عِشق عبادت ( از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱
ہم سب تھے ایک گنہگار کافر
اور ہم سب مسلم گھرانے کی مسلم لڑکیاں
کون کہہ سکتا تھا کہ ہم ایک ہوگئیں
لوگوں کے ذات الگ ہوتے ہیں
تو وہ ایک نہیں ہوتے
یہاں تو ہمارا مذہب بھی ایک نہیں تھا
لیکن تم کیا جانو
ہمیں اللّٰہ نے بنایا ہی ایک دوسرے کے لیے تھا
مُلک الگ شہر الگ یہاں تک کہ مذہب بھی الگ
یکساں تھا تو بس ایک چیز
وہ سب بھی بشر تھیں ہم سب بھی بشر تھیں
ہم بھی سب اللّٰہ کی بندی تھی
اور وہ سب بھی اللّٰہ کے ہی بندے تھے
تو پھر ہم سب ایک کیسے نہ ہوتے
لیکن یہ عشق عبادت تھا
اس میں ہم نے بہت کچھ کھویا
اور بہت کچھ پایا تھا
لیکن یہ راستہ تھا بہت مشکل
لیکن اس راستے پر چلنے کے بعد
پتہ چلا کہ جو زندگی ہم جی رہے تھے
وہ زندگی نہیں تھی اصل زندگی تو یہ ہے
اور پھر عشق کرنے کے بعد
ہم نے اس اللّٰہ کی عبادت کی
اس اللّٰہ کی رضا میں راضی ہوگئے
اور پھر کچھ اس طرح سے اللّٰہ نے
اس کا اجر دیا کہ ہم خود بھی حیران ہوگئے
بیشک وہ اللّٰہ ہے
جو ہر چیز پر قادر ہے
________________
سیول سٹی
جیسے ہی گانا ختم ہوا، اسٹیڈیم میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، اور پھر ہر طرف سے ہنسی اور تالیاں گونج اُٹھیں۔ جیسے ہی وہ تمام لڑکے اسٹیج پر کھڑے تھے، ان کی آنکھوں میں ایک نیا جذبہ تھا، ایک نیا احساس۔۔۔
اس خاموشی کے بعد، اچانک اسٹیج کی لائٹس بند ہو گئیں اور پورا اسٹیڈیم ایک سیاہ میں ڈوب گیا۔ لیکن ایک لمحے کے بعد، ایک نیلے رنگ کی مائک تھامے ایک لڑکے کی آواز آئی،
I’m opening my eyes in the darkness
اور جیسے ہی اس نے یہ لائن بولی، اسٹیج کی ہر طرف کی لائٹس دوبارہ جل اُٹھیں۔
When my heartbeat sounds unfamiliar
پوری عوام ہاتھ میں لائٹ سٹک لیے ماحول کو اور بھی بہت زیادہ خوبصورت بنا رہی تھی اور اسٹیج سے یہ منظر دیکھو تو اوئے ہوۓ
I’m looking at you in the mirror
The fear-ridden eyes, asking the question
یہ لائن وہ لڑکا گائے جا رہا تھا جو جامنی رنگ کی مائک تھامے کھڑا تھا۔ اس کی آواز اور گانے کی لائنوں میں ایک گہرائی تھی جو پورے اسٹیڈیم میں گونج اُٹھی۔ عوام نے ہاتھوں میں لائٹس سٹک پکڑ کر ماحول کو اور بھی خوبصورت بنا دیا تھا۔
Loving myself might be harder Than loving someone else, let’s admit it The standards you made are more strict for yourself
یہ لائن پیلے رنگ کے مائک والے لڑکے کی تھی، جس نے فوراً یہ سارے الفاظ ایک ہی سانس میں کہے تھے، اور ان کی آواز میں ایک ایسی حقیقت تھی جو ہر سننے والے کو چھو گئی تھی۔
The thick tree rings in your life
It’s part of you, it’s you
Now let’s forgive ourselves
Our lives are long, trust yourself when in a maze
When winter passes, spring always come۔۔
یہ لائنیں ریپ کی شکل میں گئیں اور سب نے ساتھ مل کر گائیں۔ اس نے لوگوں کو یاد دلایا کہ ہم سب کو اپنے آپ سے محبت کرنے کا حق ہے، اور زندگی میں مشکلات آتی ہیں لیکن ہمیشہ ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔
From the eyes of the cold night
I try to hide myself
As I keep tossing and turning, ayy
( یہ لائن اب کے وہی جامنی رنگ کے مائک لیے لڑکے نے بولی تھی )
The me of yesterday
The me of today
The me of tomorrow
(I’m learning how to love myself) With no exceptions, it’s all me ۔۔۔
( یہ ساری لائنس اب کے بلیو رنگ کے مائک لیے لڑکے نے بولی تھی )
From the very beginning To the very end There’s only one answer, ayy
Why do you keep trying to hide under your mask? (Hey-ey-ey) Even all the scars from your mistakes make up your constellation, ayy
یہ لائن اب کے پنک رنگ کے مائک لیے لڑکے نے بولی تھی ۔۔۔
You’ve shown me I have reasons I should love myself (Oh-oh-oh) I’ll answer with my breath, my path۔۔۔
Inside of me, there’s still (Oh-oh) That awkward part of me but (Woah-oh-oh-oh
آخری لائنس کے ساتھ ایک اور سونگ ختم ہوچکا تھا۔۔۔اور پورے اسٹیڈیم میں ایس ٹو ایس کے نعرے دوبارہ بلند ہوئے ..
یہ تھے ایس ٹو ایس
—کوریا کی میوزک انڈسٹری کا وہ گروپ، جس نے اپنے منفرد انداز، بے پناہ صلاحیت، اور مضبوط دوستی کے ساتھ لاکھوں دل جیت لیے تھے۔ لیکن یہ کامیابی انہیں یوں ہی نہیں ملی تھی۔ یہ کہانی تھی قربانیوں، محنت، اور اس عزم کی، جس نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا تھا۔
۱.کِم رین یون → رین (Kim Ren-Yun) لیڈر ، مین وکلسٹ
۲.لی سونگ → سونگ (lee seong ) – فیشن آئیکون، سب وکلسٹ
۳۔جَنگ ہی ہیوک → ہیوک ( jung He-hyuk ) وائس آف دی گروپ
۴.پارک سوہان → سوہان ( Park su-han ) مین ڈانسر، وکلسٹ
۵.جَنگ سو مین → سو مین ( Lee soo min ) ریپر ، سویج بوی
۶.جَنگ جے کیونگ → کیونگ ( Jung Jea-kyung ) ڈانسر، وکلسٹ
۷.کِم تائی جون → تائیجون ( kim Tae- joon ) ڈانسر، وکلسٹ
۸.کِم ہان وُو ،→ ہان ( Kim_ han-woo ) ریپر، کمپوزر
ــــــــــــــــــــ
پیرس، لندن، سپین، تھائلینڈ، نیویارک، جاپان، ہر چھوٹے بڑے شہر میں ان کی پرفارمنس ہو چکی تھی۔ لاکھوں دلوں کو اپنی آواز اور پرفارمنس سے جیتنے کے بعد اب ان کے پاس سات مہینوں کی چھٹی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے، پر سکون لمحات گزارنے کا ارادہ کرتے۔
ہمیں بریک ملا ہے، تو کیوں نہ کہیں گھومنے چلیں؟
کیم رن یون صوفے پر آرام سے بیٹھتے ہوئے بولا، اس کی آواز میں ایک خاص جوش تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ ایسی جگہ چلتے ہیں جہاں ہم پہلے کبھی نہ گئے ہوں۔۔۔۔
صوفے کے دوسرے کنارے پر بیٹھے لی سیونگ نے جوش و خروش سے کہا۔لی سیونگ ایس ٹو ایس گروپ کا دوسرا ممبر تھا
ہاں، یونیک جگہ۔۔۔
سو مین نے بھی اپنی رائے دی، سو مین ایس ٹو ایس کا تیسرا ممبر ریپر تھا
ہیوک نے بھی پرجوش انداز میں کہا
ایسی جگہ جانا چاہیے جہاں ہم اپنی یہ لائف بھول جائیں، بس ایک عام سی زندگی جئیں۔۔۔۔ جَنگ ہی ہیوک گروپ کا ڈانسر تھا
اور بغیر منیجر اور سیکیورٹی کے۔۔۔
جنگ کیونگ ، جو سنگل صوفے پر بیٹھا تھا، بیزاری سے بولا۔
کمرے میں کل آٹھ لوگ موجود تھے— رن یون اور سیونگ بڑے صوفے پر بیٹھے تھے ، سامنے والے صوفے پر سو مین اور سوہان بیٹھے تھے ، ایک دائیں جانب کے سنگل صوفے پر جےکیونگ بیٹھا تھا، اور ٹائیجون نیچے گؤشن پر بیٹھا تھا، ہان وو کچن میں کھڑا پھل کاٹنے میں مصروف تھا۔ اور کچن کے ساتھ والی کُرسی پر ہيوک بیٹھا تھا۔
ہاں ہاں ہم اگر اکیلے کسی بھی جگہ پر چلے جائیں تو وہ جگہ خوبصورت ہوجائے گی لیکن اکیلے۔۔۔۔ تائیجون نے اکیلے پر کافی زور دیا۔
ویسے، ہم کہیں بھی جائیں، لیکن سیکیورٹی تو ہمارے ساتھ ہی جائے گی۔۔۔ سیونگ نے سنجیدگی سے کہا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ان کے بغیر سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔
رن یون نے صوفے س اٹھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے، میں بگ ہٹ سے اجازت لے کر آتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہم واقعی بغیر سیکیورٹی جا سکتے ہیں؟
سب جانتے تھے کہ اس کی اجازت ملنا مشکل تھا،
لیکن ایک بار پوچھنے میں کیا حرج تھا؟
چلو اب بتاؤ سب کہاں جانا ہے پریس یوکے یو ایس اے دبئی لندن مُجھے یہ سب دیکھا ہوا۔۔۔
سوہان نے صوفے سے اٹھ کر کچن کی طرف جاتے ہوئے پوچھا۔
بہت جلدی ہے تُجھے یہ کھانے کی میں کٹ کر وہیں لے کر رہا تھا۔۔۔
ہان وؤ نے سوہان کو کچن میں اتا دیکھ کر کہا
جس پر سوہان مسکراتا سیب کا ٹکڑا منہ میں ڈال لیا
اوئے میں بھی گیا ہوں یہاں تیرے ساتھ ہی مُجھے بھی دیکھا ہوا ہے آیا بڑا مُجھے دیکھا ہوا ہے۔۔ گؤشن پر بیٹھے تائیجون نے کہا
ہاں یہ سب جگہ تو ہم گئے ہوئے ہیں کوئی نئی جگہ بتاؤ۔۔۔ اب صوفے پر بیٹھے سیونگ نے سنجیدہ سے کہا
انڈیا چلے کیا ؟
ہان وو نے پھل کاٹتے ہوئے تجویز دی۔
نہیں انڈیا کے بارے میں تو ہمیں بہت کچھ پتہ ہے اور وہاں کہ اتنے سارے ایکٹریس یہاں بھی آئے ہیں تو ہوسکتا ہے ہمارا کوئی نہ کوئی کنسرٹ وہاں ہو تو ہم جائے گے ہی ابھی جا کر آئے گے تو ہوسکتا ہے پھر دوبارہ جانا پر جائے۔۔۔۔ سیونگ نے وضاحت کی۔
تو پھر کہاں چلنا ہے یار۔۔۔۔ سوہان نے بیزاری سے کہا
یار، ہماری پچھلی فین میٹنگ میں بہت سی لڑکیاں حجاب میں آئی تھیں۔ وہ کس ملک سے آئی تھیں؟ ہیوک نے اچانک پوچھا۔
دبئی سے۔۔۔۔ سوہان نے فوراً جواب دیا۔۔
اتنی جلدی تجھے کیسے پتہ؟
تائیجون نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے ایک لڑکی سے پوچھا تھا۔
سوہان نے آرام سے جواب دیا۔
تو کب سے لڑکیوں میں دلچسپی لینے لگا؟
سوہان نے ہیوک کو چھیڑا، کیونکہ وہ ان سب میں سب سے معصوم اور سیدھا شخص تھا۔
دلچسپی نہیں ہے، بس ان میں ایک الگ سی کشش تھی۔ ہیوک نے سنجیدگی سے کہا۔ اُس نے صاف صاف کہہ دیا جو دل میں تھا، ہیوک ایسا ہی تھا، جو ہوتا جب جیسا وہ کہہ دیتا ، ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ اُس کے دل میں کچھ اور اور زبان پر کچھ اور ہو۔
یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔۔۔ سو مین نے مذاق میں کہا۔
اسی دوران، رن یون واپس آیا۔
ہاں بھئی، اجازت تو مل گئی ہے، مگر سیکیورٹی ساتھ جائے گی۔۔۔۔ یہ پہلی دفعہ تھا جو یہ لوگ اپنی چھٹی پر کہیں گھومنے جا رہے تھے ورنہ تو ہر دفعہ یہ کسی کنسرٹ کے چکر میں ہی جاتے تھے اور وہیں ان کی ٹریپ بھی ہوجاتی تھی۔۔۔اکثر یہ چھٹیوں پر اپنے گھر جاتے تھے۔۔۔ بگ ہیٹ کی طرف سے ان کو الگ سے رہنے کے جگہ میسر تھی اور یہ سب ساتھ ہی رہتے تھے۔۔۔
آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ پھر تو گھر پر ہی رہتے ہیں۔۔۔
جے کیونگ نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔
تو پاکستان چلیں؟ سوہان نے اچانک تجویز دی۔
پاکستان؟ وہاں کیا ہے ایسا جو ہم وہاں جائیں۔ تائیجون نے سوال کیا۔
ہاں! پاکستان چلتے ہیں۔۔۔۔ ہیوک نے فوراً حامی بھر لی۔
کیوں، وہاں تیرا کوئی بچھڑا ہوا بھائی رہتا ہے؟ یہ سو مین کبھی جو سیدھی طرح بات کرلے
اہ ہ ہ ہ پاکستان بہت بورنگ جگہ ہے۔۔۔۔
جے کیونگ نے منہ بنایا۔
بھائی صاحب۔۔۔۔ خواب میں گئے ہو جو پتہ چل گیا؟ سو مین نے طنز کیا۔
تو نہ جا، میں تو جا رہے ہیں۔۔۔۔ سنا ہے وہاں کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔۔۔۔ سوہان نے شرارتی انداز میں کہا۔
ہاں بس تُم اسی کام کے لیے وہاں جا رہے ہو .. سیونگ نے سوہان کو کہا کیونکہ سب جانتے تھے۔۔ لڑکیوں کے معاملے میں ہمارے سوہان بھائی صاحب تھوڑے ویک ہیں
تم سب یونہی باتیں نہ کرو جلدی سے جگہ ڈیسڈ کرو جانا کہاں ہے۔۔۔۔ رن یون نے انہیں ٹوکا ورنہ یہ لوگ باتیں کرتے کرتے کہیں سے کہیں چلے جاتے تھے
بھائی تُم بتاؤ تُم کو کہاں جانا ہے۔۔۔۔ سوہان نے اب رن یون سے جاننا چاہا، کہ وہ کہاں جانا چاہتا تھا
تُم سب بچے میرے جہاں بولو گے چلا جاؤ گا۔۔۔ رن یون نے فوراً جواب دیا
ہائے میرا پیارا بچہ۔۔۔۔ سیونگ نے رن یون کو چڑا
چلے نہ پھر پاکستان چلتے ہیں۔۔۔ سوہان نے پھر کہا
چلو پھر ووٹ کرتے ہیں۔۔۔ تائیجون نے کہا
ہاں ٹھیک ہے، میں، رن بھائی، سیونگ، ہیوک، ہان وؤ ہم سب پاکستان جائے گے ہوگیا فیصلہ ہم زیادہ ہیں اور تُم تین۔۔۔
سوہان نے ایک ہی سانس میں جلدی جلدی کہا اب وہ سب کو پاکستان لے جا کر ہی رہے گا۔۔۔
اوئے خودی خودی بول دیا مُجھے سے پوچھا میں نے تو ابھی کچھ بولا ہی نہیں۔۔۔
ہان وؤ کہتا اب پھل کی پلیٹ سوہان سے لیتا صوفے پر کر بیٹھ گیا اور باقی بھی سب کی طرف بڑھایا۔
وہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے جہاں سوہان جا رہا ہے وہاں اس کی امی ساتھ ہی جائے گی۔۔۔۔
سو مین نے ہان وؤ کو چھیڑتے ہوئے کہا، کیونکہ ہان وؤ جیسے سوہان کا خیال رکھتا تھا سب اُس کو تنگ کرنے کے لیے سوہان کی امی بولتے تھے
تونے پھر امی کہا مُجھے، میں اب ماروں گا تُجھے ہان وؤ نے ہیوک کے اوپر تکیہ پھینکا
جس کو ہیوک کیچ کرتا ہسنے لگا بچ گیا میں ہی ہی ہی
اچھا چلو پاکستان ہی چلتے ہیں تائیجون کو بھی کوئی اچھی جگہ سمجھ نہیں آئی تو اُس نے بھی ہامی بھر لی
نہیں میں نہیں جاؤں گا پاکستان بہت بورنگ جگہ ہے جے کیونگ نے پھر بیزاری سے کہا
تو کب چلا گیا اُدھر جو تُجھے پتہ چل گیا کہ وہ بورنگ جگہ ہے یہ نہیں سوہان نے پھر جے کیونگ کو ٹوکا
نہیں تو کیوں مر رہا ہے اُدھر جانے کے لیے سو مین نے سوہان سے کہا یہ دونوں فساد کی جڑ مان ہی نہ جائے جانے کے لئے
ارے بھائی لڑکیاں ہر جگہ کی لڑکیاں دیکھی ہیں وہاں کی نہیں دیکھی سوہان نے کہا
کیا وہاں ہمارے فینز ہوں گے؟ اگر ہاں، تو میں مر کے بھی نہیں جاؤں گا! ہیوک بولا۔
اتنے مشہور ہیں ہم، کچھ فینز تو ہوں گے ہی! تائیجون نے فخریہ انداز میں کہا۔
اچھا سنو، میں نے پاکستان کے بارے میں سب پتہ کر لیا ہے! سوہان نے فخریہ انداز میں کہا۔
ہاں، اتنی جلدی پتہ چل گیا ہیوک نے حیرانی سے کہا۔
یہ سب کام میں تمہارا کتنا دل لگتا ہے نا سوہان رن یون نے سوہان سے کہا
ہو ہاں تھینک یو بھائی سوہان نے کہا
اچھا سنو سب پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، اور زیادہ تر لوگ اردو اور انگریزی بولتے ہیں۔ ویسے تو وہاں پر بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر وہاں کے سارے لوگوں کو اردو آتی ہے، سوہان نے کہا
ہاں اب اگے بول ہمیں آتی ہے انگريزی تائیجون نے کہا
ہاں وہاں جا کر کوئی اور زبان نہیں بولنا ورنہ لوگ تمہیں پاگل سمجھیں گے اردو یا انگلش
ہاں جی اور جگہ کا بھی بتا دیں ہم کہاں جا کر اسٹے کریں گے سیونگ نے کہا
وہاں کئی خوبصورت شہر ہیں جیسے کراچی، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور بھی ہیں مجھے یاد نہیں آ رہا۔۔۔ ہاں اور پاکستان بہت بڑا ہے سوہان نے سوچتے کہا
ہم سب جگہ جائیں گے۔۔۔۔ تائیجون نے حیرانی سے پوچھا۔
ہاں! سب جگہ گھومیں گے۔۔۔۔ سوہان پرجوش تھا۔
بس اتنا ہی پتہ کیا۔۔۔۔ ہان وؤ نے کہا
ہاں اور کیا اور بھی کچھ پتہ کرنا تھا کیا؟ سوہان نے حیرانی سے پوچھا سب سے پہلے روشنیوں کے شہر کراچی جائیں گے۔ وہاں ان کے قائد کا مزار بھی ہے۔
یہ قائد کا مزار کیا ہے؟ کوئی جگہ ہے؟ ہیوک نے معصومیت سے پوچھا۔
او پاگل جنہوں نے پاکستان بنایا ان کی قبر ہے وہاں۔۔۔ سوہان جھنجھلایا۔
ہاں تو ہم ان کی قبر دیکھ کر کیا کریں گے؟
جے کیونگ نے منہ بنایا۔
میں بتا رہا ہوں یہ سوہان نا ہمیں بہت فضول فضول جگہ لے کر جانے والا ہے پہلے پاکستان اب پاکستان بنانے والے کی قبر۔۔۔۔ سو مین نے بیزاری سے کہا
اوئے چپ کر جاؤ دونوں ورنہ ابھی یہیں سے لگاؤں گا دو۔۔ وہ ان کے لیڈر کا مزار ہے احترام کرو۔۔۔۔
رن یون نے سنجیدگی سے کہا۔
سوری بھائی پر یہ سوہان ہی نا پاگل ہے سیدھی سیدھی طرح نہیں بتا رہا ہے بات گھما رہا ہے۔۔۔
سو مین نے پھر چھیڑا سوہان کو
ہاں میں ہی برا ہوں ایک تو بتا رہا ہوں تم لوگوں کو اوپر سے مجھے ہی سنا رہے ہو اب نہیں بتا رہا میں کچھ اب مینیجر جا رہے ہے نا ہمارے ساتھ اب وہی بتائیں گے سوہان غصے میں اٹھ کر چلا گیا۔
ناراض کر دیا نا بیچارے کو ایک تو تم لوگوں کو بتا رہا ہے چپ کر کے میری طرح نہیں سن سکتے ہو۔۔۔ ہان وؤ نے جے کیونگ اور مین سو کو گھورتے ہوئے کہا
ارے یار جا رہا ہوں میں منانے۔۔۔
جے کیونگ اٹھا اور سوہان کے پیچھے چلا گیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
ہفتہ بھر کے انتظار کے بعد بالآخر وہ لمحہ آن پہنچا۔ جہاز کے پہیوں نے جیسے ہی زمین کو چھوا، ایک ہلکی سی لرزش دل میں محسوس ہوئی۔ کھڑکی سے باہر جھانکا تو رات کے اندھیرے میں روشنیوں کی جھلملاہٹ نظر آئی۔ اسلام آباد… پاکستان کا دل، اس کا دارالحکومت۔
ہاں، تو آ گئے ہم پاکستان۔۔۔۔ تائیجون نے آرام دہ مگر اسٹائلش جینز، اوپر ہلکا نیلا کاٹن کا شرٹ، جس کی آستینیں قدرے اوپر موڑی ہوئی تھیں۔ پاؤں میں سفید اسنیکرز ، ہاتھ میں ایک لیدر کا بیگ، جس میں پاسپورٹ اور ضروری سامان لیے وہ اِدھر اُدھر کا ماحول دیکھتے خوشی سے بولا ۔۔ ہر نئی جگہ جانے پر تائیجون کی خوشی کی انتہا ہوجاتی تھی ۔۔۔ کیوں کے وہ ٹرویلنگ کا شوقین تھا۔۔۔اُسے جگہ جگہ ایکسپلور کرنا بہت زیادہ پسند تھا۔۔۔
اس وقت ہم پاکستان کے کیپیٹل شہر، اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر موجود ہیں… سیونگ نے ایک سیاہ ٹی شرٹ، جس پر سفید حروف میں ایک مشہور برانڈ کا نام چھپا تھا، اور نیوی بلو ڈینم جینز پر ملبوسِ سر پر ایک بیس بال کیپ جو شاید دھوپ سے بچاؤ کے لیے رکھی تھی، مگر اسٹائل کو بھی مکمل کر رہی تھی۔۔
رن یوں کی توجہ ارد گرد لوگوں کے لباس کھینچ رہے تھے۔ مختلف طرز کے لوگ، مختلف انداز— کچھ جدید فیشن میں ملبوس، تو کچھ روایتی وقار کے ساتھ۔
سامنے نظر گھمائی تو کچھ مسافر پاکستانی شلوار قمیض میں ملبوس تھے، سفید، کریم، اور ہلکے رنگوں کے نفیس جوڑے۔ کچھ خواتین عبایا میں تھیں، کچھ مغربی لباس میں، اور کچھ نے دوپٹے کو خوبصورتی سے کندھے پر سمیٹ رکھا تھا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر یہ امتزاج خوب جچ رہا تھا— روایتی اور جدید انداز کا حسین امتزاج، جیسے خود یہ شہر، جو پرانے اور نئے پاکستان کا ایک سنگم ہے۔
اِدھر ان سب سے الگ ہان وؤ منیجر کے ساتھ باغیج کلیم ایریا کی طرف کھڑا اپنے بیگ کے آنے کے انتظار میں تھا جب کے باقی سب منیجر کے ہاتھوں اپنا بیگ چھوڑے اِدھر اُدھر گھومنے میں مصروف تھے۔۔ ہان وؤ نے ایک سیاہ رنگ کا ٹریک سوٹ پہنا تھا، جو حرکت میں آزادی دیتا تھا اور آرام دہ تھا۔ اس کے ساتھ سفید رنگ کی ٹی شرٹ تھی، جو سادگی میں بھی اسٹائل کو برقرار رکھ رہی تھی۔ پیروں میں اس نے سیاہ اسنیکرز پہنے ہوئے تھے، جو ایئرپورٹ کے لمبے سفر کے لیے بہترین انتخاب تھے۔
سیونگ نے چاروں کو پکڑتا ایک جگہ جمع کیا
دھيان سے سنو تُم لوگ میری بات۔۔۔ یاد ہے ران نے کیا کہا تھا…؟
“کیا کہا تھا۔۔۔؟ تائیجون نے کندھے اچکائے…
سیونگ نے غصے میں تائیجون کو گھورا
ارے وہی ہم یہاں آئے سوشل میڈیا میں نہیں جانا چاہیے۔۔۔ اپنے اکاؤنٹ وغیرہ پر کوئی پوسٹ وغیرہ نہیں لگانی ہے۔۔۔ ہیوک نے کہا
ہاں ہاں، معلوم ہے۔ اتنی بار مت دہراؤ۔
جے کیونگ نے بیزاری سے سر ہلایا،
ویسے بھی، میں تو اپنا دوسرا فون لے کر آیا ہوں۔ میرا پروفیشنل فون تو بھائی کے پاس ہے۔
سوہان نے جیب سے ایک موبائل نکالا اور کہا۔۔۔
ان سب کے پاس دو فون ہوتے ہیں—
ایک پروفیشنل، جو ان کے عوامی امیج کے لیے مخصوص تھے، جہاں ان کے انسٹاگرام، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلتے تھے۔
اور دوسرا فون، ان کا ذاتی، جسے وہ نجی رابطوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
سوہان کا پروفیشنل فون زیادہ تر رن یون کے پاس ہی رہتا تھا۔ وہی اس کے انسٹاگرام، ٹوئٹر، اور دیگر سوشل میڈیا پر پوسٹس وغیرہ کرتا تھا۔۔ کیوں کہ وہ بہت لاپرواہ اور چُلبلی طبیعت کا مالک تھا وہ عمر میں بڑا ہو رہا تھا، مگر مزاج میں ابھی بھی وہی بچپنا جھلکتا تھا ۔ کوئی سنجیدہ بات ہو یا کوئی نازک لمحہ، اس کی عادت تھی کہ سب کچھ ہنسی میں ٹال دیتا۔ ذرا سی بات پر ناراض ہو جانا اور دنیا سے لاپرواہ اپنی مستی میں رہنے والا لڑکا تھا۔۔۔ سوہان بڑا ہو چکا تھا لیکن اُس کا بچپنا ابھی تک نہیں گیا تھا جس کی وجہ سے رن یون کو سب سے زیادہ فکر سوہان کی رہتی تھی۔۔۔اور باقی میمبر بھی سوہان کو اچھی طرح سمجھتے اسی وجہ سے وہ اس گروپ کا سب سے لاڈلا اور چھوٹا بچہ تھا۔۔۔
پھر جیسے ہی مینیجرز سب کے بیگ لے آئے تو یہ لوگ ہوٹل کے لیے نِکل گئے۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
رات کا سماں تھا۔ اسلام آباد کی سڑکیں نسبتاً سنسان ہو چکی تھیں، مگر خیابانِ سہروردی پر روشنیوں کا ایک جھرمٹ اب بھی قائم تھا۔ سرینا ہوٹل کی عمارت اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ جگمگا رہی تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں کاروباری شخصیات، سفارت کار، اور شہر کی ایلیٹ کلاس کی کہانیاں روز جنم لیتیں اور دفن ہوتیں۔
ہوٹل کے داخلی دروازے پر کھڑے گارڈز کی تیز نظریں ہر آنے والے کو جانچ رہی تھیں۔ اندر کا ماحول پرسکون، مگر پُراسرار تھا۔ بلند و بالا فانوسوں کی روشنی قالین پر ایسے پڑ رہی تھی جیسے چاندنی جھیل کی سطح کو چھو رہی ہو۔ ہر طرف ایک نفاست تھی، ایک وقار تھا، اور کہیں نہ کہیں، ایک انجانی کہانی بھی۔
یہ سرینا تھا—صرف ایک ہوٹل نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا، جہاں طاقتور فیصلے ہوتے، راز پلتے، اور کچھ کہانیاں ہمیشہ کے لیے روشنیوں میں گم ہو جاتیں۔
یہ سب منیجر کے ساتھ چلتے ہوئے ہوٹل کا جائزہ لے رہے تھے، جو کوریا سے ان کے ساتھ آیا تھا۔ وہ یہاں کے تمام معاملات دیکھ رہا تھا—کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے، سب اسی کے ہاتھ میں تھا۔
چند لمحوں بعد وہ سب کمروں کے سامنے آ کر رک گئے۔ مینیجر نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا،
یہ چار رومز آپ کے لیے ہیں۔ آپ لوگ دو، دو کر کے رہ سکتے ہیں۔ میرا کمرہ سامنے ہے، کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔۔۔
ابھی مینیجر کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ہیوک نے فوراً اعلان کر دیا،
میں تو اپنے بھائی کے ساتھ رہوں گا۔۔۔ اس کی آواز میں ایک خاص معصومیت تھی، اور وہ جے کیونگ کے قریب جا کھڑا ہوا۔
نہیں، میں جے کیونگ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔ سوہان نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
تو تائیجون کے ساتھ رہ نہ۔۔۔۔ ہیوک نے سوہان کو سمجھایا۔
میرے ساتھ کیوں؟ تائیجون نے فوراً اعتراض کیا، میں تو ہان وؤ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔
یہ سنتے ہی ہان وؤ نے ناگواری سے تائیجون کو گھورا اور سخت لہجے میں بولا، اوئے! چل پیچھے ہٹ، مجھے کسی کے ساتھ روم شیئر کرنا پسند نہیں۔۔۔۔
تائیجون نے چیڑ کر کہا، آبے تُجھے کوئی اکیلا روم نہیں ملنے والا! یہاں سب نے دو، دو کر کے ہی رہنا ہے، منیجر کی بات سنائی نہیں دی کیا؟
ہان وؤ نے غصے سے رخ موڑ لیا، جیسے اسے اس بحث میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی اور کچھ کہتا، پیچھے سے سو مین کی آواز آئی،
میں یہی ہوں۔۔۔ سو مین کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ہان وؤ اس کے علاوہ کسی کے ساتھ روم شیئر نہیں کرے گا، اسی لیے وہ مزے سے اترا رہا تھا اور ساتھ ہی تائیجون کو چیڑھا بھی رہا تھا۔
تائیجون نے ناگواری سے مین سو کو گھورا، جیسے کہنا چاہتا ہو کہ وہ زیادہ خوش نہ ہو، لیکن کچھ کہے بغیر رخ موڑ لیا۔
میرے ساتھ جس نے روم شیئر کرنا ہے، وہ اندر آجائے، میں سونے جا رہا ہوں۔ جے کیونگ نے بیزاری سے کہا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ اس کے لہجے میں بے نیازی تھی، جیسے اسے کسی کی پرواہ نہ ہو۔
چل پھر، تُو میرے ساتھ رہے گا۔۔۔۔ تائیجون نے فوراً سوہان کا ہاتھ پکڑا اور اسے زبردستی گھسیٹنے لگا۔
بھائی۔۔۔ سوہان نے چونک کر رن کی طرف دیکھا اور مدد طلب نظروں سے التجا کی۔
تائیجون۔ رن نے سنجیدگی سے کہا، اور جیسے ہی تائیجون نے رن کی گھورتی نگاہوں کو محسوس کیا،
ٹھیک ہے، چھوڑ دیا۔ اس نے فوراً سوہان کا ہاتھ چھوڑا اور معصومیت سے کندھے اچکائے۔
رن نے ایک گہری سانس لی اور فیصلہ کن انداز میں کہا، تم جا کر ہیوک کے ساتھ رہو۔۔۔۔
کیا؟ نہیں۔۔۔ میں نہیں رہوں گا ہیوک کے ساتھ۔۔۔۔ تائیجون نے فوراً انکار کر دیا۔
رن نے آنکھیں سکیڑیں اور دوسرے آپشنز پر غور کرنے لگا، اچھا، تو سیونگ کے ساتھ رہ لو؟
یہ سنتے ہی سیونگ نے رن کے کان کے قریب ہُوا اور سرگوشی کی میری جگہ کیوں دے رہے ہو کسی کو
جس پر رن نے ہمیشہ کی طرح صرف اُسے گھورا۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ تائیجون نے جلدی سے سر ہلایا،
میں ہان وؤ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔ نہیں، سوہان کے ساتھ۔۔۔ نہیں بلکہ جے کیونگ کے ساتھ۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ تیزی سے جے کیونگ کے کمرے میں گھس گیا، جیسے کسی جنگ سے بچنے کے لیے پناہ لے رہا ہو۔
بھائی۔۔۔ سوہان نے ایک بار پھر بے بسی سے چلایا، مگر اب تک دیر ہو چکی تھی۔
باہر کھڑا ہیوک، جو پُراعتماد تھا کہ وہ جے کیونگ کے ساتھ رہے گا، حیرت اور مایوسی کے ملے جلے جذبات لیے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
یہ کیا تھا؟ وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔
یہ ایسے ہی سب کو تنگ کرتا ہے۔ سیونگ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ اسے کسی کے ساتھ بھی رہنے پر مسئلہ نہیں، بس سب کو تنگ کرنا تھا۔۔۔۔
رن نے اب ہیوک اور سوہان کی طرف دیکھا، پھر کہا، چھوڑو، تم دونوں ایک ساتھ رہ لو۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی اس نے مین سو اور ہان وؤ کی طرف دیکھا، اور تم دونوں، جاؤ اپنے روم میں۔
بھائی پہلے تماشا تو دیکھ لوں۔۔۔ سو مین کے چہرے پر وہی شرارتی مسکراہٹ برقرار تھی۔
بیچارے! ان دونوں کو جے کیونگ کے ساتھ رہنا تھا، لیکن لو، اب ہیوک اور سوہان ایک ساتھ رہیں گے۔۔۔۔
سوہان نے ایک تھکی ہوئی سانس لی، جیسے وہ مزید بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ہلکی سی نظریں جھکائیں اور خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھا۔
پیچھے سے ہیوک نے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے چھیڑنے والے لہجے میں کہا، میں تمہیں سونے نہیں دوں گا کیا؟
سوہان فوراً مڑا اور تیز نظروں سے اسے گھورا، بس زیادہ باتیں مت کرنا، ورنہ تمہیں دروازے کے باہر سونا پڑے گا۔۔۔۔
اس کے جواب پر سو مین نے قہقہہ لگایا، دونوں کو قسمت نے ملا دیا، اب بھوکتو۔۔۔۔
تم اندر جاؤ۔۔۔۔ رن نے سخت نظروں سے سو مین کو گھورا، اور سو مین فوراً اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا۔
باقی سب نے بھی اپنے کمرے کا رُخ کیا۔۔۔ باہر رات کی تاریکی اور گہری ہو رہی تھی، لیکن کمروں کے اندر ہنسی اور سرگوشیوں کی مدھم آوازیں اب بھی سنائی دے رہی تھیں۔
ــــــــــــــــــــــــ
تائیجون جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا، جے کیونگ کی نظریں فوراً اس پر جم گئیں۔
تم کیوں آئے؟ اُس نے سادے سے انداز میں سوال کیا۔
تائیجون نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
تو کیا کسی اور کو آنا چاہیے تھا؟
جے کیونگ کے ہونٹوں پر ایک نیم مسکراہٹ اُتری۔
ہاں…
تائیجون کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
کس کو؟
سوہان کو
تو تمہیں اُس کے ساتھ کمرہ شیئر کرنا تھا؟ تائیجون نے پوچھا۔
جے کیونگ نے سر ہلایا،
نہیں، وہ رو رہا تھا نا۔۔۔
رو نہیں رہا تھا، ضد کر رہا تھا
وہی، ایک ہی بات ہے، اُس کا رونا اور ضد کرنا جے کیونگ نے دھیرے سے کہا۔
تائیجون کی نظریں اُس کی طرف تیز ہو گئیں۔
سیدھا سیدھا بول دے، کہ تُجھے میرا وجود برداشت نہیں ہو رہا
ہاں، نہیں ہو رہا، چلو جاؤ جے کیونگ نے آہستہ سے کہا۔
تائیجون ہنستے ہوئے بولا،
ہاہا، میں پھر بھی نہیں جاؤں گا۔۔۔
اور پھر، بغیر کسی اور لفظ کے، وہ بستر پر گر گیا۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــ
سارے سامان کی ترتیب مکمل کرنے کے بعد، دونوں تھکن سے بستر پر بیٹھ گئے۔
سو مین نے ہلکی سی شکوہ بھری آواز میں کہا،
تم صرف میرے ساتھ ہی روم شیئر کرنے میں کیوں راضی ہو جاتے ہو؟
ہان وؤ نے جواب دیا،
تم اچھے سے جانتے ہو یہ بات۔
سو مین نے چہرے پر ہلکی سی شرمندگی کے ساتھ کہا،
کر لو، میری تعریف، کچھ ہو نہیں جائے گا تمہیں…
ہان وؤ نے سنجیدگی سے کہا،
تعریف کے قابل ہوتے تم تو ضرور کرتا۔
یہ سن کر سو مین کو غصّہ آ گیا،
پھر نکل جاؤ میرے روم سے، چلو، دفع ہو۔
ہان وؤ نے آنکھیں پھاڑ کر کہا،
ایکیوز مے! یہ میرا روم ہے، آپ کا نہیں۔
سو مین نے دھیمے مگر پراعتماد انداز میں جواب دیا،
ایکیوز مے! جتنا تمہارا حق ہے اس روم میں، اتنا ہی میرا بھی ہے۔
ہان وؤ نے آہستہ سے کہا،
اسی وجہ سے تم مجھے روم سے نہیں نکال سکتے۔
سو مین نے تھوڑی سی ناراضگی میں کہا،
تم بس مجھے غصہ دلاتے ہو…
ہان وؤ نے معصوم سا انداز اپناتے ہوئے کہا،
ہاں؟ تو پھر مجھ سے بات نہ کرو… کیا میں نے کہا تھا کہ آکے میرے منہ لگو؟
سو مین نے غصے سے ہان وؤ کو گھورا،
ہان… کے بچے…
ہان وؤ نے سنجیدگی سے کہا،
ابھی میرے بچے نہیں ہوئے…
سو مین نے تلخی سے کہا،
یہی حرکت رہی، نہ تو ہوں گے بھی نہیں…
ہان وؤ نے حیرت سے پوچھا،
کیسی حرکت؟
سو مین نے جھنجھلا کر کہا،
افف، چُپ کر جاؤ ہان، چُپ! تم سے بات کرنا فضول ہے۔
ہان وؤ نے تڑپ کر جواب دیا،
تم ہی فضول ہو، الٹی سیدھی باتیں کرتے ہو۔
سو مین نے ابرو چڑھاتے ہوئے کہا،
الٹی سیدھی باتیں؟ صرف ایک سوال پوچھا تھا میں نے۔
ہان وؤ نے دھیرے سے کہا،
جس کا جواب تمہیں معلوم تھا۔
سو مین نے تھوڑی ناراضی کے ساتھ کہا،
میں جا رہا ہوں، تم سوہان کے ساتھ روم شیئر کرو، پھر تمہیں پتہ چلے گا… تب میری قدر ہوگی تمہیں۔
ہان وؤ نے بیزاری سے کروٹ لیتے ہوئے کہا،
باقی کے ڈرامے کل کرنا، مجھے اب نیند آ رہی ہے۔
یہ کہہ کر وہ بستر پر لیٹ گیا۔
سو مین کی آنکھیں تقریباً باہر نکل آئیں۔ اُس کی سانس تیز ہو گئی اور وہ دھیرے سے بڑبڑایا،
منحوس سالہ… ابھی مجھے اپنے hygiene کی پروا نہیں ہوتی، نہ پھر بتاتا میں اسے…
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی، پھر ہان وؤ کی مدھم سی آواز ابھری،
لائٹ آف کر دو، پلیز۔
سو مین نے منہ بنایا اور غصے سے کہا،
خود کر لے، میں نہیں کر رہا۔
یہ کہہ کر وہ بھی بستر پر لیٹ گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــ
جیسے ہی سوہان کمرے میں داخل ہوا، بیگ ایک طرف پٹخا اور خود سیدھا بستر پر گر گیا۔
سیٹنگ کر۔۔۔ ہیوک نے ناک سکیڑ کر کہا۔
کیا سیٹنگ؟ سوہان نے آنکھیں آدھی بند کر کے آہستہ سے پوچھا۔
کپڑے نکال کر الماری میں رکھ ہیوک نے جھنجلا کر کہا۔
کیوں؟ ساری زندگی یہی رہنا ہے کیا؟ سوہان نے بیزاری سے کروٹ بدلی۔
ایک ہفتے تو رہنا ہے نا… ہیوک نے آنکھیں گھمائیں۔
ہاں تو جب یہاں سے جانا ہی ہے تو بیگ سے سامان نکالنے کا فائدہ؟ سوہان نے فوراً ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
تو ایک ہفتے تک سارا سامان بیگ میں ہی پڑا رہے گا؟ ہیوک نے ہاتھ کمر پر رکھا۔
ہاں! جب جانا ہی ہے تو کون پاگل سیٹنگ کرے؟ پہلے نکالو، پھر رکھو، پھر ایک ہفتے بعد دوبارہ نکالو، پھر رکھو… سوہان نے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
کام چور، اُٹھو اور سیٹنگ کرو۔ ہیوک نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
اگر میں نے سیٹنگ کر لی نا، تو کمرے کی ساری ہوا خراب ہو جائے گی۔ ابھی بیگ میں پڑا ہے تو کم از کم کمرہ سانس تو لے رہا ہے… سوہان نے آدھی آنکھ کھول کر بڑے سکون سے جواب دیا۔
سانس کمرہ نہیں، تمہارے دماغ کو لینا چاہیے! ہیوک نے غصے سے تکیہ اُٹھا کر اس پر دے مارا۔
سوہان ہنسا اور تکیہ واپس گود میں رکھ لیا،
بالکل! اور وہی دماغ مجھے کہہ رہا ہے کہ مت اٹھو… آرام سے لیٹے رہو…
تم نا، ایک دن مجھ سے مار کھاؤ گے! ہیوک نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔
واہ… روم شیئر کرنے کا پہلا فائدہ یہی ہے؟ کہ مفت میں دھمکیاں سننے کو ملتی ہیں؟ سوہان نے قہقہہ لگایا۔
اچھا! اب دیکھنا… میں تمہارا بیگ خود ہی الٹ دیتا ہوں… ہیوک نے دانت پیس کر کہا۔
سوہان جھٹ سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے بیگ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا،
خبردار! میرے بیگ کو ہاتھ بھی لگایا تو تمہارا انجام سوچ بھی نہیں سکتے…
اتنی خاص چیزیں ہیں اندر؟ ہیوک نے آنکھیں تنگ کر کے پوچھا۔
ہاں… خاص چیزیں ہیں… مگر تمہیں کبھی نہیں دکھاؤں گا۔۔۔۔ سوہان نے رازدارانہ انداز میں سر جھکایا۔
بیگ دو… ورنہ ابھی کمرے میں طوفان آ جائے گا۔ ہیوک نے تیکھی نظروں سے کہا۔
سوہان نے بیگ کو اپنے سینے سے چپکا لیا،
خبردار! ایک اینچ بھی قریب آئے تو سمجھ لینا میرا بدترین روپ دیکھ لوگے۔۔۔۔۔
بدترین روپ؟ تمہارے اندر ویسا بھی کچھ ہے؟ ہیوک نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
ہاں! سوہان نے بڑی سنجیدگی سے کہا، میں چین کا بدنام زمانہ کنگ فو ماسٹر ہوں… بس یونیفارم گھر پر رہ گیا ہے۔
ہیوک قہقہے سے ہنسا اور بولا،
ماسٹر صاحب، یونیفارم کے بغیر بھی کام چل جائے گا، بیگ مجھے دو۔۔۔۔
یہ کہتے ہی اس نے جھپٹ کر بیگ پکڑنے کی کوشش کی۔
سوہان اچھل کر بستر کے دوسری طرف جا گرا اور بیگ کو پیچھے چھپا لیا،
میں نے کہا تھا نا… ہاتھ مت لگانا! اس میں… اس میں… بہت قیمتی راز ہیں۔۔۔۔
کون سے راز؟ کہیں چپس کے خالی پیکٹ اور ٹافیوں کے ریپر تو نہیں؟ ہیوک نے بھنویں اٹھا کر پوچھا۔
وہ میرا ذاتی کلکشن ہے! ہر پیکٹ کی ایک کہانی ہے… سوہان نے ایک دم سنجیدگی اوڑھی۔
یا خدا! میں کس کام چور اور پاگل کے ساتھ کمرہ شیئر کر رہا ہوں۔۔۔ ہیوک نے سر پکڑ کر کہا۔
سوہان فاتحانہ انداز میں بیگ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا،
کبھی کبھی پاگل پن بھی نعمت ہوتا ہے، روم میٹ۔۔۔
آخرکار ہیوک نے ہار مانتے ہوئے بستر پر ڈھیر ہو کر کہا،
میں کل ہی تمہیں بدلوا دیتا ہوں۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــ
جاری ہے۔۔۔۔۔
دِل یا دھڑکن از قلم صدیقی
ٹریلر ۔۔۔۔
” تُجھے پتہ ہے، میں تیرے لیے دنیا ختم کر سکتا ہوں”
“اور میں تیرے لیے جان دے بھی سکتا ہوں… اور لے بھی سکتا ہوں۔”
” جان لینے تک تو ٹھیک ہے، لیکن میں تجھے جان دینے نہیں دوں گا…”
“پھر وعدہ کر… ہمارے ے کوئی نہیں آئے گا۔”
“کوئی بھی نہیں آئے گا۔”
“وعدہ کر، کوئی لڑکی بھی ہمارے بیچ نہیں آئے گی۔”
“اگر آ گئی تو؟”
“آ بھی گئی تو، تُو مجھے اچھی طرح جانتا ہے… میری جان جب تجھ پر قربان ہے، تو لڑکی کیا چیز ہے؟”
“اور تُو مجھے بھی اچھی طرح جانتا ہے… اگر کوئی لڑکی آئی تو سمجھ جانا…”
“This world is going to end…”
……….
” دوست۔۔۔( وہ دھاڑا) دوست ہے تبھی یہاں سینے پر وار کیا”
” یہ سب کرتے ہوئے تُجھے خوف نہیں آیا تُجھے ڈر نہیں لگا کہ میری جان بستی ہے اُس میں ” اچانک وہ آگے بڑھا اور اُس کی گردن مضبوطی سے دبوچ لی کہ اُنگلیاں اُس کی جلد میں پیوست ہوگئیں
فون کی سکرین پر ایک براہِ راست نیوز رپورٹ چل رہی تھی۔ رپورٹر کی آواز میں وہی سنسنی تھی، جو صرف بڑے انکشافات کے وقت ہوتی ہے۔
“ناظرین! ہم آپ کو ایک اور سب سے اہم خبر سے آگاہ کرتے چلیں۔۔۔ لندن کے سب سے بڑے اندر کور مافیا ڈان، جو ایم ڈی مافیا کے نام سے جانے جاتے ہیں، اُن کی شناخت کے مزید سراغ ہمارے ہاتھ لگے ہیں۔”
رپورٹر کے پیچھے ایک دھندلی تصویر چل رہی تھی۔ تصویر میں واضح نہیں تھا، مگر آنکھیں نمایاں تھیں—بھوری آنکھیں، جو اندھیرے میں بھی چمک رہی تھیں۔
” ایم ڈی مافیا کی بھوری آنکھیں ہیں “
ایک ٹوٹا ہوا، براؤن رنگ کا لینس۔
ماہی کی سانسیں ایک پل کو رک سی گئیں۔ اس کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔ ولید اور براؤن لینس؟ اس کا ان چیزوں سے کیا تعلق؟ وہ تو کبھی کوئی لینس استعمال نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی ماہی نے اسے اس بارے میں بات کرتے سنا تھا۔ تو پھر یہ یہاں کیسے آیا؟
ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اُس کی نظر لینسز کے ڈبے پر پڑی ۔۔۔ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ بہت سارا لینسز پورا ڈبا براؤن رنگ کے لینسز سے بھرا ہوا تھا۔ وہ کچھ لمحے ساکت کھڑی رہی، جیسے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو۔ دل کی دھڑکن بےترتیب ہونے لگی۔
یہ سب یہاں کیوں ہے؟ ولید کے پاس اتنے سارے براؤن لینسز کا کیا کام ؟
ایم ڈی مافیا لندن کا انڈرکور مافیا کون تھا وہ ؟ حامد کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
یہ راز تھا ماہی کو اس راز تک پہنچنا تھا
“کبھی کبھی… ایک لمحہ، ایک نظر… پوری زندگی کو بدل دیتا ہے۔”
ولید ابھی کچھ کہتا یا سمجھتا کہ دروازہ کھلا –
اور وہ… سجی سنوری، ہوئی ماہی اُس کے سامنے تھی۔
اور جیسے ہی ولید کی نظر ماہی پر پڑی –
وقت تھم گیا۔
سانس جیسے رک گئی۔
اور اُس کا ہاتھ بے اختیار اپنے دل پر جا پڑا…
جیسے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو۔
ہوش میں رہنا اب… واقعی مشکل ہو گیا تھا۔
کیونکہ ماہی آج صرف خوبصورت نہیں لگ رہی تھی –
آج وہ دل کی دعا کی طرح پوری ہو کر سامنے آئی تھی۔
“کیا وہ بھی میرے لیے وہی محسوس کرتی ہے، جو میں کرتا ہوں؟”
“ایک دل… جس نے ہمیشہ اُس کے لیے دھڑکنا سیکھا… لیکن زبان کبھی بول نہ سکی۔”
“مجھے شادی نہیں کرنی… ولید، مجھے حارث سے شادی کرنی ہے!”
“جب دل ٹوٹتے ہیں، تو صرف آنکھیں نہیں روتیں… پورا وجود تڑپتا ہے۔”
وہ ماہی پر بندوق تنے کھڑا تھا
“میں تمہیں مار دوں گا، ماہی!”
“پہلے مجھے مارنا پڑے گا…”
ولید ماہی کے سامنے آچکا تھا
“جب عشق میں وفا کی قیمت… جان سے چکائی جاتی ہو — تو ہر محبت، ایک قربانی بن جاتی ہے۔”
“ہاں، آرہا ہوں، آرہا ہوں۔۔۔ اب کیا اُڑ کر آجاؤں؟ بکو مت!”
گاڑی فل اسپیڈ پر تھی، رفتار جیسے ہواؤں سے باتیں کررہی ہو۔ اسٹیئرنگ پر مضبوط گرفت، ماتھے پر شکنیں، اور بلیوٹوتھ پر مسلسل بحث جاری تھی ۔۔
“اب تم نے اور کچھ بولا نہ، تو وہیں آ کر خود تجھے زندہ جلا دوں گا!” اس کی آواز میں غصے کی چنگاریاں تھیں۔ “جب بھی بولنا، فضول ہی بولنا! کوئی نہیں آرہی پولیس…”
“مہنوس!” اس نے دانت پیس کر کہا۔ “تجھے رکھا کس نے میرے ساتھ؟ کام کے قابل نہیں ہے تُو، ڈر بھوک کہیں کا۔۔!”
غصے میں اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا، رفتار مزید بڑھا دی۔
پھر اچانک، اس کی آنکھوں کے سامنے بلیو سٹرک کیفے آ گیا۔
بلیو سٹرک کیفے
گاڑی کے ٹائروں نے سڑک پر ہلکی سی چیخ ماری، اور اُس نے بریک لگا دی ۔ اس کی نظریں سامنے کیفے پر جمی تھیں۔
______________
وہ غصے سے حامد کو ایک نظر ڈالتا، پھر باہر نکل آیا۔ جیسے ہی وہ باہر آیا، وہ سب کہیں جا چکے تھے۔ چلے گئے تھے یا کہیں چھپ گئے تھے تاکہ ایم ڈی انہیں مزید نقصان نہ پہنچا سکے۔ کچھ بھی کہنا مشکل تھا۔ پھر ایم ڈی کے بندے لوگ اپنے بندے کو اٹھا کر یہاں سے چلے گئے۔
جب ہر طرف خاموشی تھی ، اور وہ سب جا چکے تھے، تب ایک لڑکی اُسی کمرے سے باہر آئی جہاں ایم ڈی کے بندے بند تھے۔ وہ بڑی سی سیاہ چادر میں خود کو چھپائے ہوئے تھی، اور نرمی سے باہر نکلی، اور اپنے راستے چلی گئی۔۔۔
______________
ماہی نے دل ہی دل میں دانت پیسا اور سوچا”یہ آگیا نا میری زندگی میں! اب بس میری ہر بات پر مجھے ٹوکے گا اور دس سوال کرے گا… ایسا کیوں کیا؟ وہ کیوں کیا؟ یہ کیوں کیا؟ وہ کیوں کیا؟ افف!”
ماہی نے باکس کھولا
اندر ایک نفیس، سونے کی باریک چین تھی –
جس میں چھوٹے چھوٹے حروف میں جُڑا ایک نام چمک رہا تھا
“ماہی ولید “
ماہی نے اسے چند لمحوں تک بس خاموشی سے دیکھا۔۔۔۔ پھر کہا ۔۔
پھر ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا،
“اچھا ہے…”
باکس اب خالی تھا – چین اُس کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ نازک سی چین کو اُنگلیوں میں گھماتی رہی، پھر ایک نظر ولید کی طرف دیکھ کر بولی
“پہنا دو…”
ولید کے لبوں پر ایک نرم، حیران سی مسکراہٹ ابھری۔
“کھولنے نہیں آیا نا…”
وہ آہستگی سے اُس کے ہاتھ سے چین لے چکا تھا، اُس کے لہجے میں شرارت تھی ۔۔۔
ماہی نے گردن تھوڑی سی موڑی، بال پیچھے کیے، اور ہنوز سنجیدگی سے بولی
“ہاں تو… تمہیں تو پتا ہے، ماہی ایسی چیزیں کہاں پہنتی ہے۔۔۔ اور ہاں، یہ میں تمہاری خوشی کے لیے پہن رہی ہوں۔
مینی اندر آتے ہی جھنجھلاہٹ سے کہا “تم جسے ‘پھول’ کہہ رہی ہو، تمہیں پتا ہے وہ کتنا بدتمیز ہے؟!”
ماہی نے جلدی سے مہر سے خود کو چھڑایا اور ٹیبل کے نیچے گھس گئی۔
ٹیبل کے اوپر کپڑا ڈلا ہوا تھا ، جو اسے چھپانے کے لیے کافی تھا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا لیکن اس کے ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے۔ اس نے جیب سے فون نکالا اور تیزی سے پولیس کا نمبر ملانے لگی۔
ابھی نمبر ملایا ہی تھا کہ اچانک ایک اور روشنی اس کے چہرے پر پڑی۔
“Not a bad idea…”
ایک بھاری اور زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ آواز آئی۔
ٹیبل کا کپڑا ہٹائے وہ اُس کے پاس ہی بیٹھا تھا۔۔۔ گہری بھوری نظریں اس کے چہرے پر جمائے۔
وہ بے حد قریب تھا، اتنا کہ ماہی کو اس کی سانس اپنی جلد پر محسوس ہو رہی تھی۔ ایم ڈی کی نظریں برف جیسی سرد تھیں، مگر ان میں ایک عجیب سا چمک تھی۔
ماہی نے فون سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھا، اُس کی چمکتی سیاہ آنکھیں بھوری سرد آنکھوں سے ٹکرائیں—یہ محض لمحے کا کھیل تھا، مگر جیسے وقت کی روانی تھم گئی ہو۔ ایک پل، ایک نظر، اور سب کچھ بدل گیا۔ اُس کی دھڑکن بےترتیب ہوگئی، جیسے کسی نے اچانک دل کے ساز پر کوئی انجان سر چھیڑ دیا ہو۔
نہ جانے کیوں اُس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔
حامد جھنجھلا گیا۔ “پھر سے موت پڑ گئی اسے … ایک ہی رشتہ ہے میرے پاس، اور سالا وہ بھی اتنا تنگ کرتا ہے!” وہ بڑبڑایا۔
“اسے پتہ ہے میں یہاں سے باہر نہیں نکلتا، پھر بھی… کردیا ہوگا ان کی سر پھری ماہی نے پھر کچھ۔۔۔ !”
حامد نے سختی سے فون پکڑا اور غصے میں تیزی سے ٹائپ کرنے لگا:
“میں نہیں آ رہا… بھاڑ میں جا!”
اور پھر غصے میں فون بند کردیا۔۔
نائلہ نے شرارت بھرے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا،
“ہاں بولیے بولیے، کیا چاہیے؟ آپ کے لیے تو ہمارا سب کچھ حاضر ہے!”
” مُجھے تمہاری گن چاہیے ۔۔ ” اُس نے یہ الفاظ اتنے آرام سے کہئے تھی مانو جیسے وہ گن نہیں کوئی چھوٹا سا کھلونا مان رہی ہو ۔۔۔
نائلہ نے حیرت اور الجھن کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ماہی کو دیکھا، “کیا؟ گن؟ ماہی، لیکن کیوں؟ گن کا کیا کرو گی تم؟”
وہ دھیمے مگر مضبوط لہجے میں بولی، “مجھے ضرورت ہے، بس تم دے دو۔”
جلد آ رہا ہے…
ایک ایسی محبت کی کہانی، جو تمہیں اندر تک ہلا دے گی۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
