insan, tanhai or depression… written by Ahsin naeem (Article).

انسان،تنہائی اور ڈپریشن۔۔۔

ازقلم احسن نعیم۔۔۔

ذہنی انتشار نہ صرف ذہنی سکون بلکہ انسان کی زندگی میں بھی خلل ڈالتا ہے۔

آج کل سب سے زیادہ پائی جانے والی بیماری “ڈپریشن” کے نام سے جانی جاتی ہے۔دراصل ڈپریشن کسی بیماری کا نام ہے ہی نہیں۔

یہ صرف انسانی دماغ کی حالت ہے جس میں انسان خود کو بے بس،الجھن زدہ،خود ترسی کا شکار پاتا ہے۔

اس میں انسان نہ صرف اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے بلکہ اپنے روز مرہ کے امور بھی سر انجام نہیں دے پاتا۔

اب ڈپریشن کی وجوہات کیا ہیں۔؟

میں اس آرٹیکل میں چند وجوہات پیش کروں گا اور ان کے اثرات بتاؤں گا۔

پہلی وجہ انسان کی تنہائی ہے۔تنہائی سے مراد یہاں انسان کی سوشل گیدرنگ نہ ہونا ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ انسان بچپن سے لےکر جوانی کی دہلیز تک تو ہر ایک سے گھل مل جاتا ہے۔مگر جس وقت وہ شعور کے زینے تہہ کرتا ہے تو اسے سمجھ آتا ہے کہ دنیا اتنی اچھی اور بھلی مانس نہیں ہے۔آج کے دور میں انسان کو وائبز میچ کرنی ہوتی ہیں۔تو جو شخص کسی سے گھلنے ملنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ وائبز کے میچ نہ ہونے کی صورت میں احساس کمتری کہہ لیں یا خود ترسی کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کے اندر کہتے ہیں نہ چھناکے سے کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔

اور یوں انسان ایک کونے میں بیٹھ کر خود کو ڈپریشن کا مریض سمجھتا ہے۔اور خود کو ایک خول میں بند کرلیتا ہے۔

دوسری وجہ انسان کا گھر ہوتا ہے جہاں انسان پلتے پلتے اپنے دوسرے دن کو پہنچتا ہے۔دوسرا دن انسان کی زندگی کا بڑا قیمتی دن ہوتا ہے۔اس دن انسان شعور سے نوازا جاتا ہے۔چیزوں کو پرکھنے کا ہنر سیکھتا ہے،اور اگر اللہ توفیق نہ دے تو انسان اپنے دن تمام کر بیٹھتا ہے مگر شعور کے خزانے سے مایوس رہ جاتا ہے۔

جب کسی شخص کو اسکے گھر میں ہی،اسکے ماں باپ اس کے بہن بھائی ہی نہ سمجھیں کچھ،اس کو وہ الفت وہ چاہت نہ دے سکیں جو وہ ہمیشہ سے چاہتا ہے تو پھر انسان ان سب سے تو دور ہوتا ہی ہوتا ہے۔

خود کو بھی خود بدل لیتا ہے۔پھر اس کو خواہش نہیں رہتی کیونکہ انسان جس کو سب سے زیادہ چاہتا ہے اور گمان رکھتا ہے کہ وہ بھی اتنا ہی چاہیں تو اگر وہ نہ کریں ویسا تو انسان ریزہ ریزہ ہوکر ایسا بکھر جاتا ہے کہ سمٹنے میں انسان اپنا قیمتی وقت ضائع کر چکا ہوتا ہے۔

ایسے انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔

پھر دنیا سے وہ بےزار ہوجاتا ہے۔پھر ایک وجہ آتی ہے کہ کسی ایسے انسان سے رابطہ ٹوٹ جانا جس کو آپ بے حد چاہتے ہیں۔اور آج کل سب سے زیادہ ڈپریشن کا شکار وہی لوگ ہیں کیونکہ وہ لوگ اس شخص کے بغیر رہنے کے عادی نہیں ہوتے مگر جب ان سے جدا ہوتے ہیں تو انسان خالی خالی محسوس کرتا ہے اور اس پسندیدہ چیز کی عدم موجودگی کے باعث اس کی یادوں میں بہہ کر انسان ڈپریسڈ ہوجاتا ہے۔کچھ فیکٹر انسان کی پرسنیلیٹی کے ہوتے ہیں

مگر پرسنیلٹی بھی انسان کی حالات و واقعات کی وجہ سے ہوتی ہے۔جس کو جتنا آزاد ماحول ملتا ہے وہ اتنا ہی کانفیڈنٹ ہوتا ہے مگر جو ساری زندگی کسی خوف کے زیرِ اثر رہتے ہیں وہ ہمیشہ سہمے ہی رہتے ہیں۔

کچھ لوگ اس طرح کے ہوتے ہیں کہ انسان ان کو دیکھ کر پریشان ہوتا ہے کیونکہ وہ ایسی سنجیدگی طاری کیے ہوتے ہیں جو ان کی عمر کے مطابق ان کو زیب نہیں دیتی۔کبھی کبھار یہ ٹراما کے باعث بھی ہوتا ہے۔

لیکن یہ سب ایک طرف۔

اصل مقصد آرٹیکل لکھنے کا یہ ہے

کہ ڈپریشن صرف اپنے دماغ میں ہونے والی ہلچل کا نام ہے۔

اگر انسان صرف کچھ ٹائم اپنے آپ پر اپنے ذہن کی مضبوطی پر دے تو انسان ہر مشکل کو گزار سکتا ہے۔ڈپریشن کبھی ہم پر حاوی ہونا ہی نہیں چاہیے۔

پازیٹیویٹی رکھنی چاہیے ہمیشہ اپنے اندر۔ہر پہلو میں پازیٹیو رہنے کی کوشش کریں تو سب آسان ہے۔جتنا جس میں محو ہونے کی کوشش کریں گے پھستے جائیں گے۔زندگی کو ذہن پر حاوی کرلیں گے تو زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جائے گی۔چیزیں زیادہ برداشت سے باہر ہورہی ہیں تو اللہ ہے نا۔

جس نے ہمیں پیدا کیا اور تمام نظام چلا رہا۔انسان کو چاہیے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو۔اپنا ڈپریشن اللہ سے بیان کرے کیونکہ اللہ کسی پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اللہ کے سامنے جب جھکتے ہیں اور سجدے میں گرتے ہیں تو ہمارے تمام مسائل بھی ہمارے سر سے گر جاتے ہیں ۔

اللہ تو غفور و رحیم ہے۔

ایک اور بات یہ ہے انسان کی زندگی میں دوست ہونا واقعی ضروری ہے کیونکہ ہم فطری طور پر انسان ہیں۔ انسان کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے کوئی چاہیے ہوتا جو اسے سنے۔پھر چاہے وہ دوست ہو یا ہمسفر۔

کچھ والدین ایسے ہوتے ہیں کہ بچے دبک جاتے ہیں اپنی رائے تک کا اظہار نہیں کرسکتے۔والدین بچوں کو اس حد تک پیمپر کردیتے ہیں کہ وہ خود کچھ کرنے کا اہل نہیں رہتے۔

ماں باپ کو نظر ضرور رکھنی چاہیے مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ صرف سودا سلف لینے جانے کے لیے باہر نکل سکتا ہو۔

یہاں تک بھی میں نے والدین کو دیکھا ہے کہ نماز پڑھنے مسجد جانے کے لیے اجازت لینی پڑتی ہے۔

تو یہ غلط ہے۔

بچوں کو آزادی دینی چاہیے تاکہ جب وہ کسی مشکل میں پڑیں یا پھر اس بے رحم دنیا کا حصہ بنیں تو قدم لڑکھڑا نہ جائیں۔

آخر میں صرف یہ کہوں گا کہ اپنے دماغ کو سمجھائیں اور مضبوط رہ کر ڈپریشن کو آورکم کریں۔

یہی بہترین ہے کیونکہ ڈپریشن کا لفظ استعمال کرکے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا حماقت ہے۔

ختم شدہ۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *