Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 4.

محبت عبادت قسط نمبر:4

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

یہ صبح کا وقت تھا ۔۔ علی اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔ معراج کالج گئی تھی رحال یونی نہیں گئی تھی وہ ارام کر رہی تھی طبیعت پہلے سے ٹھیک تو تھی لیکن بلکل ٹھیک نہیں تھی وہ ۔۔۔ علی خاموشی سے کچن میں اگیا ۔۔ سلمان اور عثمان کیسی آفک کے کام سے اپنے بابا فرحان صاحب کے ساتھ ہی صبح چلے گے تھے علی کے لیے یہ بورنگ صبح تھی ۔۔ کہاں وہ افس جاتا تھا اور کہاں اب وہ گھر میں گھومتا پھر رہا تھا ۔۔۔ زرینہ کچن میں اپنی بہن سے باتوں میں مصروف تھی ۔علی خاموشی سے کچن میں داخل ہوا ۔۔ سلیماں نے علی کو دیکھا ایک دم خاموش ہو گئی بات کا رخ بدل دیا ۔۔
اؤ بیٹا ۔۔ کافی بنا کے دوں یا چائی ۔۔۔ خالا بلیک کافی بنا دیں ۔۔ وہ صبح بلیک کافی ہی پیتا تھا ۔۔
اچھا تم بیٹھو میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔ سلیماں نے کہا تو وہ خاموشی سے باہر چلا گیا ۔۔۔
موسم خوش گوار تھا ۔۔ علی گھر کی پچھلی طرف بنی بالکنی میں اگیا ۔۔ بالکنی میں پہلے سے کوئی لڑکی سیاہ چادر اوڑھ کے ایک طرف چیئر پر بیٹھی تھی ۔۔۔ علی خاموشی سے ریلنگ کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا اور نیچے دیکھنے لگا ۔۔ نیچے ہر طرف سبزہ تھا خوبصورتی تھی ۔۔۔ ۔۔موسم اج خوشگوار سا تھا ۔۔ اس کے سامنے بیٹھی لڑکی خاموش تھی ۔۔ ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑ رکھا تھا ۔۔۔۔ علی نے اُس کی طرف دیکھا ۔۔ وہ اس کو نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ چاے کے کپ کو دیکھ رہی تھی وہ جانتی تھی کوئی اُس کو اپنی بھوری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ جانتی تھی اگر وہ نظر اٹھا کے دکھتی تو و نظریں جُھکا لیتا یہ گھما لیتا ۔۔
وہ کپ کو ہی دیکھتی رہی اور سامنے کھڑا شخص بازو باندھے اس کو دیکھتا رہا ۔۔۔ دونوں میں خاموشی تھی دور پرندے اپنا سنگیت بجا رہے تھے ۔۔ لمحے ساکت ہو گئے تھے ۔۔ اوپر بیٹھا خدا ان دو دھڑکتے دل کے راز کو جانتا تھا ۔۔
تمہاری طبیعت کسی ہے ۔۔؟ خاموشی میں ہلکی سی آواز گونجی ۔۔ رحال نے نظریں اٹھا کے اُس کو دیکھا ۔۔ اُس نے نظریں گھما لی ۔۔۔ کو اب بالکنی سے نیچے دیکھ رہا تھا ۔۔
اب ٹھیک ہوں میں۔۔۔ سامنے بیٹھی لڑکی دھیمی اواز میں بولی ۔۔۔
دوا کھا لی ہے تم نے ۔۔ ایک لمبی خاموشی کے بعد اگلا سوال ایا ۔۔۔
نہیں ابھی نہیں ۔۔۔
تو کب کھاؤ گی اگر بخر شدت پکڑ گیا تو ۔۔۔؟ وہ فکر سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
اب نہیں پکڑے گا شدت ۔۔۔
تمھیں کیسے پتہ اب نہیں پکڑے گا شدت ۔۔۔۔؟ علی نے حیران ہو کے پوچھا ۔۔۔
بس پتہ ہے ۔۔ رحال مسکرائی ۔۔ علی کی دھڑکنیں تیز ہوئی ۔۔۔
ایک بات پوچھ سکتی ہوں اپ سے ۔۔ اگر غصّہ نہیں کریں تو ۔۔۔ ؟
ہاں پوچھو میں کیوں غصّہ کرنے لگا بھلا ۔۔۔۔”
آپ کو کبھی کوئی لڑکی پسند ائی ہے ۔۔۔ یہ جملہ اچانک تھا ۔۔۔”
علی خاموش رہا ۔۔۔ پھر خاموشی ٹوٹ گئی ۔۔۔ ہاں ائی ہے نہ ۔۔۔ ” ابھی نہیں بہت پہلے ائی تھی ۔۔اور ابھی تک دل سے کہیں نہیں گئی ۔۔
رحال پوچھ نہ سکی کون ہے وہ ۔۔
علی نے اس کو دیکھا ۔۔۔ پوچھو گی نہیں کون ہے وہ ۔۔۔؟
نہیں ۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔۔؟
بس ایسے ہی ۔۔۔ رحال کا دل دھڑک رہا تھا ۔۔ اگر وہ کیسی اور کا نام لے گیا تو ۔۔ تو اس کا کیا ہو گا ۔۔
لیکن علی خاموش ہو گیا ۔۔ سلیماں علی کے لیے کافی لے ائی ۔۔۔
رحال ۔۔ مجھے تو ابھی پتہ چلا ہے ۔۔ ذارا اور سارا کی شادی تہ ہو گئی ہے ۔۔ بس کچھ دن رہتے ہیں
مجھے تو زرینہ باجی کے رہی ہیں کے ساتھ ہی چلیں ہم اُن کے ۔۔
سلیماں اپنے بھائی کی بیٹیوں کے بارے میں بتا رہی تھی ۔۔ جن کے رشتے کی بات تو چل رہی تھی اور اب رشتا پکا بھی ہو گیا تھا
ہم بعد میں چلیں گے نہ امی ۔۔۔ ابھی تو پڑھائی کا حرج ہو گا ۔۔ شادی سے ایک دو دن پہلے چلیں گے ۔۔
وہ بولی تو علی بھی بول پڑا ۔۔۔ خالا یہ تو بچی ہے اس کی بات کیوں مان رہی اپ ۔۔ اپ ہمارے ساتھ ہی چلیں اپ کو تو پتہ ہے ماموں ناراض ہو جائیں گے ۔۔ وہ کہیں گے شادی سے ایک دو دن پہلے تو پرائے لوگ اتے ہیں اپنے تو مہینہ پہلے ا جاتے ہیں اور خالا ابھی تو مہینے سے بھی کم وقت ہے ۔۔۔12 ۔۔13 دن تو بچے ہے ۔۔۔
ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو علی ۔۔
رحال نے موں بنا لیا ۔۔ وہ بچی لگتی تھی اُس کو ۔۔ پتہ نہیں کس کمینی پر دل ہارا ہو گا جناب نے وہ دل میں یہی سوچ رہی تھی
سلیماں علی کی بات ٹھیک ہے نہ ۔۔ ہم ان کے ساتھ ہی چلیں گے ۔۔
جی امی ٹھیک ہے ۔۔ ان کی بات کہاں غلط سکتی ۔۔ وہ علی کو گھور کے بولی علی نے اپنی ہنسی مشکل سے روکی ۔۔
خالہ ہم پرسوں نکل رہے ہیں پھر ۔۔ ویسے بھی مجھے افس کا حرج ہو رہا ہے بہت ۔۔۔
ارے بیٹا ۔۔ اتنے سالوں بعد ائے ہو ۔۔ یہاں پر بھی افس کی یاد دماغ سے نہیں نکل رہی ۔۔
بس کیا کروں ۔۔ کام بھی تو سنبھالنا ہے نہ ۔۔ میرا بس چلے تو ساری زندگی یہاں رہ جاؤں ۔۔۔
سلیماں مسکرا کر رہ گئی ۔۔۔ ہاں تو رہ جا جانے کو بولا کس نے ہے ۔۔۔”
ارے خالا ۔۔۔ بتایا تو کام بھی تو سنبھالنا ہے نہ ۔۔
امی ۔۔ مجھے باہر جانا ہے ۔۔
کہاں جانا ہے بیٹا ۔۔۔ ؟
امی بتایا تو تھا آپ کو ۔۔ وہ سونیار کے پاس جانا ہے ۔۔۔
اچھا ہاں ۔۔ جا چلی جا ۔۔ معراج کو ساتھ لے جائیں اب تو انے والی ہو گی کالج سے ۔۔
جی امی ۔۔ وہ کہتے اٹھ کے بالکنی سے اندر اگئی ۔۔۔
علی بھی اندر اگیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
زرینہ اور سلیماں باہر بیٹھی باتیں کر رہی تھی ۔۔
رحال سونیارکے پاس کیا کرنے جا رہی ہے ۔۔ ؟
زرینہ نے پوچھا تو سلیماں بتانے لگی ۔۔
باجی اُس کو شوق ایا ہے ناک بنوانے کا ۔۔ کہہ رہی ہے لونگ پہنے گی نک میں پیاری لگے گی ۔۔
زرینہ مسکرائی ۔۔ اچھا کوئی بات نہیں پورا کرنے دو اس کو شوق ۔۔۔

معراج کچھ دیر پہلے ہی گھر ائی تھی اور کھانا کھا کے وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جب رحال نے اس کو اپنے ساتھ جانے کو کہا ۔۔
میں بہت تھک گئی ہوں ابھی ۔۔۔معراج نے انکار کیا ۔۔۔
پلز نہ چلو کیا ہو جائے گا چلو گی تو ۔۔
اچھا بہن دماغ نہ کھاؤ چلتی ہوں ۔۔ وہ بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے بولی ۔۔
اور عبایا پہنے لگی ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں تیار تھی ۔۔۔ علی اپنا لیپ ٹاپ کھولے کمرے میں بیٹھا افس کا کچھ کام سنبھال رہا تھا ۔۔ سکرین پر ہانیہ کا چہرہ نظر آ رہا تھا
وہ اس کو کچھ ڈیٹیل دے رہی تھی کل کی ۔۔
پھر بات کرتے کرتے بولی ۔۔
تم اج بہت ہینڈسم لگ رہے ہو علی ۔۔
سب سے اچھا پرفیوم کونسا مارکیٹ میں جا رہا ہے ہمارا ۔۔ علی نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا ۔۔
ہانیہ نے موں بنایا ۔۔
میں نے تمہیں ہینڈسم کہا ہے علی ۔۔”
تو ۔۔
تو تم شکریہ تو بول سکتے تھے نہ ۔۔
تم مجھے ہینڈسم بول ہی کیوں رہی ہو ۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہے ہانیہ اب کم کی بات کریں
لہجہ سخت نہیں تھا بس بات خاتمی تھی ۔۔۔ لیکن وہ ہانیہ تھی وہ کہاں بعض اتی تھی ۔۔
اچھا وہ سب چھوڑو یہ بتاؤ کے تم اسلامباد کیوں گئے ہو ۔۔؟
تمھارا اس سے مطلب ۔۔؟
ایسی ہی پوچھ رہی ہوں بتا دو ۔۔۔ “
کزن کی طبیعت خراب تھی ۔۔ ہاسپٹل میں داخل تھی ۔۔ اس لیے ایا تھا ۔۔۔
ہانیہ کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔ پہلی بار دیکھ رہی ہوں تمھیں کسی لڑکی کی پروا کرتے ہوئے لڑکے بس کزن ہی ہے نہ وہ تمہاری ۔۔
گرل فرینڈ تو نہیں ہے کہیں ۔۔
ہانیہ کو اندازہ نہیں ہوا وہ بولتے بولتے کیا بول گئی تھی ۔۔
علی کے تیور بدلے ۔۔
نہ مجھے گرل فرینڈ بنانے کی عادت ہے اور نہ وہ ایسی لڑکیوں میں سے ہے ۔۔ اور دوبارہ کوئی فضول قسم کی بات نہ سنو میں ۔۔ اُس نے کہتے لیپ ٹاپ دھڑام سے بند کر دیا ۔۔
ایک تو لوگ بولنے سے پہلے سوچتے نہیں تھے ۔۔

رحال سونيار کی دکان پر بیٹھی اپنے لیے لونگ کا ڈیزائن دیکھ رہی تھی۔۔۔ جب ڈیزائن پسند اگیا تو پیسے دیتے ہوئے اپنا ناک ضعیف دکان دار کے اگے کیا ۔۔
اُس نے ہاتھ میں کوئی پسٹل پکڑ رکھی تھی ۔۔ کان اور ناک بنانے والی ۔۔۔
دکان دار نے پسٹل اُس کی ناک پے رکھ کے دبئی
ایک آواز کے ساتھ وہ چھوٹا سا لونگ اُس کی ناک کے آر پار ہو گیا ۔۔
رحال نے خود کو ائینے میں دیکھا ۔۔
واللہ کتنی پیاری لگ رہی تھی وہ ۔۔۔
پیسے ٹیبل پر سے دکان دار نے پکڑے اور
دونوں بہنیں باہر اگئی ۔۔
کچھ دیر بعد وہ گھر کے دروازے پر کھڑی تھی
دروازہ کھولنے والا علی مصطفیٰ تھا جو شاید بیل کی اواز سن کے ایا تھا ۔۔
دروازہ کھولا ۔۔ سامنے رحال اور معراج کھڑی تھی نظر یکدم رحال کے چہرے پر پڑی وہ ساکت رہ گیا ۔۔دل نے ایک دم رفتار پکڑ لی ۔۔۔
اُس نے ناک میں چھوٹا سا لونگ پہن رکھا تھا ہیرے جیسا چمکتا لونگ ۔۔ اور اس کی ناک سرخ ہو رہی تھی ۔۔ علی فیصلہ نہیں کر سکا ۔۔
وہ لوگ زیادہ خوبصورت تھا ۔۔۔ یہ رحال شخ نے اُس کو پہنا تھا تو خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔
علی جب ہوش کی دنیا میں ایا تو معراج بول رہی تھی ۔
بھائی راستہ دیں ۔۔ تھک گئی ہوں میں باہر ہی کھڑا رکھنے کا ارادہ ہے کیا ۔۔۔
علی سامنے سے ہٹا تو معراج اندر داخل ہوئی پھر رحال اندر داخل ہو رہی تھی علی نے دروازہ پکڑتے ہوئے کہا ۔۔
یہ کیا کروا لیا ہے ناک پر اپنے ۔۔
رحال نے اُس کو دیکھا ۔۔
اچھا نہیں لگ رہا کیا ۔۔؟ سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی جو اس کے کندھے سے بھی نیچے تھی موں بنا کے بولی ۔۔
اچھا تو لگ رہا ہے ۔۔۔ ل۔۔ لیکن درد نہیں ہو رہی کیا تمھیں ۔۔؟
علی کو کچھ ہو رہا تھا اُس کے ناک کی سرخی دیکھ کے ۔۔
ہو تو رہی ہے ۔۔ لیکن دکھیں کتنا پیارا لگ رہا ہے
علی اُس کو دیکھ کے رہ گیا ۔۔
اس پر کچھ لگاؤ پاگل ۔۔
آپ۔۔ مجھے پاگل کہہ رہے ہیں ۔۔
ہاں تو اور کیا کہوں ۔۔ علی مدھم لہجے میں بولا
ناک کا حال دیکھا ہے تم نے ۔۔ پوری سرخ ہو رہی ہے ۔۔۔ اگر سرخ ہی کرنی تھی تو تھوڑا سا رو لیتی ۔۔۔ نہیں تو ہنس لیتی ۔۔ اگر ہنسنا بھی نہیں تھا تو مجھے بتا دیتی میں پکڑ کے رکھتا تو سرخ ہو جاتی ۔۔ علی کو خود اندازہ نہیں ہوا وہ کیا بول گیا تھا ۔۔۔
جی ۔۔۔؟سامنے کھڑی لڑکی حیران ہوئی ۔۔
م۔۔وہ۔۔وہ میرا مطلب ہے کے نک پکڑ کے رکھنے سے سرخ ہو جاتی ہے نہ۔۔ م۔۔ ارے مطلب ناک کا حال دیکھو کیا کر لیا ہے تم نے ۔۔
ٹھیک ہو جائے گا ۔۔
اور اگر نہ ہوا تھا ۔۔۔؟
ت۔۔ تو ۔۔۔” وہ اب سوچ میں پڑ گئی پھر بولی
یہ تو سوچا ہی نہیں تھا ناک بنوانے سے پہلے ۔۔
علی ہنس پڑا ۔۔ اس لیے ہی تو پاگل کہہ رہا ہوں ۔
تمھیں پتہ ہے نہ تمھارے زخم بچپن سے جلدی ٹھیک نہیں ہوتے ۔۔۔ وہ بچپن کو یاد کر کے بولا
نہیں یہ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔
اچھا اللہ کرے ہو جائے ۔۔ جاؤ ارام کرو اب تم ۔۔
اور اس پر کچھ لگا لینا ۔۔
وہ گردن ہلا کے اگے بڑ گئی ۔۔۔

کمرے میں دھیمی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ رحال بیڈ کے عین درمیان میں بیٹھی، ہاتھ میں پکڑے چھوٹے سے آئینے میں اپنی ناک کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ حال ہی میں کروائی گئی ’نوز پریسنگ‘ کی وجہ سے وہاں ہلکی سی سرخی اور سوجن نمایاں تھی، جس پر وہ بڑی احتیاط سے کریم لگا رہی تھی۔
ابھی وہ اپنی تکلیف اور نئے سنگھار کے درمیانی فرق کو سمجھ ہی رہی تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ معراج، ہمیشہ کی طرح بنا دستک دیے اندر داخل ہوئی۔
“رحال! سونو۔۔۔” معراج نے صوفے پر دھپ سے بیٹھتے ہوئے شرارتی نظروں سے اسے دیکھا۔ “قیسن نے تمہیں دوبارہ کوئی میسج وغیرہ نہیں کیا؟”
نام سنتے ہی رحال کے ہاتھ رک گئے۔ آئینے میں نظر آتی اپنی ناک کی سرخی اسے اب تکلیف سے زیادہ غصے کی وجہ لگنے لگی۔ اس نے بیزاری سے ایک گہرا سانس لیا اور آئینہ سائیڈ پر رکھ دیا۔
“تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے؟” رحال نے تیکھے لہجے میں جواب دیا۔ “یونیورسٹی میں اس کا سامنا کرنا ہی کافی نہیں تھا جو اب تم گھر میں بھی اس کا ذکر چھیڑ کر بیٹھ گئی ہو؟”
رحال کے لیے قیسن کا نام ہی اکتاہٹ کا باعث تھا، مگر وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ قیسن کی خاموش نظروں اور نہ بھیجے گئے پیغامات کے پیچھے ایک ان کہی داستان چھپی ہے، جس کا اظہار اس نے کبھی لفظوں میں نہیں کیا تھا۔۔۔


کمرے میں گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا، بس ایک پرانی شیڈ والی ٹیبل لیمپ سے نکلتی ہلکی، مدھم زرد روشنی فضا میں کسی خیال کی طرح تیر رہی تھی۔ قیسن بیڈ پر دراز تھا، اس کے چہرے پر موبائل فون کی نیلی روشنی کا عکس پڑ رہا تھا۔ وہ پوری طرح سے اسکرین میں مگن تھا۔
اس نے اپنے موبائل کی گیلری میں رحال کی ایک تصویر کھول رکھی تھی۔ یہ تصویر شاید اس نے اس وقت لی تھی جب رحال اسپتال میں زیرِ علاج تھی، جب اسے ڈریپ لگی ہوئی تھی اور وہ نقاہت کے عالم میں بے خبر لیٹی تھی۔ رحال کو تو شاید اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ اس کمزوری کے عالم میں کوئی اس کی تصویر اتار رہا تھا۔
قیسن خاموشی سے اس تصویر کو دیکھتا رہا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسا جذب تھا جو صرف یکطرفہ چاہت میں ہی ملتا ہے۔ چند لمحے اسی طرح گزر گئے، پھر اس نے تصویر کو گھورتے ہوئے زیرِ لب کہنا شروع کیا۔
“ملکہ تبسم…” اس کے ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ ابھری۔ “تم تو بہت ہی غصے والی ہو یار۔۔۔ بہت ہی زیادہ!”
اس نے سر ہلایا، جیسے رحال اس کے سامنے بیٹھی ہو۔ “لیکن تم پر میں اپنی ہر انا وار دیتا ہوں۔”
وہ تصویر کو دیکھتے ہوئے نہ جانے کیا کیا کہتا رہا، کبھی اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا، کبھی اس کے غصے سے جھنجھلاتا،۔۔۔۔
اور کبھی اپنا سر جھٹک دیتا اس کو نہ جانے کیا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
علی مصطفیٰ اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، ہاتھ میں پکڑے فون سے عمر کی آواز گونج رہی تھی۔
“تم واپس کب آ رہے ہو علی؟” عمر نے استفسار کیا۔ “تم نے تو کبھی دفتر سے اتنی لمبی چھٹی نہیں لی جب تک کوئی بہت ضروری کام نہ ہو، تو پھر محض اپنی کزن کے لیے تم اسلام آباد چلے گئے؟ صرف اس لیے کہ اس کی ذرا سی طبیعت خراب تھی؟”
“ذرا سی طبیعت خراب نہیں تھی عمر،” علی نے فوراً ٹوکا، اس کے لہجے میں ایک انجانی سی فکر تھی۔ “وہ ہسپتال میں داخل تھی۔”
“لیکن تمہیں اس کی اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے؟ تم تو کبھی کسی کے لیے اتنے بے چین نہیں ہوتے،” عمر نے معنی خیزی سے پوچھا۔
فون کی دوسری طرف اچانک خاموشی چھا گئی۔ علی کے پاس اس سوال کا کوئی فوری جواب نہیں تھا۔ چند طویل لمحوں کے بعد اس نے دھیرے سے کہا، “بس ایسے ہی۔۔۔ مجھے اس کی پرواہ ہوتی ہے۔”
“تمہیں اس کی پرواہ کیوں ہوتی ہے علی؟” عمر نے بات کو وہیں سے پکڑا۔
“بس ایسے ہی، میں نہیں جانتا عمر۔۔۔ یہ سب چھوڑو، وہاں کا بتاؤ، لاہور کے کیا حالات ہیں؟” علی نے موضوع بدلنے کی ناکام کوشش کی۔
“ہاں، یہاں سب ٹھیک ہے،” عمر نے سرسری سا جواب دیا اور پھر وہی سوال دہرایا۔ “تم واپس کب آ رہے ہو؟”
“پرسوں آ رہا ہوں، خالہ بھی ساتھ آ رہی ہیں۔۔۔ اور معراج اور رحال بھی،” علی نے بتایا۔
“کیوں؟” عمر حیران ہوا۔
“زارا اور سارہ کی شادی آ رہی ہے نا کچھ دنوں میں، ماموں نے سب کو مدعو کیا ہے۔”
“تو کیا شادی کے بعد تم انہیں واپس اسلام آباد چھوڑنے جاؤ گے؟” عمر نے کریدنا جاری رکھا۔
“سوچ تو یہی رہا ہوں،” علی نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
“وہ خود بھی تو لاہور آ سکتے تھے، تم کیوں انہیں ساتھ لے کر آ رہے ہو؟”
علی نے ایک گہرا سانس لیا، جیسے اب سچ چھپانا مشکل ہو۔ “سچی بات بولوں عمر؟ میرا دل ہی نہیں کر رہا تھا انہیں اسلام آباد چھوڑ کر آنے کو۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اگر میں اکیلا آیا تو جیسے کوئی بہت اہم چیز پیچھے چھوٹ جائے گی۔”
“علی۔۔۔ برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟” عمر کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔ “مجھے لگتا ہے تمہیں رحال سے محبت ہو گئی ہے۔”
“تمہارا وہم ہے!” علی نے فوراً بات کاٹ دی۔ “وہ بس میری کزن ہے، اس لیے میں اس کا خیال رکھتا ہوں۔”
“اگر ایسا ہے تو تم معراج کا اس طرح خیال کیوں نہیں رکھتے؟” عمر کے اس ایک جملے نے علی کو لاجواب کر دیا۔
کچھ پل کی خاموشی کے بعد عمر نے مدھم آواز میں کہا، “میری دعا ہے علی کہ تمہارا دل کبھی نہ ٹوٹے۔ محبت بڑی جان لیوا ہوتی ہے۔” یہ کہہ کر عمر نے فون بند کر دیا۔
علی وہیں ساکت کھڑا رہ گیا۔ ‘محبت جان لیوا ہوتی ہے’۔۔۔ عمر کے الفاظ اس کے کانوں میں گردش کر رہے تھے۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا سچ میں وہ اپنی اس چھوٹی سی کزن سے، جو عمر اور حرکتوں، دونوں میں اس سے بہت چھوٹی تھی، محبت کر بیٹھا تھا؟ کیا علی مصطفیٰ کا سنجیدہ دل واقعی ہار چکا تھا؟

رات کی ٹھنڈک بالکنی میں رقص کر رہی تھی۔ رحال ریلنگ سے ٹیک لگائے خاموشی سے دور آسمان کو تک رہی تھی کہ معراج ہاتھ میں چائے کے دو کپ لیے اس کے پاس آ پہنچی۔
“ویسے میں سوچ رہی ہوں۔۔۔” معراج نے ایک کپ رحال کی طرف بڑھاتے ہوئے شرارت سے کہا۔ “زارا اور سارہ کی شادی پر تو بہت سے کزنز اور رشتے دار ہوں گے۔ اور تم ہو بھی اتنی خوبصورت رحال! تم پر تو کوئی بھی پہلی نظر میں فدا ہو سکتا ہے۔”
“فضول باتیں نہ کرو معراج۔” رحال نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا، مگر اس کے گالوں پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی۔
“سچ تو کہہ رہی ہوں۔ اچھا، ویسے میں سوچ رہی ہوں اگر وہاں تمہیں کسی نے پسند کر لیا تو؟” معراج نے اسے مزید چھیڑا۔
“معراج! کیوں تنگ کر رہی ہو؟”
“ارے میں تو چاہتی ہوں تمہاری شادی جلدی ہو جائے، کتنا مزہ آئے گا میں اپنے جیجو کو کتنا تنگ کروں گی!” معراج ہنستے ہوئے بولی۔ پھر اچانک سنجیدہ ہو کر پوچھا، “ویسے رحال، تمہیں کیسا لڑکا پسند ہے؟”
سوال سنتے ہی رحال کے دل کے کسی نہاں خانے میں علی مصطفیٰ کا نقش ابھرا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور بارش کی پہلی بوند کے ساتھ اپنی خاموشی توڑی۔
ایسا۔۔۔ جس کی آنکھوں میں حیا ہو، جو دوسروں کی طرح مجھے گھورے نہیں۔ جو مجھے دیکھتے ہی اپنی نظریں جھکا لے، جو میری پرواہ کرتا ہو، میری فکر کرتا ہو۔۔۔ اور جو میرے لیے اپنا ہر کام چھوڑ کر آ سکے۔”
ابھی اس نے بات مکمل ہی کی تھی کہ بارش تیز ہو گئی۔ نیچے لون کا سبزہ بوندوں کی لپیٹ میں آکر چمکنے لگا۔ رحال نے فوراً موضوع بدلا تاکہ معراج اس کی آنکھوں میں چھپا نام نہ پڑھ لے۔
“میرا چھوڑو، اپنا بتاؤ معراج! تم کیسا ہمسفر چاہتی ہو؟”
معراج لمحہ بھر کو سوچ میں پڑ گئی، پھر بارش کی آواز میں اپنی خواہش گھولنے لگی۔ “مجھے؟ مجھے بھی ویسا ہی لڑکا پسند ہے جیسا تمہیں پسند ہے۔ مجھے وہ بہت عزیز ہوگا رحال، جس کی آنکھوں میں حیا ہوگی۔ جو مجھ سے محبت کرنے سے زیادہ میرا احترام کرے گا۔ جو میری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دے گا، اور اگر کبھی آ جائیں، تو انہیں پونچھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔۔۔ جو میری بے حد پرواہ کرے گا۔”
یہ کہتے کہتے معراج کا دل بے ساختہ دھڑکا۔ اس کے ذہن کے پردے پر ایک ہی چہرہ روشن ہوا۔۔۔ علی مصطفیٰ!
وہ ساکت رہ گئی۔ یہ کیا ہو گیا تھا؟ وہ علی کے بارے میں اتنی گہرائی سے کیسے بول گئی؟ جبکہ اسے معلوم تھا کہ علی اور اس کی بڑی بہن کے رشتے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ محبت نے اس کے دل کے دروازے پر اتنی زور سے دستک دی تھی کہ وہ گھبرا گئی۔
“میں۔۔۔ میں ابھی آتی ہوں۔” معراج بدحواسی میں پلٹی اور کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
بالکنی میں کھڑی رحال ہکا بکا اسے جاتے دیکھتی رہ گئی۔ وہ سمجھ نہیں پائی کہ اس کی بہن کو اچانک کیا یاد آگیا تھا یا وہ کس خیال سے ڈر کر بھاگی تھی۔ بارش اب تیز ہو چکی تھی، مگر ان دونوں بہنوں کے دلوں میں اٹھنے والا طوفان اس بارش سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔۔۔۔
معراج نے کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ اندر سے بند کر لیا اور اس سے پشت لگا کر کھڑی ہو گئی۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا اور دل کی دھڑکنیں اس کے سینے میں ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھیں۔ بارش کی بوندیں جو اس کے دوپٹے پر گری تھیں، اب ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھیں، مگر اس کے اندر ایک عجیب سی آگ لگی ہوئی تھی۔
“یہ میں نے کیا کہہ دیا؟” اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تپتے ہوئے گالوں کو چھوا۔ “وہ علی بھائی ہیں۔۔۔ وہ رحال کے لیے ہیں۔۔۔ میں ان کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتی ہوں؟”
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے چلتی ہوئی بیڈ پر گر سی گئی۔ کمرے کی خاموشی میں اسے اپنی ہی کہی ہوئی باتیں گونجتی سنائی دے رہی تھیں۔ ’جو میرا احترام کرے گا۔۔۔ جو میری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دے گا۔۔۔‘
اس نے آنکھیں بند کیں تو علی مصطفیٰ کا وہ سنجیدہ اور باوقار چہرہ سامنے آگیا۔ محبت ایک پل میں ہو جاتی ہے ۔۔ وہ منظر یاد آیا جب رحال ہسپتال میں تھی اور علی کس طرح دیوانہ وار سب کام چھوڑ کر اسلام آباد پہنچا تھا۔ معراج کو تب لگا تھا کہ یہ ایک کزن کی فکر ہے، لیکن آج اسے احساس ہوا کہ وہ فکر، وہ حیا اور وہ توجہ دراصل وہ معیار تھا جو اس نے لاشعوری طور پر اپنے آئیڈیل کے لیے چن لیا تھا۔
“نہیں معراج! یہ غلط ہے، بہت غلط ہے۔” اس نے تکیے میں اپنا سر چھپا لیا۔
اسے اپنی بہن رحال کا معصوم چہرہ یاد آیا جو بالکنی میں کھڑی اسی طرح کے جیون ساتھی کے خواب دیکھ رہی تھی۔ معراج کو ایسا لگا جیسے اس نے اپنی بہن کی امانت پر نظر ڈال دی ہو۔ ایک طرف برسوں کی بہنوں والی محبت تھی اور دوسری طرف وہ احساس جو ابھی ابھی ایک طوفان کی طرح اس کے دل میں اترا تھا۔
وہ رات معراج کے لیے بہت طویل ہونے والی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی آنکھیں علی کے سامنے اس کا راز فاش نہ کر دیں، اور اس سے بھی بڑا ڈر یہ تھا کہ اگر رحال کو پتا چل گیا تو وہ کیا سوچے گی؟

رحال وہیں بالکنی میں ساکت کھڑی تھی، بارش کی بوندیں اب اس کے بالوں اور کندھوں کو بھگو رہی تھیں، مگر اس کا ذہن معراج کے عجیب رویے میں الجھا ہوا تھا۔ “معراج کو اچانک کیا ہوا؟ وہ اس طرح بدحواس ہو کر کیوں بھاگی؟” وہ خود سے سوال کر رہی تھی کہ تبھی پیچھے سے ایک مانوس اور بھاری آواز آئی۔
“تم ابھی تک یہیں ہو؟”
رحال نے چونک کر مڑ کر دیکھا۔ علی مصطفیٰ بالکنی کے دروازے پر کھڑا تھا، اس کی نظریں ہمیشہ کی طرح باحیا اور جھکی ہوئی تھیں مگر لہجے میں فکر صاف نمایاں تھی۔
“بارش تیز ہو رہی ہے رحال، اندر آ جاؤ۔ ابھی تمہاری طبیعت سنبھلی ہے، دوبارہ بیمار ہونا ہے کیا؟” علی نے ایک قدم آگے بڑھایا، مگر ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھا۔
رحال نے اسے دیکھا، وہی فکر، وہی پرواہ جس کا ذکر اس نے ابھی معراج سے کیا تھا۔ “میں بس۔۔۔ میں بس کچھ سوچ رہی تھی،” رحال نے دھیمی آواز میں کہا، اس کی نظریں اب بھی کمرے کے بند دروازے کی طرف تھیں جہاں معراج گئی تھی۔
“کیا سوچ رہی ہو؟ اور تمہاری ہمزاد (معراج) کہاں ہے؟ وہ تو تمہارے سائے کی طرح ساتھ ہوتی ہے،” علی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
“پتا نہیں ، وہ ابھی یہیں تھی، پھر اچانک کچھ کہے بغیر اندر بھاگ گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیا ہوا ہے،” رحال نے الجھن بھرے لہجے میں جواب دیا۔
علی نے ایک لمحے کے لیے رحال کے چہرے کو دیکھا، جہاں بارش کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ “شاید کوئی ضروری کام یاد آ گیا ہوگا، تم اپنی فکر کرو۔ چلو شاباش، اندر چلو،
رحال نے خاموشی سے سر ہلایا اور اندر کی طرف قدم بڑھا دیے، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی—علی کی وہی پرواہ جو اسے اچھی لگتی تھی، آج اسے تھوڑا سا خوفزدہ کر رہی تھی، کیونکہ اسے معراج کی وہ باتیں یاد آ رہی تھیں۔۔


شام کا وقت تھا، دونوں بہنیں صحن میں بچھی آرام دہ کرسیوں پر بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ فضا میں ابھی بھی بارش کے بعد کی مٹی کی سوندھی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ زرینہ بیگم نے چائے کا گھونٹ بھرا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن سلیماں کی طرف دیکھا۔
“سلیماں! میں نے تم سے پہلے بھی تذکرہ کیا تھا،” زرینہ بیگم نے دھیمی مگر سنجیدہ آواز میں بات چھیڑی۔ “کیا تم نے بھائی صاحب (رحال کے والد) سے علی اور رحال کے رشتے کے بارے میں کوئی بات کی؟”
سلیماں بیگم کے ہاتھ میں پکڑی چمچی پیالی سے ٹکرائی۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور نظریں جھکا لیں۔ “نہیں باجی، ابھی تک تو ہمت نہیں ہوئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا صحیح وقت ہی نہیں مل پایا کہ میں ان سے اس موضوع پر بات چھیڑتی۔”
زرینہ بیگم نے بھنویں اچکائیں۔ “وقت تو نکالنا پڑتا ہے سلیماں، بچے جوان ہو گئے ہیں اور ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔”
“وہ تو ہے باجی، لیکن ایک بات اور بھی تو ہے نا،” سلیماں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ “علی نے بھی تو کبھی خود سے نہیں کہا کہ وہ رحال کو پسند کرتا ہے یا اس سے شادی کا خواہش مند ہے۔ جب تک اس کے اپنے دل کا حال معلوم نہ ہو، میں فرحان سے کیا کہوں گی؟ میں نہیں چاہتی کہ کل کو کوئی بدمزگی ہو۔”

زرینہ بیگم مسکرائیں، ان کی نظروں میں علی کے لیے مان تھا۔ “علی میرا بیٹا ہے سلیماں، وہ بہت باحیا ہے۔ وہ کبھی خود سے ایسی بات زبان پر نہیں لائے گا، لیکن اس کی حرکتیں، اس کی رحال کے لیے ضرورت سے زیادہ فکر اور تڑپ سب کچھ خود ہی تو کہہ رہی ہیں۔ تم نے خود دیکھا نہیں کہ وہ اسلام آباد کیسے ننگے پاؤں دوڑا چلا آیا تھا؟”
سلیماں بیگم خاموش ہو گئیں، ان کا دل بھی جانتا تھا کہ علی اور رحال کے درمیان ایک ان کہی ڈور موجود ہے۔۔۔ لیکن وہ علی کا اظہار سن کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔

اسلام آباد کی صبح خوشگوار تھی، مگر گھر کے اندر فضا کچھ بوجھل سی محسوس ہو رہی تھی۔ رحال کچن میں چائے بنا رہی تھی اور علی مصطفیٰ کچن کے دروازے سے لگ کر کھڑا اس سے تنگ کر رہا تھا۔
“رحال، ویسے چائے میں چینی کم ڈالنا، کل کی چائے پی کر مجھے لگا جیسے میں نے شربت پی لیا ہو،” علی نے ہنستے ہوئے کہا۔
رحال نے پلٹ کر اسے گھورا۔ “آپ کو زیادہ شکایت ہے تو خود بنا لیا کریں۔۔۔

اسی وقت معراج اپنے کمرے سے باہر نکلی۔ علی اور رحال کو یوں ہنستے مسکراتے دیکھ کر اس کے دل میں ایک تیز لہر اٹھی—یہ جلن تھی یا محرومی، وہ نہیں جانتی تھی۔ اس نے علی کی طرف دیکھا، مگر اس بار اس کی زبان سے ‘بھائی’ کا لفظ نہ نکلا۔
“آپ جا کر لاؤنج میں صوفے پر بیٹھیں، میری بہن چائے لے آئے گی،” معراج نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
علی نے حیرت سے اسے دیکھا اور شرارت سے ہنسا۔ “کیوں؟ کیا یہاں کھڑے رہنے کا تم سے کوئی بل چارج ہو رہا ہے؟”
معراج کوئی جواب دیے بغیر تیکھی نظروں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر رحال کے پوچھنے پر کہ “تم چائے لو گی؟” ایک خشک سا “نہیں” کہہ کر واپس کمرے میں چلی گئی۔

لاؤنج میں فرحان صاحب اخبار تھامے ملک کے حالات پر سلیماں بیگم سے تبصرہ کر رہے تھے۔ عثمان اور سلمان پہلے ہی آفس جا چکے تھے۔ رحال چائے کی ٹرے لے کر آئی، تو علی نے زبردستی بسکٹ کی پلیٹ اس کے ہاتھ سے لے لی۔ “یہ مجھے دو، تم ٹرے سنبھالو،” اس نے حق جتاتے ہوئے کہا اور ٹیبل پر پلیٹ رکھ دی۔ سب مل کر چائے پینے لگے، فرحان صاحب بھی بس چائے پی کر نکلنے ہی والے تھے۔
اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ علی اٹھ کر دروازہ کھولنے گیا، سامنے قیسن کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے، مگر اخلاقاً اسے اندر آنے کا راستہ دے دیا۔
“میں رحال کا حال پوچھنے آیا تھا، آج وہ یونیورسٹی نہیں آئی تو میں بھی نہیں گیا،” قیسن نے اندر داخل ہوتے ہی بلند آواز میں کہا۔ علی نے اسے نظر انداز کیا اور رحال کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔
قیسن نے رحال کو دیکھا اور مسکرا کر پوچھا، “اب کیسی ہو تم؟”
“ٹھیک ہوں،” رحال نے مختصر جواب دیا اور نظریں جھکا لیں۔ علی نے جھک کر رحال کے کان میں سرگوشی کی، “تمہیں نہیں لگتا یہ کچھ زیادہ ہی فری ہو رہا ہے؟”
رحال نے دھیمی آواز میں جواب دیا، “آپ کو نہیں پتا تو میں بتا دیتی ہوں، یہ وہی ہے جس نے یونیورسٹی میں میرا مذاق اڑایا تھا۔”
یہ سنتے ہی علی کا خون کھول اٹھا۔ اسے پہلے ہی قیسن زہر لگتا تھا، اور اب تو اسے وجہ بھی مل گئی تھی۔ یہ وہی شخص تھا جس کی وجہ سے اس کی رحال کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔ مگر علی نے ضبط کیا اور خاموش رہا۔۔۔۔


قیسن اب فرحان صاحب کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ “انکل، آج کل جو سیاسی حالات چل رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں نوجوانوں کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، ہے نا؟”
فرحان صاحب نے سر ہلایا، مگر علی نے بیچ میں لقمہ دیا، “نوجوانوں کو پہلے اپنی تمیز اور دوسروں کا احترام سیکھنا چاہیے، سیاست تو بعد کی بات ہے۔”
قیسن نے علی کی طرف دیکھا، اس کی طنزیہ مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔ “لگتا ہے بھائی صاحب کچھ زیادہ ہی سنجیدہ مزاج ہیں۔ ویسے آپ لاہور میں کیا کرتے ہیں؟ میں نے سنا ہے وہاں کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں، پر آپ کا انداز کچھ الگ ہے۔”۔۔۔
علی نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا، جیسے کہہ رہا ہو کہ اپنی حد میں رہو۔ پورے لاؤنج میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی، جس میں صرف قیسن کی چالاک گفتگو اور علی کا غصہ محسوس کیا جا سکتا تھا۔

معراج نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور پشت سے لگ کر وہیں فرش پر ڈھیر ہو گئی۔ اس کے ضبط کے بندھن اب ٹوٹ رہے تھے اور آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو چکی تھیں۔ باہر لاؤنج سے آتی علی کی ہنسی اور رحال کے ساتھ اس کی چھیڑ چھاڑ کی آوازیں معراج کے دل پر نشتر کی طرح لگ رہی تھیں۔
“کیوں؟” اس نے سسکتے ہوئے خود سے سوال کیا۔ “وہ میرے ساتھ اس طرح ہنس کر بات کیوں نہیں کرتے؟ کیوں میرے سامنے آتے ہی ان کا لہجہ اتنا رسمی اور سنجیدہ ہو جاتا ہے؟”
اس نے اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپا لیا، مگر ذہن میں وہی منظر گردش کر رہا تھا جہاں علی کچن کے دروازے پر کھڑا رحال کو اپنی باتوں سے ہنسا رہا تھا۔ وہ شخص جو اس کے لیے کائنات کا مرکز بن چکا تھا، وہ اس کی موجودگی سے اتنا بے نیاز کیسے ہو سکتا تھا؟
“وہ رحال کے لیے اسلام آباد کھچے چلے آئے، اس کے ایک ایک آنسو پر تڑپ اٹھے، اور مجھے۔۔۔ مجھے تو وہ ٹھیک سے دیکھتے بھی نہیں۔” معراج نے تکیہ پکڑ کر اپنے سینے سے بھینچ لیا جیسے اپنے دل کے درد کو دبانے کی کوشش کر رہی ہو۔۔۔۔
میں نے اپنے لہجے میں وہ سارا مان سمو لیا جو ایک عورت اپنے پسندیدہ مرد کے لیے رکھتی ہے، مگر انہیں کچھ محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ کیا وہ سچ میں اتنے نادان ہیں یا پھر ان کی نظروں میں رحال کے علاوہ کسی اور کا عکس سما ہی نہیں سکتا؟”
وہ خود کلامی کرتی رہی، اس کے الفاظ غصے، حسد اور بے پناہ محبت کا مجموعہ تھے۔ اسے اپنی بہن سے نفرت نہیں تھی، مگر اسے علی کی اس توجہ سے نفرت تھی جو صرف رحال کے حصے میں آتی تھی۔
“وہ میرے قریب آنے پر بل چارج ہونے کی بات کرتے ہیں، اور رحال کے لیے اپنا کام گھر سب کچھ چھوڑ انے کو تیار ۔۔۔
اس نے ایک سرد آہ بھری اور آئینے کی طرف دیکھا جہاں اس کی سرخ آنکھیں اس کی شکست کا اعلان کر رہی تھیں۔ “علی مصطفیٰ! آپ میرا دل توڑ رہے ہیں، اور آپ کو احساس تک نہیں کہ آپ کے اس مذاق کے پیچھے میری کتنی سسکیاں دفن ہیں۔”
باہر قیسن کی آواز آئی تو معراج کا دل مزید کڑھنے لگا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس گھر میں ہر کوئی اپنی اپنی محبت اور دشمنی کے کھیل میں مصروف ہے، سوائے اس کے، جو ایک ایسے شخص کی آگ میں جل رہی تھی جو اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب علی کے سامنے نہیں جائے گی، مگر دل تھا کہ ایک بار پھر اس کی آواز سننے کے لیے بے چین تھا۔۔۔۔
فرحان صاحب کے لاؤنچ سے جاتے ہی لاؤنج کا نقشہ بدل گیا۔ علی مصطفیٰ نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی اور بڑی رعونت سے اپنی آستینیں اوپر چڑھانے لگا۔ اس کی نظریں قیسن پر ایسے جمی تھیں جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کو تول رہا ہو۔
تو قیسن صاحب! سنا ہے آپ کو دوسروں کا مذاق اڑانے کا بہت شوق ہے؟” علی نے چائے کا سپ لیتے ہوئے بڑے ٹھنڈے لہجے میں سوال داغا۔ “ویسے ایک مشورہ دوں؟ جس کے پاس اپنا مذاق بنوانے کے لیے کچھ نہ ہو، وہ دوسروں پر ہنستا اچھا نہیں لگتا۔”
قیسن تلملا کر رہ گیا، مگر اپنی مخصوص مسکراہٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ “ارے بھائی صاحب، آپ تو سیریس ہو گئے۔ وہ تو بس یونیورسٹی کی چھوٹی موٹی نوک جھونک تھی۔ اب کیا آپ لاہور سے یہاں صرف مجھ سے لڑنے آئے ہیں؟”
لڑنے کے لیے برابر کا ہونا ضروری ہے قیسن،” علی نے مسکرا کر زہر گھولا۔ “میں تو بس یہ دیکھ رہا تھا کہ وہ کون سا ‘عظیم نمونہ’ ہے جو بن بلائے مہمان کی طرح دوسروں کے گھروں میں گھس جاتا ہے۔”
رحال، جو اب تک خاموش تھی، علی کا ساتھ دیتے ہوئے بولی، “بالکل! اور ویسے بھی قیسن، تمہاری ہمدردی کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ تم نے تو شاید یونیورسٹی میں اپنی ‘پرفارمنس’ کم دے دی تھی جو اب یہاں حال پوچھنے چلے آئے۔”۔۔
رحال کو علی کا ہونا ہمت دے رہا تھا ۔۔۔۔
قیسن نے حیرت سے رحال کو دیکھا۔ اسے امید تھی کہ رحال شاید اس کا بیچ بچاؤ کرائے گی، مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی تھی۔ “یہ کیا بات ہوئی رحال؟” قیسن نے چھوٹے بچوں کی طرح منہ بسورتے ہوئے کہا۔ “تم تو اپنے کزن کی سائیڈ لے رہی ہو۔ یار یہ تو سراسر ‘چیٹنگ’ ہے! تم دونوں مل کر ایک غریب انسان کو ٹارگٹ کر رہے ہو۔ یہ تو نانصافی ہے، تم دو ہو اور میں اکیلا!”
قیسن کے اس عجیب و غریب اور بچکانہ احتجاج پر کمرے کا تناؤ ایک دم ختم ہو گیا۔ سلیماں بیگم اور خود رحال کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ حتیٰ کہ علی، جو اسے کچا چبا جانے کے موڈ میں تھا، وہ بھی بمشکل اپنی ہنسی ضبط کر پایا۔
نانصافی تو تب ہوتی جب میں تمہارے برابر کا کوئی لاتا،” علی نے قیسن کے طنز کا جواب طنز سے دیا۔ “تم جیسے ایک کے لیے رحال کا ایک جملہ ہی کافی ہے۔”
ہاں ہاں، دیکھ رہا ہوں میں سب،” قیسن نے مصنوعی خفگی سے چائے کی پیالی رکھی۔ “لاہور کے لوگ واقعی بہت تیز ہوتے ہیں۔ رحال، میں تو سمجھا تھا تم میری دوست بنو گی، مگر تم تو اس ‘ہٹلر کزن’ کے ساتھ مل کر میری ٹیم ہی بدل گئی۔”
“ٹیم بدلنے کے لیے پہلے ٹیم میں ہونا ضروری ہے،” رحال نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ “اور تم کبھی میری ٹیم میں تھے ہی نہیں قیسن!”
قیسن نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کھڑا ہو گیا۔ “ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں۔ یہاں تو میرا دال گلنا مشکل ہے۔ علی بھائی، ویسے آپ کی چائے اچھی تھی، پر آپ کے جملے بہت کڑوے ہیں۔ اللہ حافظ!”
اس کے جاتے ہی کمرہ دوبارہ قہقہوں سے گونج اٹھا، مگر علی کی نظریں اب بھی دروازے پر تھیں، اسے خوشی تھی کہ اس نے رحال کے سامنے اس ‘نمونے’ کی حقیقت واضح کر دی تھی۔۔۔۔
قیسن کے جانے کے بعد لاؤنج میں ایک دم سکون چھا گیا تھا۔ سلیماں بیگم کچن کی طرف جا چکی تھیں اور اب وہاں صرف علی اور رحال موجود تھے۔ علی نے ایک گہرا سانس لیا اور صوفے پر ذرا پھیل کر بیٹھ گیا، جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر کے آیا ہو۔
رحال! سچی بتاؤ، یہ تمہاری یونیورسٹی کا سب سے بڑا ‘کارٹون’ ہے کیا؟” علی نے شرارت سے پوچھا تو رحال کی ہنسی دوبارہ چھوٹ گئی۔۔۔۔
آپ نے دیکھا اس کا منہ؟ جب آپ نے اسے ‘عظیم نمونہ’ کہا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے ابھی ابھی بجلی کا جھٹکا لگا ہو،” رحال نے ہنستے ہوئے صوفے کا کشن سیدھا کیا۔۔۔۔
علی نے ہنستے ہوئے سر ہلایا۔ “اور وہ جو کہہ رہا تھا کہ ‘یہ چیٹنگ ہے، تم دو ہو اور میں ایک’۔۔۔ قسم سے مجھے لگا ابھی رونے لگے گا اور کہے گا کہ جاؤ میں تم سے کٹی ہوں۔ اتنا بڑا ہو گیا ہے پر عقل ابھی بھی پرائمری اسکول والی ہے۔”
وہی تو!” رحال نے تائید کی۔ “یونیورسٹی میں بھی اس کا یہی حال ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ وہ پڑھنے نہیں بلکہ سب کو انٹرٹین کرنے آتا ہے
آج آپ نے جس طرح اس کی بولتی بند کی، وہ دیکھ کر واقعی مزہ آگیا۔”
علی نے ذرا سنجیدہ ہوتے ہوئے مگر مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے کہا، “مذاق اپنی جگہ رحال، پر اس کا یہاں آنا مجھے بالکل اچھا نہیں لگا۔ مطلب، کوئی اتنا ‘فری’ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیدھا گھر ہی پہنچ جائے؟ اور اوپر سے کہہ رہا ہے کہ ‘میں رحال کا حال پوچھنے آیا ہوں’۔۔۔ جیسے اس کے پوچھنے سے تم فورا ٹھیک ہو جاؤ گی۔”
وہ ہے ہی ایسا،” رحال نے لاپروائی سے کہا۔ “اسے لگتا ہے کہ وہ سب کا فیورٹ ہے، حالانکہ اسے دیکھ کر سب کا سر درد شروع ہو جاتا ہے۔”
“سر درد نہیں رحال، مائگرین!” علی نے لقمہ دیا۔ “وہ جس طرح سیاست پر تبصرے کر رہا تھا، مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں تمہارے ابا اسے الیکشن میں کھڑا ہونے کا مشورہ نہ دے دیں۔ شکر ہے وہ چلے گئے، ورنہ اس نے تو اپنی تقریر شروع کر دینی تھی۔”
رحال ہنستے ہنستے دوہری ہو گئی۔ “سچی علی۔۔۔۔
آپ بہت برے ہیں۔ بیچارہ قیسن تو اپنی طرف سے
امپریس’ کرنے آیا تھا، پر اسے کیا پتا تھا کہ یہاں اس کا واسطہ لاہور کے ‘شیر’ سے پڑ جائے گا۔”
“شیر تو میں ہوں ہی،” علی نے فخر سے کالر ٹھیک کیے۔ “پر تم نے جو اس کے منہ پر کہا نہ کہ ‘تم کبھی میری ٹیم میں تھے ہی نہیں’۔۔۔ بس وہی اس کا آخری وقت تھا۔ بیچارے کا دل تو وہیں ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا ہوگا۔ اب وہ کم از کم ایک ہفتے تک تو تمہارے قریب نہیں آئے گا۔”۔۔۔
کاش ایسا ہی ہو!” رحال نے ایک لمبا سانس لیا۔ “آپ نے آج سچ میں میرا دن بنا دیا۔ وہ خود کو پتا نہیں کیا سمجھتا تھا، آج اسے اپنی اوقات پتا چل گئی ہوگی۔”
دونوں کافی دیر تک قیسن کی حرکات و اور اس کے عجیب و غریب مکالموں پر تبصرے کرتے رہے، جس سے لاؤنج کی فضا پوری طرح زعفران زار بنی رہی۔ علی کو رحال کی ہنسی دیکھ کر سکون مل رہا تھا، اور رحال کو علی کی اس ڈھال جیسی موجودگی پر ایک انجانا سا فخر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ بہت سالوں بعد وہ ایسے مل کے ہنسے تھے ۔۔۔ یہ دو دن ان دونوں کو اتنا قریب کے ائے تھے وہ خود بھی نہیں جانتے تھے ۔۔۔۔۔۔
لاؤنج سے آتی قہقہوں کی آوازیں معراج کے لیے ضبط کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس کا دل پہلے ہی جل رہا تھا اور اب ان دونوں کی بے فکری نے آگ پر تیل کا کام کیا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی عین ان دونوں کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھیں ابھی بھی ہلکی سرخ تھیں اور چہرے پر شدید غصہ تھا۔
بس کریں! بہت ہو گیا آپ دونوں کا مذاق،” معراج نے پھٹ پڑنے والے لہجے میں کہا۔ “آپ دونوں کو اپنی باتوں اور ہنسی مذاق سے فرصت ملے تو کسی اور کا خیال آئے۔ میری تو جیسے اس گھر میں کوئی پرواہ ہی نہیں ہے! میں کمرے میں اکیلی بیٹھی ہوں، رو رہی ہوں یا تڑپ رہی ہوں، تم دونوں میں سے کسی کو ذرا بھی احساس نہیں ہوا۔”
علی اور رحال کے چہروں سے ہنسی ایک دم غائب ہو گئی۔ علی فوراً صوفے سے اٹھا اور معراج کے قریب آیا۔ اس بار اس کے لہجے میں وہ روکھا پن نہیں تھا جس سے معراج ڈرتی تھی، بلکہ ایک بھائی جیسی شفقت اور مٹھاس تھی۔
ارے، ارے! یہ کیا ہو گیا ہماری گڑیا کو؟” علی نے چھوٹے بچوں کو بہلانے والے انداز میں معراج کے سرخ رخساروں کو پکڑا ۔
بھلا ہم تمہیں کیسے بھول سکتے ہیں؟ ہم تو بس اس ‘نمونے’ قیسن کا پوسٹ مارٹم کر رہے تھے۔”
رحال بھی لپک کر معراج کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “معذرت معراج! سچی ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ تم اتنا برا مان جاؤ گی۔ دیکھو، میں کان پکڑتی ہوں، اب بس بھی کرو، اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔”۔۔
معراج خاموش رہی، مگر اس کے چہرے کی سختی تھوڑی کم ہوئی۔ اسے علی کا اپنے۔۔ گا لوں پر ہاتھ لگانا اور بچوں کی طرح پیار کرنا تو اچھا لگا لیکن ۔۔۔
مگر لفظ ‘بہن’ اس کے دل میں کسی کانٹے کی طرح چبھا۔ پھر بھی، علی کی توجہ پا کر وہ تھوڑی پرسکون ہو گئی۔ وہ خاموشی سے صوفے کے کونے میں بیٹھ گئی اور نظریں جھکا لیں۔
علی نے اسے خاموش دیکھ کر ایک اور پینترا بدلا۔ اس نے معراج کے سامنے جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور شرارت سے بولا، “اچھا بابا، اب یہ سوجا ہوا منہ سیدھا کرو۔ ایک زبردست آفر ہے میرے پاس! چلو، جلدی سے اپنا موڈ صحیح کرو، ہم تینوں ابھی باہر کہیں گھومنے چلتے ہیں۔ جو تم کہو گی وہ کھلائیں گے اور جہاں کہو گی وہاں لے جائیں گے۔ اب بتاؤ، ڈن ہے؟”
رحال نے بھی فوراً تائید کی، “ہاں معراج! چلو ناں، بہت مزہ آئے گا۔ تم اپنی پسند کی آئس کریم کھانا۔”
معراج نے نظریں اٹھا کر علی کو دیکھا، جو بڑی امید سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا اور دھیرے سے سر ہلا دیا۔ اگرچہ اس کے دل کا درد مکمل ختم نہیں ہوا تھا، مگر علی کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے کا خیال اسے اندر ہی اندر خوش کر رہا تھا۔
“ٹھیک ہے، میں تیار ہو کر آتی ہوں،” معراج نے اٹھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔
علی نے فاتحانہ انداز میں رحال کی طرف دیکھا۔ “دیکھا! لاہور کے لوگ صرف باتیں نہیں بناتے، منانا بھی جانتے ہیں۔”
اسلام آباد کی روشن صبح میں یہ تینوں گھر والوں کو بتا کر سیر کے لیے نکل پڑے۔ سلیماں بیگم نے ہنستے ہوئے اجازت دے دی، علی کی موجودگی نے انہیں مطمئن کر رکھا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *