دل کی خالی جگہ
ازقلم انیقہ شعیب
دل کو اب کسی بھی خوشی پر قرار نہیں ہے
وہ جو تھا کبھی میرا، اب میرا یار نہیں ہے
آنکھ میں جو سجی رہتی تھی خوابوں کی بہار
اب وہاں رنگ ہے مگر وہ بہار نہیں ہے
میں نے جس کو سمجھا تھا عمر بھر کا اعتبار
اس کے وعدوں میں ذرا سا بھی اعتبار نہیں ہے
لوگ کہتے ہیں بدل جاتا ہے سب وقت کے ساتھ
پر میرے دل کو ابھی تک اختیار نہیں ہے
جس کی آواز سے مہکتا تھا مرے گھر کا سکون
اب وہ لمحہ، وہ صدا، وہ انتظار نہیں ہے
مانا کہ مسکرا لیتی ہوں محفل میں مگر
میرے اندر کوئی جیتا ہوا پیار نہیں ہے
