آتشِ خُود آگاہی
BY ANEEQA SHOAIB
کسی کی یادوں میں سوئی تھی میں
پھر انہی یادوں میں کھوئی تھی میں
اس کی آنکھیں موم کر گئی تھیں دل کو
پھر انہی آنکھوں سے آگ لگی تھی میں
شبِ تنہائی میں خود سے ملی تو جانا
کتنی خاموشی میں ڈوبی تھی میں
وہ جو کہتا تھا کہ میری ہے فقط دنیا
اُسی دنیا میں کہیں روئی تھی میں
دل پہ رکھ کر وہی وعدوں کی کتاب
ہر اک صفحے پہ ٹھہری ہوئی تھی میں
چاند چھونے کی تمنا بھی عجب تھی دل میں
اپنے ہی ہاتھوں سے ٹوٹی تھی میں
وقت کے ساتھ بدلتے رہے سب چہرے
پر اسی ایک کی ہوئی تھی میں
اشک آنکھوں میں سجا کر بھی مسکرائی
لوگ سمجھے کہ بہت خوش تھی میں
رات دریا کی طرح بہتی رہی سینے میں
اس کی دہلیز پہ ٹھہری تھی میں
نام لیا جب بھی آئینے نے میرا
اپنے ہی درد سے گزاری تھی میں
چہرہ مسکاں سے سجا رکھا تھا مگر
دل کی دیوار پہ ہاری تھی میں
کسی کی یادوں کا موسم بھی عجب تھا
رات بھر اشکوں میں اتاری تھی میں
وہ جو کہتا تھا کہ قسمت ہے مری
اُسی قسمت سے تو ہاری تھی میں
اس کی آنکھوں کی وہ پہلی سی چمک
دیکھ کر خود پہ ہی واری تھی میں
لوگ سمجھے کہ سکون آ گیا دل کو
حالانکہ اندر سے بکھری تھی میں
چاند ہاتھوں میں تھا خوابوں کی طرح
پھر بھی قسمت سے بیگانی تھی میں
وقت کے ساتھ بدلتے رہے سب رشتے
پر اُسی ایک پہ ٹھہری تھی میں
جب صدا دی کسی نے محفل میں
اپنی تنہائی سے ہاری تھی میں
