دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۲
کچھ دیر بعد…
ماہی آہستہ آہستہ نیچے اُتری۔ دل میں بےچینی، آنکھوں میں الجھن۔ جیسے ہی نیچے پہنچی، دیکھتی ہے کہ پھپھو تنہا بیٹھی ہیں۔ بس یہی وقت مناسب لگا اُسے۔ وہ جلدی سے پھوپو کے پاس آگئی۔۔۔
پھپھو… مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ماہی سونیا پھوپو کے پاس آکر بیٹھی کہا
ہاں ماہی، بولو نا۔ ویسے یہ بتاؤ، مایوں کا ڈریس تو پسند آیا نا؟ بالکل تمہارے مزاج کا ہے، نہایت سادہ، مگر پیارا۔ سونیا پھوپو نے مسکراتے ہوئے کہا
ماہی ہچکچاتے ہوئے ہاں… وہ ٹھیک ہے۔۔۔
ابھی ماہی کچھ اور کہنے ہی والی تھی کہ اچانک دروازے کی گھنٹیاں بجی
دیکھو، اس وقت کون آ گیا؟
ماہی اُٹھتی اور دروازہ کھلا۔
تُم لوگ یہاں ؟ کیا کر رہی ہو؟
سامنے اُس کی چچا زاد بہنیں کھڑی تھی۔۔
تمہاری شادی انجوائے کرنے آئے ہیں، اور تھوڑا بہت ہلا گلا بھی تو ہونا چاہیے نا۔۔۔
اُن میں سے ایک نے کہا
ماہی ایک طرف ہو کر انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔۔، اور ہلکے لہجے میں کہا
عجیب لوگ ہو تم بھی۔۔۔
پھر وہ دروازہ بند کر کے واپس آگئی۔۔۔
میں نے ہی بلایا ہے انہیں۔ کل تمہاری مایوں ہے نا، تو تیاری کے لیے۔ ماہی اندر آتی سونیا پھوپو نے اُس سے کہا
ہاں! آج پریکٹس کریں گے، اور کل تمہاری مایوں میں زبردست ڈانس ہوگا۔۔۔ اُن میں سے ایک شوخ لہجے میں بولی
جو دل کرے، کر لو۔
اس کا لہجہ سپاٹ اور بیزار تھا۔۔ وہ جانتی ہے، اگر چند لمحے پہلے اسے یہ سب پتہ نہ چلتا، تو شاید وہ بھی خوش ہوتی۔ لیکن اب… اب دل کا موسم بگڑ چکا تھا۔
کیا مطلب؟ تم ڈانس نہیں کرو گی؟ اُن میں سے ایک حیرانی سے ماہی کا بیزاری والا شکل دیکھ بولی۔۔
میں تمہیں مجرا کرنے والی لگتی ہوں کیا؟ ماہی نے غصے سے کہا
اب سب کی ہنسی تھم گئی۔۔۔ ماحول پر ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔۔
ارے ماہی، کل تمہاری مایوں ہے، اور مایوں کے بعد پوری رات کا رت جگا ہے۔ کسی نے تم سے پبلک میں ڈانس کا نہیں کہا۔
جو بھی ہے، کل ہوگا تو دیکھا جائے گا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ پلٹتی اور بغیر پیچھے دیکھے وہاں سے چلی گئی۔۔۔ وہ جانتی تھی، اب جب یہ سب لڑکیاں آ چکی ہیں، تو پھپھو کبھی بھی اکیلی نہیں ملیں گی۔
سونیا پھوپو نے تھوڑا مسکرا کر کہا
چھوڑو اسے، وہ تو ویسے بھی دلہن ہے۔۔۔ تم لوگ اپنی تیاری پوری رکھو۔ ڈانڈیا بھی کرنا ہے، یاد ہے نا؟
ہاں ہاں! بلکل۔۔۔ اب وہ سب خوش ہوگئی۔۔۔
++++++++++
اب ماہی کے پاس دوسرا آپشن اُس کے والد تھے۔ دل میں ایک امید تھی کہ شاید بابا ہی اُس کی بات کو سمجھ لیں۔
وہ دبے پاؤں آہستہ آہستہ اُن کے کمرے کے دروازے تک پہنچی، دو بار ہلکی سی دستک دی۔
اندر سے آواز آئی
اوہ ماہی! تمہیں کیسے پتہ چل گیا کہ ابھی میں تمہیں ہی یاد کر رہا تھا؟
مجھے؟ یاد کر رہے تھے؟ کیوں؟ ماہی حیرانی سے پوچھنے لگی…
تمہیں پتہ ہے، تم بالکل اپنی پھپھو پر گئی ہو۔ وہ بھی شروعات میں بالکل تمہاری جیسی تھی – ‘شادی نہیں کرنی، شادی نہیں کرنی’… ہمیں تو بڑی محنت کرنی پڑی اسے راضی کرنے میں۔ تب جا کے ارشد سے شادی کے لیے مانی۔ ہم نے سوچا تمہارے ساتھ بھی یہی دھرایا جائے گا، لیکن تم تو فوراً مان گئیں۔ مجھے تو یقین نہیں آ رہا، میں تو تُمہاری ہاں سن کے ہواؤں میں ہوں…
دل کی چبھن چھپاتے ہوئے ماہی نے کہا شادی میری ہو رہی ہے، اور ہواؤں میں آپ ہیں، واہ…
ہاں بھئی! بیٹی تو تم میری ہو نا…
الیاس صاحب مسکراتے ہوئے کہا
مُجھے لگتا ہے مُجھے آپ کی نہیں۔۔۔بلکہ پھوپو کو ہی بیٹی ہونی چاہیے۔۔۔
الیاس صاحب نے مسکرا کر کہا ارے یہ کیا کہہ دیا تم نے؟
بس یوں ہی… یہاں باقی سارے باپ اپنی بیٹیوں کی شادی پر روتے پھرتے ہیں، کوئی جذباتی بات کرتے ہیں، بیٹیوں کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اور ایک میرے بابا ہیں، جو بس مذاق کر رہے ہیں۔ میں نے تو سوچا تھا، آپ کچھ ایسا بولیں گے کہ مجھے بھی رونا آ جائے گا… لیکن یہاں تو کوئی اور ہی کھچڑی پک رہی ہے۔ ماہی نے ہاتھ باندھے مصنوعی ناراضی سے کہا
الیاس صاحب ہنستے ہوئے، ہلکے پھلکے انداز میں کہا ارے بیٹا، ایسی بیٹی ہو تو باپ کیوں نہ خوش ہو؟ اور ویسے بھی، سب باپ اداس نہیں ہوتے۔ کئی تو بہت خوش ہوتے ہیں، بس خوشی میں بیٹی کی جدائی کا غم تھوڑا غالب آ جاتا ہے۔ میرے ساتھ تو الٹا ہو گیا، غم پر خوشی حاوی ہو گئی۔۔۔
ماہی نرمی سے مسکراتے ہوئے، مگر اندر سے خالی کہا سہی ہے، سہی مانتے رہیے… خوشی۔۔۔ میں چلی تیاری کرنے
وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئی۔۔۔
کتنے خوش تھے بابا… میں اپنی بات کہہ کر اُن کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ باہر نکل دل ہی دل میں سوچتی۔۔۔
اب کیا کروں؟ کس سے بات کروں؟ پھپھا سے؟ شاید وہ میری بات سمجھ جائیں… کوشش کر کے دیکھتی ہوں۔
پھر وہ پورے گھر میں پھپھا کو تلاش کرنے لگی۔
آخرکار وہ انہیں گارڈن کی طرف کھڑے دیکھ گئے۔۔۔کسی سے بات کر رہے تھے۔ ماہی تھوڑا فاصلے پر جا کر خاموشی سے کھڑی ہوگئی۔۔۔
ہاں مسٹر محمود، سب کچھ خود آرگنائز کروائیں، میری بیٹی کی شادی ہے، میں کوئی کمی بیشی برداشت نہیں کروں گا۔ اور مایوں گھر پر ہے تو ذرا برابر بھی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ وہ فون میں مصروف کہہ رہے تھی۔۔
بیٹی؟
وہ بے یقین سی نظروں سے اپنے پھپھا کو دیکھنے لگی۔ آج تک کبھی انہوں نے اُسے یوں نہیں کہا تھا۔ بچپن سے ہی وہ اسی گھر میں پلی بڑھی تھی، مگر جب بھی کوئی کہتا کہ یہ آپ کی بیٹی ہے؟ تو پھپھا فوراً وضاحت کرتے، نہیں، یہ میرے بہنوئی کی بیٹی ہے۔
لیکن آج… آج وہ اُسے بیٹی کہہ رہے تھے۔
اسی حیرت میں وہ وہیں کھڑی رہی، دل میں سوالوں کا شور برپا تھا، کہ اچانک ارشد صاحب کی نظر اُس پر پڑی۔
کیا ہوا ماہی؟ کچھ چاہیے؟ وہ فون بند کیا اُس کی طرف متوجہ تھے
نہیں۔ ماہی نے نفی میں سیر ہلایا۔۔۔
پھر یہاں کیا کر رہی ہو؟ ارشد صاحب نے بغور اُس کا چہرے دیکھتے کہا
ماہی نے جھجکتے ہوئے کہا آپ نے… مجھے اپنی بیٹی کہا؟
ارشد صاحب نے اُس کی طرف دیکھا، کچھ لمحے خاموش رہے، پھر بولے
ہاں، کیوں؟ تمہیں برا لگا؟
ماہی کی نظریں جھک گئیں، آواز دھیمی تھی
نہیں… اچھا لگا… پر آپ نے پہلے کبھی نہیں کہا۔
ارشد صاحب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ہاں، کیونکہ تم نے پہلے مجھے اتنا خوش نہیں کیا جتنا آج کیا ہے۔
مجھے نہیں لگتا یہ سچ ہے، ماہی نے آہستگی سے کہا، میں نے آپ کو پہلے بھی بہت خوش کیا ہے۔ جب میں یو کے سے واپس آئی تھی اور کہا تھا کہ میں پھپھو کے پاس ہی رہوں گی، اُس وقت آپ اس سے بھی زیادہ خوش تھے۔
ارشد صاحب نے گہرا سانس لیا۔ جیسے ماضی کے کسی کونے سے کوئی دروازہ کھل گیا ہو۔
اوہ، تو تم سمجھ گئی ہو سب کچھ؟
ہاں… لیکن مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ ماہی نے آرام سے کہا
تو پھر سنو… جب ولید پاکستان آیا تھا دوسرے دن صبح میں اُس کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔تو میری یہ بات ہوئی ۔۔اسنے کہا۔
آپ کو پتہ ہے ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟
میں نے کہا۔۔مجھے کیسے پتہ ہوگا؟
چلیے، میں بتا دیتا ہوں۔ ہم ماہی کے رشتے کے سلسلے میں آئے ہیں۔ میں ماہی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
کیا؟ میں حیران ہوا۔۔۔
جی۔ اور آپ کو پتہ ہے، میں سب سے پہلے آپ کو یہ بات کیوں بتا رہا ہوں؟
کیوں؟
کیونکہ آپ میرے لیے ماہی کے والد کی جگہ پر ہیں۔
میں نہیں ہوں اُس کا باپ، اُس کے پاپا زندہ ہیں۔
میں نے یہ بات تھوڑے غصے سے کہیں تھی اُس سے۔۔
لیکن میں تو آپ کو اُس کے والد کی جگہ پر رکھتا ہوں۔ جو ایک باپ کرتا ہے اپنی بیٹی کے لیے، وہ سب تو آپ نے کیا۔ اسکول آپ لے کر گئے، کالج آپ کے گھر سے گئی، یو کے جانے سے پہلے آپ سے اجازت لی۔ شادی کے فیصلے میں بھی مجھے لگا کہ میری سب سے بڑی مدد آپ ہی کر سکتے ہیں۔اور آپ اپنے دل سے پوچھیں ؟ کہ کیا وہ آپکی بیٹی نہیں ہے۔۔۔؟؟
کبھی کبھی جو دل میں ہو، اسے زبان پر لے آنا چاہیے۔
مجھے لگا کہ تمہیں صرف تمہاری پھپھو کی وجہ سے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ میں وہ سب کر رہا تھا جو ایک باپ کرتا ہے اپنی بیٹی کے لیے۔ مجھے لگا کہ تمہاری موجودگی سے صرف تمہاری پھپھو خوش ہیں، لیکن اصل خوشی تو میری اپنی تھی۔
میں خودغرض ہو گیا تھا۔ مجھے لگا تم چلی جاؤ گی تو تمہاری پھپھو ویسے خوش نہیں رہیں گی جیسے میں انہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔
لیکن… وہ سب تو محض بہانے تھے جو میں خود کو دیتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں یہ سب اپنے لیے کر رہا تھا۔ تم میری بیٹی ہو ماہی، بس پیدا کہیں اور ہو گئی ہو۔
یہ سن کر ماہی کی آنکھیں بھر آئیں، مگر وہ رویٔ نہیں۔ یہ وہ بات تھی جس کی حسرت ماہی کے دل میں بچپن سے تھی۔ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی، جب وہ اپنے بابا سے ناراض تھی۔۔۔ اور وہ رو رو کر ان کے پاس آتی تھی۔۔۔ تب اُس کے دل میں بس ایک خواہش تھی کہ ایک دن پھپھا اُسے اپنی بیٹی کہیں – جھوٹ موٹ ہی سہی۔
جب اسکول جاتی تھی، پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں بھی وہ دونوں ماہی کے ساتھ جاتے تھے، لیکن پھوپھا کبھی اُسے اپنی بیٹی کہہ کر نہیں پکارتے تھے۔۔۔
اور ولید…؟ اُس نے کیسے جان لیا؟ وہ لڑکا آخر چاہتا کیا ہے؟
جب ولید کی زبان سے یہ سنا، تو دل نے بھی اقرار کر لیا۔ وہ عام سادہ سا، نرم مزاج کا لڑکا کیسے کسی بھی انسان کے دل کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے۔ اور اس کا اخلاق ؟ وہ جس سے بات کرنا چاہے تو وہ اُس سے بات کیے بغیر رہ بھی نہ پائے۔۔ ارشاد صاحب نرمی سے کہہ رہے تھے۔۔۔
ماہی، تمہارا فیصلہ بہت اچھا ہے۔ ایسے لڑکے آج کل کہاں ملتے ہیں؟ اور اُس نے تو ارشد جبیل کو بھی متاثر کر دیا۔ کچھ تو خاص بات ہے اُس میں۔۔
ہمم… وہ ہلکا سا مسکراتی۔۔..
چلو، اب تمہیں رونا ہی ہے تو کونا ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، یہی رو لو۔ آخر کو میں تمہارا باپ ہوں، شاید چُپ کروا لوں۔ ارشد صاحب نے اب ماہی کو چھیڑتے ہوئے کہا
بس رہنے دیں، آپ کو تو صرف چیخنے چلانے اور اٹیٹیوڈ دکھانے کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں۔ مجھے چپ صرف میری پھپھو ہی کروا سکتی ہیں۔۔۔ وہ اتراتے ہوئے بولی،
اب ایسا نہ ہو میں تمہاری پھپھو سے ہی جیلس ہو جاؤں۔
آہاں، پھر تو گھر میں ورلڈ وار 2 ہوگا۔۔۔ ماہی نے ہستے ہوئے کہا
اچھا یہ بتاؤ، کل مایوں ہے، دلہن بننے کا ارادہ ہے یا پھر کل بھی پینٹ شرٹ پہن کر باہر آ جاؤ گی؟
اس بارے میں باپ کا کیا خیال ہے؟ پینٹ شرٹ پہن کر باپ کی عزت لٹالی جائے کیا؟ ماہی نے شراتی انداز میں کہا
ارشد صاحب ہنستے ہوئے ہاہاہا! بہت بدمعاش ہو۔
جی، الحمدللہ! آپ پر ہی گئی ہوں۔۔۔
ماہی نے اتراتے ہوئے کہا
+++++++++++
ماہی کمرے میں آ کر بیڈ پر گر گئی۔۔۔
کیا ہوا؟ مینی ماہی کے روم میں ہی فون میں مصروف تھی۔
یار، سب ماہی کی شادی سے اتنا خوش ہیں، ماہی سے زیادہ، ماہی کے گھر والے ماہی کی شادی سے خوش ہیں۔ اب بتاؤ، میں کیا کروں؟ میں بابا کے پاس بھی گئی، پھوپھا کے پاس بھی، مگر ان سب کی خوشی دیکھ کر ماہی نے کچھ نہیں کہا۔ نیچے میری کزنز بھی آئی ہوئی ہیں، سب بہت خوش ہیں، لیکن اب میں اپنی بات کر کے کسی کا موڈ خراب نہیں کر سکتی۔ اتنی خودغرض نہیں ہوں، میں۔
ماہی نے اوپر پنکھے کو گھورتے ہوئے کہا۔
دِل بھی عجیب تھا شادی کا سوچ سوچ کر ڈوبتا جا رہا تھا۔
تو کیا؟ اب شادی کر لو گی ولید سے؟ مینی نے اس کا چہرہ دیکھ کر کہا۔
اب اتنی بھی اچھی نہیں ہوں میں…
تو کیا کرنے کا ارادہ ہے؟
ولید سے بات …
اس کو کیا بولو گی؟
اس کو یہی کہوں گی کہ وہ شادی سے انکار کر دے، کوئی بھی بہانہ بنا دے کہ مجھے ماہی جیسی ٹام بوائے لڑکی سے شادی نہیں کرنی، میں ایک اچھی، سیدھی سادی اور شریف لڑکی کو deserve کرتا ہوں۔.
بڑی تیز ہو تم…
ہاں تو بھائی! شادی کا شوشہ بھی تو اس نے ہی چھوڑا تھا نا، اب بھگتے، اسے ہی انکار کرنا پڑے گا۔
اچھا، تو پھر بات کر کے آ جاتی نا۔
ہاں، وہ ابھی گیا ہوا ہے کہیں، رات میں بات کروں گی۔
کیا وہ مان جائے گا تم سے؟ تم کسی کی خوشی spoil نہیں کرنا چاہتی، تو کیا وہ کر دے گا؟
اوہ ہاں… اس نے فوراً کہا، بغیر کچھ سوچے، ایسا یقین جیسے دل میں فیصلہ مکمل ہو۔
جب ماہی اسے خود جا کر بولے گی کہ وہ اس شادی سے خوش نہیں ہے، تو پھر اس کی کیا مجال کہ وہ شادی کرے۔
کیا وہ تم سے ڈرتا ہے؟ مینی نے دھیرے سے کہا
ڈرتا؟ پتا نہیں… ماہی تھوڑی کنفیوز ہوئی پھر ایک دم بولی
لیکن ماہی کی بات اس کے لیے پتھر پر لکیر ہوتی ہے۔ کیا مان تھا کیا یقین تھا۔۔۔
اچھا… مینی سوچ رہی تھی کہ یہ بات کیا ہے، کیا ولید واقعی اچھا ہے یا برا؟، اُس کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔
++++++++++++++
رات کب دن میں بدل گئی، کسی کو خبر ہی نہ ہوئی۔ شادی والے گھر کا ہر کونہ خوشیوں اور تیاریوں کی چہکار سے گونج رہا تھا۔ ہر طرف دوڑ دھوپ تھی، قہقہے تھے، رنگ تھے… اور بیچ میں کہیں ماہی تھی – جو دل میں کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر وقت نے اُسے مہلت ہی نہ دی۔
کبھی کوئی مہندی کے لیے بلا لیتا، کبھی کوئی کپڑوں کے ناپ کے لیے۔ اور ولید؟ وہ بھی کسی دلہے کی طرح آرام سے بیٹھا ہوا نہیں تھا۔ کبھی پھپھو کے ساتھ لسٹیں چیک کر رہا ہوتا، تو کبھی مہمانوں کی آمد کا جائزہ لے رہا ہوتا۔ ایک پل کو بھی ایسا لمحہ نہ ملا کہ ماہی اُسے روک کر کہہ سکتی
سنو ولید… مجھے تم سے کچھ کہنا ہے…
اب شام کے چھ بج چکے تھے۔
پھپھو نے وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے بیوٹیشنز کو گھر پر ہی بلا لیا تھا۔ ماہی کے لیے اب پارلر جانا ویسا ہی تھا جیسے کوئی شہزادی اچانک بازار میں نکل پڑے – جو کہ ماہی جیسے اٹیٹیوڈ والی لڑکی کے لیے بلکل نا ممکن تھا۔
کمرے میں ہلکی سی خوشبو بسی ہوئی تھی، جیسا کوئی رات کی رانی چھپ کے مہک رہی ہو۔ دو بیوٹیشنز بڑے انہماک سے ماہی کو سنوارنے میں لگی تھیں۔ پیلے لباس میں لپٹی ماہی آج واقعی شہزادی لگ رہی تھی… لیکن دل کے اندر ہلچل تھی، بےچینی تھی، اور سب سے بڑھ کر ایک آواز – جو بس ولید سے بات کرنا چاہتی تھی۔
دروازہ کھلا، اور مینی اندر آئی، خود بھی تیار ہو چکی تھی۔ مینی نے گہرے پیلے رنگ کا خوبصورت سا گھیر دار فراک پہنا تھا، جس پر ہلکی ہلکی گوٹے کی کڑھائی تھی۔ فراک کا گھیر چلتے ہوئے یوں لہراتا جیسے سورج کی کرنیں سنہری لہروں کی شکل اختیار کر گئی ہوں۔
دوپٹے کی جگہ اس نے ایک لمبی سی کناری دار پیلی چادر اوڑھ رکھی تھی جس کے کنارے پر سبز اور نارنجی رنگ کی پتلی گوٹ لگی ہوئی تھی – بالکل روایتی مگر اس کے چہرے پر عجیب سا نور لے کر آتی۔
ہو گئی دلہن تیار؟
بس ہونے والی ہے، پانچ منٹ اور… بیوٹیشن نے جواب دیا
یار مینی… ماہی نے بےچینی سے مینی کو پکارا
کیا ہوا؟ وہ اُس کے پاس آکھڑی ہوئی
ولید سے بات کروا دے میری… ابھی… وہ معصومانہ شکل بنائے مینی سے گزارش کر رہی تھی.
ابھی؟ وہ حیران ہوئی..
ہاں، کیسے بھی کر کے…
ابھی ملاقات ممکن ہی نہیں ہے ماہی، سو سوری… مینی نے صاف صاف انکار کردیا
یہ ولید دولہا ہے؟ بیوٹیشن نے پوچھا
ہاں… مینی نے جواب دیا
اوہ! تبھی میں بولوں دلہن اتنی کیوں تڑپے جا رہی ہے…
کروا دو بات ، ظالم سماج۔۔۔ بیوٹیشن مسکراتی مینی سے کہہ رہی تھی…
چپ کرو! جو کام کرنے آئی ہو وہی کرو… ماہی نے غصے میں بیوٹیشن کو چڑاکا..
اسی وقت کمرے میں نور بھی داخل ہوئی۔
نور نے آسمانی نیلا اور ہلکا سبز رنگ کا لمبا سا فراک پہنا ہوا تھا جس پر ہلکا زری کا کام تھا۔ کندھے پر ہلکی گوٹے والی شفون کی چادر، ہلکا سا نیوڈ میک اپ، کاجل بھری آنکھیں اور ہاتھوں میں چند چوڑیاں۔ بال کھلے ہوئے تھے، اور چلتی تو پائل کی ہلکی سی آواز آتی۔ سادہ مگر بہت دلکش لگ رہی تھی – جیسے کسی کی خوشی میں دل سے شامل ہو۔
ہو گئی تیار ماہی؟
بیوٹشن چٹکی لیتے ہوئے نہیں، دلہن کو سب سے پہلے اپنے دلہے جی سے ملنا ہے…
دوسری بیوٹیشن نے ماہی کا بال سنوارتے ہوئے کہا ہو سکتا ہے دلہن تیار ہو کر سب سے پہلے اپنا چاند سا چہرہ دلہے کو ہی دکھانا چاہتی ہو…
نور اور مینی دونوں ہنسنے لگیں۔ اور ماہی گھور کر بیوٹیشن کو دیکھا۔۔۔
کیا بول رہی ہو؟؟ نور کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔
ہاں اس کو ولید سے ملنا ہے وہ بھی اس وقت۔۔۔ اب بتاؤ کیسے ملواؤں میں۔۔۔؟؟ مینی نے نور سے کہا
اوہو، کوئی نہیں، ملوا دو! اتنا بھی ظلم اچھا نہیں ہوتا۔۔۔۔ نور نے بارے مزے سے کہا
پر کیسے؟ مینی نے حیرانی سے کہا
بس… چھپکے سے لے جاتے ہیں دلہے کے کمرے میں۔ ویسے بھی پھپھو نے انہیں ابھی کمرے میں ہی بھیجا ہے، کہا ہے پہلے تیار ہو کر آؤ…
تم جلدی سے اس کے بال باندھو، پھر ہم لے جاتے ہیں۔ نور نے بیوٹیشن سے کہا
نہیں! چھوڑو! ایسی ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔
وہ اپنی لٹیں چھڑاتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔
نہیں یوں نہیں! پہلے پوری تیار ہو جاؤ۔ وہاں اگر دیر لگی تو کم سے کم تُم پوری تیار تو ہوگی نہ اور ان دونوں کو بھی جانا ہے تُمہارے لیے یہاں بیٹھی نہیں رہے گی۔۔۔ نور نے ماہی کو سمجھایا۔۔۔
ماہی نے دل میں سوچتے ہوئے کہا
مَایوں ہوگا تو نا، تیار رہنے کی ضرورت پڑے گی…
ہمم… جلدی کرو! بس یہ چڑیا کا گھونسلا ٹھیک کر دو… ماہی نے تیزی سے کہا
بیوٹیشنز دونوں ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگیں۔
ایک بیوٹیشن ہنستے ہوئے چڑیا کا گھونسلا؟
نور کا تو ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا، مینی نے جیسے سنا ہی نہ ہو، بس چپ چاپ دوبارہ کنگھی کرنے لگی۔ نئی بات تو بیوٹیشنز اور نور کے لیے تھی، مينی کے لیے نہیں – وہ تو ماہی کے انوکھے جملوں کی عادی تھی۔
چلو میں پہلے راستہ صاف کرتی ہوں، پھر آ کر ماہی کو لے جاؤں گی جیجو کے کمرے میں۔۔۔
نور یہ کہتی باہر نکل گئی۔۔
ماہی، ایک بار پھر سوچ لو۔ تمہیں ابھی ہی بات کرنی ہے ولید سے؟ مینی کو فکر ہوئی۔۔
ہاں! تو کیا نکاح کے بعد بات کروں؟ آج نکاح بھی ہے، تمہیں پتا ہے نہ؟ ماہی نے مینی کو گھورتے ہوئے کہا
++++++++++++
کمرے کی خاموش فضاء میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
ٹک… ٹک…
ولید کی نظریں آئینے میں خود پر جمی ہوئی تھیں، جب دروازہ آہستہ سے کھلا اور نور اندر داخل ہوئی۔
ولید نے مسکرا کر نور کی طرف دیکھا کر کہا
اور پھر؟ کیسا لگ رہا ہوں؟
ولید آج کچھ خاص لگ رہا تھا،
چمکدار زرد اور سبز رنگ کے امتزاج کا کرتا شلوار زیب تن کیے، جس پر ہلکی ہلکی گوٹے کی کڑھائی کی گئی تھی، اُس کے چہرے کو اور بھی نکھار رہی تھی۔ اس کے بال ہلکے سے سجے ہوئے تھے، جیسے بس انگلیوں سے سنوار دیے گئے ہوں، اور ماتھے پر ایک طرف کو ڈھلکا ہوا چھوٹا سا بالوں کا لٹ، جیسے بے خیالی میں چھوٹ گیا ہو، اسے اور پرکشش بنا رہا تھا۔
چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، وہ والی جو نہ مکمل چھپتی ہے، نہ مکمل کھلتی ہے… جیسے کوئی راز چھپا ہو آنکھوں میں۔
اور وہ آنکھیں؟ اُن آنکھوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔ آج سے پہلے اُس کی آنکھیں شاید ہی کبھی اتنی پیاری لگی ہوگئی جتنی آج لگ رہی تھی۔۔۔ اُس کو آنکھوں صاف صاف سب کچھ بیان کر رہی تھے کہ وہ آج کس قدر خوش ہے۔۔۔
ایک دم ہیرو لگ رہے ہیں۔ نور نے ایک بڑی سی مُسکرا کے ساتھ کہا
تو چلیں پھر؟
کہاں؟ اُس نے حیرانی سے ولید کی طرف دیکھا
نیچے سب انتظار کر رہے ہیں نہ میرا… اور تم یہاں مجھے بلانے آئی ہو نا؟
نہیں نہیں! میں تو آپ کو یہ دینے آئی ہوں… گجرا۔ نور جلدی جلدی بولی اور اپنا پیچھے کیا ہُوا ہاتھ آگے کیا۔۔ جس میں موٹے موٹے دو گجرے تھے۔۔
ولید بھنویں چڑھاتے ہوئے
اس کا میں کیا کروں؟
رکھ لیں اپنے پاس… لیجیے۔ اُس نے مسکرا کے کہا
میں کیا کروں گا اسے رکھ کر؟
نور ہنستے ہوئے،
ارے یہ ماہی کا ہے! ابھی ماہی آئے گی نا آپ کے پاس… تو اسے یہ پہنا دیجیے گا۔ میرے ہاتھوں سے تو پہن نہیں رہی، شاید آپ کے ہاتھوں سے پہن لے۔۔
پر وہ یہاں میرے پاس کیوں آ رہی ہے؟ ولید نے ناسمجھی سے نور کی طرف دیکھا
وہ تو ہمیں کچھ نہیں بتا رہی… بس کہہ رہی ہے کہ ولید سے بات کرنی ہے۔ بات کروا دو۔
ابھی آپ یہیں رکیے، میں ماہی کو لے کر آتی ہوں۔
ماہی کو مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟ ولید نے سوال کیا
وہ تو جب وہ آئے گی تب پوچھ لیجیے گا اُس سے۔ اور یہ گجرا بھی پہنا دیجیے گا۔ ویسے جس طرح وہ تڑپ رہی ہے آپ سے بات کرنے کے لیے، یقیناً کوئی بہت ضروری بات ہو گی۔۔ نور نے کچھ سوچتے پھر سے کہا
اور آپ بھی نا… بہت ظالم ہیں۔ رشتہ طے ہونے کے بعد ایک بار بھی اُس سے بات نہیں کی۔ کیا پتہ ، وہ اپنے دل کی بات آپ سے کرنا چاہتی ہو۔
ولید کے دل میں ایک الجھی سی سوچ ابھری…
دل کی بات؟ کیا ماہی بھی میرے لیے وہی جذبہ رکھتی ہے، جو میں رکھتا ہوں؟
ولید نے نرمی سے کہا
اچھا… اُسے لے آؤ۔
دل ہی دل میں سوچتا رہا…
میں بھی تو اُسے بتانا چاہتا ہوں…
کہ مجھے اُس سے محبت کب ہوئی۔
کیسے ایک وقت تھا جب میں اُس سے نفرت کرتا تھا… اور اب؟ اب اُس نفرت کے سائے میں ایک نئی روشنی جاگ اُٹھی ہے… محبت کی روشنی۔
نور خاموشی سے گجرے میز پر رکھ کر چلی گئی۔
ولید نے گجرے اٹھاۓ، دیر تک دیکھتا رہا…
مسکرایا۔ ایک الگ سی مسکراہٹ۔
پھر خود سے کہنے لگا
اور میں… میں اُسے یہ بتا دوں گا۔
کہ نفرت کرتے کرتے،
میں اُس سے… محبت کرنے لگا ہوں۔
یا ۔۔۔۔۔ کیا ماہی بھی میرے لیے وہی محسوس کرتی ہے؟ جو میں کرتا ہوں؟
یا وہ صرف یہ پوچھنے آ رہی ہے
کہ میں اُس سے شادی کیوں کر رہا ہوں؟
++++++++++++++
نور آہستگی سے دوبارہ ماہی کے کمرے میں داخل ہوئی۔
کمرے کی مدھم روشنی میں، ماہی آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
نور کی نگاہ جیسے پل بھر کو وہیں ٹھہر گئی۔
وہ بس چپ چاپ اُسے دیکھتی رہی۔
کتنی پیاری لگ رہی تھی ماہی…
سجی ہوئی، سنوری ہوئی، جیسے چاندنی نے روپ دھار لیا ہو۔
اوپر سے اُس نے شرارتی انداز میں دولہن والا پوز بھی بنایا ہوا تھا۔
مینی اس کی تصویر کھینچ رہی تھی، اور ماہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کیمرے کی طرف دیکھ رہی تھی –
لیکن اُس مسکراہٹ میں بھی ایک اداسی چھپی تھی… شاید بہت گہری۔۔
نور نے مسکرا کر، کچھ جذباتی لہجے میں کہا
یار ماہی… تم اتنی پیاری لگ رہی ہو نا، کہ میں کیا بتاؤں۔
ہُمم…
(دل میں درد کی ایک اور لہر دوڑ گئی۔
کتنے شوق سے اُس نے ساری خریداری کی تھی –
ہر لباس، ہر زیور خالہ کی پسند سے۔
بس ایک تمنا تھی، کہ ہر فنکشن میں پیاری لگے…
لیکن وہ پیار، وہ تعریف،
جسے وہ دل سے سننا چاہتی تھی…
وہ حارث کے لیے نہیں، ولید کے لیے تھی۔
مینی چٹکی لیتے ہوئے
دوست کس کی ہے بھئی؟
نور نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں بھائی! ویسے اب آپ کی تعریف تو جیجو ہی اچھی طرح کریں گے،
ہم سے تو ہو ہی نہیں پا رہی۔
اب لے کر بھی چلو… ماہی نے نور کی باتوں کو نظر انداز کیے کہا
چلو چلو۔۔۔۔
وہ دونوں ماہی کے ہاتھ تھام کر اُسے باہر کی طرف لے گئی۔۔۔
ماہی کے چہرے پر ایک خاموش روشنی تھی –
شاید آخری امید کی جھلک…
کہ آج وہ اُس سے بات کرے گا…
شاید کچھ کہے…
شاید کچھ سنے۔
++++++++++++++
ولید کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا۔
وہ جس شخص سے نجانے کتنی بار مل چکا تھا،
آج… آج اُسی کے سامنے آنے سے دل گھبرا رہا تھا۔
دل جیسے بے قابو تھا، ہر قدم کے ساتھ بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔
ہزار بار خود کو سمجھا چکا تھا،
کہ وہ صرف ماہی ہے… وہی ماہی، جسے وہ برسوں سے جانتا ہے۔
لیکن… آج وہ صرف “ماہی” نہیں تھی۔
آج وہ اُس کی ہونے والی… اُس کی “ہم سفر” تھی۔
ہر گزرتا لمحہ اس کی nervousness میں اضافہ ہو رہا تھا۔
آنکھیں دروازے کی طرف تھیں، جیسے ہر پل اُس کے کھلنے کا انتظار ہو۔
اچانک… دروازے پر دستک ہوئی۔
مینی نے دروازے کے پار سے کہا
جیجو، ہم آ جائیں؟
ماہی نے جھنجلا کر کہا
حد ہے مینی… یہ اجازت کیا لے رہی ہو۔۔۔۔
پھر، بغیر کسی اور بات کا انتظار کیے،
ماہی نے خود ہی دروازہ کھولا –
نہ ولید کی آواز سنی، نہ مينی کی پروا کی۔
تم یہی رکو، دیکھنا کوئی اندر نہ آئے۔
یہ کہتے ہی وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
عجیب… مینی ماہی کو ایسی اندر جاتے دیکھتے ره گئی۔۔۔
یار تُم یہیں روکو ۔۔۔ میں ذرا ماہ نور کو دیکھ لوں اور تُم یہاں دھیان رکھنا کوئی اندر نہ جائے۔۔۔ نور مینی کو ہدایت دیتی یہاں سے چلی گئی۔۔
عجیب۔۔۔ وہ بُرا سا منہ بناتی بند دروازے کو گھورنے لگی ابھی اُسے تب تک یہاں کھڑے رہنا تھا۔۔۔
+++++++++++++
ولید ابھی کچھ کہتا یا سمجھتا کہ دروازہ کھلا –
اور وہ… سجی سنوری، ہوئی ماہی اُس کے سامنے تھی۔
اور جیسے ہی ولید کی نظر ماہی پر پڑی –
وقت تھم گیا۔
سانس جیسے رک گئی۔
اور اُس کا ہاتھ بے اختیار اپنے دل پر جا پڑا…
جیسے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو۔
ہوش میں رہنا اب… واقعی مشکل ہو گیا تھا۔
کیونکہ ماہی آج صرف خوبصورت نہیں لگ رہی تھی –
آج وہ دل کی دعا کی طرح پوری ہو کر سامنے آئی تھی۔
آنکھوں کے سامنے وہ لڑکی کھڑی تھی جس سے وہ برسوں لڑتا رہا، بحث کرتا رہا،
جسے بچپن سے جانتا تھا،
مگر پھر بھی کبھی مکمل جان نہ سکا۔
یہ وہی ماہی ہے؟
جس سے کبھی دل کو سکون نہیں آتا تھا،
اور اب اُس کی ایک جھلک دل کو بےقرار کیے جا رہی ہے؟
دل کی دھڑکن اب صرف تیز نہیں، بے قابو تھی۔
ایک خیال بار بار آ رہا تھا –
کیا وہ بھی وہی محسوس کرتی ہے جو میں کرتا ہوں؟
ولید کی نظریں اُس کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں۔
وہ صرف خوبصورت نہیں لگ رہی تھی –
وہ مکمل تھی۔
وہ وہ تھی، جس کے لیے شاید اس کا دل ہمیشہ خالی رہا،
اور آج پہلی بار اُسے بھرنے والا لمحہ سامنے کھڑا تھا۔
وہ بالکل ویسی لگ رہی تھی جیسا ولید ہمیشہ اُسے دیکھنا چاہتا تھا –
لڑکیوں والے روپ میں…
ہاتھوں میں رنگ برنگی چُوڑیاں، کانوں میں جھمکے، گلے میں نازک سا ہار، چہرے پر ہلکا میک اپ اور لمبے بالوں میں پھولوں کی سجاوٹ…
اوپر سے وہ پیارا سا سوٹ – جس کی ہر جھلک ولید کے دل کی دھڑکن بڑھا رہی تھی۔
کتنا حسین منظر تھا
وہ یوں ماہی کو دیکھ رہا تھا،
جیسے پلک جھپکانے میں بھی کوئی خزانہ گنوا دے گا۔
وہ ایک پل کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتا تھا۔
بچپن کے رشتے بڑے عجیب ہوتے ہیں…
کب، کہاں، کیسے…
کون سا جذبہ دوستی سے نکل کر محبت میں ڈھل جاتا ہے –
یہ دل تو دیر سے جانتا ہے،
مگر آنکھیں… وہ سب سے پہلے گواہ بن جاتی ہیں۔
بڑے عرصے بعد، بہت سی خواہشوں کے بعد،
ولید کی یہ چھوٹی سی تمنا پوری ہوئی تھی –
وہ ماہی کو ایسے دیکھنا چاہتا تھا…
ایک بار بس، ایسے ہی۔
ماہی ہمیشہ سمجھتی رہی کہ ولید اُسے روک ٹوک کرتا ہے،
شاید وہ بھی باقی سب مردوں کی طرح ہے…
تنگ ذہنیت رکھنے والا، پابندیاں لگانے والا،
جو لڑکی کو پینٹ شرٹ میں نہیں دیکھ سکتا،
جو صرف اپنے معیار سے دوسروں کو تولتا ہے۔
لیکن ماہی بھول گئی تھی –
کہ ولید وہ لڑکا ہے جو بچپن سے لندن میں پلا بڑھا،
جہاں پینٹ شرٹ اور لڑکیوں کا آزادی سے گھومنا عام سی بات ہے۔
اسے کبھی پرواہ نہیں رہی کہ کون کیا پہنتا ہے،
کیا کرتا ہے…
مگر ماہی؟
اس کے معاملے میں فرق تھا…
فرق بہت گہرا تھا۔
ماہی کی باتوں، اس کے نخرے،
اس کا تیار ہونا، لڑکیوں والی باتیں کرنا –
یہ سب کچھ… ولید کے دل کو اچھا لگتا تھا۔
وہ اسے بدلنا نہیں چاہتا تھا،
بس یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی لڑکیوں کی طرح تیار ہو لڑکیوں کی طرح میک اپ کرے لڑکیوں کی طرح بات کرے ۔۔۔ لڑکیوں کے طرح نخرے دکھائے اور خود کو ایک لڑکا نہیں لڑکی سمجھے ۔۔۔
یہ صرف اس کی چاہت تھی،
محبت تھی۔
ماہی ہمیشہ سمجھتی رہی کہ ولید جج کرتا ہے،
سب کو نصیحتیں دیتا ہے،
مگر حقیقت یہ تھی کہ ولید کو کسی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اگر فرق پڑتا تھا –
تو صرف ماہی سے۔
اگر دنیا کی لڑکیاں خطرہ مول لیں،
تو ولید کا سر درد نہیں بڑھتا،
مگر اگر ماہی کسی خطرے میں ہو،
تو جان ولید کی نکلتی ہے۔۔۔
اگر وہ روئے… تو آنکھیں ولید کی بھیگتی تھیں۔
اگر وہ غلط فیصلہ کرے… تو نقصان ولید کا ہوتا تھا۔
اگر وہ تکلیف میں ہو… تو درد ولید کو ہوتا تھا۔
اسی لیے تو ولید اُسے روکتا ہے،
سمجھاتا ہے،
کیونکہ ہر بار وہ اسے بچا نہیں سکتا…
اور اگر کبھی وہ بکھر گئی –
تو شاید ولید خود کو سنبھال نہ سکے۔
اسی لیے اُس نے ماہی کو ٹرین کیا،
کہ وہ خود کو سنبھال سکے،
خود کو بچا سکے۔
مگر اب…
یہی ٹریننگ اُس پر بھاری پڑ گئی تھی،
کیونکہ ماہی تو اب ہر خطرے میں
بے خوف ہو کر کود پڑتی ہے ۔۔
مگر ولید جانتا تھا –
کہ محفوظ ہونا اور بےخوف ہونا،
دو الگ باتیں ہیں۔
ماہی کے لندن آنے پر سب سے زیادہ پریشان وہی ہوا تھا،کیونکہ ماہی جب سامنے ہوتی،
تو دنیا کی آوازیں مدھم پڑ جاتیں –
بس ایک ہی نام دل و دماغ میں گونجتا
“ماہی”
جب وہ 15 سال کی عمر میں پاکستان آیا تھا،
تو ماہی کے لیے کچھ ایسی ہی ادھوری، ان کہی سی،
احساسات کی پوٹلی لے کر واپس گیا تھا لندن۔
دل ماہی، ماہی پکارتا تھا
اور دماغ کہتا تھا، اس سے کیا لینا دینا تیرا؟
یہی کشمکش، یہی تذبذب…
جسے وہ نفرت کا نام دیتا تھا۔
مگر نفرت؟
وہ تو کبھی تھی ہی نہیں۔
بس زبان سے کہتا رہا –
دل نے تو کبھی اس کی تائید ہی نہیں کی۔
کیا ايسے ہوتے ہیں نفرت کرنے والے؟
جو ہر پل اُس کی فکر میں گھلتے رہیں؟
جو اُس کی ہر خوشی میں چھپ کر مسکرائیں؟
اور ہر آنکھ کے آنسو میں… بےچین ہو جائیں؟
++++++++++++++
مینی باہر دروازے کے پاس کھڑی، بےچینی سے ٹہل رہی تھی۔
دل میں دعائیں، کہ ماہی کی بات جلد ختم ہو، اور وہ باہر آ جائے…
پر نظر دروازے پر ہی تھی…
اور ساتھ ہی چوکنا بھی کہ کوئی اندر نہ چلا جائے۔
اتنے میں سامنے سے آتا ہوا حارث دکھائی دیا…
مینی کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے ہوائیاں اڑ گئیں۔
ابے یار، اسے بھی ابھی ہی آنا تھا؟
اس نے دل ہی دل میں کڑھ کر کہا۔
مینی فوراً نظریں چرا کر فون نکالتی اور دروازے کے ساتھ ہی لگی کھڑی ہوگئی، اور ایسے ظاہر کرتی رہی جیسے وہ بہت مصروف ہو۔
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔
بس خدا کرے یہ اپنے روم میں جائے… ولید کے روم میں نہیں۔
مگر وہ سیدھا اسی طرف آ رہا تھا۔
اوہ گاڈ…
مینی نے آہستہ سے سر جھٹکا، جیسے خود کو کوس رہی ہو۔
اور کوئی جگہ نہیں ملی تمہیں؟
حارث اس کے بالکل پاس آ کر رک گیا،
لہجے میں usual teasing والا انداز تھا۔۔
مینی نے گھبرا کر دیکھا،
چہرہ سپاٹ رکھنے کی کوشش کی،
نہیں… کیوں؟ کیا ہوا؟
ہٹو، مجھے اندر جانا ہے۔
اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
نہیں۔ اُس کے منہ سے فوراََ نِکلا
کیا مطلب نہیں؟ ہٹو۔۔۔۔
حارث نے ایک قدم اور بڑھایا، مگر مینی وہیں ڈٹ گئی۔
ابے لڑکی، یہ کیا ڈرامہ ہے؟
مینی نے نظر اٹھا کر حارث کی آنکھوں میں دیکھا،
پھر جلدی سے بولی
تمہیں پھوپو بُلا رہی ہیں…
حارث نے ذرا سا سر جھکا کر آنکھیں سکیڑیں،
آنکھوں میں شک اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی،اچھا؟ واقعی؟
مینی نے فوراً ہاتھ سے اشارہ کیا،
جیسے ہر پل قیمتی ہو اور دیر کرنے پر کچھ چھن جائے گا۔
ہاں ہاں، اب جاؤ جاؤ، وہ غصے میں لگ رہیں تھیں… ڈرامائی انداز اپنایا، آواز بھی تھوڑی دھیمی کر لی تاکہ سچ لگے۔۔۔
تمہیں یہاں کھڑے کھڑے پھوپو کی آواز آئی؟
بس… حارث کا اتنا کہنا تھا کہ مینی کے الفاظ پھنس گئے…
نگاہیں بھٹکنے لگیں…
اور دماغ سوچنے لگا اب کیا بولوں؟
و… وہ… نا میری hearing power
بہت strong ہے ۔۔۔۔
آخرکار مینی نے فخریہ انداز اپنایا)
حارث مسکرایا ۔۔
اچھا… مطلب تم human AirPods ہو؟
مینی نے خود بھی ہنسی دبائی،
بس اب زیادہ سوال نہ کرو اور چلے جاؤ… خدا کے واسطے۔
حارث نے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا
ادھر جانا ہے، اور تم مجھے وہاں بھیج رہی ہو؟
اِدھر نہیں جا سکتے تُم۔۔۔
مینی نے دروازے کے آگے تھوڑا اور ہو کر کہا، جیسے واقعی اپنے وجود سے دیوار بن جانا چاہتی ہو۔
کیوں؟ تُمہیں کیا مسئلہ ہے؟ تُم مُجھے میرے بھائی سے ملنے سے روک رہی ہو؟
حارث کی آواز اونچی ہوگئی،
وہی خاص انداز، جیسے اُس کی انا کو کسی نے ٹھوکر مار دی ہو۔
اور غصہ… وہ تو جیسے اُس کی جیب میں رکھا ہوتا تھا،
فوراً نکل آتا۔۔۔
مینی نے گہرا سانس لیا،
روک نہیں رہی… بس کہہ رہی ہوں کہ ابھی نہیں جا سکتے…
حارث نے قدم آگے بڑھایا، آنکھوں میں تیزی تھی،
کیوں؟ اندر کیا ہو رہا ہے؟ کیا چھُپا رہی ہو؟
مینی نے پلکیں جھپکائیں،
پر چہرے پر ضبط رکھا،
کچھ بھی نہیں… بس تھوڑا انتظار کر لو، پلیز۔
+++++++++++++
دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے —
خاموشی کے شور میں لپٹے ہوئے…
ولید اُسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اُس کی ہر سانس ماہی کے وجود سے بندھی ہو،
اور ماہی؟
وہ بھی خاموش تھی…
مگر اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی اور لرزتی پلکیں بتا رہی تھیں
کہ وہ بھی کچھ کہنا چاہتی ہے…
پر الفاظ اُس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔
ماہی کی نظریں جھکی ہوئی تھیں،
مگر پھر بھی اُس کی نگاہیں بار بار ولید کی طرف اٹھ جاتیں،
وہ کیا بولتی؟
کیسے بولتی؟
جب بھی وہ اپنی کسی خوشی کا دروازہ کھولتی ہے —
تو اُس دروازے کے اس پار صرف ولید نظر آتا ہے۔
اور اب…
اُسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چاہیے تھی۔
ایسی خوشی جو اُس کے وجود کو مکمل کر دے،
اور اس بار ، اُس خوشی کی وجہ…
صرف اور صرف ولید تھا۔
لیکن…
ابھی وہ ولید کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ رہی تھی
تو جیسے زبان اُس کا ساتھ چھوڑ گئی۔۔
دل الفاظ میں ڈھلنا بھول چکا تھا۔۔۔
بس ایک آنسو…
بالکل خاموشی سے،
اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر اُس کے گال پر بہہ گیا۔۔
حارث کا خیال آتے ہی…
وہ جانتی تھی —
یہ خوشی آسان نہیں ہے۔
یہ رستہ سیدھا نہیں ہے۔
مگر اب…
وہ تیار تھی،
ہر موڑ، ہر دھوپ، ہر کٹھن جھیلنے کو،
اگر منزل پر حارث تھا۔
کیا ہوا؟
ولید نے جیسے ہی ماہی کے آنسو بہتے دیکھے، وہ اپنی بےخودی کی دنیا سے پلٹ آیا۔
ہاتھ میں تھامے گجرا ایک طرف رکھا اور نرمی سے ماہی کو اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھایا۔
کیا ہوا ماہی؟
اس کی آواز میں اضطراب تھا… ایک بےچینی جو صرف ماہی سے جڑی تھی۔
ماہی اب رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ، جو کبھی کسی کے سامنے نہ روئی تھی، آج اس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
ایسے اپنے آنسو ضائع مت کرو ماہی، مجھے بتاؤ کیا ہوا؟ میں سب ٹھیک کر دوں گا…
ولید کے لفظ جیسے اس کی روح کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے تھے،
مگر ماہی کا دل… وہ کچھ اور بولنے کو بےتاب تھا۔
ولید…
ماہی نے اُس کا ہاتھ تھام لیا،
اور ولید… جیسے سانس لینا ہی بھول گیا ہو۔
ایک تو اُس کا رونا،
اوپر سے اُس کا ہاتھ تھامنا۔
ولید… مجھے شادی نہیں کرنی…
یہ الفاظ ماہی کی لرزتی آواز میں نکلے، اور ولید کے دل میں جیسے کسی نے کانچ اتار دیے۔
کچھ کرو نا ولید… مجھے شادی نہیں کرنی… مجھے تم سے شادی نہیں کرنی…
ولید کے وجود میں اک شور اٹھا، دل پر جیسے خنجر چلنے لگے۔
ولید… مجھے حارث سے شادی کرنی ہے… میں حارث کو پسند کرتی ہوں۔
یہ کہہ کر ماہی نے ولید کے سینے پر وہ آخری وار کیا جو اس کی ہستی کو بکھیر گیا۔
ولید خاموش ہو گیا۔
چند لمحے لگے اُسے خود کو سنبھالنے میں،
پھر ایک گہری سانس لے کر وہ بولا
ٹھیک ہے… تمہیں حارث سے شادی کرنی ہے… ہو جائے گی۔
اب رونا بند کرو۔ تمہیں حارث چاہیے نا؟… تمہیں مل جائے گا۔
وہ عام سا لڑکا… اس عام سی لڑکی کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔
چاہے وہ اُسے کتنی ہی باتیں کیوں نہ سنائے…
وہ ہمیشہ اُس کی دشمنِ جان بنی رہے گی۔
وہ ٹوٹا تھا، بکھرا تھا،
مگر پھر بھی خود کو ماہی سے الگ نہ کر سکا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا —
اگر ماہی کو دکھ پہنچا،
تو درد اُسے ہی ہوگا۔
ماہی کی آواز ہلکی تھی… پر لہجہ لرزتا ہوا۔
تُم واقعی… مجھے حارث دے دو گے؟
ماہی نے نم آنکھوں کے ساتھ مگر ایک عجیب سی چمک لیے پوچھا،
وہی چمک جو ابھی کچھ دیر پہلے ولید کی آنکھوں میں تھی…
محبت کی چمک۔
حاصل ہونے کی خوشی۔
ہاں اب تم چپ ہو جاؤ گی، یا میں ارادہ بدل لوں؟
اُسے ماہی کا رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا،
اور ایک وہ تھی کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
ماہی جلدی سے آنسو پونچھتی ہوئی بولی
اچھا اچھا، چپ ہو گئی!
تم فوراً رعب جمانے لگتے ہو…
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی، تھوڑا سا مسکراتی ہے۔۔
اور ولید…
وہ تو بس اُسے یوں ہی دیکھنا چاہتا تھا—
ساری زندگی، ہر صبح، ہر رات…
پر تم کرو گے کیسے؟ مطلب… شادی کیسے کرواؤ گے؟
ولید کی آواز میں ٹھہراؤ تھا
یہ سب مجھ پر چھوڑ دو۔
حارث اُس کا بھائی تھا،
اور وہ جانتا تھا کہ حارث مان جائے گا۔
مسئلہ رُوایات یا خاندان کا نہیں تھا،
مسئلہ صرف دل کا تھا…
وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا
Trust me.
جیسے اس ایک لمس میں وہ سب کچھ سونپ رہا ہو…
ماہی آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
جانے لگی، دروازے تک پہنچی،
پھر پلٹ کر رُک گئی۔
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی
تم اتنے بُرے بھی نہیں ہو جتنا میں تمہیں سمجھتی تھی۔
ولید خاموش کھڑا بس مسکرا رہا تھا—
نرمی سے، ٹوٹتے ہوئے دل کے ساتھ۔
اور ماہی…
چلی گئی۔
دروازہ بند ہوا،
اور جیسے سانسیں بند ہو گئیں۔
ولید نے آنکھیں بند کر لیں،
دل میں ایک چیخ سی گونجی
کہہ تو دیا ماہی سے…
پر میں یہ کروں گا کیسے۔۔۔؟
کیسے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ہی محبت کو کسی اور کے حوالے کر دوں ۔۔
+++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
