سے کہا

حیات…
اَمن اب اسے گھور رہا تھا، واقعی غصے اور بے بسی کے درمیان کہیں پھنس کر۔

حیات نے ناگواری سے کہا
عجیب گھورنے کے علاوہ بھی آپ کو کوئی کام آتا ہے؟

امن نے سنجیدگی سے جواب دیا،
نہیں، پوری کمپنی تو آپ چلا رہی ہیں۔

ہاہا! اچھا مذاق تھا۔
حیات نے قہقہہ لگائے بغیر کہا، مگر اَمان کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔

جاؤ، کافی لے کر آؤ۔
وہ آخرکار ایک حکم کے طور پر بولا۔

میں نہیں لا رہی۔ آپ خود جا کر لے آئیں۔
حیات نے صاف انکار کرتے ہوئے ہاتھ باندھ لیے۔

اَمن نے لمحہ بھر اسے دیکھا، پھر اچانک کہا،
ٹھیک ہے۔۔۔۔
اور وہ کرسی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا، بغیر کچھ کہے کیبن سے باہر نکل گیا۔

حیات اس کی پشت کو جاتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
دروازے تک آ گئی،
سچ میں چلے گئے کیا…؟

اس نے خود سے سرگوشی کی۔
ویسے اگر یہ حیات کی بات مان لیں تو کیا ہی بات ہے… لیکن نہیں، ان کو تو فضول کی اوور ایکٹنگ کرنی ہوتی ہے۔۔۔

وہ بڑبڑاتی واپس آئی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
پورا کمرہ کچھ لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا،
بس ایک انوکھی سی مسکراہٹ تھی جو حیات کے ہونٹوں پر آنے سے انکار کر رہی تھی۔

++++++++++++

اگلا دن…
اَمن اپنے کیبن میں بیٹھا تھا۔ صبح کی روشنی شیشے سے اندر آرہی تھی اور میز پر بکھری ہوئی سی ویوں پر پڑ کر عجیب سا چمک پیدا کر رہی تھی۔ وہ ایک ایک فائل کھول کر دیکھ رہا تھا

اَمن نے سمیر کی سی وی اٹھائی، دو لمحے اسے دیکھا، پھر آہستگی سے بولا،
اس میں ایسی کیا بات ہے کہ میں اسے اپنی کمپنی میں جاب دوں…؟

سی وی میں تو لکھا ہے جاب دینی ہے تو دے دیں، ورنہ نہ دیں۔
وہ امن کو دیکھتے بےنیازی سے بولی۔

اَمن نے اسے گھورا،
کیوں؟ اسے جاب نہیں چاہیے؟

حیات نے شانے اچکائے،
نہیں… چاہتا تو وہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ لیکن قسمت… اسی لیے جاب دینی ہے تو دے دیں۔

اَمن نے پیشانی سکیڑی،
تم کیا بول رہی ہو؟ تمہیں خود بھی سمجھ آرہی ہے؟

حیات نے خشک لہجے میں کہا،
یہ لڑکا یہی بول کے گیا تھا۔

عجیب…
اَمن نے ہلکا سا سانس لیا، جیسے کوئی نیا مسئلہ سامنے آ گیا ہو۔

اَمن نے پھر دوسری فائل اٹھائی،
اور اس لڑکی میں کیا خاص ہے؟
وہ ایک رینڈم سی وی دیکھتے ہوئے بولا۔

حیات نے سرد مہری سے کہا،
کچھ بھی خاص نہیں ہے۔

تو پھر میں اسے کیوں رکھوں؟
اَمن نے خفگی سے پوچھا۔

حیات نے میز پر انگلی ٹک ٹک کرتے ہوئے کہا،
آپ کو جاب دینی ہے یا شادی کرنی ہے؟ عجیب باتیں کرتے ہیں آپ بھی…

اَمن نے پلک جھپکی،
کر لوں؟

حیات فوراً چونکی،
کیا؟

شادی…
اَمن نے پوری سنجیدگی سے کہا۔

حیات نے ناک سکوڑی، منہ اَیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
ہاں تو کریں… حیات نے کون سا روک رکھا ہے آپ کو؟

اَمن نے بےساختہ گھور کر کہا،
تم منہ سیدھا رکھ کر بات نہیں کر سکتیں؟

نہیں۔
حیات نے فوراً جواب دیا،

اَمن نے گہری سانس لی،
دیکھنا، پھر تمہارا منہ مستقل ایسا ہی ہو جائے گا…

آپ بد دعا دے رہے ہیں حیات کو…؟
وہ مصنوعی صدمے سے بولی۔

اَمن فوراً نرم پڑ گیا،
نہیں، تمہیں کیسے بددعا دے سکتا ہوں…

حیات رُکی۔
کیا…؟

کچھ نہیں۔۔۔۔
اَمن نے جلدی سے فائلیں سیدھی کیں۔
ان سب کو کال کر کے کہہ دو، ایک تاریخ سے جوائننگ دے دیں۔
وہ چند سی وی اس کی طرف بڑھایا۔

حیات فائلیں پکڑتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولی،
اور کچھ جہاں پنا…؟

ہاں… آتے ہوئے کافی بھی لاتی جانا۔

حیات نے منہ بنایا،
بس فری ہو گئے؟

وہ باہر جانے لگی تھی کہ اَمن کی آواز پیچھے سے آئی،
میں فری نہیں ہوں، مس حیات…

حیات نے پلٹے بغیر کہا،
چپ رہیں…

اور وہ باہر آ کر سیدھی کاؤنٹر کی طرف بڑھی

زارا کمپیوٹر اسکرین سے نظریں ہٹا کر حیات کو دیکھا
تم گئی نہیں ابھی تک…؟

حیات نے ایک ابرو اوپر اٹھایا،
کہاں؟

تم تو نوکری چھوڑ رہی تھیں نا…؟

حیات نے بےنیازی سے جواب دیا،
ہاں چھوڑ رہی تھی… لیکن نہیں چھوڑی۔

کیوں؟
زارا کی حیرت اب چہرے پر صاف تھی۔

میری مرضی…
حیات نے دو لفظوں میں پوری دنیا سمیٹ دی۔

زارا فوراً نرم پڑ گئی،
اچھا اچھا… غصہ کیوں کر رہی ہو؟

حیات نے چار سی وی اس کے سامنے رکھ دیں،
ان سب کو کال کر کے کہو ایک تاریخ سے جوائننگ دے دیں۔

ٹھیک ہے۔
زارا نے گردن ہلائی۔

ہہم…
یہ کہہ کر حیات پلٹی اور کینٹین سے کافی اٹھا کر اَمن کے کیبن کی طرف چل دی۔

کیبن کا دروازہ دھکیل کر اندر آئی،
لیجیے…

اَمن نے فائلوں سے نظریں ہٹا کر کافی لی،
Thank you.

حیات بازو باندھ کر کھڑی ہوگئی،
ویسے حیات ایک بات سوچ رہی تھی…؟

اَمن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
تو سوچو… میں نے روکا ہے تمہیں؟

حیات نے ناک سکوڑی،
عجیب…

اَمن نے فوراً بات پکڑی،
تم نہ…

حیات جلدی سے بولی،
نہیں، آپ…

امن نے سنجیدگی سے کہا
Thank you.

حیات نے سر ہلایا،
ہم…

+++++++++++++

اگلے دن…
گیارہ بج کر کچھ منٹ اوپر ہوچکے تھے، مگر آفیس میں اب تک حیات کا نام و نشان تک نہ تھا۔
یہ خاموشی عجیب تھی… اور شہر کی سرد صبح میں بےجا محسوس ہوتی تھی۔

گیارہ بج کر ٹھیک پندرہ منٹ پر، کانچ کے دروازے نے سرسراہٹ کی آواز کے ساتھ کروٹ لی… اور حیات اندر داخل ہوئی۔ وہ سیدھی، بغیر رکے، بنا کسی سلام کے، امن کے کیبن کا دروازہ کھول کر اندر آگئی۔ اس کے قدموں میں ایک عجیب سا بےصبری کا دکھ تھا۔

امن نے اوپر دیکھا۔
وقت کیا ہوا ہے…؟ یہ کوئی وقت ہے آفیس آنے کا؟

مگر سامنے کھڑی حیات کی آنکھوں میں غصے کی بجلیاں روشن تھیں۔ اس نے کچھ کہے بغیر ایک سفید سا کاغذ اس کے سامنے میز پر رکھ دیا۔
یہ دیکھیں۔

امن نے کاغذ کو گھور کر دیکھا۔
یہ کیا ہے؟

اُٹھا کر دیکھیں گے تو پتا چل جائے گا۔

امن نے وہ کاغذ اٹھایا، دو لمحے پڑھتا رہا اور پھر بےنیازی سے بولا،
ارے، یہ تو ڈیٹ شیٹ ہے…

ہاں جی… ڈیٹ شیٹ ہے۔
اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

دو دسمبر سے پیپر ہیں؟
امن نے ڈیٹ شیٹ پڑھتے کہا

ہاں جی۔۔۔
حیات نے سر ہلایا۔۔۔

امن نے ڈیٹ شیٹ سے نظریں ہٹائے حیات پر ڈالی
تو پھر؟ میں پڑھ تو چکا ہوں۔ اب میرا تو پیپر نہیں ہونا… میں کیا کروں اس کا؟

حیات نے ہاتھ سینے پر باندھے۔
اچھے سے ڈیٹ دیکھیں۔۔۔ دو تاریخ سے تئیس تاریخ تک پیپر ہے۔۔۔۔

ہاں تو۔۔۔؟؟ امن نے ناسمجھی سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔

حیات اب دو دسمبر سے لے کر تئیس دسمبر تک آپکو اس آفیس میں نظر نہیں آنے والی۔۔۔۔

اوہ؟ کیوں؟
اس نے حیرانی نہ ہونے والی حیرانی سے پوچھا۔

کیوں کہ یہ… حیات کے امتحان کی ڈیٹ شیٹ ہے۔ حیات کے پیپر اسٹارٹ چُکے ہیں۔۔۔۔

امن کے چہرے پر پہلی بار واقعی احساس جاگا۔
اچھا اچھا… ٹھیک ہے۔ تو پھر ایسا کرنا، کتابیں لے آنا آفیس۔ میں تُمہاری تیاری کروا دونگا پیپر کی۔۔۔۔

حیات چونکی، جیسے اس کی بات کی توقع نہ ہو۔
آپ… حیات کو پڑھا لیں گے؟

امان نے مسکرا کر کہا،
ہاں، بالکل پڑھا لوں گا۔

اچھا… تو پھر بتائیں… DR کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
اس کی آنکھوں میں شرارت کا سایہ آگیا۔

ڈاکٹر! ڈاکٹر کا شارٹ فارم ہے نا… کوئی ڈاکٹر بن جائے تو نام کے ساتھ DR لگاتے ہیں۔

حیات نے ناک سکیڑی۔
جی نہیں! آپ کو تو کچھ آتا ہی نہیں… آئے بڑے حیات کو پڑھنے والے۔۔۔۔

اچھا تو پھر کیا مطلب ہے DR کا؟
امان نے ناگواری  سے پوچھا۔

۔DR کا مطلب ہوتا ہے Debit… اور CR کا مطلب Credit۔

تو تم ایسا کہتی نہ کہ Accounting میں DR کا کیا مطلب ہے…
امن نے وضاحت دی۔

آپ نے کس سبجیکٹ سے گریجویشن کیا ہے؟
اُس نے اچانک سوال کیا۔۔۔

کامرس سے… اور تمہارا؟

بالکل! میرا بھی کامرس ہے… تو آپ کو پتا ہونا چاہیے تھا۔ مگر نہیں… آپ کو نہیں پتہ تھا، آپکو کچھ نہیں آتا۔۔۔آئے بڑے ایسے پڑھائیں گے حیات کو؟

امن نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مرا۔۔۔اور بولا۔۔۔
تم سچ میں پاگل ہو۔

شکریہ۔
اس نے انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا، جیسے یہ سب سے خوبصورت تعریف ہو۔
بس یہی بتانے آئی تھی… اب حیات جا رہی ہے۔
وہ مڑی اور جانے لگی۔

اچھا بات سنو۔۔۔۔
امن نے نرمی سے اُسے پکارا۔۔۔۔

حیات پلٹی،
اب کیا ہے؟

اگر کوئی مدد چاہیے ہو… تو مجھ سے لے لینا۔

اس نے آنکھیں چوڑی کر کے دیکھا۔
۔DR کا تو مطلب پتا نہیں… یہ مدد کریں گے؟
ہنہ۔۔۔۔ ائے بڑے اپنا آفیس سنبمالے۔۔۔۔
وہ یہ کہتے ہوئے ذرا سا طنزیہ مسکرائی اور امن کے کیبن سے نکلی

امن نے اسے جاتے دیکھا… اور دل میں بےاختیار مسکرا دیا۔

++++++++++++++

رات کے ساڑھے دس بجے کا وقت تھا۔
گھر کے بڑے ڈائننگ ہال میں سب بھائی ایک ہی میز کے گرد بیٹھے تھے۔

امن کھانا ختم کرتے یوسف اور دانیال پر اپنی گہرائی نظریں ڈالتا بولا ۔۔۔۔
ہاں تو آگے کا کیا سوچا تم دونوں نے؟

دانیال نے بےنیازی سے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا،
کیا…؟

یوسف فوراً بول پڑا،
ارے بھائی، میں بتاتا ہوں… ابھی ہم کھانا کھائیں گے، پھر اپنے کمرے میں جائیں گے، تھوڑی دیر فون چلائیں گے اور سو جائیں گے۔

دانیال نے فوراً سر ہلایا،
ہاں ہاں! بالکل یہی پلان ہے۔

امن نے گہری سانس لی۔
میں یونی کے بعد کی بات کر رہا ہوں۔

یوسف بےفکری سے بولا،
اچھا… یونی کے بعد؟ یونی کے بعد تو سیدھا گھر آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، پھر سو جاتے ہیں۔

دانیال نے پھر سر ہلایا،
ہاں ہاں، بلکل یہی کرتے۔۔۔۔

امن نے اب دونوں کو گھورتے ہوئے کہا
تم دونوں کے تھپڑ ماروں گا ابھی۔۔۔

دانیال فوراً سیدھا ہوگیا،
اب میں نے کیا کیا ہے؟

ازلان نے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے کہا،
بھائی، تُم ان سے ایسے بات نہیں کرو۔۔۔

ارحم نے فوراً رخ موڑا،
تو پھر کیسے بات کریں؟

ازلان نے بالکل سنجیدگی سے مشورہ دیا،
ایک تھپڑ لگاؤ، پھر سوال کرو… پھر ایک اور تھپڑ لگاؤ، تو صحیح جواب ملے گا۔

دانیال نے اسے گھورا،
تیرے کو نہیں ایک تھپڑ لگائیں۔۔۔۔

دانیال۔۔۔۔
امن نے سختی سے کہا

بھائی، اس کو بھی تو دیکھو! کیسے بدتمیزی کر رہا ہے میرے سے۔۔۔
دانیال جلدی سے صفائی دینے لگا۔

ابرار نے سر جھٹکا،
تم لوگوں کے اندر سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے نہ۔۔۔

یوسف فوراً بولا،
شکریہ، بہت مہربانی۔

ہو گیا سب کا؟
امن نے سب پر نظریں ڈالے کہا۔۔۔

ارحم نے فوراََ جواب دیا۔۔۔
ہاں بھائی، اب تم بولو…

ارسل نے ناسمجھی سے دونوں کی طرف دیکھا،
ویسے بھائی، تُم پوچھنا کیا چاہ رہے ہو؟ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا۔

ازلان نے اسے گھورا،
کیوں کہ تیرے پاس دماغ کی کمی ہے۔

ارسل نے فوراً جواب دیا،
اور تیرے پاس بہت ہے نا… جیسے۔۔۔۔

الحمدللہ! اس گھر میں سب سے زیادہ عقلمند انسان میں ہی ہوں۔
ازلان نے فخر سے سینہ پھلایا۔

دانیال نے فوراً طنزیہ بولا۔۔۔
عقلمند انسان کے نام پر کلانک ہے تو۔۔۔۔

چُپ ہوجاؤ تم لوگ۔۔۔۔
امن نے تھوڑے غصے سے کہا

ارسل پھر سیدھے انداز میں بولا،
اچھا بھائی، تُم کیا بات کر رہے تھے بولو۔۔۔۔

ہاں، بولو بولو… دانیال بھی فوراََ اُس کے ساتھ بولا ۔۔۔

امن نے سنجیدگی سے کہنے شروع کیا۔۔۔
میں یہ کہہ رہا ہوں… کہ ابھی تم لوگوں کے امتحان شروع ہوئے ہیں نا؟

دانیال کی آنکھیں بڑی ہوگئیں،
ہیں؟ بھائی تُم کو کیسے پتا چلا؟ ہم نے تو ابھی تک تمہیں بتایا بھی نہیں…

یوسف نے شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھا،
ہاں بھائی… ہم پہ کوئی نظر رکھی ہوئی ہے کیا stalker تو نہیں کرتے تُم ہمیں۔۔۔۔

دانیال فوراََ بولا۔۔۔
ہاں دیکھو بھائی یہ بہت غلط بات ہے۔۔۔

امن نے شانے اچکائے،
دونوں پاگل۔۔۔ مجھے حیات سے پتا چلا۔ اس کا پیپر شروع ہوگیا ہے نا… تو یقیناً تم دونوں کا بھی ہُوا ہوگا۔۔۔

دانیال نے گردن کھجائی،
اوہ… ہاں ہاں…! بھائی، صحیح کہہ رہے ہو۔

تو… امن نے ان دونوں کو غور سے دیکھا،
اب سوچا کیا ہے؟ یونی کے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے؟

یوسف نے مسکین سی شکل بنا کر کہا،
بھائی… آپ کے آفیس آجائیں گے…

امن نے فوراً اُسے روکا۔۔۔
میرے آفیس کا نام بھی مت لینا! تھپڑ لگاؤں گا دونوں کو۔
اپنا کچھ خود کرو۔ کُچھ بھی کرو۔۔۔۔ کہیں اور جاؤ، کسی اور جگہ جاب کرو… جو کرنا ہے کرو۔
لیکن میرے آفیس نہیں۔

دانیال نے دھیرے سے کہا،
لیکن بھائی…

امن نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا،
تم دونوں کو پہلے سے سوچ کر رکھنا چاہیے تھا۔

ارسل بھی بیچ میں فوراََ بول پڑا۔۔۔
بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی۔بھائی نے ہماری کب مدد کی ہے اس معاملے میں، جو اب تم دونوں کی کریں گے؟

دانیال نے فوراً لاپروائی سے کہا
پھر چھوڑ دو… میں تو تمہارے پیسوں پر ہی عیش کروں گا۔

امن نے اسے گھورا،
لگا دوں ابھی ایک؟

دانیال فوراً سیدھا ہوگیا۔

یوسف نے بیچ میں آ کر بولا۔۔۔۔
بھائی سوچ لیں گے… کچھ نہ کچھ تو کر ہی لیں گے۔ پہلے ہمارے پیپر تو دینے دیں سکون سے۔ ویسے ہی پیپر کی اتنی ٹینشن ہے…

ازلان نے اُسے فوراََ ٹوکا۔۔۔
ذرا دیکھو تو، بول کون رہا ہے…

کیا؟ یوسف نے خفگی سے پوچھا۔

ازلان نے بےرحمی سے تیر چلایا،
تجھے اپنی girlfriend کے علاوہ کسی چیز کی ٹینشن ہوتی ہے؟

بھائی دیکھو اس کو۔۔۔۔ یوسف نے فوراً شکایت لگائی۔

امن نے سخت لہجے میں کہا،
ازلان، منہ بند رکھ کے یہاں بیٹھو… ورنہ اٹھ کے چلے جاؤ۔

اچھا بھائی… ازلان فوراً سیدھا ہوگیا۔

امن نے اب توجہ پھر یوسف اور دانیال پر ڈالی،
اور سن لو دونوں… اچھے نمبر آنے چاہئیں۔

ارسل نے فوراً تسبیح کی طرح جملہ دہرایا،
ہاں بھائی کا ناک نہیں کٹوانا۔

دانیال ٹیک لگا کر کہنے لگا،
وہ تو اللہ مالک ہے…

ہاں… یوسف نے بھی سستی سے آواز میں آواز ملائی۔

ارحم نے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے کہا،
اللہ مالک تو ہے ہی… لیکن انسان کو خود بھی ہاتھ پاؤں مارنے پڑنے چاہیئے۔ کامیابی گھر بیٹھے نہیں ملتی۔

دانیال نے ناسمجھی سے کہا،
لیکن ایگزام میں ہاتھ پاؤں کیسے ماریں؟

ارسل نے صبر سے اسے سمجھایا،
اس کے کہنے کا مطلب ہے… تھوڑا خود بھی پڑھ لیا کرو۔ صِرف اللہ کے بھروسہ نہیں بیٹھو۔۔۔۔

دانیال نے فوراً اعتماد سے گردن ہلائی،
ہاں ہاں، وہ تو پڑھ چکا ہوں۔

ازلان نے تو جیسے موقع ہی ڈھونڈا تھا،
ہاں۔۔۔ اتنا پڑھ لیا کہ اب ٹاپ مارے گا۔۔۔۔

ازلان… امن کی سخت آواز گونجی۔

جی بھائی۔ ازلان سیدھا ہوگیا۔

کہا تھا منہ بند رکھ کے بیٹھو۔

اوکے بھائی…
وہ واقعی چپ ہوگیا، مگر آنکھوں میں ہنسی ناچ رہی تھی۔

ابرار نے کچھ سوچتے پھر کہنا شروع کیا۔۔۔
اگر تم دونوں کے اچھے نمبر آگئے… تو میں تمہیں گفٹ دوں گا۔

دانیال کی آنکھیں فوراً چمک اٹھیں،
کیا گفٹ؟ گفٹ میں کیا ملے گا۔۔۔؟

ابرار نے بڑے آرام سے کہا،
بائیک۔

یوسف نے کانوں تک مسکراہٹ پھیلا لی،
پھر تو آ ہی جائیں گے۔۔۔

دانیال نے تو جیسے فیصلہ کر لیا،
اب تو دانیال کا نام ٹاپ لسٹ میں ہوگا۔۔۔

امن نے مسکراتے ہوئے کہا
کاش ایسا ہوجائے…

ان شاء اللہ بھائی، ہو جائے گا۔
دانیال پوری سنجیدگی سے بولا، جیسے پہلی بار کچھ واقعی دل سے کہا ہو۔

ازلان نے پھر آہستگی سے کہا،
مجھے بھائی نے چپ رہنے کا کہا ہے… ورنہ اس بات کا میرا بہت اچھا جواب تھا۔

ارحم نے بھنویں اٹھا کر کہا،
لیکن تو چپ زیادہ اچھے لگتا ہے۔

ازلان نے بےنیازی سے جواب دیا،
شکریہ… لیکن مجھے آپ کے کمپلیمنٹ کی ضرورت نہیں تھی۔

چلو، اب جا کر سب سو جاؤ۔ گُڈ نائٹ۔
امن ڈائننگ ٹیبل سے اٹھتا بولا۔۔۔

گُڈ نائٹ بھائی۔۔۔
سب نے ایک ساتھ کہا،

امن آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا…
اور باقی بھائی اپنی چہل پہل میں غائب ہوگئے۔

++++++++++++++

ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔

دوپہر کی دھیمی سی روشنی میں، جب پورا آفیس ایک عجیب سی سنجیدگی میں ڈوبا ہوا تھا، نتاشہ ہاتھوں میں چند فائلیں تھامے آہستہ سے آمن کے کیبن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
ہلکی سی دستک دی، پھر اجازت ملنے پر اندر آگئی۔۔۔

سر… یہ فائلیں چیک کر لیجیے۔
اس نے وہ فائلیں میز پر رکھتے ہوئے آمن کی طرف سرسری سی نظر ڈالی۔

ہمم… ٹھیک ہے۔ تم جا سکتی ہو۔

وہ مڑنے ہی لگی تھی کہ نہ جانے کیوں اچانک رک گئی۔
اور کہنے لگی۔۔۔
ویسے باس… حیات کئی دنوں سے آفیس نہیں آرہی… خیریت؟

آمن نے ایک لمحہ توقف کیا، قلم ہوا میں ٹھہرا۔
اس نے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیا
ہاں، اس کے پیپرز شروع ہو چکے ہیں۔ اس لیے نہیں آرہی۔

نتاشہ کے ہونٹوں پر ایک لمحے کو عجیب سا تبسم آیا، مگر اس نے فوراً چھپا لیا۔

اوہ… اچھا۔ ویسے باس… میں ایک بات پوچھوں؟ ذرا پرسنل ہے…

آمن نے پہلی بار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا—ایک سیدھی، صاف، سرد نظر۔
پوچھو۔

نتاشہ نے دکھاوے کا سا جھجک رکھی، مگر آواز میں سراسر تجسس تھا۔
یہ حیات… آپ کی کوئی جاننے والی ہے؟ مطلب کوئی قریبی؟

میرے ابو کے دوست کی بیٹی ہے۔

نتاشہ کے چہرے پر لمحے بھر کو عجیب سی نرمی
اچھا… ویسے میں نے اسے انٹرویو دیتے ہوئے تو نہیں دیکھا؟

آمن نے فائل کھول کر الٹتے پلٹتے ہوئے خشک لہجے میں کہا
میں نے خود لیا تھا اس کا انٹرویو۔ کوئی مسئلہ؟

نتاشہ نے فوراً گردن جھٹکی،
نہیں سر… کوئی نہیں۔ بس… اس کی حرکتیں…

آمن نے ناگواری سے ابرو اٹھائے۔
ہاں، تھوڑی ان میچور ہے۔

ویسے باس… آپ کو یاد ہے؟ میرا انٹرویو بھی آپ نے ہی لیا تھا۔
اور میں نے آپ کو پتہ ہی نہیں چلنے دیا تھا کہ میں شزیب خان کی بیٹی ہوں…
اور جب بعد میں نے ہی آپکو بتایا تھا تو آپ کتنے حیران ہوئے تھے… یاد ہے؟

آمن نے مختصر سا ہمم… تو؟ کہا۔
بس اتنا ہی۔

وہ تعریف کی کسی رمق، کسی مسکراہٹ، کسی پلٹ کر جواب کا انتظار کر رہی تھی…
لیکن آمن کے چہرے پر جیسے جذبات نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔

نتاشہ نے سانس دباتے ہوئے کہا
کچھ نہیں باس… بس اچانک یاد آگیا تھا۔
ویسے سر…

امن نے اس بار تیزی سے نظریں اٹھائیں۔ اس کی آنکھوں میں واضح جھنجھلاہٹ تھی۔

نتاشہ، میں اس وقت کام کر رہا ہوں۔ بہت بزی ہوں۔۔

نتاشہ کی آواز حلق میں ہی اٹک گئی۔

سوری سر…
وہ نظریں جھکائے۔۔۔ معذرت کیا۔۔۔
لیکن امن کی طرف سے خاموشی تھی۔۔ وہ اپنے لیپٹاپ میں بہت بزی دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔
پھر وہ خود ہی مایوس ہوتے کیبن کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔

لیکن باہر نکلتے ہی اس کے چہرے پر وہی زہریلی تلخی لوٹ آئی،
وہی دل کی باربار کرتی بڑبڑاہٹ…
سب کچھ تو نارمل ہے…
شاید میں ہی اس لڑکی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچ رہی ہوں…
لیکن… وہ میرے آمن سے چپکتی بھی تو بہت ہے۔
اچھا ہے اس کے پیپر شروع ہو گئے…
کم از کم ایک مہینہ تو وہ آفیس میں نظر نہیں آئے گی…
تب تک میں آمن کو دوبارہ اپنی طرف کھینچ لوں گی…
آخر کو وہ میرا ہی ہے…

اس کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ، خاموش سی مسکراہٹ ابھری، اور پھر وہ اپنے کیبن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

+++++++++++++

رات کے ٹھیک تین بج رہے تھے۔
کمرے میں گھپ اندھیرا، صرف کھڑکی سے چاندنی کی ایک ہلکی سی لکیر اندر آرہی تھی۔
آمن گہری نیند میں تھا، وہ نیند جو دن بھر کی تھکن کے بعد انسان کو بے حس کر دیتی ہے۔

اسی گہری خاموشی میں
اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی۔

ایک بار…
پھر دوسری بار۔

پہلی کال پر اس کی نیند نہ ٹوٹی،
لیکن دو بار مسلسل بجنے سے وہ چونک سا گیا۔
آنکھیں اب بھی بوجھل تھیں، مگر ہاتھ کمبل سے باہر نکل آیا اور سائڈ میز پر رکھے موبائل تک جا پہنچا۔

فون اٹھایا فون کی سکرین اپنے چہرے کے سامنے کیا۔۔۔
جیسے ہی اسکرین پر نام دیکھا، آمن کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔

اس نے جھٹ سے کال ریسیو کر لی۔
ہیلو… السلام علیکم… کیا ہوا حیات؟ سب خیریت؟

دوسری طرف خاموشی تھی، اور پھر…
ایک رندھی ہوئی، کپکپاتی ہوئی آواز۔
شکر ہے آپ نے فون اٹھا لیا…

آمن فوراً سنبھل کر اُٹھ بیٹھتا۔
اس کے لہجے میں گھبراہٹ در آئی۔

ہاں، بولو حیات… کیا ہوا؟
(اسے اس کی آواز سے صاف لگا کہ وہ پریشان ہے۔)

بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے… مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں… مجھے… مجھے بہت رونا آرہا ہے…
میں کیا کروں۔۔۔

آمن کے اندر کوئی تار جیسے کھنچ گیا۔

رونے کی ضرورت نہیں۔ مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔

دوسری طرف سانسیں بھاری تھیں۔
وہ… آپ… آپ مجھے بچا لیں پلیز… میں بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہوں…

آمن کے تن بدن میں سنسنی دوڑ گئی۔

ہاں ہاں بتاؤ… میں ہوں نہ۔۔۔ میں سب ٹھیک کردونگا مُجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟

ایک لمحے کی خاموشی کے بعد،
وہی معصوم، بالکل بچیوں جیسی آواز۔
مجھے… اکاؤنٹنگ کے چیپٹر نائن کا کوئسچن نہیں سمجھ آرہا…
مجھے لگ رہا ہے میں فیل ہوجاؤں گی…
مجھے واقعی رونا آرہا ہے… میں کیا کروں؟
آپ مجھے سمجھا دیں گے نا…؟

آمن نے چند لمحے حیرت سے آنکھیں جھپکیں۔
اس نے سوچا تھا کوئی حادثہ، کوئی مسئلہ، کوئی ایمرجنسی۔

لیکن یہ…؟

اس نے گہری سانس لی،
اف حیات اف۔۔۔ وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا
حیات نے تو اس کے جان ہی نکل دی تھی۔۔۔
پھر خود پر قابو پاتے دھیمے لہجہ میں بولا ۔۔
ہاں، سمجھا دوں گا۔ تم کل صبح آفس لے آنا، میں سمجھا دوں گا۔

فوراً، بغیر ایک سیکنڈ سوچے
نہیں نہ! آفس نہیں آسکتی میں۔

کیوں؟

کیونکہ… صبح نو بجے میرا پیپر ہے۔
اس کی آواز میں معصوم سی گھبراہٹ اب بھی موجود تھی۔

آمن نے گھڑی دیکھی، رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔
آمن نے آہستہ سے کہا
اچھا ٹھیک ہے… تم سوال مجھے سینڈ کر دو۔ میں ابھی سمجھا دیتا ہوں۔

ایک لمحہ کی خاموش حیرت…
پھر اس کی ٹوٹی ہوئی آواز میں خوشی سی مکس ہو گئی۔
آپ… واقعی سمجھا دیں گے؟ ابھی؟

ہاں۔

حیات نے فوراً سانس بھری، جیسے بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو۔
اوکے… میں ابھی آپ کو سوال بھیجتی ہوں، ویسے آپ سو تو نہیں رہے تھے..؟؟ 

نہیں آپکے کال کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔

اچھی بات ہے۔۔۔
وہ بولی اور کال کٹ گئی۔۔۔

حیات کی بےوقوفیوں پر غصہ بھی آیا،
اور ٹھیک اُسی وقت اس کی معصومیت پر بےاختیار ہنسی بھی۔
یہ لڑکی بھی نا…
وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔

تھوڑی دیر بعد فون کی سکرین پھر روشن ہوئی،
حیات کا میسج۔

یہ ہے سوال… پلیز جلدی سمجھا دیں۔۔۔ 😭
اس کے میسج کے آخر میں بچوں والے رونے والے ایموجی سے آمن کو بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔
وہ چاہے جس قدر سخت، خاموش یا حد درجہ سنجیدہ نظر آتا تھا،
حیات کے سامنے وہ سب پگھل جاتا تھا۔

آمن نے سوال کھولا۔
اُس نے دو لمحے اسے گھورا…
اور ہلکی سی ناگواری سے سر جھٹکا۔

اتنی سی بات پر آدھی رات کو فون… یہ لڑکی بھی…

مگر جہاں گلہ آیا…
وہیں اس کی مسکراہٹ بھی لوٹ آئی۔

وہ سوال سمجھاتے ہوئے وائس نوٹ ریکارڈ کرنے لگا۔

سنّو حیات… گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
یہ دیکھو… یہاں جو ایڈجسٹمنٹ ہے نا، تم اسے غلط پڑھ رہی ہو۔
چیپٹر نائن کا پورا کانسپٹ اس ایک اسٹپ پر کھڑا ہے۔
میں سمجھا دیتا ہوں…

اس نے پوری تفصیل کے ساتھ دو تین وائس نوٹس بھیجے۔

چند سیکنڈ بعد حیات کا میسج آ گیا
اوہ ہو۔۔۔۔ اتنی سی بات تھی؟؟ یہ تو بہت آسان ہے۔۔۔

آمن نے ایک ہاتھ سے پیشانی دبائی۔
حیات… واقعی حیات تھی۔

اس نے ٹائپ کیا
اب سمجھ آگیا؟

فوراً ٹائپ ہوتی لائنیں نمودار ہوئیں…
حیات پھر لکھ رہی تھی۔

ہاں بلکل… آپ نے سمجھایا تو ایک سیکنڈ میں سمجھ آگیا…
پتہ ہے؟ آپ نہ ہوتے تو میں پاگل ہوجاتی 😭

نہیں پاگل تو تُم پہلے سے ہو۔۔۔
امن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ میسیج بھیجا۔۔۔

چند لمحے بعد میسج آیا
ہنہ جی نہیں۔۔۔۔یہ اکاؤنٹنگ مُجھے پاگل کر رہا تھا۔۔۔
اچھا ایک اور جگہ مسئلہ ہے۔۔۔

فون کی اسکرین پر حیات کا اگلا میسج آ چکا تھا۔
اچھا دیکھیں نا… یہ ایڈجسٹمنٹ والا حصہ…
یہاں میرا دماغ ہی بند ہوجاتا ہے۔
پلیز اس کو بھی سمجھا دیں…😭✨

اس نے ٹائپ کیا
ٹھیک ہے، بھیجو۔ دیکھتا ہوں۔

چند ہی سیکنڈ بعد نئی تصویر آ گئی،
بڑی بڑی ہندسوں والی، پوری پوری لائنیں بھری ہوئی سٹیٹمنٹ،اور ساتھ ایک شرارتی سا میسج:
ہنسے تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔ مجھے پتا ہے یہ آسان ہے…
بس میرا دماغ نہیں مان رہا 😭😩

آمن نے میسج پڑھ کر سر پکڑ لیا۔
یا اللہ…
اس نے دل میں کہا۔

پھر ہاتھ بالوں میں پھیرتے ہوئے وہ آہستہ سے ہنسا—
وہ ہنسی جو وہ چاہ کر بھی روک نہیں سکتا تھا۔

اس نے ایک اور وائس نوٹ بنانا شروع کیا۔
دیکھو حیات…
یہ جو تم نے یہاں غلطی کی ہے نا،
یہی سب مسئلوں کی جڑ ہے۔

اُس کے لہجے میں تھکن بھی تھی،
اور کسی خاص شخص کے لیے مخصوص نرمی بھی۔

وائس نوٹ بھیجنے کے بعد حیات کا ایک اور میسیج آیا۔۔۔
ایک آخری سوال…

یہ دیکھیں… اس ایڈجسٹمنٹ کے نیچے والی لائن کیوں بدلی ہے؟
کیا یہ بھی چیپٹر نائن میں آتا ہے؟

آمن نے ماتھا پیٹنے کا دل کیا۔
وہ جانتا تھا کہ ابھی یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔
اس نے لکھا

ہاں، آتا ہے۔ اگلا؟

حیات نے فوراً تصویر بھیجی۔
اچھا پھر یہ والا…
اس میں تو بالکل الگ فارمولا ہے!
اسے کیا کہتے ہیں؟
اور یہ بک میں کہاں لکھا ہے؟
مجھے تو مل ہی نہیں رہا۔۔۔۔

آمن ہنس پڑا۔
حقیقی، بے اختیار ہنسی۔

میسج ٹائپ کیا
وہ نیچے والے باکس میں لکھا ہے۔
پہلے اسے پڑھو۔

چند لمحے بعد پھر میسج۔۔۔
اوہ ہو… اچھا اچھااا
اب سمجھ آیا 😭
پر ایک اور بات پوچھنی تھی…

ہاں بس یہ آخری ہے، یہ لاسٹ پیج والا سوال…
یہ پریکٹس میں بھی نہیں آیا ہوا!
یہ کہاں سے آیا؟
کیا اگر یہ کل آجائے تو میں کر پاؤں گی؟
کیا میں پاس ہو جاؤں گی؟
کیا یہ مشکل تو نہیں؟
کیا میں۔۔۔

آمن نے ایک لمبی سانس لے کر اس کی میسج اسکرول کی۔
اُس نے لکھا
روکو۔ایک ایک کر کے پوچھو۔

آمن نے روکو، ایک ایک کر کے پوچھو لکھا ہی تھا کہ
چند سیکنڈ بعد اسکرین پھر روشن ہوگئی۔

حیات واقعی سن رہی تھی۔
اچھا ٹھیک…
پہلا سوال:
یہ والا بیلنس کیوں نیچے شفٹ کیا ہے؟

آمن نے فوراً جواب لکھا
کیوں کہ یہ ایڈجسٹمنٹ کے بعد کا فائنل بیلنس ہے۔

دو سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ اگلا سوال:
اوکے…
دوسرا:
اس میں ڈیبٹ پہلے کیوں لکھتے ہیں؟

آمن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
کیونکہ رول یہی ہے۔ ڈیبٹ کو ہمیشہ پہلے جگہ دیتے ہیں۔

سچ؟ اچھااا…
تیسرا:
یہ والی لائن صرف اسی چیپٹر میں ہے نا؟ کل آجائے تو میرا کیا ہوگا؟

آمن نے ہنستے ہوئے ٹائپ کیا
تمہارا کچھ نہیں ہوگا۔
سوال حل ہو جائے گا۔

پھر فوراً اگلا سوال
اچھا اچھا…
چوتھا:
اس فارمولے میں minus کیوں آتا ہے؟
۔Plus کیوں نہیں؟

آمن نے ہاتھ پیشانی پر رکھ لیا۔
حیات… کیونکہ adjustment ہے۔

حیات نے اووووہ اچھااااا بھیجا،
پھر اسی کے فوراً بعد
پانچواں:
اگر examiner نے تھوڑا سا change کر دیا تو؟

آمن نے ہنس کر جواب بھیجا
تو بھی اسی طرح question solved کرے گے۔۔۔۔

چند لمحے سکون رہا…
پھر فون پھر وائبریٹر ہوا۔

چھٹا:
یہ closing stock کا کیا مسئلہ ہے…
یہ ہر جگہ کود پڑتا ہے!!

آمن اب کھل کر ہنس پڑا۔
لیکن جواب پھر بھی نرم ہی تھا
یہ کودتا نہیں، جگہ جگہ adjust ہوتا ہے۔

پھر ایک اور میسج
ساتواں…
یہ والا کیوں سمجھ نہیں آرہا؟
میں کیا کروں؟

میں ہوں نا، میں سمجھا دوں گا۔

اور یوں…
حیات ایک ایک کر کے پوچھتی گئی،
اور آمن ایک ایک کر کے سمجھاتا گیا۔ بڑے سے بڑا سوال اور چھوٹے سے چھوٹا سوال وہ سب پوچھتی رہی اور امن نرمی سے اُسے سمجھاتا رہا۔۔۔۔

رات آہستہ آہستہ گہری ہوتی رہی،
وقت آگے بڑھتا گیا،

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *