Dil ya dharkan Episode 21 written by siddiqui

دل یہ دھڑکن ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۱

ایسا کرو، بھائی صاحب کو کال کر لو کہ کل لنچ پر آ جائیں۔ میں سوچ رہی ہوں اُن کے سامنے ہی بات کر لوں، تو زیادہ بہتر رہے گا۔ نازیہ بیگم نے ولید کے جانے کے بعد کہا

سونیہ پھوپو نے بھنویں اُچکائیں،
او ہو! ایسی بھی کیا بات ہے؟ تم کیوں اتنا سسپنس کریئیٹ کر رہی ہو؟

نازیہ بیگم نے ایک پراسرار سی مسکراہٹ دی اور آہستہ بولیں
بس، اب میں وہ بات اُن کے سامنے ہی کروں گی۔
پھر صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا
اب میں تھوڑا آرام کر لوں، لمبا سفر تھا۔ باقی باتیں کل …
نازیہ بیگم اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں، مگر ان کے لفظ پیچھے ایک سوال چھوڑ گئے۔

++++++++++++

ماہی ابھی ابھی آنکھوں میں نیند کی نمی لیے، کمر پر ہاتھ رکھے کچن میں داخل ہوئی تو وہاں سونیہ پھپھو تھری پیس سوٹ میں تیار چہرے پر ہلکا میکپ، بریانی دم پر لگا رہی تھیں۔۔

ماہی نے حیرانی سے کہا
ارے پھپھو! اتنا تیار شیار ہو کر کہیں جا رہی ہیں کیا؟
ابھی دن کے ایک ہی بجے تھے، اور ماہی کو آفس نہیں جانا تھا،  اسی لیے وہ آرام سے سو کر ابھی اُٹھ رہی تھی۔۔

سونیہ پھوپو نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا
تم ابھی اُٹھ کر آئی ہو؟ آفس کی اسی لیے چھٹی کی ہے، سونے کے لیے

ماہی جھینپ کر بولی
نہیں وہ تو خالہ آئی ہیں اسی لیے کی۔۔۔
ساتھ ہی وہ جھوٹی معصومیت کے ساتھ مسکرا دی

سونیہ پھوپو نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا
ہاں تمہاری خالہ تو صبح سے اُٹھی ہوئی ہیں، اور صبح سے میرا دماغ خراب کر رہی ہیں۔ لگتا ہے خالہ کم، ساس زیادہ ہیں میری۔ انہی کے کہنے پر مجھے دوپہر کو یوں تیار بھی ہونا پڑا۔۔۔

ماہی چونک کر بولی
وہ کیوں؟

سونیہ بیگم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا
بھائی صاحب آ رہے ہیں نا، اسی لیے…

ماہی نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں
وہ کیوں…؟

سونیہ پھوپو نے ہاتھ اٹھا کر کہا
یہ سب اپنی خالہ سے ہی پوچھو، اُن کے پلان میں سب کچھ ہے، بس ہمیں صرف کردار ادا کرنا ہے۔
(پھپھو کا لہجہ جل کر کوئلہ ہو چکا تھا
پھر کچن سے نکلتے  پلٹ کر بولیں
اور ہاں! میں اب تمھیں کوئی ناشتہ نہیں بناکر دینےوالی۔ ابھی کھانے کا وقت ہے، جو دل کرے، خود بنا لو۔ اُنہیں نازیہ بیگم نے صبح سے اتنا تنگ کیا تھا کہ اُن کا مُوڈ بگڑ چُکا تھا تبھی وہ ماہی سے بھی اس طرح بات کر رہی تھیں۔۔۔

ماہی نے  ہنستے ہوئے کہا
اچھا..۔۔

سونیہ بیگم نے گھور کر دیکھا
اور اپنا حلیہ بھی درست کر لو! نہیں تو اگلا نمبر تمھارا ہے۔۔۔

ماہی نے قہقہہ لگایا۔۔۔
ہاہاہا! ماہی تو ایسی ہی رہے گی پھپھو۔

سونیہ بیگم نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا
ہاں، اب یہی باقی رہ گیا ہے کہ تم اس کی ساس بن جاؤ۔۔۔

ماہی نے مسکراہٹ دباتے ہوئے بات بدلی
پھپھو، وہ مہر، حارث اور ولید اُٹھ گئے؟

ہاں ہاں! وہ تینوں تو نو بجے سے جاگے ہوئے ہیں۔ اور ولید صاحب کی کمپنی کی وجہ سے ارشد صاحب بھی آج آفس نہیں گئے۔ سارا آفس کا کام منیجر پر چھوڑ دیا ہے۔

ماہی حیرت سے بولی
اس کی وجہ سے کیوں نہیں گئے؟

کیوں کہ ارشد صاحب جنہیں کسی کی کمپنی اچھی نہیں لگتی، ولید کی کمپنی بڑی پسند آ گئی ہے۔ باتوں میں لگے ہیں دونوں۔
اور حارث اپنے کمرے میں ہے۔ بیچاری مہر تو کب سے تمھارے اُٹھنے کا انتظار کر رہی ہے۔ پہلی بار پاکستان آئی ہے، اور تب سے ایک ہی رَٹ لگائی ہوئی ہے کہ پورا پاکستان گھومنا ہے۔

ماہی ہنستے ہوئے بولی
ہاہا مہر بھی نا… چلو میں ناشتہ کر لوں، پھر اُسے کہیں لے چلتی ہوں۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے نکل گئیں
ماہی نے فریج کھولا، اور ہمیشہ کی طرح بریڈ جیم نکالا۔ چائے بنانا تو آتی تھا، مگر اس سے آگے کی دنیا ابھی بھی اس کے لیے نئی تھی۔ چائے چڑھاتے ہوئے وہ سوچنے لگی —
خالہ کو ایسی بھی کونسی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
ماہی ابھی کچن کے کاؤنٹر پر، ہاتھ میں بریڈ جیم لیے  ناشتہ ہی کر رہی تھی کہ اچانک ولید اندر آیا۔
یہ کوئی ٹائم ہے اُٹھنے کا، ماہی؟
کچن میں آتے ہی جیسے عدالت لگا لی ہو

ماہی نے برا سا منہ بنایا،
کیا ہے؟ کچن میں کیا لینے آئے ہو؟

ولید کندھے اُچکاتے ہوئے بولا
پانی…

ماہی نے جلدی سے بوتل کی طرف اشارہ کیا،
لو… اور جاؤ۔۔۔

ولید نے پھر کہا
یہ کوئی جگہ ہے ناشتہ کرنے کی؟

ماہی نے پلٹ کر دیکھا، آنکھیں گھما کر بولی
اُفف…
(اور وہ ہاتھ میں ویسے ہی بریڈ لیے تیزی سے یہاں سے نکل گئی۔۔)

ابھی ولید اُس کے پیچھے جاتا لیکن ڈرائنگ روم میں ابّا اور انکل اُس کا پانی کے ساتھ انتظار کر رہے تھے ۔ سو ولید نے دانت پیسے، پانی کی بوتل اُٹھائی اور وہیں سے پلٹ گیا۔

ابھی ماہی بریڈ کھاتے کھاتے  اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب حارث اپنے کمرے سے نکلتا اسے نظر آگیا ۔۔
Good morning۔۔۔۔
حارث نے نرم آواز میں کہا

ماہی ایک پل کو رکی، چہرے پر بےساختہ مسکراہٹ آئی، پھر اپنے ہاتھ میں بریڈ دیکھ مسکرا کے بولی۔۔
وہ… مجھے آج آفس نہیں جانا تھا نا…
نہ چاہتے ہوئے بھی وضاحت دینے لگی،

حارث نے فوراََ اُسے ٹوکا۔۔۔
میں نے کوئی وضاحت نہیں مانگی ماہی، نہ ہی کوئی طنز کیا… بس Good Morning کہا ہے۔۔۔

(ایک ولید تھا نیچے  اور ایک حارث تھا…)
ماہی جب جب دل کے کونے میں اُن دونوں کا موازنہ کرتی…تو اُس کے دل سے ایک ہی آواز نکلتی
کیا بیسٹ چوائس تھی اُس کی…

حارث نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
ویسے نیچے کیا چل رہا ہے، کچھ پتہ ہے؟

ماہی نے کندھے اُچکائے
I don’t know…
پھپھو بھی اتنی تیار ہیں ، خالہ بھی ، بابا بھی آ رہے ہیں… پتا نہیں کیا بات ہے؟

حارث نے تھوڑا سا جھک کر، رازدارانہ انداز میں مسکرا کے کہا
میں جانتا ہوں…

ماہی فوراً اس کے قریب ہوئی
مجھے بھی بتاؤ۔۔۔۔

حارث نے مسکراتے ہوئے آنکھ دبائی اور بولا
بس اتنا سمجھ لو… تمہیں ایک ‘good news’ ملنے والی ہے۔
اور یہ کہتے ہی تیزی سے نیچے کی طرف چل دیا
ماہی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی، ہاتھ میں جیم والا بریڈ اور دل میں ہزار سوال۔
Good news?
وہ دل میں بڑبڑائی۔
good news…?
کیسی good news ؟؟

+++++++++++++++

احمد صاحب ، الیاس صاحب ،ارشد صاحب،  نازیہ بیگم ، اور سونیہ پھوپو سب اب ڈرائنگ روم میں موجود تھے۔ ماحول ایک دم رسمی سا ہو گیا تھا۔ چائے، بسکٹ، اور ہلکی پھلکی باتیں چل رہی تھیں
حارث نے آ کر سب سے سلام دعا کی، چند رسمی باتیں کیں، اور پھر بہانہ بنا کر خاموشی سے وہاں سے نکل گیا۔ شاید اسے اندازہ تھا کہ اب جو بات ہونی ہے، وہ اُس کی موجودگی میں نہیں کی جائے گی۔
ادھر مہر نے ماہی کو ایک بار پھر آ گھیر لیا۔
ماہی! کب لے کر جاؤ گی مجھے؟ کتنی بار کہہ چکی ہوں، میں پاکستان گھومنے آئی ہوں، بیٹھنے نہیں۔۔۔۔

اچھا اچھا، چلتے ہیں باہر تھوڑی دیر، ورنہ تم تو جان لے لو گی میری۔۔۔
دونوں ہنستی ہوئی اٹھیں، لیکن جیسے ہی دروازے کی طرف بڑھی تھیں، ولید بھی اُٹھنے لگا۔
مگر…
بیٹا، تم کہاں جا رہے ہو؟
یہ آواز ولید کے والد کی تھی، جنہوں نے اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے روک لیا۔۔
یہیں بیٹھو…  کچھ ضروری بات کرنی ہے…
ولید چونک گیا۔ ماہی کے قدم بھی ایک لمحے کو رُک گئے۔ اُس نے پیچھے مڑ کر ولید کو دیکھا—جو خاموشی سے دوبارہ بیٹھ گیا تھا، مگر اُس کے چہرے پر الجھن صاف نظر آ رہی تھی۔

ماہی اور مہر، آہستہ قدموں سے باہر نکل گئیں، لیکن دل میں ایک بےچینی سی تھی۔
کیا بات ہونے والی ہے؟
اور ولید کو روکنے کی کیا ضرورت تھی؟
کیا یہ… وہی بات ہے، جو حارث نے کہا تھا—
Good News…?

+++++++++

کہاں جاؤ گی؟ ڈرائنگ روم سے باہر آتے ہی ماہی نے مہر سے پوچھا۔۔۔

مہر نے آنکھیں چمکاتے ہوئے کہا
کوئی پارک؟ کوئی پیاری سی جگہ؟ کچھ فَن ٹائم۔۔

اس وقت کون سا پارک کھلا ہوگا مہر؟ ابھی تو چار بجے رہے ہیں… پانچ، چھے بجے تک کھلتے ہیں اچھے والے پارک، جِدھر جھولے وغیرہ ہوتے ہیں۔

مہر نے حیرت سے کہا
ہیں؟ اتنی دیر سے؟ ہماری طرف تو صبح ہی کھل جاتے ہیں سب۔۔۔

ماہی نے ہستے ہوئے کہا
اوہ وہ تو سادہ پارک ہوگا، وہ تو یہاں بھی کھلا ہے جب جانا ہو چلے جانا… لیکن میں اُن پارکس کی بات کر رہی ہوں جہاں جھولے، اور فوڈ کارنر ہوتے ہیں۔

اچھااا… پھر کہاں چلیں؟
ماہی سوچنے لگی وہ مہر کو کہاں لے کر جائے۔۔۔
دیکھتے ہیں… اچھا، میں تو تیار ہوں، تم جا کر جلدی تیار ہو جاؤ۔ پھر نکلتے ہیں۔
اوکے۔۔۔۔
یہ کہہ کر مہر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی، چہرے پر خوشی، اور دل میں ایڈونچر کی تیاری

دیکھیں، اب نازیہ بیگم نے وہ بات شروع کردی تھی جو کہنے وہ اتنی دور سے آئی تھیں۔۔۔
میں سیدھا سیدھا بولوں تو… میں ماہی کو اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کی بہو بھی بنانا چاہتی ہوں۔

سونيہ بیگم نے حیرانی سے نازیہ بیگم کی شکل دیکھی۔۔۔
بہو؟؟ یہ کہہ کر سونیہ پھوپو ارشد صاحب کی طرف دیکھی۔

نازیہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
میری بہن کی ایک ہی بیٹی ہے اور میری بہن بھی اس دنیا میں نہیں رہی۔ اس لیے میں چاہتی ہوں کہ ماہی کا ولید سے رشتہ ہو جائے، تاکہ وہ ہمارے گھر پر ہی رہے۔
نازیہ پھر مزید آگے سے کہا
میں نہیں چاہتی کہ آپ لوگ ماہی کی شادی کہیں اور کریں… ویسے بھی آپ لوگوں کا ہی ماہی پر زیادہ حق ہے، اس لیے میں آپ لوگوں سے ماہی کا رشتہ مانگ رہی ہوں۔ اور کچھ حق میں بھی رکھتی ہوں ماہی پر، تو میں چاہوں گی کہ کسی جائز وجہ کے بغیر انکار نہ کیا جائے۔

اب سب حیرانی سے نازیہ بیگم کو دیکھ رہے تھے، کیونکہ ابھی تک کسی نے بھی ماہی کی شادی کے بارے میں کچھ نہیں سوچا تھا۔

ماہی ڈرائنگ روم کے باہر کھڑی مہر کا انتظار کر رہی تھی کے اُسے ایک دم سے یاد آیا۔۔۔
اوہ… خالہ تو کسی ضروری بات کے لیے آئی تھیں، لیکن میں نے تو سنی ہی نہیں۔ اب ماہی خالہ کی بات سننے کے لیے ڈرائنگ روم کے دروازے کے قریب آکر کھڑی ہوئی ۔اور اس وقت سب نازیہ بیگم کی طرف متوجہ تھے تو کسی نے ماہی پر دھیان نہیں دیا

نازیہ نے اب سب کو نوٹس کرتے کہا
اب آپ لوگ مجھے ایسے نہ دیکھیں…
اور ولید وہاں ایسے بیٹھا تھا جیسے اُس کے رشتے کی بات نہیں کسی اور کے رشتے کی بات چل رہی ہے۔۔۔
نازیہ نے پھر بولنا شروع کیا۔۔
کسی نہ کسی دن تو آپ کو ماہی کی شادی کرنی ہی ہے نا؟ میں جانتی ہوں میرا بیٹا اتنا اچھا نہیں ہے، ماہی کے لیے بالکل نہیں، لیکن یقین کریں ماہی ہمارے گھر میں بہت خوش رہے گی۔ اور ہم ماہی کا نیچر بھی اچھی طرح جانتے ہیں، تو ہمارے گھر میں رہنے میں اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

یہ کس کی بات کر رہی ہیں؟ ماہی نے سوچا۔۔
کیا یہ ولید کی بات کر رہی ہیں؟ مگر ولید تو یہیں بیٹھا ہے۔۔۔ اب اس کے سامنے تو اس کر رشتے کی بات نہیں کرے گی نہ خالہ۔۔۔

ماہی مزید کچھ سمجھ نہیں پاتی، تو وہ تصدیق کرنے کے لیے فوراً سامنے بیٹھے نور سے پوچھا۔۔
یہ کس کی بات کر رہی ہو؟

یہ تمہارے رشتہ کی بات کر رہی ہیں، ماہی۔
نور نے مسکراتے ہوئے بتایا

ہاں، لیکن کس کے لیے؟

نور تھوڑی کنفیوز ہوئی پھر بولی
وہ جو ابھی اندر گیا ہے، تمہارا کزن ہے نا؟ نور کو یہ نہیں پتہ کہ ولید کون ہے اور حارث کون ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ جو ابھی اندر گیا، وہی ہوگا، کیونکہ یہاں بیٹھے ہوئے لڑکے کے سامنے تو اس کے رشتہ کی بات نہیں کی جا سکتی۔۔

مہر تیار ہو کر پیچھے سے آکر ماہی کو کہا
چلیں، اب ہم چلتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ماہ نور بھی تھی۔

اس لڑکی کو بھی لے لو، یہ مجھے ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے ملی تھی۔۔ مہر ماہ نور کو دیکھ کر کہا
نور، تم جاؤ گی؟

ہاں چلو ۔۔۔۔

آجاؤ۔ اب یہ ساری لڑکیاں یہاں سے نکل کر باہر کی طرف روانہ ہوگئی۔

اب بولیں بھی آپ لوگ اتنے خاموش کیوں ہیں۔۔۔؟؟

ارشد صاحب جو ولید کے پاس ہی بیٹھے تھے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
اور پرخُوردگار، تمہارے سامنے ہی تمہارے رشتے کی بات چل رہی ہے اور تم یوں خاموش بیٹھے ہو؟ کچھ تو بولو، تمہاری ماں اتنا کچھ بول گئی تُم بھی کچھ بول دو ڈالا دو اپنا حصہ بھی۔۔۔
وہ اپنا ویسے ہی سنجیدہ اور پُر سکون چہرہ لیے بیٹھا تھا ۔۔۔ ارشد صاحب کی بات سنتے کہنا شروع کیا
میں کیا بولوں، جو بھی کچھ ہوں آپ سب کے سامنے ہوں۔ اگر رشتہ مناسب لگے تو کر دیں، ورنہ میں اُن مردوں کی طرح نہیں ہوں جو ایک انکار کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لوں۔
ولید کی بات گہری تھی، سادہ تھی، اور بے حد معتبر بھی۔

ارشد صاحب، جو شاید ولید کے اس سادگی بھرے جملے سے متاثر ہوئے، تھوڑا مسکرائے، اور جیسے اپنی محبت، شفقت اور منظوری ایک ہی لمحے میں دیتے ہوئے کہا
بیٹا، تُو خاموش ہی رہ… نہیں تو میں ابھی ماہی کو تیرے ساتھ رخصت کر دوں گا۔۔۔

میں اسے لیے خاموش بیٹھا تھا آپنے ہی بولنے پر مجبور کیا۔۔ ولید ہلکا سا مسکراتے کہا

ولید کی بات سن کر سب ہی مسکرانے لگے۔۔۔ پھر الیاس صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ولید اچھا خاصا لڑکا ہے، دیکھنے میں بھی اچھا، سلیقہ مند بھی ہے۔ بس اگر ماہی ہاں کر دے، تو ٹھیک ہے۔
سونیا پھوپو نے بےچینی سے کروٹ بدلی۔
دل ہی دل میں وہ جانتی تھی کہ ماہی ابھی اس سب کے لیے تیار نہیں۔
پر ماہی اتنی جلدی شادی کے لیے نہیں مانے گی۔ اور ویسے بھی، وہ ابھی کمپنی سنبھال رہی ہے، اس کے بہت خواب ہیں۔

نازیہ بیگم نے ایک نرم مگر پُرعزم مسکراہٹ کے ساتھ بات سنبھالی۔
دیکھو، یہ ماہی کی مرضی ہے۔ اگر ماہی یہاں رہنا چاہے گی، تو رہ سکتی ہے۔ ویسے بھی ولید کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے ابا کے ساتھ ایکسپورٹ امپورٹ کے بزنس میں شامل ہو۔ اس کی پوسٹنگ کسی بھی شہر میں ہو سکتی ہے، اور بیچ بیچ میں تبدیلیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔
جب چھٹی ملے گی، وہ یہاں آتا جاتا رہے گا۔
نازیہ بیگم نے لمحہ بھر رُک کر گہری نظر سب پر ڈالی، پھر آہستہ سے کہا
ویسے میرا تو مشورہ ہے کہ ماہی لندن میں زیادہ اچھے سے رہ سکتی ہے۔ وہاں کا ماحول اس کے لیے کافی مناسب ہے۔ وہ شہر، اس کی زندگی… سب کچھ ماہی کو سوٹ کرتا ہے۔

الیاس صاحب نے غور سے نازیہ کی بات سنی، پھر دھیرے سے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے، پھر ماہی سے پوچھ لیتے ہیں۔ جو بھی اس کا جواب ہوگا، وہی سب کے لیے قابلِ قبول ہونا چاہیے۔
یہ کہتے ہی کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
سونیا پھوپو کی نظروں میں الجھن تھی، دل میں نرمی مگر زبان بند۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، لیکن الیاس صاحب کے پرجوش اور مطمئن لہجے کے بعد، چاہ کر بھی کچھ کہہ نہ سکی۔

++++++++++++

کمرہ خاموش تھا، لیکن سونیہ پھوپو کے دل میں ہلچل تھی۔ باتوں باتوں میں سب کچھ کہہ تو دیا تھا، پر دل تھا کہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ جیسے ایک ماں کا دل بیٹی کی بچپن سے جوانی تک کی جھلکیاں ہر لمحے آنکھوں میں لیے، فیصلہ کرنے سے پہلے ایک اور نظر ڈالنا چاہتا ہو۔
میرا دل نہیں مان رہا ابھی ماہی کی شادی کو…

یہ سنتے ہی ارشد صاحب، جو خاموشی سے الماری سے کپڑے نکال رہے تھے، پلٹے۔ ان کے چہرے پر خفگی نہیں، سمجھداری تھی۔

ارشد صاحب نے تھوڑی سختی، لیکن دلیل کے ساتھ کہا
تو کیا جب ماہی پچاس سال کی بُوڑھی ہو جائے گی تب کرو گی اس کی شادی؟ چھبیس کی ہو گئی ہے وہ۔ اور اوپر سے اتنا اچھا رشتہ ہے، بار بار نہیں ملے گا۔

پھر بھی… وہ پریشان تھی۔

ارشد صاحب نے نرمی میں سختی چھپا کر کہا
اور شادی صرف بچے پیدا کرنے کے لیے تو نہیں کرتے۔ ماہی کو ایک اچھے ساتھی کی ضرورت ہے۔ اور ولید جیسا پُرسکون، سمجھدار انسان اُس کی زندگی سنوار دے گا۔

کمرے میں پھر چند لمحے کی خاموشی۔ سونیہ پھوپو کے چہرے پر تذبذب تھا، لیکن دل میں ولید کے لہجے، انداز اور شائستگی کی جھلک بھی صاف تھی۔
ہاں… ولید ہے تو بہت اچھا لڑکا…

ارشد صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
بس یہی تو! ویسے بھی ماہی بھی تمہاری طرح ہے۔ تمہارا بھی تو شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، پھر آج دیکھو… ہر ایک کو زندگی میں کسی ساتھی کی ضرورت پڑتی ہے، چاہے دیر سے ہی سہی۔

سونیا پھوپو نے گہری سانس لی۔ بات سمجھ آ گئی تھی، اور دل نے بھی اب آہستہ آہستہ ماننا شروع کر دیا تھا۔
ہاں ٹھیک ہے، ٹھیک ہے… میں کرتی ہوں اس سے بات…

++++++++++++

کمرے میں دھیمی روشنی پھیلی ہوئی تھی، پردے ہلکی ہوا سے ہل رہے تھے، اور اس ہوا میں ایک نئی خوشبو بسی ہوئی تھی — جیسے کسی خواب کی تعبیر قریب ہو۔

سونیہ پھوپو  نے کمرے میں آتے ہی نرم آواز میں کہا
ماہی… وہ…

ماہی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کاٹتے ہوئے کہا
مجھے پتہ ہے پھوپو…

سونیہ پھوپو نے حیرت سے پوچھا
سن لیا تم نے؟

ہاں… ماہی نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا۔

پھر؟ کیا سوچا تم نے؟

ماہی نے پوری سادگی مگر اندر سے گہرائی لیے ہوئے لہجے میں کہا
میں راضی ہوں پھوپو…

سونیہ پھوپو حیرت سے چیخ اٹھیں
کیاااا؟!

ماہی نے نرمی اور یقین کے ساتھ کہا
مجھے منظور ہے پھوپو… وہ ماہی کے لیے دنیا کا وہ واحد لڑکا ہے جس سے ماہی شادی کرنا چاہتی ہے۔

اتنے میں دروازے کے پیچھے سننے والے سب اندر آ گئے —

الیاس صاحب کی آنکھیں خوشی سے بھیگ گئیں، انہوں نے آگے بڑھ کر ماہی کو گلے لگایا
میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے ماہی… تم نے دل جیت لیا۔۔۔۔

پھر  حفصہ بیگم نے چمکتی دعاؤں کے ساتھ کہا
اللہ تمہیں دنیا کی ہر خوشی سے نوازے، میری بچی۔۔

ارشد صاحب نے فخر سے سر ہلا کر کہا
یہ ہوئی نہ بات! اب لگتا ہے ماہی واقعی ہمارے گھر کی بیٹی ہے۔
I’m proud of you۔۔۔

ماہی سب کے چہروں پر خوشی دیکھ کر مسکرا رہی تھی، مگر جیسے ہی نظر دروازے کی طرف گئی، اُس نے بھانپ لیا کہ سب کی سب باتیں یوں ہی نہیں سنی گئیں…

ماہی نے ہنستے ہوئے کہا
Bad manners
آپ لوگ اتنے بڑے ہو گئے اور ایسی چھپ چھپ کے باتیں سنتے ہیں؟ شرم نہیں آتی۔۔۔

الیاس صاحب ہنستے ہوئے بولے
بھئی! کبھی کبھی ایسے موقع پر چلتا ہے۔۔

ارشد صاحب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا
ہمیں تو یقین ہی نہیں تھا کہ ماہی اتنی آسانی سے مان جائے گی۔ دل خوش کر دیا بیٹا۔۔۔

سونیہ بیگم نے آنکھوں میں نمی لیے کہا
چلو، میں یہ خوشخبری تمہاری خالہ کو دے دوں…

ماہی نے شرارت سے کہا
پھوپو! ابھی رخصتی نہیں ہوئی، ابھی سے نہ روئیں!
ویسے بھی… ماہی یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔۔۔

الیاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
لو بھئی، گھر داماد بناؤ گی تُم اُسے؟

ماہی نے ہنستے ہوئے جواب دیا
ہاں! آپ لوگوں کی زبان میں — گھر داماد۔۔۔

ارشد صاحب نے ہنستے ہوئے کہا
یعنی اس نے قسم کھا رکھی ہے کہ مجھے اور میری بیوی کو کبھی پرائیویسی نہیں دے گی۔ پہلے اکیلی تھی، اب شوہر کے ساتھ مل کر ہمیں تنگ کرے گی۔۔۔

ماہی نے مسکرا کر کہا
Of course۔۔۔۔

++++++++++++

حارث نے مسکرا کر پوچھا،
مان گئی…؟

ولید نے ہلکی سی سانس خارج کرتے ہوئے سر ہلایا،
ہاں…

حارث نے حیرانی سے کہا،
اتنی آسانی سے…؟؟

ولید نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا،
ہاں… مجھے بھی یقین نہیں آ رہا…

حارث نے ہنستے ہوئے چوٹ کی،
شکر ہے مان گئی، نہیں تو آپ کے عشق کو شروع ہوتے ہی گرہن لگ جاتا…

ولید نے نرمی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
پھر تو بہت ہی مشکل ہو جاتا، دھڑکن کے بغیر جینا…

حارث نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا،
بس بس، سستا عاشق بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

ولید کی آواز میں درد کی مٹھاس تھی،
تو کیا جانے عشق کی شدت کو… نام اُس کا پہلے آتا ہے، پھر میری سانسیں چلتی ہیں…

ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔

ولید نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
پتا ہے حارث، جب ماہی نے ‘ہاں’ کہی نا… تو یوں لگا جیسے کائنات نے میری خاموش دعاؤں کا ہاتھ تھام لیا ہو۔ جیسے ہر بے نام انتظار کو آخرکار ایک نام مل گیا ہو…

حارث نے مسکرا کر کہا،
دیکھ، یہ سب تو ٹھیک ہے… لیکن ماہی ہمارے بیچ میں نہیں آنی چاہیے…

ولید کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا،
کیوں آئے گی؟ تُو جانتا ہے اُسـے… وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ اوپر سے تم دونوں کی دوستی بھی تو ہے۔

حارث نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر دھیمے لہجے میں کہا،
مجھے ہابیل اور قابیل کی کہانی سے ڈر لگتا ہے، ولید…

ولید نے چونک کر اس کی طرف دیکھا،
کیا مطلب؟

حارث نے نظریں نہ ملاتے ہوئے کہا،
پتہ نہیں، لیکن میں نے بہت دیکھا ہے… یہ لڑکیاں جب شادی کر کے آتی ہیں، تو وقت کے ساتھ ساتھ شوہر کے گھر والوں کو برداشت نہیں کر پاتیں۔ ساس اور بہو کی کہانی ایک طرف، لیکن بھائی اور اس کے بچوں سے کیا دشمنی؟ کل کو میری بھی شادی ہوگی، میرے بھی بچے ہوں گے، تیرے بھی… اور اگر ہماری بیویاں ایک دوسرے کے بچوں کو برداشت نہ کر سکیں تو؟

ولید نے سر جھکا کر گہری سانس لی،
تُم کہنا کیا چاہتے ہو، حارث؟

حارث کی نظر اب بھی آسمان پر تھی،
میں خود کو تیری نظروں میں قابیل بنتے نہیں دیکھ سکوں گا…

ولید نے ایک جھٹکے سے حارث کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کیا،
کیا بول رہا ہے تُو؟ قابیل؟ تُو ایسا کیسے سوچ سکتا ہے؟ تُو میرا بھائی ہے، خون کا نہیں تو دل کا… تُجھے کیا ہوتا جا رہا ہے؟ صاف صاف بتا مجھے…

حارث نے گہری سانس لی اور وہ سب کہہ ڈالا جو برسوں سے دل کے اندر دفن تھا،
شادی کے بعد جب لڑکیاں جوائنٹ فیملی میں آتی ہیں نا… تو وہ شوہر کی فیملی کو اپنا نہیں سمجھتیں۔ ٹھیک ہے، ساس بہو کا رشتہ الگ ہوتا ہے… لیکن بھائی کا کیا؟ بچوں کا کیا؟
کیا اُن بچوں کا اپنے چچا، ماموں یا تایا پر کوئی حق نہیں ہوتا؟
اور اکثر تو لڑکیاں اتنی سمجھدار ہوتی ہیں، پیاری، سلجھی ہوئی… مگر شادی کے بعد جیسے دل چھوٹا کر لیتی ہیں۔
شوہر کا بھائی اُنہیں رقیب لگنے لگتا ہے۔
اگر شوہر اپنے بھائی کے بچوں کو باہر لے جائے تو مسئلہ،
اگر بھائی کو کچھ پیسے دے دے تو بھی مسئلہ…
کیا وہ اُس کا بھائی نہیں؟
کیا وہ بچے اُس کے نہیں؟
اور یہ زہر، یہ نفرت… کون ڈالتا ہے دلوں میں؟
اکثر پاکستان میں 90٪ جھگڑوں کی جڑ یہی ہوتی ہے۔
بیویاں، جو اپنے شوہر کو ہابیل اور اُس کی نظروں میں اُس کے بھائی کو قابیل بنا دیتی ہیں…

ولید نے اُس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں دکھ اور گہری سوچ، پھر آہستہ سے بولا،
بات تیری سچ ہے، حارث… پر ہر عورت ایسی نہیں ہوتی۔
اصل مسئلہ تب ہوتا ہے جب ہم رشتے نبھانے کے بجائے، جیتنے لگتے ہیں۔
بیوی ہو یا بھائی… سب چاہتے ہیں کہ دوسرا اُسے سمجھے، خود کبھی کسی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
لیکن تُو فکر نہ کر…
ماہی ہمارے بیچ کبھی نہیں آئے گی۔
اور اگر کبھی ایسا لمحہ آیا…
تو میں سب چھوڑ دوں گا، لیکن تجھے نہیں۔
کیونکہ بھائی کا رشتہ بیوی سے نہیں، نصیب سے بنتا ہے…
اور تُو میرے نصیب کا سب سے قیمتی حصہ ہے۔

حارث نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، آخری بار… اور سخت لہجے میں بولا،
جو بھی ہو، اگر ماہی ہمارے بیچ آئی تو… تُو مجھے جانتا ہے ولید…
اتنا کہہ کر وہ یہاں سے نکل گیا۔۔۔

ولید آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ اُس کی آنکھیں نم تھیں، اور دل میں ایک کانپتی ہوئی سی امید…
وہ جیسے دعا کر رہا تھا، خود سے، خاموشی سے، رب سے…
یا اللہ… اس ڈر کو کبھی یقین میں مت بدلنا…
یہ وسوسہ بس وسوسہ ہی رہے، حقیقت نہ بنے…
جس یقین سے میں نے اسے مانگا ہے، اُسی یقین سے اسے مرتے دم تک میرے ساتھ رکھنا۔

++++++++++++

ماہی کے گھر میں جیسے بہار اتر آئی تھی۔
ہر کمرے سے قہقہے، ہنسی، مہندی کی خوشبو، اور گہری باتوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں۔ برآمدے میں مہندی کے پھولوں کے ہار تیار ہو رہے تھے، آنگن میں گلابی اور پیلے پردے لٹکائے جا چکے تھے، اور چھت پر میلاد کی محفل کے لیے گدیوں اور سفید چادروں کا انتظام مکمل ہو چکا تھا۔

الیاس صاحب کی خوشی، سونیہ پھوپو کی بھاگ دوڑ، زینب بیگم کی شاپنگ لسٹ، اور نازیہ بیگم کی واپسی کا دباؤ — سب کچھ ماہی پر ایک ساتھ آن پڑا تھا۔
نازیہ بیگم کی واپسی کی وجہ سے ماہی کی شادی جلدی جلدی ان پندرہ دنوں میں رکھ دی گئی تھی کیونکہ احمد صاحب زیادہ دن نہیں رک سکتے تھے۔

رات کا ایک پہر تھا۔ سب تھک ہار کر اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
ماہی اپنے بستر پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ اندھیرے میں صرف کمرے کی کھڑکی سے چاندنی آ رہی تھی۔
اس نے میز سے اپنا موبائل اٹھایا، اور ایک جانا پہچانا نمبر کھولا۔

Mini (UK – Bristol Hostel)

ماہی نے لکھا
مِنی… میری شادی ہو رہی ہے۔ بہت جلد۔ تُو نہیں ہوگی تو سب ادھورا لگے گا… آجا ناں، پلیز۔

چند لمحوں بعد نیلے آئیکن پر typing… لکھا آیا، اور پھر جواب
What!!!?? Shut up! I’m screaming… Teri shaadi?? Finally!!!
Okay wait… papers over, result pending… bored AF…
I’m coming!!! And I’ll surprise you.
Bas tu meri favourite dulhan ban jana۔۔۔

ماہی کے چہرے پر پہلی بار سکون سا ابھرا۔

+++++++++++++++

ولید کی راتیں اب پہلے جیسی نہیں رہیں تھیں۔
گھڑی کی سوئیاں جیسے تیز چلتی تھیں، اور پھر یکایک تھم جاتی تھیں… کمرے کی خاموشی میں بس دل کی دھڑکن گونجتی تھی۔ وہ بستر پر لیٹا چھت کو گھورتا رہتا – اور ہر بار، وہی چہرہ اس کے خیالوں میں ابھرتا… ماہی۔

کیا سوچتی ہوگی وہ؟ کیا اُس کے دل میں بھی یہی ہلچل ہے…؟
یہ سوال ولید کو بار بار اپنی نیندوں سے اٹھا دیتا۔

کبھی وہ سوچتا…
منہ دکھائی پر کیا دوں؟ کچھ خاص… کچھ ایسا جو وہ زندگی بھر سنبھال کر رکھے؟

پھر وہ سوچتا،
جب لوگ اُسے میرے نام سے پکاریں گے… ماہی ولید… کیسا لگے گا؟ وہ مسکرائے گی؟ یا شرما جائے گی؟

اور پھر سب سے بڑھ کر وہ تصور —
ماہی… دلہن کے روپ میں۔

اب تک تو وہ اُسے پینٹ شرٹ میں ہمیشہ اُس پر غصّہ کرتی دیکھتا آیا تھا۔ وہ تو ٹوم بائے تھی کبھی خود کو اُس نے لڑکیوں کی طرح سنوار نہیں تھا۔۔۔ مگر اب، جب وہ سرخ جوڑے میں، جھومر سجائے، نگاہیں جھکائے اس کے سامنے بیٹھے گی… تو کیا وہ خود کو سنبھال پائے گا؟

شاید نہیں…ولید نے مسکراتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔ شاید میری سانس ہی رک جائے…

پھر وہ حارث کی باتیں یاد کرتا — اُس کا چھیڑنا، اُس کے فقرے
بس بس، سستا عاشق مت بن…۔۔

ولید ہلکا سا ہنستا،
حارث کو کیا پتا… یہ عشق صرف دل سے نہیں، سانسوں سے بندھا ہے۔

کمرے کی کھڑکی سے ہلکی سی ہوا آئی۔ پردہ تھوڑا سا ہلا، جیسے کسی نے ولید کے خیالات کو چھوا ہو۔
وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس گیا، آسمان کی طرف دیکھا، اور آہستہ سے کہا
بس اب وہ دن دور نہیں جب تُم میری ہو گی ماہی… اور یہ دل ہمیشہ کے لیے پرسکون ہو جائے گا۔

ایک دفعہ ماہی سے بات تو کرنی پڑے گی۔۔۔ آخری اُس نے کس وجہ سے شادی کے لیے ہاں کردی۔۔۔؟؟
مجھے تو اُس سے نہ کی اُمید تھی۔۔۔
ولید نے سوچا۔۔۔

یہ سوچتے سوچتے وہ خاموشی سے روم سے باہر نکلا۔
دل میں اُلجھنوں کا ہجوم تھا، آنکھوں میں سوال، اور قدم بے وزنی سے بھرے۔

تبھی اُس کی نظر دائیں طرف پڑی —
ماہی نیوی بلیو ٹی شرٹ اور براؤن پینٹ میں، نک سک سے تیار، بال سلیقے سے کھینچے گئے، ہونٹوں پر ہلکی سی لپ گلوس کی چمک،
جیسے کسی خاص موقع پر جا رہی ہو۔

چہرہ پر اعتماد سے بھرا ہوا تھا، جیسے دنیا کی کوئی فکر ہی نہ ہو۔
ولید چند لمحے اُسـے دیکھتا رہا —

پھر جیسے دل میں کوئی بے نام سا احساس جاگا،
بات سنو۔۔۔

وہ بے اختیار پیچھے سے پکار اٹھا۔
ماہی کے قدم ایک دم رُک گئے،
اس کی گردن ہلکی سی مڑی، اور وہ وہیں رک کر پلٹی۔
نگاہیں ولید سے ٹکرائیں —
بولو؟

کہاں جا رہی ہو؟

نور کے ساتھ شاپنگ پر…

شادی کی شاپنگ؟

ہاں، تو؟

ولید تھوڑا سا جھجکتے ہوئے کہا
ایک بات تو بتاؤ۔۔۔

ماہی نے بیزاری سے کہا
جلدی پوچھو۔۔

تم نے شادی کے لیے ہاں کیوں کی؟ آخرکار اُس نے پوچھ ہی لیا جو بات اُسے اس دن سے پریشان کر رہی تھی جس دن سے ماہی نے ہاں کی تھی۔

ماہی چند لمحے اُسے دیکھتی رہی، پھر دھیرے سے بولی
دل چاہ رہا تھا شادی کرنے کو… تو ہاں کر دی۔

یہ کہتے ہی وہ پلٹی، اپنے قدموں کی رفتار بڑھائی اور وہاں سے نکل گئی — جیسے کچھ کہنا باقی نہیں تھا، جیسے سب کچھ وہی تھا۔

ولید بس وہیں کھڑا رہ گیا…
آنکھیں اُس کی پشت پر جم گئیں جو دور ہوتی جا رہی تھی،
اور ذہن میں صرف ایک جملہ گونجتا رہا
دل چاہ رہا تھا؟

یہ کوئی وجہ تھی؟
بس… دل چاہ رہا تھا؟

++++++++++++

آہ ہ ہ ہ۔۔۔ گر گئی میں۔۔۔!
وہ لڑکی تیز قدموں سے دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ایک اپنے سے بڑے بیگ کو گھسیٹی تیزی سے اندر کی طرف آرہی تھی اور وہ بس جلدی سے اندر پہنچنا چاہتی تھی۔ ادھر حارث فون پر بات کرتا ہوا باہر نکل رہا تھا۔ دونوں کی نظروں کا زاویہ الگ، راستہ ایک۔۔۔ اور پھر وہی ہوا جس کا امکان ہمیشہ بےخبری میں ہوتا ہے۔
ایک زور کا ٹکراؤ۔۔۔!
لڑکی کا توازن بگڑا، وہ لڑکھڑائی اور زمین کی جانب جھکنے لگی۔ لیکن اگلے ہی لمحے، حارث کا ہاتھ آگے بڑھا، اور اس نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اگر وہ ہاتھ نہ پکڑتا، تو وہ سیدھا پیٹ کے بل فرش سے جا ٹکراتی۔
آہ ہ ہ ہ۔۔۔ گر گئی میں۔۔۔!

گِری نہیں ہو… گر جاؤ گی اگر میں نے ہاتھ چھوڑ دیا تو۔
حارث نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا، کیونکہ اب بھی وہ لڑکی اسی کے ہاتھ کے سہارے کھڑی تھی۔
لڑکی نے جھجکتے ہوئے دوسرا ہاتھ بھی آگے بڑھایا، اور اس کے ہاتھ کو تھام کر خود کو سنبھالا۔ اب وہ سیدھی کھڑی تھی، سانسیں تیز تھیں، اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
لیں، اب نہیں گروں گی میں…اُس نے ہلکے طنز سے کہا۔

میری بدولت… حارث نے مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا۔

میں گر بھی آپ کی وجہ سے ہی رہی تھی…. اُس نے فوراً پلٹ کر تیکھا جملہ کسا۔

اپنی غلطی کا الزام میرے سر نہ ڈالیں، محترمہ۔ حارث نے اب کے تھوڑا سا مصنوعی خفگی سے کہا۔

میری غلطی؟ وہ ناک چڑھا کر بولی، میں سیدھی آ رہی تھی، آپ سامنے سے آ رہے تھے۔

حارث نے اب بھی ہاتھ تھامے ہوئے، بھنویں چڑھا کر سیدھے میں جا رہا تھا، آپ سامنے سے آ رہی تھیں۔ آپ کا دھیان نہیں تھا۔

لڑکی نے آنکھیں سکیڑ کر کہا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ساری غلطی میری تھی؟

حارث نے بے پروا انداز میں کہا ہاں بالکل! اور میں نے آپ کو بچایا ہے، تو میرا احسان مانتے ہوئے میرا شکریہ ادا کریں۔

لڑکی نے چہرے پر زہر خند لیے کہا آپ کا شکریہ ادا کرتی ہہے… میری جوتی ہنہ؟

کیا کہا تم نے…؟ حارث کا چہرہ سخت ہُوا

وہی جو آپ سُن کر بھی ان سُنا کر رہے ہیں۔ مجھے عادت نہیں ہے ایک بات بار بار کہنے کی، تو بہتر ہے آپ اپنے کانوں کا علاج کروا لیں۔
حارث کا پارہ یکدم آسمان کو چھونے لگا۔ اُسے اپنی بے عزتی برداشت نہیں تھی، اور یہ لڑکی۔۔۔ یہ تو جیسے جلتی پہ تیل چھڑکنے آئی تھی۔

حارث نے غصے سے اور سختی سے کہا
تمہیں پتہ بھی ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟
وہ ہاتھ جو اُس نے تھام رکھا تھا، اب زور سے دبانے لگا تھا
لڑکی نے دھچک کر کہا
یا اللہ! کیا کر رہے ہیں؟ ہاتھ چھوڑیں میرا
حارث نے آنکھوں میں چنگاریاں لیے کہا سنو لڑکی! تم جو بھی ہو، مجھے میری بے عزتی بالکل پسند نہیں۔
So again-be careful..
ورنہ جو یہ نازک سا ہاتھ ہے نا، توڑ دینا ہے میں نے! آئی بات سمجھ؟ وہ جو مہر کے ساتھ کرتا تھا اب وہ اُسی لڑکی کے ساتھ بھی وہی کر ربا تھا۔۔۔

دیکھنے میں تو کتنا ہینڈسم اور پیارا لگ رہا تھا، لیکن حرکتیں؟ ہونہہ! درندے والی۔۔۔ اُس نے دل ہی دل میں سوچا۔۔
اُسے تو عادت تھی جو پسند نہ آئے، اُسے سنا دینے کی۔ لیکن جب اُسے سامنے سے اندازہ ہو جاتا کہ بندہ تھوڑا ٹھیک نہیں ہے، تو وہ سیدھی لڑکی بن جاتی، جی بالکل… اسٹیلا اور کرن کے ساتھ بھی تو وہی کرتی تھی۔
لڑکی نے مصنوعی نرمی سے کہا
اوکے، نہیں بولوں گی کچھ۔ میں ایسا کروں گی، آپ سے بات ہی نہیں کروں گی۔ ٹھیک ہے؟ اب ہاتھ چھوڑیں میرا۔ اُس نے بڑے پیار سے کہا
وہ واقعی چالاک تھی، کسی کی سوچ سے بھی زیادہ… ایسی ہی تو نہیں، اُس نے ماہی جیسی لڑکی کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا۔۔۔
حارث نے آخرکار اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ خاموشی سے اُس کے پہلو سے نکلتی چلی گئی۔

حارث نے پیچھے مڑ کر، زیرِ لب کہا یہ کون تھی؟
پھر خود ہی جواب دیا
ڈر گئی کیا؟ ہاں… ڈر ہی گئی ہوگی، تبھی تو آگے سے بحث نہیں کی۔
لیکن دل کی کسی تہہ میں ایک ہلکی سی چبھن باقی رہ گئی تھی… اور شاید، ایک انجان سا تجسس بھی۔

+++++++++++++

ماہی کے کمرے کا دروازہ کھلا، اور مینی اندر جھانکی۔۔۔
مینی نے خوشی سے چہک کر کہا
میں آگئی۔۔۔

ماہی نے جیسے ہی مینی کو دیکھا، جلدی سے اس سے لپٹ گئی، جیسے برسوں بعد بچھڑی ہو۔

مینی نے چونکتے ہوئے کہا
اب گئی میں، ختم، چھوڑ مجھے۔۔۔ ماہی کی بچی۔

ماہی نے ہنستے ہوئے، اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا تم ایک نمبر کی بدمعاش ہو۔۔۔

مینی نے شرارت سے کہا ہاں پتہ ہے، یہ بات تو نئی نہیں، کوئی نئی بات کرو ناں۔۔۔۔

ماہی نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا اتنا دیر سے آئی ہو تم۔۔۔ پتہ ہے، کل میری مایوں ہے۔۔۔۔۔

ہاں تو میں شادی ہی اٹینڈ کرنے آئی ہوں۔۔۔ اپنی زبان میں بولوں تو ‘شادی کی بریانی’ کھانے آئی ہوں۔۔۔

دونوں ہنسنے لگی

ماہی نے ذرا جذباتی ہو کر کہا جب میں یونیورسٹی چھوڑ کر جا رہی تھی، تب تو صحیح مجھ پر محبتیں الٹی جا رہی تھیں۔۔۔ اب کہاں گئی وہ محبت؟

مینی مزے سے بولی یہ موقع بھی کبھی کبھار آتا ہے، جب آئے تو فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔۔۔۔

پھر وہ ماہی کی طرف شک بھری نظروں سے دیکھا۔۔
اچھا یہ چھوڑو، یہ بتاؤ شادی کس سے کر رہی ہو؟ اچانک کون سا لڑکا پیدا ہو گیا؟ جتنا مجھے یاد ہے، تم تو شادی کے نام پر ہی چڑ جاتی تھیں۔ پھر یہ معجزہ کیسے ہو گیا؟

ماہی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ کہا بس اُس میں بات ہی کچھ ایسی ہے… اُسے ‘نہ’ کہنا میرے بس میں نہیں تھا۔

مینی ڈرامائی انداز میں کہا اوہوووو۔۔۔ مانا تم خود پھول میں لگی بڑا سا کانٹا ہو، پر تمہیں یہ والا کانٹا کیسے پسند آ گیا؟ میں تو حیران ہوں بھئی۔۔۔ تم تو مجھے شاک پہ شاک دے رہی ہو۔۔۔

ماہی نے اب ذرا سنجیدہ کہا کیا مطلب کانٹا؟ تم اسے کانٹا بول رہی ہو؟

مینی شانے اچکاتے ہوئے کہا
او بھئی، میں نے تھوڑی بولا؟ تم ہی تو بولتی تھیں۔۔۔۔

میں نے کب کہا؟ وہ تو پھول ہے۔۔۔ وہ بھی گلاب کا۔۔۔ ماہی کچھ سوچتے بولی

مینی آنکھیں پھیلا کر کہا شی شی شی! کیسی لڑکی ہو تم! لڑکے کو ‘گلاب’؟ یار مجھے بولو، میں ہوں گلاب کا پھول۔۔۔

ماہی ہنستی ہوئی نہیں تم تو پورا گلاب کا باغ ہو۔۔
اس پر مینی مسکرائی ہاں جی بلکل یہ ہوئی نہ بات۔۔۔۔
اچھا اچھا۔۔۔ یہ بتاؤ، وہ کانٹے سے گلاب کا پھول کیسے بن گیا؟

ماہی نے مسکراتے ہوئے کانٹے سے نہیں۔۔۔ وہ تو شروع سے ہی پھول تھا، اب گلاب کا پھول بن گیا ہے۔۔۔

مینی چونک کر کہا او بھئی۔۔۔ وہ تو ولید تھا نا؟

ماہی چہرے پر خفگی در آئی۔
ہاں تو وہ ابھی بھی ہے۔۔۔ بدتمیز کہیں کا۔۔۔ اُس کا نام مت لو۔۔۔۔

یار تم اُس سے شادی کرنے جا رہی ہو اور مجھے کہہ رہی ہو نام مت لوں؟ مینی کو سمجھ نہیں آرہی ہے ماہی کسی کسی باتیں کر رہی تھی

ماہی نے اچانک ہنسی روکتے ہوئے کہا شادی؟ وہ بھی اُس سے؟ او پاگل لڑکی! اپنے دماغ کا علاج کرواؤ! میری شادی حارث سے ہو رہی ہے۔۔۔

ہیں؟؟؟ پھپھو نے تو بتایا تھا کہ تمہاری شادی ولید سے ہو رہی ہے۔۔۔۔

ماہی نے تھوڑا سا زچ ہو کر کہا پاگل لڑکی! اُس سے کون شادی کرے گا؟ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔

نہیں نا۔۔۔

ہاں نا۔۔۔۔

یار میں ابھی نیچے پھپھو سے پوچھ کر آئی ہوں… رکو، چلو میرے ساتھ۔۔۔
مینی اس کا ہاتھ پکڑتی، اور اسے گھسیٹ کر باہر لے گئی۔۔۔

پھپھو…
(وہ دونوں سیڑھیوں سے نیچے اُتر کر نہیں آتیں بلکہ اوپر کے فلور کی ریلوینگ سے آواز دیا۔۔۔
نیچے، سونیہ پھپھو اور ولید بیٹھے تھے، وہ دونوں بات کر رہے تھے ساتھ ہی حارث بھی وہاں موجود تھا، جو اندر آ چکا تھا اور وہ بس انتظار کر رہا تھا کہ کب ولید سونیہ پھوپو سے بات کر کے آزاد ہو، پھر وہ جا کر پوچھے گا کہ یہ لڑکی کون ہے۔
مینی، کیا کر رہی ہو؟
ماہی بھی اُس کے ساتھ کھڑی تھی، کچھ پریشان سی

مینی ماہی کی طرف منہ کرکے کہا نظرا نہیں آ رہا؟ پھپھو سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔۔

ماہی نے غصے سے کہا ایسے پاگل لڑکی! گر جاؤ گی۔۔۔
مینی بلکل ریلنگ پر کھڑی بھی تھی، بلکہ لٹکی ہوئی تھی۔۔

سونیہ پھوپو چند لمحے کے لیے اپنی بات روک کر، مینی کی طرف متوجہ ہو کر کہا کیا ہوا مينی؟

مینی نے چڑھتے ہوئے، ماہی کو چپ کراتے ہوئے
ہاں، اب چپ کرو تم۔۔۔۔

پھپھو، یہ بتاںٔیں مجھے، ماہی کا دولہا کون ہے؟

آ ہ ہ ہ ! پاگل لڑکی، کیا بول رہی ہو؟ ماہی نے غصے سے اُس کو  ایک لگایا۔۔۔

آہ ہ ہ ، اب تُم نے مُجھے مارا نہ؟ تو پھر میں واپس چلی جاؤں گی۔۔۔۔
مینی نے غصے سے ماہی سے کہا

حارث نے مينی کی باتیں سن کر عجیب نظروں سے مینی کو گھورا لیکن مینی کا دھیان اُس پر نہیں تھا۔۔
اور ولید سر جُھکا کے مسکرا رہا تھا۔۔۔

مینی، میں نے ابھی تو تمہیں بتایا۔۔۔۔
سونیہ پھوپو نے مینی کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

ماہی نے غصے میں، خود کو قابو کرتے ہوئے کہا
اب میرا نام نہیں لینا۔۔۔

پھپھو، دوبارہ بتا دیں، میں بھول گئی۔۔۔
اُس نے معصومیت سے کہا

سونیا پھوپو نے ہنستے ہوئے کہا بھول گئی؟ مینی، تم بھی نہ! اچھا دیکھو، جو میرے ساتھ بیٹھا ہے، وہ تمہارے جِیجو ہیں، ٹھیک ہے؟ اب یاد رکھنا۔۔

اچھا پھپھو، یہ پھول ہے یا کانٹا؟ مطلب، یہ ولید جِیجو ہیں؟

یا اللہ، مینی!!!
وہ غصے میں آ کر اندر چلی گئی۔۔۔

سونیہ پھوپو نے مسکراتے ہوئے مینی کی طرف دیکھتے کہا ہاں، منیی، ہاں۔۔۔

السلام علیکم جِیجو! کیسے ہیں آپ؟ مینی وہیں کھڑی اب حال چال پوچھنا شروع ہوگئ

ہاں، ہاں، وہیں سے چائے، ناشتہ بھی پوچھ لو۔۔۔
حارث نے اُسے دیکھتے کہا
مینی کی نظریں حارث پر پڑی، لیکن وہ اسے پہچان نہیں پاتی۔ مینی کا خیال تھا کہ وہ حارث وہ نہیں ہو سکتا، جس کو ماہی نے پھول کہا تھا۔۔۔

آپ کی تعریف؟ مینی اب حارث کی طرف دیکھتے کہا

وہ آپنے اب تک کی نہیں۔۔۔ وہ اپنی مسکراتا دبائے کہتا چہرے پر سنجیدگی سجائے کہا

یہ میرا بھائی ہے، حارث… ولید نے اب مینی کی طرف دیکھ کہا

ہاں، بہت ہی بدتمیز ہے۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ اندر بھاگ گئی۔۔۔

سونیہ پھوپو ہستے ہوئے کہا پاگل لڑکی!
اب سونیہ پھوپو ولید کی طرف متوجہ ہوئی
یہ ماہی کی بہترین دوست ہے، منال نام ہے اس کا، لیکن اس کی رہائش کوریا میں ہے ۔ وہاں سب اسے پیار سے ‘مینی’ کہتے ہیں۔ ماہی اسی کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔
بہت معصوم، سیدھی سادی اور سوئٹ ہے۔۔۔۔

لگ تو نہیں رہی معصوم اور سوئٹ… حارث زیرِ لب بڑبڑایا۔۔

ہاں، جانتا ہوں… ولید نے سونیا پھوپو کے بات کا جواب دیا۔۔۔

کیسے؟ ماہی نے بتایا؟

ہاں، ہاں…

سونیا پھوپو اب حارث کی طرف متوجہ ہوئی
اور حارث، یہ بس ماہی کی شادی اٹینڈ کرنے آئی ہے، اس لیے تھوڑا اس کو نظر انداز کرنا، یہ تھوڑی ایسی ہی ہے، مذاق بہت کرتی ہے، اس کی باتوں کو سیریس نہیں لینا بہت چلبلی لڑکی ہے نہ

جو بھی، مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں۔۔۔۔
وہ یہ کہہ کر چلا گیا۔۔جس کام کے لیے رکا تھا، وہ اب اُسے معلوم ہو چکا تھا۔۔۔۔

++++++++++++

مینی اندر آتے ہی جھنجھلاہٹ سے کہا تم جسے ‘پھول’ کہہ رہی ہو، تمہیں پتا ہے وہ کتنا بدتمیز ہے؟!
لیکن جیسے ہی ماہی کو پریشان حال دیکھی ، اُس کی آواز ٹھہر گئی،
کیا ہوا؟

یار میں ولید سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ تمہیں پتا ہے وہ کتنا ٹاکسک ہے؟
اس کے لہجے میں کراہت چھپی تھی، جیسے یہ رشتہ اُس پر بوجھ ہو۔

تو پھپھو نے تم سے پوچھا تو ہوگا نا؟ اُس وقت ہی منع کر دیتی۔ اسی ہی تو شادی کی تاریخ طے نہیں نہ ہوگئی ۔۔۔ اُس نے مصنوعی غصے سے کہا

یار وہ غلط فہمی ہو گئی۔۔۔ رشتے کی جب بات چل رہی تھی نا، تو میں نے نور سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ ‘حارث کا’، اور ولید بھی وہیں بیٹھا تھا۔ اب بولو، کون سا لڑکا اپنے ہی رشتے کی بات پر مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے؟ عجیب انسان ہے۔۔۔ تم خود دیکھو۔

پر نور نے جھوٹ کیوں بولا؟ وہ تو وہیں بیٹھی تھی۔۔۔ ماہی کی آنکھوں میں پریشانی صاف نظر آرہی تھی یہ کیا ہورہا تھا ولید سے شادی وہ بھی ماہی کی۔۔۔

چلو مان لیا، پر پھپھو تو آئی ہوں گی نا تمہیں بتانے؟

نہیں، نام سنتے ہی میں جذباتی ہو گئی۔۔۔ اور ہاں کر دی۔ اب اُسے اس وقت اتنی جلدی جلدی ہاں کرنے پر غصّہ آرہا تھا

لو اب! اب کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ اب تو شادی کرنی پڑے گی ولید سے۔۔۔۔

ماہی نے جھنجھلا کر کہا نہیں! میں شادی نہیں کروں گی اُس سے۔۔۔ میں۔۔۔ میں بھاگ جاؤں گی۔۔۔۔

ہاں، یہی رہ گیا تھا، اب یہ بھی کر لو۔۔۔ مینی نے غصے سے کہا

تو اور کیا کروں؟ مجھے حارث پسند ہے۔۔۔ میں حارث سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔

اس سے اچھا ہے تم کنواری مر جاؤ۔۔۔ مینی نے ناگواری سے کہا

ہاں! یا تو حارث یا کوئی بھی نہیں۔۔۔۔

افف۔۔۔ رکو، کچھ سوچتی ہوں۔۔۔

جلدی سوچو، ورنہ ماہی کے پاس ایک ہی حل بچے گا۔۔۔

مینی نے کچھ سوچتے کہا
ولید تمہیں پسند تو نہیں کرتا نا؟

نہیں۔۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔

تو پھر شادی کیوں کر رہا ہے؟

ماہی نے کندھے اچکائے پتہ نہیں۔۔۔

او بھئی۔۔۔۔
مینی جھنجھلا گئی۔۔۔

ہاں، شاید مجھے سدھارنے کے لیے! اُس بدتمیز، جاہل انسان کو میں ہمیشہ سے بری لگتی ہوں۔۔۔

تو پھر سیدھی سیدھی جا کر پھپھو سے بات کرو۔۔۔ کہ تمہیں غلط فہمی ہوئی تھی، اور تم ولید سے شادی نہیں کر سکتی۔

ماہی کا دل ہلکا ہوا ہاں۔۔۔ یہ اچھا آئیڈیا ہے۔ میں پھپھو سے بات کروں گی، وہ خالہ سے بات کریں گی۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔ لیکن کم از کم میری ولید سے شادی تو نہیں ہوگی۔۔۔۔

+++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *