محبت عبادت
اَزقلم:ردا فاطمہ
گُلاب آنکھیں شراب آنکھیں
یہی تو ہیں لاجواب آنکھیں
انہی میں اُلفت انہی میں نفرت
ثواب آنکھیں عذاب آنکھیں
کبھی نظر میں بلاکی شوخی کبھی سراپا حجاب آنکھیں
کبھی چھپاتی ہیں رازدل کے کبھی ہیں دل کی کتاب آنکھیں
کسی نے دیکھی تو جھیل جیسی کسی نے پائی تو سراب آنکھیں
وہ آئے تولوگ مجھ سے بولیں
حضور آنکھیں جناب آنکھیں
ہزاروں ان سے قتل ہوئے
خداکے بندے سنبھال آنکھیں
میں اِس کو لکھنے والے کا نام نہیں جانتی لیکن یہ شاعری مُجھے پسند ہے
باب اول : محبت
تمہیں اُس سے محبت ہے کیا۔۔؟ معراج نے رِحال سے پوچھا تھا۔۔ رِحال پل بھر کو حیران رہ گئی تھی اُس کو توقع نہیں تھی معراج ایسا کچھ پوچھے گی ۔۔ رِحال نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔ اور فون میں مگن رہی ۔۔ معراج کو لگا رِحال نے سُناہی نہیں ۔۔۔ میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔۔؟ معراج نے پھر سے کہا ۔۔۔ رِحال نےمعراج کو دیکھا ۔۔ مجھے پانی لا کےدو پیاس لگ رہی ہے۔۔۔ رِحال نے کہا ۔۔ معراج نے اپنی بڑی بہن کو گھوری سے نوازا۔۔ اورکمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔ رات کا وقت تھا کمرے میں لیمپ کی زرد روشنی بکھری تھی ۔۔ بیڈ پر رِحال بیٹھی تھی فون استعمال کر رہی تھی ۔۔اُس کی رنگت دُودھ جیسی سفید تھی اور معصومیت سے بھرپور چہرہ وہ نا زیدہ موٹی تھی نا پتلی ۔۔وہ خوبصورت تھی۔۔اُس کی آنکھیں گہری بھُوری رنگ کی تھی۔۔۔وہ قد میں بڑی نہیں تھی۔۔ درمیانہ قد تھا ۔۔۔بال گُھنگرِیالے تھے جو اس کی کمر سے نیچے تک تھے۔۔۔ معراج پانی لےآئی تھی ۔۔ اُس نے گلاس رِحال کو دیا اور اس کے پاس بیٹھ گئی ۔۔ چلو اب بتاؤ۔۔ تمہیں وہ پسند ہےنا ۔۔رِحال کو لگا تھا اب وہ ایسا کچھ نہیں پوچھے گی لیکن نہیں۔۔۔ معراج کی سوئی پھس گئی تھی۔۔۔۔
تم کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہو ۔۔۔ رِحال نے تنگ آ کر کہا ۔۔۔۔
نہیں ایسے ہی پوچھ رہی ہوں بتانے میں کیا حرج ہے۔۔۔؟
رِحال نے کچھ دیر سوچا ۔۔ پھر بولی ۔۔۔ میری چھوڑو اپنی بتاؤتم پسند کرتی ہو نا اُن کو ۔۔۔۔؟
معراج نے اپنی بہن کو اپنی ہلکی بھوری آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔۔پھر کچھ دیر چُپ رہی ۔۔۔ پھر بولی اور جو وہ بولی اُس سے رِحال سکات رہ گئی ۔۔۔۔۔
ہاں میں پسند کرتی ہوں اُن کو ۔۔۔ معراج نے کہا ۔۔رِحال نے خاموشی سے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا جو قد اور شکل صورت میں اس سے بڑی لگتی تھی ۔۔۔رِحال نے خود کو سنبھالا پھر بولی ۔۔۔
آ ۔۔۔اگرمیں کہ دیتی کے میں پسند کرتی ہوں اُن کو ۔۔تو تم کیا کرتی معراج ۔۔۔
تم نے مجھے ابھی بھی نہیں بتایا کے تم پسند کرتی ہو یا نہیں ۔۔ لیکن اگر تم اُن کو پسند کرتی ہوتی تو میں۔۔کبھی تم سے بات نا کرتی۔۔ اور دوبارہ اُن کے گھر بھی نا جاتی ۔۔ میں تم دونوں کے راستے میں نا آتی۔۔ میں کبھی اُن سے بات نا کرتی ۔۔۔۔۔اب بتاؤ تم پسند کرتی ہو ۔۔۔ عام سے انداز میں وہ بات کرتی اپنی بڑی بہن کو سُن کر گئی تھی ۔۔۔
نا ۔۔نہیں میں نہیں کرتی پسند اُن کو۔۔ رِحال کے گلےمیں آنسوں کا گولا بنا۔۔
پھر خود کو سنبھال کے بولی ۔۔ تم سے وہ بہت بڑے ہیں معراج۔۔۔
ہاں میں جانتی ہوں اور میں اُن سے محبت نہیں کرتی ۔۔بس پسند کرتی ہوں رحل ۔۔۔ اور رِحال جانتی تھی معراج کا کسی چیز کو پسند کرنا محبت سے آگے تھا ۔۔ مطلب پاگل پن ۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی ۔۔وہ اناپرست تھی ۔۔وہ غصے والی تھی اور وہ ضدی تھی ۔۔ انتہا کی ضدی ۔۔۔ وہ تیکھے نین نقش والی خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ اپنی بڑی بہن سے پیار کرتی تھی ۔۔ وہ اُس کو دُکھ نہیں ہونے دیتی تھی ۔۔۔۔ ہاں ایک عادت جو معراج میں تھی وہ یہ تھی کے ۔۔اگر رِحال کے پاس کوئی چیز ہے تو وہ معراج کے پاس بھی ہونی چاہئے ۔۔۔۔ اور شاید معراج شیخ کی یہ عادت ہمیشہ رِحال شیخ کو بھاری پڑتی تھی لیکن اب ۔۔ جو رِحال کو پسند تھا ۔۔ اور وہی معراج کو پسند آیا تھا وہ کوئی چیز نہیں تھی۔۔ انسان تھا۔۔ ایک با روب انسان ۔۔بادشاہوں جیسا ۔۔ وہ بادشاہ جو پوری سلطنت کو اپنی آنکھوں سے گھائل کرنے کا ہنر رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ہوا یہ کے معراج تو خوشیخوشی سو گئی ۔۔ صبح اس کو کولج جانا تھا ۔۔ لیکن رِحال ۔۔ وہ لحاف میں چہرہ چُھپاکے ساری رات آنسو بہاتی رہی ۔۔۔۔ وہ ہاں کر دیتی تو وہ اپنی بہن کو کھو دیتی ۔۔۔وہ نہیں جانتی تھی قسمت میں کیا لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سنہری صبح کا وقت تھا جیسے لاہورکے پوش علاقوں میں ہوا کرتا تھا۔۔۔۔ ایک بڑا گھر جو باہر سے خوبصورت محل لگتا تھا اندر سے وہ پرانے طرز کا بنا گھر تھا۔۔ وہ باہر سے خوبصورت تھا لیکن اندر سے انتہا کا خوبصورت تھا ۔۔۔ اور ہوتا بھی کیوں نا ۔۔آخر وہ مصطفیٰ محل تھا۔۔۔باہر کھڑے پہرےدار پہرا دے رہے تھے۔۔۔۔ گھر کے اندر قدم رکھو تو بڑا سا برآمدہ نظر اتا تھا۔۔ جہاں سنہرے رنگ کا جھولا لگاتھا ۔۔۔۔برآمدے سے چلتے گھر کے اندرون دروازے تک کے راستے میں ہریالی تھی اور سرخ گلاب کا باغ جو دونوں طرف تھا۔۔۔۔ اندر کا دروازہ کھولو تو دنیا بدل گئی تھی۔۔۔ اندر عالیشان سٹنگ ایریا تھا ۔۔ جہاں سیاہ صوفے لگے تھے ۔۔۔ سامنے پوری دیوار اتنی ال سی ڈی لگی تھی ۔۔۔ اور صوفے پر ایک عورت بیٹھی تھی ۔۔۔ وہ گھر کی مالکن تھی ۔۔۔ سٹنگ ایریا سے ہی گولائی میں سیڑیاں اوپر کو جا رہیں تھی جہاں کوئی اور دنیا آباد تھی اوپر کمروں کی قطاریں تھی۔۔۔۔۔
اوپر ایک کمرے کا دروازہ کھولو تو سامنے کوئی ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا ۔۔۔۔
اُس شخص کی پُشت نظر آتی تھی ۔۔ وہ سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا ۔۔ شیشے میں اُس کا عکس نظر آرہا تھا۔۔۔ وہ گھر کا اکلوتا بیٹا اکلوتا جانشین تھا ۔۔۔۔سانولی رنگت ۔۔لمبا قد ۔۔وہ نا پتلا تھا نا موٹا۔۔وہ ایسا تھا کے دنیا اُس پر فدا ہو سکتی تھی۔۔۔اس کی آنکھیں گہری بھُوری تھی نشیلے نین والا وہ مرد بہت دلکش تھا وہ اپنی آنکھیں کم کھولتا تھا جس سے اُس کی آنکھیں خُمار بھری لگتی تھی اور جب وہ پُوری آنکھیں کھولتا تھا ۔۔تو لگتا ایک جہاں وہ آنکھوں میں بسائے بیٹھا تھا۔۔۔۔اُس کے چہرے میں سب سے دلکش اُس کی آنکھیں تھی ۔۔۔ اُس کے سانولے رنگ میں الگ دلکشی تھی اور چہرے پر ہلکی شیو ۔۔۔ لیکن اُس کی آنکھوں کی بات اور تھی ۔۔ وہ آنکھوں میں دنیا قید کیے بیٹھا تھا ۔۔۔ اُس کی آنکھیں دیکھ کے لگتا تھا جیسے ساکی کی ساری غزلیں اور شاعریاں اُس کی آنکھوں کے لیے تھی ۔۔وہ علی مصطفی تھا۔۔۔۔اُس نے ایک نظر خود کو دیکھا اور سامنے پڑے پرفیوم کی قطاروں میں سے ایک پرفیوم اپنے وجود پر لگایا ۔۔۔ اُس کے وجود سے اُٹھتی خوشبو کسی کو بھی اپنے سحر میں لے سکتی تھی اس سے محبت کروا سکتی تھی ۔۔ اور یہی ہوا تھا اسلام آباد جیسے شہر میں بیٹھی ایک لڑکی اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی گمنام محبت ۔۔وہ اس محبت سے نا واقف تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں اس کے دل میں کچھ تھا اُس کے لیے لیکن وہ کیا تھا کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔ لیکن رحال کے دل میں کیا تھا وہ یہ نہیں جانتا تھا
وقت میں تھوڑا پیچھے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
دسمبر کا مہینہ تھا ٹھنڈ عروج پر تھی ۔۔۔اور اسلام اباد کے ایک گھر میں پیکنگ چل رہی تھی ۔۔۔ رِحال کپڑے ٹھیک سے رکھے ہیں بیگ میں۔۔۔جی امی رکھ لیےہیں ۔۔۔ ان کی تیاری تھی اپنی بڑی خالہ کے گھر جانے کی ۔۔۔ جو لاہور میں رہتی تھیں ۔۔۔۔ وہ بچپن سے لاہور میں رہیں تھی اور اُن کی شادی بھی لاہور میں ہی ہوئی تھی ۔۔۔ اُن کے بھی چار بچے تھے۔۔۔۔
رِحال سب سامان دیکھ کے رکھ لینا ۔۔اور مجھے بتاؤ تم نے سٹس رکھوا لی تھی ۔۔۔ جی امی میں نے رکھوا لی تھی۔۔۔اچھا کونسی بس کی سٹٹس رکھوائی ہیں یہ نا ہو رِحال ہم ذلیل ہو جائیں۔۔ امی فیصل موورز کی سٹس رکھوائی ہیں فکر ہی نا کریں ۔۔۔ ان کی سروس بہت اچھی ہے ۔۔۔ رِحال نے ماں کو پُر سکون کیا۔۔ اور اس کی امی سلیماں بیگم نہانے چلی گئی ۔۔یہ صبح سویرے کا وقت تھا ۔۔۔ سات بج رہے تھے اور وہ تیار ہو رہی تھی ۔۔ رِحال کے گھر سے بس اس کی امی اور معراج اور رِحال ہی لاہور جا رہی تھی ۔۔ ان کے دونوں بھائی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے تھے ۔۔ویسے تو دونوں بھائی سلمان اور عثمان جڑوں تھے اور دونوں میں ہی کوئی زیدہ سلوک اتفاق نہیں تھا لیکن یہ صرف گھر کی حد تک تھا ۔۔۔ باہر وہ دونوں ہی بہت سلوک اتفاق سے رہتے تھے ۔۔۔۔9:00 ان کو بس سٹینڈپر ہونا تھا۔۔ 9:00 بجنے میں دس منٹ تھے اور وہ تیار گھر سے باہر نکلے تھے ان کی بابا فرحان صاحب ان کو چھوڑنے آئے تھے معراج نے سیاہ اُون کی شارٹ فراک پہن رکھی تھی اور نیچے اُون کا پاجامہ تھا جب کے سر پر سیاہ دوپٹہ لے راکھا تھا جب کے رِحال نے سیاہ رنگ کی لونگ شرٹ پہن رکھی تھی ۔۔اور سیاہ کھولا پاکاما جو پاؤ کو چُھو رہا تھا بلکہ زمین پر جھارُو مار رہا تھا اور سر پر سیاہ دوپٹہ تھا ۔۔۔ ان کو کوچ نظر آئی وہ ان کے پاس آ کے رکی تینوں ماں بیٹی اندر اپنی سٹس پر جا کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔ اب پانچ گھانٹے کا سفر تھا کہیں شام کے قریب انہوں نے لاہور کی زمین پر قدم رکھنا تھا ۔۔۔جانے کو وہ اپنی گاڑی پر جا سکتی تھی لیکن نا رِحال کو ڈیریونگ آتی تھی نا معراج کو ۔۔ اور ان کے ابو اس لئے نہیں آئے کیوں اُن کو افس جانا ہوتا تھا ۔۔۔ اور گھر خالی چھوڑنے پر کوئی راضی نہیں تھا ۔۔۔
یہاں رِحال سفر کر رہی تھی ہر چیز سے بے خبر کانوں میں ہیڈ فون لگائے اس بات سے بے خبر کے کوئی دل پر دستک دینے والا تھا۔۔۔۔۔۔وہ جس کو یہ جانتی تھی بچپن سے ۔۔وہ جس سے وہ ڈرتی تھی وہ جس سے یہ ہمیشہ بھاگتی تھی جب کے وہ تو اس کو دیکھ کے درگزر کر دیتا تھا۔۔۔وہ جس کو کسی چیز سے غرض نہیں تھی ۔۔۔لیکن اس ملاقات کے بعد سب کچھ بدلنے والا تھا ۔۔قسمت محبت دستک جو دینے والی تھی ۔۔۔ کہتے ہیں محبت بخت کی بات ہوتی ہے صحیح کہتے ہیں۔۔۔۔۔
آنچل کھانا تیار ہے نا۔۔۔زارِینہ بیگم اپنی بڑی بیٹی سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔جی امی تیار ہے آپ فکر نا کریں۔۔اور کنزا سکول سے آجائے تو اُس کو کہنا جلدی کپڑے بدل کے کمرہ صاف کر لے سلیماں میرے کمرے میں رہ لے گی اور معراج اور رِحال ساتھ والے کمرے میں رہ لیں گی ویسے بھی تمہارے بابا تو شہر سے باہر ہیں وہ دو مہینے سے پہلے نہیں آئیں گے ۔۔۔ ان کے بابا کا اپنا کپڑے کا بیزنس تھا وہ لاہور کم ہی آتے تھے۔۔۔آپ فکر نا کریں امی سب سنبھال لوں گی میں ۔۔دیکھنا آنچل خیال سے میری بہن اور بچیاں تھکی ہوئی آئیں گی سفر سے تیاری میں کوئی کمی نا رہے ۔۔گھر میں ملزموں کی قطاریں تھی لیکن زارِینہ خاص خیال رکھتی تھی گھر کا ۔۔۔کنزا درمیان کی تھی ۔۔۔اس سے چھوٹی میرہا تھی ۔۔۔وہ تین سال کی تھی اور اس وقت سو رہی تھی ۔۔ ہاں آنچل سے چھوٹا اور کینزا اور میرہا سے بڑا ایک بیٹا تھا ۔۔ اور وہ صاحب زادے اپنے کمرے میں سر درد کی دوا لے کے آرام کر رہے تھے خیر اب تھی چار گھنٹے گزر گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
کنزا آگئ تھی اور کپڑے بدل کے کمرا بھی صاف کر لیا تھا ۔۔۔کنزا ۔۔جا اپنے بھائی کو جگا ابھی تک سو رہا ہے سلیماں کو لینے نہیں جانا کیا ۔۔۔۔ اچھا امی میں جا کے جگاتی ہوں ۔۔۔۔کنزا اپنے بھائی کے کمرے میں داخل ہو گئی سیاہ اور سفید کا وہ امتزاج انتہا کا خوبصورت لگ رہا تھا کمرے میں رہنے والے انسان کو سیاہ رنگ سے محبت تھی یہ اُس کے کمرے میں لگی پینٹنگ اور کمرے کی تھیم گواہی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اور بیڈ پر اندھیرے میں ایک وجود اُلٹ لیٹا سو رہا تھا۔۔۔کنزا نے اپنے بھائی کو آواز دی ۔۔بھائی ۔۔بھائی اُٹھ جاؤ خالہ آ رہی ۔۔۔اس نے مزید ایک دو بار اُٹھایا تو وہ جگ گیا تھا ۔۔ اس نے بیڈ پر لیٹے اپنی بہن کو دیکھا اُس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی نیند سے جاگنے کے بعد یہی ہوتا تھا ۔۔۔۔
اٹھ رہا ہوں ۔۔ اس نے اٹھتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور بکھرے بال سیٹ کیے اس کے وجود سے ہلکی خونصورت خوشبو آ رہی تھی ۔۔ جو ہمیشہ آتی تھی ۔۔۔ خالہ کے علاوہ کون آ رہا ہے ۔۔۔ معراج اور رِحال دونوں آ رہی ہے آپ کو پتہ ہے میں تو بہت خوش ہوں اتنے وقت بعد میں مل رہی دونوں سے ۔۔۔کنزا اب بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔کنزا خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔ لیکن بہت بولتی تھی
اب جلدی اٹھو آپ لینے جاؤ گے ان کو ۔۔۔ ہاں اٹھ گیا ہوں وہ اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔
اور جب وہ فریش ہو کے باہر آیا تو زارِینہ نے بتایا کے سلیماں نے کہا ہی رِحال نے کیب کروا لی تھی وہ تو بس آنے والے ہی 15منٹ تک ۔۔ وہ جو ہاتھ میں گاڑی کی چابی پکڑے تیار کھڑا تھا چابی جیب میں ڈالی ۔۔ خالہ تو آ ہی رہی ہیں میں زرا یہ اپنے دوست کے پاس جا رہا ہوں جب وہ اجائیں گی تو میں اجاؤں گا اس نے کہتے ہوئے قدم گھر سے باہر رکھ دیے دو گھر فاصلے پر اس کے دوست کا گھر تھا ۔۔۔ اور وہ گھر کے باہر ہی کھڑا ہو کے اپنے دوست سے ملتا تھا ۔۔ وہ کبھی گھر کے اندر نہیں گیا تھا ۔۔۔ اس وقت بھی وہ اس کے گھر کے باہر کھڑا باتیں کر رہا تھا وہ کم بولتا تھا ۔۔زیادہ اس کا دوست ہے باتیں کر رہا تھا ۔
اچھا تیری خالہ آ رہی ہیں ۔۔ کتنے دن کے لئے آ رہی ہے اور کون ساتھ آ رہا ہے ۔۔۔؟
میری دو کزن ہیں وہ آ رہی ہیں ساتھ ۔۔ اچھا وہ جو ہمیشہ آتی ہیں ۔۔ ہاں وہی۔۔۔۔
ابھی وہ بول ہی رہے تھے ان کو دور سے گاڑی آتی دکھائی تھی ۔۔۔لگتا ہی اگائی تیری خالہ ۔۔ سامنے والے نے بس گردن ہلائی تھی ۔۔۔اور چلتا ہوا ان تک آگیا ۔۔ سلیماں گاڑی سے باہر نکلی اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔۔کیسا ہے میرا شیر ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں خالہ ۔۔ ہاں میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ کہتی اب اندر کو جا رہی تھی اور اس نے بیگ پکڑ رکھے تھے رحل اور معراج کا بیگ گارڈ اندر لا رہے تھے۔۔ان دونوں کے درمیاں کوئی بات نہیں ہوئی ہمیشہ ہی نہیں ہوتی تھی ہاں جب وہ چھوٹے تھے تب پھر بھی باتیں ہوتی تھی لڑائیاں ہوتی تھی لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوئے باتیں ختم ہو گئی ۔۔۔ وہ بہت کم بولنے والا انسان بن گیا اور رِحال نے ویسے ہی دوری اختیار کر لی وہ جیسے جیسے بڑا ہوا رِحال کو وہ ایک با روب مرد لگنے لگا ۔۔۔ پھر رِحال کو اُس سے بات کرنے سے ڈر لگنے لگا ۔۔۔۔
ان دونوں میں اب بھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ رحل جب گھر میں داخل ہو رہی تھی وہ اندر کا دروازہ پکڑے کھڑا تھا ہاں دروازہ ۔۔کیوں کے وہ دروازہ خود ہی بند ہو جاتا تھا ۔۔۔
معراج اندر چلی گئی اور جب رِحال اندر جانے لگی دونوں کی نظریں ٹکرائی ۔۔۔اور سامنے کھڑا علی مصطفی اپنی نظریں جُھکا گیا ۔۔ لیکن رِحال شیخ کے دل میں کچھ تو اتر گیا تھا ۔۔ جس کا رِحال کو اندازہ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔گھر میں سلام دعا ہوئی سب ملے ۔۔اور پھر رِحال اور معراج کمرے میں فریش ہونے چلی گئی ۔۔ جب کے سلیماں اپنی بڑی بہن سے باتیں کر رہی تھی ۔۔ رِحال اور معراج تو کھانا کھا کے سو گئی تھی کیوں کے ان دونوں کو پتہ تھا ان کی خالہ اور ماں کی باتیں پوری رات چلنی تھی ۔۔۔
باجی کچھ بھی کہو تمہارے سارے بچے بہت اچھے ہیں لیکن تمہرا علی ۔۔۔ وہ سونا ہے سونا ۔۔ ویسا بچہ میں نے کہی نہیں دیکھا ۔۔ علی کی بیوی قسمت والی ہو گی ۔۔۔ زارِینہ مسکرائی ۔۔ ویسے ہماری رِحال کسی سے کم ہے کیا ۔۔۔ زارِینہ نے اپنی بہن کو کہا ۔۔ ویسے ایک بات کہوں سلیماں میرے دل میں یہ بات بہت پہلے سے ہے ۔۔ مجھے رِحال علی کے لئے بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔ سلیماں مسکرا اُٹھی لکھوا لو باجی میں نے علی کو دیکھا ہے وہ میری رِحال کو دیکھتا رہتا ہے ۔۔۔ لگتا ہے پسند کرتا ہے ۔۔ تم دیکھنا باجی رِحال جب علی کو دیکھتی ہے وہ نظریں نیچے کر لیتا ہے جیسے آنکھوں میں کچھ چھپا رہا ہو ۔۔ تمہارا بیٹا میری بیٹی کو پسند کرتا ہے باجی ۔۔ سلیماں نے خوشی سے کہا ۔۔۔ ویسے علی کے بابا بھی مان جائیں گے انہیں بھی رِحال بہت اچھی لگتی ہے ۔۔ تم بھائی صاحب سے بات کرنا سلیماں ۔۔ زارِینہ نے کہا تو سلیماں نے کچھ دیر سوچا ۔۔اتنی جلدی نہیں باجی ۔۔ مجھے رِحال کو بتانے دو بھلا وہ کیا کہتی ہے اور علی کو بھی دیکھنے دو یہ نا ہو ہمارا وہم ہو یہ ۔۔۔ تمہاری بات ٹھیک ہی سلیماں ۔۔ تم تین دن یہاں ہی ہو ہم علی کو دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں نا محبت نا بھی ہو تو دوست کہ کہ کر کروا دیتے ہیں کے یہ تجھے پسند کرتا ہے وہ تجھے پسند کرتا ہے
بس یہی حال رِحال کے ساتھ ہونے والا تھا لیکن رِحال نہیں جانتی تھی ۔۔کے رِحال کے دِل میں کوئی نظر پہلے ہی اُتر چکی تھی ۔۔۔۔
اگلی صبح جب رِحال کی آنکھ کھلی تو معراج کمرے سے باہر تھی رِحال اٹھی فریش ہوئی اور درد کی تیز لہر اس کے کندھے میں اٹھی ۔۔۔ وہ سفر میں ایسے ہی تھک جاتی تھی وہ باہر آئی کھانے کا انتظام ہو چکا تھا ابھی وہ پیلیٹ میں چاول نکال ہی رہی تھی جب سلیماں نے اپنے بھانجے کو آواز لگائ تھی جو ان ڈیئننگ کے پاس سے گزرا اور ان کی آواز پر رک گیا ۔۔ علی تو نے کھانا کھا لیا ہے کیا ۔۔ ؟۔۔۔
نہیں خالہ ابھی کھانے لگا ہوں بس وہ کمرے میں بیٹھ کے کھانا کھاتا تھا اس کو تنہائی پسند تھی ۔۔ ہمارے ساتھ کھا لے بیٹا ۔۔ علی نے ٹالنا چاہا ۔۔کوئی بات نہیں آپ کھا۔۔ ابھی وہ بول ہی رہا تھا سلیماں نے پھر کہا اور وہ خاموشی سے چلتا ان کے ساتھ چئر پر آ کے بیٹھ گیا لیکن اس سے تھوڑا دور بیٹھی رِحال کا کھانا گلے میں اٹک گیا ۔۔ وہ کیسے مان سکتا تھا اس نے کبھی ایسے بیٹھ کے کھانا نہیں کھایا تھا پھر اب کیوں کچھ الگ تھا علی مصطفیٰ میں کچھ بدل گیا تھا اس بار ۔۔۔ کھانے کے بعد بھی وہ کتنی دیر وہاں بیٹھا رہا چائے پی ۔۔۔ رِحال کو لگا اب وہ چلا جائے گا تو وہ سکون کا سانس لے گی لیکن اُس نے آج افس سے ہی آف لے لیا تھا اور یہ پتہ چلتے ہی رِحال اور حیران ہوئی وہ آف نہیں لیتا تھا افس سے یہ کیا ہو رہا تھا۔۔اور پھر وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھا رہا تھوڑی بہت باتیں کر رہا تھا ۔۔۔اور نظرِ کبھی کبھی رِحال کے چہرے سے ٹکرا جاتی جب رِحال نظرے اٹھاتی تو ہوں نظریں جھکا لیتا رِحال کو علی کی نظرے خود کے چہرے پر
محسوس ہوتی رہی جب تک ہوں وہاں بیٹھا تھا اور شام کو جو بات اس کی ماں نے کہی وہ ایک اور دھماکہ تھی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے علی پسند کرتا ہے تجھے ۔۔۔وہ تجھے جیسے دیکھتا ہے اور تیرے دیکھتے ہی وہ نظریں جھکا لیتا ہے ۔۔۔ اور آنکھوں میں حیا آجاتی ہے ۔۔ ایسے کوئی عاشق ہی دیکھ سکتا ہے رِحال۔۔ علی کمرے سے باہر گیا تھا جب سلیماں نے بتایا۔۔۔اور رِحال حیران رہ گئ ۔۔آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے امی ۔۔ کیوں کے جب وہ تجھے دیکھ رہا تھا آج بھی تب میری نظر اس پر پڑی اس نے مجھے دیکھا تو گھبرا کر نظریں گھما لی اس نے ۔۔ وہ کمرے میں اتا ہے تو تجھے دیکھتا ہے ۔۔۔ جیسے وہ تجھے ہی دیکھنے آیا ہے ۔۔۔۔
اور پتہ نہیں رِحال کو خود بھی محسوس نہیں ہوا رِحال کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔۔۔
معراج بھی پاس بیٹھی سن رہی تھی مسکرا رہی تھی اور اپنی بہن کو دیکھ کے ہنسنے لگی رِحال بس معراج کو گھور کے رہ گئی ۔۔ سلیماں بیگم باہر چلی گئی تو میراج بہن کو تنگ کرنے لگی ۔۔۔ مطلب کے علی بھائی تم پر لٹو ہو گئے ہیں ۔۔۔ کیا فضول باتیں کر رہی ہو میراج رِحال نے اُس کو روکا ۔۔۔ فضول باتیں تو نہیں کر رہی سچ کہ رہی ہوں ۔۔۔۔
رِحال نے سوچا پھر بولی ۔۔ ویسے میں نے کبھی اُن پر غور نہیں کیا ۔۔ اب دیکھوں گی کیا سچ میں وہ مجھے دیکھتے ہیں ۔۔ ہاں مجھے تو لگتا ہے اپنی ٹھیک کہہ رہی ہے رحال ۔۔۔ رِحال خاموش ہو گئی ۔۔ علی اپنے کمرے میں گیا تھا شاید فون اگیا تھا اُس کا ۔۔۔
ویسے تمھیں علی بھائی کیسے لگتے ہیں ۔۔ معراج اب پوچھ رہی تھی رِحال نے اُس کو دیکھا میں نے کبھی اس بارے میں سوچ ہی نہیں اور اُن کے لیے تو کبھی خیال ہی نہیں ایا ایسا
تو اب سوچ لو ۔۔۔ رِحال نے گہرا سانس بھرا ۔۔۔ معراج چھوڑو ان باتوں کو فضول ہیں ۔۔ رِحال نے اپنے دل کو جھٹکنا چاہا ۔۔
سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔ کوئی اچانک دل میں کیسے ا سکتا تھا ۔۔ لیکن محبت اچانک ہی ہوتی ہے ہاں وہ سوچ رہی تھی اگر محبت اچانک ہونی تھی تو بچپن میں ہی کیوں نہیں ہو گئی وہ تو اس کو بچپن سے جانتی تھی نہ ۔۔ لیکن ۔۔ بچپن میں کبھی نظریں ایسے نہیں ٹکرائی تھی نہ جیسے اب ٹکرائی تھی ۔۔
وہ سوچ رہی تھی محبت کچھ سال پہلے کیوں نہیں ہوئی تھی اب ہی ایک ہی ملاقات بھی کیوں ہو گئی ۔۔ لیکن کچھ سال پہلے نظریں ایسے نہیں ٹکرائی تھی جیسے اب ٹکرائی تھی علی مصطفیٰ نے اسے نظریں نہیں جھکائی تھی جیسے اب جھکائی تھی ۔۔احترام سے عزت سے ۔۔ وہ دوسرے لوگوں کی طرح گھورتا نہیں تھا ۔۔ وہ سب سے الگ تھا ۔۔۔ وہ احترام میں آنکھیں جُھکا لیتا تھا ۔۔۔
یہ تین دن کے لیے ائے تھے اور اب ان کو دوسری رات تھی ۔۔ وہ اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے ۔۔۔ سلیماں بیگم اس پورے دن میں علی کی ہر حرکت دیکھتی تھی خاص کر تب جب رِحال علی کے آس پاس ہوتی تھی۔۔ اور وہی ہوتا تھا ۔۔ وہ دیکھتا تھا نظریں جُھکا لیتا تھا ۔۔۔ اور اب اگلی شام کو ان کو واپس اسلام اباد جانا تھا ۔۔
اعلی مصطفیٰ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا انکھوں سے نیند بہت دور تھی ۔۔ اور دماغ ہر سوچ سے خالی ۔۔۔ خیال ایک چھوٹی سی لڑکی تک جا پہنچا جو اس کی کزن تھی ۔۔ وہ بیڈ پر لیٹے مسکرا اٹھا علی 24 سال کا تھا ۔۔ اور
رِحال وہ 18 کی ہوئی تھی ۔۔ 20 دسمبر کو
علی عمر میں بہت بڑا تھا ایسا علی کو لگتا تھا ۔رِحال شخ میں بچپنا چھلکتا تھا ۔۔ وہ اچھی اور معصوم لڑکی تھی ۔۔ خوبصورت بھی تھی گڑیا جیسی ۔۔۔ اس نے ہر خیال کو اپنے دماغ سے نکال دیا ۔۔ اس کو سونا تھا اور صبح اس کو جلدی اٹھنا تھا ۔۔۔
یہ سنہری صبح کا وقت تھا ۔۔ علی صبح ہی صبح جگ گیا تھا اج اس کی خالہ نے چلے جانا تھا
ہاں اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی اور نیند پوری نہ ہونے کی وجہ کنزا اور معراج تھی انہوں نے علی کو صبح جلدی اٹھا دیا تھا ۔۔
وہ فریش ہو کے جب باہر ایا تو پتہ چلا معراج کنزا رِحال۔۔ اوپر چت پر گئی ہے ۔۔ وہ بھی اوپر آگیا ۔۔ کنزا بیٹھی معراج سے باتیں کر رہی تھی اور رِحال موسم کا لطف لے رہی تھی موسم ٹھنڈا تھا ۔۔۔
اچانک رِحال کو نیچے سے اس کی امی نے آواز لگائی شاید کوئی کام تھا ۔۔رِحال نے اپنا دوپٹہ صحیح کیا اور نیچے جانے والی سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔
ابھی وہ سریوں کے عالیشان دروازے تک بھاگی تھی کے سامنے سے اتے سفید شلوار قمیض میں علی مصطفیٰ سے ٹکراتی ٹکراتی بچی تھی ۔۔
علی اپنے دہان میں اوپر سیڑھیاں چڑ رہا تھا اور رِحال اپنے دہان میں نیچے اترنے والی ہی تھی کے سامنے علی کو دیکھ لیا ۔۔ اعلی نے مشکل سے خود کو سنبھالا اور رِحال۔۔ اُس کے سینے سے ٹکراتی ٹکرتی بچی تھی ۔۔ علی خاموش رہا دونوں کی نظریں ایک بار پھر ملی
رِحال کو سامنے کھڑے شخص سے اتی پرفیوم کی خوشبو اپنے حصار میں لے گئی ۔۔ یہ کیسی خوشبو تھی ۔۔ الگ سی خوبصورت سی خوشبو ۔۔۔۔ علی ابھی تک وہیں کھڑا تھا ۔۔ رِحال نے ہلکی اواز میں معذرت کی اور پاس سے گزر گئی ۔۔۔ علی کچھ نہیں بولا وہ بولتا کم تھا اور اس کی اس عادت کو دیکھ کر لوگوں کو لگتا تھا کے اُس میں بہت غصّہ ہے لوگوں کو صحیح لگتا تھا ۔۔ علی بھی آگے بڑھ گیا ۔۔ وہ شاید ان سب کو بلانے ہی ایا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ سب نیچے تھے ۔۔
جی امی بولیں رِحال سلیماں سے پوچھ رہی تھی ۔۔ رِحال تم کہہ رہی تھی نہ تمھیں کچھ کپڑے لینے ہیں ۔۔ جی امی لینے تو ہیں ۔۔
لیکن آپ اپنی پسند سے ہی لے آئے ۔۔ رِحال تم اپنی پسند سے لے آو بیٹا ۔۔ ٹھیک ہے امی میں تیار ہوتی ہوں اپ بھی ہو جائے ساتھ چلتے ہیں پھر ۔۔۔ سلیماں بیگم نے کچھ دیر سوچا ۔۔ میں تو زرینہ کے ساتھ پاس والی دکان پر جا رہی ہوں ۔۔ کچھ چیزیں لینی ہے تم ایسا کرو ۔۔ ماں نے کچھ دیر سوچا ۔۔ تم علی کے ساتھ چلی جاؤ رِحال حیران رہ گئی
ن۔۔ میں۔۔ میں کیسے امی ۔۔ ا۔۔ اپ ہی چلی جائیں ۔۔ میں نہیں جا رہی ۔۔
ارے بیٹا تم چلی جاؤ علی کے ساتھ وہ مال لے جائے گا تمہیں ۔۔ ابھی سلیماں بیگم بول ہی رہی تھی علی کمرے میں داخل ہوا ۔۔
دیکھو علی بھی اگیا ہے ۔۔۔ تم چلی جاؤ ۔۔اس کے ساتھ ۔۔ رِحال نے علی کو دیکھا امی ۔۔ م مجھے نہیں لینا کچھ بھی ۔۔۔
رہنے دیں ۔۔رِحال نے سلیماں بیگم کو صاف منا کر دیا ۔۔ سلیماں بیگم نے سوچا پھر بولی ۔۔۔ اچھا اچھا ٹھیک ہے سب بچے گھر میں رہیں میں خد ہی جا کے لے اتی ہوں کپڑے تمھارے لیے ۔۔ رِحال نے سکون کا سانس لیا ۔۔
اچھا ایک اور بات سیٹس وغیرہ رکھوا لی ہیں تمہیں پتہ ہے نا ہمیں شام کو نکلنا ہے ۔۔
جی امی رکھوا لی ہے ۔۔ رِحال نے کہا تو سلیماں بیگم نے کہا ۔۔ ٹھیک ہے بیگ میں چیزیں رکھ لو پھر ۔۔ جی امی رکھ لیتی ہوں ۔
رِحال بیگ میں چیزیں رکھنے لگی اور معراج اور کنزا ایک دوسرے سے باتوں میں لگی تھی
جس وقت وہ گھر سے باہر نکلے ہمیشہ کی طرح علی مصطفی ان کو مصطفیٰ محل سے باہرچھوڑنے آیا تھا ۔۔ وہ سڑک پر کھڑے کیب کا انتظار کر رہے تھے ۔۔نا علی نے رِحال کو مخاطب کیا نا رِحال کچھ بولی ان کی کیب آئی وہ گاڑی میں بیٹھے ۔۔۔اور سلیماں بیگم نے علی مصطفی کے سر پر ہاتھ رکھا اور گاڑی آگے بڑنے سے پہلے معراج نے اونچی آواز میں ۔۔اللّٰہ حافظ علی بھائی کہا جب کے خاموش بیٹھی رِحال نے اپنے لبوں سے الفاظ ادا ہوتے سنے ۔۔ خدا حافظ ۔۔۔علی مصطفیٰ جو شاید واپس گھر کو جانے کو تیار تھا رِحال کے خدا حافظ کہنے پر گردن ہلا دی اور پھر گردن جھکائے وہ پلٹ گیا۔۔ رِحال شیخ اس کو دیکھ کے رہ گئی۔۔گاڑی آگے بڑ گئی تھی ۔۔رِحال علی مصطفی کو دور جاتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ گردن جھکائے دور جا رہا تھا ۔۔۔وہ علی مصطفی کو الوداع کہہ کے آئی تھی ۔۔اور اپنے سینے میں بائیں طرف دھڑکنے والی چیز علی مصطفی کو دے آئی تھی۔۔۔ رِحال کے ِ دل میں ٹیس اٹھی ۔۔ وہ کیسے محبت کر سکتی تھی اس سے وہ بھی دو دن میں محبت ۔۔ لاہور سے اسلامباد کے راستے تک رِحال سے علی مصطفی کے علاوہ کچھ اور سوچا نہیں گیا ۔۔۔ وہ کانوں میں ہیڈفون لگائے گانے سنتے علی مصطفی کو مسلسل سوچ رہی تھی اپنی ماں کے الفاظ سوچ رہی تھی ۔۔۔ جو اُنہوں نے علی کے بارے میں کہے تھے ۔۔رِحل علی تجھے پسند کرتا ہے شاید۔۔کیا وہ سچ میں محبت کرتا تھا۔۔چلو محبت نا سہی پسند ہی کرتا ہو شاید۔۔۔
کہتے ہیں عشق کا چوتھا مقام ہوتا ہے عقیدت۔۔۔اور جب محبت عبادت بن جاتی ہے۔۔تو اس محبت کو عقیدت کہتے ہیں۔۔ ۔۔۔
رِحال شیخ کی محبت عبادت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکی تھی
جاری ہے۔۔۔
