گرداب ( از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱
باب ۱ : قلم کا نشان، امن کا نشان
کراچی۔۔۔ روشنیوں کا شہر، مگر اندھیروں میں لپٹا ہوا۔
شہر کی ہر گلی، ہر نکڑ، اور ہر چائے کی دکان پر الیکشن کا شور برپا تھا۔ سیاست کے تپتے ہوئے موسم میں، ہر شخص کسی نہ کسی امیدوار کے حق میں یا مخالفت میں گفتگو کرتا نظر آتا۔
اورنگی ٹاؤن کی کچی بستی میں ایک چھوٹی سی چائے کی دکان تھی، جہاں گاہکوں کا جمِ غفیر لگا رہتا تھا۔ دیواروں پر رنگ برنگے سیاسی پوسٹر چسپاں تھے، کچھ تازہ، کچھ آدھے ادھورے اور پھٹے ہوئے؛ جیسے سیاست کے وہ پرانے وعدے، جو ہمیشہ ادھورے ہی رہ جاتے ہیں۔
دھوئیں کے مرغولے فضا میں تحلیل ہو رہے تھے، اور چائے کے چھوٹے چھوٹے کپ ہاتھوں میں تھامے، مرد، جوان اور بزرگ ایک ہی سوال پر بحث کر رہے تھے
کس کو ووٹ دینا ہے؟
چالیس پینتالیس سال کے دو آدمی گفتگو میں مگن تھے۔
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ ایک نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
میں تو الیکشن سے پہلے ہی فیصلہ کر چکا تھا کہ اس بار ووٹ کس کو دوں گا!
ان کے پیچھے بیٹھے لڑکوں کی ٹولی بھی اسی بارے میں باتوں میں مشغول تھی، کیونکہ ٹی وی پر بھی ابھی یہی سب چل رہا تھا۔
بتا بھائی، تُو کس کو ووٹ دے گا؟ اُس لڑکے نے دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
اور کس کو؟ ہم سب کا ایک ہی بھائی، امن بھائی، امن بھائی… وہ پُرجوش ہو کر بولا۔
قلم کا نشان…
امن کا نشان!
وہ لڑکا کھڑے ہو کر نعرہ لگانے لگا۔
چائے کی دکان کے برابر والی دیوار پر نظریں پڑیں تو وہاں ہر پارٹی کے امیدواروں کے پوسٹرز لگے تھے۔ ہر پارٹی اپنی پہچان، اپنا منشور لیے کھڑی تھی۔
ووٹ فار تیر
اس کے نیچے ایک 40-45 سالہ مرد کی تصویر تھی، اور ساتھ لکھا تھا:
تیر کا نشان، صلح کا نشان
یعنی اس پارٹی کا مرکزی مقصد لوگوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی قائم کرنا تھا۔
پھر دوسری پوسٹر پر نظر پڑی۔۔۔
ووٹ فار پی ایم ایل
اس کے ساتھ بلا کا نشان، اور ایک پچاس سالہ خاتون کی تصویر تھی۔ اوپر لکھا تھا:
نادیہ فیروز اور نیچے درج تھا۔۔۔
بلا کا نشان، اعتدال کا نشان
اس جماعت کا مقصد انصاف اور اعتدال کو قائم کرنا تھا تاکہ ہر فرد کو برابری کا حق مل سکے۔
پھر ایک اور پوسٹر ووٹ فار آئی ایل پی
نیچے ایک 30–35 سالہ پُرکشش اور پُراعتماد مرد کی تصویر نمایاں تھی۔
اس کے نیچے واضح الفاظ میں لکھا تھا:
سید امن حنان افتخار
اور ساتھ ہی نعرہ درج تھا:
“قلم کا نشان، امن کا نشان”
اس کے نیچے چھوٹے مگر نمایاں حروف میں جماعت کا مکمل نام درج تھا
I.L.P — Islamic Literacy Party
یہ صرف ایک نعرہ نہیں تھا—
یہ ایک نظریہ تھا، جو سیاست میں تبدیلی، معاشرتی امن، اور انصاف کے قیام کے لیے قلم، علم اور شعور کی طاقت پر یقین رکھتا تھا۔
ووٹ فار حزبِ قوت و نظام
نیچے ایک 45–50 سالہ سنجیدہ اور باوقار مرد کی تصویر نمایاں تھی۔
اس کے نیچے لکھا تھا:
حاجی کامران فاروق
اور ساتھ ہی نعرہ درج تھا:
“قوت کا نظام، مضبوط پاکستان”
یہ جماعت نظم و ضبط اور مضبوط حکمرانی پر یقین رکھتی تھی، جہاں امن کو طاقت کے ذریعے قائم کیا جاتا تھا۔
یہ تمام تصاویر اپنی اپنی جماعتوں کے مقاصد کو مختلف انداز میں پیش کر رہی تھیں، جن میں صلح، انصاف اور امن کی اہمیت اجاگر کی جا رہی تھی۔
چائے کی چُسکیاں لیتے ہوئے نوجوانوں نے ایک بار پھر نعرہ بلند کیا،
مگر اگلے ہی لمحے چاچا رحمت۔۔۔ جو کئی انتخابات دیکھ چکے تھے، نعرے سنتے ہی جھنجھلا گئے۔
ارے بند کرو یہ نعرے! جس کے لیے چلا رہے ہو، پہلے اس کے بارے میں کچھ جان بھی لو!
کراچی میں امن لائے گا بھی یا نہیں؟
ایک نوجوان پُرجوش لہجے میں بولا،
چاچا، پتہ ہے کیوں کرنا ہے؟ کیونکہ وہ ‘امن’ ہے، اور وہی کراچی میں امن لائے گا!
چاچا نے سرد آہ بھری۔
آج کل کے بچے بھی نہ… بس اپنے جیسے کو سیاست میں دیکھ لیا، بس اب اسی کو ووٹ دینا ہے۔۔۔
انہوں نے ساتھ والے سے کہا۔
اسی لمحے ایک لڑکا زور سے چلایا،
یہ انٹرویو نہیں، جلسہ ہے۔۔۔
چلو اوئے، چلو!
سب موٹر سائیکلیں اسٹارٹ کر کے جلسے کی طرف نکل گئے۔
چاچا اُن لڑکوں کو جاتا دیکھ کر غصے سے بولے،
یہاں تو سن نہ سکے، وہاں جا کر کیا ہی کر لیں گے؟ بس نعرے لگانے ہیں امن بھائی، امن بھائی؟
چائے والا، جو ٹی وی دیکھ رہا تھا، دھیرے سے بولا
پتا نہیں کیسا بندہ ہے یہ، ابھی تو صرف الیکشن کے لیے کھڑا ہوا ہے، اور ابھی سے لاکھوں دل جیت چکا ہے۔۔۔
++++++++++++
جلسہ گاہ— لاکھوں کا مجمع، ایک نیا جذبہ، ایک نیا ولولہ۔
روشنیوں کے ہالے میں کھڑے سید امن حنان افتخار نے سامنے موجود لوگوں پر نظر ڈالی۔ وہ کسی عام سیاستدان کی طرح بلند و بانگ وعدے نہیں کر رہا تھا۔ اس کی باتوں میں کچھ اور ہی وزن تھا، کچھ نیا، کچھ مختلف۔۔۔
میں یہ نہیں کہوں گا کہ آپ مجھے ووٹ دیں تو میں یہ یہ کام کروں گا۔۔۔اب بس میری باتوں سے اندازہ لگائیں کہ میں کیا کیا کر سکتا ہوں۔
اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا، ایک جذبہ تھا جو اس سے پہلے شاید کسی میں نہیں تھا۔ وہ لوگوں سے کوئی وعدے نہیں کرتا تھے، نہ ہی وہ یہ کہتا تھا کہ اگر آپ مجھے ووٹ دیں تو میں آپ کے علاقے میں پانی یا بجلی لاؤں گا۔ اس کا واحد اور واضح پیغام تھا
میں کراچی میں امن لاؤں گا۔
وہ لاکھوں عوام کے بیچ کھڑے ہو کر یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ کراچی میں امن لا سکتا ہے ۔ سوال یہ تھا کہ کیا وہ واقعی ایسا کر سکتا تھا ؟ کیا وہ اس اتنی بڑی شہر میں امن قائم کر سکتا تھا، جہاں ہر گلی اور ہر چوراہے پر خوف اور بے چینی کا سایہ تھا؟
آپ لوگوں کو پتا ہے، میں نے اپنی پارٹی کا نشان قلم کیوں رکھا ہے؟ اُس نے سوال کیا۔۔۔!
کیونکہ انسان کی طاقت اس کا جسم یا زبان نہیں، بلکہ اس کا قلم ہوتا ہے۔ علم انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور وہ علم جو انسان کو نہ صرف اپنی حدود سے آگاہ کرے بلکہ صحیح اور غلط کی پہچان بھی دے۔
اس کی آنکھوں میں جو شدت تھی وہ سننے والوں کو بے اختیار کر دیتی تھی۔ سید امن حنان افتخار صرف ایک سیاستدان نہیں، ایک مصلح بن کر سامنے آرہا تھا ۔
امن بھائی۔۔۔ امن بھائی۔۔۔ہر جگہ اس نام کے نعرے سننے کو مل رہے ہیں۔۔۔ میں اپنے تمام ووٹرز سے کہوں گا، اگر آپ مجھے ووٹ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو علم حاصل کرنا ہوگا!
اس دوران اسٹیج کے قریب کھڑے رپورٹر نے سوال کیا:
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟ سب کہتے ہیں ‘مجھے ووٹ دیں’، آپ کہہ رہے ہیں ‘مجھے ووٹ دینا ہوگا تو علم حاصل کرنا ہوگا ۔۔’؟
امن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
مانگنے پر تو بھیک بھی مل جاتی ہے، تو یہ ووٹ کیا چیز ہے؟ مجھے بھیک نہیں، ووٹ چاہیے!
رپورٹر اور وہاں موجود دیگر لوگ حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
امن کی باتوں میں ایک خاص نوعیت کا فلسفہ تھا جو لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔
ایک فقیر ہے جو بھیک مانگتا ہے، وہ آپ سے چند روپے لیتا ہے اور اپنی زندگی گزار لیتا ہے۔ اور ایک غریب ہے، وہ آپ سے نوکری مانگتا ہے، وہ آپ سے پیسے چاہتا ہے لیکن اس کے بدلے میں وہ آپ کا کام بھی کرتا ہے۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
امن نے اپنے نکتہ نظر کو واضح کرتے ہوئے کہا،
ایک کو صرف پیسے چاہیے، وہ اپنے پیٹ کو بھرے گا، لیکن دوسرے کو پیسے چاہیے لیکن بدلے میں وہ آپ کا کام بھی کرے گا۔ تو میں غریب ہوں لیکن فقیر نہیں ہوں۔۔۔ مجھے آپ ووٹ میری صلاحیت کو دیکھ کر دیں، اور میری صلاحیت کا فیصلہ آپ کا علم کرے گا۔ کہ میں آپکے ووٹ کے قابل ہوں بھی یا نہیں۔۔۔
پر آپ کس قسم کا علم حاصل کرنے کی بات کر رہے ہیں؟ کیا سیاست کا علم؟ رپورٹر نے پھر سوال کیا
امن نے گہری سانس لی، پھر پُراثر لہجے میں بولا
نہیں، آپ کو وہ علم حاصل کرنا ہے جس سے آپ کے اندر عقل و شعور آسکے، تاکہ آپ اپنے فیصلے خود لے سکیں، اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط سمجھ سکیں۔ آپ کسی کے پیچھے چلیں، لیکن انگلی پکڑ کر نہیں، ساتھ چلیں۔
امن نے اپنے پیغام کو مزید وضاحت دی
انگلی پکڑ کر چلنا یعنی وہ جو کہتے آپ کہتے صحیح ہے ہاں یہی ٹھیک ہوگا ۔۔۔ اور ساتھ چلنے کا مطلب کہ یہ ٹھیک راستے پر چل رہا ہیں اس کا فیصلہ صحیح ہوگا۔۔۔۔لیکن جہاں آپکو لگے یہ غلط ہے تو آپ مُڑ کر اپنا راستہ بدل سکتے ہو یا مُڑ کر جو صحیح ہے اُس کے راستے پر چل سکتے ہو
یا آپ اُس کو روک کر غلط بھی کہہ سکتے ہو ۔۔۔ لیکن اُنگلی پکڑ کر چلنے کا مطلب آپکی اپنی کوئی سوچ نہیں ہے کہ وہ کُوئیں میں گرے تو ہم بھی گریں۔۔۔۔
آپکے پاس علم ہوگا تو آپکو صحیح اور غلط کی پہچان آجائے گی ۔
اس کی ہر بات میں ایک خاص اثر تھا، جو دلوں کو چھو جاتا تھا۔ وہ لوگوں کو یقین دلا رہا تھا کہ تبدیلی کا آغاز صرف ایک شخص سے نہیں، بلکہ اجتماعی سوچ سے ہوتا ہے۔ اس کا لہجہ نہایت پُر اعتماد اور دلیر تھا، اور اس کے الفاظ میں وہ طاقت تھی کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔
جب وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے، تو ایسا لگتا جیسے پورے شہر کے اندر ایک نئی ہوا چل رہی ہو۔ ان کی باتوں میں بس ایک ہی مقصد تھا امن، علم، اور عدل۔ وہ جو کہتا، وہ نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں گھر کر جاتا، بلکہ ان کے دلوں میں بھی ایک نیا عزم جاگتا۔ اس کا پیغام یہ تھا کہ ہم سب کو اپنی تقدیر خود لکھنی ہوگی، ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، اور اس کے لیے سب سے ضروری چیز ہے علم ۔۔۔
سید امن حنان افتخار کی شخصیت میں ایک خاص جاذبیت تھی، جو لوگوں کو خود سے جڑنے کی ترغیب دیتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ صرف باتوں سے کچھ نہیں بدل سکتا، لیکن اگر لوگوں کا شعور جاگے تو ایک نئی صبح کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اُس کا ایمان تھا کہ تعلیم اور شعور وہ دو چیزیں ہیں جو معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں، اور جب تک لوگ اپنے حقوق اور فرائض کو سمجھیں گے، اس وقت تک حقیقت میں تبدیلی ممکن نہیں۔
اس کی تقریر میں بس ایک بات تھی، وہ کبھی کسی سے وعدہ نہیں کرتا تھا ، مگر اس کا عزم تھا کہ وہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں گا۔ اس کی نگاہ میں سیاست کا مطلب محض اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی طاقت تھی جس کے ذریعے وہ لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتا تھا۔ وہ جو کہتا، وہ عمل میں ڈھالنے کی پوری کوشش کرتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس کا پیغام سننے والے دلوں میں ایک نئی امید جگا رہا تھا، اور ان کا یقین تھا کہ وہ واقعی کراچی کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔
سید امن حنان افتخار کا جو اثر تھا، وہ صرف اسٹیج تک محدود نہیں تھا، بلکہ ہر گلی، ہر محلے، اور ہر دل میں تھا، جہاں لوگ اس کی باتوں سے متاثر ہو کر نئے عزم کے ساتھ زندگی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔
وہ صرف ایک رہنما نہیں تھا، وہ ایک سوچ تھا — ایک تحریک، جو وعدوں کی بنیاد پر نہیں، شعور کی بنیاد پر کھڑی تھی۔
کیونکہ وہ جانتا تھا، ووٹ مانگنے نہیں آیا، شعور جگانے آیا ہوں — کیونکہ جب علم آئے گا، تب ہی امن آئے گا!
++++++++++++
کہیں دور، کسی پوشیدہ مقام پر، ایک نیم تاریک کمرے میں سگریٹ کے دھوئیں کی لکیریں ہوا میں بکھر رہی تھیں۔
ٹی وی اسکرین پر امن تقریر کر رہا تھا، اور ایک آدمی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے وہ کسی دلچسپ کھیل کا نظارہ کر رہا ہو۔
بول تو بہت اچھا لیتے ہو، امن… مگر افسوس… میرے ہوتے ہوئے، تم کراچی میں کبھی امن نہیں لا سکتے۔۔۔۔
++++++++++++
سر، آپ کا ریپر کے بارے میں کیا خیال ہے؟
رپورٹر کا سوال جیسے ایک سنسان گلی میں گرا پتھر تھا، جس نے فوراً پورے ہجوم کی توجہ کھینچ لی۔ سوال کی شدت اور راز سے بھری نوعیت نے عوام میں ایک سناٹا چھا دیا۔ ہر کوئی سید امن حنان افتخار کی طرف متوجہ تھا، جیسے ان کی زبان سے اس سوال کا جواب نکلنے کا انتظار ہو۔
امن کچھ دیر کے لیے خاموش رہا، اُس کی آنکھوں میں ایک گہری سوچ تھی۔ اُس نے رپورٹر کی طرف دیکھا، پھر ہجوم کی طرف، اور آخرکار ایک گہری سانس کے ساتھ اپنی بات شروع کی
کافی وقت ہو گیا ہے، مجھے لگتا ہے اب یہ جلسہ ختم کر دینا چاہیے۔ تین گھنٹے ہو چکے ہیں، اور اب سب تھک چکے ہیں۔ آپ سب کو اب گھر جانا چاہیے۔ باقی باتیں ہم اگلے جلسے میں کریں گے۔ تب تک کے لیے،اللّٰہ حافظ، مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
فِي أَمَانِ اللَّهِ
یہ کہتا مائیک کے پاس سے ہٹتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ لیکن، اس کے ساتھ ہی جلسے کے شرکاء میں ایک جتنی تیز سرسراہٹ مچ گئی کہ آخرکار سید امن حنان افتخار ہر دفعہ ریپر کے بارے میں خاموش کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا وہ ریپر سے ڈرتے ہیں؟ کیا انہیں بھی موت کا خوف ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ کیوں اپنے دادا کی جگہ الیکشن میں کھڑے ہو گئے؟
اگر انہیں خوف نہیں ہے، تو کیوں وہ اس معاملے میں کھل کر بات نہیں کرتے؟ کیوں باقی سیاستدانوں کی طرح ریپر کو پکڑنے یا مروانے کا دعویٰ نہیں کرتے؟ سوالات کی گونج تھی، مگر سید امن حنان افتخار ہمیشہ کی طرح اس پر چپ رہتے تھے۔
اس کے بعد کی کچھ گھنٹوں تک، ہر کسی کی زبان پر یہی سوال تھا۔ امن کی خاموشی نے لوگوں کے دماغ میں کئی نئے سوالات اور شک پیدا کر دیے تھے۔ کیا وہ کسی خطرے سے گزرنے والے تھے؟ کیا اس خاموشی کے پیچھے کوئی گہرا راز تھا؟
+++++++++++++
تُم میرے بارے میں کیوں کچھ نہیں کہتے ہو۔۔
وہ اپنی سرخ انگار آنکھیں ٹی وی پر جمائے کہا، اس بات کا جواب تو خود ریپر کے پاس بھی نہیں تھا۔۔
خیر تُمہارے اس چپ کا میں بہت فائدہ اٹھا سکتا ہوں۔۔۔
وہ مسکرایا ، ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی بند کردیا۔۔
+++++++++++++
دادو۔۔۔ دادو۔۔۔!
وہ خوشی سے چہکتے ہوئے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے اُتری اور اُڑتی ہوئی دادو کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
دادو اُس وقت کچن میں کھڑی دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔
کیا ہوا ہے، یسرٰی؟ انہوں نے چولہے پر رکھی دیگچی میں چمچ چلاتے ہوئے پوچھا۔
دادو! آپ کو پتہ ہے، آج میں نے خواب میں کیا دیکھا؟ وہ کچن کاؤنٹر پر چڑھ کر بڑے انہماک سے دادو کو دیکھتے ہوئے بولی۔
دادو نے ایک نظر اس پر ڈالی، کچھ کہے بغیر سوال کیا، کیا دیکھا؟
گويا خوابوں میں انہیں خاص دلچسپی نہیں تھی، مگر وہ جانتی تھیں کہ یسرٰی جب تک اپنی بات پوری نہ کر لے، چین سے نہیں بیٹھتی۔
دادو… آج میں نے خواب میں اُسے دیکھا… وہ شخص جس کا ذکر ہر زبان پر ہے، جس کی باتیں پورے کراچی کے دلوں میں بستی ہیں۔ وہ جو سب کے دلوں پر راج کرتا ہے… اُس کی باتیں، اُس کا انداز، اُس کی مسکراہٹ، اُس کا لہجہ، اُس کا اخلاق… اُس کا وقار، اُس کے اصول، اُس کا بھرم… اُس کی عبادت، اُس کا اللہ پر توکل… ایک ایسے پرفیکٹ انسان کو میں نے اپنے خواب میں دیکھا ہے دادو۔
وہ ہر لفظ کے ساتھ جیسے کسی اور ہی دنیا میں کھو چکی تھی۔ اُس کے لبوں پر ایک ایسی چمک تھی جو عام نہ تھی،
دادو نے گہری سانس لی، کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا، یسرٰی…
لیکن وہ ہے، دادو… وہ واقعی ہے۔۔۔۔
یسرٰی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔
یسرٰی، بس کر دو۔ میری بات تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟
دادو کی آواز میں تھکن تھی… فکر تھی… وہ یسرٰی کی دنیا سے بےخبر نہیں تھیں۔ جانتی تھیں کہ یہ لڑکی دل کے پیچھے چلتی ہے، دماغ کے نہیں۔
مجھے تو بس اُس کی باتیں سمجھ آتی ہیں، دادو…
وہ خوابناک سی آنکھوں سے دادو کو دیکھتی، دونوں ہاتھوں سے اپنی گالوں کو تھامے کسی اور ہی جہان میں جا پہنچی۔
اُس کی باتیں؟ وہ کہتا ہے علم حاصل کرو… اور تم ہو کہ پڑھائی سے بھاگتی ہو! انٹر پاس کر لیا، بہت بڑی بات ہے؟ اب آگے کیا؟
دادو کی آواز میں اب سختی آ گئی۔
دادو، انٹر تو نکال لیا نا، اب اور کیا کروں؟
یونیورسٹی میں داخلہ لوں اور پھر فیل ہو جاؤں؟
مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا، دادو۔
اللّٰہ اللّٰہ کر کے آپ کے کہنے پر پاس ہوئی ہوں۔
دادو نے افسوس سے سر ہلایا،ان فضول چیزوں سے تمہیں وقت ملے تو پڑھائی پر دھیان جائے نہ۔۔۔
اوہ دادو… آپ تو بس میرا موڈ خراب کر دیتی ہیں۔
وہ منہ پھُلا کر بولی۔
سوری، ملکہ صاحبہ، ہم سے گستاخی ہو گئی… ہم شمع چاہتے ہیں آپ سے!
دادو نے طنزاً ہاتھ جوڑے، تو یسرٰی ہنس دی۔
جائیں دادو… ملکہ بہت مہربان ہے، آپ کو معاف کرتی ہے۔
وہ فخریہ انداز میں ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر گویا کوئی بادشاہی فیصلہ سنا رہی ہو۔
یسرٰی کی بچی!
دادو نے ہنستے ہوئے ڈپٹا، مگر دل ہی دل میں اس کی بے فکری پر افسوس بھی تھا۔
یہ لڑکی کسی کی سُنتی کب ہے؟
اچھا، دادو، اب تو سن لیں خواب میں کیا ہوا…
وہ دوبارہ سے اسی جوش و خروش سے شروع ہوئی۔
چاہے دادو کچھ بولیں یا نہ بولیں، یسرٰی نے سنانا تو تھا ہی!
وہ… وہ میرے خواب میں آیا تھا، دادو! میرے گھر!
اور اُس نے مجھے دیکھا، مسکرایا… اور کہا
‘یسرٰی تم وہ پہلی لڑکی ہو جس سے مجھے بے پناہ محبت ہے!
اور اُس نے کہا…
یسرٰی کی آواز جیسے خود اپنے ہی سحر میں گم ہو چکی تھی،
تم ملے تو لگا جیسے سب کچھ مکمل ہو گیا ہو۔۔۔
جیسے دل کو اس کی منزل مل گئی ہو۔۔۔
یسرٰی کا چہرہ اُس لمحے چمکتا ہوا آئینہ لگ رہا تھا،
جس میں صرف ایک عکس تھا۔۔۔ محبت کا، خواب کا، یقین کا۔
اور دادو…
یسرٰی نے اپنے نازک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑتے ہوئے کہا،
اُس نے میرے ہاتھوں کو تھام کر کہا
‘ان ہاتھوں میں وہ دعا ہے جس کا میں برسوں سے طلبگار تھا۔۔۔’
دادو نے پریشانی سے یسرٰی کا چہرہ دیکھا۔
کیا کرے وہ اس لڑکی کا؟ دن بہ دن یہ اور بگڑتی جا رہی تھی۔
ہر دو دن بعد اپنی محبت، اپنے خواب اور اُس ‘شخص’ کو لے کر دادو کے سامنے کھڑی ہو جاتی۔
نہ کوئی ثبوت، نہ کوئی حقیقت۔۔۔ صرف ایک خواب اور اُس پر اندھا یقین۔
دادو نے چولہا بند کیا، ہنڈیا کو دم پر رکھ کر بولیں
اچھا، بند کرو اپنے خوابوں کے قصے۔۔۔ یہ ہانڈی بنا دی ہے، یہ کھا لینا، میں ذرا آتی ہوں۔
اب کہاں جا رہی ہیں آپ؟
یسرٰی نے فوراً پوچھا۔
آتی ہوں نا، تمہارے کام پہ جانے سے پہلے آ جاؤں گی۔
دادو، اب آپ کو کہیں کام ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں کما رہی ہوں نا، کس کے لیے؟ آپ کے لیے!
بس آپ آرام سے گھر پر بیٹھیں، اور میرے اس عالی شان محل کا خیال رکھیں۔۔۔
لیکن۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں! اب جب یسرٰی کے گھر میں رہ رہی ہیں، تو اس گھر کی مالکن کی ہی سنی جائے گی۔
ایک تھپڑ پڑے گا ابھی۔۔۔
دادو نے ڈپٹ کر کہا۔
ہاں تو صحیح کہہ رہی ہوں،
اب جب یسرٰی کے گھر میں ہیں،تو مالکن کی ماننی پڑے گی نا!
++++++++++++++
کراچی کا ایک اور گرم دن …سورج اپنی پوری شدت کے ساتھ چمک رہا تھا، جیسے آسمان سے آگ برس رہی ہو۔ پولیس اسٹیشن میں معمول کے مطابق ہلچل تھی، جُرم و انصاف کی پرانی آنکھ مچولی جاری تھی۔ دفتر کی کھڑکی سے آتی تیز دھوپ نے کمرے کو جیسے گرم تنور بنا دیا تھا، مگر آفیسر مایرا کے چہرے پر پھیلی سنجیدگی اس موسم سے کہیں زیادہ بھاری محسوس ہو رہی تھی۔
مایرا اپنی کرسی پر سیدھی بیٹھی تھی، سامنے میز کے اُس پار اُن کے سینئر، ڈی ایس پی رشید صاحب، فائلوں کے ڈھیر میں الجھے ہوئے تھے۔ وہ کاغذات پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، لیکن مایرا کی آواز نے اُن کے دھیان کو چیر ڈالا۔
سر، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، آپ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے؟
رشید صاحب قدرے جھنجھلا کر بولے، میں نہیں سمجھ رہا یا تم نہیں سمجھ رہی؟ مایرا، اس کیس میں ہمارا صرف وقت ضائع ہوگا۔ تمہیں معلوم ہے کراچی میں کتنے چور، کتنے شکاری پھرتے ہیں؟ روزانہ کتنے پکڑے جاتے ہیں، اور کتنے اندھیرے میں کھو جاتے ہیں؟
مایرا نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچے، مگر آواز میں لرزش نہ آنے دی، لیکن سر… اُس آدمی کا قتل ہوا ہے۔
رشید صاحب نے اب کی بار نظریں اُٹھا کر مایرا کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر وہ جیسے تھک کر بولے،تو کیا ہم نے اُسے کہا تھا کہ چھینکَتیوں سے لڑے؟ جب وہ فون اور پیسے مانگ رہے تھے، دے دیتا۔ جان تو بچ جاتی۔ اب اس میں ہمارا کیا؟
سر…؟، ہمارا کیا؟ ہم پولیس والے ہیں۔ ہمارا کام لوگوں کو تحفظ دینا ہے، ان کا ساتھ دینا ہے۔
رشید صاحب نے مایرا کو دیکھا، چہرے پر ایک تھکا ہوا سا طنز تھا۔ ہاں، مجھے پتا ہے۔ اور میں یہ کام اچھے سے کر رہا ہوں۔
مایرا نے کرسی سے تھوڑا سا جھک کر کہا،اچھے سے کر رہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم اُس کے قاتل کو ایسے ہی جانے دیں؟ کچھ نہ کرے بیٹھ کر تماشا دیکھیں
رشید نے کرسی پر پہلو بدلا، آنکھوں میں اب بیزاری صاف دکھائی دے رہی تھی۔تمہیں پتا ہے قاتل کون ہے؟
مایرا کے چہرے پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی،
نہیں… تو ہم کس لیے ہیں، سر؟ ہم ڈھونڈیں گے۔
اور یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ہم اُسے نہیں ڈھونڈ سکتے۔ کراچی کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ روز کوئی نہ کوئی کرائم ہوتا ہے آئے دِن روز چوریاں اور ڈکیٹی ہو۔۔ کس کس کو پکڑیں یہاں تو سب جرم میں ملوث ہے۔۔۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ بس خاموش بیٹھو۔ دو تین دن میں سب بھول جائیں گے۔
لیکن سر… اگر ہم چاہیں، تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
رشید نے سرد لہجے میں جواب دیا، ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے، مایرا۔ یہ سسٹم… ہمیں کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بس خاموش رہو، جیسے سب رہتے ہیں۔
مایرا نے کرسی کی پشت سے ہٹ کر سیدھا بیٹھتے ہوئے کہا
سر، ہم یہاں صرف وردی پہننے نہیں آئے… ہم انصاف کے محافظ ہیں، خاموش گواہ نہیں!
رشید صاحب نے سرد نظروں سے اُسے دیکھا، ۔کبھی کبھی سچ بولنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔
مایرا کے چہرے پر درد کی لہر ابھری،
تو کیا ہم بھی اُن لوگوں کی طرح ہو جائیں جو صرف فائلیں بند کرتے ہیں اور ضمیر سلا دیتے ہیں؟
رشید نے نظریں چرا لیں
ہم حقیقت کے سامنے کھڑے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے…
مایرا کی آواز میں بجلی سی دوڑ گئی
سر، ہم سب کچھ کر سکتے ہیں اگر نیت صاف ہو۔ بس دل میں خوف نہیں، حوصلہ ہو!
رشید نے کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے باہر دیکھا۔ نیچے ایک بچی اپنے والد کے ہاتھ تھامے اسکول جا رہی تھی۔
یہی حوصلہ ہی تو سب کچھ چھین لیتا ہے، مایرا۔ نظام تمہیں خواب دیکھنے نہیں دیتا، صرف آنکھیں بند رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔تو کیا ہم بھی نظام کی اندھی تقلید کریں؟ اگر سچ کے لیے کھڑا ہونا جرم ہے، تو میں یہ جرم ہر روز کرنا چاہوں گی!
رشید خاموش ہو گیا۔ فضا بوجھل تھی۔ وہ دھیرے سے بولا،یاد رکھو، سچ بولنے والے اکثر اکیلے رہ جاتے ہیں… اور کبھی کبھی… مار دیے جاتے ہیں۔
مایرا نے نگاہ جھکائی، پھر آہستگی سے اٹھ کر بولی
تو پھر سر، میں وہ اکیلی بننے کو تیار ہوں۔ کیونکہ خاموشی سے جینا… مرنے سے بدتر ہے۔
مایرا اپنی نشست سے اُٹھ چکی تھی۔ کمرے کی فضا میں ایک عجیب سا تناؤ چھا گیا تھا۔ اُس کے الفاظ ابھی بھی ہوا میں گونج رہے تھے۔ خاموشی سے جینا مرنے سے بدتر ہے۔
اچانک دروازہ کھلا۔ اندر ایک دبلا پتلا مگر بااثر شخص داخل ہوا۔ اس کے لباس کی نفاست، ہاتھ میں چمکتا ہوا موبائل، اور نگاہوں میں چھپی وارننگ… سب کچھ بتا رہا تھا کہ یہ شخص عام افسر نہیں۔
رشید صاحب تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو گئے، جیسے کسی بڑے افسر کا احترام کر رہے ہوں۔
وہ شخص سیدھا مایرا کے قریب آیا، اُس کی آنکھوں میں جھانکا اور ٹھنڈی، مگر خنجر جیسی آواز میں بولا
تم کچھ نہیں کرو گی…
مایرا نے نظر ملانے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہ کی۔
وہ تھوڑا جھک کر اُس کے قریب ہوا، آواز اور بھی دھیمی ہو گئی، مگر ہر لفظ میں زہر ٹپک رہا تھا
اگر تم نے کچھ کیا… تو تم جانتی ہو نا، تمہارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟
مایرا کی سانس ایک لمحے کو رُکی، لیکن پھر اُس نے گردن اکڑا کر جواب دیا
ہاں، جانتی ہوں… مگر تم بھی سن لو، ڈرنے والے تم جیسے ہوتے ہیں، میں نہیں۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ وہ شخص ایک لمحے کو مایرا کی آنکھوں میں دیکھتا رہا،
پھر وہ مُسکرا دیا، ایک زہریلی، چبھتی ہوئی مُسکراہٹ
بہادری کی قیمت چکانی پڑتی ہے، آفیسر… اور یہ شہر قیمتیں نقد لیتا ہے۔
مایرا نے ایک قدم آگے بڑھایا، آنکھوں میں جُرات تھی
تو بتا دو، کتنی قیمت ہے سچ کی؟ میں اپنی جان سے چکا دوں گی۔۔۔۔
++++++++++++++
ہر پیر کی صبح وہ وقت کی پابند گھڑی کی مانند ہنوز اپنے کام پر موجود ہوتی۔ اس کا چہرا نہ بہت گورا، نہ گندمی، مگر ایک نور کی سی جھلک تھی، اور چھوٹی چھوٹی سیاہ چمکتی ہوئی آنکھیں، اور چھوٹے چھوٹے کندھوں کو چھوتے ہوئے بال، اسے بالوں کی الجھن پسند نہ تھی، اس لیے اکثر کٹوا لیتی۔ ناک نازک مگر مکمل، اور ہونٹ ایسے کہ جیسے ہر مسکراہٹ کے لیے بنائے گئے ہوں۔۔
اس دن بھی، ہمیشہ کی طرح، اس نے گھٹنوں تک آتی ہلکی گلابی فراک پہنی ہوئی تھی۔ سفید سادہ شلوار، اور اس پر سیاہ ایپرن فراک کی آستینیں کہنیوں تک مڑی ہوئیں، اور دوپٹہ اکثر ایپرن کے نیچے دب جاتا،
اور اس وقت وہ مالکِ حویلی کے کچن میں کھڑی دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ چولہے پر دیگچیاں چڑھی تھیں اور مصالحوں کی خوشبو فضاؤں میں رچ بس گئی تھی۔ اس کے ساتھ سکینہ بھی کھڑی تھی،اکیس سالہ، سانولی مگر پرکشش لڑکی، جس کے انداز میں خلوص کی جھلک تھی۔
سکینہ نے چاقو سے سبزیاں کاٹتے ہوئے سوال کیا،
یسرٰی… تمہیں چھ ملکوں کی ڈیش بنانی کب اور کہاں سے آ گئیں؟ مجھے بھی بتاؤ نا، میں بھی سیکھوں گی۔۔۔۔
یسرٰی نے مسکرا کر جواب دیا،
یوٹیوب سے سیکھی ہیں، تم بھی سیکھ سکتی ہو۔
سکینہ نے آنکھیں پھیلا کر حیرت سے کہا،
یوٹیوب سے؟ یار، وہاں سب کچھ کہاں ٹھیک ہوتا ہے؟
یسرٰی نے پلٹ کر دیکھا، آنکھوں میں ہنسی کی چمک،
سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے، بس تھوڑا سا دماغ استعمال کرنا پڑتا ہے۔
سکینہ نے مصنوعی ناراضگی سے چاقو رکھا،
تو تم کہنا چاہتی ہو کہ میرے پاس دماغ نہیں ہے؟
یسرٰی ہنستے ہوئے بولی،
بالکل نہیں ہے۔ تبھی تو یہاں میرے ساتھ کھڑی ہو۔
سکینہ ہنس دی، پھر لمحہ بھر کو سنجیدہ ہو گئی،
یار تمہیں کیا ضرورت ہے اتنی محنت کی؟ خوبصورت بھی ہو، کچھ اور کر لو۔
یسرٰی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرا کر بولی،
صرف خوبصورت ہوں، ذہین نہیں؟ تمہاری طرح؟
سکینہ ہنسی،
ہاں تو میں کون سا تمہیں پڑھائی کرنے کو کہہ رہی ہوں… کسی امیر لڑکے کو پھنساؤ، شادی کرو اور مزے کرو۔۔۔
یسرٰی نے چولہے سے آنچ کم کرتے ہوئے دھیرے سے کہا،
مجھے مزے نہیں کرنے… میں ایسے ہی خوش ہوں۔
سکینہ نے آہ بھری،
یار اگر میں تمہارے جیسی حسین ہوتی تو کب کی شادی کر چکی ہوتی، آرام سے شوہر کے پیسوں پر عیش کر رہی ہوتی۔
یسرٰی نے کچھ لمحوں تک خاموشی اختیار کیے رکھی، پھر نرمی سے بولی، میں تو ابھی بھی عیش کر رہی ہوں۔۔۔
سکینہ نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں،
ایسے؟ کسی اور کے گھر پر کام کر کے؟
یسرٰی نے نرم لہجے میں، مگر پورے یقین کے ساتھ جواب دیا،
نہیں، کھانا بنا کے۔۔۔ تم جانتی ہو یہ میرا شوق ہے۔
پھر اُس نے ایک گہری سانس لی، اور نگاہیں کسی دور خلا میں مرکوز ہو گئیں۔
اور رہی بات شادی کی…
اس کے لبوں پر ایک خاموش اعتماد ابھرا،
تو شادی تو میں اُن سے ہی کروں گی… ورنہ ایسے ہی خوش ہوں، ایسے ہی رہوں گی۔۔۔
اس سے پہلے کہ سکینہ کچھ اور کہہ پاتی، دروازے پر قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اگلے ہی لمحے مریم بیگم، سفید دوپٹے کو شانوں پر سنبھالتی، کچن میں داخل ہوئیں۔
یسرٰی، تمہیں چھوٹے صاحب بلا رہے ہیں…
چھوٹے صاحب کا نام سنتے ہی یسرٰی کے چہرے کی نرمی جیسے لمحہ بھر میں پگھل گئی۔ غصے اور بے زاری کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی۔ وہ پل بھر کو ساکت رہی، پھر ایک جھٹکے سے ہاتھ میں پکڑی چمچ رکھی۔
میں تمہیں بتا رہی ہوں، اگر اس بار اُس نے کوئی بکواس کی نہ… تو اس گھر میں میرا آخری دن ہوگا۔
اُس نے کاٹ دھاڑ لہجے میں کہا۔
سکینہ نے کچھ کہنے کو لب کھولے ہی تھے، مگر یسرٰی اسے نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
++++++++++++++
مایرا کی آواز ابھی فضا میں معلق تھی
تو بتا دو، کتنی قیمت ہے سچ کی؟ میں اپنی جان سے چکا دوں گی۔۔۔
وہ شخص چند لمحے اُسے گھورتا رہا، پھر آہستہ سے اپنے بیج والے کوٹ کی جیب سے ایک شناختی کارڈ نکالا اور میز پر رکھ دیا۔ کمرے کی روشنی میں بیج چمکا، ایس پی ایس پی ظفر جاوید۔
مایرا کے چہرے پر ایک پل کو حیرت پھیلی، لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا۔
ظفر نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے، پرسکون آواز میں کہا
تم حیران ہو؟ نہیں ہونا چاہیے، آفیسر۔ اس شہر میں سب کچھ بدل سکتا ہے، لیکن طاقت کی اصل شکل وہی رہتی ہے۔
آئی ایم سوری سر، میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا..
مایرا کی آواز میں جھجک، نرمی اور ایک عجیب سی بےبسی تھی۔ وہ نظریں جھکائے مؤدبانہ انداز میں کھڑی تھی،
ظفر جاوید نے ایک ہلکی سی طنزیہ نگاہ اُس پر ڈالی، اور پھر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
مایرا نے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ سجا کر کہا
اور آپ جیسے کہیں گے ویسا ہی ہوگا… رشید صاحب کی طرح میں بھی اب خاموش رہوں گی…
وہ بولی، تو آواز میں ہار کا رنگ تھا، مگر نگاہوں میں چھپا طوفان صرف وہی جانتی تھی۔ اگلے لمحے وہ بنا کسی توقف کے دروازے کی طرف بڑھی، اور تیزی سے کمرہ چھوڑ کر چلی گئی۔
اسے کیا ہوا؟
رشید صاحب نے ایک گہری سانس لی، میز پر پڑی فائلوں کو بے دلی سے چھوا، اور دھیرے سے بولے
آپ کو معلوم ہے نا… اسے معطل کر دیا گیا تھا۔ ابھی چند دن پہلے ہی ڈیوٹی پر واپس آئی ہے۔ پہچان نہیں آپ کو… اسی لیے شروع میں زیادہ بول گئی…
ظفر کی بھنویں سکڑ گئیں، جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ رشید صاحب کی بات جاری رہی۔
اب نہیں بولے گی… اب وہ جان چکی ہے، یہاں زبان سے زیادہ خاموشی کام آتی ہے۔
ظفر نے ایک لمحے کو دروازے کی طرف دیکھا، جہاں سے ابھی مایرا گزری تھی۔ اُس کے قدموں کی چاپ تو دور جا چکی تھی،
رشید صاحب نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
آپ بیٹھئے نا…
+++++++++++++
دروازہ کھلا تو ہلکی سی دھیمی آواز کے ساتھ ایک تھکن زدہ سانس فضا میں گونجی۔ اُس نے سفید ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی جس کے بٹن بے نیازی سے کھلے تھے اور اندر سے ہلکی سی سفید شرٹ جھانک رہی تھی۔ اس کے ساتھ سیاہ رنگ کی لمبی اسکرٹ تھی سر پر ہلکا سا کالا دوپٹہ بے ترتیب سا لپٹا ہوا تھا۔ کلائی میں چاندی کی گھڑی اور ایک نازک سا کنگن جگمگا رہا تھا جبکہ کندھے پر ٹنگا ہلکا گلابی بیگ اس کے انداز میں تازگی اور نرم چمک بھر رہا تھا۔ امل نے اندر داخل ہوتے ہی بیگ بے نیازی سے صوفے پر پھینکا اور دوسرے صوفے پر یوں بیٹھ گئیں جیسے کسی میدانِ جنگ سے لوٹ کر آئی ہوں۔
دادی! یار قسم سے، بہت تھک گئی ہوں!
اُس نے تھکے ہوئے انداز میں آنکھیں موندے ہوئے کہا۔
سامنے بیٹھی انیسہ بیگم نے چشمے کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا،
اے! پہاڑ توڑ کے آئی ہے یونیورسٹی سے؟
اسی لمحے ایک ملازمہ جلدی سے لاؤنچ میں داخل ہوئی، اور نہایت ادب سے ٹرے میں رکھا تازہ جوس کا گلاس امل کے سامنے رکھا، جبکہ دوسری ملازمہ خاموشی سے صوفے پر پڑا بیگ اٹھا کر اس کے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی۔
امل نے جوس کا گلاس ہاتھ میں لیتے ہوئے ایک لمبی سانس بھری،
دادی، آپ کو معلوم بھی ہے پڑھنا کتنا مشکل ہے؟ اوپر سے ایک کلاس سے دوسری، دوسری سے تیسری، ایک تو اتنا بڑا یونیورسٹی ہے، بندہ تھکے گا نہیں.
انیسہ بیگم چشمہ اتارا اور بولیں،
اچھا اچھا بس بہت سن لیا، اب جا فریش ہو کے
آ امنوا بھی آنے والا ہوگا۔ پھر کھانے کا کہتی ہوں۔
امل نے جوس کا آخری گھونٹ پیا، سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا جیسے نیند کو جھٹک رہی ہو،
ہاں ٹھیک ہے۔
یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی، اور اپنے نرم قدموں سے زینے کی طرف بڑھ گئی۔
وہ کوئی عام لڑکی نہ تھی، سیّد امل ایمان، سید امن حنان افتخار کی اکلوتی بہن۔ ایک باوقار خاندان کی روشن آنکھ، جس میں ضد بھی تھی، شوق بھی، اور شعور بھی۔ اس کے انداز میں خاندانی رکھ رکھاؤ، اور باتوں میں تعلیم کی جھلک تھی۔ وہ جس محفل میں ہوتی، سب نظریں اسی پر ٹھہر جاتیں، جیسے کسی مکمل داستان کا ابتدائی صفحہ ہو، جو خود کو مکمل کہلانے سے انکار نہ کر سکتا ہو۔
+++++++++++++++
کیا ہے؟ کہا تھا نا،
I am not interested in you!
یسرٰی کے قدم ابھی کمرے کی دہلیز پر ہی تھے جب اس نے یہ الفاظ پتھر کی طرح اچھال دیے۔ اس کا لہجہ سخت، آنکھیں بے رحم اور چہرہ جذبات سے خالی تھا۔ وہ، جو ہر کسی سے نرمی سے بات کرتی تھی، جس کی آواز میں مٹھاس اور چال میں شائستگی تھی، اس وقت ایک جلی ہوئی لکیر کی مانند تیز اور سیدھی تھی۔
یہ تلخی… ہر اُس انسان کے لیے مخصوص تھی، جو اُس میں رتی برابر بھی پسندیدگی کا شائبہ تک لاتا۔
ملک ہاؤس کے یہ وہی چھوٹے صاحب تھے، جن کا نام ہر ملازمہ کی سرگوشیوں میں آہستہ سے لیا جاتا۔ وجیہہ تھے، دولت مند، تعلیم یافتہ، مگر اپنی امیری کے زعم میں ڈوبے ہوئے۔ انھیں یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی عورت ان کی طرف متوجہ نہ ہو، خاص کر کوئی ایسی جو ان کے زیرِ اثر ہو، جیسے یسرٰی۔
وہ چھ ماہ سے ملک ہاؤس میں بطور چیف کُک کام کر رہی تھی۔ ملک ہاؤس، ایک شاندار حویلی، جہاں مسٹر ملک اور مسز ملک کے ساتھ اُن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی رہتے تھے۔ بڑے بیٹے کی حال ہی میں منگنی ہوچکی تھی، جبکہ چھوٹے صاحبزادے، زریاب، یسرٰی کی شخصیت سے یوں بندھے تھے جیسے پروانہ شمع سے۔
یسرٰی کے ہاتھوں میں واقعی جادو تھا — وہ صرف کھانے پکانے آتی، اور سات بجے شام تک چپ چاپ اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے چلی جاتی۔ نہ کسی سے خاص بات، نہ ضرورت سے زیادہ قربت۔ وہ نہ کھانا ٹیبل پر لگاتی، نہ کسی کو پانی کا گلاس پکڑاتی، کیونکہ ہر کام کے لیے اس محل میں الگ ملازم مقرر تھے۔
زریاب کو پہلی بار اس کی طرف کھنچاؤ بڑے بھائی کی منگنی پر ہوا۔ جب وہ ساری ملازمہ کے ساتھ تیار ہو کر کھڑی تھی۔۔۔ تب زریاب کی نظریں، جو ہمیشہ کسی اور دنیا میں رہتی تھیں، یکایک زمین پر — یسرٰی پر — ٹھہر گئیں۔ سکینہ ایسی تو نہیں کہتی تھی وہ اتنی خوبصورت تھی کہ کوئی بھی مرد باآسانی اُس کا دیوانہ ہو سکتا تھا۔۔۔
محبت کا اعتراف بھی اُس نے وہیں کیا، لیکن جواب میں سرد انکار نے جیسے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا۔
تم بتاؤ نہ، کیا مسئلہ ہے؟
زریاب کی آواز میں بےبسی کی نمی تھی،
میں سارے مسئلے حل کر دوں گا، ممی کا مسئلہ ہے؟ ڈیڈی کا؟ خاندان والوں کا ؟ میں سب سنبھال لوں گا! بس ایک بار، ایک بار تم میرا ہاتھ تھام لو، میں سب کے منہ بند کروانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔۔۔
اُس کے لہجے میں محبت کم، جنون زیادہ تھا۔ وہ ہر رکاوٹ کو توڑنے پر آمادہ تھا، سوائے یسرٰی کی رضا کے۔
مسئلہ نہ صاحب ہے، نہ بیگم صاحبہ وہ رکی، اُس کی آنکھیں سیدھی زریاب کے دل میں اترتی گئیں،
نہ خاندان ہے، نہ اس سماج کے لوگ، نہ ہمارا اسٹیٹس ہے، نہ تم۔
زریاب کا دل جیسے لرز گیا۔ یہ الفاظ، جیسے کسی چٹان پر لکیر ہو رہے ہوں۔
مسئلہ ہے۔۔۔ یسرٰی کا دل۔
یسرٰی کمیٹڈ ہے..
یسرٰی کسی اور کی ہے۔
یسرٰی صرف اُس کے لیے بنی ہے۔۔
یسرٰی صرف اُس کی ہے۔۔
یسرٰی صِرف اُس سے محبت کرتی ہے۔۔۔
یسرٰی صِرف اُس سے ہی شادی کرے گی۔۔۔
یسرٰی صِرف اُسی سے ہی محبت کرے گی۔۔
یہ کہہ کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ دروازہ دھیرے سے بند ہوا، مگر زریاب کو لگا جیسے اُس کی دنیا کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہو۔
کمرے میں صرف اُس کے الفاظ کی بازگشت رہ گئی۔۔
یسرٰی کسی اور کی ہے۔؟
کس کی؟؟
++++++++++++
ایک چائے میرا بھی…
مایرا نے اپنے کمرے سے نکلتے ہی کہا،
لہجے میں تھکن بھی تھی، بےزاری بھی۔
ہوالدار اسلم جو ابھی ابھی سب کے لیے چائے لینے جا رہا تھا، فوراً سر ہلا کر پلٹ گیا۔
اوئے کیا بنا؟
دعا نے مایرا کو دیکھتے ہی کہا۔ مایرا جو رشید صاحب کو کیس کے لیے منانے گئی تھی،
اور پورے ایک گھنٹے بعد رشید صاحب کے روم کے بجائے اپنے روم سے باہر نکلی تھی۔
مایرا کا چہرہ سپاٹ تھا، لیکن آنکھیں شعلہ ور تھیں۔
کیا بنے گا؟ وہی… چپ رہو، خاموش رہو، سر جھکاؤ…
میں نے کہا ہی تھا…
دعا نے افسوس سے سر جھکا لیا۔
مایرا کا پارہ چڑھ چکا تھا،
یہ وردی صرف تنخواہ لینے کے لیے پہنی ہے کیا ہم نے؟
جی، بالکل…
معاذ نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔
مایرا کی نظریں اُس پر بجلی کی طرح گریں،
معاذ!! ابھی مذاق نہ کرو، میں بہت غصے میں ہوں۔
میں نے رشید صاحب کو قائل کر ہی لیا تھا،
اگر وہ ایس پی نہ آ جاتا تو، تم لوگوں نے اُس کے بارے میں بتایا کیوں نہیں؟
یار! بتا دیتے، لیکن ابھی تمہیں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔ اور ویسے بھی، وہ یہاں آتا ہی کہاں ہے؟
آج تو بس اتفاق سے آ گیا۔۔۔۔
دعا نے صفائی دینے کی کوشش کی۔
مایرا نے جیسے اُس کی بات سنی ہی نہیں،
میرا خدا… وہ انسان بھی بکا ہوا ہے۔۔۔۔
یہاں سب کے سب بکے ہوئے ہیں، آفیسر مایرا،
صرف آپ کے سوا معاذ کا لہجہ اب سنجیدہ تھا۔
دعا نے دھیرے سے کہا، ہاں، کچھ لوگ شروع سے ہی خراب ہوتے ہیں، اور کچھ… جیسے ہی انہیں اونچی پوسٹ ملتی ہے، ہار مان لیتے ہیں۔۔۔یہاں بس یہی قانون رہ گیا ہے۔
معاذ نے نرمی سے پوچھا،
تمہاری ایس پی صاحب سے کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی؟ وہ بہت کڑک مزاج قسم کے لگتے ہیں، جتنا ہو سکے دور رہو ان سے۔
مایرا نے گہرا سانس لیا،
ہاں، اندازہ ہو گیا تھا اُن کی باتوں سے۔
خیر، میں نے زیادہ بات آگے نہیں بڑھائی،
تو اب کیا کروں گی تُم؟ دعا نے آہستہ سے کہا
مایرا نے ایک پل کو خاموشی اختیار کی۔ پھر سر اٹھا کر مضبوط لہجے میں بولی،
وہی جو پہلے کیا تھا، اپنی طرف سے پوری کوشش، میں اندر کہہ کر آگئی ہوں لیکن میں اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔۔
دعاء کی آنکھوں میں تشویش ابھر آئی،
تم پھر، سسپنڈ ہونے کا سوچ رہی ہو؟
مایرا نے ایک تلخ سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
اگر سچ بولنے کی سزا سسپنشن ہے،
تو پھر ٹھیک ہے، ایسے ہی سہی۔
بس تم لوگ ساتھ دینا، یہی کافی ہے میرے لیے۔
وہ تو ہمیشہ سے ہے، مایرا۔ تم گرو یا کھڑی رہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ دعا نے کہا
مایرا نے پلکیں جھپکائیں،
جیسے اندر کہیں آنکھیں نم ہو گئیں ہوں، مگر چہرے پر وہی وقار، وہی سختی۔
یہ جنگ صرف کرپشن، جھوٹ اور نظام سے نہیں تھی۔
یہ جنگ اُس وردی کی بقاء کی تھی۔۔۔
جو مایرا کے جسم پر نہیں، اُس کے ضمیر پر لہرائی جاتی تھی۔
+++++++++++++++
دادو کچن سے نکلی تھیں، چہرے پر محنت کی تھکن اور رات کے کھانے کی فِکر۔ مگر جیسے ہی نگاہ صوفے پر پڑی، قدم وہیں رُک گئے۔
یسرٰی ٹانگ پر ٹانگ رکھے، ہاتھ میں ریموٹ تھامے، پوری توجہ سے ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ اسکرین پر ایک سیاست دان جوش میں بول رہا تھا، وعدے، دعوے، اور سچائی کا نعرہ۔
دادو نے دیوار پر لٹکی گھڑی دیکھی۔ ٹھیک دو بجے تھے۔
تم اتنی جلدی آگئی؟ دادو نے حیرانی سے پوچھا۔
نہیں تو۔
یسرٰی نے ایک لمحے کو دادو کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی۔
یسرٰی، اس وقت تمہیں اپنے کام پر ہونا چاہیے تھا۔۔۔
دادو کا لہجہ اب کڑا ہوچکا تھا۔
ہاں، وہ میں نے ملک ہاؤس میں کام کرنا چھوڑ دیا۔ اُس نے آرام سے بتایا۔
دادو کا چہرہ پل بھر کو سنجیدہ ہو گیا،
کیا چھوڑ دیا؟ وہ کیوں؟
یسرٰی میں تمہیں بتا رہی ہوں، اگر اب کی بار کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
یسرٰی نے ریموٹ میز پر رکھا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، کیا ہوگیا ہے دادو، کام کرنے سے انکار تھوڑی کر رہی۔ بس وہاں نہیں، کسی اور جگہ لگ جاؤں گی۔
وہاں کیا مسئلہ تھا؟ دادو نے حیرانی سے پوچھا
بتایا تھا نا آپ کو، ملک صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے مجھ پر مر مٹے تھے۔ اُس نے شوخ انداز میں کہا۔
تو۔۔۔؟ دادو نے آنکھیں سکیڑ کر کہا۔
تو اسی لیے چھوڑا۔ میں نہیں چاہتی اُس کے سوا کوئی اور میرے بارے میں سوچے بھی۔ یسریٰ نے آرام سے کہا
کیا وہ تمہیں لے کر سنجیدہ تھا؟ دادو نے سنجیدگی سے کہا
ہاں دادو، شادی کا کہہ رہا تھا، اب یسرٰی ہے جو اتنی حسین، اُسے سمجھ آگیا تھا، ایسی ہاتھ آنے والی تھوڑی ہے۔ کہتا تھا سب کو منوا لوں گا، بس تم مان جاؤ۔ بتائیں دادو، بھلا میں ایک ملازمہ ہو کر اُس سے شادی کرلوں؟
آخر میں اُس نے آنکھیں جھپکتے ہوئے بہت معصومیت سے کہا۔
دادو نے گہری سانس بھری، اور دل میں سوچا
کاش حسن کے ساتھ تھوڑا شعور بھی ہوتا، تو بات کچھ اور ہوتی۔
وہ اُس کے قریب آ کر بیٹھ گئيں۔
اب ایک بار پھر، دادو اور یسرٰی کے درمیان وہی پرانی گفتگو شروع ہو چکی تھی۔۔۔
جس کا انجام ہمیشہ ضد پر ہوتا تھا۔
پڑھائی تو تم سے ہو نہیں رہی، کم از کم کسی اچھے لڑکے سے شادی کر کے سیٹل ہو جاؤ…
دادو نے نرمی سے سمجھایا۔ اچھے برے سارے رشتے آئے تھے، لیکن مجال ہے جو اُس کے علاوہ یسرٰی نے کسی کے بارے میں سوچا ہو..
دادو، صرف وہی… وہی، اُس کے علاوہ کوئی نہیں۔ یسریٰ نے کسی ضدی بچے کی طرح کہا
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے؟ یا پاگل ہوگئی ہو؟
وہ ایک سیاست دان ہے، وہ تم سے شادی کرے گا؟ دادو نے سختی سے کہا۔
یسرٰی کی آنکھوں میں عزم تھا،
نہ کرے، لیکن میں اُس کے سوا کسی سے شادی نہیں کروں گی۔
دادو نے جیسے آخری دلیل دی،
تمہیں پتا ہے، اُسے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔
تو؟ یسرٰی نے پلکیں جھپکائے بغیر کہا۔
اُسے جھوٹے لوگ بالکل پسند نہیں۔ دادو نے ایک اور وار کیا
تو؟
اُسے چور بھی پسند نہیں۔
ہاں دادو، میں جانتی ہوں۔ میں سب جانتی ہوں اُس کے بارے میں۔
اب یسرٰی کے لہجے میں تلخی تھی،
اور وہ تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
دادو نے پیچھے سے آواز دی،
پہلی بات تو یہ، کہ وہ تمہیں کبھی ملے گا نہیں،
اور اگر مل بھی گیا، اور تمہیں قبول بھی کر لیا،
تو تمہاری اصلیت جاننے کے بعد، وہ تمہیں اپنی زندگی سے ایسے نکالے گا جیسے کبھی جانتا ہی نہ تھا۔ اور تم یہ بات اچھی طرح جانتی ہو، یسرٰی۔
مگر یسرٰی جا چکی تھی۔
دروازہ بند ہونے کی آواز دادو کے دل پر جیسے ایک چوٹ بن کر لگی۔
خاموشی صحن میں پھیل گئی۔۔۔
اور سیاست دان کی تقریر کی آواز پسِ منظر میں مدھم ہوتی گئی۔
++++++++++++++++
امن ابھی گھر آیا اور فریش ہو کر ڈائننگ ٹیبل پر سب کے ساتھ بیٹھا تھا کہ افتخار صاحب نے اس کی طرف دیکھتے سوال کیا کیسی مصروفیات ہیں آج کل؟
امن نے خفیف سا مسکرایا اور شرٹ کی آستین ذرا اوپر کی بہت زیادہ مصروف ہوں دادا، وقت ہی نہیں ملتا
افتخار صاحب نے تنقیدی انداز میں عینک کے اوپر سے اسے دیکھا الیکشن کے دوران ایسا ہوتا ہے، اپنے کام کو وقت دو۔ اگر زیادہ کام ہو تو گھر نہ آیا کرو، الیکشن پر پورا دھیان دو
ابھی ان کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ انیسہ بیگم، جو ہمیشہ کی طرح باتیں سننے میں مصروف تھیں، برتن رکھتے ہوئے بول اٹھیں کیا بول رہے ہیں آپ؟ گھر نہ آیا کرے؟ اے مرے گے ہم تیرے کو اگر تو گھر نہ آیا تو!
انیسہ بیگم نے امن کو گھورتے دھمکی دی
اپنے وقت خود تو سیاست کو سینے سے لگا بیٹھے تھے، اب میرے بیٹے کو بھی ویسا ہی سکھا رہے ہیں؟
امن نے نرمی سے کہا
دادی، آرام سے، مجھے گھر اور کام دونوں سنبھالنے آتے ہیں۔
چاہے وہ کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، دن میں ایک بار ضرور گھر آتا تھا۔ دادی اگر سارا دن اسے نہ دیکھتیں تو بے چین ہو جاتیں۔ اس لیے وہ چاہے جلسے جلوس میں ہو، چاہے میڈیا ہاؤس میں، کھانے کے وقت ضرور آتا تاکہ دادی کے دل کو قرار آ جائے۔
افتخار صاحب نے انیسہ بیگم کی باتوں کو نظر انداز کیے امن کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا
اچھا، بتاؤ… کہاں مصروف ہو؟
امن نے پانی کا گھونٹ بھرا اور کہا
دادا، آج دو گھنٹے بعد نادیہ فیروز کے ساتھ ایک چینل پر لائیو ڈیبیٹ ہے۔
یہ سنتے ہی افتخار صاحب نے ناک سکوڑ لیا
یہ سب فضول انٹرویوز میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور یہ ڈیبیٹ، سیاست اب تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔
امن نے بے زاری سے سر جھٹکا
دادا پلیز، ابھی میں آپ کی طرح صرف دکھاوے کی غیرت میں کچھ چھوڑنے والا نہیں۔ یہ ڈیبیٹ ضروری ہے۔ لوگ تبھی جانیں گے کہ میری سوچ ان سب سے الگ ہے۔
افتخار صاحب کے چہرے پر فکر کی لکیریں ابھر آئیں
تم جانتے ہو نادیہ فیروز کتنی چالاک ہے؟ وہ تمہیں اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرے گی۔ تم اس الیکشن کے سب سے کم عمر اُمیدوار ہو۔ وہ اس بات کا پورا فائدہ اٹھائے گی۔
امن نے میز پر کہنی ٹکاتے ہوئے خوداعتمادی سے کہا
آپ کو لگتا ہے کوئی مجھے بحث میں ہرا سکتا ہے؟
پاس بیٹھی امل جو کھانا کھانے میں مصروف تھی کھانے کے دوران ان کی باتیں سن جھنجھلا کر کہا
دادا، بھائی، پلیز… بند کریں یہ سیاست کی باتیں۔ میں بور ہو جاتی ہوں۔
انیسہ بیگم نے بھی تائید کی
اے ہاں، ہم بھی…
خاموشی سے کھانا کھاتے ہیں، پھر بات کریں گے،
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ چاولوں کی ٹرے اٹھاتے ہوئے وہ نرمی سے اپنے سامنے رکھی پلیٹ میں چاول ڈالنے لگا۔۔
+++++++++++++
جی سر، آپ نے بلایا؟
کچھ دیر پہلے اسے اطلاع ملی تھی کہ ایس پی ظفر جاوید اُسے اپنے پاس بُلا رہے تھے اور وہ بغیر کسی تاثر کے سیدھے اُن کے پاس کھڑی تھی۔۔۔
ظفر نے مسکرا کر اپنی سامنے والی سیٹ کی طرف اشارہ کیا. آئیے آفیسر، بیٹھیے۔
مایرا دانت پیستے ہوئے سیٹ پر بیٹھی اور بولی. جی، فرمائیے۔
ظفر نے سنجیدگی سے پوچھا آپ کس کیس پر کام کرنا چاہتی ہیں؟
یہ بات آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟
آنکھوں میں غصّہ تھا لیکن وہ ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔
ظفر نے سخت لہجے میں کہا سوال پر سوال نہیں، مجھے جواب چاہیے۔
مایرا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا پچھلے دنوں ایک بندے کی چھنٹائی کے دوران جان چلی گئی، وہ چور بلاوجہ اسے مار کر چلا گیا، مجھے اسے پکڑوانا ہے، اسے اس کے عبرت ناک انجام تک پہنچانا ہے تاکہ باقی کراچی کے چور ہمیں دیکھ کر ڈریں، ہم سے خوف کھائیں…
ظفر نے طنزیہ انداز میں کہا آج کے زمانے میں اچھے لوگوں سے یہاں کون خوف کھاتا ہے؟ سب ولن سے ہی خوف کھاتے ہیں…
مایرا نے ناگواری سے ظفر کا چہرہ دیکھا، خاموش رہی۔ بولنا تو بہت کچھ چاہتی تھی، مگر اسے اپنی پوسٹ کی پابندیوں نے روک رکھا تھا۔ اس کے لبوں پر الفاظ تھے جو کہیں رہ گئے۔
ظفر نے اس کی خاموشی محسوس کی اور نرم لہجے میں کہا آپ ایسے چپ اچھی نہیں لگتی۔
مایرا نے ناگواری سے اُس کا چہرہ دیکھا، اُسے ایسا کملائمنت بکل پسند نہیں آیا تھا جی سر، آپ کی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو میں جا سکتی ہوں؟
ظفر نے مسکراتے ہوئے کہا تم مجھے اجازت نہیں لوگی اس کیس پر کام کرنے کے لیے؟
مایرا کے دل میں غصے کی لہر دوڑ گئی، مگر وہ خود کو سنبھال کر بولی نہیں سر، آپ نے منع کر دیا نا، کہا خاموش رہوں؟ میں خاموش ہوگئی ہوں۔
ظفر نے ہنستے ہوئے کہا وہی تو میں کہہ رہا ہوں، تم خاموش اچھی نہیں لگتی۔
مایرا نے شکایت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا سر…؟
ظفر نے نرم لہجے میں کہا اگر میں تمہیں اجازت دے دوں تو؟
مایرا نے طنز بھرے لہجے میں کہا کس احسان کے بدلے؟
ظفر نے ہنستے ہوئے جواب دیا احسان؟ کافی ہوشیار ہو تم۔
مایرا نے اپنی سچائی پر یقین رکھتے ہوئے کہا میں آپ جیسے لوگوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔
اگر میں کہوں کہ کوئی احسان نہیں چاہیے تو پھر؟
ظفر نے بغور مايرا کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی۔۔
مایرا نے فوراً کہا ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔
ظفر نے مزاح میں پوچھا اتنا یقین کس بات پر؟ ابھی تو ہم ملے ہیں اور تم مجھے اتنا جان گئی ہو؟
مایرا نے سنجیدگی سے جواب دیا میں آپ سے ابھی ملی ہوں، آپ جیسے لوگوں سے تو بار بار ملتی رہی ہوں…
تم میری انسلٹ کر رہی ہو؟ ظفر نے ناگواری سے کہا
میری مجال، سر، میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں؟
لہجے میں صاف طنز تھا۔
ظفر کے لبوں پر یکدم مسکراہٹ آ گئی۔ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بولا جاؤ… میں تمہیں اجازت دیتا ہوں۔ تم اس کیس پر کام کر سکتی ہو، بنا کسی احسان کے بدلے۔
مایرا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
یہ کیسا فیصلہ تھا؟ یہ کیسی نرمی؟ جو شخص لمحہ پہلے طنز برسا رہا تھا، اب راستہ دے رہا تھا، وہ بھی بنا کسی شرط کے؟
تھینک یو سر!
وہ خوشی سے بولی، کرسی سے فوراً اٹھی اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
مگر پیچھے، ایس پی ظفر جاوید کی آنکھوں میں ایک ان کہی چمک تھی…
اور ہونٹوں پر ایک ایسی شیطانی مسکراہٹ جو مایرا کو دیکھے بغیر بھی اُس کا پیچھا کر رہی تھی…
+++++++++++++
آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا آپ واقعی اس ملک کو سنبھالنے کے قابل ہیں؟
نادیہ فیروز نے پہلا وار کیا
سید امن حنان افتخار کے چہرے پر وہی سکون تھا۔۔ وہی سکون جو دوسروں کو اندر سے جلا دیتا تھا، دشمنوں کو بےچین کر دیتا تھا، اور جسے ریپر ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
معذرت کے ساتھ، اس سوال کا جواب میں نہیں دے سکتا۔
نادیہ کے چہرے پر حیرت تھی، آنکھوں میں تیزی… جیسے تلواروں کی چمک۔
تو پھر اس کا جواب کون دے گا؟
امن نے گردن ذرا سا جھکا کر، گہری آواز میں کہا
وقت دے گا۔
کمرے میں لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی،
پھر نادیہ نے اگلا وار کیا:
آپ کو لگتا ہے عوام کو آپ پر یقین کرنا چاہیے؟
بالکل، آپ پر بھی تو کیا تھا نا۔ اُس نے نارمل انداز میں بہت بڑی بات کہہ دی تھی
نادیہ کا چہرہ لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گیا…
مُجھے لگتا ہے آپ کو ابھی اور محنت کی ضرورت ہے اور کام کرنے کی ضرورت ہے آپ بہت جوان ہو ابھی.
ان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کاٹی:
جوان؟ ہو سکتا ہے۔ مگر کبھی کبھار پرانے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے نیا ذہن ہی چاہیے ہوتا ہے۔
نادیہ نے پلکیں جھپکیں، جیسے لمحہ بھر کو وہ خود کو سنبھال رہی ہو۔
تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بگاڑ ہے کیا؟
امن کا لہجہ نرم رہا، مگر آنکھوں میں چمک تھی
میں کہہ رہا ہوں آپ کا وقت تھا۔ اب ہمیں ہمارا وقت لینے دیں۔
نادیہ نے ایک لمحے کو کرسی کی پشت سے ٹیک لی۔
مجمع خاموش تھا۔
کیمرے زوم کر رہے تھے۔ سانسیں تھم چکی تھیں۔
پھر نادیہ نے دھیمے لہجے میں کہا
آپ نے کہا تھا کہ کراچی میں امن لائیں گے۔ مگر عوام یہ پوچھتی ہے، بجلی، پانی، گیس؟ یہ سہولتیں کب آئیں گی؟ صرف امن سے پیٹ نہیں بھرتا.
امن نے پرسکون مگر پراثر انداز میں کہا
میں نے امن کا وعدہ اس لیے کیا، کیونکہ میں چاہتا ہوں جب بجلی نہ آئے، تو لوگ کم از کم بغیر ڈر کے، باہر چارپائی ڈال کر سو سکیں۔
میں کراچی کو دبئی بنانا چاہتا ہوں، دبئی جیسی سہولتیں نہیں،
دبئی جیسی سیکیورٹی۔
کیونکہ جہاں جان محفوظ ہو، وہاں خواب خود آنے لگتے ہیں۔
جہاں خوف نہ ہو، وہاں ترقی خود بولنے لگتی ہے۔
پانی، گیس، بجلی، سب آئیں گے۔
لیکن پہلے، خوف جائے گا۔
نادیہ کی آواز میں طنز تھا
تو آپ کہہ رہے ہیں، اگر ہم امن سے سو لیں تو بجلی کی کمی کو بھول جائیں؟
یہی ہے آپ کی ترجیح؟ سیکیورٹی؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ماں جب ٹینکی سے پانی بھر کر لاتی ہے تو اس کے ہاتھ کانپتے ہیں،
اور آپ خواب بیچ رہے ہیں؟
مجمع میں کچھ سر ہلنے لگے۔ کچھ لوگ بول پڑے:
صحیح کہہ رہی ہے!
پہلے پانی لاو، پھر بات کرو دبئی کی۔۔۔
خالی وعدے۔۔۔۔
امن نے سنجیدگی سے ہجوم کی طرف دیکھا۔ پھر خاموشی سے بولنے لگا، آہستہ مگر واضح انداز میں
خواب بیچنے والے کبھی سچ نہیں بولتے،
میں سچ بول رہا ہوں۔
میں نے کہا تھا، سہولتیں آئیں گی، مگر امن پہلے۔
کیونکہ جب آپ کے بچوں کے اسکول پر گولی نہیں چلے گی،
جب آپ کا بھائی موبائل چھننے سے نہیں ڈرے گا،
جب آپ کی ماں آدھی رات کو دوا لینے جا سکے گی،
جہاں ہر غریب کو انصاف ملے گا،
تب بجلی کا بل، پانی کا نل، گیس کی لائن۔ ۔
یہ سب ہم مل کر ٹھیک کریں گے۔
لیکن پہلے، ڈر ختم کرنا ہو گا۔
یہ شہر صرف سڑکوں اور بل بورڈز سے نہیں بنتا،
یہ شہر لوگوں کی سانسوں سے بنتا ہے۔
اور جب یہ سانس خوف سے آزاد ہو گی۔۔۔
تب کراچی دوبارہ بننے گا۔۔۔
نادیہ نے بات کاٹ دی، اب وہ سنبھل چکی تھی، اور وار تیار تھا. اور اگر امن نہ آ سکا تو؟
پھر آپ کا خواب بھی باقی نہیں رہے گا۔
لوگ بھوک سے زیادہ، دھوکے سے ڈرتے ہیں، افتخار صاحب۔
امن نے نظریں نیچی کیں، پھر آہستگی سے کہا
اگر امن نہ آ سکا، تو میں وعدہ کرتا ہوں،
میں سب سے پہلے اپنے عہدے سے ہٹوں گا،
اور آخری شخص کے ساتھ کھڑا رہوں گا جسے انصاف نہیں ملا۔
پہلی بار، مجمع میں سے ایک آواز آئی
اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے… تو کم از کم اچھا جھوٹ بول رہا ہے۔
+++++++++++++++
ہاں کیا خبر ہے. وہ فون کان سے لگائے دوسری طرف کسی خوش خبری کے انتظار میں تھا
فکر نہ کرو، ریپر۔ سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے۔
دوسری طرف سے وہی جواب آیا جو وہ سنا چاہتا تھا۔
میں ٹی وی کھول بیٹھا ہوں اچھی خبر ہی دینا یہ کہہ کر وہ مسکرایا اور فون بند کر دیا، ایک تو وہ مسکراتا بہت تھا، اور جب بھی مسکراتا، اُس کی آنکھوں میں ایک ایسا غرور آ جاتا تھا جیسے سب کچھ اس کے نقشے کے مطابق ہو رہا ہو، جیسے دنیا شطرنج کی بساط ہو اور وہ واحد کھلاڑی ہو جس کے سارے مہرے اپنی جگہ پر ہوں۔
ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلنے لگی۔۔
سرخ پٹی، تیز موسیقی، اور اُس اینکر کی جوشیلی آواز
اب سے کچھ دیر قبل نادیہ فیروز کی کار پر حملہ، حالت نازک!
وہ خاموش ہو گیا…
نہ حیرانی، نہ پچھتاوا۔
صرف ایک ہلکی سی سرگوشی جیسے وہ خود سے کہہ رہا ہو
ایک اور پتّا گر گیا۔
اور پھر وہ دوبارہ مسکرایا….
اس بار وہ مسکراہٹ نرم نہیں تھی،
++++++++++++
وہ ڈیبیٹ کے بعد تھکا ہوا گھر میں داخل ہوا، انیسہ بیگم کو تیزی سے اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔
کیا ہوا دادی؟ اس کی آواز میں بےچینی اور فکر جھلک رہی تھی۔
انیسہ بیگم نے دھیرے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا، آے تو ٹھیک ہے، تُجھ کو کچھ ہوا تو نہیں ہے نا؟ وہ امن کو آگے پیچھے ہر جگہ سے چیک کرتی کہیں کوئی چوٹ کہیں کچھ ہُوا تو نہیں۔
نادیہ پر حملے کی خبر چل رہی تھی۔ تیرے ڈیبیٹ کے بعد، میں سمجھی کہیں تُجھے.
ان کی آواز لڑکھڑا گئی۔
امن نے انیسہ بیگم کو اپنے ساتھ بیٹھایا،
دونوں ہاتھوں سے اُن کے ہاتھ تھامے،
اور آہستہ سے کہا میں ٹھیک ہوں، دادی
انیسہ بیگم کی آواز میں خوف کی ہلکی سی لہر گھل گئی۔ وہ کانپتی ہوئی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی:
اے! ہم بول رہے ہیں، چھوڑ دے یہ سب، ورنہ کہیں وہ ریپر، اُس نے کچھ کردیا تیرے کو تو میرا کیا ہوگا
وہ انیسہ بیگم کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا، اُس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
اس کی آنکھوں میں وہی ضد تھی، وہی چمک — جو بچپن میں ہوتی تھی جب وہ کسی کھلونے کے لیے ضد کرتا تھا۔
مگر اب وہ کھلونا نہیں تھا، خواب تھا، پورے شہر کا خواب۔
دادی، یہ میرا خواب ہے۔ ایسے کیسے پیچھے ہٹ جاؤں؟ اور زندہ موت، اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی ریپر کے ہاتھ میں نہیں۔
انیسہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں مگر لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
انھوں نے اپنا چہرہ پھیر لیا، شاید آنکھوں کی نمی چھپانے کی کوشش کی،
مگر امن نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی میں کہا
دادی، مُجھے کچھ نہیں ہوگا، جب تک سچ میرے ساتھ ہے، کوئی جھوٹ مجھے چھو نہیں سکتا۔
انیسہ بیگم نے دھیرے سے سر ہلایا،
مگر اُن کے دل میں ایک دعا اب دھڑکن بن کر چلنے لگی تھی۔
++++++++++++
وہ ابھی بستر پر لیٹا ہی تھا کہ فون کی اسکرین جل اُٹھی۔
نہ چاہتے ہوئے بھی اُس نے ہاتھ بڑھا کر فون اُٹھایا۔
اسکرین پر نہات کالنگ چمک رہا تھا۔
السلام علیکم، ہاں بول نہات، خیریت؟
اُس نے آواز میں مصنوعی سکون سمیٹتے ہوئے کہا۔
نہات کی سانسیں بے ترتیب تھیں، جیسے وہ کسی دوڑ سے واپس آیا ہو۔
بھائی… مسئلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔
کیا ہوا؟
اُس کے دل کی دھڑکن لمحہ بھر کو رُکی۔
نادیہ فیروز ہوش میں آ گئی ہے، اور اُس نے بیان دیا ہے کہ اُس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ آپ نے کروایا ہے۔۔۔
کیا؟
یہ لفظ اُس کے لبوں سے نہیں، دل کے اندر سے نکلا تھا۔ وہ چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔
نیوز چینلز کھولو، ہر جگہ یہی چل رہا ہے۔ تمہیں ولن بنایا جا رہا ہے۔
وہ جھوٹ کیوں بول رہی ہے؟
اُس نے زیرِ لب کہا، جیسے خود سے سوال کیا ہو۔
نہات کی آواز بھاری ہو گئی۔
آپ جانتے ہیں بھائی، اُس کے سوا آپ کا اور کوئی مقابل نہیں۔ وہ لوگوں کو آپ کے خلاف کرنا چاہتی ہے۔ سیاست میں یہ سب ہوتا ہے، مگر یہ حد ہے۔۔۔
لیکن ایکسیڈنٹ کروایا کس نے؟
ریپر نے، اور کون؟ کام تو صاف تھا، لیکن بدنصیبی سے وقت پر اسپتال پہنچا دیا گیا، ڈاکٹرز نے بچا لیا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ اُس نے گہرا سانس لیا، پھر آہستہ سے بولا:
سن، میری سوشل میڈیا ٹیم کو کہو، ایک سادہ سی پوسٹ ڈالیں، کہ اس معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد خاموشی اختیار کریں۔
مگر بھائی، ہمیں اُس کے خلاف قانونی ایکشن لینا چاہیے!
اگر وہ جھوٹی ہے، تو میرے مقابل کی نہیں۔ تم اتنا ہی کرو جتنا کہا ہے۔ اور پل پل کی خبر دیتے رہنا۔ اللہ حافظ۔
امن نے مطمئن انداز میں کہا اور کال بند ہو گئی۔
وہ کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا، خاموش، سوچوں میں گم۔ پھر اچانک نظر گھڑی کی طرف گئی، گیارہ بج رہے تھے۔
آہستہ سے اُٹھا۔
قدم خودبخود واش روم کی طرف بڑھ گئے۔
سیاست کے اس ہنگام دور میں، جب ہر لمحہ عوام کی نظر میں جینا ہوتا ہے…
…وہ لمحہ، جو صرف رب کے ساتھ گزارنے کے لیے ہوتا ہے،
کب چھن گیا، وہ خود بھی نہ جان سکا۔
وضو کا ٹھنڈا پانی جب اُس کی ہتھیلیوں سے بہہ کر زمین کی طرف گرا، تو اُس نے محسوس کیا جیسے دل کے اندر جمے شکوک بھی دھل رہے ہوں۔
آج پہلی بار اُسے اپنی بے بسی پر نہیں، اپنے رب کی قدرت پر یقین آیا تھا۔
وہ جائے نماز پر بیٹھا تو ایسا لگا جیسے کئی دنوں بعد اُس نے خود کو پایا ہو۔
یا اللہ، اگر میں سچ پر ہوں، تو میرے حق میں فیصلہ فرما، اور اگر کہیں میں غلط ہوں، تو مجھے وہ نظر عطا فرما جو مجھے میری خطا دکھا سکے۔
نماز کے بعد اُس نے چپ چاپ قرآن پاک کھولا۔
پہلا صفحہ جو کھلا، اُس کی نظر سورۃ یوسف پر پڑی۔
بے شک، اللہ حق کا ساتھ دیتا ہے، چاہے لوگ سازشیں کریں۔
(یوسف علیہ السلام کی قید اور الزامات کی آیات دل کو چھو گئیں)
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اب جب اوپر سے تسلی آگئی تھی تو کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا، دِل و دماغ دونوں ایک ساتھ ایک ہی وقت پر سکون میں آ گئے تھے۔
اسی اثنا میں نہات کی ایک اور کال آئی۔
فون کان سے لگاتے ہی نہات بولا:
بھائی، نادیہ کا اسپتال میں انٹرویو ہو رہا ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اسے بار بار دھمکیاں مل رہی تھیں، اور وہ پہلے ہی پولیس کو الرٹ کر چکی تھی۔
اور پولیس؟
پولیس کہہ رہی ہے کہ کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملا، لیکن میڈیا اُسے ہیرو بنا رہا ہے۔
اچھا دیکھو اور مُجھے پل پل کی خبر دیتے رہو۔
اتنا کہنا تھا کہ کال منقطع ہوگئی۔
+++++++++++++
ریپر، وہ بچ گئی ہے…
یہ آواز ایک دبلی پتلی، خاموشی میں لپٹی ہوئی لڑکی کی تھی، وہ مکمل اندھیرے میں نہیں کھڑی تھی، مگر اُس کی بلی جیسی چمکدار نیلی آنکھوں کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
اُس کی آنکھیں ایسی تھیں جیسے اندھیرے کی تہوں میں بھی کسی کی روح میں جھانک لیں۔
اُس کا باقی چہرہ ایک سیاہ ماسک میں چھپا ہوا تھا۔
وہ ریپر کے سامنے رپورٹ دینے کے انداز میں کھڑی تھی،
لیکن اُس کے چہرے یا لہجے میں پشیمانی کا شائبہ تک نہ تھا۔
ریپر نے یک دم نظریں اُس پر گاڑ دیں۔
سیاہ آنکھیں، چہرے پر چھائی سنجیدگی، اور آنکھوں میں آگ۔
ہاؤ اِز اِٹ پاسیبل؟ ایسے کیسے، کام ٹھیک سے نہیں ہوتا تم لوگوں سے؟
ریپر کی آواز گرجی — نہ صرف کمرے میں، بلکہ اُس لڑکی کے چہرے پر بھی ایک لمحے کو سایہ سا چھا گیا۔
مگر وہ جلد سنبھل گئی۔
آہستہ سے پلکیں جھپکائیں اور آگے بڑھ کر ٹیبل پر ایک ٹیبلیٹ رکھ دیا۔
یہ دیکھیں…
وہ ایک ایک کر کے بتاتی گئی۔
نادیہ فیروز کی جان اس بار بچ گئی، مگر ہمیشہ نہیں بچے گی۔
ریپر نے خاموشی سے اسکرین کی طرف دیکھا۔
ادھورے منصوبے، ناکام خاموشیاں، اور میڈیا کی ہر خبر۔
رات کے اندھیرے میں وہ دونوں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے،
جگہ ایسی جہاں نہ کوئی سچ پہنچ سکتا تھا، نہ کوئی سوال۔
کمرے کے ایک کونے میں جلتی نیلی روشنی،
دیواروں پر ٹیک لگائے بے جان کمپیوٹر،
اور درمیان میں ریپر،
جس کا چہرہ جذبات سے خالی تھا،
مگر آنکھوں میں بے رحم ارادے صاف جھلک رہے تھے۔
++++++++++++
رات کے تین بجے
وہ بستر پر لیٹ گیا، مگر نیند؟
جیسے کسی اور دنیا میں چلی گئی ہو، اُس دنیا میں جہاں سکون، سیاسی داؤپیچ سے پہلے ہار مان چکا تھا۔
اندھیرے کمرے میں اُس نے فون اٹھایا۔
اسکرین کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگی،
ہر چینل، ہر خبر, ہر آواز…
کیا واقعی امن نے نادیہ فیروز پر حملہ کروایا؟
کہیں حمایت، کہیں مخالفت، اور اکثر جگہ خاموشی میں چھپی الجھن۔
آخرکار، اُس نے دوبارہ نہات کا نمبر ڈائل کیا۔
کال فوراً ہی ریسیو ہوئی۔
کیا خبر ہے؟
اُس نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
نہات کی آواز میں گھبراہٹ واضح تھی۔
سچ کہوں بھائی، تو صورتِ حال ہمارے ہاتھ میں نہیں رہی، نادیہ فیروز نے بہت پُراثر چال چلی ہے۔
کیا مطلب؟
آپ کا اُس کے ساتھ ڈیبیٹ تھا نا آج؟
ہاں، لیکن میں نے تو اس ڈیبیٹ میں کچھ ایسا نہیں کہا کہ
بس وہی تو، وہ یہی کہہ رہی ہے، کہ امن جو سب کے سامنے بنتا ہے، ویسا ہے نہیں۔ اُس کے مطابق، آپ کا اصل چہرہ، اندھیرے میں چھپا ہے۔
ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
اگر کوئی اور ہوتا تو شاید آگ بگولا ہو جاتا۔
لیکن وہ امن تھا۔
نام ہی اُس کا مزاج بیان کرتا تھا، ہمیشہ امن میں رہنے والا، پرسکون، متوازن۔
کوئی اتنا پرسکون کیسے رہ سکتا ہے؟
آہستہ سے بولا
اگر صبح تک یہ معاملہ ٹھنڈا نہ ہوا تو…
پھر ذرا توقف کیا،
تو صبح ایک پریس کانفرنس رکھنا۔
نہات خاموش ہو گیا، پھر آہستہ سے بولا:
ٹھیک ہے بھائی
اللہ حافظ۔ اپنا خیال رکھنا۔
کال منقطع ہو گئی۔
اُس نے فون میز پر رکھا،
آنکھیں موند لیں،
+++++++++++
فجر کا وقت تھا۔
دادو نماز پڑھ چکی تھیں۔ تسبیح ہاتھ میں تھی اور ہونٹوں پر آہستہ آہستہ دعائیں جاری تھیں۔
جب وہ کمرے سے نکلیں تو اُن کی نگاہ اچانک یسرٰی کے کمرے کی طرف گئی۔۔۔
کمرے میں روشنی اب بھی جل رہی تھی۔
دادو نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے خود سے کہا
یہ سوئی نہیں ابھی تک؟
پھر نرمی سے اُس کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔
دروازہ آہستہ سے دھکیلا تو منظر سامنے تھا،
یسرٰی بستر پر بیٹھی تھی، موبائل ہاتھ میں، اور انگلیاں برق رفتاری سے چل رہی تھیں۔
چہرے پر غصہ، آنکھوں میں تھکن، مگر جذبہ کسی سپاہی جیسا،
یسرٰی؟ کیا کر رہی ہو؟ رات بھر سوئی نہیں؟
دادو نے حیرت سے پوچھا۔
یسرٰی نے ایک نظر اسکرین سے ہٹا کر دادو کو دیکھا،
پھر فورا دوبارہ موبائل پر جھک گئی۔
نہیں دادو، دیکھیں نا، لوگ ان کے بارے میں کیسا کیسا الٹا سیدھا بول رہے ہیں۔ میں سب کو منہ توڑ جواب دے رہی ہوں۔۔۔۔
کس کو؟ دادو تھوڑا اور قریب آئیں۔
امن کو! لوگ اس کے خلاف بکواس کر رہے ہیں۔
دادو نے حیرت سے فون کی طرف جھانکا۔
ٹوئٹر کی پوسٹیں، نیچے لمبے لمبے تبصرے۔
اور ہر تبصرے کے نیچے یسرٰی کے دل سے لکھے گئے دفاعی پیغامات۔
یا اللہ، لڑکی! تم پوری رات یہ کرتی رہی ہو؟
دادو نے تاسف سے کہا۔
ہاں نا دادو!
یسرٰی اب بھی جذباتی تھی۔
تم پاگل ہو گئی ہو، یسرٰی… نماز پڑھی تم نے؟
یسرٰی چونکی۔
نہیں… آواز مدھم ہو گئی۔
اُٹھو! نماز پڑھو۔ اور یہ فون رکھ دو۔ وہ سیاستدان ہے۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ صبح تک تماشہ ختم ہو چکا ہوگا۔ اور ایک تم ہو…
دادو کی آواز میں اب شفقت کے ساتھ دکھ بھی شامل تھا۔
دادو، مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، کوئی اُس کے خلاف کچھ کہے۔
دادو نے آہستہ سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
یا خدا چھوڑ دو، بس، اُس کی جان۔ اُٹھو، نماز پڑھو۔
یسرٰی نے سست روی سے موبائل ایک طرف رکھا، اور چپ چاپ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
دادو اُس کے پیچھے دیکھتی رہیں۔
یا اللہ، اس کے دل و دماغ سے امن کو نکال دے… میری بچی پر رحم کر… اس کی زندگی آسان کر دے…
یہ کہتے ہوئے دادو آہستہ سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
+++++++++++
صبح کے سحر انگیز لمحے کمرے کی کھڑکیوں سے چھن چھن کر روشنی اندر بھیج رہے تھے، اور ہمیشہ کی طرح، امل اپنے مخصوص وقت پر بیدار ہو کر تیار ہو چکی تھی۔ نیچے ناشتہ میز پر اُس کی موجودگی، گویا گھر کی روایت کا ایک حصہ بن چکی تھی۔ اناسیہ بیگم بھی اُس کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں کہ یکایک افتخار صاحب نے اسٹڈی روم سے قدم باہر نکالا، اُن کی موجودگی ہر لمحے گھر کی فضا کو سنجیدگی کی چادر اوڑھا دیتی تھی۔
میز پر بیٹھتے ہی اُن کی آواز امل کے کانوں میں گونجی آج یونیورسٹی جاؤ گی؟
امل نے چونک کر اُن کی طرف دیکھا اور دھیرے سے مسکرائی،
ہاں دادا، جانا ہے۔
افتخار صاحب نے اُس کی طرف دیکھ کر نہایت سنجیدگی سے کہا آج نہیں جانا۔
کیوں دادا؟
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ابھی وہ کچھ کہہ بھی نہ پائی تھی کہ انیسہ بیگم نے چبھتی ہوئی زبان میں گویا تیر چلا دیا،
ہاں ہاں، کروا دیں اب اس کی چھٹی، بنا دیں آوارہ، گھر پر رہ کر کیا کرے گی یہ؟
افتخار صاحب نے بے زاری سے بیوی کی طرف دیکھا،
تمہیں تو میری ہر بات سے مسئلہ ہے، کبھی پوری بات سن بھی لیا کرو۔
آپ کی ہر بات غلط ہی ہوتی ہے، سننے کا کیا فائدہ؟
انیسہ بیگم کی زبان گویا زہر میں ڈوبی ہوئی تھی۔
افتخار صاحب کا چہرہ تھوڑا سا سرخ ہوا۔
تم ایک سیاست دان سے یہ کہہ رہی ہو کہ وہ ہر بات غلط کرتا ہے؟
چھوڑ دی ہے سیاست اپنے، اب آپ میں وہ بات نہیں رہی، عمر ہوگئی ہے آپ کی، اب کچھ بھی بولنے لگے ہیں۔
افتخار صاحب نے ایک ہلکی ہنسی کے ساتھ طنز کیا:
عمر تو تُمہاری بھی ہوگئی ہے، انیسہ۔۔۔۔
اس چھوٹی سی نوک جھونک میں امل تنگ آ چکی تھی،
دادا، دادی، پلیز! بعد میں لڑ لیجیے گا۔ ابھی تو مجھے یہ بتا دیں، میں یونی کیوں نہ جاؤں؟
افتخار صاحب نے نظریں نیچی کر لیں،
بس، آج چھٹی کر لو۔
دادا؟ لیکن کیوں؟ آج تو میرا ٹیسٹ بھی ہے۔۔۔۔
افتخار صاحب نے نرمی سے کہا،
بعد میں دے دینا۔ میں پرنسپل سے بات کر لوں گا۔
امل کا دل بے چینی سے دھڑکنے لگا،
کوئی مسئلہ ہے؟
چند لمحے خاموشی چھا گئی۔
پھر انہوں نے گہری سانس لے کر کہا:
بس یونہی، کیا تم میرے لیے ایک دن یونی سے چھٹی نہیں کر سکتیں؟
امل نے حیرت سے افتخارِ صاحب کو دیکھا،
ایسا تو کبھی نہیں کہا آپ نے، دادا، ہوا کیا ہے؟
تبھی انیسہ بیگم بیچ میں بولیں،
اسے چھوڑ دے تُو، اس کا دماغ کام نہیں کرتا آج کل، تُو چلی جا یونی۔
افتخار صاحب نے تیز نظروں سے بیوی کو گھورا،
انیسہ!
پھر اُن کے لہجے میں وہی سیاست دانوں والی سنجیدگی لوٹ آئی،
امن پر نادیہ نے الزام لگا دیا ہے، اگر تم یونی جاتیں، تو طلبہ تم سے طرح طرح کے سوالات کریں گے۔ ایسے ماحول میں تم سکون سے کیسے ٹیسٹ دے پاؤ گی؟
انیسہ بیگم کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا،
کیا، کیسا الزام؟
افتخار صاحب نے سر جھکایا،
کوئی بڑی بات نہیں، امن سنبھال لے گا۔ یہ سب سیاست میں ہوتا رہتا ہے۔
انیسہ بیگم نے آنکھیں بند کر کے ماتھے پر ہاتھ رکھا،
آپ کے لیے سب باتیں چھوٹی ہی ہوتی ہیں
پھر اچانک بولیں،
اے امل، لگاؤ ذرا نیوز!
شکر تھا وہ گاؤں کی تھیں، فون چلانا نہ آتا تھا۔
افتخار صاحب نے ٹوکا،
کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارا بی پی ویسے ہی لو رہتا ہے، اور لو ہو جائے گا۔
انیسہ بیگم کا دل مزید بیٹھ گیا،
ہائے! کیا واقعی اتنی بڑی بات ہے؟
امل نے انیسہ بیگم کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا،
دادی، اوور ایکٹنگ بند کریں۔ کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔ آج کل سوشل میڈیا پر چھوٹی چھوٹی باتیں بھی پہاڑ بن جاتی ہیں۔ اور آپ تو جانتی ہیں امن بھائی کو… وہ دیکھ لیں گے۔
پھر امل اٹھ کھڑی ہوئی،
اور اگر یونی نہیں جانا تو میں جا کر واپس سے سو جاتی ہوں۔۔۔۔
ائے ہم اوور ایکٹنگ کر رہے ہیں؟
اناسیہ بیگم نے تپ کر کہا۔
امل ہنسی،
دادی، آپ کو اس کے علاوہ آتا کیا ہے؟ ہر وقت ہی تو اوور ایکٹنگ کرتی رہتی ہیں۔ روتے وقت، ہنستے وقت، لڑتے وقت… ویسے دادی، آپ ہیروئن کی کاسٹنگ میں زبردست چلیں گی!
انیسہ بیگم نے فوراً میز پر رکھے برتن اُٹھاتے ہوئے تیز آواز میں کہا،
دیکھ رہے ہو؟ اپنی دادی سے کیا کہہ رہی ہے!
افتخار صاحب نے مسکرا کر کہا،
میں کیا بولوں، یہ تو دادی پوتی کا معاملہ ہے۔
امل نے شرارت سے کہا،
دادی، آپ وی لاگ بنانا شروع کریں، یقین کریں لوگ آپ کی اوور ایکٹنگ کے فین ہو جائیں گے!
اے بھاگ جا! نہیں تو ابھی پٹ جائے گی!
انیسہ بیگم نے چمچ ہاتھ میں لے کر دھمکی دی۔
ہاں ہاں! جا رہی ہوں، جا رہی ہوں!
امل ہنستے ہوئے کمرے کی طرف دوڑ گئی…
کمرے میں آتے ہی امل نے بیگ ایک طرف رکھا اور گہری سانس لی۔ ذہن ابھی تک دادا اور دادی کی باتوں میں الجھا ہوا تھا، لیکن اسے ایک کام کرنا یاد تھا۔
ہنزہ کو کال کر کے بتا دوں، آج یونی نہیں جا رہی
وہ بڑبڑائی، اور فون ہاتھ میں اٹھایا۔ رابطہ نمبر ڈھونڈنے میں اُسے وقت نہ لگا، کیونکہ ہنزہ اُس کی زندگی کا وہ گوشہ تھی، جو ہمیشہ ایک کلک کی دُوری پر رہتا تھا۔
کال گئی۔
ایک، دو، تین بیپ کے بعد کال ریسیو ہو گئی۔
لیکن اگلے لمحے، امل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ہیلو؟ کون؟
آواز بھاری، رعب دار، اور، مکمل طور پر مردانہ تھی۔
امل کا ماتھا ٹھنکا۔
ہنزہ؟ وہ جھجک کر بولی،
مجھے ہنزہ سے بات کرنی ہے، کیا آپ ہنزہ کے بھائی ہیں؟
دوسری طرف چند لمحے خاموشی چھا گئی، پھر سادہ سا جواب آیا،
ہاں، آپ کون؟
امل کے لہجے میں اب وہ خاص اعتماد تھا جو وہ عام طور پر اپناتی تھی،
اُفف! میں ہنزہ کی اکلوتی بیسٹ فرینڈ ہوں۔ آپ مجھے نہیں جانتے، لیکن ہنزہ جانتی ہے، بلکہ اچھی طرح جانتی ہے۔
پھر لمحہ بھر رکی اور قدرے نرم لہجے میں کہا،
بس اُسے کہہ دیجیے گا کہ میں آج یونیورسٹی نہیں آ رہی۔
اچھا ٹھیک ہے،
دوسری جانب آواز میں نہ کوئی دلچسپی تھی، نہ حیرانی۔ بس ایک سادہ سا ردِعمل۔
ہاں… اوکے، اللہ حافظ۔
اور کال کٹ گئی۔
یہ ہنزہ کا بھائی بہت عجیب ہے۔۔۔
وہ بڑبڑائی اور واپس سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔
++++++++++
صبح کی روشنی کمرے کی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔
امن آج دیر سے بیدار ہوا۔ رات کی بے چینی نیند میں تحلیل تو نہ ہو سکی، مگر اُسے یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ اب خاموشی ہی اُس کی سب سے بڑی گواہی بن سکتی ہے، جب تک وہ وقت پر بولی جائے۔
نہات کی کال پہلے سے آ چکی تھی
سر، سب تیار ہے۔ کانفرنس ہال میں میڈیا، رپورٹرز، یہاں تک کہ انٹرنیشنل چینلز بھی آ چکے ہیں۔ نادیہ فیروز نے کل رات ایک اور بیان دیا ہے۔
کیا؟
کہ اُسے اگر کچھ ہوا، تو اس کے ذمہ دار صرف آپ ہوں گے۔
امن نے گہرا سانس لیا۔ پھر وہی مختصر جواب
میں آ رہا ہوں۔
++++++++++++
کسی چینل پر اینکر زور زور سے بول رہا تھا،
چہرہ سنجیدہ، آواز میں ہیجان، اور پس منظر میں نادیہ کی تصویر کے ساتھ بولڈ الفاظ
کیا سید امن حنان افتخارِ بھی اُسی گندی سیاست میں اُتر آئے ہیں، جس کا الزام وہ دوسروں پر لگاتے ہیں؟
کیا وہ بھی ایک ‘نئے کراچی’ کے دعوے دار صرف زبان سے ہیں؟
سوشل میڈیا پر تو جیسے میدانِ جنگ بچھ چکا تھا،
ہیش ٹیگز، جذبات، غصہ، اور بدگمانیاں۔
#JusticeForNadia
#AmanExposed
#ReaperReturns
ٹی وی پر اگلا جملہ تیزی سے چمکا نادیہ فیروز کے بیان کے مطابق، یہ قاتلانہ حملہ سید امن حنان افتخار کی ایما پر کیا گیا تھا
اور فوراً اُس کے بعد اسکرین پر امن کا ردعمل سٹوری پوسٹ کی صورت : میرا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ میں خود صدمے میں ہوں۔ میرے اور نادیہ کے اختلافات سیاسی تھے، ذاتی نہیں!
لیکن نیوز رومز میں کوئی خاموشی نہ تھی۔
کوئی چیخ رہا تھا: ارے بھائی…! اگر یہ ریپر کا کام ہوتا، تو حملہ کامیاب ہوتا۔ سمجھ نہیں آتی میڈیا اندھا ہو گیا ہے یا بکا ہوا ہے!
اور کسی چینل کے ڈارک اینالسٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا یہ کیا بکواس کر رہی ہے نادیہ؟!
اس پر حملہ ریپر نے کروایا ہے…
وہ الفاظ زہر تھے۔
اور زہر جب میڈیا کی لہجوں میں شامل ہو جائے،
تو سچ دفن ہو جاتا ہے۔
یوٹیوب، نیوز چینل، ٹوئٹر، ٹک ٹاک، انسٹاگرام—
سوشل میڈیا کے ہر ایپ پر ایک ہنگامہ سا برپا تھا… ایک شور… ایک طوفان…
ایسا جیسے پورا ملک ایک اسکرین میں قید ہو چکا ہو۔
ہر طرف وہی سوال، وہی چہ میگوئیاں،
جیسے ہر صارف کے ہاتھ میں تلوار ہو اور ہر فقرہ ایک زخم!
یوٹیوب پر…
“LIVE NOW —
کیا امن حنان نے نادیہ پر حملہ کروایا؟
ریپر کی واپسی؟ یا ایک سیاسی سازش؟
ویڈیوز پر لاکھوں ویوز، کمنٹس کی قطار
اگر یہ نادیہ جھوٹ بول رہی ہے تو اسے گرفتار ہونا چاہیے!
امن نے تو ہمیشہ امن کی بات کی، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
ریپر واپس آ چکا ہے… تباہی قریب ہے!
نیوز چینلز پر…
ٹکرز چیخ رہے تھے —
بریکنگ نیوز : نادیہ فیروز نے امن حنان پر قاتلانہ حملے کا الزام لگا دیا!
ریپر؟ سیاسی دشمنی ؟
ڈبیٹس میں اینکرز ایک دوسرے پر چیخ رہے تھے،
اور تجزیہ نگار حقیقت کی بجائے ریٹنگ کا سوچ رہے تھے۔
ٹوئٹر پر…
ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے تھے
#AmanAttack
#JusticeForNadia
#ReaperReturns
ہر دوسرا ٹوئٹ غصے سے بھرا ہوا تھا
یہ سیاست نہیں، جنگ ہے۔
نادیہ زندہ ہے، مگر کتنی دیر؟
کیا یہ ریپر نے کیا یا امن نے !
ٹک ٹاک پر…
15 سیکنڈ کی ویڈیوز میں لوگ نادیہ کی حالت کی نقل کر رہے تھے،
امن کی پرانی تقریریں ایڈیٹ کر کے طنز بنایا جا رہا تھا،
اور ریپر کی چالوں کو بی جی ایم کے ساتھ “ولن ایڈیٹ” بنایا جا رہا تھا۔
تالیوں اور ہنسیوں کے بیچ خوف اور فتنہ چھپا ہوا تھا۔
انسٹاگرام پر…
اسٹوریز، ری پوسٹس، پولز
کیا امن سچا ہے؟
☑️ Yes
☑️ No
☑️ I don’t know but he’s hot.
کہیں قہقہے تھے، کہیں آنکھیں نم، کہیں انگلیاں الزام کے نشان میں اٹھتی جا رہی تھیں۔
سچ کسی کونے میں کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا،
جھوٹ ہر ایپ پر وائرل ہو چکا تھا۔
اور امن اپنی کار میں بیٹھا اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتے یہ سب نہات کے منہ سے سن رہا تھا۔
++++++++++++++
ابھی مائرہ کو ڈیوٹی پر آئے بمشکل دس منٹ ہی گزرے تھے۔ کمرے کی خاموش مگر مصروف فضا میں وہ اپنی فائلیں ترتیب دے رہی تھی جب اچانک دعا اور معاذ اُس کے پاس آ گئے۔
دعا کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی اور معاذ کی آنکھوں میں ایک عجیب بے چینی تیر رہی تھی۔
تم نے نیوز دیکھی، مائرہ؟
دعا نے بغیر تمہید کے پوچھا۔
مائرہ نے چونک کر اُن دونوں کو دیکھا۔
کون سی نیوز؟
وہ ابھی تک کسی بھی خبر سے لا علم تھی۔
ارے وہی، امن بھائی کے بارے میں۔
معاذ کی آواز میں اضطراب تھا، جیسے کسی دھند میں لپٹے سچ کو بیان کرنا چاہ رہا ہو۔
مائرہ کا دل ایک دم زور سے دھڑکا۔
کیا… کیا ریپر نے… کیا اُسے کچھ کر دیا؟
آواز لڑکھڑا گئی تھی۔
دعا نے فوراً نفی میں سر ہلایا،
نہیں، کچھ نہیں ہوا۔ صرف… الزام لگا ہے اُن پر۔
الزام؟
مائرہ کی آواز میں حیرانی اور بے یقینی شامل تھی۔
کس نے لگایا؟
دعا نے گہری سانس لی، جیسے اُس نام کو لینے سے بھی اُسے گھن آتی ہو:
نادیہ فیروز نے۔
معاذ کے چہرے پر فوراً ایک شدید نفرت چھا گئی۔
یہ نادیہ جہنم میں جائے! مجھے یہ عورت کبھی پسند نہیں آئی۔
مجھے بھی نہیں۔
دعا نے اُس کی تائید کی، جیسے دونوں کے دلوں میں اُس عورت کے لیے ایک جیسا زہر بھرا ہو۔
مائرہ خاموش ہو گئی۔ اُس کے ذہن میں امن کا چہرہ ابھرا۔ وہ نرم لہجہ، وہ پر سکون مسکراہٹ، وہ باتوں میں چھپا ہوا سکون… اور اب اُس پر الزام؟ نادیہ کی طرف سے؟ وہ عورت جو چالاکی کی جیتی جاگتی تصویر تھی؟
مائرہ نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں جکڑا،
الزام کی نوعیت کیا ہے؟
اُس کی آواز تھوڑی کانپ رہی تھی، لیکن اُس نے خود پر قابو رکھا۔
دعا اور معاذ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
کوئی بھی فوراً کچھ کہنے کے لیے تیار نہ تھا۔
گویا یہ بات، اُس کی سماعت سے ٹکرانے سے پہلے، پہلے ہی کئی دلوں کو زخمی کر چکی تھی۔
++++++++++++++
سب کی نظریں اُس دروازے پر تھیں… جہاں سے وہ آنے والا تھا جس پر آج الزام تھا۔
اور پھر… دروازہ کھلا۔ امن اندر داخل ہوا۔
سفید شلوار قمیص، سادہ چہرہ،
اس نے مائیک کے سامنے آ کر کھڑے ہوتے ہی سب سے پہلے
السلام علیکم کہا۔
پھر ایک لمحے کو خاموش ہو گیا، جیسے سوچ رہا ہو… کہ جھوٹ کا جواب کیا ہو؟
میں یہاں اپنی صفائی دینے نہیں آیا… کیونکہ سچ کو صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
میں یہاں یہ بتانے آیا ہوں کہ اگر کسی پر شک کی بنیاد پر فتوے دیے جائیں،
تو کل ہر وہ شخص جو سچ بولے گا، مشکوک ہو جائے گا۔
سب کی نظریں جمی تھیں۔ کسی نے قلم روکا، کسی نے سانس۔ امن بولا
نادیہ فیروز میرے سیاسی راستے میں ضرور ہیں، مگر وہ میری جنگ نہیں۔
میری جنگ اُس سوچ سے ہے، جو سچ کو کچلنے کے لیے الزام تراشی کو ہتھیار بناتی ہے۔
کیمروں کی لائٹس تیز تھیں، ہال مکمل خاموش،
اور مائیک کے سامنے کھڑا وہ شخص، سید امن حنان افتخار،
میری نادیہ فیروز سے صرف اتنی گزارش ہے…
کہ براہِ کرم ہوا میں تیر نہ چلائیں۔
اگر اُن کے پاس میرے خلاف کوئی بھی ٹھوس ثبوت ہے، صرف ایک بھی، تو وہ اسے عوام کے سامنے لے کر آئیں۔
ہال میں کیمرے جھک کر زوم کی، رپورٹرز نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
امن کی آواز مدھم مگر واضح ہوتی ہوچکی تھی
الزام لگانا آسان ہے، خاص طور پر اُس شخص پر،
جو آپ کا سیاسی مخالف ہو۔ مگر یہ ملک الزاموں سے نہیں، سچائی اور دلیل سے چلے گا۔
وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر تھوڑا آگے جھک کر بولا میری اپنی پولیس فورس سے بھی میں اپیل کرتا ہوں، کہ اِس کیس کی آزاد، شفاف، اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ نہ صرف میرے لیے، بلکہ نادیہ فیروز کے انصاف کے لیے بھی۔
اگر کسی بھی درجے پر میرا یا میری ٹیم کا کوئی فرد ملوث پایا گیا،
تو میں خود اُسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کروں گا۔
پھر اُس کی آواز قدرے سخت ہو گئی
لیکن اگر یہ محض ایک سیاسی چال تھی، اگر کسی نے عوام کی ہمدردی سمیٹنے کے لیے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، تو اُسے بھی عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
پھر وہ رُکا، کیمرے کی طرف دیکھا،
اور آخری جملہ بولا
میں سچ کے ساتھ کھڑا ہوں اور جو لوگ سچ پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ کبھی اکیلے نہیں ہوتے۔
آخری جملے پر ہال میں سرگوشیاں پھیل گئی۔
امن مائیک بند کیا، ایک پل کو کیمروں کی طرف دیکھا،
پھر خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔
++++++++++++
کچھ خاموش دلوں نے پہلی بار سوچنا شروع کیا کہ شاید… سچ واقعی اتنا چیخ کر نہیں آتا، جتنا خاموشی سے اپنا اثر دکھاتا ہے۔
نادیہ فیروز اسپتال کے پرائیویٹ روم میں بیٹھی، ویڈیو دیکھ رہی تھی۔
سکرین پر امن کا چہرہ تھا،
نہ گھبراہٹ، نہ غصہ، بس ایک ٹھہرا ہوا سکوت۔
وہ زچ ہو گئی۔
یہ آدمی آخر ٹوٹتا کیوں نہیں…؟
اُس نے اپنے سیکرٹری سے کہا۔
میڈم، عوام ہمدرد ہو رہی ہے اُس کے ساتھ… ہمیں اگلا قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہو گا۔
نادیہ ہنس دی، ایک ایسی ہنسی جو دل کی گہرائی سے نہیں، دماغ کی چالاکی سے نکلتی ہے۔
بس اتنا کچرا اچھالوں گی اُس پر کہ وہ خود دیکھ کر حیران رہ جائے گا… لوگ سچ پر نہیں، کہانی پر یقین کرتے ہیں۔
اور مجھے یہ الیکشن برابری کا نہیں بنانا، مجھے یہ اُسے ہرا کر جیتنا ہے۔
اُس نے آہستہ سے چادر درست کی،
اور پھر ایک میسج ڈکٹیشن میں بولنا شروع کیا:
کل نیوز چینلز کو وہ پرانی ویڈیو لیک کر دو… وہی، جس میں امن ایک پارٹی فنکشن میں تھا اور ایک مبہم جملہ اُس نے کہا تھا۔
کون کیا سیاق و سباق دیکھتا ہے؟ لوگ بس نتیجہ دیکھتے ہیں۔
اب اُنہیں وہ دکھاؤ، جو میں چاہتی ہوں۔
سیکرٹری نے سر ہلایا۔
نادیہ نے نظریں کھڑکی سے باہر دوڑائیں۔
دن کے اختتام کا وقت تھا۔ روشنی مدھم ہو رہی تھی،
مگر اُس کے اندر کی آگ… اور زیادہ بھڑک رہی تھی۔
میں عورت ہوں،
اور جب عورت الزام لگاتی ہے،
تو وہ الزام صرف ایک شخص پر نہیں لگتا،
وہ اُس کے کردار، اُس کے نظریے، اور اُس کی سچائی پر لگتا ہے۔
اور یہی تو میرا ہتھیار ہے۔
+++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
