Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode :3…

محبت عبادت قسط نمبر :3

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔۔

قیسن پوری رات نہیں سویا تھا رحال کی ایک انجانی سی فکر دماغ میں بیٹھ گئی تھی کے اگر وہ اب بھی رو رہی ہوئی تو۔۔ یا وہ یونی نا آئی صبح تو ۔۔۔کیا ہو گا ۔۔۔اس نے ایسے مذاق بہت لوگوں کے ساتھ کیے تھے ۔۔ لیکن رِحال دوسروں جیسی نہیں تھی ۔۔ وہ اگر معاف کر بھی دیتی تو زندگی بھر اس کی یہ حرکت کو نا بھولتی اور ہمیشہ محتاط رہتی ۔۔۔وہ ویسے ہی لوگوں پر بھروسہ کرنے والوں میں سے نہیں تھی ۔۔۔۔وہ کہتی تھی ۔۔۔مجھے تو خود پر بھروسہ نہیں ہی دوسرے تو بعد کی بات تھے ۔۔۔اس کو بس اللّٰہ پر بھروسہ تھا ۔۔۔۔اور اللّٰہ کبھی اس کا بھروسہ نہیں توڑتے تھے ۔۔۔۔
قیسن نے پوری رات ایسے ہی گزر دی تھی ۔۔۔ صبح اس کو اس کی امی نے ہی جگایا تھا ۔۔۔
اور پھر وہ ناشتہ کرنے ڈیئننگ میں آگیا تھا ۔۔۔ اس کے بابا صبح جلدی چلے گئے تھے افس ۔۔۔وہ ناشتے کے ٹیبل پر بھی خاموش خاموش سا تھا اور یہ اُس کی امی نے نوٹ کیا تھا ۔۔۔
قیسن کیا ہوا ہے طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ۔۔۔
یس موم میں ٹھیک ہوں بس یونی جا رہا ہوں لیٹ ہو گیا ہوں پہلے ہی ۔۔۔ قیسن نے جلدی سے کہا اس سے پہلے ماں کچھ اور کہ دیتی ۔۔۔۔
وہ اٹھا گاڑی کی چابی ہاتھ میں گھومتا باہر نکل آیا ۔۔۔اس کا گھر سیاہ اور سُرمئی کا امتزاج تھا ۔۔۔باہر سے وہ نئے طرز کا عالیشان گھر وزیر اعظم کا محل معلوم ہوتا تھا ۔۔۔ لیکن وہ کامیار ہاؤس تھا ۔۔۔۔ جس کی امارات وکار سے سر اٹھائے کھڑی تھی
وہ گاڑی میں آ کے بیٹھا اور گاڑی بھاگا لے گیا ۔۔۔ سیاہ گاڑی ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ یونی کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔۔اسلام اباد کی میڈیکل یونیورسٹی ۔۔۔۔
قیسن نے اندر داخل ہوتے ہوئے ہر طرف نظر دَوڑ ائی ۔۔۔ لیکن جیسے وہ ڈھونڈ رہا تھا وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی تھی شاید وہ کلاس میں تھی ۔۔۔۔!
قیسن سوچتے ہوئے کلاس کا رخ کر گیا ۔۔۔ کلاس سنسان پڑی تھی سب سے آخر پر ایک لڑکی اپنی چئیر پر بیٹھی تھی چہرہ اس نے سامنے پڑے ٹیبل پر گرایا ہوا تھا ۔۔۔ کلاس ختم ہو گئی تھی ۔۔سب جا چکے تھے بس وہ ہی بیٹھی تھی ۔۔۔
قیسن پہچانتا تھا ۔۔۔ وہ برقے والی رحال شیخ تھی ۔۔۔
قیسن خاموشی سے اُس کے پاس جا کے بیٹھ گیا اتنی خاموشی کے آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی ۔۔۔
پھر وہ اس کے کان کے قریب جھکا ۔۔۔
رحال معاف کر دو ۔۔۔ ہلکی سرگوشی نما آواز آئی ۔۔۔ لیکن سامنے سے کوئی جواب نہیں آیا ۔۔
میں جانتا ہوں میں نے غلطی کی ہے ۔۔تم موٹی نہیں ہو ۔۔تم تو میرا پیارا سا ٹیڈی بیئر ہو ۔۔ وہ سرگوشی کر رہا تھا ۔۔لیکن پھر بھی سامنے سے کوئی حرکت نا ہوئی ۔۔۔ قیسن رِحال سے شدید غصے کی امید رکھتا تھا ۔۔اُس کو لگا تھا شاید وہ غصہ کرے گی یا اس کو تھپڑ مارے گی یا گالیاں دے گی لیکن وہ خاموش تھی ۔۔۔
اب کی بار قیسن نے رِحال کا کندھا چھوا ۔۔رحال ۔۔۔ اور رحال نِڈھال سی ایک طرف کو ڈھلک گئی ۔۔ وہ شاید جاگ رہی تھی لیکن ہوش میں نہیں تھی وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔اس کی آنکھیں کھلی تھی لیکن رِحال کے وجودمیں ہلنے کی سکت نہیں تھی ۔۔ قیسن یکدم پریشان ہو گیا ۔۔۔اُس نے رِحال کی پیشانی پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔ وہ بخار میں تپ رہی تھی ۔۔اوہ خدایا۔۔ اس کی طبیعت خراب تھی ۔۔۔ قیسن نے بازوں سے پکڑ کے اس کو کھڑا کیا ۔۔ رحال نے بھی ہمت کی تھی کھرے ہونے کی ۔۔۔اور قیسن اس کو اپنے ساتھ چلتا باہر لے آیا پوری یونی نے دیکھا تھا ۔۔وہ اس کو یونی سے باہر لے کے جا رہا تھا جس کا سر اس کے کندھے پر ڈھلکا پرا تھا۔۔۔۔
اس نےرحال کو گاڑی میں بٹھایا ۔۔اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔یہ سب اس کی وجہ سے ہو رہا تھا ۔۔ یقیناً وہ سٹریس کا شکار ہوئی تھی ۔۔۔ رات کو رحال کی طبیعت ٹھیک تھی ۔۔۔ایسا رحال کو علی سے بات کرنے کے بعد لگا تھا لیکن وہ بیمار تھی اس کا بخار رات کو تو کم ہوا تھا لیکن وہ پھر شدت پکڑ چکا تھا اوپر سے موسم بھی تو سرد تھا ۔۔۔۔۔
قیسن نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ہی رحال کے فون سے اس کی امی کو فون ملایا تھا۔۔۔
سلیماں نے فون اٹھایا ۔۔ لیکن کسی لڑکے کی آواز سن کے وہ پریشان ہوئی اس پھر رحال کی خبر سن کے وہ اور بھی پریشان ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔قیسن نے ہاسپٹل کا نام بتایا ۔۔۔ پھر فون بند ہو گیا ۔۔۔ڈاکٹر اُس کو چیک کر رہے تھے ۔۔ کوئی نرس اس کو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی ۔۔۔اور وہ مدہوش سی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اس کے بابا فرحان صاحب اور سلیماں ہاسپٹل آئے تھے ۔۔۔ قیسن روم سے باہر ہی کھڑا مل گیا تھا ۔۔۔ اس نے ساری بات فرحان صاحب کو بتا دی تھی ۔۔اور فرحان صاحب اب اُس کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔۔۔
بیٹا اگر تم رِحال کو وقت پر نا لے کے اتے تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا بیٹا ۔۔۔تمہارا بہت شکریہ ۔۔
انکل شکریہ کہ کے شرمندہ نا کریں ۔۔۔ رِحال اچھی لڑکی ہے میرےساتھ پڑتی ہے کلاس فیلو ہونے کے ناتے میں یہ کر سکتا تھا انکل ۔۔۔۔ اور آپ فکر نا کریں وہ ٹھیک ہو جائے گی آپ دعا کریں ۔۔۔
بیٹا اللّٰہ تمھے لمبی زندگی دے ۔۔۔
رحال کے پاس جائیں انکل آنٹی میں بیل وغیرہ اور میڈیسن دیکھ کے اتا ہوں ۔۔۔ وہ کہتا آگے بڑ گیا ۔۔۔۔فرحان اور سلیماں اندر داخل ہو گئے ۔۔۔
سامنے رحال لیٹی تھی اب وہ جاگ رہی تھی اُس کو ڈرپ لگی تھی ۔۔۔ اور نرس ڈرپ میں انجکشن لگا رہی تھی۔۔۔
ابھی وہ اندر داخل ہو ہی رہے تھے جب سلیماں کا فون بجا ۔۔۔۔ علی کالنگ ۔۔۔وہ پتہ نہیں فون کیوں کر رہا تھا ۔۔
سلیماں نے اندر داخل ہوتے فون کان سے لگایا ۔۔ ہاں بیٹا کہو ۔۔۔
خالہ کیسی ہیں آپ ۔۔۔ اس نے بڑا سوچ سمجھ کے پوچھا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا اللّٰہ کا شکر ہے۔۔۔۔
اچھا اور خالو ۔۔۔۔؟ اس نے اگلا سوال پوچھا ۔۔
ہاں بیٹا وہ بھی ٹھیک ہیں میرے ساتھ ہی ہیں ۔۔۔ابھی وہ بول ہی رہی تھی جب علی نے جلدی سے اگلا سوال کیا ۔۔۔
اور رحال ۔۔۔۔؟اُس کا دل عجب ہو رہا تھا اس نے فون کر لیا
بیٹا ہم ہاسپٹل میں ہیں رحال داخل ہے اُس کو بخار بہت ہو گیا تھا ڈرپ لگی ہوئی ہے۔۔۔
رحال خاموشی سے سن رہی تھی اپنی ماں کی باتیں ۔۔۔ فرحان صاحب اُس کا حال پوچھ کے باہر چلے گئے تھے ان کو فون آگیا تھا۔۔اور قیسن ابھی ابھی اندر آیا تھا ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔ علی پریشان ہوا ۔۔۔ اب کیسی ہے وہ ۔۔۔؟
تم خود دیکھ لو بیٹا ۔۔۔ سلیماں نے فون کاٹ کے ویڈیو کال ملائی ۔۔۔ قیسن خاموشی سے کھڑا دیکھ رہا تھا ۔۔
سلیماں نے کیمرا رحال کی طرف گھمایا ۔۔۔۔
وہ نڈھال سی تھی ۔۔۔اور دوسری طرف علی سوٹ بوٹ میں آفس میں تھا ۔۔۔ لیکن پریشان تھا ۔۔
تم ٹھیک ہو ۔۔۔ اس نے رحال کو دیکھ کے کہا ۔۔۔
رحال نے گردن ہلا دی ۔۔۔
رات کو سمجھایا تھا نا تمھے ۔۔۔۔ کے پریشان نہیں ہونا دیکھو یہ اِسی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ تم کسی بڑے کی بات کیوں نہیں سنتی ۔۔۔۔وہ بولے جا رہا تھا ۔۔۔ اس کو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ پریشان ہو کے کتنا کچھ بول رہا تھا ۔۔۔رِحال خاموش تھی ۔۔۔۔
قیسن کھڑا دیکھ رہا تھا ۔۔۔ میں ٹھیک ہو جاوں گی ۔۔۔ررحال نے مدھم آواز میں کہا ۔۔
تمھے ٹھیک ہونا پڑے گا ۔۔ وہ جلدی سے بولا ۔۔ تب ہی سلیماں نے فون اپنی طرف گھمایا اور فون گھماتے ہوئے علی کو قیسن کی جھلک نظر آئی ۔۔۔۔
علی نے فوراً پوچھا ۔۔۔ خالہ وہ لڑکا کون ہے ۔۔۔؟
بیٹا یہ قیسن ہے رحال کو ہاسپٹل لے کے آیا ہے یونی سے تمھے بتایا تو ہے۔۔۔۔۔
علی نے گردن ہلا دی ۔۔۔ اچھا خالہ میں اجاؤں کیا اگر میری ضرورت ہے تو ۔۔۔
نہیں بیٹا تم آفس سنبھالو ہم یہاں سنبھال لیں گے فکر نا کرو ۔۔۔
اچھا۔۔۔پھر بھی خالہ اگر ضرورت ہو تو فون کیجئے گا ۔۔۔ اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیں مجھے ۔۔۔
کچھ بھی نہیں چاہیے علی اللّٰہ تمھے زندگی دے تم کام کرو میرے بچے ۔۔۔ سلیماں نے کہا اور خدا حافظ کہ کے فون بند کر دیا ۔۔ تب ہی قیسن بولا ۔۔۔ یہ کون تھے ۔۔ میرا مطلب ہے رحال کے کزن بھائی تھے کیا ۔۔
سلیماں مسکرا اُٹھی ۔۔۔ یہ بس رحال کا کزن ہے بیٹا ۔۔۔
قیسن نے سمجھنے والے انداز میں گردن ہلا دی ۔۔جیسے سمجھ گیا ہو کے وہ بھائی نہیں تھا بس کزن تھا ۔۔
ویسے تمہرے کازن کو تمہاری بہت فکر ہے لڑکی ۔۔ قیسن جیلس ہونے والے انداز میں بولا ۔۔۔ اور اُس سے کتنے آرم سے بات کر رہی تھی سلیماں پاس بیٹھی اس کی باتیں سن کے ہنس رہی تھی۔۔۔
آپ کو پتہ ہے آنٹی مجھے تو یہ یونی میں کھانے کو پڑتی ہے ۔۔۔
وہ ایسے بات کر رہا تھا جیسے رحال کو پہلے سے جانتا ہو ۔۔۔ رحال خاموش تھی وہ شائد اس سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔وہ جانتا تھا ۔۔۔
بیٹا علی کو وہ بچپن سے جانتی ہے ۔۔ بہت سلوک تھا دونوں میں چھوٹے ہوتے ہوئے اس لئے رحال اس سے پیار سے بات کرتی ہے ۔۔ تم سے تو ابھی ملی ہو گی کچھ وقت پہلے ۔۔۔ علی کا مقام اور ہے بیٹا ۔۔۔
قیسن خاموش ہو گیا ۔۔ علی کا کیا مقام تھا ۔۔۔۔؟
شاید سب سے اچھا کزن ۔۔ سب سے اچھا دوست ۔۔۔ قیسن سوچ رہا تھا ۔۔۔
رحال آرام کر رہی تھی ۔۔ شام کو رحال کو وہ گھر لے آئے تھے اور شام ہونے تک علی مصطفی کتنی ہی بار رحال صاحبہ کا حال پوچھ چکا تھا ۔۔۔اور قیسن بس یہ دیکھ کے حیران تھا ۔۔۔ ۔۔
شام کے قریب قیسن اپنے گھر چلا گیا تھا اور رحال کو فرحان اور سلیماں گھر لے آئے تھے وہ اب پہلے سے ٹھیک تھی لیکن ڈاکٹر نے آرام کرنے کو کہا تھا ۔۔ مطلب یونی سے چوٹی ۔۔۔۔۔

علی اپنے افس میں بیٹھا تھا رات چھا رہی تھی اور وہ خاموش بیٹھا تھا ۔۔ جانے کو تو وہ ابھی بھی اسلام باد جا سکتا تھا لیکن خالا نے منا کر دیا تھا اور اب انتظار کی علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔۔ بس رحال ٹھیک ہو جائے ایک ہی خیال دماغ میں گھوم رہا تھا ۔۔۔
وہ جب افس سے باہر نکل رہا تھا ۔۔ ہانیہ نے اُس کو باہر نکلتے دیکھا ۔۔ وہ صبح ہی ائی تھی واپس ۔۔
علی کہا جا رہے ہو ۔۔
گھر ۔۔۔ علی نے اتنا ہی کہا ۔۔
ہانیہ نے کچھ دیر دیکھا ۔۔ تم پریشان لگ رہے ہو سب ٹھیک ہے ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ پھر یک لفظی جواب ۔۔ وہ ایسا ہی تھا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ کل ملتے ہیں ۔۔
ہانیہ نے کہتے ہوئے قدم اگے بڑھا دیے ۔۔ علی نے گھوم کے بھی نہیں دیکھا اور افس سے باہر کی طرف چل دیا ۔۔۔
ہانیہ نیلی جینز اور اوپر سفید شرٹ پہنے تھی نیچے ہیلز پہنے اپنے کیبن کے پیچھے غائب ہو گئی ۔۔۔

علی جس وقت گھر ایا تھا ۔۔ اُس کی امی کو بھی ساری بات پتہ تھی اور وہ بار بار رحال کا حال پوچھ رہی تھی ۔۔
اور سلیماں ہر بار بتا رہی تھی اُس کی طبیعت کے بارے میں ۔۔۔

رحال اپنے بیڈ پر لیٹے ارام کر رہی تھی ۔۔
معراج اُس کے پاس تھی ۔۔ اور اس کی امی بھی اس کو چیک کر رہی تھی بار بار ۔۔ میڈیسن اُس کو کھلا دی تھی ۔۔ اب وہ پہلے سے ٹھیک تھی ۔۔ بیڈ پر لیٹے لیٹے وہ ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھی ۔۔
معراج کنزا سے بات کرنے میں مصروف تھی ۔۔ کنزا خود بہت پریشان تھی ۔۔۔

قیسن خاموشی سے اپنے گھر میں داخل ہوا ۔۔
وہ ابھی ہی ایا تھا ۔۔ اُس کے بابا گھر میں نہیں تھے ۔۔ خاموشی تھی ۔۔ عالیشان لاؤنچ عبور کر کے جب وہ اپنے کمرے کی طرف جاتی سیڑھیوں تک پہنچا ہے تھا تو ماں نے پیچھے سے اواز دی ۔۔
تم کہاں تھے پورا دن ۔۔ یونی سے گھر ہی نہیں ائے پریشان ہو رہی تھی میں ۔م تمھیں اندازہ ہے ۔۔
موم ضروری کام تھا اس لیے نہیں ایا
اتنا کون سا ضروری کام تھا کے کال بھی نہیں اٹھا رہے تھے ۔۔۔ تم بہت لا پرواہ ہو رہے ہو قیسن ۔۔۔
موم پلز اب شروع نا ہو جائیں ۔۔ مجھے سونا ہے تھک گیا ہوں میں ۔۔ پورے دن سے خوار ہو رہا ہوں ۔۔۔ پاؤ درد کر رہے ہیں میرے ۔۔
پلز مجھے تنگ نہ کریں میں کمرے میں جا رہا ہوں
ماں خاموش ہو گئی ۔۔
اور قيسن اپنے کمرے میں اگیا ۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا اُس نے لائٹ نہیں جلائی
وہ بیڈ پر جوگارز سمید ا کے لیٹا اور فون کی سکرین ان کی ۔۔۔ شام کا وقت ہو رہا تھا ۔۔
اس نے انسٹا ان کیا ۔۔ اور رحال کو میسیج کیا ۔۔
کیا حال ہے تمھارا ۔۔ٹھیک ہو تم ۔۔
سامنے سے کوئی جواب نہیں ایا ۔۔ بلکہ ۔۔ کچھ دیر بعد اس کو بلوک کر دیا گیا ۔۔۔
قیسن دیکھ کے رہ گیا۔۔۔ عجیب لڑکی ہے ۔۔ مذاق ہی تو کیا تھا ۔۔ معاف بھی نہیں کر سکتی کیا ۔۔ پتھر دل عورت ۔۔۔
وہ موں بناتا بولا ۔۔ اور اپنی دوسری انسٹا آئی ڈی آن کی ایسی تو بہت آئی ڈی تھی جناب کے پاس ۔۔
اور رحال کو میسیج کیا ۔۔
یار بولک کیوں کر رہی ہو ۔۔ بولا نہ سوری معاف کر دو اب ۔۔ کتنا غصّہ کرو گی لڑکی ۔۔۔
دوسری طرف سے کڑک دار جواب ایا ۔۔
تم میرے خالا کے بیٹے نہیں ہو جو تمہاری عزت کروں ۔۔ اور اب میرا دماغ نہ کھاؤ دفاع ہو جاؤ پاگل انسان ۔۔ جان لے لوں گی تمھاری میں ۔۔
اور قيسن مسکرا کر رہ گیا ۔۔۔
مطلب تم بس اپنے خالا کے بیٹے کی عزت کرتی ہو ۔۔ کیا نام ہے اُس کا ۔۔۔ ہاں علی ۔۔ یہی نام ہے نہ ۔۔۔؟
سامنے سے کوئی جواب نہ ایا ۔۔۔
اچھا مذاق کر رہا ہوں ۔۔ لیکن تم بے شک یہاں سے بلوک کر دو ۔۔ میں کہیں اور سے میسیج کر لوں گا ۔۔۔ لیکن مجھے کوئی نہیں روک سکتا تھا سن رہی ہو تم ۔۔
اس نے میسیج سینڈ کیا ۔۔ اور کچھ دیر بعد وہ یہاں سے بھی بلوک تھا ۔۔۔
قیسن نے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔ کیا وہ لڑکی پاگل تھی یہ اس کو بنا رہی تھی ۔۔ یہ وہ اس سے بدلہ لے رہی تھی ۔۔۔ ظلم پتھر کے زمانے کی عورت ۔۔
رحال کو ایک اور نام سے نوازا گیا ۔۔ پہلے پتھر کی عورت اب پتھر کے زمانے کی عورت ۔۔
لیکن رحال کو فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔
وہ اپنے بیڈ پر لیٹے اُس کے میسیج کا جواب دینے کے بعد اس کو بلاک کر رہی تھی ۔۔
وہ سو آئی ڈی سے میسیج کرتا وہ ہر بار اس کو بلوک کرتی ۔۔ اور یہ سلسلہ رات دیر تک چلا تھا ۔۔
اور ہر بار بلوک ہونے پر قيسن اُس کو نئے نام سے نوازتا ۔۔ وہ انسٹا پر کوئی 6 7 بار بلوک ہو چکا تھا
اور ہر بار میں ۔۔ ظلم عورت ۔۔ جنگلی بھالو ۔۔
جادو گرنی ۔۔ درندی عورت۔۔۔ خروس عورت ۔۔۔ ملکہ تبسم ۔۔مغرور عورت جیسے ناموں سے نوازتا ۔۔۔
انسٹا سے بلوک ہونے کے بعد اس نے فیس بک پر میسیج کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔ اور رحال کو اب نیند انے لگا گئی تھی ۔۔۔
اس لیے اس نے فون رکھ دیا ۔۔ ابھی وہ بیدو پر لیٹی ہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھولا اور سلیماں ہاتھ میں فون لیے اندر داخل ہوئی ۔۔
رحال تیری خالا اور علی کا فون ہے بیٹا بات کر لے
اُس نے فون پکڑ لیا اور کان سے لگایا ۔م
السلام علیکم خالا ۔۔
ہاں میری جان کیسی ہے اب ۔۔ کیا ہو گیا تھا میری گڑیا کو ۔۔
جی میں ٹھیک ہوں اپ کیسی ہیں ۔۔
میں ٹھیک ہوں میرا بچہ ۔۔ اللہ تُجھے لمبی زندگی دے ۔۔ خوش رکھے ۔۔
امین خالا ۔۔ ابھی وہ بولی ہی تھی کے فون میں مردانا اواز گونجی ۔۔ وہ شاید علی کا نمبر تھا اور علی اب اپنے کمرے میں فون لے ایا تھا ۔۔ اپنی امی سے اس کی بات کروانے کے بعد ۔۔۔
کیسی ہو تم۔۔۔
م ۔۔ میں ٹھیک ہوں اپ کیسے ہیں ۔۔
ہاں میں اب ٹھیک ہوں ۔۔
کیا کر رہی ہو ۔۔ میڈیسن کھا لی ہے تم نے ۔۔
ج۔۔ جی کھا لی ہے اور کچھ نہیں کر رہی لیٹی ہوں ۔۔
سنو ۔۔ ارام کروصبح یونی نہیں جانا ۔۔
لیکن میرا اسائنمنٹ ہے ۔۔
لیکن ویکین کچھ نہیں۔۔ میں نے کہا تم نہیں جاؤ گی تو مطلب نہیں جاؤ گی ۔۔ اواز میں غصّہ نہیں تھا ۔۔ لیکن لہجہ ختمی تھا ۔۔ مطلب وہ نہیں جائے گی ۔۔
اچھا نہیں جاؤں گی ۔۔
دیکھو اگر تم گئی تو میں ۔۔بات نہیں کروں گا
وہ ایسے اُس سے باتیں کرنے میں لگا تھا جیسے کوئی بڑا کیسی چہوٹے بچے کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔
اچھا نہ ۔۔ نہیں جاؤں گی پکا ۔۔ وہ بچوں کی طرح بولی دوسری طرف علی مشکل سے اپنی ہنسی روک پایا ۔۔
اچھا اپنا خیال رکھو ۔۔ سو جاؤ اب ۔۔ جاگنا نہیں ۔۔۔ تمھیں تو عادت ہے رات دیر تک جگ کے فون یوز کرنے کی ۔۔ لیکن اج نہ جاگنا ۔۔ سو جانا ۔۔ وہ اُس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا ۔۔ شاید وہ اُس کی ہر حرکت اپنے دماغ میں یاد کر لیتا تھا ۔۔ وہ جانتا تھا کے وہ رات دیر تک جاگ کے فون استعمال کرتی تھی ۔۔ وہ رات کو سونے سے پہلے کوئی نا کوئی کورین ڈراما دیکھ کے ہی سوتی تھی ۔۔ جب وہ لاہور ہوتی تو کنزا کے ساتھ مل کے دکھتی تھی ۔۔۔
علی کو عادت تھی وہ اکثر کنزا کو کمرے میں چیک کرنے اتا تھا کے وہ سوئی ہے کے نہیں ۔۔ اور وہ دونوں اندھیرے میں بیٹھے ڈراما دیکھ رہی ہوتی تھی ۔۔۔ علی دروازہ کھول کے کھڑا ہو جاتا ۔۔۔
اور کچھ دیر دونوں کو گھورتا رہتا ۔۔
کنزا اور رحال دونوں کو سمجھ آجاتی کے اُس کے گھورنے کا مطلب تھا کے فون چھوڑو اور سو جاؤ
کنزا اور رحال خاموشی سے لیٹ جاتی ۔۔۔
خوف ہی بہت تھا علی مصطفیٰ کا ۔۔۔۔۔
علی نے فون بند کیا تو رحال خاموشی سے آنکھیں موند گئی ۔۔ وہ اس کا کتنا خیال رکھتا تھا ۔۔وہ الگ تھا ۔۔ سب جیسا نہیں تھا وہ ۔۔ اُس کو اس کی پرواہ تھی ۔۔۔
یہ سب سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگی اس کو بھی پتہ نہیں چلا ۔۔۔ وہ خاموشی سے سو گئی ۔۔

صبح علی جلدی اٹھا تھا ۔۔ فریش ہونے کے بعد باہر ا کے اُس نے اپنی امی سے رحال کا حال ہی پوچھا تھا ۔۔ اور ماں نے بتایا اُس کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی تھی ۔۔ صبح صبح اُس کو ڈاکٹر کے پاس لے کے گئے ہیں ۔۔۔
علی پھر پریشان ہوا ۔۔ اخر وہ ٹھیک کیوں نہیں ہو رہی تھی ۔۔ یہ اللہ ۔۔۔
آفس جانے کا خیال علی نے ترک کیا پہلے تو فون ملایا اپنی خالا کو ۔۔۔
اور فون پر سلیماں بہت پریشان تھی ۔۔
ڈاکٹر نے کہا ہے ایک بار ڈینگی اور نمونیا کا ٹیسٹ کروا لیں ۔۔۔۔
سلیماں زرینہ کو بتا رہی تھی ۔۔۔
تم فکر نہ کرو ۔۔ ہم اسلام آباد ا رہے ہیں ۔۔ زرینہ نے فون رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
علی سمجھ گیا مطلب جانا ہی تھا اسلام باد ۔۔
اپ تیار ہوں امی میں گاڑی نکلتا ہوں اُس نے کہتے ہوئے باہر کا رخ کیا ۔م
کنزا اور دونوں بہنیں گھر پر ہی تھیں ۔۔ بس علی اور زرینہ جا رہےتھے ۔۔۔
علی نے ابھی گاڑی پو رچ سے باہر نکلی ہی تھی جب عمر علی کا دوست اُس تک ایا ۔۔
افس جا رہا ہے کیا ۔۔ مجھے تیرے افس کے پاس ہی ایک ہوٹل جانا ہے چھوڑ دے گا ۔۔
میں افس نہیں جا رہا اتنے میں زرینہ گاڑی میں اکے بیٹھی ۔۔ کپڑے انہوں نے بدل لیے تھے اور بیگ میں ایک ایک جوڑا علی اور اپنا رکھا تھا ۔۔
علی تو نیٹ ڈریس میں تھا ۔۔ بس چہرہ ہی دھویا تھا ۔۔۔
تو پھر کہاں جا رہا ہے عمر نے پوچھا ۔۔
میں اسلام آباد جا رہا ہوں رحال کی طبیعت خراب ہے ۔۔۔ عمر پل بھر کو حیران ہوا ۔۔ وہ کبھی اسلام آباد نہیں گیا تھا ایک بار گیا تھا بہت پہلے ۔۔ اور اب ۔۔ اب وہ بس اپنی کزن کے لیے جا رہا تھا ؟۔۔ عمر حیران ہوا یہ کیا چکر تھا ۔۔
علی نے گاڑی اگے بڑھا دی ۔۔۔۔
عمر اُس کی گاڑی دور جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔


علی خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔ وہ اسلام اباد ایک لمبے وقت کے بعد جا رہا تھا ۔۔ وہ کبھی اسلام اباد نہ جاتا اگر رحال کی طبیعت ٹھیک ہوتی تو ۔۔ اُس کو وقت ہی نہیں ملتا تھا کہیں کسی دوسرے شہر جانے کہا ۔۔ افس کے کام ہی اتنے تھے ۔۔۔ اور اس کے بغیر وہ سب نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔ زرینہ خاموشی کو توڑتے بولی ۔۔ پتہ نہیں علی ۔۔کس کی نظر لگ گئی ہے ہماری رحال کو ۔۔ وہ تو ہنستی کھیلتی بچی تھی ۔۔ دیکھو کیسے مرجھا گئی ہے ۔۔۔
امی مجھے خود نہیں پتہ اس کو کیا ہو گیا ہے ۔۔۔
اُس نے قیسن والا واقع بتائیں بغیر کہا جب کے وہ جانتا تھا رحال کے بیمار ہونے کی ایک وجہ وہ لڑکا بھی تھا جس کے نام سے وہ نہ واقف تھا ۔۔
وہ اُس کا نام جاننا چاہتا تھا ۔۔ اخر کون تھا جس نے رحال کا مذاق بنایا تھا ۔۔۔ لیکن ابھی اسلام آباد میں بیٹھی ایک چھوٹی سی لڑکی بہت بیمار تھی اور علی کو اس کی فکر تھی ۔۔۔
علی مصطفیٰ جانتا تھا ۔۔رحال بہت حساس دل کی لڑکی تھی ۔۔ اُس سے اپنی ذلت برداشت نہیں ہوتی تھی ۔۔ علی کبھی اس کے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرتا تھا ۔۔ بلکہ علی اُس کے ساتھ کبھی مذاق کرتا ہی نہیں تھا ۔۔۔
وہ اُس کو جانتا تھا ۔۔ وہ کیسی تھی ۔۔ اگرکوئی مذاق بُرا لگ گیا تو مطلب وہ رونے لگ جائے گی یہ پھر ناراض ہو جائے گی ۔۔ اور رحال کے دل کو کوئی انسان ایک بار دکھ پہنچا دے مطلب رحال کے دل سے وہ انسان ہمیشہ کے لیے صاف ہو جاتا تھا ۔۔ غائب ۔۔ مطلب اُس انسان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی تھی رحال کی زندگی میں
اور قيسن کميار کی کوئی حیثیت نہیں تھی اب ۔۔
علی اپنا مقام کبھی کسی کے دل سے نہیں گواتا تھا ۔۔ لوگ سالوں بعد بھی اس سے ملتے تو یاد رکھتے اور رحال کے دل میں تو کبھی وہ اپنی جگہ ختم نہیں کرنا چاہتا تھا پھر وہ جگہ جو بھی ہو ۔۔
گاڑی میں طویل خاموشی تھی سفر 1 گھنٹے کا رہ گیا تھا 4 گھنٹے وہ پیچھے گزر ائے تھے ۔۔
وہ روات کی سرمائی سڑک پر گاڑی ڈورا رہا تھا پوری رفتار سے ۔۔ سرمائی سڑک چمکنے لگی تھی بارش کے قطرے سڑک کو بگھو رہے تھے ۔۔
شام چھا رہی تھی ۔۔ دور کہیں اذانوں کی اواز ارہی تھی ۔۔۔۔

رحال کے پاس کوئی نرس کھڑی تھی اور اس کے بازو میں کوئی سرنج ڈال رہی تھی شاید اُس کا خون نکلنے کے لیے ۔۔ شاید کوئی ٹیسٹ ہو رہا تھا ۔۔
اُس کی امی پاس بیٹھی تھی پریشان سی اور اس کے بابا دروازے میں کھڑے تھے ۔۔
ڈاکٹر سے کوئی بات کر رہے تھے ۔۔ اُس کے دونوں بھائی گھر میں تھے ۔۔ معراج کے پاس ۔۔
سب تو ہاسپٹل ا نہیں سکتے تھے ۔۔ فرحان صاحب نے منا کیا تھا دونوں بیٹوں کو اور معراج کو ہاسپٹل آنے سے ۔۔ کے ضرورت نہیں ہے ۔۔ویسے بھی کچھ دیر تک علی اور زرینہ باجی انے والی ہیں ۔۔ تو سلمان اور عثمان خاموش ہو گئے تھے ٹھیک ہے بابا جیسا اپ کہیں ۔۔۔ اور فون بند ہو گیا تھا ۔۔۔۔

قیسن اپنے بیڈ پر لیٹا تھا ۔دماغ میں رحال چل رہی تھی ۔۔ پھر ایک دم یاد ایا کے اُس نے فرحان صاحب کا نمبر لیا تھا سوچا رحال کا حال پوچھ لیا جائے اب وہ کیسی تھی ۔۔ اس نے فون اٹھایا اور نمبر ملایا ۔۔۔
دوسری طرف سے فون جلدی اٹھا لیا گیا تھا ۔۔
ہیلو ۔۔ انکل ۔۔ میں قیسن بات کر رہا ہوں
ہاں بولو بیٹا ۔۔۔ فرحان صاحب کی اواز بہت ہلکی تھی ۔۔ وہ پریشان تھے ۔۔
انکل رحال کی طبیعت کیسی ہے میں نے سوچا حال پوچھ لو اج وہ یونی بھی نہیں ائی تھی ۔۔۔؟
اُس کو ہاسپٹل لے کے ائے ہے بیٹا اُس کی طبیعت خراب ہے ۔۔ بیمار ہے وہ اُس کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں ۔۔ نمونیا اور ڈینگی کے ۔۔
صبح صبح اُس کو بخار بہت تیز ہو گیا تھا ۔۔ پھر ہم ہاسپٹل لے ائے ۔۔
قیسن پریشان ہوا ۔۔ اچھا اپ اُس کا خیال رکھے کچھ چاہیے تو بتا دیں مجھے ۔۔
نہیں بیٹا تمھارا شکریہ ۔۔ اپنا خیال رکھو اللہ حافظ
فرحان صاحب نے فون کاٹ دیا ۔۔
قیسن اپنے بیڈ سے اٹھا ۔۔ وہ ڈھیلے سے ٹراؤزر شرٹ میں تھا ۔۔ خد کو آئینے میں دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔ ابھی وہ باہر ایا ہی تھا جب کمیار حسن اور ساجدہ نے اس کو دیکھا تم کہا جا رہے ہو قيسن ۔۔؟ کمیار نے پوچھا ۔۔
ڈیڈ ایک دوست کی طبیعت خراب ہے ہاسپٹل میں داخل ہے بس وہاں جا رہا ہوں ۔۔
وہ جانے لگا تھا کمیار حسن پھر بولے ۔۔
تم کب سے اتنے اچھے ہو گئے کے اپنے دوستوں کے حال پوچھنے ہسپتال جاؤ بیٹا ۔۔۔ یہ طعنہ نہیں تھا سچ تھا ۔۔ وہ ایسا ہی تھا ۔۔۔
بس ایسے ہی ڈیڈ سوچا اج پوچھ لوں وہ کہتا باہر کو چلا گیا ۔۔ ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھی اُس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ ہاسپٹل میں موجود تھا ۔۔۔
ریسیپشن سے رحال کے کمرے کے بارے میں پوچھا ۔۔۔اور اس کے روم میں داخل ہوا ۔۔
وہ بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی اُس کو شاید کوئی نیند کا انجیکشن لگایا تھا کے وہ ارام کر لے ۔۔
قیسن کو فرحان صاحب نے دیکھا تو حیران ہوئے
بیٹا انے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ ہم ہیں نہ یہاں
نہیں انکل میں نے سوچا اپ کو ضرورت پڑ جائے شاید میری ۔۔اپ اکیلے کیسے سب سنبھالے گے اور دیکھیں انٹی بھی تھکی تھکی لگ رہی ہیں صبح سے اپ یہاں ہیں ۔۔
بیٹا ضرورت نہیں تھی انے کی ۔۔ علی اور رحال کی خالا ا رہے ہیں بیٹا ۔۔
یہ تو اچھی بات ہے انکل پھر بھی میں نے سوچا کہ میں آجاتا ہوں ۔۔ وہ کہاں کیسی کی سنتا تھا
فرحان صاحب خاموش ہو گئے ۔۔ ۔۔ قيسن اب خاموشی سے ایک طرف رکھے صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔ سلیماں اپنی بیٹی کے پاس ایک چیئر پر بیٹھی تھی اور فرحان صاحب باہر کچھ میڈیسن اور انجیکشن لینے گئے تھے ۔۔۔
تب ہی کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔ رحال جو تھوڑی دیر پہلے جگی تھی ۔۔ کمرے میں داخل ہوتے شخص کو دیکھ کے رہ گئی ۔۔ وہ رات کو سونے کے لیے پہنے جانے والے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھا ۔۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھی شاید اتنی دیر کی ڈرائیو کے بعد وہ بہت تھک گیا تھا ۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا ۔۔ پیچھے زرینہ خالہ بھی اندر ائی ۔۔ وہ چلتا ہوا خاموشی سے رحال کے قریب ایا ۔۔۔ اور اس کی اگلی حرکت پر اُس کی ماں اور سلیماں حیران رہ گئی ۔۔
اُس نے رحال کے گال کو اپنے ہاتھ سے چّھوا جیسے کوئی بڑا کیسی چہوٹے بچے کو پیار کرتا ہے ۔۔
رحال ساکت رہ گئی ۔۔ وہ ایسے کبھی نہیں کرتا تھا ۔۔۔ جب سے وہ دونوں بڑے ہوئے تھے علی نے دوری اختیار کر لی تھی ۔۔پھر اب ۔۔ ؟ یہ گھڑی کی سوئیاں الٹی چل رہی تھی کیا ۔۔!!
تم ٹھیک ہو ۔۔۔ علی مصطفیٰ نے پوچھا ۔۔ قيسن موں کھولے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
رحال کی انکھوں میں انسو اگئے۔۔ وہ اس کے لیے 5 گھنٹے کا سفر کر کے ایا تھا ۔۔ صرف اس کا حال پوچھنے ۔۔۔”
رحال نے گردن ہلا دی ۔۔ علی نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔ پھر جب دہان گیا کے سب اس کو دیکھ رہے ہیں تو سب کو گھور کے دیکھا ۔۔
ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں سب جیسے میں نے کوئی نئی حرکت کر دی ہو ۔۔ “
بچی بیمار ہے جب چھوٹی ہوتی تھی تب بھی ایسے ہی حال پوچھتا تھا ۔۔ بھول گئے ہیں کیا سب ۔۔علی نے گھور کے کہا ۔۔ سب مُسکرا دیے بس قيسن ابھی تک ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔
نہیں بیٹا ہم حیران تھے تم کبھی رحال سے بات ہی نہیں کرتے تھے ۔۔اتنے وقت بعد میں نے تمہارے میں پہلے والا علی دیکھا ہے ۔۔
سلیماں بول رہی تھی ۔۔ علی خاموش رہا ۔۔ پھر نظر قيسن پر پڑی ۔۔ وہ حیران تھا ۔۔ علی نے اُس کودیکھا ۔۔ یہ ۔۔تو رحال کی یونی میں پڑتا ہے نہ ۔۔ ؟
ہاں بیٹا یہ قيسن ہے کال پر دیکھا تھا نہ تم نے ۔۔ بس رحال کا حال پوچھنے ایا تھا ۔۔
علی خاموش ہو گیا ۔۔ وہ کیوں اُس کا حال پوچھنے ایا تھا ۔۔۔ ؟
پھر علی نیلی آنکھوں والے لڑکے کی طرف ایا ۔۔ رحال خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی علی کا قد قيسن سے بڑا تھا ۔۔ وہ قیسن کے مقابلے بہت حسین تھا ۔۔ بلکہ کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا علی مصطفیٰ کا کیسی سے ۔۔ رحال کو ایسا ہی لگ رہا تھا ۔۔
عاشق کو محبوب ہمیشہ حسین لگتا ہے ۔۔ اور رحال علی مصطفیٰ کی عاشق تھی ۔۔۔
علی کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔۔ ممکن تھا یہ خیال جو وہ رکھ رہا تھا شاید بچپن کی یاد تازہ کر رہا تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔ ایسا سب کو وہاں بیٹھے یہی لگ رہا تھا ۔۔
بہت شکریہ قيسن اب تم جا سکتے ہو ۔۔ میں سنبھال لوں گا سب کچھ ۔۔ علی نے ایک سانس میں کہا ۔۔ اور واپس گھوم گیا ۔۔ قيسن خاموش کھڑا دیکھتا رہا ۔۔ پھر بولا ۔۔ ٹھیک ہے چلا جاتا ہوں ۔۔۔ لیکن کل اؤں گا پھر سے ۔۔ اُس نے کہتے ہوئے قدم کمرے سے باہر رکھ دیے علی اُس کو دیکھ کے رہ گیا ۔۔۔
پھر رحال کو دیکھا ۔۔ اس کی رپورٹ نہیں ائی کیا ابھی تک ۔۔ ؟
ہاں بس انے والی ہو گی ۔۔ابھی وہ بول ہی رہا تھا ۔۔جب ایک ڈاکٹر فرحان صاحب کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔۔
ڈاکٹر رپورٹ میں کیا ہے ۔۔؟سلیماں نے پوچھا
دیکھیں ان کو نہ نمونیا ہے نہ ہی ڈینگی کوئی خطرے کی بات نہیں ہے یہ ٹھیک ہیں ۔۔
سب نے شکر کا سانس لیا ۔۔ علی نے ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔ پھر اس کا بخر کیوں کم نہیں ہو رہا دیکھیں کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے ۔۔ بخر کی شدت بڑ جاتی ہے ان کو اپنے کھانے پینے پر دھیان دینا پڑے گا ۔۔ کچھ دن یہ چاول نہیں کھائیں گی اور نہ ہی روٹی ۔۔ بریڈ کھائیں اور ہو سکے تو کہوا کا استعمال کریں ۔۔ کافی پیے ۔۔
اور دوا وقت سے کھائیں ۔۔۔ انشاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔ علی نے سمجھ کر گردن ہلا دی ڈاکٹر واپس چلا گیا ۔۔۔۔
مطلب وہ ٹھیک تھی کوئی خطرے کی بات نہیں تھی شکر ہے ۔۔۔
علی دل میں شکر ادا کر رہا تھا اللہ کا ۔۔
سلیماں رحال کو تھوڑے دیر میں گھر لے جائیں گے ڈاکٹر نے کہا ہے اب وہ گھر جا سکتی ہے ۔
ہاں باجی بس تھوڑی دیر میں چلتے ہے ۔۔

کچھ دیر بعد رحال گاڑی میں ا کے بیٹھی ۔۔ پھر علی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور فرحان صاحب اکیلے اپنی گاڑی میں ا رہے تھے ۔۔ علی کے ساتھ رحال اور سلیماں تھی ۔۔ زرینہ اگے علی کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔ گاڑی میں سلیماں علی سے تھوڑی بہت باتیں کرتی ا رہی تھی اور علی ہمیشہ کی طرح مختصر جواب دے رہا تھا ۔۔۔
رحال پیچھے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کے لیٹی تھی علی گاہے بگاہے اُس پر نظر ڈال رہا تھا ۔۔
اور گاڑی بھی وہ بہت ہی ہلکی رفتار میں چلا رہا تھا کیوں کے رحال کے سر میں درد تھی اور وہ کوشش کر رہا تھا گاڑی کو کوئی جھٹکا نہ لگے ۔۔ تا کہ رحال کے سر میں درد نہ اٹھے ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ گھر میں موجود تھے ۔۔۔ علی خاموشی سے گھر میں سب کے ساتھ داخل ہوا ۔۔ معراج اور سلمان عثمان ہمیشہ کی طرح بہت خوش ہو کر ملے اپنی خالہ اور علی سے ۔۔ پھر وہ صوفے پر اکے بیٹھا ۔۔
علی اب رحال کو بعض کر رہا تھا اُس نے کونسی چیز کھانی ہے اور کونسی نہیں کھانی ۔۔ اور رحال خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔ کچھ دیر بعد اس نے نظریں جُھکا کے رحال کو کہا ۔۔
جاؤ اب تم ارام کرو کمرے میں تھوڑی دیر میں تمھیں معراج اور خالہ کھانا دے دیں گی ۔۔
وہ خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔ پھر وہ سب کے ساتھ گپوں میں مصروف ہو گیا اور یہ گپیں سلمان اور عثمان ہی زیادہ کر رہے تھے وہ کہا اتنا بولنے کا عادی تھا ۔۔
باجی آپ روکو گی نہیں کچھ دن ۔۔؟ سلیماں نے زرینہ سے پوچھا ۔۔۔ نہیں سلیماں ۔۔ علی کو آفس بھی دیکھنا ہوتا ہے وہ زیادہ وقت یہاں نہیں روک سکتا ۔۔ میں اُس سے پوچھتی ہوں ۔۔
علی جو گیسٹ روم کی طرف گیا تھا فریش ہونے زرینہ نے کمرے میں جا کے اُس کو روکا ۔۔ وہ واشروم کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
علی ہم کتنے دن یہاں رہے گے سلیماں پوچھ رہی تھی ۔۔ میں نے سلیماں سے کہا تم زیادہ دن نہیں روکو گے افس کے کام کی وجہ سے ۔۔
امی ہم تب تک یہاں ہیں جب تک آپ کی بھانجی صحیح سے ٹھیک نہیں ہو جاتی ۔۔۔ وہ نام لینے سے گریز کرتا تھا ۔۔۔
مطلب کے ہم ابھی یہاں ہی ہیں ۔۔؟
ہاں امی ہم ابھی یہاں ہی ہیں ۔۔
چلو پھر میں سلیماں کو بتا کے اتی ہوں ۔۔۔
زرینہ باہر چلی گئی ۔۔ علی فریش ہونے چلا گیا
باہر ان کے کھانے کا انتظام چل رہا تھا ۔۔۔

قیسن اپنے گھر میں داخل ہوا اور خاموشی سے کمرے میں اگیا کسی سے بھی بات نہیں کی جب کے سامنے اُس کی امی بیٹھی تھی ۔۔ لیکن اس کا موڈ خراب تھا ۔۔ اخر علی ہوتا کون ہے اُس کو گھر جانے کا کہنے والا ۔۔ کزن ہو گا وہ رحال کا وہ کمرے میں بیٹھا خاموشی سے سوچ رہا تھا ۔۔
اور کیسے اُس نے ٹیڈی بیر کے گال پکڑے تھے ۔۔اور اس نے پکڑنے بھی دیے ۔۔ ” وہ تو اتنے غصے والی ہے ۔۔۔ اُس علی کی جگہ اگر میں ہوتا تو کبھی بھی مجھے ہاتھ نہ لگانے دیتی ۔۔ بلکہ تھپڑ رسید کر دیتی میرے گال پر ۔۔ اور وہ لڑکا ۔۔ اُس نے کیسے اُس کے گال کو چھوا تو وہ خاموش رہی ۔۔ قيسن نے سوچنے والے انداز میں سر کو پکڑا ۔۔ کہیں ٹیڈی بیر کو وہ پسند تو نہیں کرتا اور ٹیڈی بیر بھی کہیں ۔۔؟ ہو بھی سکتا ہے ۔۔ لیکن یہ کیوں ہو سکتا ہے ۔۔۔ اُس نے رونے والی شکل بنائی یہ تو چیٹنگ ہے میرے ساتھ ۔۔ یہ نا انصافی ہے میرے ساتھ ۔۔۔ ظلم عورت ۔۔۔ جادو گرنی میرے پے جادو کر کے کسی اور کے ہونے کی تیاری کر رہی ہے ۔۔ ایک میں ہوں جو اس کے جادو میں ا کے پاگلوں کی طرح اُس کے پیچھے چلا جاتا ہوں
اور ایک وہ ہے جس کا غصہ ہی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا میرے ساتھ ہی ہمیشہ نا انصافی ہوتی ہے یہ غلط ہے۔۔۔
دوبارہ اس کے پیچھے نہیں جاؤں گا وہ کہہ رہا تھا وہ دوبارہ اس کے پیچھے نہیں جائے گا لیکن شاید یہ بات صرف رات تک ہی یاد رہنی تھی ۔۔
جانے انجانے میں وہ لڑکی اُسے اچھی لگنے لگ گئی تھی پتہ نہیں یہ کب ہوا تھا وہ خود نہیں جانتا تھا
اچھی لگتی تھی محبت نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
کچھ دیر بعد اس نے رحال کو ایک میسج سینڈ کیا تھا وہ اُس کے فیس بک پر سینڈ ہونے والا میسیج تھا
میں تم سے ناراض ہوں رہو تم اپنے اُس خلی بالی کے ساتھ ۔۔ میں بات نہیں کروں گا ۔۔ میں تمھیں کل ڈاکٹر کے پاس لے کے گیا تھا تمھیں میرا احساس ہی نہیں ہے ظلم عورت ۔۔ جادو گرنی میرے پے جادو کروا رہی ہو تم کے میں بس تمھیں سوچوں ہمیشہ ۔۔۔
رحال اُس کا میسیج دیکھ کے بہت ہنسی تھی اُس نے معراج کو دکھایا ۔۔
بہن یہ تو تیرے پیچھے پاگل ہو گیاہے لگتا ہے ۔۔۔ دیکھ ہے پاگل عاشقوں کو طرح جیلس ہو رہا ہے
فضول باتیں نہ کر معراج ایسا کچھ نہیں ہے ۔وہ بس تنگ کر رہا یہ اور کچھ نہیں ۔۔میں نے اب کوئی جواب ہی نہیں دینا خود ہی میسیج کرنا روک دے گا ۔۔۔
ہائے مجھے اج پتہ چلا تو کتنی ظلم ہے رحال وہ صحیح کہتا ہے تو ظلم ہے ۔۔ ابھی وہ بول ہی رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کیسی نے بجایا ۔۔ معراج نے دروازہ کھولا ۔ایں علی بھائی آجائیں۔۔ معراج پیچھے ہو گئی ۔۔
ن۔۔نہیں کیا رحال ٹھیک ہے میں بس اُس کا حال پوچھنے ایا تھا ۔۔ معراج ہنس پڑی آجائیں اندر خود دیکھ لیں ۔۔
ن۔۔ نہیں بس تم بتا دو نہ ۔۔۔
سچ بتاؤں وہ بہت بیمار ہے اُس کو بخار دوبارہ ہو رہا بہت زیادہ ۔۔
کیا ۔۔ علی حیران ہوا۔۔اچھا ہٹو میں خود دیکھتا ہوں ۔۔۔ وہ کہتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھی تھی علی اُس کے پاس آیا ۔۔اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کے بخر چیک کیا ۔۔
ی۔۔ یہ تو ٹھیک ہے ۔۔ علی نے معراج کو دیکھا یہ مذاق اُس کو پسند نہیں ایا تھا ۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔۔ اپ ہی کمرے میں نہیں آ رہے تھے ۔۔ سوچا اس کے لیے آجائیں گے ۔۔کون سے زمانے میں جی رہے ہیں اپ۔۔ کے کیسی کے کمرے میں نہیں انا ۔۔ خاص کے کے کیسی لڑکی کے کمرے میں ۔۔ معراج اب ہنس کے پوچھ رہی تھی ۔۔۔ علی خاموش ہو کے اُس کی باتیں سنتا رہا پھر بولا ۔۔
ہو گئی ختم تمھاری باتیں ۔۔؟
جی ۔۔ ہو گئی ۔۔ معراج نے ہنس کے کہا ۔۔
ٹھیک ہے خیال رکھو اپنی بہن کا ۔۔
ارے اپ کی بھی تو بہن ہی ہے نہ ۔۔ معراج نے جان بوجھ کے علی کو چھڑا ۔۔۔ علی نے گھور کے دیکھا ۔۔ بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔زبان پر ہلکی اواز میں
لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔۔ پڑتا باہر نکلا ۔۔ وہ اُس کی بہن تو نہیں تھی ۔۔۔۔
معراج پیچھے سے اونچی اواز میں کہکا گونجا اور پھر وہ ہنستی چلی گئی ۔۔۔ خد رحال بھی ہنس ہنس کے دوہری ہو رہی تھی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *