گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۵
باب چہارم: دوہرا چہرہ
یُسرٰی نرم قدموں سے کمرے میں داخل ہوئی،
ہاتھ میں ٹرے، چہرے پر معمولی سی مسکراہٹ،
امل بیڈ پر بیٹھی موبائل اسکرین پر نظریں گاڑھے تھی۔ خبریں بدل رہی تھیں،
امل نے چونک کر دیکھا،
اور اُس لڑکی کو سامنے پایا… جو اجنبی تھی،
تم کون ہو؟ آواز میں حیرانی تھی۔
یُسرٰی نے دھیرے سے ٹرے بیڈ پر رکھی،
اور آنکھیں نرمی سے موڑ کر اُس کی جانب کیں۔
میں نئی آپ کی شیف ہوں… یسریٰ۔
امل نے نظریں سکیڑ کر اُسے دیکھا،
تو تم کھانا لے کر کیوں آئی ہو؟
کوئی اور نہیں تھا… تو میں آ گئی۔
پھر اُس نے ایک نرمی سے پوچھا،
جس میں سوال سے زیادہ دلچسپی، اور دلچسپی سے بڑھ کر موقع کی طلب چھپی تھی
آپ کیا دیکھ رہی ہیں؟
امل نے لاشعوری طور پر موبائل نیچے کیا،
دل تو بوجھل تھا ہی، ذہن بھی بھرا ہوا تھا،
اور جب دل بوجھل ہو… تو کوئی معصوم آنکھ پوچھے،تو انسان خود سے پہلے اُس کو سچ بتا دیتا ہے۔
نیوز… امل نے آہستہ کہا،
یہ جو ابھی نیا معاملہ چل رہا ہے… امن بھائی کے خلاف۔ یُسرٰی نے نظریں ہلکی سی جھکائیں،
اور پھر جیسے اندر کے ڈرامے کو چھپا کر بولی
ہاں… وہ ریپر… کتنا خطرناک ہے نا؟
امل کی آنکھوں میں چنگاری سی لپکی۔
خطرناک؟ وہ… درندہ ہے۔ درندہ میرے بھائی کی خوشیاں اُس سے برداشت نہیں ہوتیں۔
یُسرٰی نے پلکیں نیچی کیں، جیسے دکھ بانٹنے والی ہو،
لیکن اُس کی نظریں کمرے کے آئینے سے ہوتی ہوئی،
بیڈ کے کونے پر پڑی امن کی تصویر تک پہنچ گئی تھیں۔
اور دل ہی دل میں وہ سوچ رہی تھی
امن حنان… تمہارے اتنے چاہنے والے ہیں؟ تو پھر… مجھے تم تک پہنچنے کے لیے کتنے چہروں سے مسکرانا پڑے گا؟
آپ کے بھائی کی خوشیاں… مطلب؟ اُس نے لاشعوری طور پر پوچھا۔۔۔حالانکہ جانتی وہ سب تھی۔۔۔
امن بھائی نے بہت کچھ جھیلا ہے… جیل، الزام، کردار کشی، ریپر کسی طرح بھی چاہتا ہے کہ وہ سیاست میں نہ آئے، وہ چاہتا ہے کہ امن خود ہی ہار مان لے۔
یُسرٰی نے ہلکی سی سسکی لی، جیسے کچھ اندر سے چٹخا ہو۔ پر امن تو بہت اچھے لگتے ہیں… وہ تو چہرے سے بھی سچے لگتے ہیں…
امل نے چونک کر اُسے دیکھا۔ تم نے تو اُن سے بس ایک دو بار ہی دیکھا ہوگا… پھر یہ ‘بہت اچھے لگتے ہیں’؟
یُسرٰی نے جھینپ کر نظریں چرائیں، ایسے ہی، بس… اُن کی آنکھوں میں ایک بات ہے نا… جو باقی لوگوں میں نہیں۔
امل کی پیشانی پر ایک ہلکی سی شکن اُبھری،
لیکن وہ مسکرا دی، ہم سب یہی کہتے ہیں… وہ واقعی مختلف ہیں۔
یُسرٰی نے بات بدلنے کے لیے جلدی سے کہا، آپ نے کھانا نہیں چکھا، بیگم صاحبہ نے کہا تھا خاص آپ کے لیے بنایا ہے۔۔۔
امل نے چمچ لیا، اور پہلا نوالہ لیتے ہی چونک گئی،
واہ… تم نے بنایا ہے؟
یُسرٰی نے معصومیت سے آنکھیں پھیلائیں،
اچھا لگا؟
بہت! اگر تم واقعی ایسے کھانے بناتی ہو تو تمہارا یہاں رہنا واقعی فائدہ مند ہوگا۔ امل خوشی سے بولی۔۔۔
یُسرٰی نے دل ہی دل میں ایک فاتحانہ مسکراہٹ چھپائی… امن تک پہنچنے کا پہلا دروازہ کھل چکا تھا۔۔۔اور ریپر کا پہلا کام ہوچکا تھا۔۔۔
+++++++++++++
کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔
افتخار محل کی بیٹھک میں، جہاں کبھی صرف سیاسی فیصلے ہوتے تھے،
آج ایک ایسا سوال موجود تھا جو زندگی اور موت کے بیچ معلق تھا۔
ظفر صوفے پر جم کر بیٹھا تھا…
رؤف صاحب کی موت کی خبر تو آپ کو مل چکی ہو گی؟ سرد لہجہ میں کہا گیا۔۔۔
امن نے خاموشی سے سر ہلایا۔ چہرہ سادہ تھا، لیکن آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔۔۔
مجھے اس بات کا شدید افسوس ہے۔
افتخار صاحب نے بھی تھکے ہوئے لہجے میں کہا
ہمیں بھی۔ وہ پرانا رفیق تھا… ہمارا بہت اچھا دوست بھی رہ چکا ہے۔۔۔
ظفر نے خاموشی سے فائل کھولی۔
پھر ایک مڑا تڑا صفحہ نکالا۔۔اور وہ کاغذ امن کے سامنے رکھا،
امن نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا یہ کیا ہے؟
پڑھ لو۔۔۔ سرد لہجہ میں کہا
امن نے کاغذ کھولا کاغذ پر لکھا تھا۔۔۔
جو راستے میں آئے… اُسے ایسے ہٹا دو، جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔
یہ… میری لکھاوٹ ہے۔
اُس نے اعتراف کیا، لیکن لہجے میں کوئی گھبراہٹ نہ تھی۔بس ایک سوال… جو ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔
ظفر نے ذرا جھک کر کہا، پہچانا؟ یہ آپ ہی کی تحریر ہے، سرکار۔ اور اطلاعات کے مطابق، آپ اور رؤف صاحب کے درمیان سخت بحث ہوئی تھی…
آپ نے اُنہیں اپنے پارٹی سے بھی نکال دیا تھا۔
امن نے آنکھوں میں ذرا سا تاثر بدلا۔
ہاں، نکالا تھا… کیونکہ وہ غلطی پر تھے…
لیکن اس کا یہ مطلب کیسے نکالا جا رہا ہے کہ میں نے انہیں مار ڈالا؟
ظفر کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ ابھری۔
میں نے یہ تو نہیں کہا کہ آپ نے قتل کیا۔
میں تو بس حالات کی مماثلت بتا رہا ہوں۔
آپ خود کو قصوروار سمجھ رہے ہیں… کیوں؟
امن کی پیشانی پر بل پڑے،
تم مجھے بےوقوف سمجھتے ہو، ظفر؟
یا پاگل سمجھتے ہو؟
تمہارا انداز ہی الزام جیسا ہے، اور اب تم صفائی کے پردے میں شک ظاہر کر رہے ہو۔۔
ظفر نے کندھے اچکائے، میں تو یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب آپ کے خلاف ایک سازش ہے…
جیسے نادیہ کے کیس میں ہوا تھا۔ یہ تو ابھی میرے پاس ہے اگر میں یہ میڈیا کو دکھا دوں ؟ تو آپ ایک دفعہ پھر جیل میں جاسکتے ہیں۔۔۔
ایک بات بتاؤ، ظفر… تمہیں ایس پی کس نے بنایا؟
ظفر کی پیشانی پر خفیف سی شکن آئی،
کیا مطلب ہے آپ کا؟
امن ذرا سا آگے جھکا،
مطلب یہ کہ فرض کر لو… مان لیتے ہیں میں نے رؤف صاحب کو قتل کیا۔ چلو، میں مجرم ہوں…
پھر بھی، کیا میں اتنا جاہل ہوں کہ قتل کے بعد،
اپنی ہی ہینڈ رائٹنگ میں…ایسا جملہ ایک صفحے پر لکھ کر،لاش کے ساتھ یادگار کے طور پر چھوڑ آؤں؟
وہ ایک لمحے کو رُکا، جیسے الفاظ کا اثر تولنا چاہتا ہو۔
اگر یہ جرم ہے، تو یقیناً بہت بچگانہ جرم ہے…
اور میں بچہ نہیں ہوں، ظفر۔
ظفر کی نظریں امن کے چہرے پر جمی تھیں،
کبھی کبھی… سچ بھی اتنا صاف ہوتا ہے کہ لوگ اسے جھوٹ مان لیتے ہیں، سرکار۔ ظفر نے کچھ طنزیہ مسکراہٹ سے کہا
امن کی نگاہیں ظفر پر جمی رہیں، لیکن لہجہ تھکا ہوا نہیں، مضبوط تھا۔
جاؤ… جو کرنا ہے کر لو۔ یہ میڈیا کو دیکھوں تبشش کرو، مُجھ پر الزام لگاؤ۔۔ جیل میں ڈالو جو چاہے وہ کرو۔۔۔۔ یہ کہتا وہ اُٹھ کھڑا ہُوا اُس کے پاس اب اور وقت نہیں تھا۔۔ اُس کے جلسہ کا وقت ہوچکا تھا۔۔۔
اُس کے جاتے ہی افتخارِ صاحب بولے۔۔ کیا چاہیے؟؟
اپنے اس سچے انسان کو نکلوا دو سیاست سے۔۔۔ نہیں تو مارا جائے گا۔۔ ظفر نے سرد لہجے میں کہا
پیسے بولو کتنے چاہیے؟؟ افتخارِ صاحب نے اب کے سخت لہجے میں کہا
جس پر ظفر دھیمے سے مسکرایا جتنی اب اسے بچانے کے لیے دیں دیں۔۔۔
افتخار صاحب نے گہری سانس بھر کر بولے،
ظفر… تم جانتے ہو، ہم خرید سکتے ہیں بہت کچھ آوازیں، اصول، وفاداریاں۔ سب کچھ۔۔۔ وہ بھی بہت ہی آسانی سے۔۔
ظفر کا چہرہ اب سنجیدہ تھا،
جانتا ہوں، سرکار۔ مگر امن نہ بکا ہے، نہ بک سکتا ہے… اور شاید اسی لیے خطرے میں ہے۔
کمرے میں لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی۔۔۔
صرف گھڑی کی ٹک ٹک باقی رہی۔
افتخار صاحب آہستہ سے بولے، اگر میں اُسے نکال دوں، تو لوگ سوال کریں گے۔ وہ ہمارا چہرہ بن چکا ہے، ہماری پارٹی کی وہ پہچان ہے جس پر عوام یقین رکھتے ہیں۔
اور وہی یقین ایک دن آپ کا تختہ الٹ سکتا ہے، سرکار۔ ظفر نے سادہ مگر واضح انداز میں کہا۔
افتخار صاحب کی آنکھوں میں اب فکر کی جھلک تھی۔
تو کیا تم چاہتے ہو کہ ہم اُسے خود ہی سیاست سے الگ کر دیں؟
ظفر نے نفی میں سر ہلایا،
میں صرف چاہتا ہوں کہ آپ اُسے بچا لیں۔۔۔
ورنہ جس دن وہ مر گیا…
اُس دن یہ کرسی، یہ محل، یہ نام۔۔۔
سب کچھ جل جائے گا۔۔۔
اور آپ جانتے ہیں، آگ نہ اپنے نہ پرائے دیکھتی ہے۔
افتخار صاحب نے نگاہیں نیچی کر لیں۔
کمرہ ایک بار پھر خاموش ہو گیا۔
++++++++++++
کمرے میں ہلکی سی پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی
امن آئینے کے سامنے کھڑا تھا، سفید قمیص کا اوپر والا بٹن بند کر رہا تھا۔۔۔ میز پر رکھا فون بےصدا روشن ہوا۔
نوٹیفکیشن میں صرف دو لفظ چمکے
From Jabbar.
امن کے ہاتھ لمحہ بھر کو رُکے…
پھر اُس نے فون اٹھایا۔
اسکرین پر جبار کا چہرہ نمودار ہوا۔
پس منظر میں کسی ہوٹل کا پردہ، چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی تھی۔۔۔
السلام علیکم، میرا نام جبار ہے، اور میں امن حنان کا پرانا دوست ہوں۔
میں نے کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر اپنی اور امن کی پرانی تصویر دیکھی، جس کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ میں ‘لاپتہ’ ہوں۔
یہ بالکل جھوٹ ہے۔ میں لندن میں ہوں، اپنی نوکری کے سلسلے میں۔
اور جو میڈیکل رپورٹ گردش کر رہی ہے، وہ بھی جعلی ہے۔
میں نے کبھی امن کو غیر مستحکم یا تشدد پسند نہیں پایا۔
میں جانتا ہوں کہ کسی کی ذہنی حالت کو ‘خطرہ’ کہنا کتنا حساس معاملہ ہوتا ہے۔
امن بائی پولر نہیں ہے۔ وہ انسٹیبل نہیں ہے۔
وہ صرف سچ بولتا ہے۔۔۔
اور شاید سچ بولنا… ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا جرم ہے۔
خدا کے واسطے… لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔
امن نے ایک لمحے کو اسکرین روک دی۔
ویڈیو ختم نہیں ہوئی تھی… تبھی
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی..
کون ہے؟… آجاؤ اندر۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
یُسرٰی اندر داخل ہوئی۔
ہاتھ میں ٹرے، جس پر بھاپ اٹھاتی کافی رکھی تھی۔
قدم نرم، لہجہ دھیمی ہوا جیسا۔
سر… کافی۔
امن نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔
پھر بے اختیار ابرو اٹھایا۔
میں نے تو نہیں منگوائی۔
یُسرٰی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
پر آپ تو باہر جا رہے ہیں نا… جلسے کے لیے؟
امن نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ہاں… جا رہا ہوں۔
تو پی لیں۔ تھوڑی سی تازگی آ جائے گی۔
امن نے لمحہ بھر اُسے دیکھا۔
تمھارا نام؟
یُسرٰی نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
پھر آہستہ سے کہا یسریٰ۔۔۔
پورا نام؟
یسریٰ نور۔۔۔۔
امن نے پلکیں جھپکائیں۔
ٹھیک ہے۔ جاؤ اب۔
یُسرٰی نے ٹرے آگے بڑھائی۔
لیکن یہ… کافی؟
نہیں پینی۔۔۔
جی… ٹھیک۔
وہ پلٹی، لیکن اسی لمحے اس کا پاؤں دہلیز کے قریب پھسل گیا۔
اوہ۔۔۔
ٹرے اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔
کافی کے چھینٹے فرش پر بکھرے،
اور یُسرٰی ساکت لمحے میں نیچے گری۔
امن چونکا اور تیزی سے قدم اُس کی طرف بڑھائے۔
یسریٰ۔۔۔ وہ جھکا۔
یُسرٰی درد سے ہونٹ بھینچے بیٹھی تھی۔
بازو تھام کر اٹھنے کی کوشش کی، مگر مچل کر رہ گئی۔
امن نے بے اختیار اُس کا ہاتھ تھاما،
پہلی بار… يوں اچانک اور ایسے۔۔۔
کہاں لگی ہے؟ پاؤں؟
یُسرٰی نے بس آہستہ سے سر ہلایا۔
چوٹ… زیادہ نہیں۔ پر… تھوڑا درد ہے۔
امن نے گہرا سانس لیا۔
تم بیٹھو۔
یُسرٰی نے اُسے حیرت سے دیکھا۔۔۔
جیسے وہ ابھی بھی یقین نہ کر پا رہی ہو کہ امن خود… اس کے لیے پلٹا ہے۔
یُسرٰی، اب بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی، اور امن… فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھا، اس کا پاؤں نرمی سے تھامے ہوئے تھا۔۔۔۔
کہاں لگی ہے؟
یُسرٰی نے شرمندگی سے پلکیں جھکا لیں۔
یہاں… ایڑی کے قریب۔
امن نے سر ہلایا… اور اگلے ہی لمحے اچانک پوری طاقت سے اس کا پاؤں مروڑ دیا۔
آہہہہ! آپ… آپ کیا کر رہے ہیں؟!
یُسرٰی کی چیخ کمرے میں گونجی،
آنکھوں میں آنسو،
چہرے پر سچ مچ کا درد۔
توڑ دیا میرا پاؤں؟!
وہ تقریباً رو دی۔
امن نے سر جھکا کر ہنسی دبائی۔۔
توڑتا… تو ابھی سہی سلامت بیٹھی نہ ہوتی۔
یُسرٰی نے ناراضگی سے اس کی طرف دیکھا۔
توڑ دیا میرا پاؤں۔۔۔
امن نے اس کا پاؤں آہستہ سے زمین پر رکھا، اور اپنی سانس بحال کی۔
چوٹ اکثر ہڈی میں نہیں، اعصاب میں ہوتی ہے۔ اکڑ جائے تو سیدھا کرنا پڑتا ہے…
یُسرٰی نے بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھا۔
آپ ڈاکٹر بھی ہیں؟
امن نے ایک پل کے لیے اُس کی طرف دیکھا۔
نہیں…
یُسرٰی خاموش ہو گئی۔
کمرے میں چند لمحے صرف سانسوں کی آواز رہی۔
باہر جلسے کی گاڑیاں ہارن دے رہی تھیں۔ وقت بلا رہا تھا۔
امن اٹھا۔ کوٹ پہنا، اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
پھر پلٹ کر اُسے ایک نظر دیکھا۔
سنبھل کر جانا… چوٹ دوبارہ نہ لگے۔
یُسرٰی نے نظریں چُرا لیں۔
امن دروازے سے نکل گیا،
اور پیچھے… اُس کے جاتے ہی یسریٰ اُس کے بیڈ پر گر گئی۔۔۔۔
ہائے… اُنہوں نے میرا ہاتھ تھاما۔۔۔ پہلی دفعہ۔۔ پہلی بار۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپائے، شرما رہی تھی۔
تبھی ہلکی سی کھانسی کی آواز آئی۔
یُسرٰی نے ایک انگلی کے درمیان سے جھانکا…
سامنے امن کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ چونک کر فوراً سیدھی ہوئی اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ روکتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، میرا فون۔ سب پتہ چل رہا تھا کہ وہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔
یُسرٰی نے بیڈ کے اِدھر اُدھر دیکھا، فون تلاش کرنے لگی۔۔۔
اور فون عین اُسی جگہ پر رکھا تھا،
جہاں وہ چند لمحے پہلے لیٹی ہوئی تھی۔
جلدی سے فون اُٹھایا، اُس کے ہاتھ میں دیا،
اور نظریں جھکا کر ہلکی سی شرمندگی سے بولی،
سوری…
امن نے خاموشی سے فون لیا،
کچھ نہیں کہا۔۔۔ بس پلٹ کر چلا گیا۔
++++++++++++
کیٹی اُس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
اس بار اُس کی آنکھوں کا رنگ غیر معمولی حد تک سیاہ تھا،
اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح وہی نقاب…
مگر آنکھیں۔۔
وہ آج بھی قاتلانہ تھیں۔
ریپر کرسی پر بیٹھا، اپنی انگلیوں کی پوروں کو یکساں وقفے سے میز پر مار رہا تھا۔۔
ٹک… ٹک… ٹک…
کیٹی نے ایک ایک کر کے یُسرٰی کی فراہم کردہ معلومات اُس کے سامنے رکھنی شروع کیں۔
باس… اُس نے کہا ہے انیسہ بیگم اور امل سے اُس کی دوستی ہو چکی ہے۔
اور وہ دونوں ویسی ہی ہیں جیسی دِکھتی ہیں۔
صاف دل، شفاف اور سادہ اور افتخارِ صاحب
بس…. ریپر کی انگلی کی حرکت رُک گئی۔
میں ان کے بارے میں جانتا ہوں… آگے بولو۔
کیٹی نے بمشکل پلکیں جھپکیں، پھر سلسلہ جاری رکھا۔
امن گھر کے معاملات کسی سے شیئر نہیں کرتا، خاص طور پر دادی اور بہن سے نہیں۔ جو کچھ بھی وہ جانتی ہیں، میڈیا کے ذریعے ہی جانتی ہیں۔
اور نہ وہ اپنے دادا افتخار صاحب سے کوئی مشورہ لیتا ہے، نہ کسی فیصلے میں اُن کی شمولیت ہے۔
امن… کسی کی نہیں سنتا۔ نہ اپنے خاندان کی… نہ نظام کی۔ وہ صرف اپنی مانتا ہے۔۔۔ اپنی کرتا تھا۔۔۔
لیکن ایک شَخص ہے جس کی امن بہت مانتا۔۔
کون ہے وہ۔۔۔؟؟؟
نہات، نہات نام ہے اُس کا۔۔ امن کا پرسنل اسسٹنٹ ہے، لیکن وہ صرف اُس کا اسسٹنٹ نہیں بلکہ کافی اچھا دوست بھی ہے، گھر میں بھی اُس کا کافی آنا جانا ہے۔۔
کمرے میں لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی۔
ریپر نے آہستہ سے اپنی کرسی کا زاویہ بدلا۔ آنکھیں اب بھی کیٹی پر جمی تھیں۔
اور جبار؟
اُسے نمبر مل چکا ہے۔
جبار نے ویڈیو بنا کر دے دی ہے…
اصل ویڈیو، جس میں وہ واضح کہتا ہے کہ ساری رپورٹ جھوٹی ہے۔۔۔
ٹک۔
ریپر کی انگلیاں دوبارہ میز پر چلنے لگیں۔
حملہ کروا دو۔
وہ جلسے میں نہ پہنچے۔
کیٹی نے آہستہ سے قدم پیچھے کیے۔
نقاب کے پیچھے ریپر کی آنکھیں…
اب مطمئن تھیں۔
سازش تیار ہو چکی تھی۔
شطرنج کی چال رکھی جا چکی تھی۔
اب بس…
چال چلنے والا آگے بڑھے گا۔
++++++++++++
گاڑی سڑک پر روانی سے بہہ رہی تھی۔۔۔
امن پچھلی سیٹ پر بیٹھا، کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
اُس کے ساتھ ہی ارحم بیٹھا تھا، جو ہر دو منٹ بعد فون چیک کرتا اور دوبارہ جیب میں رکھ دیتا۔
آئرا اگلی نشست پر ڈرائیور کے برابر بیٹھی تھی۔۔
کتنی دیر رہ گئی؟ امن نے آہستہ سے پوچھا۔
پندرہ منٹ، ڈرائیور نے نگاہیں سڑک پر رکھتے ہوئے جواب دیا۔
امن نے گھڑی دیکھی، پھر آنکھیں بند کر لیں۔
شاید وہ اُن الفاظ کو دہرا رہا تھا،
جو آج رات ہزاروں لوگوں کے دلوں میں اُترنے والے تھے۔
پھر… اچانک۔۔
ہوا بدلی۔
ایک تیز، خراش دار آواز فضاء میں گونجی۔
گولی۔
ٹک۔۔۔
شیشے پر ایک معمولی سی دراڑ۔
پھر…
دوسری، تیسری، چوتھی…
اک ذرا کی دیر میں پوری فضا میں گولیوں کا شور گونج اُٹھا۔
نیچے جھکو۔۔۔۔
ارحم کی چیخ گونجی۔
ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی موڑی، مگر اگلے ہی لمحے سامنے سے آتی سفید وین نے اُن کی گاڑی کے سامنے بریک لگا دی۔
گاڑی جھٹکے سے رُکی۔
امن نے پچھلے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
ارحم۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔۔
باہر مت نکلو سر۔۔۔۔ ڈرائیور چیخا۔
مگر دیر ہو چکی تھی۔
فائرنگ کا رخ اب واضح طور پر صرف ایک طرف تھا…
امن کی طرف۔۔
ارحم نے بلا تردد، امن کی جگہ لی۔۔۔
اُس نے فائر کھولا، ایک نہیں، کئی…
مگر دشمن زیادہ تھے۔۔۔
اور ہر گولی… صرف امن کے لئے تھی۔
پولیس کی گاڑیوں نے امن کی گاڑی کو گھیر لیا تھا
اسی لمحے…
کوئی برق کی مانند نکلی تھی۔
ایک اور کار…
بہت قریب آ کر رکی۔
ڈرائیونگ سیٹ پر آئرا تھی۔۔۔
ہاتھ اسٹیئرنگ پر، آنکھیں فیصلہ پر۔
ارحم! جلدی۔۔۔۔
اُس نے پکارا۔ وہ کب کار سے نکلی کب کار لے کر آئی کِسی کو علم نہ ہوا۔۔۔
امن اور ارحم بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اُس کار میں بیٹھے۔۔۔
پیچھے گولیوں کا طوفان،
آگے ایک نئی سمت۔
آئرا نے اسٹیئرنگ گھمایا۔۔۔
گاڑی چھوٹے سے خلا میں سے نکلی،
جیسے کسی شیرنی نے اپنے بچوں کو بچا کر دشمنوں کے بیچ سے نکلنا ہو۔
امن نے ایک آخری بار پیچھے دیکھا۔۔۔
جہاں شیشے ٹوٹ رہے تھے،
پولیس بندوقیں تانے کھڑی تھی،
دشمن کی گولیاں ابھی بھی چل رہی تھی۔۔
اور وہ موت کے منہ سے نکل کر باہر آچکا تھا
بے شک ہر انسان کو موت اُس کے وقت پر ہی
آنی ہے۔۔۔۔
گاڑی اب سنبھل چکی تھی۔۔۔
رفتار معمول پر تھی، مگر ماحول میں ابھی بھی گولیوں کی بو باقی تھی۔
ارحم نے کچھ دیر خاموش رہ کر پھر اچانک منہ بگاڑ کر کہا، سر… اگر ابھی ہم نہ ہوتے نا، تو آپ کا معاملہ تو سیدھا بِنا ٹکٹ کے اوپر تھا۔۔۔
امن نے ایک نگاہ اُس پر ڈالی۔۔۔ کوئی احسان نہیں کیا۔ میں تنخواہ اسی کام کی دیتا ہوں تم لوگوں کو۔۔۔
ارحم ہنسا،
آپ نہیں سر… وہ تنخواہ تو افتخار صاحب دیتے ہیں۔
آپ تو ہمیں رکھنے کے ہی حق میں نہ تھے…
کیوں آئرا؟
آئرا، جو سامنے بیٹھی کر دونوں کی نوک جھونک سُن رہی تھی،
آنکھیں سڑک پر، مگر لبوں پر ایک دبی مسکراہٹ۔
ہاں ہاں… بالکل۔
اِنہیں لگتا ہے موت جب لکھی ہوگی، تبھی ہی آئے گی۔
بے شک… لیکن احتیاط نام کی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے نا،؟
تقدیر پر ایمان رکھنا الگ بات ہے،
اور عقل کا استعمال نہ کرنا… وہ الگ۔
امن نے اُس کی طرف دیکھا، ایسی بات نہیں ہے…
اُس کا لہجہ پرسکون مگر واضح تھا،
میرے اور بھی سیکیورٹی گارڈز تھے،
جنہیں تم پیچھے چھوڑ آئیں۔
اور پولیس والے بھی…
ارحم نے فوراً لقمہ دیا،
اوہ ہاں! وہ جو چار منٹ میں فائرنگ کے بیچ میں بھی چائے پیتے ہوئے پہنچتے ہیں؟
یا وہ جو حملہ آوروں سے پہلے ہی بھاگ جاتے ہیں۔۔۔
آئرا نے ذرا سا ہنس کر سر ہلایا،
اور جنہیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ اصل خطرہ گاڑی میں ہے یا باہر…
امن نے اب کی بار دونوں کو گھور کر دیکھا۔۔
ایک ایسی نظر جو کہہ رہی تھی۔۔
خاموشی اختیار کرو، ورنہ زبان کی گولیاں پہلے میں چلاؤں گا۔۔۔
گاڑی اب موڑ کاٹ رہی تھی۔۔۔
آئرا نے بریک تھوڑی نرم کیں، اور پھر کن اکھیوں سے امن کو دیکھا۔
اب بتائیں… جلسے میں جانا ہے؟ یا گھر؟
امن نے لب کھولنے ہی تھے کہ۔۔۔
فون بج اٹھا۔
وہ نمبر دیکھا، اور ایک لمحے میں اُس کی پیشانی کی رگیں تن گئیں۔
فون اٹھایا،
ہاں؟
دوسری طرف کی آواز گھبراہٹ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
امن کی آنکھیں سکڑیں۔
کیا؟
اب آئرا اور ارحم دونوں پوری طرح متوجہ ہوچکے تھے۔
امن کی گرفت موبائل پر مضبوط ہو گئی،
اور چہرے پر وہ ٹھہرا ہوا سکون…
اُسی لمحے غائب ہو گیا۔
نہات کو گولی لگی ہے، وہ اسپتال میں ہے۔
ایک سناٹا گاڑی میں اُتر آیا۔۔۔
ایک ایسا سناٹا، جو چیخنے لگا۔
++++++++++++++
وہ جلسہ چھوڑ کر ہسپتال کے در و دیوار میں ساکت کھڑا تھا…
کیونکہ جب دوست موت سے لڑ رہا ہو،
تو دنیا کی ہر ترجیح، ہر تقریر، ہر مقصد بے معنی لگنے لگتا ہے۔
دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا امن اپنی انگلیوں کی پوروں کو دبائے… ایک انجانی بے چینی سے گزر رہا تھا۔
دروازے پر چھوٹا سا بورڈ آویزاں تھا
ICU — روم نمبر 308
ڈاکٹر کب باہر آئیں گے؟
ارحم نے نرس سے پوچھا، مگر جواب ندارد۔
یہ… اسے گولی کیسے لگی؟ کیا ہوا تھا؟ امن نے پوچھا۔۔۔
یہ بھی جلسے کی طرف ہی آ رہا تھا… جوں ہی اُس کی گاڑی موڑی، ویسے ہی حملہ ہو گیا۔ بالکل ویسا ہی جیسا ہمارے ساتھ ہوا۔ اُس کے تمام سیکیورٹی گارڈز زخمی ہیں۔ ارحم نے جواب دیا
امن کا چہرہ پل بھر کو سخت ہوا۔۔
سوال، اب الجھ کر شبہ میں بدل چکا تھا۔
لیکن… نشانہ تو میں تھا… تو پھر نہات؟
شاید… حملہ آوروں کو لگا ہو، وہ آپ ہی ہیں۔
ناممکن۔ وہ نہات کو پہچانتے تھے۔ وہ میرا ڈبل نہیں تھا۔۔۔ اور نہ ہی وہ میری طرح اتنے زیادہ گارڈ لے کر گھومتا ہے۔۔۔
کیا پتہ نشانہ نہات ہی ہو۔۔۔ ائرا نے آہستہ سے کہا
ارحم نے ایک نظر اُسے دیکھا پھر کچھ سوچتے بولا
ائرا تُم کچھ الگ الگ رہی ہو۔۔۔
ائرا نے نظرے گھمائی ہاں آج زیادہ میک آپ کیا ہے۔۔
ارحم کی مسکراہٹ اُبھر آئی،
میک اپ نظر تو نہیں آرہا اس ماسک سے۔۔۔
پھر ارحم نے غور سے ائرا کو دیکھا
مسک کے اوپر بھی کہیں میک آپ نہیں لگایا ہوا؟
چپ رہو ارحم یہ کوئی وقت ہے مُجھے تنگ کرنے کا۔۔۔ ایرا نے امن کا چہرا دیکھ ناگواری سے کہا
نہیں تُم ائرا ہی ہو آگیا مُجھے یقین۔۔۔ ارحم نے خفیہ مسکراہٹ لیے کہا
ہاں بس اب چپ کرو۔۔۔ ائرا نے ناگواری سے کہا
+++++++++
ٹی وی اسکرینز پر بریکنگ نیوز کی سرخ پٹیاں دوڑنے لگیں۔ ایک وقت میں دو حملے…
امن حنان اور نہات خان… دونوں کو نشانہ بنایا گیا؟
سیاسی دشمنی یا اندرونی بغاوت؟
اور اس وقت کی سب سے بڑی خبر: امن حنان کی گاڑی پر حملے کی کوشش ناکام، پارٹی رہنما نہات خان شدید زخمی، حالت نازک۔۔۔
ذرائع کے مطابق یہ حملہ جلسے سے چند کلومیٹر دور اُس وقت ہوا، جب امن حنان سیکیورٹی قافلے کے ہمراہ جلسے کی طرف روانہ تھے۔
نیوز دیکھ انیسہ بیگم کا دل بیٹھ گیا
ہاتھ کانپتے ہوئے وہ صوفے کے بازو سے سہارا لے کر اُٹھیں۔۔۔
مجھے نِہات کے پاس لے چلو… میرا بچہ… وہ اکیلا ہے اسپتال میں…
بیٹھ جاؤ۔۔۔۔
افتخار صاحب کا لہجہ بجلی کی کڑک جیسا تھا۔
امن اُس کے ساتھ ہے… تمہیں وہاں جا کر کیا کرنا ہے؟ رونا دھونا؟ تمہارا پوتا نہیں ہے وہ… بس چُپ چاپ یہاں بیٹھی رہو۔
انسہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو ابل پڑے،
لیکن افتخار صاحب کا چہرہ بےرحم سنگ مرمر کی مانند سخت تھا۔
اُن کی آواز میں اب وہی اضطراب بول رہا تھا
جو برسوں سے سیاست کے سینے میں دبا رکھا تھا۔۔
یہ ریپر… حد سے باہر جا رہا ہے۔
میں نے اُسے ایک موقع دیا،
اور اُس نے ہمارے ہی بچوں پر بندوقیں تان دیں۔
اب یہ کھیل ختم کرنا ہوگا۔۔۔
امل بھی صوفے کے کھونے میں دبکی بیٹھی تھی۔۔نہات پر حملے کی خبر نے اُسے بھی ہلا کے رکھ دیا تھا۔۔۔
ٹی وی پر اب بھی بریکنگ نیوز چل رہی تھی
امن حنان اور نہات پر ایک ہی وقت میں حملہ اندرونی رابطے کا شبہ
+++++++++++++
روشنی ہلکی تھی۔
مشینوں کی بیپ بیپ میں زندگی کی لہر بہہ رہی تھی۔
نہات کے آس پاس خاموشی تھی…
اور اس خاموشی میں ایک چہرہ بار بار آنکھوں کے پردے پر اُبھرتا، مٹتا تھا۔
آئره دروازے کے پاس کھڑی تھی، اُس کے چہرے پر احتیاط کا خول تھا، لیکن اندر اضطراب…
نہات کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔۔۔
مشین پر دل کی رفتار ایک دم بدلی، نرس فوراً قریب آئی۔
سر… پیشنٹ ریسپانڈ کر رہا ہے۔
چند لمحوں بعد… اُس نے آنکھیں کھولیں۔
دھند… ہلکی ہلکی روشنی… اور پھر چہرے… آہستہ آہستہ واضح ہونے لگے۔
یہ… کون؟ کہاں ہوں میں؟
نہات… شُکر ہے تمہیں ہوش آیا۔
نہات نے آنکھیں بند کیں۔ جیسے کچھ یاد آنے لگا ہو۔
چہرے پر ایک تکلیف بھری لہر آئی۔
++++++++++++++++
ریپر کا نیا وار امن کی سیاسی پارٹی کے وہ تمام سرکردہ لوگ، اسپانسرز، اور حمایتی، جن کے دم پر امن کا جھنڈا بلند تھا۔
اگلی صبح۔۔۔ الگ الگ لوکیشنز
ایک سیاستدان کی گاڑی میں۔۔۔
کار اسٹارٹ کرتے ہی، ڈیش بورڈ پر ایک چھوٹا سا لفافہ رکھا ملا۔
لفافے میں ایک چھوٹی سی تصویر۔۔۔ اُس کے بیٹے کی اسکول سے نکلتے وقت کی، نیچے صرف ایک
لائن اگلی بار وہ اسکول واپس نہیں آئے گا… امن سے فاصلہ رکھو۔
دوسرے سیاستدان کے دفتر میں
ای میل آئی — کوئی اَن ناؤن ایڈریس۔
Subject: “Next”
ای میل میں ایک ویڈیو کلپ تھی — چند سیکنڈز کی، جس میں اس کا اپنا گھر چھت سے فلمایا گیا ہے۔
پارٹی کا ایک مرکزی فنانسر (Investor):
اُسے اُس کی فیکٹری کی CCTV فوٹیج پر ایک سایا نظر آیا۔۔
اور پھر ایک پیغام۔۔۔
سرمایہ بچانا چاہتے ہو؟ امن سے تعلق ختم کرو۔
+++++++++++
دوپہر ڈھل چکی تھی۔
اور دروازے کے پار کھڑی انیسہ بیگم، نم آنکھوں سے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔
نہات وہی تھا… مگر پھر بھی کچھ بدلا ہوا۔
چہرہ زرد، کندھے جھکے ہوئے، بوجھل آنکھیں…
انیسہ بیگم دو قدم آگے بڑھیں،
میرا بچہ…
انھوں نے اُس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
نہات نے پہلی بار نظر اُٹھا کر انیسہ بیگم کو دیکھا
اور بس ایک دھیمی سی مسکراہٹ دی،
امل دوڑ کر آئی،
بھائی… کیسے ہو؟ درد تو نہیں ہو رہا؟
نہیں… میں بلکل ٹھیک ہوں
آپ لوگ اس کا خیال رکھ لیں گی نا؟
امن نے آہستہ سے پوچھا، جیسے ایک ذمہ داری کسی اور کے کندھے پر منتقل کر رہا ہو۔
ہاں ہاں، امل نے فوراً کہا، آواز میں محبت تھی، مگر آنکھوں میں ایک دھندلی سی فکر۔
ہم نہیں رکھیں گے تو اور کون رکھے گا ان کا خیال؟ ان کے گھر میں تو ویسے بھی کوئی نہیں ہے ان کا خیال رکھنے والا۔۔۔
انیسہ بیگم نے نہات کا بازو تھام کر اُسے صوفے پر بٹھایا۔ گولی سینے میں لگی تھی… خطرہ شدید تھا، مگر اللہ کا کرم تھا کہ جان بچ گئی۔
ہاں، اسی لیے تو اسے میں یہاں لے آیا… ورنہ یہ تو اپنے گھر جانے کی ضد کر رہا تھا، امن نے دھیمے سے کہا اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے…
اور قمیض پر شکنیں بتا رہی تھیں کہ وہ دو دنوں سے ہسپتال میں تھا۔ نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ جذباتی طور پر بھی اُسی وارڈ کے در و دیوار میں قید رہا۔
دوست کی خدمت ہوگئی ہو تو… پارٹی پر بھی دھیان دے دو،
افتخار صاحب کی آواز میں وہی ٹھہرا ہوا جبر تھا، جو برسوں کی سیاست نے اُن کے لہجے میں بسا دیا تھا۔
صرف چار دن رہ گئے ہیں الیکشن ہونے میں۔
امن نے آہستہ، مگر پُر اعتماد لہجے میں کہا
مجھے معلوم ہے، دادا۔
وہ صوفے پر بیٹھا تھا، نگاہیں نہات پر، مگر آواز سیدھی افتخار صاحب تک جا رہی تھی۔
لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جو دوست خون بہا کر میرے ساتھ کھڑا ہے…
اس کا ہاتھ تھامے بغیر، اسٹیج پر کھڑا ہونا میرے لیے سیاست نہیں… بے وفائی ہوگی۔
افتخار صاحب نے کچھ پل اُسے دیکھا۔
چشمے کے پیچھے آنکھیں سخت تھیں،
اور اگر تمھاری یہ وفاداری ہمیں ہارا دے تو؟
امن نے پلکیں جھپکائیں، پھر آہستہ سے کہا
تو میں وہ ہار قبول کر لوں گا… لیکن دوستی کو ہارنے نہیں دونگا۔۔۔
اب جیلس مت ہوئیے گا، افتخار صاحب۔
نہات نے مُسکرا کر افتخار صاحب کی طرف دیکھا،
جس پر افتخار صاحب جل بھن کر رہ گئے۔
میں؟ جیلس؟ تم جیسے بچوں سے؟ اتنے برے دن نہیں ائے ابھی میرے۔۔۔ وہ زیرِ لب بڑبڑائے۔
امن نے نظریں نیچی کیں تاکہ ہنسی چھپ سکے،
امل نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی،
جبکہ انیسہ بیگم نے مسکرا کر تسبیح گھمانا جاری رکھا۔
جیلس نہیں تو پھر یہ ماتھے کی رگ کیوں پھڑک رہی ہے، افتخار صاحب؟
نہات نے شرارت سے کہا اور آہستہ آہستہ انیسہ بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا،
افتخار صاحب کا چہرہ غصے اور لاچاری کا عجیب امتزاج بن گیا۔
امن! یہ بدتمیزی کر رہا ہے ہم سے، کچھ کہو اِسے!
امن نے بے نیازی سے کہا،
دادا، بیمار ہے… معاف کر دیں۔
ویسے بھی… زبان سے نہیں، گولی سے زیادہ مار کھا چکا ہے۔
کمرے میں ہلکی ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔
افتخار صاحب نے چہرہ موڑ لیا
مگر سب جانتے تھے… وہ اندر ہی اندر جل رہے تھے۔
++++++++++++++
کمرۂ میٹنگ، دن کے 11 بجے
کمرہ مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ تھا، مگر ماحول میں ایک عجیب سی گھٹن تھی۔
امن بالکل تیار، نیوی بلیو کوٹ پینٹ، سفید شرٹ، اور کلائی میں وہی سادہ گھڑی…
چہرے پر ہلکی سی تازگی، مگر آنکھوں میں وہی پرانی تھکن۔
دو دن کی نیند اور دو دن کا سکوت… اب الفاظ کا وقت تھا۔
وہ میز کے صدر مقام پر بیٹھا،
ارد گرد پارٹی کے تمام اہم عہدیدار موجود تھے،
مگر آج اُن کے چہروں پر وہ روایتی اعتماد نہیں تھا۔
چند لمحے خاموشی رہی،
پھر سب سے پرانا اور تجربہ کار رکن انور ندیم بول اٹھا۔
امن، ہم میں سے پانچ لوگوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم سیاست چھوڑ رہے ہیں۔
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
امن نے نظریں گھما کر سب کو دیکھا…
پانچ چہرے جھکے ہوئے تھے۔
کیا ہوا؟ کوئی وجہ تو ہوگی؟
امن کی آواز میں حیرت کم، سنجیدگی زیادہ تھی۔
دھمکیاں مل رہی ہیں، کھلے عام۔
ہماری فیملیز ٹارگٹ ہو رہی ہیں۔
ریپر کا اگلا وار ہم میں سے کسی پر بھی ہو سکتا ہے۔
ایک ایک کر کے سب بولنے لگے۔
کسی نے کہا فون کالز آ رہی ہیں، کسی نے کہا گاڑی فالو کی گئی ہے،
کسی کے بچوں کی تصاویر دروازے پر پھینکی گئی ہیں۔
امن نے آنکھیں بند کیں… پھر آہستہ سے بولا
ڈرانا… یہی تو چاہتا ہے وہ۔ اگر ہم آج پیچھے ہٹ گئے،.تو کل کوئی اور کھڑا نہیں ہوگا۔
یہ سیاست نہیں، جہاد ہے، اپنے ملک کو اندر سے بچانے کا۔
انور ندیم نے گہری سانس لی،
ہم آپ کے جذبے کو سمجھتے ہیں، امن…
مگر ہم میں اتنی ہمت نہیں کہ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائیں۔
امن خاموشی سے سر جھکائے سب کی بات سنتا رہا
پھر آہستہ سے بولا۔ٹھیک ہے۔۔آپ جا سکتے ہیں۔
++++++++++++++
گھر کے اُس مخصوص حصے میں ہلکی مدھم روشنی تھی۔
نہات بیڈ پر بیٹھا تھا، دوائیں وقت پر کھا چکا تھا۔
سینہ اب بھی کبھی کبھار دکھتا تھا، مگر آنکھوں میں پہلے جیسی چمک لوٹنے لگی تھی۔
امن دروازے کے کنارے کچھ دیر کھڑا رہا… پھر خاموشی سے اندر آیا۔
نہات نے مسکرا کر کہا
آگئے؟ آج کے غداروں کی کونسل ختم ہو گئی؟
امن نے ہلکا سا ہنسا، پھر آہستہ آ کر نہات کے سامنے بیٹھ گیا۔ پانچ لوگ چھوڑ کر چلے گئے…
پانچ وہ، جو دعویٰ کرتے تھے کہ میرا سایہ ہیں۔
اور آج، ایک سایہ بھی ساتھ کھڑا نہ رہا…
نہات نے آہستہ سے کہا لیکن میں کھڑا ہوں۔ زخمی ضرور ہوں، مگر اب بھی ساتھ کھڑا ہوں۔۔۔
امن نے سر جھکا کر کہا
یہی بات تو ڈراتی ہے نہات…
میں نہیں چاہتا کہ جو میرے ساتھ رہے، وہ قربان ہو۔
تو کیا اب رک جاؤ گے؟ نہات نے پوچھا۔۔۔۔
نہیں… رکنا نہیں چاہتا۔۔۔ میرا دل نہیں مانتا اگر میں سیاست بنا کوشش کیے چھوڑ دوں، اگر میں کراچی میں امن نہیں لاسکا، تو میں پھر جی نہیں سکوں گا۔۔۔
نہات نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا
پھر کیوں گھبرا رہے ہو، لڑو جو جا رہے جانے دو،
ایک دفعہ الیکشن جیت گئے نہ ہم، تو سب کچھ تو ویسے ہی ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔
امن یہ سننے کے بعد خاموشی ہوگیا نہ آنکھوں میں اُس کے کوئی تاثر تھا نہ چہرے میں لیکن نہات جانتا تھا۔۔۔ پھر نہات نے مسکراتے ہوئے کہا
اگلی بار ریپر اگر مجھ پر دوبارہ حملہ کرے، تو یاد رکھنا…
میں بھی گولی کھا لوں گا، مگر گرنے نہیں دوں گا تمہیں۔
امن نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
بس تم میرے ساتھ رہنا… باقی سب مینج ہو جائے گا۔
جو دنیا کے سامنے مضبوط نظر آتا تھا۔۔۔
سہارا دینے والا، گرنے سے بچانے والا، ہر طوفان میں سب کا ہاتھ تھامنے والا۔ چہرے پر ہمیشہ ایک ٹھہرا ہوا سکون، ایک غیر متزلزل اعتماد۔ ایسا کہ جیسے کچھ بھی ہو جائے، وہ ہلے گا نہیں۔
جیسے زندگی کے کسی زخم نے اُسے کبھی چھوا ہی نہ ہو۔
جیسے ہر درد اس کے لمس سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہو۔
مگر وہ… اپنی کمزوری کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا۔
نہ آنکھ سے، نہ آواز سے، نہ لفظوں سے۔
کیونکہ اُسے معلوم تھا۔۔۔
اگر وہ ٹوٹ گیا،
تو بہت سے لوگ بکھر جائیں گے۔۔۔
اسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
امن نے چونک کر گردن موڑی۔۔۔ اور یُسرٰی اندر داخل ہوئی۔ ہاتھ میں سادہ سفید ٹرے، جس میں ایک پیالہ دھواں دیتا سوپ رکھا تھا۔ چہرے پر خاموش سی مسکراہٹ لیے وہ میں سوپ لے کر آئی ہوں۔
نہات نے ایک بھنویں اُچکائی، سوپ کیوں؟
دادی جان نے کہا ہے آپ کو سوپ دے آؤں…
دادی جان؟ واہ بھئی واہ… آج تک کسی اور كو تو دادی کو دادی جان کہتے نہیں سُنا… دادی کو دادی جان تو ہم بھی نہیں کہتے۔۔
یُسرٰی کی نگاہ جھک گئی، مسکراتے ہوئے آہستہ سے بولی۔۔ وہ… میں دادی جان کو بہت پسند ہوں نا…
نہات نے اس کی طرف دیکھا، تو اس میں مسکرانے والی کون سی بات تھی؟
اب اِس کے پیچھے مت پڑ جانا، تُم لاو اِدھر۔۔۔ سوپ مُجھے دو۔ امن نے نہات کو سمجھتے یسریٰ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
ہاں… وہ سوپ کا باؤل امن کو پکڑانے کے بعد جانے کے لیے مُڑی ہی تھی کہ رُک کر مُسکرا کر بولی
اور کچھ چاہیے؟
ہاں۔ نہات نے کہا
کیا؟
جواب۔
کون سا جواب؟
وہی… اُس پر مسکرانے والی کون سی بات تھی؟
جانے دو ناں، کیوں تنگ کر رہے ہو اِسے… امن نے نہات کو ٹوکا۔۔۔
نہات نے معصومیت سے کندھے اچکا کر کہا میں کب روک رہا ہوں؟ میں تو بس جواب مانگ رہا ہوں…
آپ دادی جان سے پوچھ لیں۔ یُسرٰی نے معصومیت سے کہا اور دروازے سے نکل گئی۔
تمہیں کیا مزا ملتا ہے، لڑکیوں کو تنگ کرنے میں؟
امن نے اسے گھورتے ہوئے کہا،
نہات نے آنکھوں میں شرارت لیے، بے ساختہ انداز میں کہا، لڑکیوں کو نہیں، معصوم لڑکیوں کو تنگ کرنے میں مزا آتا ہے۔
(نہات ایسی باتیں بھی کرتا تھا اگر اُس کے ساتھ کام کرنے والے یہ دیکھ لیتے تو یقین نہیں کرتے)
امن نرمی سے بولا تو پھر کر لو کسی معصوم لڑکی سے شادی… ساری زندگی یونہی تنگ کرتے رہنا۔
بظاہر یہ دو دوستوں کے بیچ عام سے گفتگو ہوگی لیکن ان کے بیچ نہیں تھی،
امن یہ بات بہت سنجیدگی سے کی تھی اُسے نہات کا اکیلا پن برداشت نہیں ہوتا تھا۔۔۔
نہات ہنسا، اس جنم میں تو نہ ہو پائے گا…
امن نے سنجیدگی سے اُس کی طرف دیکھا۔ اور سوپ کا باؤل اُسے پکڑایا۔۔۔
کیوں؟ کیا کمی ہے تم میں؟ تم جس لڑکی پر ہاتھ رکھو گے… وہ تمہاری ہو جائے گی۔
اپنا حال نہ سنائیں حضور۔
یہ بات تو آپ پر فٹ بیٹھتی ہے۔
امن حنان جس لڑکی پر ہاتھ رکھے گا، وہ اُس کی ہو جائے گی۔
آپ پر تو پورا کراچی مرتا ہے حضور۔
وہ ابھی بھی مذاق کے موڈ میں تھا۔
امن نے گہری سانس لی۔
میں اپنی نہیں، تمہاری بات کر رہا ہوں…
میرا وقت جب آئے گا، میں شادی کر لوں گا۔
نہات نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا،
کیا اب کون سا وقت آئے گا؟ بڈھے ہو گئے ہو حضور۔
تو بڈھی سے شادی کر لوں گا۔ امن نے عام انداز میں کہا
کیا مطلب ہے آپ کا؟ آپ ساری جوان لڑکیوں کا دل توڑ دیں گے؟ نہات سوپ پیتے مزے سے کہا۔۔۔
امن نے سنجیدہ ہو کر کہا، نہات… میں کہہ رہا ہوں، شادی کر لو۔
اس دنیا میں میرا جوڑا نہیں بنا حضور،
میری شادی تو اب سیدھا جنت میں ہی ہو گی۔
کرلو شادی نہات، اکیلے رہتے ہو تم۔ ایک بیوی آجائے گی تو وہ خیال رکھے گی تمہارا۔ امن نے سنجیدگی سے کہا
نہات نے مسکرا کر کہا، تم ہو نہ… میرا خیال رکھنے کے لیے؟
مسئلہ کیا ہے شادی کرنے میں؟
مسئلہ یہ ہے کہ کوئی تم جیسی وائف میٹریل نہیں ملتی… آج کل کی لڑکیاں گولڈ ڈگرز ہیں۔
شادی نہیں کرنی، مت کرو…
لیکن ساری لڑکیوں کی توہین مت کرو،
سب ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
امن نے سنجیدگی سے کہا
اوکے… نہیں کر رہا شادی۔
وہ لاپروائی سے بولتا سوپ پینے لگا۔۔۔
نہات… میں کب تک تمہارے پیچھے اکیلا لگا رہوں گا؟ کر لو شادی… میرے لیے ہی سہی۔
نہات کی مسکراہٹ ہلکی پڑ گئی۔
جیسے ہی کوئی تم جیسی لڑکی ملی، فوراً کر لوں گا۔
کسی بھی معصوم لڑکی سے شادی کر لو…
وہ میری طرح ہی تمہارا خیال رکھے گی۔
نہات کی آواز دھیمی پڑ گئی۔
کیا لگتا ہے تمہیں؟ کوئی بھی لڑکی… میرا اتنا دھیان رکھ سکتی ہے…؟ ایسی، جو میں کہوں ‘جاؤ’…
تو وہ آ جائے۔ میں کہوں ‘مجھے تمہاری ضرورت نہیں’… تو وہ پھر بھی پاس رہے۔
میں بیمار ہوں اور کہوں ‘میں ٹھیک ہوں’…
تو وہ سمجھ جائے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
ایسی… جو میری آنکھیں پڑھ لے، میرے بنا کہے۔
امن نے سنجیدگی سے نہات کی بات سنی پھر بولا
چلو، میں ڈھونڈتا ہوں کوئی سائیکولوجسٹ لڑکی تُمہارے لیے، جو تمہارا دماغ پڑھ سکے۔۔۔
نہات سنجیدہ ہو گیا۔
یار… سیریسلی؟ تم مذاق سمجھ رہے ہو؟
ہاں۔۔ میں سمجھ گیا ہوں تمہاری بات…
تم سائیکولوجسٹ ہی چاہتے ہو، جو بنا بولے تمہاری بات سمجھ جائے، جو تمہارا دماغ پڑھ لے۔
او بھائی، ایسا کب کہا میں نے؟ تم نے ہزار کتابیں پڑھ لی ہیں لیکن محبت کے معاملے میں بالکل
پھوہڑ ہو۔
This… this is called love.
امن کی آنکھوں میں وہ ٹھہری ہوئی سنجیدگی تھی،
دیکھو، یہ جو تم ‘لوو’ کی بات کر رہے ہو نا… یہ سب کتابوں میں اچھا لگتا ہے، حقیقت میں نہیں۔
ریئل لائف میں اگر تم کسی سے کہو گے کہ چلے جاؤ۔۔ تو وہ چلا جائے گا۔
اگر تم کہو گے کہ تم ٹھیک ہو، تو وہ سمجھے گا تم واقعی ٹھیک ہو۔
کیونکہ لوگ لفظ سنتے ہیں، دل نہیں پڑھتے۔
وہ صرف وہی دیکھتے ہیں جو تم دکھاتے ہو، وہی سمجھتے ہیں جو تم کہتے ہو۔
اگر تم اندر سے ٹوٹ رہے ہو، لیکن چہرے پر مسکراہٹ ہے… تو دنیا یہی مانے گی کہ تم خوش ہو۔
جاؤ یار… سارا موڈ خراب کر دیا۔ سمجھ گیا… میں محبت کے معاملے میں بہت پھوہڑ ہوں تم۔
نہات نے جلدی سے اپنا سوپ ختم کیا، خالی پیالہ سائیڈ پر رکھا اور چپ چاپ کمبل میں سمٹ گیا۔
امن اُسے دیکھ دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ باہر نکل گیا۔
+++++++++++
امن فریش ہو کر جب واش روم سے نکلا، تو اچانک میڈیا کی چیختی سرخیاں اُس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگیں۔
جبار کی ویڈیو… جو ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی تھی۔
رؤف صاحب کی موت… جس کی کوئی خبر نہیں آ رہی تھی۔
یہ سب ایک لمحے میں اُسے یاد آیا۔
وہ گھبرا کر فوراً فون کی طرف لپکا۔
نیوز ایپس اور سوشل میڈیا پر ہر جگہ اُس اور نہات پر حملے کی خبریں چھائی ہوئی تھیں۔
پھر اُس نے ایک پچھلی خبر کھولی۔۔۔
جبار کی ویڈیو کسی اَن نون آئی ڈی سے اپلوڈ ہو چکی تھی۔
ویڈیو نے سب سچ واضح کر دیا تھا۔
امن پر لگے الزامات ختم ہو چکے تھے،
اور میڈیا میں اب اُس کی صفائی کے چرچے ہو رہے تھے۔
رؤف صاحب کی موت کو پولیس خودکشی قرار دے رہی تھی۔
امن بس خاموشی سے، خالی نظروں سے اس اسکرین کو دیکھتا رہا،
جہاں اُس کی زندگی لمحوں میں بدل رہی تھی۔۔
بغیر اُس سے پوچھے۔
وہ حیرانی اور الجھن کے بیچ کھڑا تھا۔
میں نے تو جبار کی ویڈیو اپلوڈ نہیں کی… تو پھر… یہ کس نے؟
وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔
دماغ possibilities میں الجھنے لگا۔
کیا جبار نے خود اپلوڈ کی؟
پھر فوراً نفی میں سر ہلایا،
ہاں، اُس نے ہی کیا ہوگا… کیونکہ جبار اور میرے علاوہ اس ویڈیو کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا۔
پھر اُس نے جلدی سے جبار کو ایک میسج لکھا۔۔
تھنک یو
اور سینڈ کر دیا۔
لیکن اگلے ہی لمحے ایک اور خیال اُس کے دماغ میں بجلی کی طرح کوندا۔۔۔
رؤف صاحب؟ افسر ظفر تو اِس کو دھمکیاں دے کر گیا تھا…
امن کا دل دھڑکنے لگا۔
وہ لمحہ بھر کو ساکت ہوا، پھر جیسے کچھ یاد آ گیا۔۔۔ دادا…؟
وہ دوڑتا ہوا کمرے سے نکلا۔
دادا…؟ دادا…؟
انیسہ بیگم نے اُسے اس طرح پکارے سنا تو کچن سے باہر آئیں۔
اے، کیا ہوا امن؟
امن سیدھا اُن کے قریب پہنچا،
دادا کہاں ہیں؟
وہ تو ابھی گھر پر نہیں ہیں۔
کب آئیں گے؟
کل…
کل کیوں؟
ارے، اپنے بھائی کے گھر گئے ہیں نا کچھ دیر کو۔۔۔
امن نے جیب سے فون نکالا، ایک جھٹکے میں کان سے لگایا۔ دو بیپ، اور کال ریسیو ہو گئی۔
کہاں ہیں آپ؟ فوراً گھر آئیں۔
خیریت؟ ہم بختیار کے گھر ہیں، کیا ہوا؟
دادا، مجھے آپ سے فوری بات کرنی ہے۔
تو تم خود آ جاؤ یہاں، بات کر لینا۔
امن نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی، پھر بولا
ٹھیک ہے، میں آ رہا ہوں۔
انیسہ بیگم نے گھبرا کر کہا،
اے، کیا ہوا؟ کل بات کر لینا اُن سے۔۔۔
امن نے اُنہیں دیکھا، اُس کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا۔
دادی، مُجھے ابھی اسی وقت دادا سے بات کرنی ہے۔
بس آپ دعا کیجیے کہ میں جو سوچ رہا ہوں، وہ غلط ہو…
نہیں تو بہت بُرا ہو جائے گا۔
وہ بس اتنا کہہ کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
انیسہ بیگم ہکا بکا اُسے جاتے دیکھتی رہ گئیں۔
باہر نکلا تو گیٹ پر موجود گارڈز فوراً الرٹ ہوگئے۔
سر، آپ کو کہیں جانا ہے؟ میں پرسنل سیکیورٹی کو کال کر دوں؟
امن نے تیز قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے کہا،
نہیں، تم سب ہو نا؟ کافی ہو۔
بس جلدی گاڑی نکالو… اور چلو۔
گارڈ نے فوراً گاڑی کی چابی گھمائی، دروازہ کھولا۔
امن اگلی سیٹ پر بیٹھا، اور گاڑی گیٹ سے نکلتی گئی۔
++++++++++
گاڑی رات کے سنّاٹے میں اندھیرے راستوں پر برق رفتاری سے جا رہی تھی۔ امن کی آنکھیں سڑک پر مرکوز تھیں، دماغ افتخار صاحب تک پہنچنے کی بےچینی میں الجھا ہوا تھا۔
اچانک، ایک موڑ پر جیسے سناٹا چیخ اُٹھا۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔
ایک زور دار آواز کے ساتھ دائیں طرف کی کھڑکی لرز اُٹھی۔ گاڑی جھٹکے سے لڑکھڑائی۔
سر! کسی نے فائر کیا ہے۔۔۔ ڈرائیور نے چیخ کر کہا۔
پھر ایک کے بعد ایک…
تڑ تڑ تڑ تڑ۔۔۔۔۔
گولیاں چلنے لگیں۔ گاڑی کے پچھلے شیشے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئے۔ ایک گولی ڈرائیور کے بازو کو چھوتی ہوئی نکل گئی، وہ درد سے کراہا مگر گاڑی پر گرفت مضبوط رکھی۔
نیچے ہو جاؤ سر۔۔۔۔ ایک سیکیورٹی گارڈ نے امن کو ڈھانپتے ہوئے فائرنگ کا جواب دینا شروع کیا۔
گاڑی اب زِگ زیگ میں دوڑ رہی تھی، ایک اور فائر گولی سیدھی فرنٹ ٹائر میں لگی۔
فِس سس… پھاڑ۔۔۔۔
گاڑی اسپن ہوئی، کنٹرول کھو بیٹھ گئی، اور زور سے ایک درخت سے ٹکرا گئی۔
سناٹا۔
دھواں۔
خون
امن نے زخمی حالت میں بمشکل آنکھ کھولی، ہر طرف دھند تھی۔
ایک سایہ اُس کے قریب آیا، چہرہ نہیں دکھا، بس آواز آئی
قانون؟ انصاف؟
یہ سب کتابوں میں ہوتا ہے، امن…
اصل دنیا میں بس طاقت چلتی ہے…
اور تم نے غلط لوگوں سے ٹکرا لے لیا۔۔۔۔
اچانک امن کی آنکھوں کے سامنے منظر دھندلا ہونے لگا۔ کچھ تھا جو اسے یاد آ رہا تھا… کچھ بہت پرانا… اور بہت خونی۔
وہی خاموشی… وہی سنّاٹا۔
وہی تاریک رات، جب وہ کار کی پچھلی سیٹ پر وہ خاموش بیٹھا تھا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر مرتضیٰ صاحب تھے، چہرے پر ہمیشہ کی طرح پُرسکون تاثرات۔
ان کے ساتھ والی نشست پر کلثوم بیگم بیٹھی تھیں۔
گاڑی کے پیچھے سکیورٹی کی دو جیپیں… سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔
تبھی جیسے موت نے رخ موڑا۔
پہلا فائر۔۔۔۔
ٹھاہ
گولی مرتضیٰ صاحب کے بازو کو چھوتی ہوئی نکلی۔
وہ کراہے، مگر اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط رکھی۔
گاڑی ہچکولے کھاتی آگے بڑھی۔
پھر ایک اور فائر۔۔۔۔
اس بار نشانہ ٹائر تھا۔
فِسسس… پھاڑ
گاڑی اسپن ہوئی، اسٹیئرنگ بے قابو… اور لمحے بعد درخت سے ٹکرا گئی۔
دھواں… خون… سناٹا۔
مرتضیٰ صاحب نیم بے ہوش، کلثوم بیگم کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔
امن۔۔۔ پچھلی سیٹ کے نیچے جھکا ہوا۔۔۔ مکمل خاموشی میں چھپا تھا۔
پھر ایک سایہ…
گاڑی کی طرف بڑھتا ہوا، جیسے موت خود چل کر آئی ہو۔
دروازہ کھلا۔۔۔۔
ایک شخص، سیاہ کپڑوں میں ملبوس، چہرے پر نقاب۔
وہ مرتضیٰ صاحب کے قریب رکا، جھکا، اور آہستہ سے بولا قانون؟ انصاف؟
یہ سب کتابوں میں اچھا لگتا ہے، مرتضٰی۔
اصل دنیا میں صرف ایک چیز چلتی ہے، طاقت۔
اور تم نے غلط لوگوں سے ٹکر لی ہے…
امن کی سانس جیسے سینے میں اٹک گئی۔
وہ لمحہ… اُس رات کی چیخ… وہ خون…
سب کچھ واپس آ رہا تھا۔
پھر اُس شخص کی نظر امن پر گئی۔
وہ چونکا۔۔۔ مگر ہل نہ سکا۔
پھر اُس نے امن کی گردن ایک جھٹکے سے موڑی،
اُسے گاڑی سے باہر نکالا…
اور زمین پر پٹخ دیا۔
امن نے بمشکل ہوش سنبھالا،
مگر اُس کے ہاتھ، پیر کپکپا رہے تھے۔
وہ شخص گاڑی کی طرف پلٹا،
اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی بوتل نکالی۔۔۔
مائع گاڑی کے فرش اور سیٹوں پر چھڑکا،
پھر لائٹر جلایا۔
فشششش… بھاااااڑ۔۔۔۔
شعلے بھڑک اٹھے۔
اندر دھواں، کراہیں، اور موت کی بو پھیل گئی۔
امن نے چیخ کر کہا۔۔۔۔ پاپا۔۔۔ ماما۔۔۔۔
وہ شخص… خاموش کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔
امن چیختا، تڑپتا، زمین پر رینگتا۔۔۔
مگر اُس کے بازو پر اُس شخص کی گرفت مضبوط تھی، جیسے وہ اُسے مرنے بھی نہ دے، بس جلتی ہوئی حقیقت دکھاتا رہے۔
پھر وہ اُس کے کان کے قریب جھک کر بولا۔۔۔ اب اگر تُم زندہ بچ گئے… تو صرف اپنے نصیب سے۔۔۔۔
امن رو رہا تھا، تڑپ رہا تھا،
کار کے اندر جانا چاہتا تھا، اپنے پاپا ماما کو بچانا چاہتا تھا۔۔۔
مگر وہ ہاتھ… وہ گرفت…
اُسے بس زندہ رہنے کی سزا دے رہی تھی۔
امن کو لگا وقت نے خود کو دہرایا ہے…
نہیں، وقت نہیں، ظلم نے خود کو دہرایا ہے۔
وہی رات، وہی سڑک، وہی چیخیں…
بس اس بار گاڑی جلتی آنکھوں کے سامنے تھی
اور دل، ایک بار پھر راکھ ہو رہا تھا۔
امن کی سانس جیسے رکنے لگی۔۔۔۔
آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں، جسم لرز رہا تھا،
مگر زبان ساکت تھی…
صرف دل دھڑک رہا تھا، تیز، بے قابو، جیسے سینہ پھاڑ کر باہر آ جائے گا۔
پاپا…
وہ بےآواز چیخا۔
ماما…
آنسو آنکھوں سے نہیں، روح سے بہہ رہے تھے۔
آگ، اُس کی یادوں کو کھا رہی تھی…
وہ رات…
جب وہ پچھلی سیٹ کے نیچے چھپا تھا۔
خون سے لت پت ماں…
بازو میں گولی کھائے باپ…
اور ایک سیاہ سایہ۔۔۔ جو اُس کی پوری دنیا نگل گیا تھا۔
اب، بیس سال بعد،
وہی سایہ، اُسے پھر سے جلتی ہوئی حقیقت دکھا رہا تھا۔
وہ شخص جو اُس کے بازو کو جکڑے کھڑا تھا،
بس اتنا بولا،
اب اگر تُم زندہ بچ گئے… تو صرف اپنے نصیب سے۔۔۔
امن کی ٹانگیں زمین پر تھیں، مگر دل۔۔۔ دل بھسم ہو چکا تھا۔
اس نے آگ کی روشنی میں اُس سائے کا کالر دبوچا
زخمی جسم، کپکپاتے ہاتھ، خون میں لتھڑا چہرہ
مگر آنکھوں میں… غصّہ
میں… میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔۔۔
اُس کی آواز گھٹی ہوئی تھی، چیخ جیسی، زخم جیسی… وہ خود پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا۔
اور اُس کے سامنے کھڑا شخص… بس ہلکا سا مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ ایسی مسکراہٹ، جیسے وہ سب کچھ جانتا ہو… اور کچھ بھی محسوس نہ کرتا ہو۔
تمہارے اندر واقعی اتنی ہمت ہے…
وہ آہستہ بولا،
کہ تم اپنے ماں باپ کے قاتل کا گریبان پکڑ سکو؟
امن کی آنکھوں میں جیسے کوئی پرانا زخم پھر سے رسنے لگا۔
تم نے کیوں مارا انہیں…؟
کیا بگاڑا تھا میرے ماں باپ نے…؟
اس کی آواز ٹوٹ گئی تھی۔
کیا غلط کیا تھا انہوں نے…؟ میرے پاپا کو تو سیاست سے بھی سخت نفرت تھی۔۔۔۔
اور پھر، ایک جملہ…
ایسا جملہ جو اُس کے وجود کو جھنجھوڑ گیا۔۔
کس نے کہا تمہیں… کہ ریپر نے تمہارے والدین کو مارا؟
وقت جیسے لمحہ بھر کو رک گیا۔
ہوا تھم گئی۔
امن کی گرفت ڈھیلی پڑی۔
اُس کے ہونٹ کھلے… مگر الفاظ نہیں نکلے۔
تو… تو پھر… کس نے…؟
امن کا جملہ ابھی مکمل بھی نہ ہو پایا تھا…
تبھی…
ایک تیز سا درد اس کے بازو میں اُترا۔۔۔
ریپر نے ایک انجیکشن اُس کی رگ میں اتار دیا تھا۔
ساری دنیا گھومنے لگی…
تو… کس… نے… مارا…
جملہ ہوا میں معلق رہ گیا،
اور امن… نیم بے ہوشی کی حالت میں اُس سائے کے کندھے پر گر گیا۔
سناٹا…
فقط دور جلتی کار کی آگ کا شور باقی تھا…
اور ریپر کی آواز۔۔۔۔
تم مرو گے… مگر مرنے سے پہلے، میں تمہیں توڑوں گا۔۔۔۔ ذہن سے… یادداشت سے… یقین سے۔ تم بچو گے تو بس اپنے نصیب سے۔۔۔۔ یا شاید… تم مر جاؤ، اپنے ہی سوالوں میں۔۔۔
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
