Dil ya dharkan Episode 24 written by siddiqui

دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۴

ولید کی اس حرکت پر حارث کو شدید غصہ آیا..
اس کی آنکھیں سلگتے انگاروں کی طرح سرخ ہو گئی تھیں،
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اگلے ہی لمحے ماہی کا خون پی جائے گا۔
لیکن اگلے پل،
اس نے خود کو سنبھالا،
اپنے غصے پر قابو پایا —
اور ولید کو پیچھے دھکیل دیا۔
اب کی بار اس کی سرخ آنکھیں ولید کی طرف پڑی…
وہ آہستہ آہستہ ولید کی جانب قدم بڑھا
اور جھک کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔۔
کہا تھا نا…
اگر کوئی لڑکی ہمارے بیچ آئی تو…
This world is going to end…!
اس کی آواز میں ایسی دہشت تھی کہ درو دیوار بھی سہم جاتے۔
کیا تُو نے میری بات کو مذاق سمجھا تھا؟
چلا اب تو خود دیکھ لینا …
پریکٹیکلی یقین آ جائے گا تُجھے۔
ولید کی سانسیں رک سی گئی تھیں۔
پر وہ حارث کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
وہ… وہ میری دھڑکن ہے…
اس کے بغیر میں زندہ کیسے رہ سکتا ہوں؟
حارث… تُو حالات کو سمجھ،
میں اُسے چھوڑ نہیں سکتا،
وہ میری زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکی ہے…

تو پھر ٹھیک ہے…
وہ نہ سہی… تو میں۔۔۔
تُو رکھ اپنے اہم ترین حصے کو اپنے پاس…
یہ کہتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر ہاتھ میں لیے پسٹل کا
رُخ اپنے سر پر کیا
ٹھیک ہے…
پھر میں ہی مر جاتا ہوں…
ویسے بھی، میں  بوجھ ہوں …اس دنیا پر۔۔۔
میں ہی مر جاتا ہوں۔۔۔
تو رہ اپنے اہم ترین حصے کے ساتھ…

ولید ہکّا بکّا رہ گیا۔
وہ آگے بڑھا،
حارث کے ہاتھوں سے گن چھیننے کی کوشش کی
حارث یہ کیا کر رہا ہے؟
پیچھے ہٹ جا نہیں تو میں گولی چلا دونگا۔۔۔ وہ دھارا اور ولید دو قدم پیچھے ہٹا اُس کا کیا بھروسہ تھا سچ میں چلا دے گولی۔۔۔ اور ولید ایسے ہرگز نہیں چاہتا تھا۔۔۔
حارث نے پسٹل کا رخ اپنی کنپٹی کی طرف کرتے ہوئے ایک آخری بار ولید کی آنکھوں میں جھانکا۔
یا تو میں… یا تو وہ…
الفاظ سلگتے انگارے تھے۔
سانسیں بھاری، مگر لہجہ اتنا سرد جیسے برف کی پرت ہو۔
پھر وہ جھک کر، بہت قریب آ کر ولید کے چہرے کے قریب سرگوشی کی
The choice is yours.
ایک لمحے کے لیے وقت جیسے رک سا گیا۔
فضا میں صرف حارث کی آواز کی گونج باقی تھی —
اور ولید کے دل کی دھڑکن… جو اب بے ترتیب ہو چکی تھی۔
اگر وہ میری دھڑکن ہے تو تُو میری زندگی ہے…
میں تجھے مرتے ہوئے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ وہ چلایا
یہ جملہ سن کر…
حارث کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو لرزش آئی،
لیکن… پھر وہ اور بھی بھڑک گیا۔
حارث نے پسٹل کو مزید زور سے اپنی کنپٹی پر دبایا
اب کی بار اس کی انگلی نے حرکت کی…

ولید چیخا نہیں حارث! خدا کا واسطہ ہے۔۔۔۔
آواز میں درد تھا، فریاد تھی، ایک آخری التجا تھی۔
اور پھر گولی نہیں چلی۔
حارث کی انگلی تھرکی، لیکن تھمی رہی۔
اس کی آنکھیں چند لمحے کے لیے جھپکیں…
چہرے پر وہی پاگل پن، مگر اب کچھ اور بھی تھا —
ایک لرزتا ہوا لمحہ، ایک ہچکچاہٹ… ایک ٹوٹا ہوا سکوت۔
تیرے پاس وقت ہے… سوچ لے،
میں… یا تو وہ۔۔۔
بس ایک چُناو… ایک فیصلہ… ایک زندگی برباد، یا ایک موت طے شدہ…
ماحول میں خنکی سی پھیل گئی،
فضا جیسے سانس روکے کھڑی تھی…
ولید کی سانسیں تیز تھیں… دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔
وہ جانتا تھا، اب اگر چُک گیا… تو یا ماہی ہمیشہ کے لیے کھو دے گا… یا اپنے بھائی کو…
ایک دل تھا… تو دوسری دھڑکن…
اور وہ، ان دونوں کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
مگر زندگی کی ستم ظریفی یہی تھی…
کہ اب اسے دل اور دھڑکن میں سے صرف ایک کو چننا تھا۔
یا تو دل—
جس میں خون تو بہتا تھا، مگر جس کی دیواروں پر بھائی کا عکس نقش تھا…
یا دھڑکن—
جو ہر لمحہ اسے ماہی کی موجودگی کا احساس دلاتی تھی…
جس کے بغیر زندگی صرف ایک بے جان جسم جیسی لگتی تھی۔
ولید کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں،
اور سامنے حارث گن تھامے کھڑا تھا…
وہ سوالی نہیں تھا، منصف بن چکا تھا،
فیصلہ کر… یا میں فیصلہ کر دوں؟
اب ولید کے پاس صرف دو ہی راستے تھے،
بھائی کی چاہت کو بچا لے
یا
محبت کی دھڑکن کو چھیننے دے…
اور وقت… وہ تیزی سے پھسل رہا تھا جیسے ریت کی آخری لکیر۔
دل یا دھڑکن…؟
اُس کا دماغ جیسے پھٹنے کو تھا،
سائ سائ کرتی آوازیں اُس کے وجود کو چیر رہی تھیں،
اور آنکھیں… بے بسی کی نمی سے بھیگ چکی تھیں۔
سامنے حارث تھا،
آنکھوں میں دہکتا ہوا جنون،
لبوں پر خاموشی، مگر ہاتھ میں وہ گن جو فیصلہ کرنے والی تھی۔
اور ایک طرف ماہی کا خیال…
ولید کی سانس رُکنے لگی…
دل دھڑک رہا تھا،
مگر دھڑکن… جیسے خود سوال بن چکی تھی۔
دل چُنو… تو بھائی بچتا ہے…
دھڑکن چُنو… تو محبت زندہ رہتی ہے…
وقت جواب مانگ رہا تھا،
اور اس بار خاموشی بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی۔
اب صرف ایک فیصلہ… اور سب کچھ بدل جانا تھا۔

ہٹ یہاں سے۔۔۔
وہ دھاڑا اور ولید کو زور سے دھکیل دیا۔
ولید ایک طرف لڑکھڑا گیا، اور حارث آگے بڑھا — جنونی قدموں سے، جیسے ہر رکاوٹ کو روند کر نکل جانا ہے۔
وہ کمرے کے دروازے کی طرف لپکا،
ہاتھ کا جھٹکا دیا,
کنڈی گھمانے کی کوشش کی،
لیکن دروازہ اندر سے بند تھا۔
ماہی! دروازہ کھولو…
اس کی آواز غصے اور جنون سے کپکپا رہی تھی،
کھولو ورنہ میں اسے توڑ دوں گا….
ولید سنبھلتے ہی ایک بار پھر اس کے پیچھے آیا،

اس نے حارث کا بازو پکڑا،
حارث بس کرو! پلیز! یہ تم وہ نہیں ہو جو تم تھے…
حارث نے پلٹ کر اسے ایسی نظروں سے دیکھا،
جیسے کوئی زخم کھا چکا ہو… اور اب صرف انتقام بن چکا ہو۔
ہٹا جا، نہیں تو میں خود کو گولی مار لوں گا…
یہ الفاظ جیسے بجلی بن کر ولید کے دل پر گرے۔
اس کے قدم بے اختیار پیچھے کو اٹھے…
آنکھوں میں ایک خوف چھا گیا — حارث کی آنکھوں میں وہ پاگل پن تھا، جو کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔
حارث نے موقع کا فائدہ اٹھایا،
دروازے کی طرف لپکا،
اور پورے زور سے نوب گھمانے لگا۔
مہر … دروازہ کھولو!
ورنہ میں دروازہ توڑ کر اندر آیا نا،
تو تم دونوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا…!!
حارث پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہا تھا۔
اندر سے سکوت تھا…
مگر اس کی چیخیں، اس کی دھمکیاں کمرے کی دیواروں کو لرزا رہی تھیں۔
اور پھر…
دروازہ کھولووووو….
یہ کہہ کر اس نے پوری طاقت سے ایک زور دار لات دروازے پر ماری —
دھڑاک!!
دروازہ ہلا،
اور…
کمرے کا دروازہ کھل گیا
حارث کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔
وہ پاگلوں کی طرح کمرے میں گھسا، آنکھیں دیوانوں کی طرح اِدھر اُدھر دوڑتی، ہاتھ میں بندوق تھامے، ماہی کو ہر کونے میں تلاش کرنے لگا۔
کہاں ہے وہ؟ کہاں چھپایا ہے اُسے؟
وہ دھاڑا، آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔
مینی کا جسم کانپ رہا تھا،
بمشکل اس کے گلے سے آواز نکلی،
وہ… وہ یہاں نہیں ہے…
حارث کا چہرہ تن گیا۔
بندوق کا رخ مینی کی طرف کر دیا۔
تو کہاں گئی؟
اس کی نگاہ ایسی تھی جیسے آنکھوں سے ہی آگ برسا دے گا۔
مینی نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کپکپاتے لبوں سے کہا:
وہ… وہ بھاگ گئی…

کیا…؟ بھاگ گئی…؟
یہ سن کر جیسے حارث کا دماغ اُبل پڑا ہو۔
غصے سے بلبلا اٹھا۔
جھٹ سے جیب سے موبائل نکالا، انگلیاں تیزی سے اسکرین پر چلنے لگیں۔
کمرے سے باہر نکلتے ہی، ولید نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور مینی اور مہر کے پاس پہنچا۔
کہاں گئی ہے ماہی؟ سچ بتاؤ۔۔۔۔
مہر نے جلدی سے کہا
بھائی… ہمیں پتہ تھا  مُجھے پتہ تھا حارث بھائی کا غصہ  جلدی نہیں ٹھنڈا ہوگا…
اسی لیے ہم نے ماہی سے کہا کہ وہ اپنے کسی دوست کے گھر چلی جائے…
ورنہ نہ جانے وہ اس کے ساتھ کیا کر بیٹھتے۔۔۔
مہر نے بےچینی سے اضافہ کیا۔
ولید نے اثبات میں سر ہلایا،
جیب سے فون نکالا اور کسی کو جلدی سے میسج بھیجا۔

+++++++++++++

حارث اپنے روم میں موجود تھا، آنکھوں میں خون،
اور لبوں پر وہی وحشت۔
آج تو یہ مرے گی… قسم کھا کر کہتا ہوں…
پاتال میں بھی چھپی ہو، تو وہاں سے نکال کر ماروں گا اسے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ موبائل پر حامد کا نمبر ڈائل کیا

حامد…

جی باس، حکم کریں؟

اپنی پوری ٹیم کو لو…
میں اس لڑکی کی تصویر بھیج رہا ہوں…
یہ لڑکی مجھے ہر حال میں مردہ چاہیے…
جس کو جہاں یہ دیکھے… وہیں ختم کر دے اسے۔۔۔۔

ولید پریشان ہو کر آگے بڑھا،
تُو پاگل ہو گیا ہے کیا؟ کیا بکواس کر رہا ہے تُو؟
مگر حارث نے اسے دھکا دیا، جیسے سننے کا وقت گزر چکا ہو۔

پورے شہر میں چھاپے مارو…
ہر تھانے، ہر دفتر، ہر بس اسٹینڈ، ہر ٹرین اسٹیشن پر ناکہ لگاؤ…
شہر سے باہر جانے والی ہر سواری، ہر ٹرک، ہر گاڑی جلا دو…
کوئی راستہ نہ بچے…
ماہی اس شہر سے زندہ نہ نکلنے پائے۔۔۔

حامد سمجھ چکا تھا،
جی بوس… جیسے آپ کہیں…
اور فوراً فون کاٹ دیا۔

اب حارث کی آواز گرجی
اگر ماہی کو مارنے کے لیے
مجھے پورے شہر کو بھی خون میں نہلانا پڑا…
تو میں کر ڈالوں گا!!

ولید نے ساکت ہو کر کہا
یہ… یہ تُو کیا بول رہا ہے حارث…

+++++++++++

ماہی کا کمرہ اس وقت خاموشی کی تصویر بنا ہوا تھا،
جیسے ہی حارث غصے میں بھرے قدموں کے ساتھ کمرے سے نکلا،
اسے جاتے دیکھ کر سونیہ پھوپو، زینب بیگم، اور نازیہ بیگم کمرے میں داخل ہوگئیں۔
ہر ایک کی آنکھوں میں بے چینی، دلوں میں سوالات، اور چہروں پر خوف نمایاں تھا۔

سونیہ پھوپو نے بےتابی سے مینی سے پوچھا
ماہی کہاں ہے، مینی؟

کمرے میں اس وقت صرف مینی موجود تھی،
کیونکہ مہر تو پہلے ہی باہر نکل گئی تھی۔
مینی کے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔
سانسیں بے ترتیب تھیں،
اور زبان جیسے سِلے ہونٹوں سے باہر آنے کو تیار نہ تھی۔

سونیہ پھوپو نے اونچی آواز میں کہا
مینی… بولتی کیوں نہیں؟ ماہی کہاں ہے؟

سیدھی طرح بتاؤ… آخر ماہی کہاں گئی؟ نازیہ بیگم نے بھی اونچی آواز میں کہا۔
سب ہی کو ماہی کی فکر تھی۔۔

بیٹا… دیکھو، ہم سب بہت پریشان ہیں۔
ماہی کہاں گئی ہے، ہمیں سچ سچ بتا دو…
اب کی بار حفصہ بیگم نے نرمی سے کہا۔

مینی کا دل پھٹنے کو تھا۔
چہرے پر ویرانی، آنکھوں میں آنسو، اور لبوں پر کپکپاہٹ تھی۔
وہ بمشکل بولی
ماہی… ماہی بھاگ گئی ہے…

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
جیسے کسی نے سب کی روحیں منجمد کر دی ہوں۔

بھاگ گئی؟ یہ کیا کہہ رہی ہو؟
سونیہ پھوپو  نے حیرت سے مینی کا چہرہ دیکھا۔

نازیہ بیگم نے آگے بڑھ کر سختی سے کہا
کہاں گئی ہے؟ تمہیں پتہ ہوگا، مینی۔۔۔

مینی نے ہچکچاتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے… مجھے نہیں معلوم…
وہ خود چلی گئی… بس ہمیں یہی کہا کہ اگر حارث نے اُسے یہاں دیکھا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے…

ماحول میں ایک بےچینی سی پھیل گئی تھی۔
کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کیا جائے…
اور سب کی نظریں اب مینی پر تھیں،

+++++++++++

ولید کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
ہاتھوں میں موبائل تھامے وہ بار بار حامد کو کال ملا رہا تھا۔
حامد… فون اٹھا لو یار… پلیز… فون اٹھا لو…

لیکن دوسری جانب مکمل خاموشی تھی۔

تب ہی مہر تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی،
وہ سیدھا ولید کے پاس پہنچی
جانتی تھی کہ ایک بھائی آگ بنا پھر رہا ہے،
تو دوسرا اندر ہی اندر خاکستر ہو رہا ہے۔

بھائی…
آس پاس دیکھا وہ اپنے روم میں اکیلا تھا، شکر کہ حارث یہاں نہیں تھا۔۔۔

جلدی بولو مہر… میرے پاس وقت نہیں ہے
وہ مسلسل حامد کا نمبر ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔

مہر نے نظریں جھکائیں، پھر دھیرے سے کہا
ماہی کو ہم نے اس کے پاپا کے گھر بھیج دیا ہے…
میں نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ وہاں چلی جائے…
حارث بھائی کو اُس گھر کا کبھی خیال نہیں آئے گا…

دروازے کے قریب کھڑا ایک سایہ —
خاموش، ساکت، اور ہولناک۔۔۔
حارث زیان۔

وہ ابھی ابھی اپنے کمرے سے نکلا تھا۔
لباس بدلنے کے بعد وہ ماہی کو ڈھونڈ ہی جا رہا تھا…
کہ مہر کو ولید کے روم میں جاتا دیکھ لیا
اور اس کی طرف لپکا۔۔۔
اور سب کچھ سن چکا تھا۔۔
مہر اپنے بھائی کو جانتی ہے تو کیا حارث اپنی بہن کو نہیں جانتا تھا۔۔۔
اُسے پتہ تھا وہ ولید کے روم میں یہی بتانے جارہی۔۔۔

اوہ ہو مہر… خیال تو نہیں آیا تھا…
But thanks to you
اپنے بتا دیا

یہ کہتے ہی وہ لمحہ ضائع کیے بغیر باہر لپکا۔
قدموں کی آہٹ ایسی جیسے زمین بھی اس کے نیچے سے ہٹتی جا رہی ہو۔

ولید چیختا ہوا اس کے پیچھے لپکا
حارثسسس… نہیںیییی…!!!

مہر ایک پل کو جم سی گئی…
پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بے بسی سے بولی
یا اللہ… کیسا بھائی دیا ہے تُو نے مجھے…
ایک آگ تو دوسرا پانی۔۔۔

++++++++++

حارث دانت پیستے ہوئے، آنکھوں میں جنون لیے خود سے بڑبڑایا
آج تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ماہی…
گاڑی کی رفتار وحشت ناک تھی۔ جیسے اگر کوئی اس کے سامنے آ بھی جاتا، تو وہ اسے کچلتا ہوا گزر جاتا۔

ولید ہونٹ بھینچے، آنکھوں میں عزم لیے خود سے بڑبڑایا
میں تمہیں بچا لوں گا ماہی… کچھ نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔۔۔۔
آج سے پہلے کبھی اس نے اتنی تیز گاڑی نہیں چلائی تھی۔
لیکن آج وہ چلا رہا تھا۔۔۔
آج وہ ہر وہ کام کر رہا تھا جو آج تک اُس نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔۔

حارث سیٹ پر جھکتے ہوئے بڑبڑایا
میری زندگی کا سب سے بڑا عذاب ہو تم ماہی…
آج تمہارا قصہ ختم کر کے ہی دم لوں گا…
چاہے اس کے لیے مجھے اپنے بھائی سے ہی کیوں نہ لڑنا پڑے…

ولید دھڑکتے دل کے ساتھ بڑبڑایا
میں تمہیں پروٹیکٹ کر لوں گا ماہی…
اور… اور حارث کو بھی سنبھال لوں گا…
چاہے مجھے خود کو بیچ میں قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

راستے دو تھے، منزل ایک،
اور دونوں کی گاڑیاں جذبات کی طغیانی میں،
ایک دوسرے کے وجود کو روندنے پر تلی ہوئی تھیں…

سڑک پر گرد اڑتی جا رہی تھی،
دونوں گاڑیاں تیز رفتار میں آگ کی لکیر بنی ہوئی تھیں…
ایک طرف انتقام کی آگ،
تو دوسری طرف محبت کی جنون خیز حفاظت…

حارث اسٹیئرنگ پر زور دیتے ہوئے، خود سے کہا
آج یہ قصہ قصہ  ختم ہو گا…
ماہی کو اگر دنیا سے مٹانا پڑا تو مٹا دوں گا۔۔۔

اس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ تھیں،
ہونٹوں پر پاگل سی مسکراہٹ —
ایک دیوانہ جو اپنے انجام کی طرف دوڑ رہا تھا۔

+++++++++++++

حارث جیسے ہی گھر کے دروازے پر پہنچا، اُس کے قدم رُک گئے…
دروازے پر تالا لگا تھا۔
آنکھوں میں غصے کی شدت اور ہاتھوں میں بے قراری لیے،
تالا لگانے سے کیا بچ جائے گی وہ مجھ سے؟!
وہ دانت پیستے ہوئے بڑبڑایا، پھر ایک جھٹکے میں دروازے کا تالا توڑ دیا۔
ٹھک… ٹھک… ٹھک۔۔۔ کرچچچچ!
دروازہ زور سے کھلا اور وہ اندر گھس آیا

ولید پیچھے ہی آ چکا تھا،
حارث… رک جا… کچھ ہوش کر…!!

مگر حارث کی آنکھوں میں اب صرف ایک ہی منظر تھا، ماہی۔۔
ماہی!! باہر نکلو…!! چھپنے کی کوشش بھی مت کرنا…!!

گھر میں سناٹا تھا۔
صرف حارث کے قدموں کی دھمک، اور اس کے چیخنے کی آواز فضا میں گونج رہی تھی۔

تم جہاں بھی ہو ماہی، باہر آ جاؤ! ورنہ میں تمہیں خود ڈھونڈ نکالوں گا۔۔۔

ولید دروازے کے قریب خاموشی سے کھڑا تھا۔ اُس کی خاموشی گہری سوچ کا پتا دے رہی تھی۔ شاید وہ جان چکا تھا کہ ماہی یہاں موجود نہیں۔

ہہ… یہ ایسے نہیں مانے گی۔۔۔
اُس نے فوراً کمرے کی تلاشی لینا شروع کر دی۔
وہ ایک ایک دروازہ کھول کر دیکھنے لگا، واش روم کا دروازہ دھڑام سے کھولا، الماریاں کھنگالیں، پردے جھٹکے، بیڈ کے نیچے تک جھانکا۔

گھر زیادہ بڑا نہیں تھا، صرف پانچ کمروں کا سادہ سا مکان۔ اور حارث کو سب کچھ چیک کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔
لیکن… ماہی کہیں نہیں تھی۔

ولید، جو دروازے پر لگے تالے کو پہلے ہی دیکھ چکا تھا، سمجھ گیا تھا کہ ماہی یہاں نہیں ہو سکتی۔
گھر مکمل بند تھا — نہ کوئی پچھلا راستہ، نہ اوپر جانے کا کوئی زینہ، نہ کوئی کھڑکی جو اندر سے بند ہو۔
اگر ماہی اندر ہوتی، تو باہر سے تالا لگانا ناممکن تھا۔

اب اصل پریشانی یہ تھی کہ ماہی ہے کہاں؟

حارث ولید کے پاس آتے ہوئے، غصے میں دھاڑا
تُو نے بھگایا ہے نا اُسے یہاں سے۔۔۔۔

ولید نے سرد لہجے میں کہا
تو شکر کر رہا ہوں بھگا ہی رہا ہوں… ورنہ اگر بچانے لگا، تو تُو جانتا ہے نا، ہم دونوں میں سے کوئی ایک زندہ نہیں رہے گا…

حارث آنکھوں میں خون اتار کر، دانت پیستے ہوئے کہا
تبھی تو میں اُسے مارنا چاہتا ہوں۔۔۔

اور یہ کہتا ہوا وہ غصے میں گھر سے باہر نکل گیا،

ولید بھی وہاں سے جانے کے لیے پلٹ ہی رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر صوفے کے نیچے پڑی ایک چمکتی چیز پر گئی۔
وہ جھکا… اور جیسے ہی اُس نے اُسے اٹھایا، اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں
یہ… یہ تو ماہی کا جھمکا ہے…
یہ وہی جھمکا تھا جو ماہی نے مایوں کی دلہن کے روپ میں پہنا تھا…
اور یہی اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ ماہی یہاں آئی تھی۔
اس کا مطلب ماہی یہاں آئی تھی…؟
وہ اردگرد ایک نظر دوڑایا جیسے دیواروں سے جواب چاہ رہا ہو
اگر وہ یہاں آئی تھی… تو پھر گئی کہاں؟
اور یہاں سے گئی کیوں؟
کیا وہ خود گئی؟
یا… یا کوئی اُسے لے گیا؟
اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔ وہ تیزی سے اپنے فون کی جیب کی طرف لپکا۔

ولید دل میں گھبراہٹ لیے
نہیں… نہیں… ایسا نہیں ہو سکتا…
یا اللہ ماہی کو کچھ نہ ہوا ہو…

اب اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور دل میں صرف ایک ہی دعا تھی…
ماہی… بس خیریت سے ہو…

++++++++++++

کمرے میں ایک پل کو خاموشی چھا گئی… نازیہ بیگم کے چہرے پر حیرت اور بے یقینی تھی، سونیہ پھوپو کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔

ماہی کو ضرورت کیا پیش آئی تھی یہاں سے جانے کی؟ نازیہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔

مِنی غصے سے آنکھوں میں آنسو لیے، آواز لرزتی مگر پراثر
وہ اپنی مرضی سے نہیں بھاگی… آپ کے بیٹے کی وجہ سے بھاگی ہے۔
اوہ! سوری… آپ کے بیٹے، ایم ڈی مافیا کی وجہ سے۔

مِنی کی آواز میں چھپا طنز اور درد سب کے دل چیر گیا۔
اُس کا دل کر رہا تھا حارث کو جا کر منہ نوچ لے۔
اگر وہ اس وقت اُس کے سامنے ہوتا، تو شاید وہ خود پر قابو کھو بیٹھتی…

سونیہ پھوپو حیرت سے بولیں
کیا…؟
اُنہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔

نازیہ بیگم حواس باختہ ہوکر بولیں
کیا ہو گیا ہے بیٹا؟ ہوش میں تو ہو؟ یہ کیا بول رہی ہو تم؟

مِنی یہ سن کر کچھ نہیں بولتی… بس خاموشی سے نظریں جھکا لیا
ایک ایسی خاموشی… جو سب کچھ کہہ جاتی ہے۔

+++++++++++++++

ماہی لاؤنج کے صوفے پر اُسی لباس میں بیٹھی تھی… وہی جو شادی کی رسموں کا تھا، لیکن اب گرد سے اَٹا ہوا، بکھرے بال، چہرے پر خوف اور تھکن کی لکیریں، آنکھیں خالی…
سامنے خلا میں دیکھتے ہوئے، جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔

کیا واقعی وہی حارث تھا…؟

ذہن میں گونجتی اُس کی آواز، اُس کی دھمکیاں، وہ پاگل پن،
پھر ایک اور منظر آتا…
وہی حارث…
جس نے اس کا ہاتھ تھاما تھا،
جس نے کہا تھا سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔۔۔
جس نے کہا تھا تو میری دوست ہے، میری پارٹنر
تو پھر یہ کون ہے…؟

کیا وہ مجھ پر واقعی گولی چلا دے گا…؟
کیا اُس کے ہاتھ کانپ گے نہیں…؟

ماہی کے دل نے جیسے سسکی لی…
میں تو اس کی… سب کچھ تھی… اس کی کرائم پارٹنر، اس کی دوست، اس کی وہ ‘بیسٹ فرینڈ’…
تو وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟

آنکھوں سے نمی چپکے چپکے بہہ رہی تھی۔
نہیں، یہ میرے حارث نہیں ہو سکتے… یہ وہ نہیں ہو سکتا جس سے میں نے محبت کی۔
لیکن… اگر وہی ہے…
تو ٹھیک ہے…
اگر وہ مجھے مارنا چاہتا ہے،
تو میں اس کے لیے مر جاؤں گی۔
اُس کی آنکھوں کے سامنے ماہی اپنی زندگی، اپنی محبت… کو ہارے گی۔۔۔

وہ اچانک اٹھی، ننگے پیر… وہی لباس، بکھرا ہوا حُلیہ۔
جیسے کوئی دیوانی، جو کسی جنگ پر جا رہی ہو، مگر دل میں لڑنے کی ہمت باقی نہ ہو…

ہر قدم کے ساتھ، وہ اپنی زیوریں اُتار کر پھینکتی جا رہی تھی…
بنگلس… جھمکے… ماتھے کا ٹیکا…
جیسے وہ خود کو خالی کر رہی ہو…
اپنی ذات سے… اپنی محبت سے…

وہ ایک مری ہوئی مچھلی لگ رہی تھی…
جو پانی کے لیے تڑپ رہی ہو…
اور پانی کہیں میسر نہ ہو۔

ماہی کی یہ خاموش چال…
اس کی شکست کی سب سے اونچی چیخ تھی۔

وہ سڑک پر ننگے پیر، ٹوٹے خوابوں اور بکھرے جذبات کے ساتھ بس چلتی جا رہی تھی…
نہ کوئی منزل، نہ کوئی سمت…
بس قدم تھے جو خود بخود اُٹھ رہے تھے، اور آنکھیں تھیں جن میں کوئی ہوش باقی نہ تھا۔

لب خاموش تھے مگر چہرہ بہت کچھ بول رہا تھا…
جیسے ہر قدم پر اُس کی روح چیخ رہی ہو،
جیسے ہوا بھی اُس کے زخموں کا مذاق اُڑا رہی ہو۔

بنا کچھ سوچے، بنا کچھ سمجھے۔۔۔۔
بس چل رہی تھی، جیسے چلنا ہی اب اس کا مقدر ہو۔

نہ آگے دیکھتی تھی، نہ پیچھے مڑتی…
جیسے اگر رک گئی، تو ٹوٹ جائے گی…
اور اگر مڑ گئی، تو پھر کبھی خود کو سنبھال نہیں پائے گی۔

اس کے لباس کی مہندی مٹی سے اَٹی تھی، اور اس کے آنسو اب سُوکھنے لگے تھے…
لیکن دل ابھی بھی رو رہا تھا — خاموشی سے، اندر ہی اندر۔

یہ ماہی تھی… جو محبت کی ہار جیت کے بیچ… خود سے ہی ہارنے نکلی تھی۔

+++++++++++++

حامد نے فون بند کرتے ہی اپنے چہرے سے پسینہ پونچھا، آنکھوں میں جنون سا ناچ رہا تھا۔
بوس کا آرڈر آ چکا ہے… اور ہمیں فوراً اُس پر عمل کرنا ہے۔

سب ایک ساتھ بلند آواز میں بولے
حکم کرو۔۔۔

حامد نے اپنی کوٹ کی جیب سے ایک تصویر نکالی، جو ماہی کی تھی، اور سب کے سامنے لہرا دی۔
یہ لڑکی! جہاں کہیں بھی دیکھے… گولی مار دینا ہے! اور ویڈیو بنا کر مجھے فوراً بھیج دینا۔۔۔

اب اس کے چہرے پر سختی اور لہجے میں وحشت در آئی تھی۔
پورے شہر میں ناکہ بندی لگا دو۔ ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن، ہر جگہ اپنے بندے پھیلاؤ۔
کوئی بھی شہر سے باہر نہ نکل پائے۔

دو بندے جاؤ پولیس اسٹیشن… ہر اُس منحوس پولیس والے کو قابو میں لاؤ جو ہمارا رستہ روک سکتا ہے۔
ایئرپورٹ پر مکمل کنٹرول چاہیے، ہر پرواز روکو۔
دو بندے ریلوے اسٹیشن کی طرف نکلیں۔
جس پر بھی شک ہو، وہیں پر اڑا دو۔۔۔

حامد کی آواز گونج رہی تھی، جیسے وہ پورے شہر پر آگ برسانے کا اعلان کر رہا ہو۔
باقی لوگ جو شہر سے باہر جانے والی گاڑیاں ہیں، خاص طور پر ٹرکس… سب کو آگ لگا دو!
کسی کو بھی شہر چھوڑنے نہ دینا۔

اوکے۔۔۔۔

سب نے یک زبان ہو کر کہا اور اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر تیزی سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

حامد نے ایک نظر اپنے موبائل پر ڈالی، اور پھر اپنی بائیک پر سوار ہو کر ان کے پیچھے نکل پڑا۔

یہ صرف چھ لوگ تھے…
مگر چھ ایسے جو چھ نہیں، چھ سو کے برابر تھے۔
مد کے تربیت یافتہ، قاتل ذہن، بے رحم ہاتھ،
اور ساتھ میں پولیس کے وہ کالی وردی والے سائے…
جو نوٹوں کی خوشبو سے وفاداریاں بدل لیتے تھے۔

اب شہر کی فضاء میں بارود کی بو بسنے لگی تھی…
اور ماہی — ایک ایسی شعلہ تھی،
جسے بجھانے کے لیے وہ پورا شہر جلا دینے پر تلے ہوئے تھے۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *