Middle class written by Maida safdar…

ناول :مڈل کلاس

از قلم مائدہ صفدر اعوان

Instagram acc: @bookinsta

https://www.instagram.com/bookinsta?igsh=M3IyZWxtNXB5OHRk

صبح صبح سُرخی مائل دھوپ گلیوں میں اترتی تو ہر طرف ایک ہی آواز گونجنے لگتی۔

 

“سکھیاں روٹیاں تو پتیسا…

کاپیاں کتاباں تو پتیسا…

پیتل او سلور تو پتیسا…

لوئے لیلون تو پتیسا…”

 

گلی گلی گھومتی اس آواز کے ساتھ پتیسے والے کی سائیکل پر لگا ریکارڈر پورے محلے کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی تھا۔

 

صبح کے دس بج چکے تھے۔ چاروں طرف چہل پہل تھی۔ لوگوں کا شور، گلی میں آتے جاتے قدموں کی آہٹ، اور باورچی خانے میں برتنوں کے زور زور سے بجنے کی آوازیں۔ ان سب کے اوپر پتیسے والے کے ریکارڈر کی کرخت آواز۔

 

اب یہ سب کچھ بڑے میاں کی برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔

 

خراٹوں کی آواز اچانک تھمی تو اس نے تکیہ کانوں پر دبا کر دوبارہ سونے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا۔ آخر کار جھنجھلاہٹ اور چڑچڑے پن میں بمشکل چارپائی سے اٹھا اور غصے سے قدم پٹختا ہوا غسل خانے میں جا گھسا۔ دروازہ اس نے اتنی زور سے بند کیا کہ دروازے کا انگ انگ ہل گیا۔

 

“ارے اوووو نواب کی اولاد! دروازہ ٹوٹ کر گرا تو سرکار نہیں آئے گی اسے دوبارہ جوڑنے۔ سارا دن توڑنے کے لیے یہ چارپائی کم تھی جو اب اس بیچارے دروازے کے بھی دشمن بن گئے ہو!”

 

باہر سے اماں کی چنگھاڑتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اس نے جھٹ سے نل کھول دیا تاکہ مزید کوئی آواز اس کے نازک کانوں تک نہ پہنچ سکے۔

 

کچھ دیر بعد وہ غسل خانے سے باہر نکلا۔ چہرے اور بالوں سے پانی کے قطرے اس طرح ٹپک رہے تھے جیسے بارش کے بعد کچی چھت ٹپکتی ہے۔ چہرے پر اب بھی وہی بیزاری اور چڑچڑا پن تھا۔

 

وہ ناشتہ کرنے بیٹھا تو سامنے جو شے پیش کی گئی اسے دیکھ کر اس کے چڑچڑے پن میں مزید اضافہ ہو گیا۔

 

“چائے اور پاپے! اماں خدا کا خوف کرو، تم ہر روز پاپے کھلا کھلا کر مجھے دُبلا کر دو گی۔ جب آنکھ کھولو تو سامنے پاپے آ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ہے کھانے کو یا نہیں؟”

 

سائم کا پارہ سو ڈگری پر پہنچ چکا تھا۔

 

“ہاں ہاں کیوں نہیں جناب! آپ کے لیے تو ہوٹل کھول کر رکھا ہے نا۔ بتائیں کیا تناول فرمائیں گے آپ؟ دو عدد ربڑ کی چپلیں یا گرم گرم چمٹا کھائیں گے؟ نہیں تو تیرے ابا کی کون سی گھی تیل کی فیکٹریاں ہیں۔ نخرے تو دیکھو نواب کے! ارے او، ہم بھی یہی کھاتے ہیں روز۔ یہی کھا کر سارا دن گدھوں کی طرح کام کرتے ہیں اور یہ کھا کر تیرے پر دُبلا پن آ رہا ہے، واہ!”

 

اماں کی نان اسٹاپ چلتی زبان کو ذرا سا وقفہ ملا تو باہر سے پھر پتیسے والے کے ریکارڈر کی آواز گونج اٹھی۔

 

“یا اللہ! یہ کہاں پیدا کر دیا تُو نے مجھے۔ اس سے تو اچھا تھا میں یتیم ہی رہ جاتا، کوئی تو امیر انسان مجھے گود رکھ لیتا۔”

 

اس نے ہاتھ بلند کر کے خدا سے شکوہ کرتے ہوئے کہا۔

 

“ایک تو یہ سائیکل سوار پھٹا اسپیکر لے کر صبح صبح ہی دروازے پر پہنچ جاتے ہیں۔ نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ ہمیں رہنے دیتے ہیں۔ میرا سر پھٹا جا رہا ہے۔ کسی دن اس بندے کی پولیس میں شکایت کروں گا۔ ناک میں دم کر رکھا ہے۔”

 

سائم نے اپنی ساری فرسٹریشن نکال دی۔

 

“ناک میں دم تو تُو نے کر رکھا ہے ہمارا! سدھر جا ورنہ جوتیاں کھائے گا زمانے کی۔ آج کوئی کام دھندے پر لگ جاتا تو تیرا ہی بھلا ہوتا۔ تیرے آگے پیچھے بھی کوئی نہیں ہمارے علاوہ۔ اپنی جائیداد بھی تیرے باپ نے اپنے بھائیوں کے منہ پر مار دی۔ یہ نہیں سوچا کہ بیٹا بڑا ہو گا تو اسی کے کام آ جائے گی۔”

 

اماں کی آواز سات گھروں تک جارہی تھی نہیں جارہی تھی تو بس سائم کے کانوں تک ۔

 

ایف اے کلیئر ہونے کے بعد سائم نے اپنے دوستوں سے اُدھار لے کر اپنی یونیورسٹی کے پہلے سمسٹر کی فیس جمع کروائی تھی، کیونکہ ابا جی کی کمائی سے تو اب مشکل سے گھر کا خرچہ ہی پورا ہوتا تھا۔

 

یہ مڈل کلاس لوگوں کی خواہشیں اپنی اوقات سے بڑھ کر کیوں ہوتی ہیں؟ ان لوگوں کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے، خیالوں کی دنیا۔ یہ ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں انسان کبھی بھی کچھ بھی تصور کر لیتا ہے۔

 

کبھی کبھی اس کے دماغ میں ایسے خیالات جنم لے لیتے کہ وہ خود دنگ رہ جاتا۔ اسے لگتا تھا شاید وہ غلط جگہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسے کسی امیر کبیر بزنس مین کا اکلوتا بیٹا ہونا چاہیے تھا جس کے آگے پیچھے مہنگی مہنگی گاڑیاں گھومتی ہوں۔ پیسے کی ریل پیل ہو۔ جس کا بنگلہ شہر کا سب سے بڑا بنگلہ ہو۔ نوکروں کی بھیڑ ہو، اور اس کی ایک آواز پر سارے نوکر اس کی جی حضوری کریں۔

 

اے کاش ایسا ہوتا۔

اس کی ماں لوگوں کے کپڑے سیتی تھی اور باپ شہر کی معروف کمپنی میں کلرک کی نوکری کرتا تھا۔ بہرحال دونوں حلال پیسے سے محنت کر کے کما رہے تھے، اور کیا چاہیے۔

 

لیکن سائم کو وہ سب کچھ چاہیے تھا جس کی وہ خواہش کرتا تھا۔

 

اس نادان دل کا یہی معاملہ ہے کہ جو چیز انسان کی پہنچ سے دور ہو، اسی کو پانے کی خواہش کرتا ہے۔ اب “انگور کھٹے ہیں” والی کہاوت ہر کسی کے پلے نہیں پڑتی۔ وہ سکون سے بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا، جیسے اماں کا یہ سب روز کا معمول ہو۔کل اس کی یونیورسٹی کا پہلا دن تھا اور وہ یہی سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ پتہ نہیں وہاں کا کیسا ماحول ہوگا۔ اسے پڑھائی سے زیادہ وہاں کے ماحول کی فکر لاحق تھی۔ یہ خیال اسے بے چین کیے جا رہا تھا کہ اتنے ہائی کلاس طلبہ کے ساتھ وہ کیسے گھل مل پائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ایک معمولی سے کلرک کے بیٹے کو ایک نظر دیکھنا بھی پسند نہ کریں۔

 

وہ یہی سوچتے سوچتے دن سے رات کر بیٹھا۔

 

خیر، صبح سات بجے اس کی آنکھ کھلی۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ کمرے میں گیا۔ الماری سے ایک سفید شرٹ نکالی، اسے استری کیا اور کالی پینٹ کے ساتھ پہن کر آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ بالوں میں مختلف سمتوں سے انگلیاں پھیر کر انہیں سیٹ کیا، پھر ہلکا سا پرفیوم چھڑکا۔ اس کے بعد دو سال پرانے جوتے پہنے اور بیگ میں ایک رجسٹر ڈال کر بیگ کندھے پر لٹکا لیا۔ پھر گھر سے بجلی کی رفتار سے نکل پڑا۔

 

اسٹاپ پر پہنچا تو بس آنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے۔ وہ تھوڑی دیر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ صبح صبح وہاں وہ اکیلا ہی تھا۔ دس سیکنڈ بعد ایک خاتون آ کر ایک نشست چھوڑ کر بیٹھ گئیں۔ سر سے پاؤں تک کالے برقعے میں ڈھکی ہوئی تھیں۔ ہاتھ سے چہرے کا نقاب تھام رکھا تھا اور کندھے پر ہینڈ بیگ لٹکا ہوا تھا۔ دیکھنے میں تو خاصی معقول لگ رہی تھیں، کسی شریف اور پردہ دار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں گی۔

 

خیر، پانچ منٹ بعد بس آ گئی تو سائم اس میں سوار ہو گیا۔

 

اپنی نشست پر بیٹھ کر اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو وہ لڑکی ابھی بھی وہیں بیٹھی ہوئی تھی۔ بس چل پڑی اور جا کر سیدھا یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے رک گئی۔ سائم نے کرایہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے اندر داخل ہو گیا۔

 

اندر کا ماحول دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ یونیورسٹی کم اور طلبہ کا ڈیٹنگ پوائنٹ زیادہ ہو۔ جدھر نظر دوڑاؤ ایک جوڑا نظر آتا تھا۔ مگر اہم بات یہ تھی کہ سب کے سب امیر کبیر خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا حلیہ ہی ان کے اسٹیٹس کو صاف ظاہر کر رہا تھا۔

 

ان سب کے درمیان سائم کا مرجھایا ہوا چہرہ اور ایک عام سا مشرقی حلیہ۔

 

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا طلبہ کے ایک گروپ کے پاس جا کھڑا ہوا۔

 

انہوں نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔سائم نے خود کو غیر آرام دہ محسوس کیا۔ وہ سمجھ نہیں پایا کہ وہ سب اسے اس طرح کیوں دیکھ رہے تھے۔ کیا اس سے پہلے انہوں نے کوئی غریب انسان نہیں دیکھا تھا؟ عجیب لوگ تھے۔ خیر، اس نے ان کی نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔

 

“یہ بزنس اسٹڈیز کی کلاس کہاں ہے؟”

 

“نئے ہو؟” ان میں سے ایک طالب علم نے پوچھا۔

 

“جی۔” سائم نے جواب دیا۔

 

“تو اتنا بھی نہیں پتا کہ سینئر سے پہلے سلام کرتے ہیں۔”

 

“آئی ایم سوری، ایکچولی میں ذرا جلدی میں ہوں، اس لیے یاد نہیں رہا۔” سائم نے وضاحت کی۔

 

“کیوں؟ تیری کیا ٹرین چھوٹنے والی ہے؟” ایک شرارتی سا لڑکا بولا۔

 

اس کی بات پر سب منہ پھاڑ کر ہنسنے لگے، مگر سائم سنجیدہ سا کھڑا رہا اور ان کی فضول باتوں کو بے نیازی سے سنتا رہا۔

 

“تو کھڑا کیوں ہے ابھی تک؟ آج تیرا پہلا دن ہے، انجوائے کر۔” اس لڑکے نے سائم کے کندھے کو تھپتھپا کر کہا۔

 

“جی، وہ کلاس؟” سائم نے دوبارہ پوچھا۔

 

“اچھا ایسا کر، یہاں سے اوپر جا، رائٹ کوریڈور میں سیدھا آگے نکل کر لیفٹ ٹرن لے لینا، تیری کلاس آ جائے گی۔” ایک لڑکے نے اسے راستہ بتایا۔

 

“شکریہ۔” سائم نے کہا اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑا۔

 

سیڑھیاں چڑھ کر وہ اوپر گیا، رائٹ کوریڈور سے گزرتا ہوا لیفٹ مڑ گیا، پھر اچانک ٹھٹک کر رک گیا۔

 

“لیکن میں نے تو بزنس اسٹڈیز کی کلاس پوچھی تھی، یہ لیڈیز واش روم راستے میں کیسے آ گیا؟” اس نے آہستہ سے کہا۔

 

“سائیڈ پہ ہوں بھائی۔” دو لڑکیاں اسے سائیڈ پر کرتی ہوئی اندر چلی گئیں۔

 

وہ غصے سے سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا تو وہ گروپ غائب ہو چکا تھا۔

 

تھوڑی دیر بعد اعلان ہوا۔

 

“سارے اسٹوڈنٹس نو بجے آڈیٹوریم میں جمع ہو جائیں۔ آپ کے پاس ایک گھنٹہ ہوگا۔ ٹھیک دس بجے آڈیٹوریم کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اورینٹیشن کے بعد آپ سب لوگوں کو یونیورسٹی کا ایک وزٹ کرایا جائے گا۔ سماعت فرمانے کے لیے بہت شکریہ۔”

اسپیکر سے آواز آنا بند ہو گئی۔

 

“یہ کیا مذاق ہے؟ اب یہ اورینٹیشن کیا بلا ہے؟” سائم نے چڑتے ہوئے کہا۔ ایک تو پہلے ہی اسے ان لوگوں پر شدید غصہ آ رہا تھا اور اب یہ نئی مصیبت۔

 

دس بجے تک آڈیٹوریم طلبہ سے بھر چکا تھا۔

 

طلبہ کی ہلکی ہلکی آوازیں آنے لگیں۔ یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور پرنسپل نے اپنی اپنی نشست سنبھالی۔

 

کچھ سیکنڈ بعد مائیک پر ایک چھوٹی سی لڑکی اپنی پتلی سی آواز میں سب کو خاموش رہنے کی تلقین کرنے لگی، پھر اسٹیج پر ڈپٹی ڈائریکٹر کو بلایا گیا۔ انہوں نے اپنی تقریر شروع کی۔

 

“السلام علیکم۔

 

تمام فریشرز کو ہماری یونیورسٹی میں وارم ویلکم۔ امید کرتا ہوں آپ کا پہلا دن خوشگوار گزرے۔ آپ کو میری طرف سے اور تمام اساتذہ کی طرف سے نیک تمنائیں۔ آپ سب بہت قابل طلبہ ہیں اور یقیناً آپ لوگوں کی قابلیت کی بنا پر ہی آپ کو اس یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے۔ ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے کہ آپ سب کو یہاں کسی قسم کی دقت یا پریشانی نہ ہو۔

 

آپ سب کو ہماری طرف سے دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔”

 

تقریر کا اختتام ہوا تو پرنسپل آ کر اپنا تیار کردہ گرم گرم لیکچر دینے لگا۔

 

ایک گھنٹے بعد سب کی حالت ایسی تھی جیسے سب روزے سے ہوں۔

 

ساڑھے گیارہ بجے اورینٹیشن ختم ہوئی اور سب طلبہ لڑکھڑاتے ہوئے آڈیٹوریم سے باہر آئے۔ سب نے سیدھا کیفے کا رخ کیا۔ تھکن سے چور سارے طلبہ کیفے میں جمع تھے۔ ایک طرف مینو لکھا ہوا تھا۔

 

سائم نے ایک نظر مینو پر ڈالی، پھر جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔

 

“کتنا بورنگ ہے آج کا دن۔” سائم نے دل ہی دل میں کہا۔

 

اسی دوران ایک لڑکا کیفے سے نکل کر اس کے قریب آیا۔

 

“کچھ کھائیں گے آپ؟” اس لڑکے نے پوچھا۔

 

“نہیں، ایک گلاس پانی لے آؤ۔” سائم نے کہا۔

وہ لڑکا سر جھکا کر پانی لینے چلا گیا

 سائم اب خاصا پُرسکون محسوس کر رہا تھا، کیونکہ اورینٹیشن کے دوران اس کے دو دوست بن چکے تھے جو اسی کی طرح مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ فیضان کے ابا ایک پرائیویٹ اسکول میں استاد تھے اور شاہد کے ابا جوتوں کی دکان پر سیلز مین کا کام کرتے تھے۔

تینوں میں کافی کچھ ایک جیسا تھا۔ ان کے خیالات بھی آپس میں ملتے جلتے تھے۔

وہ اکیلا ہی بیٹھا تھا کہ وہ دونوں آ کر اس کے برابر والی نشست پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں کچھ لڑکیوں کا ایک گروپ بھی آیا اور سامنے والی میز سنبھال لی۔

وہ تینوں بڑے غور سے انہیں دیکھنے لگے۔

وہ سب مسلسل کسی بات پر ہنس رہی تھیں۔ شاید کسی نے کوئی چٹکلا سنا دیا تھا۔ سائم نے ایک ایک نظر سب لڑکیوں پر ڈالی۔ ان میں سے ایک لڑکی باقی سب سے کچھ مختلف لگ رہی تھی۔ ویسے تو سب ہی کسی امیر گھرانے سے لگتی تھیں۔ 

ان کے کپڑے، ان کا جوتے، بیگ، موبائل فون ہر چیز برانڈڈ تھی۔ ان سب میں ان کی پرسنیلٹی بھی متاثر کن تھی 

 شاہد اور فیضان ان کی باتیں سن کر کچھ اکتا گئے۔

“ارے یار، ان لڑکیوں کو اپنے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا کیا؟ جب دیکھو اپنی چیزوں کی نمائش کرتی رہتی ہیں۔” فیضان نے ناک چڑھا کر کہا۔

“دیکھو تو کتنی بری لگ رہی ہیں۔” شاہد نے کہا

“کیا دیکھ رہے ہو؟” فیضان نے سائم کو خاموش بیٹھا دیکھ کر پوچھا۔

“کچھ نہیں۔” اس نے مختصر سا جواب دیا۔

“ارے یار، جہاں تمہاری نظر ہے وہاں تمہاری پہنچ نہیں ہے۔” فیضان نے حقیقت سے پردہ اٹھایا۔

“ہاں یار، اتنی ماڈرن، ایلیٹ کلاس کی لڑکیاں ہم جیسے معمولی سے مڈل کلاس لڑکوں کو کہاں منہ لگائیں گی۔” شاہد نے کہا۔

“مجھے ان لڑکیوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔” سائم نے کہا۔

“بھائی بات یہ نہیں ہے کہ ہمیں ان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ انہیں ہم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” شاہد نے مزاحیہ انداز میں کہا

سوچ رہا ہوں اگر میں بھی امیر ہوتا تو ایسے ہی شو آف کرتا، لوگوں کو احساسِ کمتری کا شکار کر دیتا۔” سائم نے کہا

یہ دولت، شہرت، سب کچھ وقتی ہے۔ انسان ایک کپڑے میں اس دنیا میں آیا ہے اور ایک ہی کپڑے میں اٹھا لیا جائے گا۔” شاہد نے کہا۔

“سچ کہا۔” فیضان نے تائید کی۔

“لیکن سوچو اگر یہ سب کچھ ہمارے پاس ہوتا، یہ دولت، یہ شہرت، یہ لائف اسٹائل۔ لائف سیٹ ہو جاتی نا۔” سائم نے کہا۔

“دیکھ بھائی، یہ امیر لوگ جو ہوتے ہیں نا، ان کی انا ان کے پیسوں پر بھاری ہوتی ہے۔ اتنی دولت ان کے پاس ہوتی نہیں جتنی انا ہوتی ہے۔ قسم سے غرور اور تکبر تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ اور بات بھی یہ لوگ اپنے اسٹیٹس کے لوگوں کے ساتھ ہی کرتے ہیں۔ کوئی لو اسٹیٹس والا ان کے پاس سے گزر بھی جائے تو اس جگہ پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتے۔” فیضان نے کہا۔

“وہ امیر ہی نہیں ہوتا جو گھمنڈی نہ ہو پتا نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ اوپر سے اللہ ان امیر لوگوں کو حسن بھی بےشمار دیتا ہے،اتنا سب کچھ مل جانے کے بعد بھی ان کی اکڑ نہیں جاتی ” سائم کو صبح والا واقعہ یاد اگیا اور ابھی تو اسے ان سب کی کلاس بھی لینی تھی، لیکن وہ سب اس سے سینیر تھے، اور سینیرز کے خلاف جانا تو ایسا تھا جیسے انسان خود مصیبت کو دعوت دے۔ کہیں نہ کہیں سائم کو جلن بھی تھی کہ کاش اللہ نے اسے کسی امیر گھر میں پیدا کیا ہوتا تو آج وہ بھی فخر سے سر اٹھا کر سب سے بات کرتا۔ اسے آج ہر چھوٹی چھوٹی چیز کے لیے ترسنا نہ پڑتا۔ ہر خواہش اس کی چٹکیوں میں پوری ہو جاتی۔

وہ بھی یونیورسٹی میں اپنے مہنگے کپڑوں اور جوتوں کی نمائش کرتا۔

خیر، کسی سیانے نے کہاوت لکھی ہے کہ جتنی چادر ہو انسان اتنے ہی پاؤں پھیلائے۔

بہرحال، مقدر اپنا اپنا۔ لینا دینا تو خدا کا کام ہے۔ وہ جسے چاہے دے اور جس سے چاہے لے لے۔

 

وہ یونیورسٹی کے لیے نکلا تو راستے میں بےدیہانی میں اس کا پاؤں ایک کیچڑ میں پھنس گیا۔ سائم نے جب اپنا جوتا کیچڑ سے نکالا تو وہ پوری طرح گندا ہو چکا تھا۔

شرمندگی کی ایک اور وجہ سامنے آ چکی تھی۔ ایک تو جوتے پہلے ہی پرانے تھے، اوپر سے اس کیچڑ کی نذر ہو گئے۔ اس نے آس پاس کوئی نل تلاش کیا مگر اسے دور دور تک کوئی نل دکھائی نہ دیا۔

مجبوراً اس نے اپنا رومال نکالا اور جوتے کو آگے پیچھے سے صاف کیا، مگر اس کے باوجود جوتے پر داغ باقی رہ گئے۔ فوری طور پر وہ جوتے دھو بھی نہیں سکتا تھا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ ایسی حالت میں یونیورسٹی کیسے جائے۔

اس کے ماتھے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہو گئے۔

وہ تیز تیز قدموں سے بس اسٹیشن پہنچا۔ وہ برقعے والی لڑکی وہاں پہلے سے بیٹھی تھی۔ وہ نظریں جھکا کر انتظار گاہ میں گیا اور ایک نشست چھوڑ کر بیٹھ گیا۔ اس نے آہستہ سے اپنا پاؤں کرسی کے نیچے سرکا لیا تاکہ اس لڑکی کی نظر اس کے جوتوں پر نہ پڑ جائے۔

تھوڑی دیر میں بس آ گئی اور وہ اس میں بیٹھ گیا۔

اس لڑکی نے نظر اٹھا کر بس میں بیٹھے سائم کو دیکھا۔ سائم کی بھی اچانک اس پر نظر پڑی۔ سرمئی آنکھیں اس کی الجھی ہوئی آنکھوں سے ملیں۔

سائم کی آنکھوں میں خالی پن تھا، بہت سے شکوے، تھکن اور ذرا سی ایک آس بھی۔ مگر اس لڑکی کی آنکھوں نے اسے عجیب سی الجھن میں ڈال دیا۔

بس چلی تو اس کے ساتھ ہی نظر بھی ہٹ گئی۔

سائم نے اب اپنا رخ سیدھا کر لیا۔ 

یونیورسٹی کے گیٹ پر پہنچ کر اس نے ایک نظر اپنے جوتوں پر ڈالی۔ وہ ان جوتوں کے ساتھ اندر جانے سے کترا رہا تھا۔ حالانکہ کسی نے بھی اس کے جوتوں پر غور نہیں کیا تھا، مگر وہ ڈر رہا تھا کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو پوری یونیورسٹی میں اس کا مذاق بن کر رہ جائے گا۔

 

وہ تیز تیز قدموں سے اپنی کلاس کی طرف جانے لگا تاکہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔

 

کلاس میں پہنچتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ کلاس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔

 

وہ نظریں جھکا کر پیچھے ایک خالی نشست پر جا کر بیٹھ گیا۔

“Oh my God! Guys, look at his shoes… ewww!”

 

ایک لڑکی نے اشارے سے اپنی دوستوں کی توجہ سائم کے جوتوں کی طرف دلائی۔ وہ سب اس کے جوتے دیکھ کر عجیب عجیب شکلیں بنانے لگیں۔ سائم نے ان کی توجہ خود پر مرکوز پائی تو شرمندگی کے مارے اپنے جوتے کرسی کے نیچے سرکا لیے تاکہ مزید کسی کی نظر نہ پڑے۔

 

وہ لڑکیوں اور لڑکوں کا گروہ شرارتاً اس کے قریب آ کر اسے تنگ کرنے لگا۔

 

“Oh my God! So embarrassing. اتنے ڈرٹی شوز… ایسے آتے ہیں یونیورسٹی؟ Stupid.”

اس لڑکی نے سائم کو غصہ دلانے کی کوشش کی۔

 

سائم خاموشی سے اپنے غصے پر قابو کیے بیٹھا تھا۔

 

“Come on، ان جیسے لوگوں سے اور امید بھی کیا لگائی جا سکتی ہے۔ اتنی بڑی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا لیکن پہننے کے لیے نئے جوتے نہیں خرید سکتا بیچارا۔”

 

ایک لڑکے نے اکڑتے ہوئے کہا، جس پر سائم کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے ایک غصیلی نگاہ اس لڑکے پر ڈالی۔

 

“ارے ارے، دیکھو اسے تو غصہ آ رہا ہے۔ چلو کوئی بات نہیں، ہم تمہاری مدد کرتے ہیں۔ ویسے بھی غریبوں کی مدد کرنا ہم پر فرض ہے۔ کیوں بھائی، صحیح کہا نا؟” اس بدتمیز لڑکے نے غرور سے کہا۔

 

“ہاں صحیح کہہ رہے ہو۔ چلو سب ہزار ہزار روپے ڈالو اس کی جھولی میں۔ بیچارے کے پاس کپڑوں اور جوتوں کی بڑی کمی ہے۔ کیا پتا ہمارے پیسوں سے اس غریب کا بھلا ہو جائے۔”

 

اس لڑکی نے سب سے کہا۔ سب نے ہزار ہزار کے نوٹ سائم پر برسانا شروع کر دیے۔

 

سائم نہ کچھ کہہ پایا نہ کچھ کر پایا۔

 

وہ سچ ہی تو کہہ رہے ہیں۔ میرے پاس نہ نئے کپڑے ہیں نہ جوتے۔ پھر بھی میں مڈل کلاس ہوں۔ مجھے تو اس سے بھی کم درجے کا سمجھا جا رہا ہے۔ ایسا تو بھکاریوں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا۔

 

سائم نے اپنے گلے میں چبھتے کانٹوں کو بمشکل نگلا۔ وہ رونا نہیں چاہتا تھا، مگر آنسو تھے کہ رکے نہیں جا رہے تھے۔ وہ اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔ اگر وہاں سب اسے روتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کمزور سمجھ کر مزید تنگ کرتے۔

 

کلاس کے ایک کونے میں بیٹھی ایک بااعتماد لڑکی کب سے یہ سب چپ چاپ دیکھ رہی تھی۔ آخر اس کا صبر بھی ٹوٹ گیا۔ وہ جھٹ سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اس گروپ کے پاس پہنچ کر ایک ایک کو وہاں سے دھکے دے کر ہٹانے لگی۔

 

“شرم نہیں آتی؟ کسی کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو تم لوگ۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ کیا تم سب کو تمہارے بڑوں نے یہی سکھایا ہے؟ کس بات کا غرور ہے تم سب کو؟

 

جس دولت پر تم لوگ اتنا اِترا رہے ہو، حقیقت میں وہ تمہاری نہیں ہے۔ وہ جس کی ہے، اگر اسے غصہ آ گیا تو وہ تم سب سے یہ دولت چھین لے گا۔

 

کسی کا مذاق اڑانا، اس کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنا، اس کی عزتِ نفس کے ساتھ کھیلنا کوئی انسانیت نہیں ہے۔

 

بس کرو اب۔ یہ یونیورسٹی ہے، یہاں ہم پڑھنے آتے ہیں۔ کسی کو اس کے کپڑوں اور جوتوں پر جج کرنے نہیں۔ 

جب کسی کی مجبوریوں کو سمجھ نہیں سکتے تو اس کا مذاق بھی مت اڑاؤ۔

 

چلے جاؤ یہاں سے۔ اسے تنگ مت کرو!”

وہ لڑکی آگ بگولا ہو گئی تھی۔

سائم اٹھ کر کلاس سے باہر چلا گیا۔

پیچھے وہ لڑکی اسے جاتا دیکھتی رہی، مگر اسے روک نہ سکی۔

کچھ دیر بعد وہ پوری یونیورسٹی میں سائم کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد بھی جب وہ نہ ملا تو تھک کر لائبریری چلی گئی۔ وہاں ایک خالی کرسی پر بیٹھ گئی اور دونوں کہنیاں میز پر رکھ کر تھکن سے سر تھام لیا۔

وہ اسے ڈھونڈ کر اس سے معذرت کرنا چاہتی تھی۔ باقی طلبہ کی طرف سے اسے جو اتنی زیادہ شرمندگی اٹھانی پڑی تھی، وہ سب کی طرف سے اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔ مگر اب یہ یقین کر کے کہ شاید وہ جا چکا ہے، وہ تھک کر بیٹھ گئی تھی۔

“Thanks۔”

اچانک اس کی سماعت سے ایک آواز ٹکرائی۔ اس نے چونک کر پیچھے دیکھا تو پچھلی نشست پر سائم بیٹھا تھا۔ اس کی پشت اس لڑکی کی طرف تھی۔

وہ کھڑی اسے دیکھتی رہی، پھر گھوم کر اس کی کرسی کے قریب آئی اور ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔

“کوئی بات نہیں۔ مجھے بہت برا لگ رہا تھا۔ ان کی باتوں پر دھیان مت دو۔ وہ سب خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں۔”

اس نے ٹھہر ٹھہر کر بات کی۔

“ایک بات بتاؤ۔ تم بھی امیر ہو۔ تمہارے پاس بھی پیسوں کی کمی نہیں۔ پھر تم باقی اسٹوڈنٹس کی طرح بیہیَو کیوں نہیں کرتی؟” سائم نے اس سے پوچھا۔

“کیونکہ مجھ میں انا نہیں ہے۔ بس۔”

“کیوں؟” سائم نے پوچھا۔

“دیکھو، امیر ہونا یا اسٹیٹس کا اونچا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ انسان میں انسانیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم امیر ہو جائیں، یعنی دنیا کی ساری دولت ہمیں مل جائے، تب بھی سکون تب ہی ملتا ہے جب ہم اسٹیٹس میں فرق کرنے کے بجائے سب کو برابر کے حقوق دیں۔ سب کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔ اور سب سے بڑھ کر…”

“بہت خوب۔ اچھا سبق یاد کر کے آئی ہو۔ چلتا ہوں اب۔”

سائم نے اس کی بات کاٹ کر جلدی سے کہا اور اٹھ کر لائبریری سے نکل گیا۔ وہ اس کا لیکچر سن کر پہلے ہی اکتا چکا تھا۔

“کتنا بدتمیز ہے۔ ہَوو! پوری بات بھی سن کر نہیں گیا۔”

اس نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔

سائم اب کیفے پہنچ گیا تھا۔ وہ لڑکی بھی اس کے پیچھے کیفے آ گئی۔

“تم مجھ سے ناراض ہو؟” اس لڑکی نے سائم سے پوچھا۔

“ہاں۔” سائم نے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا۔

“لیکن کیوں؟” اس نے حیران ہو کر پوچھا۔

“کیونکہ مجھے امیر لوگ پسند نہیں، چاہے وہ کتنے ہی اچھے بن جائیں۔” سائم نے سرد برہمی سے جواب دیا۔

“تم کس بات سے ہرٹ ہوئے ہو؟ میرا تمہاری سائیڈ لینا تمہیں برا لگا یا سچ بتانا برا لگا؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔

سائم نے گہری سانس لی اور بولنا شروع کیا۔

“تم امیر ہو۔ ایک ایلیٹ فیملی سے تعلق رکھتی ہو۔ دنیا کی ہر چیز تمہیں دستیاب ہے۔ تمہاری تو ہر خواہش سیکنڈوں میں پوری ہوتی ہو گی۔ تمہیں کوئی فکر نہیں، نہ پیسوں کی نہ سوسائٹی کی۔ نہ تمہیں اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تمہارے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ نہ تمہیں اس بات کی فکر ہے کہ تم سوسائٹی میں سر اٹھا کر کیسے ملو گی سب سے۔ تم بااعتماد اس لیے ہو کیونکہ تمہارے پاس سب کچھ ہے۔ مہنگے مہنگے کپڑے ہیں، دنیا کی ہر آسائش ہے۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے لوگ ہم جیسے لوکل بسوں میں دھکے کھانے والوں کی کیفیت کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تمہارے پاس سچائی سے بھرے لیکچر ہیں تو اپنے پاس رکھو۔ کیونکہ اگر تم جیسے لوگوں کو ایک دن بھی ہماری جیسی زندگی گزارنی پڑ جائے تو تم لوگ سارا گیان بھول جاؤ گے۔ ایک سچ میں بتاؤں؟ سچ تو وہ ہے جو آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ کلاس میں سب لوگ مجھ پر ہنس رہے تھے۔ میرا مذاق اڑا رہے تھے کیونکہ میرے جوتے آج صبح کیچڑ میں پھنس گئے تھے اور خراب ہو گئے تھے۔

میرے کپڑے سلامت ہیں۔ میرے جسم کے کسی حصے کو کچھ نہیں ہوا۔ میرے بالوں کو کچھ نہیں ہوا۔ مگر ان سب کی نظر میرے جوتوں پر ہی کیوں گئی؟ میرے کپڑوں پر کیوں نہیں گئی، جو میں ہر روز دھو کر استری کر کے پہنتا ہوں؟ ان کی نظر میرے بالوں پر کیوں نہیں گئی، جو میں ہر روز جیل سے سیٹ کر کے آتا ہوں؟

کیونکہ یہ دنیا ہم جیسے لوگوں میں صرف اور صرف خامیاں تلاش کرتی ہے۔ کیونکہ یہ دنیا حرامی ہے… اور میں اس سے بھی بڑا حرام زادہ ہوں جو اس بگڑی ہوئی، بدتمیز، جاہل، چند پیسوں پر اپنی اوقات دکھانے والی دنیا کو چپ چاپ جھیل رہا ہوں۔

پھر آتے ہیں تم جیسے دیالو لوگ اپنا منجن بیچنے۔ لیکن حقیقت میں تم میں اور ان سب میں کوئی فرق نہیں ہے۔اور ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کی کوئی اوقات نہیں ہے۔”

“ہاں جی مس؟” اس نے اس کا نام پوچھا۔

“حریم۔”

“مس حریم، آئی ہوپ سو آپ میری باتوں کو دھیان میں لا کر بخوبی سمجھ گئی ہوں گی۔”

وہ ایک لمبی چوڑی بات کر کے اب کرسی سے کھڑا ہو گیا۔

“بیٹھ جاؤ۔” حریم نے سکون سے کہا۔

وہ دوبارہ بیٹھ گیا، مگر خاموش ہو گیا۔ جیسے ساری زندگی کا بوجھ ایک جھٹکے میں اپنے سر سے اتار گیا ہو۔

“پانی پیو۔”

حریم نے اس کی طرف ٹھنڈے پانی سے بھرا گلاس بڑھایا۔

اس نے ایک ہی سانس میں سارا پانی ختم کر لیا۔

برسوں کی پیاس بجھی تو اس نے حریم کو ایک نظر دیکھا اور حیران ہوا۔ اتنا سب کچھ سننے کے باوجود وہ سکون سے بیٹھی تھی، جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو ۔ 

“میں ان سب کی طرف سے تم سے معافی مانگنے آئی تھی۔ مجھے پتا ہے وہ تو نہیں آئیں گے تم سے معافی مانگنے، اس لیے میں آ گئی۔

میں نے تمہیں پوری یونیورسٹی میں ڈھونڈا، لیکن تم ملے ہی نہیں۔ مجھے لگا تم جا چکے ہوگے۔

اگر مجھ میں اور ان میں کوئی فرق نہ ہوتا تو میں سرِعام تمہیں ڈیفینڈ کیوں کرتی؟ تمہارے لیے سب سے کیوں لڑتی؟ کیوں پاگلوں کی طرح تمہیں پوری یونیورسٹی میں ڈھونڈتی؟ کیوں میں تم سے معافی مانگتی، وہ بھی ان سب کی طرف سے جنہوں نے تمہیں ہرٹ کیا؟

بس یہی فرق ہے… جو تم سمجھ نہیں پا رہے۔”

سائم خاموش تھا۔ ندامت اس کے چہرے سے جھلکنے لگی۔

“میں تمہیں گیان دینے نہیں آئی سائم۔ مجھے نہیں لگتا تمہیں کسی گیان کی ضرورت ہے۔ میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہی تھی، لیکن تمہیں اتنا غصہ آ جائے گا، میں نے سوچا نہیں تھا۔

تم جیسے ہو، پرفیکٹ ہو۔ اور مجھے تمہارے اسٹینڈرڈز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ میں یہاں بس تمہارا حوصلہ بڑھانے آئی ہوں اور تم نے مجھے غلط سمجھا۔ خیر…

تمہیں میری باتیں بری لگیں، اس کے لیے مجھے معاف کر دو۔

تم بھی بااعتماد ہو سکتے ہو۔ اس کے لیے لُکس میٹر نہیں کرتے، مینٹیلٹی میٹر کرتی ہے۔

تم اگر لوگوں کو ایک زاویے سے سمجھنا چھوڑ دو تو تمہیں پتا چلے گا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کے دکھ درد کو سمجھ سکتے ہیں۔”

حریم کا لہجہ سرد تھا مگر اثر رکھنے والا۔

سائم کچھ بول نہ سکا۔ بس خاموشی سے سنتا رہا۔

حریم کرسی سے اٹھی اور “خدا حافظ” کہہ کر اسے وہیں چھوڑ کر کیفے سے باہر چلی گئی۔

سائم دبے دبے قدموں سے گھر کی طرف چل رہا تھا۔ دماغ میں آج کا واقعہ زور و شور سے گردش کر رہا تھا اور بعد میں حریم سے ہونے والی بحث نے اسے مزید الجھا دیا تھا۔ وہ بس جلدی سے گھر پہنچ کر سکون سے آرام کرنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر سونا چاہتا تھا۔

 

لیکن یہ جان کر اسے غصہ آیا کہ آرام اسے اپنے ہی گھر میں میسر نہیں ہوگا۔

 

اماں چارپائی پر بیٹھی اپنے سامنے سلائی مشین کا پہیہ چلانے میں مگن تھیں۔ مشین کی مسلسل آواز سے اس کے سر میں درد ہونے لگا۔

 

“اماں، کبھی تو سکون لینے دیا کرو۔ جب دیکھو یہ ڈبہ کھول کر بیٹھ جاتی ہو۔ اور یہ اتنے سارے کپڑے کہاں سے آ گئے؟ پورے خاندان کے کپڑے آج ہی سلائی کرو گی کیا؟”

اس نے طنزیہ انداز میں اماں سے کہا۔

 

“ہمم، تو تُو جا کر کوئی محنت مزدوری کر لے۔ اتنا کاٹ رہا ہے یہ ڈبہ تجھے۔ محلے میں نئے لوگ آئے ہیں، سادے لوگ ہیں ہماری طرح۔ محلے میں کسی سے سن لیا کہ میں کپڑے سیتی ہوں اور سستے میں سی دیتی ہوں تو آ گئی باجی ڈھیر لے کر۔ لیکن دیکھ، میں نے کہہ دیا ہے، ایک سوٹ کا کم از کم چھ سو لوں گی، ایک روپیہ کم نہیں کروں گی۔”

 

اماں نے مشین روک کر ساری بات ایک ہی سانس میں کہہ ڈالی۔

 

“صحیح ہے، اب بند کر اس ڈبے کو۔ بھوک لگی ہے، کھانے میں کیا ہے؟”

سائم نے تھکن سے چور ہوتے ہوئے کہا۔

 

“مسور کی دال پکی ہے۔”

اماں نے مشین سے نظر ہٹائے بغیر آج کا مینو بتایا۔

 

سائم نے سارے جہان کی بیزاری اپنے چہرے پر سجا لی اور اماں کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔

 

“اماں میری پیاری اماں… یہ دال سے آگے بھی چلی جا اماں۔ دنیا میں سو قسم کی سبزیاں ہیں۔ ان میں سے ایک عدد سبزی شریف لا کر پکا دو گی تو کوئی لاکھوں کا نقصان نہیں ہو جائے گا۔”

 

سائم نے ایسے انداز میں کہا کہ اماں کا میٹر گھوم گیا۔

 

“کبھی بازار جا کر خود پتہ لگا سبزیاں کتنے داموں میں بک رہی ہیں۔ اللہ معاف کرے، وہاں مہنگائی ہے کہ کم

ہونے کا نام نہیں لے رہی، اور یہاں ان صاحب کے نخرے کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ چپ کر کے جو پکا ہے شرافت سے کھا لے۔ تیرے لیے یہاں سبزیوں کی دکان نہیں کھول رکھی میں نے۔”

 

اماں کا بھی کوئی جواب نہ تھا۔

 

“ہاں تو روٹی تو پکا کر دے دو۔ چمچ سے کھاؤں کیا دال؟”

 

سائم غصے سے کہتا ہوا کمرے میں چلا گیا۔

 

اماں نے سارے کپڑے سمیٹے اور کچن میں گھس گئیں۔

 

سائم کھانا کھا کر گہری نیند سو گیا۔ سائم کے ابا دوپہر کا کھانا کھانے آتے اور پھر واپس چلے جاتے تھے۔

 

سائم کی آنکھ شام کے وقت کھلی۔ اماں چائے کا ایک کپ لا کر اس کے قریب رکھ گئیں۔

 

اس نے آگے بڑھ کر کپ اٹھایا اور ہونٹوں سے لگا لیا۔

پھر سے اس کا دماغ وہی سب کچھ سوچنے لگا۔

اس نے جو حریم کو اتنی باتیں سنائی تھیں، وہ یاد کر کے شرمندہ ہو رہا تھا۔ وہ اس وقت غصے میں تھا اسی لیے شاید اس نے اتنا کچھ حریم کو بتا دیا تھا۔ غلطی حریم کی نہیں تھی، لیکن پھر بھی اتنی برداشت کے باوجود اس نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

 

“لڑکی تو اچھی ہے۔”

اس نے آہستہ آواز میں کہا اور مسکرا کر چائے کا کپ بیڈ کے پاس میز پر رکھ دیا۔

 

اگلے کچھ دنوں میں پوری یونیورسٹی میں یہ بات کسی نے پھیلا دی کہ بزنس اسٹڈیز کے دو اسٹوڈنٹس جن کا آپس میں کچھ چل رہا ہے، پوری یونیورسٹی میں اب ان دونوں کے چرچے ہونے لگے تھے۔ کچھ لوگوں نے باقاعدہ ان کا نام لے کر انہیں چڑانے کی کوشش کی، کچھ لوگ اشارے سے چڑانے لگے اور کچھ لوگوں نے حد ہی پار کر دی۔ یونیورسٹی کے نوٹس بورڈ پر ان کے متعلق نازیبا باتیں لکھنے لگے۔

 

یہ سب دیکھ کر حریم سے رہا نہ گیا، اسے شدید غصہ آنے لگا۔ آخر یہ سب لوگ ہم سے کیا چاہتے ہیں، کیوں کر رہے ہیں یہ سب؟

جب سے حریم نے سائم کی حمایت میں اپنی کلاس کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ لڑائی کی تھی، تب سے اس کی اپنی دوستیں اس سے منہ موڑ گئی تھیں، اور وہی اس کے بارے میں غلط اور بے بنیاد افواہیں پھیلا رہی تھیں۔ جگہ جگہ جا کر اس پر نازیبا تبصرے کیے جا رہے تھے اور اس کے کردار پر باتیں ہو رہی تھیں۔

 

حریم یونیورسٹی کی سب سے ماڈرن لڑکی تھی۔ اس کی ڈریسنگ سینس کی دیوانی ہر لڑکی تھی۔ وہ یونیورسٹی آتی تو جس راستے سے گزرتی، لوگوں کی نظروں کا مرکز بن جاتی۔ اس کا لباس، ظاہری شکل اور شخصیت اسے سب سے مختلف بناتی تھی، لیکن اس کے اخلاق سے سب واقف تھے۔ سب جانتے تھے کہ وہ لوگوں کو ان کے اسٹینڈرڈز پر جج نہیں کرتی۔ اس کے باوجود لوگ اس کی تذلیل کر رہے تھے اور پوری یونیورسٹی میں اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سائم لائبریری میں بیٹھا سکون سے ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اس کی کلاس کے وہی اسٹوڈنٹس آگئے اور اسے تنگ کرنے لگے۔

 

“اوہو، خود کو مظلوم دکھا کر لڑکی کی توجہ لینا چاہ رہے تھے؟ کھیل لیا ویکٹم کارڈ، ہاں؟ یہ ڈرامے کر کے تم یہاں کے سب سے بڑے ڈرامہ باز کی لسٹ میں نمبر ون آ گئے ہو، چلو خوش ہو جاؤ۔

تم جیسے سوکالڈ لڑکے کو لڑکیوں کی توجہ حاصل کرنے کا موقع مل گیا، واہ۔

“Stop acting like a bloody idiot. Bro”

وہ سب باری باری اس پر آوازیں کس رہے تھے اور اس کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھ کر اسے ہی الزام دے رہے تھے۔

 

اتنے میں حریم، سائم کو ڈھونڈتی ہوئی، لائبریری میں داخل ہوئی جہاں پہلے ہی ایک تماشا لگا ہوا تھا۔

حریم کو پھر سے سائم کے لیے بہت برا لگا، وہ کس طرح خاموشی سے اپنی بے عزتی برداشت کر رہا تھا۔ وہ کیسا انسان ہے۔

 

“آگئی اس کی سیوئر… پھر سے گیاں دینے” سب یک دم ہنس پڑے۔ سائم نے نظر اٹھا کر حرِیم کو دیکھا اور اس کا ارادہ جان کر اس کے قریب آیا۔

 

“کُیوں آئی ہو یہاں؟” سائم نے دانتوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔

 

“تمہارے لیے آئی ہوں” حریم نے کہا۔

 

“نہیں، ضرورت نہیں، تم چلی جاؤ” سائم نے سرد مہری سے کہا۔

 

“نہیں جاؤں گی، یہ سب تمہارے ساتھ صحیح نہیں کر رہے، انہیں سبق سکھانے آئی ہوں” حریم نے صاف لہجے میں کہا۔

 

“بس کر دو بی بی، اپنا سبق اپنے پاس رکھو، نہیں چاہیے مجھے… نہ ہی ان لوگوں کو تمہارے سبق کی ضرورت ہے۔ کیا سمجھتی ہو تم مجھے؟ میں تمہارے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ خدا کے لیے مجھے نہیں چاہیے تمہاری ہمدردی، نہ چاہیے تمہاری حمایت۔ مجھے سکون سے جینے دو۔ آج یہ سب لوگ تمہاری وجہ سے مجھے بے عزت کر رہے ہیں، نہ تم میری حمایت میں بولتی، نہ یہ لوگ پھر سے آ کر مجھے ہدف بناتے، اور میں تب خاموش تھا کیونکہ میں ایک پیتھٹک لوزر ہوں، وِکٹیِم پلیئر ہوں، اٹینشن سیکر ہوں، لیکن اب میں خاموش نہیں رہوں گا۔

سن لو، تم سب بھی بہت غرور مند ہو اپنی دولت پر… تم سب ایک دن بھی میری طرح یہ زندگی گزار کر دیکھو، ایک دن کیا تم لوگ ایک گھنٹہ بھی نہیں رہ پاؤ گے۔ کیونکہ تم سب اپنے باپ کے پیسوں پر عیش کر رہے ہو، تم سب کو بیٹھے بیٹھے سب کچھ مل جاتا ہے۔ کسی کی مجبوری سے کیا لینا دینا… تم لوگ بس ایک غریب کے دل پر تھس پہنچا سکتے ہو، اس کی غربت کا مذاق اُڑا سکتے ہو، اسے معاشرے میں ذلیل کر سکتے ہو اور بیٹھ کر اس پر ہنس سکتے ہو، بس۔

سائم کی خاموشی ٹوٹ گئی تھی اور اندر کا سارا غبار نکال کر ان سب کے منہ پر پھینک دیا۔ اور اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے چلا گیا۔ لائبریری میں اب ایسی غمگین سنّاٹا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہاں کوئی تمّاشہ لگا ہی نہیں تھا۔

 

حریم کا ضبط جواب دے گیا، آنکھوں سے آنسو زاروں کی طرح بہنے لگے۔ وہ اپنی ساری ہمت جمع کر کے اب 

دھیرے سے قدم بڑھاتے ہوئے لائبریری سے باہر آگئی۔وہ باہر ایک چھوٹی سی بینچ پر بیٹھ گئی۔

 

کچھ اسٹوڈنٹس اس کے پاس آئے۔

 

“بہت افسوس ہوا حریم دیکھو، جس کی حمایت میں تم ہم سے لڑ رہی تھیں، وہی تمہیں سب کے سامنے رسوا کر کے چلا گیا۔ ایسے لوگوں کی ذات ہی چھوٹی نہیں ہوتی، ان کی سوچ بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ دیکھو نا، اس نے تمہاری قدر ہی نہیں کی۔ اور تم پاگل اس کے لیے ہمارے خلاف لڑ رہی تھیں۔ ایسے مڈل کلاس لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھ کر ہی ان سے معاملہ کیا جاتا ہے۔

 

چلو چھوڑو، اب ہمیں تو تمہاری قدر ہے۔”

 

جب اس کی دوست نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑا، تو حریم نے جھٹکے سے ہاتھ ہٹا لیا اور غصے سے اسے دیکھ کر چل دی۔

یونیورسٹی کے اختتام کے بعد سائم بس اسٹاپ پر بس کا انتظار کرنے لگا۔ اچانک وہی لڑکی جو کالے برقعے میں ملبوس تھی وہاں آگئی اور اس کے ساتھ ایک کرسی چھوڑ کر بیٹھ گئی۔ اس نے کندھے پر بیگ رکھا ہوا تھا اور سر سے پاؤں تک کالے برقعے میں چھپی ہوئی تھی۔

 

سائم کو وہ لڑکی بہت عجیب لگتی تھی۔ وہ اسے بس اسٹاپ پر ہی اکثر نظر آتی تھی۔ اتنا تو وہ جان گیا تھا کہ یہ لڑکی اس کے محلے کی ہے کیونکہ صبح بھی وہ بس اسٹاپ پر اسی کے ساتھ ہوتی تھی۔ سائم نے اسے ایک نظر دیکھا، لڑکی نے بھی اپنی نگاہ ترچھی کر کے اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر نقاب تھا۔

 

سائم دیکھ کر سوچنے لگا کہ یہ لڑکی ہمیشہ برقعے میں رہتی ہے۔ کوئی اسے بھی اس کے برقعے کی وجہ سے جج کرتا ہوگا، کوئی اسے بھی اذیت دے کر دوچار کرتا ہوگا۔ سائم کو اس لڑکی پر ترس آرہا تھا، وہ بھی اس کی طرح خاموش تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہزاروں خواب جھلکتے ہوں گے۔ اس کی بھی کوئی کہانی ہوگی، جو وہ کھل کر سب کو سنانا چاہتی ہوگی لیکن شاید کوئی اسے نہیں سنتا۔ جیسے میری کہانی کوئی سننا نہیں چاہتا۔ شاید کچھ بول نہیں سکتی معاشرے کے آگے۔ اپنی ذات سے اعلیٰ لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے سے کتراتی ہوگی۔ کوئی اسے بھی روزانہ اس کی ذات پر طعنہ دیتا ہوگا۔

 

وہ یہ سب بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اچانک بس کا ہارن بجا۔ بس آئی اور سائم بس میں سوار ہوگیا۔ وہ لڑکی وہیں بیٹھی تھی اور اسے گھور رہی تھی۔

 

سائم کو حریم کی یاد آگئی۔ آج وہ پھر اس کے ساتھ زیادتی کر گیا تھا۔ اس نے ایک بار بھی اسے بولنے کا موقع نہیں دیا۔ کتنا برا ہے وہ، کتنا غلط کیا اس نے حریم کے ساتھ۔ شاید وہ مجھے کبھی معاف نہ کرے۔

پورے راستے وہ اسے یاد کر رہا تھا۔ وہ کتنی اچھی لڑکی ہے، دل کی صاف ہے اور مجھے اس نے سپورٹ کیا کیونکہ اس نے میری تکلیف کو سمجھا۔

گھر آیا تو وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔ بھوک اس کی اڑ چکی تھی۔ وہ سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا، لیکن بار بار حریم کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا۔

“وہ رو رہی تھی اس وقت اور میں اسے ذلیل کر رہا تھا… میں کتنا برا ہوں اور وہ کتنی اچھی ہے۔

میں اب اس سے دور رہوں گا۔ ویسے بھی میں نے بہت تکلیف پہنچائی ہے، اب میں کبھی اسے نظر بھی نہیں آؤں گا۔ اس کی زندگی سے چلا جاوں گا۔ وہ مجھے اتنی اہمیت دے رہی تھی اور میں نے… میں نے کیا کیا؟ اس کی تذلیل کی سب کے سامنے۔ میں چلا جاوں گا حریم اور تم سے کبھی نہیں ملوں گا۔ بس اب تم اپنے جیسے لوگوں میں رہو۔ وہی تمہارے قابل ہیں اور تم ان کے قابل ہو، لیکن ہو سکے تو مجھے معاف کردینا۔

میں اپنی زندگی سے بہت تنگ ہوں۔ اور میں اسے بدل بھی نہیں سکتا کیونکہ مجھ میں وہ بات نہیں ہے جو تم میں ہے۔ تم جیسی بااعتماد لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ اگر میں مزید تمہاری زندگی میں رہا تو تمہیں تکلیف پہنچاؤں گا، اور میں مزید تمہیں تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا۔”

وہ آنکھیں بند کر کے بربرایا اور جب اسے نیند آئی تو اسے پتا بھی نہیں چلا۔

اگلے دو دن حریم یونیورسٹی نہیں آئی تھی۔ سائم نے یہی سوچا کہ شاید اسے بھی سمجھ آ گئی ہوگی، اس لیے دو دن کی چھٹی کر لی ہے۔ مگر سائم کو فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ اب کہاں ہے، کیسی ہے اور کیوں یونیورسٹی نہیں آ رہی۔ وہ اپنی اس کی زندگی سے دور رہنا چاہتا تھا اور چاہتا تھا کہ اب کبھی حریم کی نظر میں نہ آئے، ورنہ پھر کوئی نہ کوئی تماشا کھڑا ہو جائے گا۔

 

چھٹی کا دن تھا۔ اماں نے آج صحن کے فرش کی اچھی طرح دھلائی کی تھی۔ اب وہ کپڑے دھو دھو کر ایک چھوٹی سی ٹوکری میں ڈال رہی تھیں اور ساتھ ساتھ سائم کو مسلسل کوس بھی رہی تھیں۔

 

سائم اکتا کر بستر سے اٹھا اور باہر آ کر ایک لمبی انگڑائی لی۔

 

“کیا اماں، صبح صبح شروع ہو گئی ہو؟ ایک چھٹی کے دن بھی تمہیں چین نہیں۔”

سائم نے بیزاری سے کہا۔

 

“یہ کپڑے چھت پر سکھانے کے لیے ڈال آ۔ اور نیچے آ کر دیکھ، کچن میں سوکھی روٹیاں پڑی ہیں، جا کر اس پتیسا والے کو دے آ۔ کوئی چار پیسے ہی ہاتھ آ جائیں گے۔”

 

اماں جہاں سے بھی پیسے آنے کی امید دیکھتیں، موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتیں۔

 

سائم نے ٹوکری اٹھائی اور چھت پر چلا گیا۔ اس نے اماں کا دوپٹہ اچھی طرح نچوڑ کر ہوا میں جھٹکا اور پھر تار پر پھیلا دیا۔ سورج کی کرن دوپٹے پر پڑی تو اچانک اس پر ایک سایہ سا آیا۔

 

اس نے دوپٹہ ہٹا کر دوسری طرف دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔

 

یہ کیسے ممکن تھا؟ اس نے اپنی آنکھیں زور زور سے ملیں۔

 

سامنے کھڑی حریم کو مشرقی لباس میں دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔ وہ سیاہ رنگ کا برقع تار پر پھیلا رہی تھی۔

 

اچانک حریم کی نظر بھی اس پر پڑی۔ اس نے دیکھا کہ سائم اسے حیران کن نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ سے بالٹی چھوٹ کر زمین پر گری اور اس کی آنکھیں جیسے پھیل گئیں۔

 

وہ سادہ سی قمیص شلوار میں تھی اور سر پر نفاست سے دوپٹہ رکھا ہوا تھا۔ حریم سب کچھ چھوڑ کر گھبراہٹ میں تیزی سے وہاں سے بھاگ گئی۔

 

اور سائم سکتہ کی حالت میں ایک ٹانگ پر زور دیے کھڑا رہ گیا۔ اسے کہتے ہیں۔ اونچی دکان، پھیکے پکوان! 

 

نیچے اماں اسے ڈھیر ساری گالیاں دے چکی تھیں۔

 

“اوئے حڈ حرام! حرام خور! اوئے نکمے، آ جا نیچے۔ باقی کپڑے کیا تیرا باپ آ کر لے جائے گا؟ اے سائم، کدھر مر گیا ہے تو؟ اوئے حرام خور نیچے آ جا، ورنہ اوپر آ کر اس سوٹی سے تیرا سر کھول دوں گی!”

 

ایک طرف وہ اماں کی نیچے سے اوپر آتی ہوئی گالیاں سن رہا تھا اور دوسری طرف اس کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ حریم بھی ایک مڈل کلاس لڑکی ہے، جس کے دو روپ ہیں۔ یونیورسٹی میں سب کے لیے وہ ایک ماڈرن لڑکی تھی لیکن یونیورسٹی سے باہر اس کی حقیقت کچھ اور ہی تھی ۔یہ دراصل ہمارے معاشرے کا ایک حقیقی عکس ہے۔ اگر اس کہانی کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں کئی ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتے ہیں۔

سب سے پہلا حقیقت پسندانہ پہلو طبقاتی فرق ہے۔ ہمارے معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان صرف پیسوں کا فرق نہیں ہوتا بلکہ سوچ، برتاؤ اور معاشرتی رویوں میں بھی ایک واضح خلیج ہوتی ہے۔ سائم جیسے بہت سے نوجوان ہوتے ہیں جو باصلاحیت ہوتے ہیں، محنتی ہوتے ہیں، لیکن صرف اس وجہ سے مذاق اور تضحیک کا نشانہ بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے کپڑے سادہ ہوتے ہیں، ان کے جوتے مہنگے نہیں ہوتے یا ان کی زندگی میں آسائشیں کم ہوتی ہیں۔ معاشرہ اکثر انسان کو اس کے کردار یا محنت سے نہیں بلکہ اس کی ظاہری حالت اور مالی حیثیت سے پرکھتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو لوگوں کا ہجوم کی طرح سوچنا ہے۔ یونیورسٹی کے وہ طلبہ جو سائم کا مذاق اڑا رہے تھے، ممکن ہے ان میں سے بہت سے ایسے ہوں جو اکیلے میں اتنے سخت یا ظالم نہ ہوں۔ لیکن جب لوگ ایک گروہ کی شکل میں ہوتے ہیں تو وہ اکثر دوسروں کی تضحیک کو ایک تفریح بنا لیتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات تعلیم یافتہ ماحول میں بھی انسانیت اور ہمدردی کم نظر آتی ہے۔

تیسرا پہلو غلط فہمی اور جلد بازی میں فیصلے کرنا ہے۔ سائم نے حریم کو بھی اسی طبقے کا حصہ سمجھ لیا جو اسے تنگ کرتا تھا۔ اس کے غصے اور تلخی کی وجہ اس کی زندگی کے تجربات تھے۔ جب انسان بار بار ذلت یا ناانصافی کا سامنا کرتا ہے تو وہ اکثر سب لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائم نے حریم کی نیت کو سمجھنے سے پہلے ہی اسے رد کر دیا۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں عزت اور کردار کا تعلق پیسوں سے نہیں ہوتا۔ انسان کی اصل قدر اس کی سوچ، اس کے اخلاق اور اس کے برتاؤ سے ہوتی ہے۔ اگر لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور طبقاتی غرور کو چھوڑ دیں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔

یہ کہانی دراصل ہمیں یہی حقیقت دکھاتی ہے کہ بعض اوقات سب سے زیادہ زخمی وہ لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر خاموش نظر آتے ہیں، اور بعض اوقات سب سے سادہ دکھنے والے لوگ ہی سب سے زیادہ مضبوط اور باوقار ہوتے ہیں

اختتام…

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *