وہدِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۶
آہستہ آہستہ ہسپتال کی سفید دیواروں میں خاموشی رچ بس گئی تھی۔ کوئی بولتا نہیں تھا، صرف دعائیں تھیں، سانسوں کا اتار چڑھاؤ تھا، اور دلوں کی دھڑکنیں تھیں جو ہر لمحہ کسی خبر کے منتظر تھیں۔۔۔
نازیہ بیگم کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
وہ بار بار ICU کے دروازے کی طرف دیکھتی، جیسے بس ابھی کوئی آکر کہہ دے —
مبارک ہو، آپ کا بیٹا محفوظ ہے
لیکن یہ جملہ تو کہیں تھا ہی نہیں۔
صرف امید اور خوف کے سائے تھے۔
مجھے لگتا ہے، تمہیں ماہی کو لے کر اب گھر چلے جانا چاہیے۔۔۔
نازیہ بیگم نے دھیرے سے کہا، جیسے کسی خوفناک سچائی کو چھپانے کی کوشش ہو۔
جیسے ہی حارث ٹھیک ہو گا، ہم اُسے لے کر واپس لندن چلے جائیں گے…
اُن کا لہجہ بےبسی سے لبریز تھا۔
سونیہ پھوپو چپ چاپ اُن کے پاس بیٹھی رہی، جیسے الفاظ اُس کے پاس تھے ہی نہیں۔
احمد صاحب نے سر جھکایا،
تمہیں لگتا ہے، اس سب کے بعد وہ ٹھیک ہو گا؟
نازیہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رو دیں،
ایسا مت بولیں، وہ میرا بیٹا ہے، میری جان کا ٹکڑا ہے…
کاش حارث بھی ولی جیسا ہوتا… احمد صاحب کی آواز کانپ رہی تھی،
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی… حارث کی پرورش میں کہیں کچھ رہ گیا… مجھے نہیں پتا، وہ ایسا کیوں بن گیا…
اور پھر جیسے ایک باپ نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر کہا لیکن اب بہتر یہی ہے کہ آپ سب ماہی کو لے کر یہاں سے چلے جائیں… وہ اتنا اہم نہیں کہ اُس کے لیے آپ سب یہاں رکیں، یا اُس کے لیے دعا کریں…
احمد، پلیز… نازیہ بیگم نے التجا کی،
احمد صاحب نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
پھر بھی میں چاہتا ہوں وہ ٹھیک ہو جائے، ہمارے پاس واپس آ جائے… لیکن اُس کی وجہ سے آپ لوگوں کو تکلیف ہو — یہ بھی نہیں چاہتا…
میں گارنٹی دیتا ہوں، اب حارث ماہی کو کچھ نہیں کہے گا…
وہ سب وہیں موجود تھے، سونیہ پھوپو ، الیاس صاحب، ارشد صاحب، زینب بیگم، مینی، مہر ، سب۔
خاموش… مگر دل میں جلتا طوفان لیے۔
سِوائے ولید کے، جو اب تک کہیں نظر نہیں آیا تھا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے، ہمیں گھر چلے جانا چاہیے…
الیاس صاحب نے آہستہ سے کہا۔
اور ویسے بھی — اب یہاں رُک کر وہ کیا کر لیتے؟
ماہی یہ سب سنتے ہوئے خاموش کھڑی رہی۔
پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی، وہاں سے ہٹ گئی۔
+++++++++++++-
ماہی کی نظر جیسے ہی ولید پر پڑی…
وہ ہسپتال کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا،
چہرہ تھکا ہوا، آنکھیں خالی،
اور نگاہیں آسمان کی طرف…
جیسے کسی اَن کہی دُعا میں مصروف ہو،
یا شاید اُس ذات سے کسی سوال کا جواب مانگ رہا ہو…
جو اس دنیا میں کسی کے پاس نہیں تھا۔
ماہی کے قدم جیسے خودبخود اس کی طرف اٹھنے لگے،
لیکن دل ابھی ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔
کیا وہ جا کر بیٹھے؟
کیا ولید اس کی موجودگی کو قبول کرے گا؟
پھر بھی وہ آہستہ آہستہ ولید کے ساتھ آ بیٹھتی
خاموشی سے…
اور پھر اس کے کندھے پر ہلکے سے ہاتھ رکھا،
اور ولید… بنا کچھ سوچے، بنا کچھ کہے،
اپنا سر ماہی کے گود پر رکھ دیا۔۔۔۔
جیسے وہی ایک جگہ تھی جہاں وہ اپنی ساری تھکن،
ساری بے بسی اور ساری ٹوٹ پھوٹ رکھ سکتا تھا۔
ماہی، ولید کے اس اچانک لمس سے ایک عجب کیفیت میں آگئی۔۔۔۔
دل زور سے دھڑکتا، آنکھوں میں نمی اُتر آئی۔۔۔
اور وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ… ولید آہستہ سے کہا
ماما… آپ مجھے orphanage ( یتیم خانہ) سے واپس کیوں لے آئیں… مجھے وہیں چھوڑ دیتیں نا…
یہ وہ فقرہ تھا، جس نے ماہی کے دل کو چھلنی کر دیا۔
ولید اُسے نازیہ بیگم سمجھ رہا تھا…
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ماہی ہے… نہ ہی اُس نے پلٹ کر دیکھا تھا،
نہ اُس لمس کو پہچانا جس نے اُسے تھاما تھا،
بس سر رکھ دیا، جیسے بچپن سے کرتا آیا تھا۔ وہ جب جب تکلیف میں ہوتا وہ ایسے ہی نازیہ بیگم کی گود میں سر رکھ کے رو لیتا تھا۔۔۔اور پھر نماز کے علاوہ دوسری سکون کی جگہ ماں کی گود ہی تو ہوتی ہے۔۔۔
اب ماہی کا دل نہیں کیا اُسے بتانے کا کہ وہ ماہی ہے۔۔۔وہ کچھ کہنے ہی ائی تھی اُس سے لیکن یہ سنے کے بعد وہ اب اُسے سنا چاہتی تھی۔۔۔ آج پہلی دفعہ وہ اُسے سنا چاہتی تھی۔۔۔
ماما۔۔۔آپ مجھے وہاں سے لے کر نہ آتیں تو… اس نے آہستہ سے کہنا شروع کیا، پھر اس کے الفاظ جیسے دل سے نکل کر ماہی کے دل تک پہنچ رہے تھے۔
مجھے یہ سارے رشتہ نہ ملتے، نہ حارث میرا بھائی ہوتا، نہ مجھے حارث سے اتنی محبت ہوتی۔ نہ ماہی میری کزن بنتی، نہ میں ماہی سے کبھی ملتا۔ اور نہ مُجھے ماہی سے اتنی محبت ہوتی
اس کے الفاظ میں ایک عجیب سی اُداسی تھی، اور ماہی نے محسوس کیا کہ وہ واقعی اتنی گہری تکلیف میں تھا۔
آپ کو یاد ہے؟ حارث نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ میرا بھائی نہیں ہے… وہ مجھ سے لڑتا تھا جب میں چھوٹا تھا، اور میں کہا کرتا تھا ‘میں تیرا بھائی نہیں ہوں’ اور وہ مجھے مارتا تھا۔ پھر وہ مجھ سے کئی دن تک بات نہیں کرتا تھا، اور اس نے مجھے آج کہا ‘نہیں ہوں میں تیرا بھائی…
ولید کی آواز میں رنج تھا، اور ماہی کے دل کو ایسا لگا جیسے اس کے اندر کی تمام تکلیف باہر آ گئی ہو۔ وہ جتنا بھی خاموش تھا، اس کے دل میں اتنی ہی درد بھری باتیں چھپی ہوئی تھیں۔
میں بھی اس سے نہیں بتا سکا کہ میں نے ایسا کیوں کہا تھا، لیکن آپ تو جانتی ہیں ماں، میں نے صرف اسے روکنے کے لیے کہا تھا، وہ میری بات نہیں سن رہا تھا۔
ولید نے آنکھوں میں نمی کے ساتھ کہا، ماما… میں بہت تھک گیا ہوں، سچ میں، اگر حارث ٹھیک نہیں ہوا، تو میں جیتے جی مر جاؤں گا۔ وہ میرا بھائی ہے، ماما! وہ میری زندگی کا حصہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔ اُس کا رُخ سیدھی کی طرح تھا وہ اپنی ماما سے بھی نظرے ملنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ماما، میں پریشان ہوں، بہت زیادہ پریشان ہوں، حارث کو سنبھال نہیں پا رہا ہوں، وہ میری بات نہیں سن رہا، میری آنکھوں کے سامنے اُس نے خود کو گولی مار لی۔ اور میں کچھ نہیں کر سکا؟
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، اور پھر وہ بولا، اور ماہی میں نے اُسے کہا تھا کہ میں اُسے اس کی خوشی دوں گا، لیکن سب کچھ ختم ہو گیا، اور میں کچھ نہیں کر پا رہا ہوں۔
ولید کی آواز میں بے حد دکھ تھا، جیسے وہ حقیقت میں اپنے آپ کو ملامت کر رہا ہو۔
پہلے ماہی اور اب حارث، ماما، میں اب تھک چکا ہوں۔ میں لاکھوں دشمنوں سے لڑ سکتا ہوں، لیکن اپنے بھائی سے کیسے لڑ سکتا ہوں؟
ولید کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور وہ پھر سے بولا، سب کو حارث سے نفرت ہو رہی ہوگی، سب اُس سے نفرت کرنے لگے ہوں گے، شاید ماہی کو بھی اُس سے نفرت ہو جائے، لیکن… میں اب بھی اُسے نفرت نہیں کر پا رہا ہوں، میں ابھی بھی اُس کے لیے رو رہا ہوں۔
مُجھے میرا بھائی واپس چاہئے۔۔۔
یہ میرا کیسا امتحان ہے، ماما، میں نہ حارث سے لڑ سکتا ہوں، نہ ماہی کو چھوڑ سکتا ہوں۔ میں کیا کروں؟ میں ماہی کو وہ دینا چاہتا ہوں جو اُس نے بہت دل سے مجھ سے مانگا تھا، میں اُسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔
ولید کی آواز میں شکست اور محبت دونوں کی جھلک تھی۔ احمد صاحب ولید کو ڈھونڈتے یہاں تک پہنچے تو۔۔۔وہ تیزی سے احمد صاحب کے گلے لگ گیا۔
بابا… وہ ٹھیک تو ہو جائے گا نا؟ اُس کی آواز میں ایک بے حد خوف اور دعا کی شدت تھی۔ بابا، مجھے ابھی سے اُس کی آواز سنائی دے رہی ہے، وہ بہت تکلیف میں ہے، بابا، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے..
ولید کی آنکھوں سے آنکھوں تک گہرا دکھ تھا، جیسے وہ ہر لمحہ اپنے بھائی کی تکلیف میں مبتلا ہو۔
بابا، ہم واقعی جڑواں ہیں… اُس کی تکلیف مجھے محسوس ہوتی ہے، بابا، وہ بہت تکلیف میں ہے… وہ روتے ہوئے بولا۔
احمد صاحب نے نرمی سے اُس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور نرم لہجے میں کہا، ایسے، میرے سامنے رونے سے بہتر ہے کہ تم اللہ کے سامنے روؤ، جس نے تمہیں پہلا حارث دیا تھا، ویسا ہی وہ تمہیں تمہارا حارث واپس دے گا۔ اُس کے لئے بہت ساری دعاؤں کی ضرورت ہے، بہت طاقتور دعا کی ضرورت ہے، اور ایک بھائی کی دوسری بھائی کے لئے کی گئی دعا میں بہت طاقت ہوتی ہے۔
پھر احمد صاحب نے ولید کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے کہا، یاد ہے، تم بچپن میں کہا کرتے تھے کہ اللّٰہ تُم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے ، اور تُم اُس کے پسندیدہ ہو ۔۔۔ تو تم دعا کرو .. اللہ کبھی اپنے پسندیدہ بندے سے اُس کی پسندیدہ چیز چھینتا نہیں ہے۔
یہ الفاظ جیسے ولید کی روح میں اتر گئے تھے، وہ جانتا تھا کہ احمد صاحب کا ہر لفظ سچ ہے، اور اس میں وہ طاقت تھی جو اُسے اپنے بھائی کے لیے دعا کرنے کا حوصلہ دے سکتی تھی۔۔۔
ماہی اس وقت فوراً اندر بھاگ گئی تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ ولید اُسے دیکھے اور وہ پھر شرمندہ ہو۔ وہ یہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ولید اُس کے سامنے کبھی بھی اپنے جذبات ظاہر نہیں کرے گا، کیونکہ وہ ہمیشہ مضبوط دکھنا چاہتا تھا، وہ کبھی اپنی کمزوری نہیں دکھاتا تھا۔۔۔۔
ماہی کو یہ بات بخوبی سمجھ تھی کہ ولید کا دل اتنا نرم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے درد کو اپنے اندر دباتا تھا، خاص طور پر اس کے سامنے، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ماہی یا کوئی اور اس کی تکلیف کو دیکھے۔ اس لیے ماہی یہاں سے نکل گئی
وہ جانتی تھی کہ یہ لمحات اس کے لئے بھی بہت مشکل ہیں، اور ولید کے سامنے اس کی حالت ظاہر کرنا دونوں کے لئے اور بھی زیادہ مشکل ہو سکتا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کے آنسو پونچھے اور اپنی تکلیف کو چھپانے کی کوشش کی،
++++++++++++++
کیا کہہ رہا تھا ولید تم سے؟ احمد صاحب نے دھیمے مگر سخت لہجے میں پوچھا۔ ولید کے مسجد جانے کے بعد احمد صاحب سیدھا ماہی کے پاس آئے،
نازیہ بیگم کے کہنے کے باوجود سونیا پھوپو ہسپتال سے نہیں گئیں تھیں، اور ان کے نہ جانے کی وجہ سے ماہی بھی وہیں موجود تھی۔
باقی سب لوگ گھر جا چکے تھے۔
سونیہ پھوپو ڈاکٹر کا انتظار کر رہی تھیں- بس اتنی خبر چاہیے تھی کہ حارث خطرے سے باہر ہے، پھر وہ بھی سکون سے گھر لوٹ جاتیں۔
ماہی نے فرش پر نظریں گاڑتے ہوئے مدھم آواز میں کہا،
وہ کہہ رہا تھا… کہ وہ یتیم خانہ سے آیا ہے…
احمد صاحب چند لمحے حیرانی سے اُسے دیکھتے رہے۔
اس نے تم سے کہا کہ وہ یتیم خانہ سے آیا ہے؟ اُن کا لہجہ سوالیہ تھا، آنکھوں میں ایک چھپی تشویش۔
ماہی نے پلکیں جھکائیں اور نرم آواز میں کہا،
نہیں… اس نے مجھے خالہ سمجھ کر کہا تھا… اُسے لگا میں اُس کی خالہ ہوں…
اس نے نظریں بدستور فرش پر جمائے رکھیں، جیسے خود سے نظریں بھی نہیں ملا پا رہی ہو۔
احمد صاحب کی آنکھوں میں ایک سایہ سا لہرایا۔
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی، پھر وہ دھیرے سے گویا ہوئے،
ولید تمہیں پسند کرتا ہے، یہ تم جانتی تھیں؟
ماہی نے سر نفی میں ہلا دیا۔
نہیں… مجھے بالکل علم نہیں تھا…
اُس کی آواز سچائی سے بھیگی ہوئی تھی۔
احمد صاحب نے ایک اور سوال پھینکا،
اور حارث؟
ماہی نے پھر اسی خاموش سنجیدگی سے جواب دیا،
یہ بھی نہیں جانتی تھی…
احمد صاحب نے گہری سانس بھری۔
چند لمحوں بعد، انہوں نے نرمی سے کہا،
ہمم… ٹھیک ہے۔۔۔
ایک پل کے توقف کے بعد ماہی نے ہمت کر کے اپنی الجھن بیان کی،
اگر اب آپ بتا سکیں… تو بتا دیں… ولید کیوں یتیم خانے سے آیا تھا؟ ورنہ رہنے دیں۔۔۔
احمد صاحب نے ایک گہری سانس لی، جیسے کوئی بھاری بوجھ اپنے سینے سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ وہ لمحہ بھر کو خاموش رہے، پھر نرم لہجے میں گویا ہوئے—
کبھی کبھی کچھ فیصلے حالات کی مار ہوتے ہیں۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی لینے پڑتے ہیں۔۔۔
ماہی خاموشی سے اُن کی طرف دیکھتی رہی، جیسے ایک ایک لفظ اپنے اندر جذب کر رہی ہو۔
میں نے اپنی پسند سے نازیہ سے شادی کی تھی۔۔۔
احمد صاحب نے دھیرے سے ماضی کے بند دریچوں کو کھولا،
جن دنوں میں اپنے کام کے سلسلے میں پاکستان آیا، وہیں نازیہ کو دیکھا اور دل دے بیٹھا۔۔۔ والدین شروع میں نہیں مان رہے تھے، لیکن آخرکار میں نے منا ہی لیا۔
وہ مدھم سا مسکرائے جیسے ان لمحوں کی مٹھاس اب بھی محسوس ہو رہی ہو۔
مگر… ان کی آواز میں اب ایک تلخی سی گھل گئی،
نازیہ اور میری والدہ کی آپس میں کبھی نہیں بنی۔
نازیہ لندن میں اُن کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی تھی۔
انہوں نے آہستہ آہستہ لفظ چنے، جیسے ہر یاد ایک چھپی ہوئی چبھن لیے ہو۔
میری والدہ نے صاف کہہ دیا — ایسے نہیں چلنے والا۔ پاکستان لے جاؤ، تم تو ویسے بھی کام کے سلسلے میں زیادہ وقت باہر رہتے ہو۔ جب چھٹیاں ہوں، دو مہینے پاکستان میں گزار لینا، اور باقی وقت میرے پاس۔۔۔
احمد صاحب نے ایک گہری سانس لی۔
میں نے سوچا، ٹھیک ہے۔
زیادہ لڑائی جھگڑے سے بہتر ہے کہ دونوں فاصلہ رکھیں، تاکہ تعلق میں اور زیادہ کڑواہٹ نہ آئے۔
یوں نازیہ نے پاکستان میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لیا۔
میں نے بھی خوشی خوشی اجازت دے دی، آخر وہ دو ہی بہنیں تھیں، اور ان کے ماں باپ بھی اس وقت حیات تھے۔
تمہاری ماں یعنی نادیہ کی اُس وقت شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی، صرف ان کی دھیمی آواز گونج رہی تھی۔
پھر ہماری شادی کو دو سال گزر گئے۔۔۔ مگر اولاد نہ ہوئی۔
میں نے تو اللہ کی رضا میں خوشی دیکھی،
لیکن نازیہ… نازیہ کے لیے یہ ایک اذیت تھی۔
ڈاکٹروں کے پاس بھی گئے، علاج بھی کروایا،
مگر اولاد نصیب نہ ہوئی۔
نازیہ دن بہ دن اُداس اور مایوس ہوتی گئی۔۔۔ اور اسی دکھ نے میری والدہ اور نازیہ کے درمیان مزید دراڑیں ڈال دیں۔
احمد صاحب کی آنکھوں میں ایک درد تیر گیا۔
میں نازیہ کی یہ حالت دیکھ کر تڑپ اٹھا۔
تو میں نے ایک دن اُس سے کہا — ہم ایک بچہ گود لے لیتے ہیں۔
اور نازیہ فوراً راضی ہو گئی۔۔۔ بس ایک شرط رکھی۔۔
کہ میں کسی کو نہ بتاؤں گا کہ یہ بچہ گود لیا گیا ہے۔
سب کو یہی کہا جائے گا کہ یہ ہماری اپنی اولاد ہے۔
ماہی خاموشی سے ان کی ہر بات سن رہی تھی،
نازیہ کی والدہ نے کہا کہ ہم عیدی سینٹر سے بچہ گود نہ لیں۔۔۔
احمد صاحب کی آواز بھاری ہونے لگی،
کسی ایسے خاندان سے بچہ لے لو، جہاں غربت یا مجبوری ہو۔
ایسا بچہ جس کے والدین کا پتہ ہو۔۔۔ تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ بنے۔
لیکن نازیہ نے… نازیہ نے صاف انکار کر دیا۔
کہا۔۔۔
‘مجھے ایسا بچہ نہیں چاہیے جس کے پیچھے کوئی سایہ ہو۔۔۔ مجھے ایک ایسا بچہ چاہیے جو بس میرا ہو۔۔۔ جس کی شناخت میری گود ہو، نہ کہ اس کا ماضی۔۔۔’
احمد صاحب کی آواز رُک گئی تھی جیسے دل کا بوجھ زبان پر آ کر ٹھہر گیا ہو۔
میں عیدی سینٹر گیا تھا۔۔۔
احمد صاحب نے ماضی کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے کہنا شروع کیا،
لیکن وہاں جا کر کچھ سمجھ نہیں آیا۔
دل میں ایک عجیب سی بےچینی تھی۔۔۔ کوئی کشش محسوس نہیں ہو رہی تھی کسی کی طرف۔۔۔
انہوں نے ایک پل کو رُک کر گہری سانس لی۔
انہی دنوں مجھے میرے ایک دوست نے ہسپتال بلایا۔
اُس دن اُس کی زندگی کا سب سے سیاہ دن تھا۔
اس کی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔۔۔ اور اُس کے ہاتھ میں ایک دو مہینے کا ننھا سا بچہ تھا۔۔۔
وہ دوست، جو سید فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔ جہاں محبت اور پسند کی شادی کو اب بھی سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔۔۔
احمد صاحب کی آواز بوجھل ہو گئی۔
اس نے مجھ سے اپنی پوری کہانی کہی۔۔۔
کہ کیسے اُس نے خاندانی رکاوٹوں کے باوجود ایک لڑکی سے نکاح کیا تھا،
چھپ کر، بغیر کسی کی مرضی کے۔
وہ دونوں خاموشی سے پاکستان میں رہ رہے تھے۔۔۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک اُس کی بیوی ایک بیماری کے ہاتھوں دنیا چھوڑ گئی۔
کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ۔۔۔
وہ جانتا تھا اگر اپنی بیوی اور بچے کو لے کر والدین کے سامنے جائے گا تو نہ صرف انکار سننے کو ملے گا بلکہ خاندان سے نکال بھی دیا جائے گا۔
اور اگر صرف بچے کو لے کر جاتا۔۔۔
تو سوالوں کی بوچھاڑ ہوتی:
کون تھی لڑکی؟ کس خاندان سے تھی؟ کیا ہماری برادری سے تھی یا نہیں؟
اور اوپر سے مصیبت یہ کہ۔۔۔
گھر پر اُس کی شادی طے ہو چکی تھی۔
احمد صاحب نے افسردہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
وہ پھنس گیا تھا۔
نہ بچے کو چھوڑ سکتا تھا، نہ ساتھ لے جا سکتا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا ایک محفوظ ہاتھوں میں چلی جائے۔۔۔
ایسے لوگوں کے پاس جو اُسے حقیقی محبت اور والدین کا پیار دے سکیں۔۔۔
احمد صاحب کی آنکھوں میں نمی سی جھلکنے لگی۔
اور اُس وقت۔۔۔ اُس معصوم بچے کو دیکھ کر۔۔۔
میرا دل بھر آیا۔
ننھی سی جان، دنیا کے جھمیلوں سے انجان، کسی پناہ کی متلاشی۔۔۔
اور میں نے فیصلہ کر لیا۔
میں نے نازیہ سے بات کی۔۔۔ اور ہم نے اُس ننھے وجود کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ بنا لیا۔۔۔
اور اُس دن ولید ہمارے گھر آیا۔۔۔
صرف ولید نہیں۔۔۔ اللہ کی رحمت آئی تھی۔۔۔
ماہی نے حیرت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے پوچھا،
تو آپ نے کیا بتایا تھا خالہ کو؟ کہ یہ بچہ آپ کے دوست کا ہے؟
نہیں۔۔۔ احمد صاحب نے تھکے تھکے لہجے میں جواب دیا۔ میں نے نازیہ سے کہا تھا کہ میں یہ بچہ عیدی سینٹر سے لایا ہوں۔۔۔میں جانتا تھا کہ نازیہ کا دل بہت حساس ہے۔۔۔ اگر وہ جان جاتی کہ ولید کے ماں باپ کہیں زندہ ہیں، یا اُس کا کوئی اور رشتہ موجود ہے، تو شاید وہ کبھی اُسے پوری طرح اپنے دل سے اپنا نہ پاتی۔۔۔
اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ولید اپنی ماں کی محبت میں ذرا سا بھی فرق محسوس کرے۔۔۔
میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ ولید کا خون کتنے بڑے خاندان سے ہے۔۔۔
احمد صاحب نے بہت آہستگی سے کہا، جیسے کوئی برسوں سے چھپا ہوا راز اپنے سینے سے اتار رہے ہوں۔
اور ولید کا اصل باپ… وہ اب بھی زندہ ہے۔
ان کی آواز میں عجیب سا دکھ اور نرمی گھل گئی تھی۔
وہ وقتاً فوقتاً مجھ سے ولید کی خیریت پوچھتا رہتا ہے۔۔۔ اور یہ بات ولید کو کبھی نہیں بتائی۔۔۔
ماہی کی پلکیں لرزنے لگیں، جیسے الفاظ کا ہر حرف اُس کے دل پر دستک دے رہا ہو۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ولید اُس سے کئی بار مل بھی چکا ہے۔۔۔
احمد صاحب نے دھیرے سے کہا۔
مگر صرف میرے دوست کے تعارف سے۔۔۔ ولید کبھی جان ہی نہ سکا کہ جس شخص کو وہ ایک عام جان پہچان والا سمجھتا ہے، وہی اُس کا اصل خون ہے۔۔۔ اُس کا اپنا باپ۔
ہسپتال میں میرے دوست نے مجھ سے بس ایک وعدہ لیا تھا…
احمد صاحب کی آواز ایک دم نمی بھری ہو گئی، جیسے پرانی یادیں آنکھوں کے سامنے دھندلا گئی ہوں۔
کہا تھا، اس بچے کا نام میں نے خود رکھا ہے… ولید۔
انہوں نے نرمی سے ماہی کی طرف دیکھا۔
چاہے جو بھی ہو جائے۔۔۔ اس کا نام کبھی مت بدلنا۔۔۔
ان کی آواز میں ایسی شدت تھی کہ جیسے وہ لمحہ اب بھی ان کی روح میں گونج رہا ہو۔
میں نے اُس کا وعدہ نبھایا۔۔۔ آج تک۔۔۔ ولید… بس ولید رہا۔۔۔ اور ہمیشہ رہے گا۔۔۔
ماہی نے آہستہ سے سوال کیا،
ولید تو اُس وقت کافی چھوٹا تھا۔۔۔ پھر اُسے یہ سب کیسے پتہ چلا؟
بات یہاں ختم نہ ہوئی، وہ جو ہمارے زندگی میں روشنی بن کے آیا تھا، ہم نے اُس کی زندگی میں اندھیرا بھر دیا۔
احمد صاحب کی آواز میں ایک تلخی تھی جو دل میں گہری چبھن چھوڑ گئی۔۔۔
احمد صاحب نے ایک لمحہ کو خاموش ہو کر اپنی آنکھوں میں اترتی ہوئی نمی کو چھپانے کی کوشش کی، پھر نرمی سے گویا ہوئے۔
اُس دن، ہسپتال سے جب میں ولید کو گھر لایا، تو یوں لگا جیسے گھر کی ویران دیواروں میں ایک نئی زندگی کی سانسیں گونجنے لگی ہوں۔ سب خوش تھے۔۔۔ بہت خوش۔ ولید کو ہر کسی نے دل و جان سے چاہا، اور نازیہ نے تو یوں گود میں بھر لیا جیسے برسوں سے اسی پل کی منتظر ہو۔
ولید کے قدم کیا آئے، جیسے ہمارے نصیبوں کی بند کھڑکیاں کھلنے لگیں۔ اُسی کے بعد تمہاری ماں نادیہ کا اچھے گھرانے میں رشتہ طے ہو گیا، اور میں۔۔۔ میں جو دو لاکھ کی نوکری کرتا تھا، اللہ نے کرم کیا، اور میری تنخواہ دُگنی ہو کر چار لاکھ ہوگئی۔ یہ سب کچھ ایسے ہوا جیسے خوشیوں نے ہمارا گھر اپنا مسکن بنا لیا ہو۔
پھر، محض دو ماہ بعد، وہ خبر آئی جس کی امید تک ہم چھوڑ چکے تھے۔۔۔ نازیہ کے ماں بننے کی خوشخبری۔ وہ خوشی میں اس قدر بےخود ہو گئی تھی کہ اُس کے پاؤں زمین پر ٹکتے ہی نہ تھے۔
اور پھر۔۔۔ ہماری زندگی میں آیا حارث۔
حارث کا نام نازیہ نے خود رکھا، کہنے لگی، ‘جب ولید کا نام تم نے چُنا تھا تو اب یہ حق میرا ہے۔’ میں نے مسکرا کر اُسے اس حق کا پروانہ دے دیا۔
زندگی ایک خوبصورت خواب بن چکی تھی۔۔۔ لیکن خوابوں کے ساتھ حقیقتیں بھی جڑی ہوتی ہیں۔
اور جب حارث ہماری زندگی میں آیا تو نازیہ نے میری والدہ کو یہ بتا دیا اور پھر میری والدہ اُسے بولنے لگی کہ وہ لندن آجائے۔۔۔ وہ اپنے پوتے کو دیکھنا چاہتی تھی۔ دراصل میری والدہ نے کبھی نازیہ کو قبول ہی نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے لڑائی ہوتی تھی۔۔۔ اور میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا تھا۔۔۔ اور پھر اولاد سے زیادہ تو اولاد کی اولاد پیاری ہوتی ہے۔۔۔ پہلے تو نازیہ مانی نہیں جانے کے لیے لیکن پھر نادیہ کی شادی کے بعد وہ من گئی۔
ہم ولید اور حارث کو لے کر لندن پہنچے تو میری ماں، ہمارے ہمراہ دو بچوں کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئیں۔ نازیہ نے تو صرف حارث کا بتایا تھا، ولید کا ذکر تک نہ کیا تھا۔
حارث کی دادی نے دونوں بچوں کو گود میں بھر کر چہکتے ہوئے کہا،
‘یہ جڑواں ہیں؟ واہ رے اللہ کی دین! بڑا اچھا سرپرائز دیا تم نے۔۔۔
خوشی کے مارے دونوں کو چومتی رہیں۔۔۔ اور پھر ہنستے ہوئے پوچھا،
‘کیا نام رکھے ہیں ان کے؟’
میں نے جواب دیا، ‘ولید اور حارث۔’
وہ ٹھٹک کر رہ گئیں، پھر بولیں،
‘جڑواں ہو کر اتنے الگ الگ نام کیوں؟’
پھر ہنستے ہوئے کہنے لگیں،
‘آج سے یہ زویان اور زیان ہوں گے۔۔۔’
ہم دونوں، میں اور نازیہ، ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔ مگر حارث کی دادی کی محبت اور خوشی کے آگے ہم چُپ ہو گئے۔ اور یوں، ولید زویان اور حارث زیان بن گئے۔
دو سالہ ننھے فرشتے۔۔۔ اور دادی کے لبوں پر بس یہی نام رہ گئے تھے۔
اور کیا عجب کہ اُن معصوموں نے بھی دادی کی بات کو دل سے لگا لیا۔ خود کو زویان اور زیان ہی سمجھنے لگے۔
دن مہینوں میں، اور مہینے پلک جھپکنے میں گزرتے رہے۔
ولید اور حارث۔۔۔ یا کہو زویان اور زیان۔۔۔ دونوں شرارتوں کے شہزادے تھے۔
اگر ایک کچھ کرتا تو دوسرا ضرور ساتھ دیتا۔
بھوکے لگے تو ساتھ، سوتے تو ساتھ۔۔۔ یہاں تک کہ بیمار بھی ایک ساتھ ہو جاتے۔ کون کہہ سکتا تھا وہ جڑواں نہیں ہے۔۔۔
مگر ولید۔۔۔ ولید کچھ خاص تھا۔
وہ شرارتی تھا مگر دل کا ایسا نرم کہ حارث اگر اُسے مار دیتا تو وہ کبھی پلٹ کر جواب نہ دیتا۔
روتے ہوئے کبھی دادی کے پاس بھاگتا، کبھی نازیہ کے پاس، اور جب میں گھر پر ہوتا تو میرے پاس۔
میں کہتا، ‘بیٹا، تم بھی مار کر بدلہ لو۔۔۔ حساب برابر کرو۔’
مگر وہ معصوم آنکھوں سے مجھے دیکھتا اور کہتا،
‘میں اپنے بھائی کو کیسے مار سکتا ہوں۔۔۔ وہ میرا بھائی ہے۔‘
میں ہنس کر پوچھتا، ‘یہ کس نے سکھایا کہ بھائی کو مارا نہیں جاتا؟’
تو وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو جوڑ کر بڑی سنجیدگی سے کہتا،
‘یہ میرے اپنے خیالات ہیں۔ بھائی سے تو بس محبت کرتے ہیں، کھیلتے ہیں، خوش ہوتے ہیں۔۔۔ مارتے نہیں۔’
ایسے الفاظ چار سالہ ولید کے منہ سے سن کر میرا دل پھول کی طرح کھِل اٹھتا۔
کیا عجیب بات تھی کہ جس عمر میں بچے ضد کرتے ہیں، ولید نے رشتوں کی محبت کو اپنے دل میں بسا لیا تھا۔
وہ اپنی دادی کے بہت قریب تھا، جیسے اُس کی چھوٹی سی دنیا دادی کی ہنسی میں سمٹی ہو۔
جبکہ حارث۔۔۔ حارث اپنی ماں سے لپٹا رہتا۔
اور پھر ولید نے تو ہمیں اُس وقت حیرت میں ڈال دیا، جب وہ دادی اور نازیہ کو نماز پڑھانے لگا۔
کبھی روتا، کبھی ضد کرتا، کبھی پیار سے سمجھاتا۔
ولید کہتا،
‘دادی، اٹھو، نماز پڑھو، ورنہ شیطان تمہیں دیکھ کر خوش ہو گا۔۔۔’
حارث معصومیت سے لقمہ دیتا،
‘توبہ توبہ، کہیں ہماری دادی شیطانوں کی سردار تو نہیں۔۔۔؟’
دادی ہنستے ہنستے دوہری ہو جاتیں،
‘توبہ توبہ! میں کیوں بننے لگی شیطانوں کی سردار۔۔۔؟’
ولید فوراً سنبھالتا،
‘آپ نماز نہیں پڑھ رہی دادی۔۔۔ شیطان آپ کو دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔
میں نہیں چاہتا کہ شیطان میری دادی کو دیکھ کر خوش ہو۔۔۔
میری دادی کو دیکھ کر تو فرشتے خوش ہونے چاہئیں۔’
حارث پیچھے پیچھے دوڑتا،
‘ہاں ہاں دادی۔۔۔ چلو چلو۔۔۔ نماز پڑھو۔۔۔!’
یہ ننھی ننھی باتیں۔۔۔ یہ معصوم دعائیں۔۔۔
ہمارے گھر کو جنت کی مہک سے بھر دیتی تھیں۔
اور اُس لمحے، میں ہر بار سوچتا تھا۔۔۔
شاید اللہ نے ہمارے نصیب میں خوشیوں کا ایسا چراغ جلایا ہے، جو کبھی بجھنے والا نہیں۔۔۔
مگر قسمت کے فیصلے تو انسانوں کی خواہشوں سے بہت بلند ہوتے ہیں۔
اور نازیہ پر تو دونوں کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا اُس کے پاس جا کر تو ولید کو رونا ہی پڑتا تھا۔۔۔
وقت کی نرم چادر پر معصوم قدموں کی چاپ بڑھنے لگی تھی۔
لندن کی چمکتی دمکتی گلیوں میں پلنے والا ولید،
اپنے اندر کچھ ایسا نور لے کر آیا تھا،
جو اندھیرے کونے کونے میں اتر کر روشنی پھیلانے لگا تھا۔
میری ماں۔۔۔
جو برسوں سے دین سے دور، دنیاوی رنگینیوں میں کھو چکی تھیں۔۔۔
جن کے دن ٹی وی ڈراموں اور کیٹی پارٹی میں بسر ہو جاتے تھے۔۔۔
انہیں ولید نے نہ چاہتے ہوئے بھی، ایک ان دیکھے راستے پر ڈال دیا۔
وہ دن بھی کیسا عجیب تھا۔۔۔
جب ولید اُن کے پہلو میں لیٹا نیند اور بیداری کے بیچ کی حالت میں، معصومیت سے کہہ گیا:
دادی۔۔۔ آپ تو مجھے اسلام کے بارے میں کچھ نہیں بتاتیں۔۔۔
جبکہ میرے دوست کی دادی اُسے ہر رات کہانیاں سناتی ہیں۔۔۔
اچھی اچھی باتیں بتاتی ہیں۔۔۔
وہ آ کر مجھے بھی بتاتا ہے۔۔۔
اور میں شرمندہ ہو جاتا ہوں۔۔۔
کہ میری دادی تو صرف مجھے پیار کرتی ہے۔۔۔
اور یوٹیوب پر کارٹون دیکھتی ہے۔۔۔
یہ جملے تھے یا کوئی چھپی ہوئی تلوار۔۔۔
ماں کے دل پر ایسے لگے کہ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
اُس رات، ماں نے شاید پہلی بار، یوٹیوب پر اسلامی ویڈیوز تلاش کیں۔۔۔
دعائیں، قصے، نبیوں کی کہانیاں۔۔۔
پھر وہی ویڈیوز سن کر، سیکھ کر، سادہ الفاظ میں ولید کو سنانے لگیں۔
اور ولید۔۔۔
وہ تو جیسے ہر نیکی کا بھوکا تھا۔
دادی کی زبانی جو بھی سنتا،
اپنے چھوٹے دل میں اُسے بساتا چلا جاتا۔
میں دیکھتا تھا۔۔۔
کس طرح ایک چھوٹا سا بچہ،
ایک بوڑھی ماں کی سوئی ہوئی روح کو جگا رہا تھا۔۔۔
کیسے اُس کے اندر ایمان کی شمع دوبارہ روشن کر رہا تھا۔
یہ سب کچھ محض کسی معجزے جیسا لگتا تھا۔۔۔
لیکن شاید یہی محبت کا اصل کمال تھا۔
یہ بھی شاید اللہ کی خاص مہربانی تھی،
کہ میں نے اسکول میں داخل کروانے سے پہلے،
دونوں بھائیوں کو مسجد میں قرآن پڑھنے بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
کہتے ہیں نیکی کی بنیاد جتنی جلدی رکھ دی جائے،
اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔
اور بس۔۔۔
اسی فیصلے نے ولید کے ننھے دل میں اللہ کی محبت،
دین کی خوشبو اور حق کی روشنی بھر دی تھی۔
اب وہ اپنے معصوم سوالات،
سادہ مگر سچے اعتراضات،
اور بےلوث محبت کے ساتھ،
نہ صرف اپنی دادی کا دل بدل رہا تھا،
بلکہ ہمارے گھر میں اللہ کی رحمتوں کے دروازے بھی کھول رہا تھا۔
چھوٹے چھوٹے قدموں سے بڑا سفر شروع ہو چکا تھا۔۔۔
ایک ایسا سفر جس کا انجام محبت، ایمان اور قربتِ الٰہی کی طرف تھا۔
ماہی نے حیرانی سے احمد صاحب کی طرف دیکھا،
تو یہ سب کچھ تو ٹھیک جا رہا تھا ناں؟ یہ سب تو خوشی کی باتیں تھیں ناں۔۔۔؟
احمد صاحب کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
ہلکی سی اداسی اُن کے لہجے میں گھل گئی۔
ہاں۔۔۔ سب کچھ بہت خوبصورت تھا۔۔۔
انہوں نے بمشکل الفاظ سنوارے،
لیکن پھر انہیں پتہ چل گیا کہ ولید میری اپنی اولاد نہیں ہے۔
ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
کیسے؟ کیسے پتہ چلا؟
احمد صاحب نے ایک لمبی سانس لی،
ایسے جیسے ماضی کا کوئی بھاری پتھر دل پر رکھ کر وہ آج بولنے جا رہے ہوں۔
اُس دن۔۔۔ وہ آہستہ سے گویا ہوئے،
جب میں ولید کے باپ کو فون پر ولید کی خیریت بتا رہا تھا۔
یہی کہ کیسا اچھا بچہ ہے، کیسا نورانی چہرہ ہے،
تُم نے ولید کو مُجھے دے کر مجھے پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔۔۔
وہ پل بھر کو رکے، شاید آواز کا بوجھ سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
میری ماں۔۔۔ اُن کی آواز بھیگنے لگی،
پیچھے سے میری باتیں سن رہی تھیں۔۔۔
میں نے انہیں دیکھا نہیں تھا۔۔۔
لیکن وہ سُن چکی تھیں۔۔۔
اور بس، اُس کے بعد سے۔۔۔
انہوں نے ولید کو کچھ نہیں کہا۔۔۔
کچھ نہیں جتایا۔۔۔
بس، آہستہ آہستہ۔۔۔
اُس سے دور ہونے لگیں۔۔۔
احمد صاحب نے تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیں،
جیسے اُس لمحے کو دوبارہ دیکھ کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
میں نے اپنی ماں سے بہت پوچھا، کہ بتایا کیا ہوا ہے؟ اگر وہ ہمارا خون نہیں ہے، تو کیا ہوا؟
احمد صاحب نے آہستہ سے کہا۔
انہوں نے پھر صرف ایک ہی سوال کیا:
‘حارث میرا خون ہے یا نہیں؟’
میں نے کہا ‘ہاں’… بس پھر انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔
ان کی آواز میں درد تھا، جیسے یہ لمحہ کبھی ان کے دل سے نکل نہ سکا ہو۔
پھر وہ نہ ولید کے ساتھ کھیلتی، نہ اُس سے باتیں کرتی۔ اور وہ جو کبھی کچھ کہتا تو بنا اُسے تنگ کیے مان لیتی۔ جب کہ حارث کے ساتھ ویسا ہی سلوک تھا جیسے پہلے تھا۔
آہستہ آہستہ وہ اپنی بات مکمل کرتے گئے، جیسے ہر لفظ اُنہیں کچل رہا ہو۔
دونوں بچوں میں فرق کرنا شروع کر دیا تھا میری ماں نے ، اور شاید سات سالہ ولید نے یہ سب کچھ نوٹ کیا ہو، میں نہیں جانتا۔ وہ کبھی اس بارے میں مجھ سے یا نازیہ سے بات نہیں کی۔
احمد صاحب کا گلا رندھ گیا، اور وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔
اور پھر میں، جو زیادہ تر وقت کام پر باہر رہتا تھا، میں صرف دو مہینے ہی گھر پر رہتا تھا۔ کبھی کبھار زیادہ ہو جاتا تو چار مہینے۔۔۔ اس سے زیادہ میں اپنے کام کی وجہ سے نہیں روک سکتا تھا۔
وہ لمحہ بھر خاموش رہے، جیسے دل میں اُترا درد کم ہونے کا نام نہ لیتا ہو۔ پھر انہوں نے دھیرے سے کہا،
پھر میری ماں کا انتقال ہو گیا۔ اور وہ بغیر کچھ بتائے، بس اس دنیا سے چلی گئیں…
احمد صاحب کی آنکھوں میں ایک مدھم سی چمک آئی، جیسے وہ ماضی کی کسی گہری چوٹ کو یاد کر رہے ہوں۔
ماہی خاموشی سے اُنہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ سمجھ سکتی تھی کہ احمد صاحب کے دل میں کیسا غم تھا، وہ لمحہ، جب دل کے قریب ترین رشتہ میں دراڑ پڑی ہو۔
وہ جب چلی گئیں تو۔۔۔ پھر کیا ہُوا پھر ولید نے بات کی ۔۔۔؟ ماہی نے نرمی سے پوچھا۔۔۔۔
احمد صاحب کی آواز میں ایک اور دُکھ بھری خاموشی آ گئی، جیسے وہ لمحے دوبارہ جھیل رہے ہوں۔ وہ پل بھر کے لیے خاموش ہوئے، اور پھر آہستہ سے کہا،
نہیں، وہ روتا رہا، بہت روتا۔ رات کو روتا، دن کو روتا، شام کو روتا۔۔۔ نہ مجھ سے سمالا نہ نازیہ سے۔ بس ایک ہی لفظ تھا جو اُس کے منہ سے نکلتا، ‘مجھے میری دادی چاہیے، مجھے میری دادی چاہیے’۔
آہستہ آہستہ احمد صاحب کی آواز میں گہرائی آ گئی، جیسے ہر لفظ ان کے اندر کے دکھ کو ایک بار پھر اُجاگر کر رہا ہو۔
ماہی کی آنکھوں میں ایک سسکیاں سی اُبھر آئیں۔ اُس نے گہری سانس لی اور نرم لہجے میں کہا،
یہ سب کچھ ولید کے لیے کتنا تکلیف دہ رہا ہو گا۔۔۔ آپ نے اُسے کیسے سمجھایا؟
احمد صاحب نے سر جھکایا اور پھر نظریں اٹھا کر ماہی کی طرف دیکھا،
میں نے اُسے سمجھانے کی بہت کوشش کی، مگر اُس کا دل اتنا ٹوٹا ہوا تھا کہ وہ مان ہی نہیں رہا تھا۔ وہ بس اپنی دادی کو یاد کرتا رہتا، اور اُس کی ہر بات میں ایک خالی پن تھا، جیسے اُس کا دل کچھ کھو چکا ہو۔
انہوں نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، جیسے وہ لمحے پھر سے زندہ ہو گئے ہوں،
مجھے یاد ہے ایک دن، وہ روتے روتے آیا، اور کہنے لگا، ‘ابا، مجھے میری دادی چاہیے۔’ اُس دن مجھے لگا کہ وہ بچہ نہیں، ایک بوجھ اُٹھائے انسان کی طرح روتا ہے، جیسے اُس کا بچپن چھین لیا گیا ہو۔
آہستہ آہستہ، احمد صاحب نے وہ لمحے اپنی آنکھوں میں محفوظ کیے اور پھر ایک گہری سانس لی،
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، اور میں صرف اُسے اپنی گود میں اُٹھا کر چپ کروا دیتا۔
ماہی نے کچھ نہ کہا، بس اُس کے دل میں ایک گہرا دکھ اُبھرا۔ وہ احمد صاحب کی باتوں میں اُس درد کو محسوس کر سکتی تھی، جو ایک والد اپنے بچے کے دل کی تکلیف کو دیکھ کر محسوس کرتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ لمحے احمد صاحب کی زندگی کا ایک بھاری بوجھ بن چکے ہوں گے۔
میری ماں کی وفات کے چند دن بعد ہی مجھے کام پر جانا پڑ گیا۔۔۔
احمد صاحب نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، بہت کوشش کی کہ مزید چھٹی مل جائے، مگر پہلے ہی دو مہینے کی چھٹی لے چکا تھا۔ اضافی چھٹی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ مجبوراً جانا پڑا۔۔۔
وہ پل بھر رکے، اور پھر دُکھ بھری مسکراہٹ کے ساتھ بولے،
جب اگلے سال واپس آیا تو دیکھا، ولید اب پہلے کی طرح نارمل ہو چکا تھا۔ مجھے لگا نازیہ نے بڑی محنت سے سنبھال لیا ہوگا اُسے۔ آخر وہ اُسے بے انتہا چاہتی تھی۔ مگر میں غلط تھا۔
دوسری ہی رات نازیہ میرے پاس آئی۔
اس کی آنکھوں میں تھکن اور دل میں بوجھ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
آپ کو میری بات سمجھ آ بھی رہی ہے یا نہیں؟
نازیہ نے ہلکی سی تیز آواز میں کہا۔
میں نے تھکی ہوئی آواز میں جواب دیا،
آرہی ہے، مگر میں سننا نہیں چاہتا۔
وہ ایک قدم میرے قریب آئی اور رندھی ہوئی آواز میں بولی،
مجھ سے اب واقعی نہیں سنبھالا جا رہا دونوں بچوں کو۔۔۔
میں نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا،
پھر ہم ولید کے لیے کوئی بیبی سِٹر رکھ لیتے ہیں۔۔۔
لیکن نازیہ نے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے کہا،
صرف بیبی سِٹر رکھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کو معلوم ہے نا، ولید کتنا شرارتی ہے۔۔۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا تماشہ۔
میں نے سخت لہجے میں کہا،
لیکن جو تم کہہ رہی ہو، وہ بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔ کیا اسی دن کے لیے تم نے ولید کو اپنی گود میں رو رو کر مانگا تھا؟
نازیہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ تھکی تھکی سی آواز میں بولی،
سارا دن میں بچوں کے ساتھ رہتی ہوں۔ آپ کو کیا معلوم، مجھے کتنی پریشانی ہوتی ہے۔ اب تو سال میں بھی صرف دو مہینے کے لیے آتے ہیں۔
اس کی آواز مزید بھاری ہو گئی،
اب میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔ احمد، میں تھک گئی ہوں۔
آخری جملہ وہ روتی ہوئی آواز میں بولی، جیسے دل کے بوجھ نے اُس کے اندر کی ساری ہمت چھین لی ہو۔
پر وہ تو ولید سے اتنی محبت کرتی تھی۔۔۔
ماہی کو حیرت کا جھکتا لگا۔۔۔
ہاں… کرتی تھی… احمد صاحب ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا،
حارث کے دنیا میں آنے سے پہلے تک۔۔۔
جب اپنی سگی اولاد آنکھوں کے سامنے آ جائے نا، تو پھر دوسرے کا وجود دھندلا جاتا ہے۔۔۔ نازیہ نے ولید کا خیال بس حارث کے آنے تک رکھا تھا۔
احمد صاحب لب کپکپا اٹھے، آواز رندھ گئی۔
اس کے بعد… ولید کو تُمہاری ماں نے سنبھالا جب تک اس کی شادی نہیں ہوگئی۔۔۔ اُس کے بعد اُس کی نانی نے ۔اور پھر لندن آنے کے بعد اُس کی دادی نے۔۔۔ اور میں؟ میں تو یہاں تھا ہی نہیں۔۔۔ روزی کی فکر میں، اپنے فرضوں میں۔۔۔ اور مجھے اندازہ تک نہ ہو سکا کہ ولید۔۔۔ میرا ولید۔۔۔ خاموشی سے ایک اجنبی بن کر ہمارے درمیان کہیں کھو گیا تھا۔
نازیہ نے شاید اپنے دل سے اسے بہت پہلے نکال دیا تھا۔۔۔ اور اگر میری ماں ہمیں لندن نہ بلاتی، تو نازیہ شاید تب ہی مجھے وہ سب کچھ کہہ دیتی جو اب کہہ رہی ہے۔۔۔
میرے دل پر جیسے خنجر سا چلا جب میں نے اُس دن کی یاد کو دہرایا۔
ایک دن وہ غصے سے میرے پاس آئی۔۔۔ آنکھوں میں آگ، لہجے میں زہر۔۔۔ اور چیخ کر کہنے لگی، ‘یہ ولید میری زندگی کا عذاب بنتا جا رہا ہے۔۔۔ آپ اسے چھوڑ آئیں، ورنہ میں حارث کو لے کر پاکستان واپس چلی جاؤں گی۔۔۔’
الفاظ جیسے سانپ بن کر میرے گرد لپٹنے لگے۔
میں خاموش بیٹھا رہا، جیسے پتھر کا بُت بن گیا ہو۔
کیا یہ وہی نازیہ تھی، جو کبھی ولید کی ہنسی پر خود بھی ہنستی تھی؟
جو اسے گود میں لے کر دعائیں مانگتی تھی؟
آج وہی ولید…
صرف ایک بوجھ بن گیا
اُس رات…
میں ٹوٹے دل کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا۔
نازیہ کے الفاظ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے تھے –
یہ ولید میری زندگی کا عذاب بنتا جا رہا ہے۔۔۔
ہر لمحہ، ہر سانس جیسے میرے سینے پر بوجھ ڈال رہا تھا۔
میرے ذہن میں ایک ہی سوال چکرا رہا تھا –
جب میرے سامنے وہ اس بچے کو یوں کہہ رہی ہے… تو میرے نہ ہونے پر؟ کیا سلوک کرتی ہوگی اُس چھوٹے معصوم کے ساتھ۔۔۔؟
پریشانی کی شدت میں، میں نے بے اختیار ولید کے اصل باپ کا نمبر ڈائل کر دیا۔
کئی بیلوں کے بعد اُس نے فون اٹھایا۔
ہاں احمد، خیریت؟
میں نے کپکپاتی آواز میں ساری کہانی کہہ سنائی، دل کا بوجھ اس امید پر ہلکا کیا کہ شاید وہ کوئی بہتر مشورہ دے۔
لیکن اُس کے الفاظ… اُس کی بےحسی…
میری روح چیر گئی۔
چھوڑ دو اُسے… یتیم خانے میں۔۔۔
ایک لمحے کو میری سانس رک گئی۔
ایسا لگا کسی نے میرے وجود کو جھنجھوڑ دیا ہو۔
فون میرے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
کیا واقعی۔۔۔
کیا واقعی وہ باپ کہلانے کے لائق تھا؟
کیا واقعی ولید کی قسمت میں بس بے رخی لکھی تھی۔۔۔؟
میں صوفے پر گرتے گرتے سنبھلا،
اور خود سے سوال کرنے لگا –
کیا میں بھی اُسے یوں ہی چھوڑ دوں؟
کیا میں بھی بے وفائی کر جاؤں؟
جسے میں نے باہوں میں بھر کر باپ کی محبت دی۔۔۔
کیا آج میں اُسے اجنبیوں کے حوالے کر دوں۔۔۔؟
نہیں…!
میرے دل نے چیخ کر کہا۔
نہیں۔۔۔۔۔
میں نے آنسو بھری آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں ایک فیصلہ کر لیا –
چاہے دنیا ساتھ چھوڑ دے، میں ولید کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
کبھی نہیں۔
لیکن کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں، جو ہم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتے۔۔۔
میں نے ٹوٹے دل کے ساتھ خود سے کہا۔
میری خواہش تھی کہ میں ولید کو اپنے سینے سے لگا کر رکھوں،
اسے ہر دکھ، ہر طعنہ، ہر ظلم سے بچا لوں۔
لیکن زندگی ہمیشہ خواہشوں کی غلام نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی ہم چاہ کر بھی اُن راستوں پر نہیں چل سکتے،
جن پر دل کا ہر قدم جانا چاہتا ہے۔
میرے سامنے دیواریں کھڑی تھیں۔۔۔
ذمہ داریاں، مجبوریوں کی دیواریں۔۔۔
ایک طرف نازیہ کی دھمکیاں، حارث کا مستقبل،
اور دوسری طرف ولید کی معصوم آنکھیں،
جن میں ہر لمحہ ایک ہی سوال چمکتا –
میں کہاں جاؤں گا؟
میں چاہتا تھا اُسے اپنے ساتھ رکھنا،
چاہتا تھا اُسے اپنے بیٹے کی طرح سینے سے لگا کر عمر بھر کے لیے تحفظ دینا۔۔۔
لیکن یہ دنیا، یہ حالات۔۔۔
میرے خوابوں سے کہیں زیادہ سخت تھے۔
اور پھر ایک رات، جب سب سو رہے تھے،
میں ولید کے کمرے میں گیا۔۔۔
وہ اپنے چھوٹے سے ہاتھوں میں تکیا دبائے سو رہا تھا،
چہرے پر معصومیت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا۔۔۔
میں دیر تک اسے دیکھتا رہا،
پھر اس کے ماتھے پر ایک بوسہ دیا،
اور دل ہی دل میں معافی مانگتا رہا –
بیٹا، میں ہار گیا…
میں تُم سے محبت کرتا ہوں،
پر تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔
وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے بھاری لمحہ تھا۔۔۔
ایک ایسا زخم جو شاید کبھی نہیں بھرے گا۔
اور پھر اچانک…
ولید نے اپنی ننھی ننھی پلکیں جنبش دیں،
اور اپنی معصوم آنکھیں کھول دیں۔
میں حیران سا وہیں رک گیا۔۔۔
میرے لب خاموش ہو گئے،
سانسیں جیسے ٹھہر سی گئیں۔
وہ اپنی نیند بھری آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
چند لمحے وہ یونہی دیکھتا رہا،
پھر دھیرے سے مسکرایا،
وہی معصوم سی مسکراہٹ،
جو میرے دل کے سب دروازے توڑ کر اندر اتر گئی۔
پھر اُس نے تھوڑا سا ہاتھ بڑھایا،
اور میرے دامن کو تھام لیا۔
بابا۔۔۔
اُس کی مدھم سی آواز میرے کانوں میں گونجی،
ایسی آواز جس میں بے حد یقین تھا،
ایسی محبت جس کا کوئی مول نہ تھا۔
میری آنکھیں نم ہو گئیں۔۔۔
میں نے اپنا ہاتھ اُس کے چھوٹے سے ہاتھ پر رکھا،
اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
جی میرے بیٹے۔۔۔ بابا یہیں ہے۔۔۔
وہ معصوم سا ہنسا،
اپنے ننھے ہاتھوں سے میرا چہرہ چھوا،
اور دھیرے سے کہا۔۔۔
بابا جیسا ماما کہتی ویسا ہی کرے۔۔۔
اُس کی بات سن کر میرے وجود میں ایک سناٹا چھا گیا،
جیسے کسی نے میرے دل پر تیز خنجر مار دیا ہو۔
وہ کتنا سمجھدار ہو گیا تھا،
چھوٹی عمر میں ہی اُس نے زندگی کے کڑوے سچ قبول کر لیے تھے۔
میں نے آپکی اور ماما کی باتیں سن لی تھی۔۔۔
میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر زور سے بھینچ دیا ہو۔
میں نے بےاختیار ولید کا ننھا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا،
لیکن الفاظ میرے ہونٹوں تک آ کر رک گئے۔
کچھ پل خاموشی چھائی رہی –
ایسی خاموشی جس میں صرف دل ٹوٹنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
پھر ولید نے اپنی آنکھیں مجھ سے چراتے ہوئے کہا:
ماما مجھے نہیں چاہتی نا بابا۔۔۔؟
میں بے بسی کے اُس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں صرف آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور زبان گونگی ہو جاتی ہے۔
میں نے ولید کو زور سے اپنے سینے سے لگا لیا،
بابا رو کیوں رہے ہیں۔۔۔ اس میں ماما کی خوشی ہے اور میں اُنہیں وہ خوشی دونگا۔۔۔
میری آنکھوں سے بہتے آنسو شاید ولید نے محسوس کر لیے تھے۔
اُس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے میرے چہرے کو چھوا اور معصومیت سے پوچھا
بابا… رو کیوں رہے ہیں؟
میں نے جلدی سے آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ بنانے کی کوشش کی،
مگر ولید کی نظریں میرے دل کی سچائی کو بھانپ چکی تھیں۔
پھر اُس نے اپنی چھوٹی سی ہتھیلی میرے ہاتھ پر رکھ دی اور دھیرے سے کہا
اس میں ماما کی خوشی ہے… اور میں اُنہیں وہ خوشی دونگا، بابا۔
یہ کہتے ہوئے اُس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا،
جیسے کوئی بڑا انسان اپنے دل کا فیصلہ کر چکا ہو۔
ایک سات سالہ بچہ –
جس کے نصیب میں محبت کی کمی تھی، لیکن قربانی کی عظمت تھی۔
میرے لب کپکپانے لگے۔
دل چاہا کہ ساری دنیا سے لڑ کر اُسے گود میں چھپا لوں،
کہہ دوں کہ تُو ہی میری دنیا ہے،
لیکن میں جانتا تھا کہ کچھ جنگیں خاموشی سے جیتی جاتی ہیں…
ولید کی یہ جنگ اُس کی خاموشی جیت رہی تھی۔
میں نے اُسے اپنے سینے سے لگا کر بس اتنا کہا:
بابا کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا، ولید۔ کبھی نہیں۔۔۔
اور اُس رات میرے سینے پر سر رکھ کر ولید پرسکون نیند سو گیا –
لیکن میری آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا،
کیونکہ میرا دل ایک معصوم قربانی کے بوجھ تلے دب کر ٹوٹ رہا تھا۔
اور پھر وہ دن آ ہی گیا۔۔۔
وہ دن جس سے میں کئی راتوں سے خوفزدہ تھا،
وہ دن جب مجھے اپنے معصوم ولید کو یتیم خانے (Orphanage) چھوڑ کر واپس اپنے کام پر جانا تھا۔
سارا دن گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی رہی۔
نازیہ بیگم نے ولید کا سارا سامان خود پیک کیا،
کپڑے، کھلونے، اور وہ چھوٹے چھوٹے جوتے جنہیں دیکھ کر میرا دل لرز گیا تھا۔
نازیہ نے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا
اب آپ اپنے نئے گھر جا رہے ہیں، بیٹا۔۔۔
ولید نے بھولی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا
اچھا… ماما۔
نازیہ نے اُس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا
آپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نا، بیٹا؟ آپ کا نیا گھر بہت اچھا ہے۔ وہاں آپ کو بہت مزہ آئے گا۔
ولید نے ننھی سی گردن ہلائی
نہیں ماما۔۔۔
نازیہ ولید کو اپنے سینے سے لگا کر بولی
میرا پیار بیٹا… ماما آپ سے ملنے آتی رہے گی۔۔۔
ولید نے معصومیت سے پوچھا
اور حارث کو بھی لے کر آئیں گی، ماما؟
نازیہ نے مُسکرا کے کہا۔۔۔
ہاں، حارث کو بھی ساتھ لاؤں گی۔
لیکن پیچھے کھڑے حارث نے غصے سے کہا..m
میں نہیں آؤں گا تم سے ملنے! اچھا ہے تم جا رہے ہو، جان چھوٹے گی تم سے۔
ولید نے حارث کو غور سے دیکھا،
چند لمحے خاموش رہا،
پھر دھیرے سے بولا
جب میں تمہیں یاد آؤں گا نا… تو تم آ جاؤ گے مجھ سے ملنے۔
حارث نے ہنکارا مارا
نہیں آؤں گا، کہا نا! میں تو خوش ہوں کہ تُو جا رہا ہے۔
نازیہ نے حارث کو ڈانٹا
بس کرو حارث! ہر وقت لڑتے رہتے ہو ولید سے۔۔۔
لیکن ولید چپ چاپ کھڑا رہا۔
اُس کی آنکھوں میں کوئی گلہ نہیں تھا،
بس ایک خاموش سی اپنائیت تھی،
ایک معصوم سی امید کہ شاید سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت بھی نہیں بھر سکتا۔
اور پھر ولید کے جانے کے بعد جیسی روشنی ہمارے گھر آئی تھی ولید کے جاتے ہی چلی گئی۔۔۔ میں تو کام پر تھا۔۔۔ لیکن نازیہ اور حارث گھر پر سکون سے نہیں رہ سکے ۔۔۔
نازیہ کے دل میں ولید کی یادیں چٹکیاں لیتی رہتی تھیں۔
ہر دن، ہر لمحہ، وہ ولید کے ہنسی مذاق، اُس کی معصوم باتوں، اور اُس کے چھوٹے سے وجود کی کمی محسوس کرتی۔
اور یہ کمی اُسے دن بدن زیادہ ستاتی جا رہی تھی۔
صبح کے وقت، جب وہ حارث کو اسکول بھیج کر واپس آتی، تو ولید کی آواز جیسے کمرے میں گونج رہی ہوتی، لیکن وہ ایک دھندلے خواب کی طرح چلی جاتی تھی۔
حارث، جو شروع میں خاموش تھا، اب اُس کا غصہ تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔
وہ بار بار نازیہ سے کہتا
ماما، ولید کو واپس لاؤ…
کیوں نہیں؟ کیوں اسے چھوڑ دیا ہے؟ اُسے واپس لاؤ۔۔۔وہ کہاں گیا ہے۔۔۔؟
نازیہ نے کئی بار کوشش کی کہ وہ حارث کو بتائے کہ ولید کہاں ہے اور کیوں وہ واپس نہیں آ سکتا، لیکن اس کا دل کہتا تھا کہ کچھ باتیں اُسے بتانا ضروری نہیں ہیں۔
پھر بھی وہ حارث کے غصے کو تسلی دینے کی کوشش کرتی
بیٹا، ولید وہاں ٹھیک ہے، وہ خوش ہے۔ اس کو بہتر زندگی ملے گی۔
لیکن حارث کے دل میں ایک بے چینی سی تھی، اور یہ غصہ اتنا بڑھا کہ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا اشتعال آ گیا تھا۔
وہ سمجھنے کو تیار نہیں تھا کہ ولید کو یتیم خانے میں کیوں چھوڑا گیا تھا، اور نازیہ کو لگ رہا تھا کہ وہ اسے کبھی سمجھا نہیں پائے گی۔
دوسری طرف، نازیہ کے دل میں ایک طوفان سا برپا تھا۔
وہ جب بھی ولید کو یاد کرتی، اُسے اپنے اندر کی کمزوری اور بے بسی کا سامنا ہوتا۔
اور یہ بے بسی اُس کے اندر کی خوفناک حقیقت سے جڑی ہوئی تھی کہ وہ ہمیشہ کے لیے اُس کا خیال نہیں رکھ سکتی تھی، جیسے اُس کی اپنی زندگی اور ترجیحات کبھی اُسے اُس کی مکمل توجہ دینے کا موقع نہیں دیتیں۔
حارث کی مسلسل ضد اور نازیہ کی خاموشی نے دونوں کی زندگی میں ایک خلا پیدا کر دیا تھا۔
حارث کے دل میں ولید کی کمی بڑھ رہی تھی، اور نازیہ کے دل میں ایک حسرت کہ شاید اس کی دنیا کبھی ویسی نہ ہو جیسے وہ چاہتی تھی۔
“وہ واپس کب آئے گا ماما؟”
حارث نے ایک دن پھر سوال کیا۔
نازیہ خاموش رہی، اور اس بار اُس کی آنکھوں میں ایک سسکی چھپ گئی۔
وہ کیا جواب دیتی؟ کیا کہتی کہ وہ واپس کبھی نہیں آئے گا؟
یعنی، جو کچھ ہو چکا تھا، وہ واپس نہیں لایا جا سکتا تھا۔
لیکن حارث کو یہ سمجھانا اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ تو ابھی بچہ تھا، اُسے تو ابھی اپنے گہرے رشتہ کی شدت کا احساس نہیں تھا۔
وہ روزانہ نازیہ سے یہی کہتا رہتا:
“ماما، پلیز ولید کو واپس لاؤ!”
لیکن نازیہ کے پاس اُس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اس خلا کو کیسے بھرتی؟ اُس کے دل کی تکلیف کیسے چھپاتی؟
وہ جتنا چاہتی کہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکے، اتنا ہی اُس کے دل میں ولید کی یادیں اُسے روک لیتی تھیں۔
ولید کی سب یادیں اُس کے دل میں یوں بیٹھ چکی تھیں جیسے وہ کبھی ختم نہ ہوں گی۔
“ولید ایسے تو بہت روتا تھا ضد کرتا وہ جاتے وقت ایک دفعہ بھی نہیں رویا۔۔ ؟
ماما، ولید کیوں نہیں آ رہا؟
نازیہ، جو پہلے تو خاموش رہتی تھی، اب جواب دینے کی کوشش کرتی
بیٹا، وہ جہاں ہے وہ خوش ہے۔
مگر حارث اُس جواب سے مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ وہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کیوں اُس کا بھائی، جو اس کی زندگی کا حصہ تھا، اب اُس سے دور تھا۔
نازیہ کے اندر کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا دل چاہتا ہے کہ ولید واپس آئے، کہ سب کچھ پہلے کی طرح ہو جائے، لیکن حالات اور فیصلے نے اُس کو کہیں اور لے جا کر کھڑا کر دیا تھا۔
کُچھ مہینوں بعد چھٹی پر میں جب آیا تو ایسا ہوا کہ نازیہ کی آنکھیں اکثر راتوں کو کھل جاتیں، چہرہ پسینے میں بھیگا ہوتا، سانسیں بے قابو، اور لبوں پر صرف ایک ہی نام – “ولید”۔
احمد… احمد، وہ مجھے بلا رہا تھا… وہ کہہ رہا تھا ‘ماما، مجھے لے جاؤ یہاں سے’… وہ خوش نہیں ہے احمد، وہ بہت رو رہا تھا!
وہ اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے، کپکپاتی آواز میں یہ سب کہتی، جیسے ابھی ابھی کسی ہولناک منظر سے نکل کر آئی ہو۔
اُسے میری ضرورت ہے احمد۔ وہ مجھے یاد کر رہا ہے۔۔۔ وہ وہاں خوش نہیں ہے احمد۔۔۔
احمد، جو خود کو سخت اور فیصلہ کن سمجھتا تھا، ایک پل کو خاموش ہو جاتا، پھر کروٹ لے کر منہ دوسری طرف کر لیتا۔
“یہ تمہارا ہی فیصلہ تھا، نازیہ… اب خوابوں میں رونا بند کرو۔ ولید کو ہم نے چھوڑا ہے، اس کے بعد پچھتانے کا کیا فائدہ؟”
نازیہ اس بات پر ساکت رہ جاتی۔
احمد کے الفاظ اُسے پتھر کی طرح لگتے، جیسے کوئی اس کے دل کو چیر رہا ہو۔
پر وہ کچھ نہیں کہتی، بس ایک نظر احمد کی پشت پر ڈالتی، اور آہستہ آہستہ واپس لیٹ جاتی – لیکن نیند اُس سے کوسوں دور ہوتی۔
اس کی راتیں اب خوابوں اور فریادوں کا میدان بن چکی تھیں۔
وہ ولید کو دیکھتی، ٹوٹی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، کانپتے ہونٹوں سے “ماما” کہتا، اُس کی طرف ہاتھ بڑھاتا…
اور وہ، نازیہ، جو کبھی اُس سے بے نیازی برتتی تھی، اب اس خواب سے نکلنے کے بعد خود کو ماں کہلانے کے قابل بھی نہیں سمجھتی تھی۔
میں نے کیا کر دیا… میں کیسی ماں ہوں…
یہ الفاظ وہ بار بار اپنے اندر دہراتی، اور پھر ٹوٹ کر روتی۔
دن میں وہ معمول کے کام کرتی، حارث کو سنبھالتی، احمد کے ساتھ زندگی گزارنے کی اداکاری کرتی…
لیکن رات کو وہ اُس ماں میں بدل جاتی، جو اپنے چھوڑے گئے بچے کی چیخیں سن رہی ہو۔
جب سے میں آیا تھا ایک رات بھی نازیہ نے مُجھے سکون سے سونے نہیں دیا۔۔۔۔ اور مُجھے نازیہ کی اس حرکت پر شدید غصّہ آتا تھا میں اُسے باتیں سنا کر سونے کی اداکاری کرتا۔۔۔ نازیہ کا تو ٹھیک تھا لیکن حارث ۔۔۔
“یہ جو تُم حارث کو ایسا دیکھ رہی ہو نا…”
احمد نے گہری سانس لے کر ماہی کی طرف دیکھا،
“…یہ صرف اسی وجہ سے ہے، اُسے اپنے ماں باپ سے اب کوئی اُنس نہیں رہی۔”
“کیا… کیا مطلب؟” ماہی آہستہ سے بولی،
“مطلب یہ کہ… وہ بچہ جو دن رات ولید کو اپنے سے دور دیکھتا رہا… جو ماں کے منہ سے ولید کے لیے سخت جملے سنتا رہا…
جو باپ کو چُپ دیکھتا رہا… وہ اندر سے اکیلا ہوگیا ہے۔ اب اُس کا دل کسی رشتے پر یقین نہیں کرتا۔”
احمد کا لہجہ دُکھ سے بھیگا ہوا تھا، لیکن سچ کی کاٹ اُس کے ہر لفظ میں تھی۔
” نازیہ سب کچھ تو حارث کے لیے ہی کر رہی تھی،
مگر وہ بھول گئی تھی کہ بچے صرف وہی نہیں سیکھتے جو انہیں سکھایا جائے –
وہ ہر وہ چیز محسوس کرتے ہیں جو ان کے اردگرد ہو رہی ہوتی ہے۔
وہ دیکھ رہا تھا کہ کیسے ولید کو الگ رکھا جا رہا ہے،
کیسے ماں کے لہجے میں اس کے لیے سختی ہوتی ہے،
اور کیسے وہ باپ کے چپ رہنے کو خاموش اجازت سمجھتا ہے۔
حارث خاموش تھا، مگر اُس کا دل سوالوں سے بھرا ہوا تھا۔
“اگر ماں کسی کو اس لیے چھوڑ سکتی ہے کہ وہ اُس کا نہیں،
تو کیا وہ کل کو مجھے بھی چھوڑ سکتی ہے…؟”
یہ سوال اُس کے ننھے دل پر وار کرتا جا رہا تھا۔
نازیہ نے یہ سب کچھ حارث کو دینے کے لیے کیا تھا،
مگر وہ بھول گئی کہ
“ماں کا انصاف، بچے کے اعتماد کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔”
اور جب ایک بچہ اپنی ماں کو ناانصافی کرتے دیکھے،
تو پھر وہ سیکھتا ہے کہ محبت مشروط ہوتی ہے –
اور محبت مشروط ہو تو پھر دل کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
“پھر ایک دن حارث میرے پاس آیا۔۔۔ اُس کے چہرے پر نہ شرارت تھی نہ ضد۔۔۔ بس سنجیدگی تھی، آنکھوں میں نمی اور لہجے میں ٹھہرا ہوا غصہ۔ کہنے لگا
‘ولید کو واپس لاؤ۔۔۔’
میں خاموش رہا، لیکن اُس نے دوبارہ کہا، اس بار کچھ زیادہ زور سے
‘بابا، ولید کو واپس لاؤ۔۔۔’
‘وہ ہمارا تھا بابا۔۔۔ وہ میرا بھائی تھا۔۔۔’
” اُسے واپس لاؤ نہیں تو میں ۔۔۔ میں خود کو ختم کرلو گا۔۔۔” پھر وہ چیزیں اٹھا اُٹھا کے اِدھر اُدھر پھنکنے لگا
“‘اُسے واپس لاؤ… نہیں تو میں… میں خود کو ختم کر لوں گا۔۔۔’
یہ کہہ کر وہ پاگلوں کی طرح چیزیں اٹھا اٹھا کے اِدھر اُدھر پھینکنے لگا۔۔۔
صوفہ، کتابیں، ریموٹ، کرسی-جو ہاتھ آیا، دیوار سے دے مارا۔۔۔
میں ہکا بکا بس اُسے دیکھتا رہا۔۔۔ یہ دیکھنے کے بعد مُجھے حارث ایک نارمل بچا نہیں لگا۔۔۔
وہ اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو دنیا کے سامنے پھینک رہا تھا۔۔۔
اُس کے اندر کا خالی پن، وہ خالی کمرہ بن گیا تھا
جہاں صرف ایک نام گونج رہا تھا: ‘ولید۔۔۔’
اُس لمحے مجھے لگا کہ شاید ہم سب نے مل کر
ایک بچے کو صرف اس لیے توڑ دیا کیونکہ وہ اپنا نہیں تھا۔۔۔
لیکن وہ دلوں کا وارث بن چکا تھا،
صرف کاغذوں کا نہیں۔۔۔”
پھر میں نے فیصلہ کر لیا… کہ جو بھی ہو، اب اور دیر نہیں کرنی۔۔۔ ولید کو واپس لانا ہے۔۔۔
میں اُسی وقت یتیم خانے پہنچا، جیسے کوئی اپنا کھویا ہوا جُز واپس لینے جا رہا ہو۔۔۔
دل میں ہزار خیال، آنکھوں میں اُمید، اور زبان پر صرف ایک نام تھا – ولید۔۔۔
لیکن جیسے ہی میں نے دروازے پر جا کر اپنا نام بتایا، وہاں بیٹھی خادمہ نے ایک نظر میری طرف دیکھا، پھر نظریں جھکا کر بولی:
“وہ… ولید اب یہاں نہیں ہے۔۔۔”
میں نے چونک کر پوچھا
“کیا مطلب؟ کہاں گیا وہ؟”
وہ آہستہ سے بولی
“کچھ ہفتے پہلے ایک فیملی اُسے adopt کر چکی ہے۔۔۔ وہ اب اُن کے ساتھ ہے۔۔۔”
میرے قدم وہیں جیسے زمین میں دھنس گئے۔۔۔
ولید… ہمارا ولید… اب کسی اور کا ہو چکا تھا۔۔۔
وہ ہمارے انتظار میں نہیں بیٹھا تھا۔۔۔
اور شاید اُسے اب ہماری ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔۔۔
میرے ہاتھ خالی رہ گئے… اور دل میں ایک پچھتاوا
جو اب عمر بھر ساتھ چلنا تھا۔۔۔
پھر میں نے گھبراہٹ میں اُس خاتون سے پوچھا:
“کیا آپ کے پاس اُس فیملی کا فون نمبر ہے؟ یا اُن کا ایڈریس؟ میں بس ایک بار… ایک بار ولید سے ملنا چاہتا ہوں… اُسے دیکھنا چاہتا ہوں…”
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی… شاید میری آنکھوں میں پچھتاوا پڑھ رہی تھی… یا شاید ایک باپ کا ٹوٹا ہوا دل۔
پھر آہستہ سے کہنے لگی:
ہم عام طور پر ایسی معلومات نہیں دیتے، لیکن ولید کو لے جانے والے لوگ کافی اچھے تھے۔ اُنہوں نے ہمیں کچھ contact details دی تھیں emergency کے لیے۔ میں دیکھتی ہوں کہ اُن کا نمبر یا address ملتا ہے تو آپ کو دے سکتی ہوں…”
پھر اُس نے میرے حوالے ایک فون نمبر کیا۔۔۔
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
وہ نمبر پکڑتے ہوئے میں نے اُس عورت سے آخری بار پوچھا:
“کیا آپ نے اُسے جاتے وقت دیکھ کیا وہ خوش تھا ؟”
وہ مسکرا کر بولی:
“ہاں مُسکرا تو بہت رہا تھا۔۔۔”
میں خاموش رہا، فون نمبر کو جیب میں رکھا جیسے وہ کوئی خزانہ ہو۔
بس اب ایک ہی خیال تھا
ولید کو واپس لانا ہے۔۔۔ کسی بھی قیمت پر۔۔۔
پھر میں نے فون نمبر try کیا… دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔ انگلیاں کانپ رہی تھیں… نمبر ڈائل کیا…
ایک بیل… دو بیل… تین بیل… لیکن کسی نے ریسیو نہیں کیا۔
میں نے بار بار کال کی، لیکن ہر بار وہی خاموشی، وہی انتظار۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے اور ولید کے درمیان اب صرف یہی ایک نمبر بچا ہے – اور وہ بھی جواب نہیں دے رہا۔
میں نے فون بند کیا، پیشانی پر ہاتھ رکھا… اور دل ہی دل میں دعا کی:
“یا اللہ، میرا بیٹا مجھ تک واپس پہنچ جائے…”
میں جب تک چھٹی پر گھر پر تھا، ہر روز اُس نمبر پر کال کرتا رہا۔
صبح، شام، رات… ہر وقت دل میں ایک ہی امید تھی کہ شاید وہ کال اٹھا لے میری۔۔۔
اور پھر ایک دن… آخرکار میری دعا قبول ہوگئی۔
فون کی بیل گئی، اور دوسری طرف سے ایک نرم، مانوس سی آواز آئی:
“السلام علیکم”
وہ آواز۔۔۔ وہ انداز۔۔۔
میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
میرے دل کی دھڑکن تھم گئی۔۔۔
میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
کیونکہ وہ آواز،
ولید کی تھی۔
ولید۔
میرے لبوں سے بمشکل صرف یہی ایک لفظ نکلا تھا۔
دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی رہی،
پھر اچانک کال کٹ گئی۔
میرے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
دل دھک دھک کر رہا تھا۔
میرے وجود میں ایک سنسناہٹ دوڑ گئی۔
کیا واقعی یہ ولید تھا؟
وہی، جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے کھویا تھا؟
میں نے فوراً دوبارہ نمبر ملایا، اور اس بار ایک اجنبی عورت نے فون اٹھایا۔
آواز میں اجنبیت اور لہجے میں ہچکچاہٹ تھی۔
میں نے سارا ماجرا بیان کیا، ولید سے ملنے کی بات کی۔
وہ خاموشی سے سنتی رہی۔
پھر نرم مگر واضح لہجے میں بولی،
“میرے پاس کوئی ولید نہیں ہے۔”
یہ جملہ میرے دل پر جیسے کسی نے تیز دھار چھری چلائی ہو۔
لیکن میں سمجھ گیا۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ولید ہم تک واپس آئے۔
مگر وہ آواز۔۔۔ وہ آواز میرے بیٹے کی تھی۔
میں نے یہ سارا واقعہ نازیہ کو بتایا۔
ہم دونوں اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔
ہم نے نعمت کھوئی تھی – شاید ہمیشہ کے لیے۔
مگر شاید ہماری توبہ، ہماری معافی،
آسمانوں میں سُن لی گئی تھی۔
دو سال بعد۔
ایک عام سا دن تھا۔
میں گھر پر تھا – اتفاق سے۔
دروازے کی بیل بجی۔
میں نے دروازہ کھولا، اور وہاں۔۔۔ وہ کھڑا تھا۔
بارہ سالہ ولید۔
چہرے پر ہمیشہ کی طرح سادہ سی مسکراہٹ،
آنکھوں میں محبت کی گہرائی۔
ملنے نہیں آئے نہ آپ لوگ۔۔۔
میں خود ملنے چلا آیا۔۔۔
وہ اندر آتا چلا آیا،
اور نازیہ جیسے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔
دوڑ کر اُسے گلے لگا لیا۔
اتنا روئی جیسے برسوں کا گناہ دھونا ہو۔
اور حارث۔۔۔ وہ ولید پر غصے سے چیخنے لگا،
مارنے تک کو دوڑا۔
پھر کیا ہوا؟ وہ صرف ملنے آیا تھا؟ ماہی نے تجسس سے پوچھا۔۔۔
نہیں، وہ صرف ملنے نہیں آیا تھا۔
جس فیملی نے اُسے گود لیا تھا، وہ ایک کار ایکسیڈنٹ میں دنیا چھوڑ چکے تھے۔
وہ اکیلا رہ گیا تھا۔
کسی پڑوسی کی مدد سے ہمارا پتا ڈھونڈا اور خود چل کر آ گیا۔
ہم اُسے جانے کیسے دیتے؟
وہ تو جیسے ہمارے گناہوں کا کفارہ بن کر واپس آیا تھا۔
لیکن تمہیں پتہ ہے، ماہی؟
ان دو سالوں میں اُس نے کبھی ہم سے شکوہ نہیں کیا۔
نہ یتیم خانے کی بات،
نہ اُس فیملی کی بات،
نہ ہماری بےرخی،
نہ اُس درد کا ذکر جو ہم نے اُسے دیا۔۔۔
اور ہم جب بھی اس بارے میں بات کرتے،
وہ نرمی سے مسکرا کر بات ٹال دیتا تھا۔
نہ ناراضگی، نہ شکوہ – بس ایک گہرا سا سکوت ہوتا اُس کی آنکھوں میں۔
اُس کی طبیعت میں ہم نے ایک عجیب سا ٹھہراؤ محسوس کیا تھا۔۔۔
جیسے اندر ہی اندر کوئی طوفان ہو جو وہ کسی پر ظاہر نہ ہونے دے۔
جیسے وقت سے پہلے ہی بڑا ہو گیا ہو۔۔۔
پہلے جہاں ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ضد کرتا تھا،
اب وہ ضد کرنا چھوڑ چکا تھا۔
جہاں ہر بات پر خوشی یا ناراضگی دکھا دیتا تھا،
اب اُس کے چہرے پر ایک ہی جذبہ ہوتا –
ایک مدھم سی، سنجیدہ سی مسکراہٹ۔
وہ بہت بولتا تھا،
اب وہ اکثر خاموش رہتا۔
ایسی خاموشی جو صرف سنے، کچھ نہ کہے۔
ایسی خاموشی جس میں الفاظ نہیں،
صرف احساسات بولتے ہیں۔
ایسی خاموشی جو اندر کے سناٹے کی گواہی دیتی ہے۔۔۔
ماہی کو اب سب سمجھ آنے لگا تھا۔۔۔
وہ جو ایک عرصے سے سوچ رہی تھی کہ آخر کیوں ہر شخص ولید کے لیے اتنی حساسیت رکھتا ہے،
کیوں ہر کوئی اُس کی موجودگی میں نرمی سے بات کرتا ہے،
کیوں ہر نظر اُس پر ایک انجانی سی فکر کے ساتھ ٹکی رہتی ہے۔۔۔
اب اُسے احساس ہوا۔۔۔
یہ سب صرف اُس لیے نہیں تھا کہ ولید یتیم تھا،
بلکہ اس لیے بھی کہ اُس نے زندگی کے ان پہلوؤں کو چھو لیا تھا
جن تک اکثر لوگ برسوں میں نہیں پہنچتے۔۔۔
وہ بچہ جو وقت سے پہلے بڑا ہو گیا،
جس نے اپنوں کا انکار سہا،
جسے اپنوں نے چھوڑا،
اور پھر بھی وہ اُنہی کا ہو کر رہا۔۔۔
نہ شکوہ، نہ سوال۔۔۔ بس خالص وفا۔
ماہی نے اپنے دل میں ایک عجیب سی نرمی اُترتی محسوس کی،
جیسے کوئی بھاری بوجھ اُتر رہا ہو،
جیسے کوئی سوال اب جواب بن چکا ہو۔۔
ماہی… احمد صاحب نے اب نرمی سے ماہی کو مخاطب کیا۔۔۔
تمہیں یہ سب کچھ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے۔۔
اگر تم ولید سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہو، تو حارث سے بھی کبھی مت کرنا۔۔۔
کیونکہ اگر محبت اور سمجھداری دیکھنی ہو،
تو صرف ایک سوال پوچھنا کافی ہے۔۔۔۔
کون ہے وہ، جو تمہاری خوشی کے لیے خود کو قربان کر دے۔۔۔ اور پھر بھی کچھ نہ کہے؟
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔

1 Comment
😭waliiiiiiiiiii dunia bht buri haaaa naaaaa waliii tm itne ache qqq huuu