گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۴
باب سوم: داخلہ
یُسرٰی اب اُس شاندار، مگر سرد گھر کے ایک کمرے میں کرسی سے بندھی بیٹھی تھی۔
ہاتھ پیچھے رسیوں سے جکڑے ہوئے، اور چہرے پر اُلجھن تھی
اس کے سامنے ریپر بیٹھا تھا… اندھیروں میں اور اندھیرا بھی ایسا جو صِرف اُس کے شکل چھپائے ہوئے تھا۔۔۔۔
اور یسریٰ کے دائیں جانب وہ لڑکی کھڑی تھی
سیاہ کپڑوں میں ملبوس… چہرے پر ماسک۔
لیکن… اُس کی آنکھیں کھلی تھیں۔
بلیوں جیسی آنکھیں… مگر اب ان آنکھوں کا رنگ سرخ تھا۔
یُسرٰی کی سانس تھمی۔
یسریٰ نے بائیں طرف دیکھا وہاں بھی دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔۔۔۔
یُسرٰی کا دل اور زور سے دھڑکا۔
اس نے آنکھیں تنگ کر کے دیکھا…
یہ… یہ تو وہی لڑکیاں ہیں…
یاد کی کھڑکی کھلی۔۔۔ وہ ویڈیو…
جنہوں نادیہ کو مارا تھا۔۔۔
یُسرٰی کا دل دھڑکنے کے بجائے اب لرزنے لگا تھا۔
وہی کپڑے، وہی چال، وہی سرد آنکھیں
اب حقیقت میں، اُس کے سامنے کھڑی تھیں۔
اب اسے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ اُس نے اپنے دل کی مان کر کتنی بڑی مصیبت میں پھس چکی ہے۔۔۔
ریپر نے سیاہی سے بھرپور لہجے میں پوچھا، کون ہو تم؟
یُسرٰی نے بھیگی آواز میں جواب دیا، چورنی ہوں۔
چورنی؟ اس کے لہجے میں نہ حیرت تھی، نہ دلچسپی، صرف ایک خالی پن تھا۔۔
ہاں، چورنی ہوں۔ گھر گھر جا کر چوری کرتی ہوں۔ یہاں بھی چوری کرنے آئی تھی۔
پیچھے کھڑی بلی جیسی آنکھوں والی لڑکی بولی،
باس، جھوٹ بول رہی ہے یہ۔۔۔
یُسرٰی نے اُس کی طرف دیکھا، پھر ریپر کی طرف، اور دھیرے سے بولی، چورنی ہوں… مگر جھوٹی نہیں۔
ریپر تھوڑا سا آگے جھکا، اور جیسے اُس کے الفاظ یُسرٰی کی ہڈیوں میں پیوست ہونے لگے،
بیسمینٹ میں کیسے پہنچی؟
یُسرٰی نے ایک لمحہ سانس لیا… اور پھر نظریں جھکا کر بولی، اپنے دل کے ہاتھوں۔
یہ کیا بکواس ہے؟ ریپر کی آواز میں پہلی بار ایک ہلکی سی جھنجھلاہٹ در آئی۔
یُسرٰی نے نگاہیں نہیں اٹھائیں۔ بس آہستہ سے بولی،
ہاں، روم میں گئی تھی۔ بیسمینٹ کا راستہ خود ہی کھل گیا… اور دل نے کہا، نیچے چلو۔ تو چلی گئی۔
ڈر نہیں لگا؟
لگا تھا… پر مال بھی تو چاہیے تھا۔
مال؟
ہاں، پیسے… قیمتی چیزیں۔ چورنی ہوں میں، بتایا تو تھا۔ مجھے لگا بیسمینٹ میں کچھ خزانہ چھپا ہوگا۔
ریپر کی آواز کچھ سخت ہوئی،
گھر کے اندر کیسے گھسی؟
یُسرٰی نے گردن تھوڑی ٹیڑھی کی، ایک مایوس سی مسکراہٹ چہرے پر لائی،
وہ راز ہے۔۔۔۔
ریپر نے ایک آخری سرد نگاہ یُسرٰی پر ڈالی، اور اٹھتے ہوئے بولا کیٹی، اس کا بائیوڈیٹا نکالو۔ جو یہ کہہ رہی ہے، سچ ہے یا جھوٹ… اگر جھوٹ نکلا، تو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ بس… مار دینا۔
یہ کہتے ہوئے وہ خاموشی سے چلا گیا… جیسے کسی کو قتل کا آرڈر دینا اُس کی روزمرہ کی بات ہو۔
یُسرٰی کی سانس رک گئی۔
کیا میں رات بھر یہیں رہوں گی؟ میری دادی کا کیا ہوگا پھر…؟
کیٹی نے سرد نظروں سے اُسے دیکھا۔
نیچے آنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا اُن کے بارے میں۔
یہ کہتے ہوئے وہ اور باقی دونوں لڑکیاں وہاں سے نکل گئیں۔
یُسرٰی، اُس کرسی پر بندھی، تنہا رہ گئی۔
++++++++++++
تینوں لڑکیاں اس وقت کمپیوٹر روم میں موجود تھیں۔
دیواروں پر بڑے بڑے اسکرینز چمک رہے تھے، جن پر کوڈز، سی سی ٹی وی فُٹیجز، اور ہیکنگ ٹولز کی لائنیں دوڑ رہی تھیں۔
یہ کمرہ اُس شان و شوکت سے ذرا ہٹ کر تھا جس میں یُسرٰی بندھی ہوئی تھی، یہاں سادگی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی حکمرانی تھی۔
گوری رنگت، بڑی بڑی آنکھوں اور کندھوں تک آتے ہوئے ہلکے بھورے بالوں والی لڑکی، ٹویٹی۔۔۔۔ اس وقت اپنا ماسک اتار چکی تھی۔
ماسک ایک طرف پڑا تھا، اور اُس کی انگلیاں بڑی تیزی سے کی بورڈ پر دوڑ رہی تھیں۔
اُس نے اچانک کہا کیا لگتا ہے؟ وہ لڑکی سچ بول رہی ہے یا جھوٹ؟ کوئی ایجنسی کی بندی تو نہیں؟
دوسری طرف، زوزی،
گندمی رنگت کی مالک وہ لڑکی اُس کے چہرے پر بھی کوئی ماسک نہ تھا۔۔۔ اپنی گھومتی ہوئی کرسی پر مزے سے جھولتی ہوئی بولی مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایجنسی کی ایجنٹ ہے… اگر ہوتی، تو ایسے آرام سے آ کر بیسمینٹ کا دروازہ نہیں کھولتی۔
اور اُس کے پاس کوئی ڈیوائس بھی نہیں۔۔
نہ سگنل ٹریکر، نہ جی پی ایس ہیکر… کچھ بھی نہیں۔
ٹوئٹی کی انگلیاں رکیں۔ نگاہ اسکرین سے ہٹ کر زوزی پر آئیں۔ لیکن… اتنی تیزی سے وہ بیسمينٹ تک پہنچی کیسے؟ وہ بھی پہلی بار میں؟ یہ کچھ ہضم نہیں ہو رہا۔
زوزی نے کندھے اچکائے، ہاں ویسے ہضم تو مُجھے بھی نہیں ہورہا…
ٹوئٹی نے جیسے ہی کیٹی کی طرف دیکھا، اس کی پیشانی کچھ زیادہ ہی شکن آلود نظر آئی۔ تم کیوں خاموش ہو کیٹی؟
کیٹی نے آہستگی سے اپنی نظریں اسکرین سے ہٹائیں اور کہا میں یہ سوچ رہی ہوں کہ ریپر نے اسے مارا کیوں نہیں…؟ وہ عام مجرم ہوتی تو کب کی ختم ہو چکی ہوتی… لیکن وہ ابھی تک زندہ ہے۔
کیوں ہے۔۔؟
زوزی، جو ابھی تک اپنی گھومتی کرسی میں گھوم رہی تھی، رک گئی، اور آہستہ سے بولی ریپر کا تو کوئی بھروسا نہیں… کب کیا سوچ لے… شاید اس کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے۔
کیٹی نے سرد لہجے میں کہا، ہاں… لیکن وہ کیا؟
اور اس لڑکی کا کردار اس میں کیا ہے؟
ٹوئٹی نے ہلکی سی سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا چھوڑو…
پتا چل ہی جائے گا…
فی الحال، اس کی انفارمیشن نکالتی ہوں، پوری کی پوری۔
اس نے کی بورڈ پر کچھ شارٹ کٹس دبائے،
اسکرین پر یُسرٰی کی تصویر کے ساتھ نئی ونڈوز کھلنے لگیں۔
یُسرٰی نور
عمر: ۲۲ سال
تعلیم: انٹر
رہائش: جناح کالونی، کراچی
والدین: مرحوم
ریکارڈ: نو کریمنل ہسٹری
لوکیشن ہسٹری … [unusual spike detected]
Basement Coordinates: Accessed via path not recorded in blueprints.
زوزی نے جھک کر اسکرین کی طرف دیکھا،
یہ دیکھو… بیسمینٹ تک اُس نے جس راستے سے رسائی لی، وہ راستہ ہمارے ‘بلیو پرنٹس’ میں ریکارڈ ہی نہیں ہے۔
ٹوئٹی نے گہری سانس لی یہ لڑکی عام نہیں ہے…
چاہے وہ خود کو کچھ بھی کہے۔ اور ریپر… وہ کبھی بلاوجہ انتظار نہیں کرتا۔
زوزی نے گردن ٹیڑھی کر کے کہا، تم کہہ رہی ہو… کہ ہم جس راستے سے بیسمینٹ میں آتے ہیں وہ لڑکی اُس راستے سے بیسمینٹ کے اندر نہیں آئی۔۔۔۔
نہیں…
ٹوئٹی کی آواز اچانک نرم پڑ گئی، جیسے ذہن میں کسی خیال کی چبھن نے انگلی رکھ دی ہو۔
کیٹی نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں سوال تھا۔
ٹوئٹی نے کرسر اسکرین پر ایک مخصوص کوآرڈینیٹ پر روک دیا۔ یہ راستہ… کہیں یہ ریپر کا ذاتی راستہ تو نہیں؟
کیٹی نے لب بھینچے، اور کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد دھیمے لہجے میں کہا ہوسکتا ہے…
ہوسکتا ہے یہ وہ خفیہ راستہ ہو جسے ریپر نے صرف اپنے لیے بنایا ہو، ہمیں لاعلم رکھا ہو…
ٹوئٹی کی نظریں ایک پل کو ساکت ہوئیں۔
پھر سر ہلایا۔ ہاں، ہوسکتا ہے۔
ریپر کی ہر حرکت کا ہمیں معلوم نہیں ہوتا۔۔۔۔
ٹوئٹی کی انگلیاں دوبارہ کی بورڈ پر تیزی سے دوڑنے لگیں۔ خیر… جو بھی ہے، اس وقت تو ہمیں یسرٰی کا پورا ڈیٹا کھنگالنا ہے۔ اس کی تاریخ کھولنی ہے۔
سچ اور جھوٹ کا فیصلہ تب ہی ہوگا۔
ٹوئٹی کی انگلیاں چند لمحوں کے لیے رُکیں،
اس کی آنکھیں اسکرین پر ٹکی تھیں،
جہاں یُسرٰی نور کا ڈیٹا کھل کر اُس کی سادہ زندگی کا آئینہ پیش کر رہا تھا۔۔۔
کم از کم ظاہر میں۔
اس نے آہستہ سے بولنا شروع کیا۔۔۔
ساری تفصیل سامنے ہے۔ ماں باپ… حادثے میں مارے گئے، تب یہ صرف ۱۳ سال کی تھی۔
ٹوئٹی کی آواز میں بےساختہ نرمی آ گئی تھی،
مگر اگلا جملہ پھر سے تیز تھا
پھر یہ… ایک شیف بن گئی۔
گھر گھر جا کر کام کرتی رہی…
اور شام کے وقت، ایک ریسٹورنٹ میں بطور شیف بھی کام کرتی ہے۔۔۔
زوزی نے چہرہ موڑا۔۔۔ اور چوری؟
بس یہی تو پہیلی ہے… اس کا کریمنل ہسٹری، مکمل صاف ہے۔
کیٹی، جو خاموشی سے دونوں کی گفتگو سن رہی تھی، اس نے نظریں اٹھا کر سوالیہ نگاہ سے ٹوئٹی کو دیکھا۔ مطلب…؟
ٹوئٹی نے اب مکمل توجہ کے ساتھ جملہ ادا کیا۔۔۔ مطلب یہ کہ… یہ نجانے کب سے چور ہے، لیکن ایک بار بھی پکڑی نہیں گئی۔ نہ کوئی پولیس رپورٹ،
نہ کوئی فوٹیج، نہ کسی خفیہ ادارے کی فائل میں اس کا نام۔
کیٹی نے بھنویں سکیڑ کر کہا تو مطلب… چوری بھی کرتی رہی، لیکن کوئی ریکارڈ نہیں؟ جیسے کوئی اُس کے پیچھے صفائیاں دیتا رہا ہو…؟
ٹوئٹی نے اثبات میں سر ہلایا، ہاں… یا تو یہ کسی بہت ہائی لیول کے کور میں ہے… یا پھر کوئی اس کے لیے سسٹم میں پیچھے سے ہیراپھیری کرتا رہا ہے۔
زوزی نے آنکھیں تنگ کیں، یہ سادہ چور نہیں لگتی… جس کے پاس سب کچھ صاف ہو، وہ یا تو بےقصور ہوتا ہے… یا بہت ہوشیار۔ اور یہ تو…
ٹوئٹی نے بات کاٹ کر کہا، یہ تو دونوں لگتی ہے، معصوم بھی، اور چالاک بھی۔
جو بھی ہے ساری ڈیٹیل ریپر کو دے دیتے ہیں پھر دیکھو کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔۔۔۔
کیٹی نے کہا جس پر دونوں سر ہلا گئی۔۔۔
++++++++++++
صبح 8:59 AM
ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز
امن کی ذہنی حالت پر سوالیہ نشان؟ لیکڈ رپورٹ اور آڈیو کلپ نے تہلکہ مچا دیا۔
نیوز اینکر نے رعب دار آواز میں کہا
کیا وہ ہیرو جسے ہم نے رہائی پر خوش آمدید کہا… درحقیقت خطرناک ذہنی کیفیت کا شکار ہے؟
آج صبح ایک ‘کانفیڈنشل’ میڈیکل رپورٹ، اور آڈیو کلپ وائرل ہو گئی ہے۔
اگر یہ سچ ہے… تو عوام کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔
یوٹیوب پر ایک نئی ویڈیو تھمبنیل
امن پاگل ہے؟ یا پاگل بنایا جا رہا ہے؟
ٹویٹر پر ٹرینڈز
#AmanIsUnstable
#FakeHero
#MentalHealthMatters (ironic memes
کے ساتھ)
مارننگ شوز میں میزبان خواتین آڈیو کلپ پر تبصرہ کر رہی تھیں
اگر واقعی وہ ( hallucinate ) کرتا ہے، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے کس شخص کو ‘ہیرو’ بنایا۔
اخبارات کی ہیڈ لائنز
امن ہیرو یا بیمار؟
سیکیورٹی ایجنسیز امن کے ماضی کا دوبارہ جائزہ لیں گی۔۔۔۔
عوام کا ردِعمل۔۔۔ دو طرفہ بٹتی سوچ
لوگوں کا پہلا ردِعمل۔۔۔ شک اور طنز
اوہ… تو یہ تھا اصل چہرہ؟
اب سمجھ آیا کہ وہ اتنا ‘پُراثر’ کیوں بات کرتا ہے۔ پاگل پن کا کمال تھا۔۔۔۔
میمز میں امن کو جوکر کے روپ میں دکھایا جانے لگا
Why so unstable, Aman?
لیکن… کچھ لوگ سوال اٹھانے لگے
یہ لیک رپورٹ اچانک ہی کیوں آئی؟ کل تک تو امن ‘ہیرو’ تھا۔۔۔
کوئی اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا یہ کوئی سازش ہے؟
ایک انویسٹیگیٹو جرنلسٹ، ثاقب نامی، نے ایک ٹویٹ کی
آڈیو کلپ کی فریکوئنسی لائنز کا موازنہ کیا ہے۔
یہ ایڈیٹڈ ہے۔
کسی نے آواز کے بیچ میں جملے ڈالے ہیں۔
سچ بولنے والوں کو پاگل کہا جا رہا ہے… سچ چھپانے والے ‘نارمل’ سمجھے جا رہے ہیں؟
ٹویٹ وائرل ہونے لگا۔
ہیش ٹیگ بدلنے لگا:
#WeStandWithAman
#TruthIsTrapped
++++++++++++++
صبح کی مدھم روشنی کمرے کی کھڑکیوں سے اندر آ رہی تھی۔
قالین پر سنہری دھوپ کا ہالہ بکھرا ہوا تھا، اور ناشتے کی میز پر خاموشی تھی…
سرف ایک ہلکی سی چمچوں کی آواز، اور پھر افتخار صاحب کی وہ پرسکون، مگر بااثر آواز، جو برسوں کی حکمت کی عادت تھی۔
رؤف کو کیوں نکالا، امن؟
امن نے کافی کی پیالی تھام رکھی تھی۔ وہ لمحہ لمحہ خاموشی میں تول کر جواب دیتا تھا۔
وہ حق پر نہیں تھے، اسی لیے۔
افتخار صاحب نے نظر اٹھا کر اپنے پوتے کو دیکھا۔ وہی سخت لہجہ، وہی مضبوطی… جو اُن کی تھی۔۔۔وہ بلکل اُن پر گیا تھا۔۔۔ بات میں لہجے میں لیکن سیاست میں وہ اُن کے جیسا نہیں تھا۔۔۔
میں نے سمجھا دیا ہے اُسے… معاف کر دو۔ آئندہ احتیاط کرے گا، جذباتی ہو گیا تھا بس۔
امن نے آہستہ سے پیالی رکھی۔ پھر اپنی جگہ سیدھا بیٹھا دادا، پلیز… آپ سے ہزار بار کہہ چکا ہوں۔
آپ نے سیاست چھوڑ دی ہے تو اب اس معاملے سے دور رہیں۔ یہ پرانی روشیں… سفارشیں، سمجھوتے… اب میرے طریقے نہیں۔
افتخار صاحب کی آنکھوں میں ہلکی سی خفگی ابھری، جیسے وہ کسی بچے کی ضد سے دل برداشتہ ہوئے ہوں۔
کبھی تو سن لیا کرو… وہ بیچارا صرف جذبات میں آ گیا تھا۔
ابھی امن کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ایک ملازمہ آئی، اور دھیمے لہجے میں بولی سر، سیکیورٹی گارڈز آئے ہیں…
افتخار صاحب نے نظر اٹھائی، ایک لمحہ امن کی طرف دیکھا، پھر اثبات میں سر ہلایا۔
بلاؤ انہیں۔
کچھ ہی لمحوں بعد، دروازہ کھلا…
اور اندر دو گارڈ داخل ہوئے۔ ایک مرد، لمبے قد کا، سنجیدہ چہرہ،
اور دوسری، ایک خاتون… وردی میں ملبوس، مگر انداز میں سکون اور اعتماد۔ چہرا ماسک سے ڈھکا ہوا
امن نے نظریں اُٹھا کر ایک لمحے کو ان دونوں کو دیکھا…
پھر دوبارہ کافی کی پیالی تھام لی۔
میرا نام ارحم ہے، سر۔
افتخارِ صاحب کے پوچھنے پر مرد گارڈ نے بااعتماد انداز میں کہا۔ اس کا لہجہ سپاٹ تھا مگر آواز میں چھپی پروفیشنل ٹھہراؤ کسی سابق فوجی کی یاد دلاتی تھی۔
اور میرا نام آئرہ ہے۔
خاتون گارڈ نے نرمی سے جواب دیا۔ اس کا چہرہ ایک سادہ سیاہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔
امن نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی۔
ارحم کا قد، جسامت، چوڑا سینہ، اور چاق و چوبند وجود گویا ایک مکمل محافظ کا خاکہ تھا۔
لیکن…
اس کی توجہ بار بار دوسرے گارڈ پر جا رہی تھی۔۔ آئرہ۔
چہرہ ماسک میں چھپا تھا،
مگر آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔۔۔
پُراسرار، سنجیدہ، اور شاید تھکی ہوئی۔
آپ نے اپنا چہرہ کیوں چھپایا ہوا ہے؟ امن نے نرمی سے پوچھا۔۔۔
آئرہ نے لمحہ بھر کے لیے نظریں جھکائیں،
پھر نرمی سے بولی، سر، میں پردہ کرتی ہوں۔
امن نے ہلکا سا سر جھٹکا۔۔ گویا جملہ سنا، مگر سمجھنے کی کوشش کی۔ پردہ؟
اس کی نظریں غیرارادی طور پر نیچے سے اوپر تک اس پر گئیں
جیـن، ٹی شرٹ، لمبے کھلے بال…
یہ کیسا پردہ تھا؟
آمن ابھی بھی آئرہ کو دیکھ رہا تھا،
تبھی ارحم نے بولا سر… یہ مذاق کر رہی ہے۔ ڈونٹ بی سیریز۔۔۔۔
امن نے چونک کر ارحم کی طرف دیکھا۔
اصل میں اِسے سانس کا مسئلہ ہے۔
ماسک اسی لیے پہنتی ہے۔ بس… احتیاطاً۔۔۔
ارحم نے دھیرے سے وضاحت دی
امن نے گہری نظر سے آئرہ کو دیکھا۔۔
وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی، نظریں جھکی ہوئی، خاموش۔
اچھا۔۔۔
امن نے آہستہ سے کہا، جیسے خود سے۔
سانس کی بیماری… مگر بھاگتی بھی ہو، حفاظت بھی کرتی ہو؟
آئرہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس سر جھکا گئی۔۔۔
پھر افتخارِ صاحب بولے شاید وہ امن کا شک سمجھ چکے تھے
تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، امن۔ یہ ایجنسی… جس سے یہ گارڈز آئے ہیں… بہت پرانی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر بہت بھروسا مند۔
امن نے ایک نظر آئرہ اور ارحم پر ڈالی۔۔۔۔
پھر اس نے گردن ہلکی سی خم کی، نگاہیں نیچی کر کے کہا
ٹھیک ہے، دادا…
آپ نے یہ گارڈ رکھوائے ہیں،
تو میں آپ کے فیصلے پر راضی ہوں۔
اس کی آواز میں نرمی تھی،
ورنہ گارڈ تو میرے پاس پہلے بھی تھے، اور پولیس بھی۔
لیکن یہ… صرف آپ کی اور دادی کی تسلی کے لیے۔
وہ لمحے بھر کو رکا، افتخارِ صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا وہ دوسری بات کو واضح طور پر رد کرنا چاہتا ہو۔
لیکن آپ کی پہلی بات…
اسے ماننا میرے لیے ممکن نہیں۔
میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں، اور رہوں گا۔
افتخار صاحب نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے،
مگر امن کی آنکھوں میں وہ عزم دیکھ کر… خاموش رہ گئے۔ جو جوانی میں کبھی اُن کے ہُوا کرتی تھی۔۔
++++++++++
یُسرٰی سامنے کرسی پر باندھی بیٹھی تھی
سامنے ریپر، اپنی مخصوص خاموشی اور بےرحم آنکھوں کے ساتھ، اُسے دیکھ رہا تھا
تو بتائیے، محترمہ… آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
یُسرٰی کی سانس اکھڑنے لگی۔
صبح ہو گئی ہے… یا اللہ، مجھے جانے دو۔ دادو بہت ماریں گی مجھے…
کیٹی نے بھنویں چڑھا کر اُسے دیکھا۔
عجیب لڑکی تھی۔ موت سامنے کھڑی تھی، اور ڈر دادو سے رہی تھی۔
جب رات کو گھر سے نکلی تھی تو دادی یاد نہیں آئیں؟ کیٹی کا لہجہ زہر آلود تھا۔
یُسرٰی نے نظریں جھکا لیں، وہ تو سو رہی تھیں… میں چپکے سے نکلی تھی۔ اگر جاگ گئیں ہوتیں تو سمجھو، ختم تھی میں۔۔۔
ریپر نے لب ہلائے، چوری کیوں کرتی ہو؟
یُسرٰی کے چہرے پر ایسا رنگ آیا جیسے اسے سوال سے زیادہ موقع کی خوشی ہو۔
پیسے کے لیے اور کس لیے۔۔ آپ نے وہ رِیلز نہیں دیکھی؟ کیا چاہیے عورت کو؟ ارے بھائی… پیسہ، گاڑی، مہنگا گھر۔۔۔۔
کیٹی کا پارہ چڑھ گیا۔
باس، یہ لڑکی پاگل ہے۔۔۔
ریپر نے ہاتھ کے ایک اشارے سے اُسے چپ کروایا۔ اور بولا۔۔۔ کب سے کر رہی ہو یہ سب؟
نویں کلاس سے…
ریپر کچھ لمحے اسے غور سے دیکھتا رہا، پھر بولا میرے لیے کام کرو گی؟
یُسرٰی کی بھنویں تن گئیں۔ آپ کے لیے؟
ہاں۔
یُسرٰی نے طنز سے ریپر اور اُس کے آس پاس کھڑی اُن لڑکیوں کو دیکھا، آپ کو کیا ضرورت ہے چوری کروانے کی؟ سب کچھ تو ہے آپ کے پاس۔ یہ ڈائن اور وہ پیچھے دو چڑیلیں…
کیٹی نے غصے سے یسریٰ کو گھورا یہ ڈائن کس کو کہا؟
کس کو کہا ہے؟ تمہیں کہا ہے۔ تم ہو ڈائن۔۔۔ یُسرٰی نے پوری ڈھٹائی سے جواب دیا۔ ڈر خوف وہ کیا ہوتا ہے۔۔۔؟ زبان نہیں روکنی چاہیے بس۔۔۔۔
ریپر نے غصے سے کیٹی کو گھورا اور وہ چپ ہوگئی۔۔۔
پھر اس نے یُسرٰی کی طرف دیکھا، چوری نہیں کرنی۔
تو پھر؟ دیکھیں مجھے الٹا سیدھا بولنے، اور چوری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔۔۔
کیٹی نے زیرِ لب کہا، کھانا بنانا تو آتا ہے…
یُسرٰی چونکی، ہاں! وہ بھول گئی تھی… وہ بھی ایڈ کر لو۔۔۔
ریپر نے سنجیدگی سے کہا، جاسوسی کرنی ہے۔
کیا مطلب؟ کبوتر بن جاؤں؟ اِدھر کی بات اُدھر؟
ہاں، بالکل وہی۔ ریپر نے اُسے اُس کی بات اُسی کے اندازِ میں سمجھانی چاہی۔۔
یُسرٰی نے آنکھیں سکیڑیں، کیا ملے گا بدلے میں؟
پیسہ۔ جتنا مانگو گی، اتنا۔
یہ سنتے ہی اُس کی آنکھوں میں چمک آ گئی، وہی چمک جو بھوکے شخص کی نظروں میں روٹی دیکھ کر آتی ہے۔
سچ میں؟ جتنا میں کہوں؟
ریپر نے اثبات میں سر ہلایا۔
پیسہ، گاڑی، مہنگا گھر — سب کچھ۔ جو ایک عورت کو چاہیے ہوتا ہے ؟ ہے نہ ابھی تُم نے ہی کہا تھا۔۔۔
یُسرٰی نے لمحے بھر میں فیصلہ کر لیا۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ کر لوں گی۔ پیسے کے لیے یُسرٰی اپنی جان بھی دے دے۔
ریپر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
تو سنو، جان نہیں دینی۔ بس کام کرنا ہے۔
سید امن حنان افتخار کے گھر جانا ہے۔۔۔۔
اُسے میں خود ماروں گا۔ تم صرف اُس کے گھر والوں پر نظر رکھو۔
اُس کی دادی، اُس کی بہن… سب پر۔
یُسرٰی چونکی،
کیا؟؟ امن؟!
ہاں۔ ریپر نے آہستہ سے کہا
بس ڈیٹیل دینی ہے؟ کسی کو مارنا تو نہیں؟ یسریٰ نے پوچھا
نہیں۔ بس ہر پل کی خبر چاہیے۔
یُسرٰی نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں جیسے حساب لگایا ہو۔ اور اُس کے گھر جاؤں گی کیسے؟
ریپر نے سنجیدگی سے کہا، وہ میرا مسئلہ ہے۔
یُسرٰی نے گردن ہلائی۔ ٹھیک ہے۔ آپ پیسے تیار رکھیں… میں خبریں لا دوں گی۔ پکی… چھپ کر، ہر پل کی۔
++++++++++++
فجر کی روشنی ابھی افق پر بکھری ہی تھی۔
یسرٰی خاموشی سے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔
لیکن سامنے ہی…
جیسے تقدیر اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔ دادو۔
وہ وہیں کھڑی تھیں۔
آنکھوں میں وہی پرانی سختی، جو درد میں لپٹی ہوئی تھی۔۔۔
کہاں گئی تھی تُو، یسرٰی؟
دادو کا لہجہ جیسے سیدھا سینے کے پار گیا۔
یسرٰی رکی، آنکھیں جھکائیں۔
دادو… بیٹھیں، بتاتی ہوں… سب کچھ۔
پھر یُسرٰی نے سب کچھ کہہ دیا…
ایک ایک لفظ، ایک ایک لمحہ… جیسے اپنے دل کا بند صندوق کھول کر دادو کے سامنے رکھ دیا ہو۔
کیسے وہ ریپر کے گھر پہنچی، کیسے جال میں پھنسی، اور اب اُسے کیا کرنے کا حکم ملا ہے…
سب کچھ۔
بغیر کوئی جملہ روکے، بغیر کوئی حقیقت چھپائے۔
یُسرٰی ویسی ہی تھی۔۔۔
عجیب سی۔
کبھی پاگل لگنے والی، کبھی بےحد سادہ۔ کبھی بے حد ہوشیار
لیکن اُس کی فطرت میں ایک بات ایسی تھی، جو دنیا کے لیے کمزوری کہلاتی تھی…
اور اُس کے لیے حد سے زیادہ وفادار تھی جس سے وہ محبت کرتی تھی،
اس کے سامنے خود کو مکمل کھول کر رکھ دیتی تھی لفظوں میں، سچ میں، درد میں۔
کوئی فرق نہیں تھا،
چاہے وہ بات اچھی ہو یا گندی، سادہ ہو یا شرمناک…
وہ چھپا نہیں سکتی تھی۔
اس کا دل رازداری کا ہنر نہیں جانتا تھا۔
پہلے وہ امّی ابو سے ہر بات کہہ دیتی تھی…
اور اب دادو۔
دادو وہ واحد شخصیت تھیں جن کے سامنے وہ اپنا دوسرا چہرہ بھی لے آتی تھی،
وہ چہرہ جو دنیا کو کبھی نہیں دکھایا تھا۔
اور دادو…
وہ یُسرٰی کے اس چہرے سے بھی واقف تھیں۔
اس کے اندھیرے گوشے، اس کی لالچیں، اس کی بچگانہ ضدیں… سب کچھ جانتی تھیں۔
یا اللہ یسرٰی…
دادی نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا،
میں نے تم سے کہا تھا نا… یہ سب کرتے کرتے تُم کسی دن بہت بڑی مصیبت میں پھنس جاؤگی۔
اب دیکھ لیا انجام؟
اب بھی تم میری ایک نہیں سنتی؟
یسرٰی نے کندھے اچکائے جیسے بات معمولی ہو
تو کیا ہوا دادو؟ دیکھیں… میں زندہ ہوں نا، آپ کے سامنے بیٹھی ہوں۔۔۔
دادو کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ اور جو ریپر نے تم سے کروانے کو کہا؟
وہ؟
یسرٰی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔۔ تو کر دوں گی دادو! دیکھیں نا، کتنے پیسے ملیں گے!
اب میں دوبارہ وہی زندگی جینا چاہتی ہوں… جیسے ممی پاپا کے وقت میں جیتی تھی۔
پیسہ، گاڑی ، مہنگا گھر، … سب کچھ۔۔۔
اور امن…؟ دادو کی آواز ایک دم نرم پڑ گئی،
تم اس کی جاسوسی کرو گی؟
جس سے محبت کرتی تھیں؟
یسرٰی نے دادو کی طرف دیکھا، چہرے پر وہی ضد، وہی بچپنا، اور وہی گمراہی جو کبھی صرف شوق ہوا کرتی تھی، اب عادت بن چکی تھی۔
ہاں، دادو! جاسوسی ہی تو کرنی ہے… کوئی قتل تھوڑی نا! اور ویسے بھی…
آپ ہی تو کہتی تھیں، میں اُس سے کبھی نہیں مل سکتی…
دیکھیں، میں ملنے جا رہی ہوں… اُس کے گھر رہنے جا رہی ہوں! اور جیسے ہی ریپر کا مقصد پورا ہوگا وہ گھر میرا ہوگا جہاں امن رہتا ہے۔۔۔۔
کیا گھر؟ دادو کو یسریٰ کی ایک بات سمجھ نہ آئی
ہاں! وہی گھر…
امن کا گھر… جو پورے کراچی میں سب سے مہنگا ہے!
ریپر نے کہا ہے، پیسہ، گاڑی، مہنگا گھر…
سب کچھ ملے گا۔
اور میں اُس سے مانگوں گی… وہی گھر، جہاں امن رہتا ہے۔
وہی… جو اب میرا ہوگا۔۔۔
ان کے لب ہلے، لیکن آواز کہیں کھو گئی۔
یسرٰی اُن کے سامنے وہ یسرٰی نہیں تھی،
جسے وہ برسوں سے جانتی آئی تھیں۔
ریپر امن کو مار دے گا، یسرٰی…
آخرکار دادو نے کہا۔
الفاظ تھکے ہوئے تھے، اور دل چور۔
یسرٰی کی پلکیں جھپکیں۔ گلے میں کچھ پھنس سا گیا۔
چہرے کی سختی، ایک لمحے کو دراڑ کھا گئی۔
میں کیا کر سکتی ہوں دادو؟ وہ بہت پاورفل ہے…
نظر جھک گئی۔
کیا مطلب، یُسرٰی؟
کیا کہہ رہی ہو تم…؟
تم… ریپر کا ساتھ دے رہی ہو؟
ایک شخص کے قتل میں؟
قاتل کے ساتھ کھڑی ہو؟
وہ جیسے سُن ہو گئی تھیں۔
پہلے چوری… اب قتل؟
کہاں گئی وہ محبت جس کا تم دم بھرتی تھیں امن کے لیے؟
کیا وہ صرف ایک خواب تھا…
یا لالچ کی راکھ میں دب گیا؟
دادو کی آنکھیں بھرنے لگیں، مگر لہجہ اب بھی مضبوط تھا۔
یُسرٰی! اپنے ضمیر کا سودا مت کرو…
اس سے بہتر تھا تم ریپر کے ہاتھوں مر جاتی۔۔۔
میں نے تمہیں ہمیشہ سمجھایا… بار بار کہا…
چوری مت کرو، جھوٹ سے بچو…
مگر تم نے کبھی میری ایک نہ سنی۔
اور اب؟
اب ایسا ہے کہ کوئی تمہیں قتل کرنے بھی بول تو تُم آرام سے کردو۔۔۔۔
دادو کی آواز اب تھرتھرا رہی تھی،
لیکن وہ الفاظ رُک نہیں رہے تھے…
دل سے نکلے تھے اور دل ہی زخمی کر رہے تھے۔
تم کیا بنتی جا رہی ہو، یُسرٰی؟
تم تو وہ لڑکی تھیں جس کا دل شفاف تھا…
جو اپنے جذبات پر فخر کرتی تھی،
جو ہر غلطی کے بعد میرے گلے لگ کر روتی تھی۔
ایک لمحے کو سانس روکی،
تمہیں ہو کیا گیا ہے یُسرٰی؟
پیسے کے پیچھے اس حد تک مت بھاگو۔۔۔
یہی پیسہ ہمیں برباد کر دیتا ہے…
ہمیں اپنے اپنوں سے دور کر دیتا ہے۔
اللہ نے قرآن میں اسی پیسے کی محبت کو فتنہ قرار دیا ہے۔
اسی ‘مال’ کی ہوس نے قومیں تباہ کیں،
رشتے روند ڈالے…
ضمیر بیچ ڈالے۔۔۔
اب وہ تھک چکی تھیں اور چہرے پر ہاتھ رکھ کر دھیرے دھیرے رونے لگیں۔
میری یُسرٰی تو ایسی نہیں تھی…
+++++++++++++
نہات ہانپتا ہوا اندر آیا، ہاتھ میں موبائل فون اور چہرے پر بے یقینی تھی
بھائی! بھائی جلدی یہ دیکھو… تمھارے بارے میں بریکنگ نیوز چل رہی ہے۔۔۔۔
امن نے چونک کر سر اٹھایا۔ کیا۔۔۔۔
میں مذاق نہیں کر رہا۔۔
نہات نے یوٹیوب پر فوراََ نیوز لگائی
اسکرین پر ریڈ بینر کے ساتھ ایک بریکنگ نیوز نمودار ہوئی:
بریکنگ نیوز : کیا امن حنان نفسیاتی مریض ہے؟
ایک خفیہ تھراپی ریکارڈنگ سامنے آئی ہے، جس میں وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ اُس کی سوچ حقیقت سے کٹ چکی ہے۔
لیکڈ میڈیکل رپورٹ کے مطابق، امن حنان کو شدید بائی پولر ڈس آرڈر ہے، اور وہ پرتشدد رویہ اختیار کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ان کا ایک قریبی دوست جبار لاپتہ ہو چکا ہے—کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا کچھ اور؟
اسکرین پر وہی تصویر آتی ہے، امن اور جبار ساتھ بیٹھے، نیچے کیپشن
The first man to question Aman… now vanished.
(پس منظر میں وہ ایڈیٹ شدہ آڈیو کلپ چلی )
میں… حقیقت سے کٹ چکا ہوں… اور اب جو بھی ہوگا… وہ صرف میری مرضی سے ہوگا۔
بھائی، یہ کس نے کیا؟ یہ تمھاری آواز ہے مگر… یہ تم نے کب کہا؟ نہات نے دھیرے سے کہا
امن کی آنکھوں میں ایک لمحے کو سناٹا پھیل گیا۔
چہرہ زرد پڑ گیا، ہونٹ تھرتھرائے
یہ میری آواز ہے… مگر یہ میں نے اس طرح نہیں کہا تھا… یہ… کٹا ہوا ہے…
یہ سب پلانڈ ہے، بھائی۔ کوئی تمھیں برباد کرنا چاہتا ہے۔ نہات نے پریشانی سے کہا۔
امن نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
اور اُس لمحے، اسے احساس ہوا کہ دشمن گولی سے نہیں، کردار کشی سے مارنا چاہتا ہے۔
ریپر…
اس نے زیرِ لب کہا، جیسے کوئی نام نہیں، قسمت کی سزا لے رہا ہو۔
افتخار صاحب کا لہجہ دہکتا ہوا انگارا بن چکا تھا۔
انھوں نے مٹھیاں بھینچی اور صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
اب یہ کیا تماشہ ہے؟
کمرے کے ایک کونے میں کھڑے ارحم اور ائراہ (سیکیورٹی گارڈز) ابھی تک ساکت کھڑے تھے، جیسے ہوا میں سہمے پتلے۔
امن نے کچھ کہنا چاہا، لیکن افتخار صاحب کا اگلا جملہ بجلی کی طرح گرا
یہ نَفسیاتی بکواس اب چل کیا رہا ہے؟ یہ نیوز والے کس بنیاد پر ایسی گھٹیا باتوں پر یقین کر رہے ہیں؟ اور تم چپ کیوں ہو؟!
امن نے گہرا سانس لیا۔
دادا… مجھے لگتا ہے یہ سب پلانڈ ہے… مجھے کردار سے مارا جا رہا ہے۔
افتخار صاحب نے میز پر زور سے ہاتھ مارا
کون مار رہا ہے؟ کون ہے جو ہمارے دروازے تک آ گیا ہے؟ یہ جبار کون ہے؟ تمھارا کیسا دوست ہے یہ؟ ابھی فون کرو، بلاؤ اُسے۔ سامنے لاؤ اُسے۔۔۔
امن نے دھیرے سے سر ہلایا، جیسے یہ سب پہلے سے جانتا ہو
دادا، جبار… اب شہر میں نہیں ہے۔ وہ کئی ماہ پہلے ملک سے باہر چلا گیا تھا۔ لیکن کسی نے اس کی پرانی تصویر نکال کر لگا دی ہے، اور…
بس کرو۔۔۔ افتخار صاحب نے بات کاٹ دی۔
تم سے کہا تھا سیاست کا راستہ کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے… لیکن تم سمجھدار بننے کی بجائے خاموش تماشائی بنے رہے۔ اب تماشا تمھارا بنا ہے۔۔۔۔
امن نے بغیر کچھ کہے، فقط آنکھوں کے ہلکے سے اشارے سے ارحم اور آئرا کو جانے کا کہا۔
وہ دونوں حکم کی پابند مشینوں کی طرح پلٹے اور بنا کچھ بولے نکل گئے۔
امن نے کرسی پیچھے کی، اٹھ کر سیدھا ہوا ہی تھا کہ…
ایک لمبا سانس، ایک جھٹکا، اور گرم گرم کافی اس کے سفید کُرتے پر بہہ گئی۔
آہ…
امن نے بمشکل اپنی آواز روکی۔
گرمی سے نہیں۔۔ حیرت سے۔
اس کے سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی، جس کی آنکھیں گھبراہٹ سے بھری تھیں۔
سوری، سوری! آئی ایم رئیلی سوری! جلا تو نہیں؟
اس نے جلدی سے کپڑا آگے بڑھایا، جیسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔
امن نے ایک نظر اُس لڑکی پر ڈالی۔
شورٹ فراک، اوپر سفید ایپرن، گردن پر لٹکا دوپٹہ، اور بال ایک ٹائٹ پونی میں بندھے ہوئے تھے۔
آنکھوں میں معصوم گھبراہٹ، یا شاید چالاکی؟ وہ لمحے میں طے نہیں کر سکا۔ پر وہ اُسے پہلی نظر میں بہت بھولی لگی۔۔۔ جیسے معصوم سی گڑیا ہو۔۔۔
تم… کون ہو؟ امن کی آواز میں حیرت تھی،
میں یسریٰ…
لڑکی نے جھک کر تھوڑا سا سلام کرنے کا انداز بنایا۔
امن نے کچھ سوچا، پھر افتخارِ صاحب کی طرف دیکھا
پہلے تو نہیں دیکھا تمہیں… نگاہ میں سوال تھا۔ لہجہ ہلکا سا شکی۔
افتخار صاحب نے تھوڑا سا رخ بدلا اور کرسی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے ہاں، آج ہی جوائننگ دی ہے اس نے۔ اچھی شیف ہے۔ انیسہ کو پسند آئی، اسی نے رکھ لیا اسے۔
امن نے سر ہلایا جیسے اسے کوئی خاص دلچسپی نہ ہو، بس رسمی سا جملہ کہا اوہ… ٹھیک ہے۔
اور پھر وہ پلٹ گیا۔ خاموشی سے، بغیر پیچھے دیکھے… اپنے کمرے کی طرف۔
لیکن افتخار صاحب کی نگاہیں اب بھی یسریٰ پر جمی تھیں۔ دیکھ کر کام کیا کرو! اور یہ کافی کس نے بنانے کو کہا تھا تمہیں؟ میں اور امن تو پی چُکے۔۔۔۔
لہجے میں سختی تھی،
یسریٰ نے فوراً نہات کی طرف اشارہ کیا
وہ… یہ ان کے لیے تھا۔۔۔ بیگم صاحبہ نے کہا تھا… کہ جو بھی مہمان آئے، فوراً کافی یا چائے پیش کروں۔ میں… میں تو ویسے بھی نئی ہوں، وہ جمنہ نظر نہیں آئی تو لے آئی خود ہی۔
افتخار صاحب نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر صرف اتنا کہا۔۔۔۔ٹھیک ہے، جاؤ یہاں سے۔
یسرہ تیزی سے سر ہلاتی ہوئی نکل گئی، مگر افتخار صاحب کی نگاہ دیر تک اُس کے پیچھے دروازے تک جمی رہی۔ اور پھر وہ رخ موڑ کر نہات کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ جاؤ، اس کے اُس دوست کو ڈھونڈو۔ جبار کو… جو کوئی بھی ہے، جہاں بھی ہے… زمین کھود کر نکالو اُسے۔۔۔
نہات نے ناگواری سے افتخار صاحب کی طرف دیکھا
میں نومی نہیں۔۔۔۔ وہ یہ کہتا غصے میں اٹھا اور امن کے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
++++++++++++++
فلیش بیک۔۔۔
دادو… دادو، پلیز… ریلیکس کریں۔ آپکو اسی لیے تو نہیں بتایا۔۔۔ کہ آپ پریشان ہوں۔
دادو کی نظریں اس پر جم گئیں۔
پریشان؟
کیا تمہیں لگتا ہے، تم جس راستے پر جا رہی ہو، وہ سکون دے گا مجھے؟
یُسرٰی کا لہجہ ضدی تھا، لیکن آنکھیں نم تھیں۔
دادو، میں امن کو کچھ نہیں ہونے دوں گی۔ ریپر اسے مارنا چاہتا ہے نا؟ تو میں کوشش کروں گی…
کہ وہ اُسے نہ مارے… بلکہ… مجھے دے دے۔۔۔
کیااا؟
دادو کی آواز میں صدمہ تھا،
یُسرٰی! وہ کوئی چیز نہیں ہے کہ تم ‘لے لینے’ کی بات کر رہی ہو۔۔۔
یُسرٰی کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی آ گئی،
دیکھیں دادو، ریپر کا مسئلہ امن سے نہیں… سیاست سے ہے۔ وہ سیاستدانوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
اگر امن… سیاست چھوڑ دے، تو وہ شاید بچ جائے…
تب… وہ میرا ہو سکتا ہے۔
کیا؟ یسریٰ نے دماغ میں کیا چل رہا تھا دادو کی سمجھ ایک نہیں آرہا تھا
اگر… امن سب کچھ کھو دے، تو شاید اُسے میری قدر ہو۔ دادو، آپ نے کہا تھا نا…
وہ مجھے کبھی قبول نہیں کرے گا؟
تو اگر میں اُسے مجبور کر دوں…؟
وہ خاموش ہو گئی۔
دادو کی آنکھوں میں اب صرف دو چیزیں تھیں،
دُکھ اور ڈر۔
یُسرٰی…
ان کا لہجہ اب سرگوشی جیسا تھا،
تم اپنی محبت کو بربادی کے راستے پر ڈال رہی ہو…
اور اسے ‘محبت’ سمجھ رہی ہو؟
یہ تو وہ پگلی ضد ہے، جو عشق کا نام لے کر ہلاکت کا دروازہ کھولتی ہے۔
یُسرٰی کچھ نہ بولی۔
لیکن اُس کے دل میں کہیں یہ خیال اب بھی دھڑک رہا تھا۔۔۔امن میرا ہو… چاہے ٹوٹا ہوا، چاہے مجبور، چاہے تنہا… بس… میرا ہو۔
یُسرٰی نے پلکیں جھپکیں،
مجھے پتہ ہے، دادو۔ میں یہ زندگی نہیں جینا چاہتی،
یہ تنگی، یہ کمزوری، یہ محرومیاں۔
ایک بار ریپر کا کام ہو جائے،
تو پھر مجھے کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔بس سکون، بس آسائش… ہمیشہ کے لیے۔
دادو کی آنکھوں میں جیسے آنسو جم گئے ہوں۔
وہ ہلکی آواز میں بولیں
یُسرٰی… تم یہ نہیں کر سکتی۔
تم وہ لڑکی ہو جو رات کو دعاؤں میں رویا کرتی تھی…جو محبت کے لیے لڑتی تھی،
خود کو بیچنے کے لیے نہیں۔
یُسرٰی کی آواز بلند ہو گئی۔۔
تو کیا کروں، دادو؟
ریپر کے ہاتھوں اپنی قبر خود کھودوں؟
مر جاؤں؟
کیا یہی چاہتی ہیں آپ؟
وہ چیخی۔
کمرے کی دیواریں خاموش تھیں،
لیکن دادو کا دل… وہ ٹوٹ گیا تھا۔
پیسے کی ہَوا نے اُس بچی کو لوٹ لیا تھا،
جسے کبھی سچائی کا لمس عزیز تھا۔
یُسرٰی کی آواز اب آہستہ پڑ گئی،
آنسو نہیں تھے،
بس تھکن تھی… اور ایک غیر فطری نرمی
دادو…
اگر آپ چاہتی ہیں کہ میرے ساتھ کچھ برا نہ ہو،
تو پھر آپ کو میرا ساتھ دینا ہوگا۔
جیسے آج سب بتایا ہے…
آگے بھی سب کچھ بتاتی رہوں گی،
بس آپ… میرے ساتھ رہیں۔
پھر اس نے آخری جملہ کہا… وہ جملہ جو خنجر بن کر لگا
ورنہ… آپ جا سکتی ہیں میرے گھر سے۔ لیکن میں کرونگی وہیں جو میرا دل چاہے گا۔۔۔
خاموشی…
دادو کے ہونٹ ہلے نہیں،
پر دل نے بہت کچھ کہا۔
وہ جان گئی تھیں…
یُسرٰی شاید واپس آ جائے…
لیکن اب وہ کبھی پہلی والی یُسرٰی نہیں بنے گی۔
++++++++++++++
پریسینٹ۔۔
کمرے میں دھوپ کی آخری کرنیں دیوار پر پھیلی تھیں۔ وہ بیڈ پر بیٹھا تھا۔
تنہا… تھکا ہوا… اور سوچوں میں گم۔
عصر کی نماز کے بعد جلسہ تھا
اور اب میڈیا… میڈیا دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔
اس نے موبائل کھولا۔
ایک طرف ٹویٹر پر ٹرینڈ تھا
#WeStandWithAman
اور دوسری طرف
#UnstableAman
نیوز ہیڈلائنز چیخ رہی تھیں
کیا ایک ذہنی مریض عوام کا نجات دہندہ بنے گا؟
امن حنان کی مقبولیت — حقیقت یا میڈیا کا فریب؟
امن نے فون سائیڈ پر رکھ دیا، آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی۔
پھر جیسے کچھ سوچ کر فون اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا خفیہ رابطہ۔
مجھے جبار کا پتہ چاہیے… مکمل، درست، ابھی۔
دوسری طرف سے صرف جی سر، تیس منٹ کا جواب آیا۔
امن نے خاموشی سے فون بند کیا۔
کمرے کی دیوار پر نظریں ٹکا دیں۔۔۔
جہاں مرتضٰی صاحب اور کلثوم بیگم کی فوٹو لگی اُن کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ کھڑا تھا۔۔
کبھی ہاتھ تھام کر چلنا سکھایا تھا… آج تصویروں سے حوصلہ لینا پڑ رہا ہے۔
بالکل 32 منٹ بعد، فون دوبارہ بجا۔
امن نے فوراً اٹھایا۔
جبار سلیم — لندن، ( Southwark Street) , فلیٹ 7A۔
فون نمبر، آفس کی تفصیلات، سب کچھ میل کر دیا ہے۔
امن نے ایک لفظ کہا
Perfect.
اور اسی لمحے دروازہ کھولا
امن نے دروازے کی طرف دیکھا پھر خفکی سے کہا نہات دروازہ نوک کون کرے گا۔۔۔۔
نہات نہیں نعمان ہوں میں۔۔۔
اب نعمان کس لیے آیا ہے میرے پاس؟
کیوں کہ… اس وقت تمھیں ایک دوست کی ضرورت ہے۔۔۔ مُسکرا کے کہا گیا دوست، بھائی، پارٹنر… وہ ایک شخص، سب کچھ تھا اُس کے لیے۔۔۔
امن کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
یہاں آؤ…
اس نے سر ہلکا سا جنبش دے کر کہا۔
نہات اس کے قریب آیا تو امن نے آہستگی سے اپنا فون اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
یہ… جبار کا ایڈریس اور فون نمبر ہے۔
نہات جیسے لمحے بھر کے لیے سانس لینا بھول گیا۔
اس نے حیرت سے فون کو دیکھا، پھر امن کی طرف جیسے وہ اب پہلی بار اُسے جان رہا ہو۔
تمھیں یہ کیسے مل گیا، بھائی؟
میں نے نکلوایا ہے… اب آگے کیا کرنا ہے؟
نہات نے فون کو مضبوطی سے تھاما، پھر کچھ سوچ کر بولا مجھے لگتا ہے، اس وقت تمھیں… کسی چیز کی ضرورت نہیں۔
ہے نا… تبھی تو مشورہ مان رہا ہوں۔
بتاؤ آگے کیا کروں؟ نرمی سے کہا
نہات نے ایک لمحہ خاموشی میں گزارا، پھر آہستہ سے بولا کال کرو اُسے, بلاؤ اُسے یہاں۔ اگر وہ آ کر گواہی دے دے… تو سب سیٹ ہو جائے گا، بھائی۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا
امن اور نہات دونوں نے چونک کر سر گھمایا۔
امل کمرے میں داخل ہوئی، سانسیں تیز، چہرے پر الجھن اور آنکھوں میں سوال،
بھائی… یہ کیا تماشا ہے؟
اس کی آواز تھوڑی کانپتی ہوئی تھی۔
اور… تم نے یہ تھراپی کب لی تھی؟
نہات نے کچھ کہنا چاہا، لیکن امن نے ہاتھ سے روکا۔
پھر آہستہ سے بولا،
امل… وہ تھراپی تو لی تھی، لیکن یہ جو کچھ تم نے سنا ہے… وہ سب ویسا نہیں ہے جیسا دکھایا جا رہا ہے۔
مجھے معلوم ہے، بھائی۔ مجھے پتا ہے تم جھوٹ نہیں بولتے۔ پر یہ سب؟ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے؟
یہ ریپر؟
ریپر؟… وہ منحوس؟
وہ ایک لمحے کو رکی، سانس کھینچی، پھر دھیرے سے مگر کرب میں ڈوبی آواز میں بولی میں اُس ریپر کو جان سے مار دوں گی، میرے بھائی کو سکون سے جینے نہیں دیتا وہ… منحوس، گھٹیا، سایہ سا چمٹ گیا ہے ہماری زندگی سے۔۔۔
اور پھر… ہمیشہ کی طرح…
نہات کی ہنسی غلط وقت پر پھسل گئی۔
ایک چوٹی تو ماری نہیں جاتی ان سے ریپر کو مارے گی۔۔۔۔
امل نے پہلے تو چونک کر نہات کو گھورا، پھر دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی
نہات بھائی یہ کوئی مذاق کا وقت نہیں ہے۔۔۔
نہات ہنستا رہا، میں مذاق نہیں کر رہا، امل بی بی۔ میں حقیقت بتا رہا ہوں۔ تم ریپر کو مارنے نکلو گی… اور اگلے لمحے کسی کپڑوں والے برانڈ کے شوروم میں کھڑی ہوگی کہ ‘پہلے یہ فراک لے لوں پھر بدلہ لیتی ہوں۔۔۔۔
امل کی آنکھیں پھیل گئیں۔
امن نے ہنستے ہوئے ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔
بس کرو یار… ورنہ تمھیں امل سے نہیں، مجھ سے مار پڑے گی۔
وہ غصے سے ہاتھوں کی مٹھی بند، اور لبوں پر وہی جملہ جو صرف امل کہہ سکتی تھی، بے ساختہ، بے دھڑک، بے لحاظ۔۔
ہاں بھائی… آپ انہیں مارو۔ بدتمیز کہیں کے۔۔۔۔
نہات نے آنکھیں پھیلائیں، جیسے دل پر تیر لگا ہو
ارے! اب میں نے کیا کیا؟ مذاق ہی تو کیا۔۔۔
امل نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی۔۔۔
یہ کوئی وقت ہے مذاق کا، نہات بھائی۔ اگر پھر سے کوئی ایسی بات کی نا، تو پہلے آپکو ماروں گی، پھر ریپر کی باری آئے گی۔۔۔
امن چپ چاپ دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
کچھ لمحے کو جیسے سب کچھ معمول پر آ گیا تھا…
اور ان کی نوک جوکے دروازے کے پیچھے کھڑی لڑکی سن رہی تھی اور پل پل کی خبر ریپر تک پہنچ رہی تھی۔۔۔
++++++++++++++
فلیش بیک۔۔۔۔
ایک تاریک کمرے میں صرف لیپ ٹاپ کی روشنی تھی،
جس میں یُسرٰی اور دادی کا منظر رواں تھا۔۔۔
کیمرہ چھت کے پنکھے کے پیچھے لگا تھا،
اور آواز خفیہ مائیک کے ذریعے صاف سنائی دے رہی تھی۔
زوزی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی تھی،
آواز آف تھی،
لیکن وہ دونوں کی زبان اور چہروں سے سب سمجھ رہی تھی۔
جب یُسرٰی نے کہا،
اگر آپ نہیں مانتیں تو… آپ جا سکتی ہیں میرے گھر سے۔۔۔۔
تب زوزی کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی۔
اس نے لیپ ٹاپ بند کیا،
نظریں کیٹی اور ٹویٹی کی طرف گھمائیں اور اعتماد سے کہا باس صحیح کہتے ہیں… ہم اس لڑکی پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ یُسرٰی کی امن سے محبت والی بات کو زوزی نے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا تھا…امن تو پورے کراچی کا آئیڈیل تھا اُس پر تو آدھا شہر فدا تھا۔
کیٹی، جو ہمیشہ زوزی سے زیادہ محتاط تھی،
کرسی پر پیر سمیٹ کر بیٹھی تھی۔
اس نے گہرا سانس لیا اور آہستہ سے بولی
واقعی… لیکن مجھے اب بھی ڈر ہے۔۔۔۔
ٹویٹی نے اپنی نظرے اسکرین سے نکل کر کیٹی کی طرف دیکھا۔۔۔ ڈر؟ کس بات کا ڈر؟
کہ وہ ہمیں دھوکہ دے گی؟ جس لڑکی نے اپنی دادی کو ہی دھمکی دے دی… وہ کسی کا کیا ساتھ دے گی؟
زوزی نے اب سنجیدہ لہجے میں کہا
اسی لیے تو باس نے اُسے چُنا ہے۔ جو اپنے کھو چکے ہیں… وہ دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔
کیٹی نے اب نظریں نیچے کیں،
اگر وہ ہمیں دھوکہ دے گئی تو؟
تو پھر… انجام بھیانک ہوگا۔
کیا ہی دھوکا دے سکتی ہے وہ ہمیں سب کی کوئی نہ کوئی ایک کمزوری ہوتی ہے اور یسریٰ کی کمزوری ہے پیسہ۔۔۔۔ آسائش جس کا ریپر نے اُسے خواب دکھایا ہے۔۔۔ ٹویٹی نے اپنا آخری کام کرتے کہا اور کمپیوٹر اسکرین بند کردیا ویسے بھی وہ لڑکی ہمیں دھوکا دے یا نہ دے ریپر کا آرڈر ہے مجھ اُسے نو بجے سے پہلے پہلے افتخارِ محل میں اُس کی انٹری کروانا ہے۔۔۔
پھر زوزی فوراََ بولی ہاں اور ریپر نے تو ہمیں یہ بھی کرنے کو نہیں کہا تھا جو تُم مُجھے سے کروا رہی ہو کیٹی۔۔۔۔
ریپر بولے یا نے بولے کچھ ہمارا بھی فرض ہے بس مجھے ڈر تھا تو تُم سے کہا۔۔۔ کیٹی نے زوزي کو گھورتے ہوئے کہا
لیکن تُمہارا ڈر تو ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔۔۔ ذوزی بغور کیٹی کی طرف دیکھ کر کہا۔
یہ ریپر کی کلی بلی اس کا ڈر کبھی ختم نہیں ہوگا چھوڑو اسے۔۔۔ اپنا کام ختم کرو اور چلو کچھ دیر آرام کرے پھر مُجھے نکلنا بھی ہوگا۔۔۔ ٹویٹی نے اپنا سامان پیک کرتے کہا جس پر زوزی نے سر ہلایا۔۔
+++++++++++
دادو کو منانے کے بعد، یُسرٰی نے دوپٹہ سنبھالا اور ٹویٹی کے ساتھ نکل گئی۔
ٹویٹی اُسے سب سے پہلے رُخسانہ باجی کے پاس چھوڑ گئی، وہی رُخسانہ، جو افتخار محل کی پرانی اور اعتبار یافتہ ملازمہ تھی۔
رُخسانہ باجی نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر بس ایک جملہ کہا اپنے کام سے کام رکھنا…
پھر وہ یُسرٰی کو لے کر افتخار محل پہنچی،
جہاں چند رسمی سوالات، اور انیسہ بیگم سے مختصر سی بات چیت کے بعد یُسرٰی کو کچن میں نئی شیف کے طور پر رکھ لیا گیا۔
اور یوں۔۔۔
یُسرٰی، افتخار محل اور امن کی زندگی میں باقاعدہ داخل ہو چکی تھی…
ایک نوکری کے بہانے، ایک مقصد کے تحت۔
+++++++++++++
پریسینٹ
درمیانِ کمرہ، راؤف صاحب کی لاش بستر پر سیدھی لیٹی تھی۔
نہ خون تھا، نہ چیخ… لیکن ماحول میں کچھ عجیب سا کھنچاؤ تھا۔
جیسے موت کے بعد بھی… کوئی راز زندہ رہ گیا ہو۔
تبھی دروازہ ایک زوردار دھماکے سے کھلا۔۔۔
سب سائیڈ ہو جاؤ۔۔۔۔
ظفر اندر داخل ہوا، آنکھوں میں وہی پرانی تیز نظریں،
جنھیں جُرم کی ہوا بھی محسوس ہو جاتی تھی۔
پیچھے پیچھے اُس کی فیلڈ ٹیم، فورنزک آفیسر، اور دو انویسٹیگیشن اسپیشلسٹ۔
کمرے میں موجود نوکر، ڈاکٹر، اور فیملی سب ایک طرف کو کھڑے ہو گئے۔
ظفر نے راؤف کی لاش پر نظر ڈالی۔۔۔
چہرے پر وہی سنجیدگی جو موت سے پہلے بھی اُس کے ساتھ تھی۔
بس… اب زبان بند تھی۔
موت نیند میں ہوئی یا نیند موت میں بدلی؟
ظفر نے آہستگی سے کہا، جیسے خود سے سوال کیا ہو۔
اس نے جھک کر بائیں ہاتھ کی بند مٹھی دیکھی۔۔۔
اور فوراً ایک اشارہ کیا۔
دستانے پہن کر کھولو اِسے… فوراً۔۔۔۔
مٹھی کھولی گئی… اندر ایک تہہ شدہ کاغذ تھا۔
ظفر نے کاغذ ہاتھ میں لیا،
آنکھوں سے پڑھا۔۔
اور خاموشی سے جیب میں رکھ لیا۔
کیا تھا اُس میں؟
اُس کے پاس کھڑے پولیس آفیسر نے ظفر سے پوچھا
ظفر نے آنکھ اٹھا کر اُسے دیکھا،
وقت آنے پر تمہیں سب معلوم ہو جائے گا… بس تب تک… محتاط رہو۔
پھر وہ تیزی سے پلٹا،
پورے کمرے کو فریز کرو،
فون، لیپ ٹاپ، نوٹ بکس،
ہر چیز ضبط ہو۔
سیکریٹری، خانساماں، ڈرائیور ، سب سے انفرادی تفتیش ہوگی۔
اور ہاں، لاش کا پوسٹ مارٹم فوراً۔
+++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
