Dil ya dharkan Episode 20 written by Siddiqui

دل يا دھڑکن ( از قلم صدیقی)

قسط نمبر ۲۰

یہ کیا کیا…؟ مسکان کی آواز کانپ رہی تھی، جیسے کسی خواب سے جاگی ہو اور حقیقت کی زمین اس کے قدموں تلے سے کھسک چکی ہو۔

عبداللہ نے قدم آگے بڑھائے، چہرے پر وہی پرانی طنزیہ مسکراہٹ تھی، جو ماضی میں کئی بار ماہی کا خون کھول چکی تھی۔

اب اس سے سارا حساب کتاب پورا ہوگا… عبداللہ کی آواز میں زہر گھلا ہوا تھا۔

مسکان نے ایک جھٹکے سے عبداللہ کی طرف دیکھا۔ لیکن… تم نے تو کہا تھا، تم معافی مانگو گے؟

عبداللہ ہنسا… ایک عجیب، بے رحم ہنسی۔
پاگل ہو گئی ہو کیا؟ لڑکے سب کچھ بھول سکتے ہیں، لیکن اپنی بے عزتی کبھی نہیں۔۔۔۔

وہ پیچھے مڑا اور انگلی سے اریبہ کی طرف اشارہ کیا، جو مسکان کے ساتھ ہی کھڑی تھی، مگر نظریں چرا رہی تھی۔
ارے اریبہ، تم نے اسے بتایا نہیں ہمارا اصل پلان کیا تھا؟

اریبہ نے ایک لمحہ نظریں چُرائیں، پھر سر جھکا کر آہستہ سے کہا، یار ہاں… ہمیں بدلہ لینا تھا۔ تم بھول گئی ہو اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا؟

مسکان اب مکمل الجھن میں تھی۔ کیا کیا تھا؟ صرف پرنسپل میم کو سچ بتایا تھا… وہ ڈاکیومنٹری اُسی کی تھی… میں نے بس… بس جھوٹ بولا تھا، چوری کی تھی۔

عبداللہ نے دونوں ہاتھ پھیلائے جیسے بے گناہی کا مذاق اڑا رہا ہو۔ اور جو اس نے ہمیں مارا تھا؟ اُس کا کیا؟

مسکان کے چہرے پر ہلکی سی شرمندگی ابھری، مگر وہ بولی، وہ سزا تمہاری اپنی غلطی کی تھی… وہ کچھ بھی کرتی، اُس وقت تم لوگ غلط تھے۔۔۔

اس وقت آصف جو چپ چاپ کھڑا تھا، درمیان میں بولا، لڑنا بند کرو… اب یہ بتاؤ، اس کا کرنا کیا ہے؟

کالج کی شامیں خوبصورت ہوتی تھیں۔ چاہے بارش کی پھوار ہو یا خزاں کی خاموشی — تین سہیلیوں کی ہنسی سے ہمیشہ وہ لمحے جگمگاتے تھے۔
ماہی، مسکان اور اریبہ۔
تینوں کے درمیان ایک رشتہ تھا — دوستی، اعتماد، اور وہ معصوم وعدے جو ہر لڑکی اپنے کالج کے دنوں میں کرتی ہے۔
مگر وہ دن کب بدل گئے، کب باتوں میں چھپے راز دلوں میں چھید کرنے لگے، کسی کو خبر نہ ہوئی۔
ماہی کے لیے سب کچھ سادہ تھا۔ وہ جنہیں دوست سمجھتی تھی، اُن سے پورے دل سے وفاداری چاہتی تھی۔
لیکن اُسے کیا خبر تھی کہ اُس کی اپنی دوستیں ایسے لوگوں کی محفل کا حصہ تھی، جو عزتوں سے نہیں، ہنسی اڑانے سے پہچانے جاتے ہیں۔

عبداللہ… کالج کا وہ لڑکا، جو بظاہر خوش اخلاق، شوخ اور ملنسار نظر آتا تھا، لیکن اندر سے… وہ ایک ایسا زہریلا کردار تھا، جو اپنی ہنسی کے پیچھے دوسروں کی تذلیل چھپاتا تھا۔

اور اس کی “گینگ” — آصف، روشان، ساحل، اور وہی ایک لڑکی… بسمہ۔

بظاہر سب ہنس مکھ، مگر اندر سے… سائے کی طرح خطرناک۔

مسکان اور اریبہ اُن کی مجلس کا حصہ تھیں — یہ ماہی کو دیر سے پتا چلا۔

اور جب پتا چلا، تو دل ٹوٹ گیا۔

اگر تم میری دوست ہو… تو عبداللہ جیسے لڑکے سے دوستی ختم کرو۔۔۔ ماہی نے ان دونوں سے کہا تھا، آواز میں صرف غصہ نہیں، بلکہ ایک درد، ایک ٹوٹے ہوئے بھروسے کی چبھن تھی۔

مگر مسکان نے ہنسی میں اڑا دیا، اور اریبہ نے خاموشی میں چھپا لیا۔

ماہی نے دوستی کا وہ رشتہ وہیں ختم کر دیا۔

پرانے لمحے، وہ چائے کے کپ، وہ رازداری بھری باتیں… سب ایک جھوٹ بن گئے۔

لیکن بات یہاں ختم نہ ہوئی۔

مسکان نے دل میں خاموش انتقام کی آگ جلا لی۔

اور پھر… ماہی کی سب سے اہم اسائنمنٹ… ایک ڈاکیومنٹری جس پر اُس نے مہینوں محنت کی تھی… چوری کر لی گئی۔

مسکان نے پروجیکٹ چُرایا، اور دعویٰ کیا یہ میرا ہے۔

لیکن ماہی وہی ماہی — سچ کے لیے لڑنے والی۔

اس نے جھوٹ پکڑ لیا۔ معاملہ پرنسپل تک گیا، اور سچ سامنے آ گیا۔

اور پھر ایک دن ماہی نے عبداللہ اور اس کے دوستوں کو ایک لڑکی کو تنگ کرتے دیکھا اور پھر انہیں وہی سبق سکھایا جو وہ ہمیشہ دیتی تھی۔ اسی دن دشمنی پختہ ہوگئی۔

کالج کے آخر تک مسکان، اریبہ اور عبداللہ مل کر ماہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے، اور ماہی انہیں منہ توڑ جواب دیتی رہی۔

کالج ختم ہوا، اور ماہی یوکے چلی گئی۔

مسکان کا چہرہ غصے سے بھرا تھا۔
دیکھو، میں کچھ غلط نہیں ہونے دے سکتی اس کے ساتھ۔۔۔

عبداللہ نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔

عبداللہ نے اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا، کچھ نہیں کریں گے، تم ٹینشن کیوں لیتی ہو؟
وہ اس کے انداز سے نہیں گھبرایا تھا، بلکہ اس کا لہجہ اس وقت بالکل بے فکر تھا، جیسے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

اسے گاڑی میں ڈالو اور چلتے ہیں، بس۔۔۔ عبداللہ نے ایک حکم دینے والے انداز میں کہا، جیسے اس کے لیے کوئی بات اتنی بڑی نہ ہو۔
اس کا حکم بغیر کسی مزید بحث کے سنا گیا، اور اس کی گروہ کے باقی اراکین نے سر ہلا کر اس کی ہدایت کو تسلیم کیا۔

نہیں۔۔۔ مسکان نے غصے سے کہا، پھر اس نے عبداللہ کے سامنے قدم بڑھائے۔
تم لوگ یہ کیا سوچ رہے ہو؟ تم نے کہا تھا کہ تم اسے چھوڑ دو گے، لیکن اب تم پھر سے اُسے تنگ کر رہے ہو؟ اس کے لہجے میں ایک شدید احتجاج تھا، جیسے وہ خود بھی اس صورتحال سے پریشان ہو چکی ہو، لیکن وہ اب تک ماہی کی مدد کرنے کے لیے تیار تھی۔

مسکان، بس کرو۔ عبداللہ کا لہجہ اب زیادہ سخت ہو گیا تھا، جیسے وہ اتنی باتوں کو مزید برداشت نہ کر سکتا ہو۔تمہیں لگتا ہے کہ ہم اس کے ساتھ کچھ برا کریں گے؟ ہمیں جو کرنا تھا، وہ ہم کر چکے ہیں۔ اب بس یہ کیا ہے کہ اسے گاڑی میں ڈال کر لے چلیں۔

مسکان نے کچھ لمحوں کے لیے خاموشی اختیار کی اور پھر گہری سانس لی۔
تم لوگوں کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا؟ تمہارے لیے یہ سب ایک کھیل کی طرح ہے، لیکن تمہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ جو تم کر رہے ہو، وہ کس کے ساتھ ہو رہا ہے۔
اس نے ایک نظر عبداللہ کی طرف ڈالی، پھر غصے سے کہا، میں تمہیں اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنے دوں گی۔

عبداللہ نے مسکان کی باتوں کو نظر انداز کیا اور کہا، چل، تمہیں جو کرنا ہے کر لو، لیکن ہم اپنا راستہ منتخب کر چکے ہیں۔
اس نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے گروہ کو اشارہ کیا کہ وہ ماہی کو گاڑی میں ڈال کر لے چلیں۔

مسکان کے ذہن میں اب ایک جنگ جاری تھی۔
وہ جانتی تھی کہ اب اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا، اور وہ تھا ماہی کی مدد کرنا۔
وہ اسے بچانے کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنانا چاہتی تھی، چاہے اس کے لیے اسے عبداللہ اور اس کے گروہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت چکانی پڑے۔

اور مسکان کو چھوڑ یہ لوگ ماہی کو گاڑی میں ڈال کر اپنا ساتھ لے جاتے ہیں اور مسکان اُن کو جاتا دیکھتی رہ گیٔ۔

++++++++++++

گاڑی سنسان سڑک پر رواں دواں تھی اور درختوں کے سائے میں سڑک کے دونوں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اچانک ماہی کی آنکھوں میں چمک آئی ہو۔
اس کے جسم میں ایک عجیب سی جھرجھری آئی
وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آنا شروع ہوئی لیکن اس میں کچھ وقت لگا، دماغ میں بے شمار خیالات تیز رفتاری سے گزر رہے تھے

ایک لمحے کے لیے اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ کیا ہوا تھا؟ لیکن اس کا دماغ ابھی تک ماضی کی دھندلاہٹ میں گم تھا۔ پھر اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال آیا اور وہ فوراً سچ میں ہوش میں آ گئی۔

یہ کیا ہو رہا ہے؟
وہ بے اختیار سوچ رہی تھی۔ اس کا دل تیز دھڑکنے لگا۔
جب اس کی آنکھوں نے ارد گرد کا منظر دیکھا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ گاڑی میں ہے اور عبداللہ اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ
ساحل بھی موجود تھا لیکن سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ اس کا ہاتھ بسمہ نے پکڑ رکھا تھا۔۔
اس کا دماغ ابھی تک سب کچھ سمجھنے میں وقت لے رہا تھا لیکن ایک بات اس کے دماغ میں واضح تھی: وہ پھر سے پھنس چکی تھی۔

اب کیا کروں میں۔۔۔
اس نے اندر ہی اندر خود سے سوال کیا اور پھر اس کے ذہن میں جیسے ایک زور کا جھٹکا آیا۔

عبداللہ گاڑی چلا رہا تھا اور وہ اپنے ساتھ والے ساتھیوں کے ساتھ خوش گپیاں کر رہا تھا

گاڑی میں کوئی بھی ماہی کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا۔ اریبہ اور بسمہ تو اپنے آپ میں گم تھیں گویا وہ ماہی کو مکمل طور پر نظر انداز کر چکی تھیں۔ عبداللہ اور ساحل کے بیچ کوئی ہنسی مذاق ہو رہا تھا اور وہ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر موجود ماہی اب ہوش میں آ چکی تھی۔

ماہی کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا اس کے اندر ایک تیز اور واضح سوچ کا سلسلہ بن رہا تھا۔ وہ یہاں سے کیسے نکلے؟ اس سوال نے اس کے دماغ کو گھیر لیا تھا۔

اچانک ماہی نے اپنے اندر کی طاقت کو بیدار کیا اور ایک جھٹکے سے بسمہ کے منہ میں زوردار بانچ مارا۔ بسمہ نے حیرت اور غصے سے آنکھیں پھیلائیں اور فوراً اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ وہ ہڑبڑائی لیکن ماہی کے حملے نے اسے اتنا غافل کر دیا کہ اس کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے کمزور پڑ گیا۔

ماہی نے فوراً اپنی آزادی کا فائدہ اٹھایا اور اس کی گرفت سے آزاد ہوتے ہی وہ تیزی سے گاڑی کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے اندر کا خوف اور غصہ اس کی تیز رفتار حرکت میں بدل چکا تھا۔ ایک لمحے میں اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر کی طرف چھلانگ لگا دی۔

کیا کر رہی ہو؟!

عبداللہ اور اریبہ نے ایک ساتھ آواز دی لیکن اس وقت ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی نظر صرف آزادی پر تھی اور پھر وہ چلتی گاڑی سے باہر گر چکی تھی۔۔۔

عبداللہ ارِبہ اور ساحل ابھی تک شاکڈ ہو کر ماہی کو دیکھ رہے تھے پھر عبداللہ نے گاڑی روکی اور سب گاڑی سے اُتر کر ماہی کے پیچھے دوڑنے لگے۔

ماہی تیزی سے بھاگ رہی تھی۔۔۔
اور وہ دونوں اُس کے پیچھے اور تیزی سے ڈور رہے تھے۔۔۔

لیکن اچانک سامنے سے روشان اور آصف کی موٹر سائیکل آ گئی۔ ماہی فوراً رک گئی اس کے قدم ٹھہر گئے۔

عبداللہ نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا
اب کیا کرو گی…

ماہی نے سرد لہجے میں جواب دیا
بھول گئے؟ کیا تم چار کتوں کو میں نے کالج میں سنبھالا تھا؟

عبداللہ کی مسکراہٹ میں چمک آئی
لیکن ہم چار نہ ہوں تو…؟ مجھے پتہ تھا تم ہم سے نمٹ سکتی ہو اسی لیے میں نے اپنے تمام دوستوں کو دعوت دی ہے۔

اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا
وہ دیکھو…

ماہی نے گردن گھما کر دیکھا روشان اور آصف کی موٹر سائیکلوں کے پیچھے موٹر سائیکلوں کا ایک گروہ آ رہا تھا اور وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔

عبداللہ نے پھر طنزیہ انداز میں کہا
اب میں چاہتا ہوں تُم ڈرو مُجھے سے۔۔ تُم میرے آگے رو ۔۔ اور تُم رو رُو کر مجھ سے معافی مانگو اور میرے آگے گِر کر اپنی ہار تسلیم کرو۔۔۔

ہٹ جاؤ یہاں سے ماہی اور تُم سے معافی۔۔ ہرگز نہیں۔ ماہی نے سرد لہجہ میں کہا ماہی اور ڈر جائے۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔

دیکھو تُم ہمارے آگے جھکو معافی مانگو ہم سے اور ہم تمہیں معاف کر دیں گے۔۔ نہیں تو بہت بُرا کرے گے تُمہارے ساتھ
اب کی بار اریبہ نے آگے آکر کہا

تُم تو چپ ہی رہو ورنہ یہ لوگ مُجھے کچھ کریں يا نہیں میں تمہیں ضرور کچھ کر دوں گی۔۔۔۔ دوستی کے نام پر کلنک تُمہارے کہنے پر یقین کیا تھا میں نے ۔۔۔
ماہی کی آواز اب تیز اور چبھتی ہوئی تھی
چلو دوستی صرف نام کی تھی تُمہاری۔۔۔ لیکن تُم میں نہ غیرت ہے نہ تُمہارا ضمیر زندہ ہے۔۔۔ تم نے ان درندوں کے ساتھ کھڑے ہو کر میرا نہیں اپنی ہی عورت ذات کا مذاق اُڑایا ہے۔۔۔

اریبہ کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ لبوں پر کوئی لفظ نہ آیا۔ وہ پیچھے ہٹی جیسے ماہی کی باتوں نے اس کے اندر کہیں کچھ چیر دیا ہو۔

اور تم سب… ماہی نے نظر دوڑائی عبداللہ روشان آصف بسمہ اور ساحل پر تم سب سمجھتے ہو کہ تمہارا غرور تمہارا زہر جیت جائے گا؟

تو یاد رکھو! میں تمہارے سامنے نہ جھکی ہوں نہ جھکوں گی! اور اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا نا…
اس نے زمین سے ایک نوکیلا پتھر اٹھایا ہاتھ خون سے رس رہا تھا مگر آنکھوں میں چمک تھی ایسی چمک جو کئی آنکھوں کو اندھا کر سکتی تھی۔
تو میں وہ طوفان بن جاؤں گی جسے روکنے کی تم میں ہمت نہیں۔۔۔

اب ہوا میں سنّاٹا چھا گیا تھا۔

عبداللہ نے دانت پیسے
تم ہمیں دھمکا رہی ہو؟

نہیں… ماہی نے آگے بڑھ کر کہا یہ دھمکی نہیں وارننگ ہے۔۔۔۔

تُم ہمارا مقابلہ تو کر سکتی ہو لیکن ہم ساروں کا نہیں۔۔ جب سب تُم پر ایک ساتھ حملے کرے گے تو کس کس کو روکو گی؟ کیسے روکو گی؟۔۔۔ ابھی بھی وقت ہے ہار مان لو۔۔۔
عبداللہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں وہی پرانا غرور

پھر عبداللہ نے آگے بڑھ کر ماہی کا ہاتھ جھپٹ لیا اور زہر خند لہجے میں کہا
اسی ہاتھ سے تم نے مارا تھا نا مجھے؟ وہ تھپڑ اب بھی میرے گال پر گونجتا ہے… لیکن آج حساب برابر ہوگا۔۔۔

ماہی کی آنکھوں میں پہلے غصہ ابھرا جیسے وہ فوراً کوئی سخت ردعمل دے گی لیکن…

اُس کی سانس رکنے لگی پلکیں ایک پل کو ساکت ہو گئیں اور آنکھوں میں حیرت کے سائے لرزنے لگے۔ اُس کے چہرے پر ایک انجانا خوف چھا گیا۔۔۔۔

ماہی کی نظریں عبداللہ کے پیچھے کھڑے وجود پر جمی ہوئی تھیں…
وہ بھوری آنکھیں ماہی کو گھور رہی تھیں

ماہی حیرت اور خوف کا ایک مکمل پُتلا بن چکی تھی جیسے زبان ساتھ چھوڑ گئی ہو جیسے جسم نے حرکت کرنا بھول دیا ہو۔

عبداللہ نے اس کیفیت کو محسوس کیا اور اُس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
وہ آگے جھک کر سرگوشی میں بولا
بس یہی چہرہ دیکھنا چاہتا تھا میں… یہی حیرت یہی خوف… ماہی کی آنکھوں میں۔۔۔۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ماہی کی آنکھوں میں وہ خوف اُس کے لیے نہیں تھا…
وہ آنکھیں جسے وہ دیکھ رہی تھی وہ خوف کسی اور کے لیے تھا… عبداللہ کے لیے نہیں۔
کیونکہ ماہی اس سے کبھی نہیں ڈری۔

اریبہ نے اچانک گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا
عبداللہ… پیچھے دیکھو۔۔۔۔

عبداللہ کے ماتھے پر بل پڑے وہ چونک کر پلٹا،
اور جیسے ہی اس کی نظریں اس وجود پر پڑیں اس کے چہرے کی رنگت اُڑ گئی۔

مُجھے مِس کر رہی تھیں کیا۔۔۔؟
ایم ڈی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکراتے ہوئے ماہی سے کہا

عبداللہ کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔
اس کے چہرے سے ساری اکڑ ساری طنزیہ شوخی لمحے بھر میں غائب ہو گئی۔

ماہی نے حیرت سے ایم ڈی کو دیکھا جیسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا ہو۔ ہر بار کی طرح اوپر سے نیچے سیاہ لباس میں ملبوس بھوری آنکھوں میں بے پناہ وحشت لیے، وہ پاکستان میں اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔

How is it possible
یہ… یہ پاکستان آیا کب؟ کیسے؟ اور… اس وقت یہاں؟

یہ میری شکار ہے…
ایم ڈی نے اپنی بھوری نظریں عبداللہ کی طرف گھمائیں۔۔۔
نظریں نہیں جیسے خنجر تھے جو سیدھا عبداللہ کے غرور کو چیر رہے تھے۔
عبداللہ کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ وہ اس کے برے حالات کو جانتا تھا اور ایم ڈی کا یہ جملہ اُس کے اندر ایک سرد لہر دوڑا گیا۔
اس نے ڈر کے مارے ماہی کا پکڑا ہوا ہاتھ فوراً چھوڑ دیا جیسے کسی نے اسے جلتی ہوئی چیز سے چھو لیا ہو۔
اور پھر وہ فوری طور پر پیچھے ہٹتے ہوئے ماہی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر ایم ڈی کے سامنے کر کھڑا کیا۔

کیا مطلب ایم ڈی کی وحشت کراچی میں بھی ہے۔۔

ماہی نے بے یقینی سے عبداللہ اور اس کے دوستوں کو دیکھا جو ڈر کے مارے کھڑے تھے۔۔۔
ایم ڈی نے ماہی کا ہاتھ پکڑتے اپنے پیچھے کیا اور سکون سے آگے بڑھتے ہوئے کہا
آئندہ اس کے آس پاس بھی نظر مت آنا۔۔۔ نہ اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرنا نہ اسے اغواء کرنے کی کوشش کرنا نہ اسے ڈرانے کی کوشش کرنا اور نہ اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرنا۔۔۔
ایم ڈی کا ہر لفظ جیسے دھواں بن کر عبداللہ کے دماغ میں گھوم رہا تھا۔
ایم ڈی کی آواز میں گہری خبردار کرنے والی شدت تھی
کیوں کے یہ پیس میرا ہے۔۔۔
اور یہ سب صرف میں کر سکتا ہوں اس کے ساتھ  کوئی نہیں۔۔۔

پھر ایم ڈی نے اپنے پیچھے کھڑے اپنے دو بندوں کو اشارہ کیا۔۔۔ میں نے کہہ دیا۔۔۔ باقی کا سبق تُم دونوں اس کو سکھا دو ۔۔۔ اور ہاں ان لڑکیوں کو لڑکیوں والا treatment دینا ۔۔۔  پھر ایم ڈی نے  ماہی کا ہاتھ پکڑ لیا، اور ایک سرد نظروں سے عبداللہ اور اس کے ساتھیوں کی طرف دیکھا، اور پھر ماہی کو لیتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔

ماہی نے غصے سے اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی،  کہاں لے کر جا رہے ہو؟ ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔۔
وہ اپنی پوری طاقت سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن ایم ڈی کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔
ایم ڈی نے اس کا ہاتھ اور بھی مضبوطی سے پکڑ لیا اور پھر پیچھے مڑ کر ماہی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا،
چپ چاپ  چلو، نہیں تو اُٹھا کے لے جاؤ گا۔
اس کی آواز میں ایک وحشیانہ سرسراہٹ تھی، جیسے وہ ماہی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا۔

ماہی  ایک پل کو رکی اور پھر کہا، اٹھا کے؟؟؟

اب اگر تم نے میرا ہاتھ نہیں چھوڑا نہ تو..
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی، ایم ڈی نے بیچ میں ہی کہا،

تو کیا؟ وہ اس کی آنکھوں میں غصہ اور کنٹرول سے بھرپور گھور رہا تھا۔

ماہی نے تیز آواز میں کہا، تم… تم مجھے ایسے نہیں دیکھو۔۔۔۔

ایم ڈی نے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا، تو کیا؟ پیار سے دیکھوں؟

ماہی کا غصہ اور بڑھ گیا، اور وہ سخت لہجے میں کہنے لگی،
میں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔

ایم ڈی نے اپنی بھوری آنکھوں سے ماہی کو گھورا اور کہا،
پہلے دیکھ تو لو، پھر توڑنے کے بارے میں سوچنا۔

ماہی نے تیز غصے میں کہا،
آ ہ ہ ہ ہ تم۔۔۔۔
اور پھر ایک دفعہ پھر اس نے کوشش کی،
ہاتھ چھوڑو، جاہل انسان  کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے؟

ایم ڈی نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
آپکے سسرال۔۔۔۔

پھر ایم۔ڈی نے ایک ہی جھٹکے میں اسے زبردستی گاڑی میں دھکیلا، اور پچھلے دونوں دروازے اندر سے لاک کر دیے۔ خود اگلی سیٹ پر بیٹھا، گاڑی اسٹارٹ کی، اور دھواں چھوڑتی کار سنسان سڑک پر ایک بار پھر چل پڑی۔

ماہی چیخی،
کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟

ایم ڈی نے ایک لمحہ کے لیے آئینے میں ماہی کو دیکھا، پھر مدھم لہجے میں بولا،
جہنم میں۔

ماہی نے دانت پیسے،
ہاں تو اکیلے جاؤ نا، وہاں صرف تمہاری ضرورت ہے۔ میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔

میں تمہیں اللہ کے جہنم میں نہیں، ایم۔ڈی کے جہنم میں لے جا رہا ہوں۔ جہاں صرف تمہاری جگہ ہے۔۔۔۔صرف تمہاری۔۔۔

ماہی نے طنزیہ انداز میں کہا،
واقعی؟ میں تو ڈر ہی گئی۔۔

پھر اس کی نظریں بھڑکیں،
اسی گاڑی پہ تُم مُجھے واپس گھر چھوڑو گے۔
دیکھنا، تمہاری جہنم کو اگر میں نے تمہارے لیے جہنم نہ کر دیا نا، تو میرا نام بھی ماہی نہیں۔۔۔

ایم ڈی نے ایک نگاہ پیچھے ڈالی، اس کی آنکھوں میں عجیب سا وقار اور وہشیانہ سرشاری تھی،
تو پھر نیا نام سوچ لو اپنا، مس ماہی۔ کیونکہ اُس جہنم سے نہ تو تم میری مرضی کے بغیر باہر جا سکتی ہو، اور نہ ہی دوبارہ کبھی میری گاڑی میں بیٹھنے کی دعوت پا سکتی ہو۔

ماہی نے نگاہوں کا خنجر اس پر پھینکا،
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ جہنم کس کے لیے جہنم بنے گی۔۔۔

ایم۔ڈی نے گہری سانس لی، رخ پھیر کر بولا،
وہ میری جہنم ہے، اور میری جہنم… میرے لیے جنت ہے۔
تمہارے لیے اسے جہنم ثابت کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ماہی کی آنکھوں میں آگ سی چمک اٹھی،
جنت کی باسی تو ماہی بھی نہیں رہی، لیکن جہنم کو جنت میں کیسے بدلا جاتا ہے… یہ ماہی تمہیں کر کے دکھائے گی۔

ایم ڈی نے گاڑی کی رفتار بڑھاتے ہوئے سرگوشی میں کہا،
وہ تو دیکھیں گے، مس ماہی۔۔۔

پھر گاڑی نے تیز موڑ کاٹا، اور زور دار جھٹکے سے ماہی دوسری طرف لڑھک گئی۔ شکر ہے کہ سیٹ کا کونا نرم تھا، ورنہ چوٹ گہری ہو سکتی تھی۔

ماہی چیخی،
جاہل انسان! گاڑی چلانی نہیں آتی۔۔۔

ایم۔ڈی نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا، بس ہنکارہ مارا،
تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں، چِلّانا بند کرو۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ سب وہ جان بوجھ کر کر رہا ہو، جیسے ماہی کی جھنجھلاہٹ اس کی خاموش مسکراہٹ کا ایندھن ہو۔

ماہی نے غصے سے پھر کہا،
اچھا؟ رُکو ذرا… ابھی بتاتی ہوں۔۔۔

وہ پچھلی سیٹ سے غصے سے اگلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی۔

ماہی کو آگے آتے دیکھ وہ مڑا اور چیخا،
یہ کیا کر رہی ہو؟ جاہل لڑکی۔۔۔

وہ اب اُس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئی، اُسے گھورتے ہوئے بولی،
ہاں، اب بولو نا؟!
سیدھا اپنے ہاتھوں سے گلا ہی دبا دوں گی تمہارا۔۔۔۔

ایم۔ڈی نے طنزاً کہا،
اوہ، واقعی؟

ماہی نے مزید دھمکی دی،
آزما کر دیکھ لو۔۔۔۔

وہ بھوکی شیرنی کی طرح گھور رہی تھی، جیسے ایک پل میں چیر پھاڑ دے گی۔

ایک معمولی سے ایکسیڈنٹ پر اگر وہ اتنی آگ بگولا ہو رہی تھی… ایم۔ڈی نے سوچا، اگر اُس نے کچھ اور کر دیا تو یہ لڑکی کیا آسمان سر پر اُٹھا لے گی؟
کیا یہ ہر کسی کے سر پر اسی طرح چڑھ جاتی ہے؟

اسی لمحے، ایم۔ڈی کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی،
وہ اپنی منزل پر پہنچ چکا تھا۔

گاڑی کی رفتار دھیمی ہوئی، پھر مکمل طور پر رک گئی۔

وہ اتر کر دوسری طرف آیا، دروازہ کھولا اور ماہی کو بازو سے پکڑ کر نیچے اتار لیا۔
ماہی نے اپنی کلائیاں چھڑانے کی کوشش کی، لیکن اچانک اس کی نظریں سامنے پڑیں۔

ایک مرد کھڑا تھا، تھوڑا فاصلے پر… وہی دُبلا پتلا سا، چھوٹی چھوٹی آنکھوں والا۔

حامد…
ماہی کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رُک گئی۔

وہ دل میں بڑبڑائی،
اوہ گڈ… اب یہ ولید کو سب بتا دے گا۔۔۔
جتنا خوف ایم۔ڈی کا نہیں تھا، اُس سے کہیں زیادہ ڈر ولید کا تھا…

ایم ڈی نے بازو پکڑا اور بولا،
چلو۔

وہ اسے اندر کھینچ کر لے آیا۔

کمرے کے ایک کونے میں نائلہ نیم جان حالت میں بیٹھی تھی،
بال بکھرے ہوئے، چہرہ خون میں لت پت، اور آنکھوں میں بےبسی تیر رہی تھی۔

ماہی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
وہ بے یقینی سے نائلہ کو گھورنے لگی۔

سوچوں کا طوفان ذہن میں اٹھ کھڑا ہوا—
نائلہ یہاں کیسے؟
ایم۔ڈی نے اسے کیوں پکڑا؟

ماہی بے اختیار بولی،
یہ… یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟

ایم ڈی نے سناٹا چیرتے ہوئے کہا،
یہ یہاں اس لیے ہے… کیونکہ اس کی موت آنے والی ہے۔

ماہی کا سانس اٹک گیا،
کیا مطلب؟
اس نے نہ سمجھی سے ایم ڈی کو گھورا۔

ایم ڈی نے سادگی مگر سفاکی سے کہا،
مطلب یہ کہ… یہ وہ لڑکی ہے جس نے مجھے ہلکا سمجھا تھا۔
سوچا میرا نام استعمال کرے گی، اور میں چھوڑ دوں گا؟
میں ایک چیونٹی کو بھی نہ چھوڑوں، تو یہ تو پھر انسان ہے۔

ماہی کا دل دہل گیا —
اہ… یہ درندہ!
انسان ہے یا جانور؟
اسے جانوروں پر بھی رحم نہیں آتا…

ایک طرف ولید کا عکس ابھرا،
جس نے نہ صرف نائلہ کو معاف کیا بلکہ خود بھی معافی مانگی تھی۔

اور دوسری طرف… یہ ایم ڈی،
جو غرور اور انتقام کی آگ میں جھلسا ہوا تھا۔

ایم ڈی نے پھر سرد لہجے میں کہا،
اس نے میرے بارے میں غلط افواہیں پھیلائیں۔
کہا، ‘ایم۔ڈی لڑکیوں کے ساتھ کچھ نہیں کرتا۔’
تو اب اپنی آنکھوں سے دیکھے گی کہ میں کیا کرتا ہوں۔
لڑکی ہو یا لڑکا، ایم۔ڈی کسی کو نہیں چھوڑتا۔

اسی لمحے، نائلہ کے ساتھ کھڑے دو آدمی اس پر تشدد کر رہے تھے۔

نائلہ کے ناک اور منہ سے خون بہہ رہا تھا،
اور وہ جیسے مردہ ہو چکی تھی

یہ کیا کر رہے ہو! اس کی حالت تو دیکھو۔۔۔
نائلہ کی حالت بدتر سے بھی بدتر تھی۔۔۔ ماہی تو کیا یہاں کوئی بھی ہوتا تو اُس کا دل دہل جاتا۔۔۔

She deserves this…
ایم ڈی نے زہر خند لہجے میں کہا

پھر حامد، جو ایک کونے میں کھڑا تھا، ایم۔ڈی کو بندوق تھمادی
کوئی حکم، کوئی اشارہ نہیں۔۔۔
سب کو اپنا اپنا کام معلوم تھا، کس کو کس وقت کیا کام کرنا ہے۔۔۔
تم سوچ رہی ہو، میں تمہیں یہ سب کیوں دکھا رہا ہوں؟
تو سنو…
یہی حال تمہارا ہونے والا ہے، ماہی۔۔۔ ایم ڈی نے بندوق اپنے ہاتھوں میں گھومتے ہوئے کہا

میں بھی بتا دوں ماہی۔۔۔ نائلہ نہیں ہے۔۔۔
وہ غصے سے بولی۔۔۔

نائلہ  دیکھ سکتی تھی، مگر بولنے کی حالت میں نہ تھی۔ وہ ایک بے جان جسم بن چکی تھی — زندہ لاش! اُسے اتنا مارا گیا تھا کہ اب وہ بس ختم ہونے کو تھی۔۔۔

ایم۔ڈی نے بندوق اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا 
اچھا، لو۔۔۔۔۔

اس سے تُمہارے اوپر گولی گولی چلانی ہے، کیا؟ ماہی نے گھور کر کہا

مجھے پر گولی چلا سکتی ہو تم؟ ایم ڈی اپنی آنکھیں چھوٹی چھوٹی کیے  اُس کی طرف دیکھ کر کہا

ہممم… صرف تم پر۔۔۔

میرے بارے میں بعد میں سوچنا ابھی نائلہ پر گولی چلاؤ۔

کیوں؟

کیا اس نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا؟ سزا نہیں دوگی اسے؟

نہیں…میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ ماہی نے اپنی نظریں نیچے کرتے کہا

ایم۔ڈی نے حیرت سے ماہی کو دیکھا۔۔۔
اتنی بڑی بڑی باتیں کرتی تھی،
اور اب کہہ رہی ہے، ‘میں نے معاف کر دیا’…

صرف بڑی بڑی باتیں ہی کرتی ہو تم…ورنہ مار تُم ایک چونٹی کو بھی نہیں سکتی ہوں۔۔
ماہی نے پرسکون مگر گہرے لہجے میں، نظریں جھکائے کہا۔۔۔
معاف کرنے والا…
بدلہ لینے والے سے زیادہ بڑا ہوتا ہے…
کیونکہ معاف کرنا…
کسی کا گلا گھونٹنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
بدلہ لینا تو آسان ہے…
دل کی آگ سے جل کر کسی کا سب کچھ چھین لینا،
یہ تو ہر کمزور، ہر بزدل کر سکتا ہے۔
لیکن معاف کرنا؟
یہ ہمت مانگتا ہے، ظرف مانگتا ہے…
اور ظرف ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔
میں نے نائلہ کو معاف کیا…
کیونکہ میں تم جیسی نہیں ہوں،
میں کمزور نہیں ہوں۔۔۔
ماہی کا ظرف بہت بڑا ہے۔۔۔
ماہی کی نظریں نائلہ پر تھیں، لیکن الفاظ جیسے کہیں اور کے نکل رہے ہوں… کسی اور کے ہوں، شاید ولید کے… یا شاید اب اس کے اپنے۔ وہ خود بھی حیران تھی کہ وہ یہ سب کیوں کہہ رہی ہے، وہ تو ہمیشہ بدلا لینے والوں میں سے تھی۔۔۔اور اب معافی۔۔۔

ما…ہ…ی…
وہ بہت دیر بولنے کی کوششں  کر رہی تھی لیکن تکلیف کی شدت اتنی تھی کے لبوں سے کچھ نِکلا نہیں پاتا، بالآخر، بہت مشکل سے اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ۔۔

ایم ڈی نے غصے میں نائلہ کی طرف دیکھ۔۔
اب تک تمہیں کلمہ پڑھ لینا چاہیے تھا۔
یہ کہتے ہی اس نے نائلہ پر گولی چلا دی…

اس کے بعد وہ اپنی غصے سے بھری آنکھوں کے ساتھ ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،
دیکھ لو، اور ذہن نشین کر لو، تمہاری حالت بھی اس سے بدتر ہونے والی ہے۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اپنے آدمیوں کو حکم دے کر ہے وہاں سے نکل گیا پیچھے پیچھے اُس کے ساتھ اس کے آدمی بھی  یہاں سے نکل گئے۔۔

ماہی بے بسی کی حالت میں، نائلہ کی لاش کے قریب کھڑی تھی،
جو خون میں لت پت ہو چکی تھی۔
وہ نائلہ کی لاش کو حیرت اور دلی تکلیف کے ساتھ دیکھ رہی تھی،
آنکھیں نم ہو چکی تھیں، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب و غریب درد تھا۔ اتنا تو مار مار کر بیچاری کی حالت خراب کردی تھی گولی مارنا بھی ضروری تھا

اسی دوران، حامد اندر آگیا اور اپنی بائیک کی چابی ماہی کی طرف پھینکی۔
یہاں ولید نہیں ہے جو تمہیں بچانے کے لیے آ سکے،
اس لیے وقت ضائع کیے بغیر اٹھو اور گھر جاؤ۔
بائیک چلانی آتی ہے نا؟

یُو ایڈیٹ۔۔۔
تم سے تمہاری مہربانی مانگی ہے؟
کیا کسی نے کہا تھا کہ میں تمہاری مدد کی محتاج ہوں؟

ہمم… چلا نا آتی ہے، 
okay take care۔
یہ کہہ کر وہ جلدی سے وہاں سے نکل گیا،
تاکہ ایم۔ڈی کو کوئی خبر نہ ہو جائے۔

ماہی بھی پھر نائلہ کی لاش کو چھوڑ کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔،
کیونکہ اس کا دل یہ کہہ رہا تھا کہ اس کا اسپتال لے جانا فائدہ نہیں۔وہ جانتی تھی کہ نائلہ مر چکی تھی،
اس لیے اس نے بہتر سمجھا کہ وہ اسے یہیں چھوڑ کر چلی جائے، پولیس خود سنبمال لے گی۔۔۔

++++++++++++

ما…ہ…ی…
نائلہ زندہ تھی، ہاں وہ زندہ تھی، گولی اس کے سینے کی بجائے بازو پر لگی تھی، جس کی وجہ سے وہ مر نہیں سکی، لیکن درد اتنا شدید تھا کہ وہ حرکت بھی نہیں کر سکتی تھی، نہ ہی ٹھیک سے بول سکتی تھی۔

اسی حالت میں، اُس نے محسوس کیا کہ جیسے ایک سایہ اس کے قریب آیا ہو، وہ کرسی سے نیچے گر چکی تھی، اور اس کی حالت ایسی تھی کہ وہ اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے بھی اپنے چہرے کو اوپر نہیں کر سکتی تھی، اس کی حالت ایسی تھی کہ وہ اپنی جسم کی کمزوری سے ہر حرکت کے خوف میں تھی۔

اور پھر وہ آواز آئی،
تمہارے بھائی کو حارث نے نہیں،
بلکہ ولید نے مارا تھا۔
اور تمہیں یہ تو پتا ہوگا کہ ولید کون ہے؟
جب معافی مانگنے کا کہا تھا،
تو معافی مان لینا چاہیے تھا…
اب کس کو پتا تھا کہ تم معافی نہیں مانگو گی،
اور یہ کنجر تمہاری حالت ایسی کرے گا؟

نائلہ بے حد تکلیف میں، صرف یہی الفاظ ہونٹوں سے نکال سکی تھی…
ما…فی… و…لی…د…

اب اس درندے نے اس کے سینے میں چاقو گھونپ دیا،
اور پھر اپنے بوٹ سے اس کا چہرہ کُچل دیا۔

وہ اتنی وحشیانہ شدت سے اس پر حملہ کیا۔۔
کہ اس کا چہرہ بھی اب دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔

وہ درد، خوف اور تکلیف سے مر گئی۔۔۔
اور اس کے بعد، نائلہ کا یہ دردناک باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔۔۔

اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو معافی دینے کی بجائے
نفرت کی پگڈنڈی پر چل کر دوسروں کا خاتمہ کرنے میں اپنا سکون پاتے ہیں۔

++++++++++++++

شام کا وقت تھا، ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی اور آسمان پر ہلکے بادل تیر رہے تھے۔ ابھی ابھی سونیہ بیگم گھر کے اندر داخل ہوئیں، چہرے پر تھکن اور ماتھے پر ہلکی سی شکن تھی۔ اندر آتے ہی اُن کی نظریں کسی کو تلاش کرنے لگیں۔

ماہی۔۔۔ کہاں ہو؟ سونیہ پھوپو نے ذرا بلند آواز میں پکارا۔

چند لمحوں بعد ماہی لانچ سے باہر آئی، ہاتھ میں فون لیے، کانوں میں ہینڈ فری لگی تھی۔۔۔
ہوں پھپھو۔۔۔ کیا ہوا؟ اندر آکر سانس تو لیں لیں

سونیہ پھوپو اپنا بیگ سائڈ میں رکھتی بولیں
کام تو سارا کروا دیا نا؟

ماہی نے فوراً سر ہلایا
جی ہاں، کروا دیا ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔

سونیہ پھوپو نے تھکی ہوئی آواز میں کہا
اچھا ٹھیک ہے، اب میں آرام کرنے جا رہی ہوں۔ جب تمہاری خالہ آئیں، تو مجھے بلا لینا۔

ماہی نے ذرا جھجکتے ہوئے کہا
اچھا پھپھو… سنیں نا… ایک پرابلم ہو گئی ہے۔

سونیہ پھوپو نے فوراً پوچھا
اب کیا کیا ماہی تم نے؟

ماہی نے منہ بنایا
آہ پھپھو۔۔۔

سونیہ پھوپو نے گہری سانس لے کر کہا
اچھا نا، بتاؤ کیا ہوا؟

ماہی نے نظریں چرا کر کہا
وہ… آپ کی کار…

سونیہ پھوپو کا دل دھک سے رہ گیا
کیا کیا کار کے ساتھ؟

ماہی نے دھیمی آواز میں کہا
اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔۔۔

سونیہ پھوپو نے فوراً ماہی کا چہرہ تھاما
کیا؟ ایکسیڈنٹ؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟

ماہی نے آہستہ سے کہا
جی پھپھو، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس… آپ کی کار تھوڑی سی نہیں، بلکہ کافی زیادہ ٹھیک نہیں۔۔۔

سونیہ پھوپو نے گہرا سانس لیا
کوئی نہیں، کار ہم ریپئر کروا لیں گے۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف چل دیں۔

ماہی انہیں جاتا دیکھتی رہی، جانتی تھی کہ وہ ناراض نہیں ہوں گی۔ آخر وہ اُن کی لاڈلی تھیں، اور یہ پہلا حادثہ نہیں تھا۔

انہیں ماہی سے ایسی محبت تھی کہ اگر ماہی ان کی جان بھی لے لیتی، وہ شاید تب بھی مسکرا کر گلے لگا لیتیں۔ ان کی ساری فکر صرف ماہی کی سلامتی تھی — باقی سب کچھ معاف تھا۔

++++++++++

ڈرائنگ روم میں سب جمع تھے۔ ماحول میں ایک انجانی سی سنجیدگی گھلی ہوئی تھی۔ سونیہ پھوپو نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا
چلو اب بتا بھی دو نازیہ، اتنی دور سے کون سی ضروری بات کرنے آئی ہو؟

نازیہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا
صبر کرو سونیہ، ابھی تو آئی ہوں، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟

ماحول بظاہر خوشگوار تھا، مگر ماہی کے دل میں ایک عجیب سا خلجان تھا۔ حارث چپ چاپ منہ بنائے بیٹھا تھا، جیسے زبردستی بٹھایا گیا ہو۔ وہیں، ولید خلاف توقع بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ مہر گھر کا جائزہ لینے میں مصروف تھی اور خالہ و خالو خاص اہتمام کے ساتھ تیار ہو کر آئے تھے، جیسے کوئی بڑی خبر دینے والے ہوں۔

میں بہت تھک گیا ہوں، مجھے آرام کرنا ہے, حارث نے بے زاری سے کہا۔

سونیہ پھوپو نے فوراً کہا
ہاں جاؤ اوپر، وہی کمرہ ہے تمھارا جو پہلے تھا۔

مجھے یاد نہیں، ماہی دکھا دو زرا, حارث نے نظریں چرا کر کہا۔

ماہی نے گردن ہلائی اور اٹھتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے، چلو۔

وہ دونوں جیسے ہی کمرے سے نکلے، تھوڑی دیر بعد ولید بولا
میں بھی جا رہا ہوں۔

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ماہی نے حارث کی جانب دیکھا،
کیسے ہو؟

حارث نے بے نیازی سے کہا
مجھے کیا ہونا ہے، ٹھیک ہوں۔

ماہی رک کر بولی
“I’m sorry
… وہ میری وجہ سے گولی لگی تمہیں۔۔۔

حارث نے پلٹ کر اسے دیکھا،
گولی؟ کون سی گولی…؟
پھر خود ہی مسکرا کر بولا
اوہ ہاں… گولی… کوئی نہیں، مرد کو درد نہیں ہوتا۔

اچھا، تم دونوں وہاں سے نکلے کیسے؟

حارث نے پوچھا
اور تم؟ تم ایم ڈی سے کیسے بچ نکلی؟

ماہی نے مدھم لہجے میں کہا
میں تو بھاگ گئی تھی… کسی طرح بچ نکل آئی۔

حارث نے قہقہہ لگایا
ہم بھی بھاگ گئے تھے، جیک کچھ نہ کر سکا، ایم ڈی نے اسے تمھارے بے ہوش ہونے کے بعد ہی مار دیا تھا۔

ماہی حیران ہوئی
تمہیں کیسے پتہ؟ تمہیں تو گولی لگی تھی…

حارث نے کندھے اُچکائے
ولید نے بتایا۔ ہم دونوں تو تقریباً مر ہی رہے تھے، وہی سب دیکھ رہا تھا۔

تو پھر وہ تمہیں ہسپتال تک کیسے لے گیا؟

حارث نے جھنجھلا کر کہا
اوہ ماہی، کتنے سوال کرتی ہو! وہ میرا بھائی ہے، سب کچھ کر سکتا ہے — بس کرتا نہیں، وہ الگ بات ہے۔

پھر بولا
یار باقی باتیں کل کریں گے، ابھی تو میں واقعی تھک گیا ہوں۔

ماہی پیچھے مڑی ہی تھی کہ ولید سے ٹکرا گئی۔

ماہی نے کہا
جنگلی انسان کے بچے بن جاؤ! کیا ہے؟ راستے میں کھڑے ہو؟

ولید نے ڈرامائی انداز میں کہا
دل بند ہو گیا تھا، مگر آپ سے ٹکرانے کے بعد پھر سے دھڑکنے لگا ہے۔

ماہی نے آنکھیں گھمائیں
اووو کیا بک رہے ہو، بخار تو نہیں ہو گیا؟

ولید نے شرارت سے کہا
بخار نہیں… عشق ہوا ہے — وہ بھی آپ سے۔۔۔

ماہی حیرت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی،

ولید نے مُسکراتے ہوئے کہا
او ہو ماہی، مذاق کر رہا ہوں! سیریس کیوں ہو گئی؟

ماہی نے سینے پر ہاتھ مارا اور بولی
شکر ہے۔۔۔ نہیں تو ابھی ایک لگا دیتی تمہیں میں۔۔۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *