kuchle Howe khuwabo ke waris… written by tehreem fatima (Article).

کچلے ہوئے خوابوں کے وارث۔۔۔۔

ازقلم تحریم فاطمہ۔۔۔

کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو چیختے نہیں ہیں، بس بے آواز سسکیاں لیتے رہتے ہیں۔ چپکے چپکے انسان کی شخصیت کی بنیادیں کھا جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گھر دنیا کا سب سے پہلا مدرسہ ہے اور سکون اس کی پہلی کتاب۔ لیکن یہ سب صرف خوش نصیب گھروں میں پایا جاتا ہے۔

ایسے گھر، جہاں شامیں پرسکون ہوتی ہیں اور راتیں خوف سے خالی۔

گھر دیواروں سے نہیں، دلوں سے بنتے ہیں اور جب دل ٹوٹ جائیں، تو پورا وجود مٹی بن جاتا ہے۔آج کے دور میں رشتوں کی مضبوطی موبائل کے سگنلز سے بھی زیادہ کمزور ہو گئی ہے

 گھریلو جھگڑے اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ انسانوں کے دلوں میں محبتوں کی جگہ اپنے مخلص رشتوں کے لیے نفرتیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ جہاں ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے، وہاں برداشت ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث “طلاق” کا لفظ بہت عام ہو چکا ہے۔

گھر وہ جگہ ہے جہاں بچے دنیا کا سامنا کرنا سیکھتے ہیں، لیکن اگر گھر ہی میدانِ جنگ ہو تو سکون کہاں ہے؟ ایسے بچے ساری زندگی خوف کے سائے میں جیتے ہیں۔ جو بچے ان سب کے درمیان سانس لیتے ہیں، ان کی زندگی کبھی پہلے جیسی نہیں رہتی۔

دنیا سمجھتی ہے کہ بچے چھوٹے ہوتے ہیں، بھول جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچپن کے زخم بڑے ہو کر بھی نہیں بھرتے۔گھر تب ہی جنت لگتا ہے جب سکون ہو، محبت ہو، ایک مکمل خاندان ہو، مخلص رشتے ہوں۔

ورنہ ایسے گھروں میں رہنے والے بچے زندہ ہوتے ہوئے بھی اندر سے مر جاتے ہیں۔آج کے دور کی نسل جہاں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے، وہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ گھروں میں دولت بڑھ گئی ہے، سہولتیں بڑھ گئی ہیں، مگر دل چھوٹے ہو گئے ہیں، برداشت کم ہوگئی ہے اور رشتے کاغذ کی طرح پھٹنے لگے ہیں۔

آج کل طلاق کوئی ایسی بات نہیں رہ گئی جو سوچی جائے، سمجھی جائے، آخری حل کے طور پر اپنائی جائے؛ بلکہ یہ تو کسی چھوٹی سی غلط فہمی، کسی تلخ جملے یا کسی انا کی قیمت پر فوراً استعمال ہونے والا فیصلہ بن چکا ہے۔

جب دو لوگ بچھڑتے ہیں تو حقیقت میں کون ٹوٹتا ہے؟ماں باپ یا وہ بچے؟کاش والدین سمجھ پاتے کہ طلاق صرف دو دلوں کا جدا ہونا نہیں، یہ ایک ننھے دل کی پوری دنیا کا ٹوٹ جانا ہے۔ میں نے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جو اس دن بھی مسکرا رہے ہوتے ہیں جب ان کے والدین ہمیشہ کے لیے اپنے راستے جدا کر لیتے ہیں، لیکن یہ ان بچوں کی کھوکھلی مسکراہٹیں ہیں جن کے پیچھے ایسا درد چھپا ہوتا ہے جو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ایسی خاموش چیخیں جو اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ گھر صرف مکان رہ جاتا ہے!دنیا صرف انہیں یتیم کہتی ہے جن کے ماں باپ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر جن کے ماں باپ زندہ رہتے ہوئے بھی ان کی زندگیوں سے چلے جائیں، ان کے لیے کوئی لفظ نہیں…اسلام نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، توڑنے کا نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے۔”یہ نہیں کہ طلاق کبھی نہ ہو اور زبردستی کے رشتے میں خود کی زندگی تباہ کر دی جائے، بلکہ یہ آخری حد، آخری مجبوری میں لیا جانے والا آخری فیصلہ ہے۔

کیا واقعی آج کے دور میں والدین بچوں سے زیادہ خود کے لیے جیتے ہیں؟

کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ایک کے چلے جانے سے ان کی زندگی پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا؛

وہ برداشت کر لیں گے؟

کیا واقعی بچے برداشت کر لیتے ہیں؟

اس عمر میں ماں باپ کی جدائی صرف ایک فیصلہ نہیں، یہ ان بچوں کی معصومیت کا قتل ہے۔ ایسے بچے باقی بچوں کی طرح نارمل نہیں رہ سکتے۔ ان کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، ان کا دل خوف سے بھر جاتا ہے اور شخصیت پہلے دن سے آخری دن تک ادھوری رہتی ہے۔ جھگڑے صرف بڑوں میں نہیں ہوتے، یہ بچوں کی زندگی میں ساری عمر کا ٹراما بن کر رہ جاتے ہیں۔

یہ ٹراما چھوٹا نہیں ہوتا یہ ایک خوفناک خواب بن کر ان کی پرسکون نیندیں چھین لیتا ہے، ان کی شخصیت ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح بکھر جاتی ہے۔

اگر گھر میں سکون نہ ہو، تو بچے اعتماد کہاں سے لائیں؟

وہ اپنی خوبیاں، اپنی صلاحیتیں اور اپنے خواب سب ان جھگڑوں اور درد کے نیچے دفن کر دیتے ہیں۔ بچوں کی روح پر ایسے نشان لگتے ہیں جو بڑے ہو کر بھی نہیں مٹتے۔

سچ تو یہ ہے کہ بچپن کے خوف بڑے ہو کر بھی سایہ بن کر ساتھ چلتے ہیں۔کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، لیکن کچھ زخم صرف روح کی دیواروں میں پوشیدہ رہتے ہیں، بھرے کبھی نہیں جاتے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چہروں پر مسکراہٹیں سجائے، مگر اندر ایک قبرستان لیے گھومتے ہیں۔ وہ ہجوم میں بھی تنہا اور بے سہارا محسوس کرتے ہیں۔

خوشحال گھروں کے بچوں اور بکھرے ہوئے گھروں

Broken Families کے بچوں

کی زندگیوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ہر قدم پر دنیا احساس دلاتی ہے، بکھرے ہوئے گھروں کے بچوں کو دنیا الگ نظر سے دیکھتی ہے اور اسی نظر کے ساتھ ان کی شخصیت کو محدود کر دیتی ہے۔

انہیں وہ مقام، وہ امن، وہ عزت اور نارمل زندگی کبھی نہیں ملتی جو ایک مکمل گھر والے بچے کو ملتی ہے۔ایسے بچوں کے پاس اچھی یادیں نہیں، صرف زخم ہوتے ہیں۔

وہ دوسرے بچوں کی طرح بڑے خواب نہیں دیکھتے، کیونکہ انہوں نے بچپن میں ہی اپنی زندگی کو بکھرتے دیکھا ہوتا ہے۔ وہ کچلے ہوئے خوابوں کے وارث ہوتے ہیں۔ جن کو گھر سے توجہ، محبت اور اہمیت نہ ملے، وہ ساری زندگی احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں اور باہر کی دنیا کی طرف دیکھتے ہیں، سہارے تلاش کرتے ہیں، انہیں تحفظ چاہیے ہوتا ہے، محبت چاہیے ہوتی ہے—کیونکہ انہیں گھر میں وہ پیار نہیں ملا ہوتا جو ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔

ایسے لوگ زندگی بھر نئے رشتے بنانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں ، انہیں ڈر ہوتا ہے جس طرح انکا گھر ٹوٹا ہے پھر سے انکی زندگی ایسے ہی بکھر جائے گی وہ پھر سے ویسے ہی چھوڑ دیے جائیں گے ساری عمر ڈپریشن، انزائٹی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں۔

آخر کیا کیا جائے؟ 

برداشت پیدا کی جائے؟

بچوں کے لیے قربانیاں دی جائیں؟

یا بچوں کو قربانی کا ایندھن بنا دیا جائے؟

کبھی کبھی رشتہ بچانا ممکن ہوتا ہے، مگر انا، غصہ اور بے صبری گھر اور رشتوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ جب دو لوگ بچھڑنے کا فیصلہ کریں، تو ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچیں کہ بچوں کے دل میں پیدا ہونے والی یہ خاموش چیخیں، ان کا علاج کون کرے گا؟ وقت، تنہائی یا آنسو؟

والدین کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے بچھڑنے سے بچوں کی اندر کی پوری دنیا برباد ہو سکتی ہے۔ اگر گھر جہنم ہو، تو بچہ کبھی جنت جیسی زندگی نہیں گزار سکتا۔ ایسے بچے یا تو وقت سے پہلے بہت مضبوط بنتے ہیں، یا اپنی زندگی اور اپنے خوابوں کو اپنی نظروں سے تباہ ہوتے دیکھتے ہیں۔

 ہر چھوٹی بات پر رشتوں کو کاغذ کی طرح پھاڑنے سے گریز کریں۔ اپنی انا کو اپنے معصوم بچوں کے مستقبل پر قربان کریں۔

طلاق کو آخری سہارا سمجھیں، پہلا نہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ جب دو لوگ بچھڑتے ہیں تو سب سے زیادہ وہ بچے ٹوٹتے ہیں جن کی دنیا ان دونوں سے بنتی ہے۔

ختم شدہ۔۔۔

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *