Khamosh zehar written by Taiba ijaz…(Article).

خاموش زہر۔۔۔

ازقلم طیبہ اعجاز۔۔۔

دنیا ڈیجیٹل دور سے گزر رہی ہے۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام پر روزانہ لاکھوں ویڈیوز اپلوڈ ہوتی ہیں، جن میں “فیملی ولاگز” خاص طور پر مقبول ہو گئے ہیں۔ گھر کی روزمرہ زندگی، بچوں کی معصومیت، بیوی کا ناشتہ بنانا، شوہر کا رومینٹک جملہ، یہ سب کچھ کانٹینٹ بن کر سامنے آتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے:کیا یہ تفریح واقعی صحت مند ہے؟

کیا ولاگرز اور ناظرین دونوں جانتے ہیں کہ وہ کیا کھو رہے ہیں؟

ممکن ہےکہ آپ میری رائے سے متفق نہ ہوں،لیکن ایک مرتبہ میری رائے سے سوچیے گاضرور۔

گھر کی چار دیواری، نجی لمحات، خواتین کی بے پردگی، بچوں کی ذاتی حرکات سب دنیا کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کیمرہ جب ہر وقت آن ہو، تو گھر “شو پیس“بن جاتاہے۔

بچے معصوم ہوتے ہیں،انہیں علم نہیں کہ ان کا بچپن، شرارتیں، رونا دھونا لاکھوں لوگوں کی تفریح بن گیا ہے۔

بڑے ہو ک یہی بچے اپنی ماضی کی ویڈیوز دیکھ کر شرمندہ یا ذہنی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔بعض اوقات شوہر “ولاگ کا حصہ بناؤ” کے دباؤ میں بیوی کی مرضی کے بغیر ویڈیوز بناتے ہیں۔

پردہ دار خواتین کو بےپردہ دکھانا گناہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی جرم بھی ہے۔

اکثر ولاگز میں دکھایا جاتا ہے کہ “ہم بہت خوش ہیں” – جبکہ حقیقت مختلف ہوتی ہے۔ یہ جھوٹ صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے، اور اندر سے تعلقات کمزور ہوتے جاتے ہیں۔

اسلام میں ریاکاری، بےپردگی اور نجی معاملات کو ظاہر کرنا پسندیدہ عمل نہیں۔ حدیثِ مبارکہ ہے

ترجمہ”جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے ذلیل کرے گا” (صحیح مسلم)

اب اگر ان حضرات کی بات کریں جو صرف ولاگ ویڈیوز دیکھتےہیں۔ بعض لوگ کہیں گے

“ہم تو صرف دیکھتے ہیں، “ہمارا کیا نقصان؟

“لیکن حقیقت یہ ہے کہ ولاگنگ دیکھنا بھی ایک خاموش زہر ہے جو آہستہ آہستہ ذہن، نفس، اور جذبات کو تباہ کرتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ وقت کاضیاع ہے۔آپ جانتے ہیں کہ جب آپ روز دوسروں کی “خوشحال” زندگی دیکھتے ہیں تو آپ کواپنی زندگی کمزور لگنے لگتی ہے۔

آپ کےدل میں حسرت پیدا ہوتی ہے۔آپ خوش ہونے کے بجائے اداس رہنے لگتے ہیں۔ فیملی ولاگز “معصوم تفریح” لگتے ہیں، لیکن یقین کریں:گھنٹوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔دماغ دوسروں کی زندگی میں گم ہو جاتا ہے۔انسان اپنی زندگی، خواب اور مقاصد کو بھولنے لگتاہے۔

دوسروں کے نجی لمحات کو دیکھتے دیکھتےہم عادی ہو جاتے ہیں “جھانکنے” کے۔دل چاہتا ہے ہم مزید جانیں۔

کہ کیا میاں بیوی لڑے؟

کیا بیوی ناراض تھی؟

آج کیا پکایا؟

آج کہاں جارہےہیں؟

آج کیا پہناوا ہے؟

یہ تجسس نفس کو کمزور اور ذہن کو گندہ کرتا ہے۔دوسروں کی خوشی، دکھاوا یہ سب دیکھ کرآپ کا دل حسد یا جلن کا شکار ہو سکتا ہے۔

آپ خود کو صاف سمجھیں، لیکن گناہ میں شریک ہوتے ہیں۔ایسے ولاگز مسلسل دیکھنے سے انسان بے چین، بے قرار، غیر مطمئن اور اداس ہو جاتا ہے۔

دل میں خالی پن، جلنے کا احساس، یا ذہنی الجھن پیدا ہونے لگتی ہے۔ آج کے بچے جب مشہور فیملی ولاگرز کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی وہی کچھ کرنے کی کوشش اور خواہش کرتے ہیں۔

معزز قارئین!اپنے گھروں میں ایسے مواد کو دیکھنےسے اجتناب کریں۔تعلیم، ہنر، دینی یا موٹیویشنل ویڈیوز کو ترجیح دیں۔

وقت بچائیں، دل سنواریں، اور زندگی کو حقیقت میں جئیں۔ ایک چیز پر ذرا تھوڑاساغورکریں۔

کہ فیملی ولاگز بظاہر خوشی دیتے ہیں، مگر یہ وہ آگ ہے جونہ صرف ولاگرز کے گھر جلاتی ہےبلکہ دیکھنے والوں کے دل اور ذہن کو بھی دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔

“گھر کیمرے کے لیے نہیں، محبت اور سکون کے لیے ہوتے ہیں”

“اور زندگی دکھانے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہوتی ہے”

ختم شدہ۔۔۔

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.

1 Comment

  1. This article fearlessly exposes the hidden reality behind family vlogs. Every line hits with clarity, revealing how the content we consume daily can quietly act like a slow poison to our minds and values. It awakens the reader, urges reflection, and delivers truth with a bold and impactful voice.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *