Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 6…

محبت عبادت قسط نمبر:6

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

لاہور میں نانی کے گھر آئے علی کو دو ہفتے گزر چکے تھے۔۔۔۔شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں،
علی نے ان سارے دنوں میں ایک بار بھی اپنی کمپنی کا رخ نہیں کیا تھا، مگر آج کی صبح کچھ مختلف تھی۔
صبح کے نو بج رہے تھے جب علی کے سرہانے رکھے فون کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی۔ علی نے بوجھل آنکھوں سے فون اٹھایا تو اسکرین پر ہانیہ کی 25 مسڈ کالز دیکھ کر اس کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اس نے فوراً کال بیک کی۔۔۔۔
خدا کا شکر ہے تم نے فون اٹھا لیا،” دوسری طرف سے ہانیہ کی آواز روایتی فلرٹنگ کے بجائے پریشانی سے کانپ رہی تھی۔ “میں دو گھنٹے سے تم کو ٹرائی کر رہی ہوں، حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔”
علی ایک جھٹکے سے بیڈ پر سیدھا ہو کر بیٹھا، اس کا چہرہ لمحوں میں سخت ہو گیا۔ “ہانیہ! پرسکون ہو کر بتاؤ ہوا کیا ہے؟
ہماری کمپنی کو 20 لاکھ کا نقصان ہو گیا ہے۔۔۔ بلکہ ہو رہا ہے!” ہانیہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔
“کیا؟ 20 لاکھ؟ پر کیسے؟ ہمارا تو آرڈر فائنل تھا،” علی کی آواز میں گرج پیدا ہوئی۔ “مجھے تفصیل بتاؤ، کس ڈپارٹمنٹ میں مسئلہ ہوا ہے؟”
میں فون پر کچھ نہیں بتا سکتی، معاملات بہت الجھ گئے ہیں۔ تم کو ابھی کے ابھی آفس آنا ہوگا۔ تم اؤ گے تو ہی میں تمھیں وہ فائلز دکھاؤں گی جن میں ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ پلیز جتنا جلدی ہو سکے آجاؤ ۔۔۔ہانیہ نے اتنا کہا اور کال کاٹ دی۔
علی نے فون زور سے بیڈ پر پٹخا اور تیزی سے باتھ روم کی طرف لپکا۔ اس وقت اس کے ذہن میں نہ رحال تھی، نہ شادی کی خوشیاں، صرف اس کی وہ کمپنی تھی جسے اس نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔۔۔۔
نیچے لاؤنج میں ناشتے کا دسترخوان سجا ہوا تھا۔ ارسلان، رحال، معراج اور گھر کے تمام بڑے ہنسی مذاق میں مصروف تھے کہ اچانک سیڑھیوں سے علی کے بوٹوں کی بھاری آواز سنائی دی۔ وہ تھری پیس سوٹ پہنے، ٹائی کو ایڈجسٹ کرتا ہوا نیچے آ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ غصہ اور سنجیدگی تھی کہ پورا ہال ایک دم خاموش ہو گیا۔
“ارے علی بیٹا! آؤ، ناشتہ لگ گیا ہے،” نانی نے پیار سے کہا۔ “آج تو تم بڑے ‘صاحب بہادر’ بن کر تیار ہوئے ہو، کہیں گھومنے جانا ہے؟”
زرینہ بیگم نے بھی لقمہ دیا، “بیٹا، گرم گرم پراٹھا کھا لو، پھر جہاں جانا ہے چلے جانا۔”
علی نے کسی کی طرف دیکھے بغیر اپنی گھڑی درست کی اور سپاٹ لہجے میں بولا، “نہیں امی، کوئی ناشتہ نہیں کرنا۔ مجھے ابھی آفس نکلنا ہے۔”
رحال، جو علی کے لیے چائے بنا رہی تھی، اس کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ اس نے علی کے چہرے کی سختی دیکھی تو گھبرا گئی۔ “علی ۔۔۔ سب خیریت تو ہے نا؟ آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں؟”
علی نے ایک لمحے کے لیے رحال کی طرف دیکھا، مگر اس کی نظروں میں وہ نرمی نہیں تھی جو اکثر ہوتی تھی۔ “نہیں رحال، کچھ خیریت نہیں ہے۔ کمپنی کو 20 لاکھ کا بڑا نقصان ہوا ہے اور مجھے فوری طور پر وہاں پہنچنا ہے۔”
پورے خاندان میں ایک سکتہ چھا گیا۔ ارسلان نے ہمدردی جتاتے ہوئے کہا، “علی بھائی، اتنا بڑا نقصان؟ اگر آپ کہیں تو میں آپ کے ساتھ چلوں؟
ضرورت نہیں ہے ارسلان! میں اپنا بزنس سنبھالنا جانتا ہوں،” علی نے دو ٹوک اور کھرے لہجے میں جواب دیا کہ ارسلان کا چہرہ اتر گیا۔
علی نے کسی کی معذرت یا روکنے کا انتظار نہیں کیا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ رحال دروازے تک اسے جاتے دیکھتی رہی، اس کا دل کسی انجانے خوف سے ڈوبنے لگا۔۔۔۔

آدھے گھنٹے بعد علی کی کالی سیڈان گاڑی اس کے آفس کی شاندار عمارت کے سامنے رکی۔ یہ ایک جدید طرز کی بلڈنگ تھی جس کے ماتھے پر بڑے حروف میں ALIHAL PERFUMES
FRAGRANCES. AND ” لکھا تھا۔
جیسے ہی علی اندر داخل ہوا، اسٹاف کی سرگوشیاں تھم گئیں۔ علی کا جاہ و جلال ایسا تھا کہ سب اپنی اپنی جگہوں پر ساکت کھڑے ہو گئے۔ وہ سیدھا اپنے کیبن کی طرف بڑھا جہاں شیشے کے بڑے دروازے اور مہنگا فرنیچر اس کی کامیابی کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
ہانیہ پہلے سے وہاں موجود تھی، اس کے ہاتھ میں فائلوں کا پلندہ تھا۔ علی اپنی کرسی پر بیٹھا اور لیپ ٹاپ آن کیا۔
“اب بتاؤ ہانیہ، کیا تماشہ ہے یہ؟” علی نے اپنی ٹائی تھوڑی ڈھیلی کی، اس کا غصہ اب اپنے عروج پر تھا۔
ہانیہ نے ایک فائل علی کے سامنے رکھی۔۔۔۔
یہ دیکھو۔ جو ‘فرانسیسی لیوینڈر’ کا خام مال (Raw Material) ہم نے منگوایا تھا، وہ کسٹم پر روک لیا گیا ہے۔ ہمارے گودام کے مینیجر نے سپلائر کے ساتھ مل کر جعلی رسیدیں بنائیں اور وہ 20 لاکھ کی رقم جو ایڈوانس میں دی گئی تھی، وہ کمپنی کے اکاؤنٹ سے تو نکل گئی پر مال پہنچا ہی نہیں۔”
علی نے فائل کے صفحات پلٹنا شروع کیے۔ اس کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ “اس کا مطلب ہے کہ ہمارے مینیجر نے دھوکہ دہی کی ہے؟ اور تم لوگ کہاں سو رہے تھے؟”

اس نے کاغذات اتنی صفائی سے بنائے تھے کہ جب تک مال ڈلیور ہونے کی تاریخ نہیں آئی، ہمیں شک ہی نہیں ہوا۔ اب ہمارے پاس نہ وہ مال ہے اور نہ ہی وہ رقم واپس آنے کی امید، کیونکہ وہ سپلائر کمپنی بھی غائب ہو چکی ہے،” ہانیہ نے سر جھکا کر کہا۔…
علی نے غصے میں میز پر مکا مارا۔ “20 لاکھ صرف رقم نہیں ہے ہانیہ، وہ ہماری ساکھ ہے! اگلے ہفتے ہمیں وہ نیا عطر لانچ کرنا تھا، اب ہم کیا سپلائی کریں گے؟ خالی بوتلیں؟”
پورے آفس میں علی کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ اس وقت ایک ایسا سخت گیر باس تھا جس کے سامنے بات کرنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔ ہانیہ خاموش کھڑی اس کے غصے کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کر رہی تھی، جبکہ علی کے ذہن میں اس نقصان کی تلافی کے لیے اب خطرناک منصوبے چل رہے تھے۔…
علی کے کیبن کی فضا اس وقت کسی بارود کے ڈھیر کی طرح تھی جو ذرا سی چنگاری سے پھٹ سکتی تھی۔ علی اپنی کرسی پر بیٹھا اپنی دونوں ہتھیلیاں میز پر جمائے، غصے کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کی کنپٹیوں پر ابھرتی ہوئی رگیں اس کے اندرونی طوفان کا پتہ دے رہی تھیں۔۔۔
علی نے گردن گھما کر ہانیہ کی طرف دیکھا جو خاموشی سے ایک طرف کھڑی تھی۔ “ہانیہ! پولیس والوں کو فون کرو۔ ابھی کے ابھی!” علی کی آواز میں وہ رعب تھا کہ ہانیہ کے ہاتھ سے آئی پیڈ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
“علی! میری بات تو سنو، تم اتنے پینک کیوں ہو رہے ہو؟” ہانیہ نے ہمدردی جتاتے ہوئے قریب آنے کی کوشش کی۔ “تمہیں پتا ہے نا کہ پولیس آنے سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو گرے گی، میں سب ہینڈل کر لوں گی—”
“ہانیہ! میں نے کہا پولیس کو بلاؤ،” علی نے لفظوں کو چبا چبا کر کہا۔ “وہ مینیجر ساجد، جو اپنے گھر سے لاپتہ ہے، مجھے اس کا نام و نشان چاہیے۔ وہ جہاں بھی ہے، جس حال میں بھی ہے، اسے میرے سامنے ہونا چاہیے۔”
ہانیہ نے لرزتے ہاتھوں سے کال ملائی۔ چند ہی منٹوں میں شہر کے اعلیٰ پولیس افسران، جو علی کے اثر و رسوخ اور اس کے خاندان کے نام سے واقف تھے، کیبن میں موجود تھے۔۔۔۔۔
علی کے دو مینجر تھے زوہیب جو کمپنی میں علی کے ساتھ کام کرتا تھا اور ایک ساجد جو گودام میں کام کرتا تھا ۔۔۔۔
علی اٹھا اور ان افسران کے سامنے آ کھڑا ہو گیا، اس کا قد و قامت اور اس وقت کا جاہ و جلال دیکھنے والا تھا۔ “انسپکٹر صاحب! مجھے کوئی کہانی نہیں سننی۔ ساجد مینیجر موبائل بند کر کے روپوش ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ مجرم ہے۔ مجھے وہ اگلے چار گھنٹوں میں اس کیبن میں چاہیے۔”
سر، ہم کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ شہر سے باہر
بھی ہو سکتا ہے—” انسپکٹر نے بات شروع کی۔
“مجھے اس سے کوئی غرض نہیں!” علی نے میز پر پڑا گلدان اٹھا کر دیوار پر دے مارا، جس کے ٹکڑے پورے کیبن میں بکھر گئے۔ “علی مصطفیٰ کی کمپنی سے غداری کرنے والا شخص اگر زمین کے نیچے بھی چھپا ہے نا، تو اسے کھود کر نکالو۔ اسے پتا ہونا چاہیے کہ اس نے کس کے پیٹ میں چھرا گھونپا ہے۔ اگر چار گھنٹے میں وہ یہاں نہ ہوا، تو میں سمجھوں گا کہ آپ کے محکمے کی ضرورت نہیں رہی۔”
علی کا یہ روپ اتنا خوفناک تھا کہ ہانیہ کی بھی زبان گنگ ہو گئی۔ پولیس والے الٹے قدموں باہر نکلے اور پورے لاہور میں ایک تلاطم برپا ہو گیا۔ ناکے لگا دیے گئے، لوکیشنز ٹریس ہونے لگیں، اور علی کی طاقت کا وہ پہلو سامنے آیا جو شاید رحال نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
وہ سمجھتی تھی علی مصطفیٰ بس ایک کمپنی سنبھالنے والا ادمی ہے ۔۔۔ لیکن وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا علی مصطفیٰ تھا ۔۔۔ جو اپنی انا اپنے رتبے سے جانا جاتا تھا ۔۔۔۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ تین گھنٹے گزر چکے تھے، علی کیبن میں ایک زخمی شیر کی طرح ٹہل رہا تھا۔ وہ بار بار اپنی گھڑی دیکھتا۔ ہانیہ صوفے پر بیٹھی بار بار اسے دیکھنے کی کوشش کرتی، مگر علی کی پشت اس کی طرف تھی۔
ٹھیک تین گھنٹے پچپن منٹ پر، کیبن کا بڑا شیشے والا دروازہ دھاڑ سے کھلا۔ دو کانسٹیبلز نے ایک بدحال، مٹی میں اٹے ہوئے شخص کو گھسیٹتے ہوئے اندر لا کر علی کے پیروں میں پھینک دیا۔ یہ ساجد تھا، جس کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ چکا تھا۔
علی دھیرے سے مڑا۔ اس کے چلنے کی آواز (بوٹوں کی ٹھک ٹھک) ساجد کے دل کی دھڑکنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ علی اس کے سامنے آ کر رکا۔
“تو ساجد صاحب۔۔۔ تمہیں لگا تھا کہ علی مصطفیٰ سے تم جیت جاؤ گے؟” علی کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ وہ چیخنے سے زیادہ خطرناک لگ رہی تھی۔
ساجد نے روتے ہوئے علی کے جوتے پکڑ لیے۔ “صاحب! مجھے معاف کر دیں، کامران صاحب نے مجھ سے زبردستی کروایا، انہوں نے کہا تھا کہ وہ آپ کو سنبھال لیں گے، مجھے بس 20 لاکھ ٹرانسفر کرنے ہیں—”
علی نے اسے ٹھوکر مار کر پیچھے ہٹایا۔ “20 لاکھ کی قیمت تو تم اپنی پوری زندگی جیل میں کٹ کر بھی نہیں چکا سکو گے ساجد۔ جس علی نے تمہیں اس قابل بنایا کہ تم سفید پوش بن کر گھومو، اسی کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے تمہارے ہاتھ نہیں کانپے؟”
ساجد گڑگڑا کر ہانیہ کی طرف دیکھنے لگا جیسے وہ اسے بچا لے گی، مگر ہانیہ نے نظریں پھیر لیں۔ علی نے انسپکٹر کی طرف دیکھا۔ “اسے لے جاؤ۔ اور اسے وہ سبق سکھانا کہ آئندہ کوئی بھی کسی کے بھروسے کا خون کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔”۔۔
اور سب سن لو ۔۔ اس نے افس کے دروازے میں کھڑے سارے ورکرز کو دیکھا ۔۔۔۔
علی مصطفیٰ دغا کرنے والوں کو معاف نہیں کرتا
وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھا ۔۔۔۔
جب سب چلے گئے، تو کیبن میں ایک اذیت ناک خاموشی چھا گئی۔ علی کرسی پر بیٹھا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔۔

ہانیہ قریب آئی۔ “علی! تم ٹھیک تو ہو؟ دیکھو، تمہارا رعب ہی تھا کہ وہ چار گھنٹے میں یہاں تھا۔ اب تم سب بھول جاؤ، میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔” اس نے علی کے شانے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی۔
علی نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ “ہانیہ، مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ میں تھک گیا ہوں ۔۔۔۔

رات کا وقت تھا، جب علی تھکا ہارا گھر واپس پہنچا۔ اس کے چہرے کی زردی اور آنکھوں کے گرد ہلکے سائے اس کی دن بھر کی دماغی کوفت اور اس 20 لاکھ کے نقصان کی کہانی سنا رہے تھے۔ گھر میں سب اس کے منتظر تھے۔ جیسے ہی وہ لاؤنج میں پہنچا، رحال نے فوراً کچن کی طرف دوڑ لگائی تاکہ کھانا گرم کر سکے۔…

دسترخوان پر سب بیٹھ چکے تھے۔ علی نے خاموشی سے نوالہ توڑا۔ وہ صبح سے بھوکا تھا، مگر بھوک جیسے اڑ چکی تھی۔
“علی بیٹا! اب بتاؤ تو سہی، ہوا کیا تھا؟” زرینہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔
علی نے ایک لمبا سانس لیا اور سب کو بتایا کہ کس طرح اس کے پارٹنر کامران نے مینیجر ساجد کے ساتھ مل کر غداری کی اور 20 لاکھ کا نقصان پہنچایا۔ “پر امی، اب سب ٹھیک ہے۔ مینیجر پولیس کی گرفت میں ہے اور کامران کو میں نے بزنس سے باہر نکال دیا ہے،” اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
رحال جو مسلسل علی کی پلیٹ میں سالن ڈال رہی تھی، اس کے چہرے پر علی کے لیے ہمدردی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ علی نے ایک بار رحال کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ کر اس کا دل پسیج گیا۔…

کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ معراج اور رحال ایک ہی کمرے میں تھیں۔ معراج آئینے کے سامنے کھڑی بال سنوار رہی تھی جبکہ رحال خاموشی سے کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔
“رحال! دیکھا تم نے علی بھائی کا رعب؟” معراج نے فخر سے کہا۔ “اتنا بڑا نقصان ہوا اور انہوں نے پل بھر میں سب ٹھیک کر دیا۔ ایسے مرد ہی تو لڑکیوں کو اچھے لگتے ہیں، جو باہر شیر ہوں اور گھر میں وقار۔”
رحال نے دھیمے سے مسکرا کر کہا، “ہاں، وہ بہت مضبوط انسان ہیں۔ اللہ ان کی پریشانیاں دور کرے۔”
جلدی سے سو جاتے ہیں صبح جلدی اٹھنا ہے۔۔
معراج نے بال باندھے اور بیڈ پر ا کے لیٹ گئی


صبح سویرے ہی گھر میں ایک طوفان برپا تھا۔ سارہ اور زارا کو پارلر چھوڑنے کی ذمہ داری علی پر آئی۔ علی اس وقت سفید ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں تھا، بال بکھرے ہوئے تھے مگر چہرے پر وہی خاص چمک۔
“معراج! رحال! تم لوگ تیار ہو؟ جلدی کرو، پارلر سے اپوائنٹمنٹ نکل جائے گی،” علی نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر آواز لگائی۔
معراج اور رحال کمرے سے باہر نکلیں۔ رحال نے ابھی صرف سادہ سوٹ پہنا تھا اور ہاتھ میں اپنا سرخ لہنگا پکڑا ہوا تھا۔ اس کے گیلے بال اس کے کندھوں پر بکھرے تھے۔ علی کی نظر جیسے ہی رحال پر پڑی، وہ ایک پل کے لیے خاموش ہو گیا۔ بغیر کسی میک اپ کے، صبح کی روشنی میں وہ اسے سب سے الگ لگی۔
“علی بھائی! ہم ریڈی ہیں، بس آپ ہمیں ڈراپ کر دیں،” معراج نے ہنستے ہوئے کہا۔
علی نے گاڑی نکالی اور سب کو پارلر چھوڑنے گیا۔ راستے بھر معراج اور دلہنیں باتیں کرتی رہیں، مگر علی آئینے میں بار بار پچھلی سیٹ پر بیٹھی رحال کو دیکھتا رہا جو خاموشی سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی۔….
ان کو پارلر کر کے علی واپس گھر اگیا تھا اس کو ابھی بہت کام کرنے تھے ۔۔۔۔
اور پورا دن کیسے گزرے کچھ پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔
شام ڈھل چکی تھی، علی اب پوری طرح تیار تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کی کلف لگی شلوار قمیض پہنی تھی، اوپر ایک بیش قیمت سیاہ ویسٹ کوٹ اور پاؤں میں چمکتی ہوئی پشاوری چپل۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو سیٹ کر رہا تھا اور پرفیوم کی وہی خوشبو لگائی جو اس کی اپنی کمپنی کا شاہکار تھی۔
وہ پارلر پہنچا تاکہ لڑکیوں کو لے آئے۔ اس کا دل انجانے طور پر دھڑک رہا تھا۔ اسے زارا اور سارہ کو دیکھنا تھا، مگر اس کی آنکھیں کسی اور کی منتظر تھیں۔۔۔۔
پارلر کا دروازہ کھلا۔ پہلے زارا اور سارہ اپنی بھاری میک اپ اور جوڑوں میں باہر نکلیں، ان کے پیچھے معراج آئی جو پرپل لہنگے میں بہت ‘بولڈ’ اور خوبصورت لگ رہی تھی۔ علی نے زارا اور سارا کو دعائیں دیں، مگر پھر اس کی نظریں رک گئیں۔
رحال باہر آئی۔ سرخ رنگ کا وہ زری والا لہنگا اس کے گورے رنگ پر جچ رہا تھا۔ بالوں کا اونچا جوڑا، ماتھے پر چھوٹی سی بندیا اور ہلکا سا میک اپ۔ رحال نے جیسے ہی سر اٹھا کر سامنے کھڑے علی کو دیکھا، وہ وہیں ٹھٹھک گئی۔
علی اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کی نظروں میں ایسی ستائش تھی جیسے وہ کوئی نایاب ہیرا دیکھ رہا ہو۔ رحال نے شرم سے نظریں جھکا لیں اور اپنے دوپٹے کا پلو انگلیوں میں دبایا۔

بہت۔۔۔ بہت اچھی لگ رہی ہو،” علی کے منہ سے بس اتنے ہی الفاظ نکلے، اس کا لہجہ دھیما اور گہرا تھا۔
رحال کے چہرے پر حیا کی سرخی پھیل گئی۔ “شکریہ،” اس نے تقریباً سرگوشی کی۔۔۔۔
سب گاڑی میں بیٹھنے لگے تو رحال نے اپنی چھ انچ کی ہیل سنبھالنے کی کوشش کی، مگر لہنگے کا وزن اور اونچی ہیل نے اسے دھوکہ دے دیا۔ اس کا پاؤں مڑا اور وہ ایک دم پیچھے کی طرف جھکی۔
“آہ!” رحال کی آنکھیں خوف سے بند ہو گئیں۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ زمین کو چھوتی، دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔ علی نے اسے گرنے سے پہلے ہی اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے وقت تھم گیا۔ رحال کا ہاتھ علی کے سیاہ ویسٹ کوٹ پر تھا اور علی کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔
“تمہارا دھیان کہاں ہے؟” علی نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی، اس کی آواز میں غصہ نہیں بلکہ ایک عجیب سی تڑپ تھی۔
علی نے اسے سہارا دے کر پاس پڑی کرسی پر بٹھایا اور خود نیچے جھک کر اس کا پاؤں چیک کرنے لگا۔ “درد ہو رہا ہے؟”
نہیں۔۔۔ میں ٹھیک ہوں،” رحال نے گھبرا کر کہا۔
اسی وقت ارسلان گاڑی سے باہر نکلا جو فرینڈ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔۔
کیوں کے وہ زد کے کے علی کے ساتھ اگیا تھا ۔۔ “اوہ ہو! علی بھائی، آپ تو ہیرو بن گئے۔ رحال، تم تو گر کر بھی پیاری لگ رہی ہو، پر اب سنبھل کر چلنا۔”
علی نے ارسلان کو گھورا۔ “

کچھ دیر بعد وہ میراج حال میں موجود تھے ۔۔
لاہور کے مشہور شادی ہال “دی پیلس” کی سجاوٹ آج دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ہال کے مرکزی دروازے سے لے کر اسٹیج تک سفید گلابوں اور موتیا کی بیلوں سے لدے ہوئے ستون ایک سحر انگیز منظر پیش کر رہے تھے۔ چھت پر لگے بڑے بڑے کرسٹل جھومر اپنی روشنی سے پورے ہال کو بقعہ نور بنائے ہوئے تھے، اور فرش پر بچھے سرخ قالین پر جب روشنی پڑتی تو وہ مخمل کی طرح چمک اٹھتا۔…
سارہ اور زارا اسٹیج پر بیٹھی تھیں۔
ان کے بنا نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان سے کاغذات پر دستخط کروائے ۔۔۔۔
شان معراج کے گرد گھوم رہا تھا، اسے چھیڑ رہا تھا کہ “میسی میک اپ میں تم بالکل ‘ایول کوئین’ لگ رہی ہو،” جس پر معراج اسے مارنے کے لیے پیچھے بھاگ رہی تھی۔
اس ہنگامے میں بھی، علی کی نظریں اسٹیج کے ایک کونے میں کھڑی رحال پر تھیں، جو اپنی بہنوں کے لیے خوشی سے نہال تھی۔ علی کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی، جیسے اسے دنیا کا سب سے بڑا سکون مل گیا ہو۔۔۔


ہال کے ایک گوشے میں رحال اپنی بہن
معراج کے ساتھ کھڑی تھی، جہاں سے وہ اسٹیج پر بیٹھی زارا اور سارہ کو دیکھ رہی تھی۔ اسی دوران ارسلان بڑے اسٹائل سے کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوا ان کے قریب آیا۔ اس نے آج نیلے رنگ کا تھری پیس سوٹ پہنا تھا اور بالوں میں خوب جیل لگا کر انہیں پیچھے کیا ہوا تھا۔
“اوہ مائی گاڈ! رحال۔۔۔” ارسلان نے ہاتھ سینے پر رکھ کر ایک ڈرامائی انداز اپنایا۔ “تم نے تو آج سارہ اور زارا کا مقابلہ ہی ختم کر دیا ہے۔ مطلب، ریڈ کلر میں تم اتنی ‘ڈینجرس’ لگ رہی ہو کہ میرا تو دل پمپنگ بھول گیا ہے۔”
رحال مسکرائی۔ “ارسلان، تم باز نہیں آؤ گے؟ چپ چاپ جا کر مہمانوں کو دیکھو۔”
مہمانوں کو خاک دیکھوں؟” ارسلان نے ایک قدم اور قریب ہوتے ہوئے فلرٹ کرنے کے لہجے میں کہا۔ “میرا تو دل کر رہا ہے کہ ابھی مولوی صاحب کو بلا کر تمہارے ساتھ بھی ‘قبول ہے’ کا سین کر ڈالوں۔ کیا کہتی ہو؟
ابھی ارسلان کے جملے ختم نہیں ہوئے تھے کہ پیچھے سے ایک بھاری اور پروقار آواز آئی۔
“ارسلان! اگر مولوی صاحب کو بلایا نا، تو وہ تمہارے نکاح کے بجائے تمہارا ‘نمازِ جنازہ’ نہ پڑھ دیں، اس کا خیال رکھنا۔”
علی مصطفیٰ اپنے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے، بڑے اطمینان سے ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ سیاہ شلوار قمیض میں اس کی شخصیت کا رعب ایسا تھا کہ ارسلان کی ساری ہیرو پنتی ایک لمحے میں ہوا ہو گئی۔
ارسلان نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا، “ارے علی بھائی! آپ تو ہر وقت ‘جیمز بانڈ’ بن کر آ جاتے ہیں۔ میں تو بس رحال کی تعریف کر رہا تھا۔ آخر میری کزن ہے، اتنا حق تو بنتا ہے۔”
علی نے ایک نظر رحال پر ڈالی، جو علی کے سامنے آنے پر مزید سمٹ گئی تھی۔ علی نے مسکرا کر ارسلان کے کندھے پر ہاتھ رکھا، مگر اس کی گرفت میں ایک ہلکا سا دباؤ تھا۔
“حق تو بہت بنتا ہے ارسلان، پر تعریف اور ‘لائن مارنے’ میں تھوڑا فرق ہوتا ہے۔” علی نے مذاق مذاق میں مگر دو ٹوک لہجے میں کہا۔ “اور ویسے بھی، رحال کو سنبھالنے کے لیے میں کافی ہوں۔ تم جاؤ اور ذرا دیکھو کہ کھانے میں نمک کم نہ ہو، ورنہ نانی نے تمہیں کچا چبا جانا ہے۔”
ارسلان بڑبڑاتا ہوا وہاں سے کھسک لیا۔ اب وہاں صرف علی اور رحال تھے۔ ہال کا شور ان دونوں کے لیے جیسے ختم ہو گیا تھا۔
“پاؤں کیسا ہے اب؟” علی نے آواز نرم کرتے ہوئے پوچھا۔
“بہتر ہے،” رحال نے اپنے لہنگے کا پلو سنبھالتے ہوئے کہا۔ “آپ آج بہت خوش لگ رہے ہیں۔”
علی نے ایک گہرا سانس لیا اور رحال کی آنکھوں میں جھانکا۔ “
آج کچھ خاص لوگ بہت پیارے لگ رہے ہیں، تو موڈ خود بخود اچھا ہو گیا۔”
رحال کا چہرہ اس تعریف پر گلابی ہو گیا۔ “آپ بھی۔۔۔ آپ بھی کالے رنگ میں بہت اچھے لگ رہے ہیں۔”
علی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ “صرف اچھا؟ مجھے لگا تھا تم کہو گی کہ میں بالکل ‘ولن’ لگ رہا ہوں جس نے تمہیں ارسلان سے بچا لیا۔”
آپ ولن نہیں ہیں،” رحال نے معصومیت سے کہا۔ “آپ تو میرے۔۔۔” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گئی۔
“تمہارے کیا؟” علی نے ایک قدم آگے بڑھا کر پوچھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں، میں زارا کے پاس جا رہی ہوں،” رحال شرما کر تیزی سے اسٹیج کی طرف بھاگی، جبکہ علی اسے جاتے ہوئے دیکھ کر مسکراتا رہا۔ اسے پتا تھا کہ وہ رحال کے دل کی دھڑکنیں سن رہا ہے۔

دوسری طرف شان نے معراج کو گھیر رکھا تھا۔ “معراج۔۔۔یہ پرپل رنگ آپ پر جچ تو رہا ہے، پر اگر آپ تھوڑا کم غصہ کریں تو شاید میں آپ کو کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈ دوں۔”
معراج نے اسے گھورا۔ “شان! اگر تم نے اگلا لفظ بولا، تو میں نے تمہاری وہ ویڈیو وائرل کر دینی ہے جس میں تم شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر ‘کاجرا رے’ پر ڈانس کر رہے تھے۔”
شان نے فوراً اپنے کان پکڑ لیے۔ “توبہ توبہ! آپ تو بالکل ہٹلر ہیں۔ میں تو جا رہا ہوں قلفی کھانے۔”
پورے ہال میں ہنسی مذاق اور خوشیوں کا دور دورہ تھا۔ علی مصطفیٰ اپنی تمام بزنس کی ٹینشنز بھول کر اس وقت صرف اپنی فیملی اور اس خاموش محبت کا لطف لے رہا تھا جو اسے رحال کی صورت میں مل رہی تھی۔۔۔۔
رخصتی کا وقت قریب آیا تو پورے ہال کی فضا بوجھل ہو گئی۔ زارا اور سارہ، جو اب تک مسکرا رہی تھیں، اپنے والدین کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ ان کے والدین کی آنکھیں بھی نم تھیں، وہ اپنی لاڈلیوں کو رخصت کر رہے تھے۔ علی مصطفیٰ ایک طرف خاموش کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی اور وقار تھا، مگر آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ وہ ان کا کزن تھا اور ایک بڑے بھائی کی طرح اس نے تمام ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر دونوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور انہیں رخصت کیا۔ جب گاڑیاں ہال سے نکل گئیں اور مہمان بھی رخصت ہونے لگے، تو ایک خاموشی سی چھا گئی۔…

نانی کے گھر واپسی پر سب بہت تھکے ہوئے تھے۔ شادی کی گہما گہمی کے بعد گھر ایک دم خالی خالی لگ رہا تھا۔ معراج اور رحال سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئیں، جبکہ باقی سب بھی آرام کرنے کے لیے اپنے اپنے کمروں کا رخ کر گئے۔
رات کا پچھلا پہر تھا، تقریباً دو بج رہے تھے۔ پورے گھر میں اندھیرا اور سکون تھا، بس راہداریوں میں زیرو کے بلب کی ہلکی سی روشنی تھی۔ علی کو نیند نہیں آ رہی تھی، شاید ذہن اب بھی بزنس کے مسائل اور دن بھر کی تھکن میں الجھا ہوا تھا۔ وہ اپنے کمرے سے نکلا اور کچن کی طرف بڑھا تاکہ اپنے لیے کافی بنا سکے۔…
علی کچن میں پہنچا ہی تھا کہ اسے پیچھے سے کسی کے چلنے کی آہٹ آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو رحال کھڑی تھی۔ اس نے وہی سرخ لہنگا اتار کر اب سادہ سوٹ پہن لیا تھا، مگر اس کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا اور آنکھیں بخار کی تپش سے سرخ ہو رہی تھیں۔ وہ دیوار کا سہارا لیے پانی کا گلاس بھرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“رحال؟ تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟” علی نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور اس کے قریب آیا۔
رحال نے بمشکل سر اٹھایا۔ “وہ۔۔۔ دوا کھانی تھی، سر میں بہت درد ہے۔” اس کی آواز نقاہت سے کانپ رہی تھی۔
علی نے فوراً اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور ایک دم پیچھے ہٹا۔ “رحال! تمہیں تو بہت تیز بخار ہے۔ تمہارا جسم تپ رہا ہے!”
رحال نے کچھ کہنا چاہا مگر اس کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ شاید ایونٹ کی تھکن اور بھاگ دوڑ نے اسے گرا دیا تھا۔ علی نے نرمی سے اس کا بازو تھاما اور اسے کچن سے ملحقہ چھوٹے لاؤنج میں صوفے پر بٹھا دیا۔
“تم یہیں بیٹھو، کہیں ہلنا مت،” علی نے حکم دینے والے لہجے میں کہا مگر اس کی آواز میں بلا کی فکر تھی۔

لی تیزی سے اوپر گیا اور فرسٹ ایڈ باکس سے بخار کی دوا لے کر نیچے آیا۔ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے پانی کا گلاس رحال کے لبوں سے لگایا اور اسے دوا کھلائی۔ رحال خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ ‘سخت گیر’ علی مصطفیٰ اس وقت اس کے لیے اتنا پریشان ہے۔
“ابھی تمہارے لیے کافی بناتا ہوں، اس سے تمہاری تھکن کم ہوگی،” علی نے کچن میں جا کر دوبارہ چولہا جلایا۔
تھوڑی دیر میں وہ دو مگ لے کر آیا اور ایک رحال کی طرف بڑھایا۔ “پیو اسے، گرم ہے، سکون ملے گا۔”
رحال نے کانپتے ہاتھوں سے مگ پکڑا۔ “شکریہ
آپ کی نیند خراب ہو گئی میری وجہ سے۔”
علی نے کافی کا گھونٹ بھرا اور اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ “میری نیند کی فکر چھوڑو۔ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمہاری طبیعت خراب ہے؟ سارا دن ہنستی رہیں اور اب یہ حال ہے؟”
رحال دھیمے سے مسکرائی۔ “خوشی کا موقع تھا، سب کے سامنے کیسے کہتی۔”
کافی کی بھاپ ان دونوں کے درمیان ایک دھندلی سی لکیر بنا رہی تھی۔ باہر خاموشی تھی اور اندر اس مدھم روشنی میں علی کا رحال کے لیے یہ احساس ان دونوں کے درمیان ایک نیا رشتہ بن رہا تھا۔ علی نے تب تک اسے وہاں سے نہیں جانے دیا جب تک اس کے ماتھے سے پسینہ نہیں نکل آیا اور بخار کی شدت کچھ کم نہیں ہوئی۔
“اب جاؤ اور سکون سے سو جاؤ۔ صبح میں دیکھوں گا اگر طبیعت بہتر نہ ہوئی تو ڈاکٹر کے پاس چلیں گے،” علی نے اٹھتے ہوئے کہا۔
رحال نے ایک بار مڑ کر علی کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں تشکر اور ایک انوکھی چمک تھی۔…
رحال اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور علی اپنے کمرے میں آ گیا۔ اس رات علی کو کافی کے باوجود بہت پرسکون نیند آئی،
اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نے نانی کے گھر کے آنگن کو چھوا، تو فضا میں رات والی تھکن اب بھی موجود تھی، مگر علی کی بے چینی اسے بہت جلد بیدار کر چکی تھی۔ اسے رات والا تپتا ہوا ماتھا اور رحال کی نقاہت بھری آواز یاد آ رہی تھی……….

علی نے ناشتے کی میز پر بیٹھتے ہی اپنی امی زرینہ بیگم کو رحال کی طبیعت کا بتایا۔ “امی، رات رحال کو بہت تیز بخار تھا، ذرا جا کر دیکھیں اب کیسی ہے وہ۔”
خبر سنتے ہی گھر میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔ نانی، زرینہ بیگم اور سلیماں بیگم فوراً رحال کے کمرے میں پہنچ گئیں۔ معراج پہلے ہی اپنی بہن کے سرہانے بیٹھی اس کا ماتھا چیک کر رہی تھی ۔۔
سلیماں بیگم نے بیٹی کا ہاتھ تھاما تو وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔ “میری جان! تم نے بتایا کیوں نہیں؟”
زرینہ بیگم نے پیار سے رحال کے بال سنوارے، “ہماری بچی تھک گئی ہے، کل کتنی دوڑ بھاگ کی اس نے۔”
علی خاموشی سے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں صرف رحال پر تھیں۔ رحال نے ایک لمحے کے لیے نظریں اٹھائیں اور دروازے پر کھڑے علی کو دیکھا۔۔۔
دونوں کی نظریں ملیں تو رحال نے پلکیں جھکا لیں، اسے یاد آیا کہ کیسے رات کے اندھیرے میں علی نے اس کی تیمارداری کی تھی۔ وہ اب پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہی تھی، شاید دوا سے زیادہ علی کے احساس نے اسے شفا دی تھی۔۔۔

اج ولیمے کا دن تھا ۔۔۔
چونکہ نانی کا گھر بہت بڑا اور پرانا تھا، اس لیے طے پایا کہ ولیمہ گھر کے کھلے لان اور صحن میں ہی منعقد کیا جائے گا۔ شامیانے لگ چکے تھے اور سفید رنگ کے پھولوں سے پورے گھر کو مہکایا گیا تھا۔
شام ہوتے ہی گھر کا رنگ بدل گیا۔ علی مصطفیٰ نے آج آسمانی رنگ کی کلف لگی شلوار قمیض پہنی تھی۔ اس رنگ میں اس کی شخصیت کی سختی کچھ کم اور دلکشی زیادہ لگ رہی تھی۔
معراج نے سلور (چاندی) رنگ کی لمبی فراک پہنی تھی، جس پر ستاروں کا کام تھا۔ اس نے گہرا میک اپ کیا تھا اور وہ بہت پر اعتماد لگ رہی تھی۔ دوسری طرف رحال، جو ابھی بخار سے اٹھی تھی، اس نے سادگی اختیار کی۔ اس نے ہلکے رنگ کا لباس پہنا، آنکھوں میں ہلکا کاجل اور بالوں کو کھلا چھوڑ دیا۔ اس کی رنگت میں موجود ہلکی سی زردی اس کی معصومیت کو مزید بڑھا رہی تھی۔۔۔۔۔
لان میں سفید میزیں لگ چکی تھیں اور رات کے کھانے کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ سب گھر والے اور قریبی رشتہ دار جمع تھے۔ کھانے کے دوران علی نے جان بوجھ کر رحال کے ساتھ والی کرسی سنبھالی۔
“اب طبیعت کیسی ہے؟” علی نے پلیٹ میں کباب رکھتے ہوئے دھیمے سے پوچھا۔
رحال نے مسکرا کر جواب دیا، “بہت بہتر ہے۔ شکریہ!”
“شکریہ کی ضرورت نہیں، بس اپنا خیال رکھا کرو،” علی نے کہا ہی تھا کہ ارسلان اپنی پلیٹ بھر کر وہیں آ دھمکا۔
“اوہ ہو! علی بھائی، آپ تو آج آسمانی رنگ میں بالکل بادلوں سے اترے ہوئے فرشتے لگ رہے ہیں،” ارسلان نے لقمہ توڑتے ہوئے مذاق کیا۔ “اور رحال! تمہاری یہ بیمار سی صورت دیکھ کر تو میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی بیمار ہو جاؤں تاکہ کوئی میرا بھی ایسا خیال رکھے۔”
علی نے ارسلان کو گھورا، “ارسلان، تم پہلے ہی ذہنی بیمار ہو، اب اور کیا ہو گے؟ چپ چاپ کھانا کھاؤ۔”
معراج بھی وہیں موجود تھی، اس نے علی کی طرف دیکھ کر کہا، “علی بھائی! آپ کو پتا ہے، رحال رات بھر آپ کا ذکر کر رہی تھی کہ آپ نے اسے کتنی اچھی کافی بنا کر دی۔ ویسے آپ نے مجھے تو کبھی کافی نہیں پلائی۔”
علی نے ایک لمحے کے لیے رحال کو دیکھا جس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا تھا۔ “معراج، تم بیمار نہیں تھی نا، اس لیے۔ جس دن تم بیمار ہو گی، تمہیں بھی پلا دوں گا۔”
“توبہ ہے علی بھائی! آپ کی ہمدردی بھی کڑوی ہے،” معراج نے ہنستے ہوئے کہا۔
کھانے کی میز پر قہقہے گونج رہے تھے۔ شان بھی وہاں آ گیا اور معراج کو چھیڑنے لگا، “معراج
سلور فراک میں آپ بالکل کسی ‘چاندنی’ جیسی لگ رہی ہیں، بس ذرا غصہ کم کریں تو شاید چاند بھی شرما جائے۔”
رات کی اس خنک ہوا میں، جب گھر کے روشن چراغ چمک رہے تھے، علی اور رحال کے درمیان وہ خاموش قربت پہلے سے زیادہ گہری ہو چکی تھی۔ علی اسے بار بار کھانے پر مجبور کر رہا تھا، اور رحال پہلی بار علی کے اس حق جتانے پر خود کو بہت خاص محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
دن کیسے گزر رہے تھے پتہ ہی چل رہا تھا ۔۔۔
اگلے دن کی صبح لاہور کی دھوپ میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے شہر خود بھی ان مہمانوں کو الوداع کہنے کے لیے تیار ہو رہا ہو۔ شادی کی تمام تھکن اب خوشگوار یادوں میں بدل چکی تھی۔ علی، رحال اور معراج نے فیصلہ کیا کہ اسلامباد۔ جانے سے پہلے وہ بادشاہی مسجد کی زیارت ضرور کریں گے۔۔۔۔
اس لیے اج ان کا وہ جانے کا ارادہ تھا ۔۔
علی کمر میں تیار کھڑا تھا ۔۔ پاس سے پرفیوم میں خوشبو ا رہی تھی وہی خوشبو جس نے رحال کو اپنے سحر میں لیے تھا ۔۔۔
دونوں بہنیں بھی تیار اپنے کمرے سے باہر نکلی صبح کا وقت تھا ارسلان سویا ہوا تھا ۔۔۔
ان تینوں نے خاموشی سے جانے کا فیصلہ کیا تھا
وہ گھر سے باہر نکلے اور علی نے اپنی گاڑی سنبھالی

بادشاہی مسجد کے شاہی دروازے سے جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، سرخ پتھروں کی عظمت اور وسیع صحن نے رحال اور معراج کو مبہوت کر دیا۔۔۔۔۔

علی سفید رنگ کی شلوار قمیض میں نہایت پروقار لگ رہا تھا اور تھوڑے فاصلے پر آگے چلتے ہوئے انہیں مسجد کی تاریخ کے بارے میں بتا رہا تھا۔۔۔
رحال صحن کی وسعت دیکھ رہی تھی کہ اچانک ایک شخص تیزی سے گزرتے ہوئے اس کے شانے سے بری طرح ٹکرایا۔ رحال کا توازن بگڑا اور وہ گرتے گرتے بچی۔
“بھائی صاحب! دیکھ کر نہیں چل سکتے کیا؟” رحال نے غصے اور حیرت سے کہا۔
وہ آدمی رکا، مگر معذرت کرنے کے بجائے بدتمیزی پر اتر آیا۔ “تم دیکھ کر چلو، راستہ کیا تمہارے باپ کا ہے؟”
علی نے جیسے ہی یہ آواز سنی، اس کے قدم وہیں رک گئے۔ وہ ایک جھٹکے سے مڑا اور چند قدموں میں اس شخص کے سامنے تھا۔ علی کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک اور رعب واپس آ گیا تھا۔
“زبان سنبھال کر بات کرو،” علی نے نہایت سرد مگر دبنگ لہجے میں کہا۔
“تم کون ہو بیچ میں بولنے والے؟” اس شخص نے اکڑ کر پوچھا۔
علی نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا، اس کا قد و قامت اس شخص پر حاوی ہو رہا تھا۔ “میں اس کا جو بھی ہوں ۔۔۔
دوبارہ تم نے بدتمیزی کی تو شاید تم یہاں سے چل کر باہر نہ جا سکو۔ اب معذرت کرو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔”
علی کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ وہ شخص سہم گیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے معذرت کی اور خاموشی سے وہاں سے کھسک گیا۔
رحال نے سکون کا سانس لیا۔ اسے علی کا اس طرح اس کے لیے کھڑے ہونا اندر سے ایک عجیب سی خوشی دے گیا۔ علی نے مڑ کر رحال کی طرف دیکھا، اس کے چہرے کی سختی اب نرمی میں بدل چکی تھی۔ “تم ٹھیک ہو؟ چوٹ تو نہیں آئی؟”
“میں ٹھیک ہوں، شکریہ،” رحال نے دھیمے سے کہا۔۔۔۔

ماحول کو نارمل کرنے کے لیے علی نے مسجد کے میناروں اور مغلئی فنِ تعمیر کے بارے میں بتانا شروع کر دیا۔ “تمہیں پتا ہے رحال، یہ مسجد اورنگزیب عالمگیر نے بنوائی تھی۔۔۔” وہ انہیں مسجد کے ہر کونے کی تفصیل بتاتا رہا، مگر رحال کا ذہن اس بات پر اٹکا ہوا تھا کہ یہ لاہور میں ان کا آخری دن ہے۔
جیسے جیسے سورج غروب ہو رہا تھا، ایک اداسی فضا میں پھیلنے لگی۔ معراج جو عام طور پر بہت بولتی تھی، وہ بھی خاموش ہو گئی تھی۔ رحال بار بار بادشاہی مسجد کے در و دیوار کو دیکھ رہی تھی جیسے ان لمحوں کو اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔
کب وقت گزر پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔

اگلی صبح رخصتی کا وقت آ گیا۔۔۔

رحال کا دل بھر آیا تھا، اور معراج بھی نانی سے لپٹ کر رو رہی تھی۔ علی خود بھی اداس تھا، اسے احساس ہو رہا تھا کہ رحال کے بغیر لاہور اسے کتنا خالی لگے گا، اسی لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود انہیں اسلام آباد چھوڑنے جائے گا۔
کالی سیڈان گاڑی لاہور کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔ سلیمہ بیگم اگلی نشست پر بیٹھی تھیں، جبکہ رحال اور معراج پیچھے تھیں۔
گاڑی میں ہلکی آواز میں میوزک چل رہا تھا۔ رحال کھڑکی سے باہر تیزی سے پیچھے جاتے ہوئے درختوں کو دیکھ رہی تھی، مگر اس کی نظریں بار بار سامنے لگے آئینے (Rear-view mirror) کی طرف اٹھ جاتیں، جہاں سے اسے علی کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ علی بھی خاموش تھا، اس کا سارا دھیان ڈرائیونگ پر تھا، مگر وہ بار بار آئینے میں رحال کی اداس صورت دیکھ لیتا۔۔۔
لاہور یاد آئے گا نا؟” علی نے خاموشی توڑنے کے لیے پوچھا۔
“بہت زیادہ،” رحال نے جواب دیا، اور اس کی آواز میں ایک چھپی ہوئی تڑپ تھی جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ ‘لاہور نہیں، بلکہ لاہور میں گزارے ہوئے وہ پل یاد آئیں گے’۔
معراج نے ٹھنڈی آہ بھری، “کاش یہ شادیاں ختم ہی نہ ہوتیں۔ اب وہی اسلام آباد کی بورنگ زندگی شروع ہو جائے گی۔”
علی نے کچھ نہیں کہا، بس تھوڑا سا مسکرایا۔ اسے پتا تھا کہ یہ سفر ختم ہو رہا ہے، مگر اس کے اور رحال کے درمیان جو ان دیکھا رشتہ لاہور کی ان گلیوں میں پروان چڑھا تھا، وہ اب اسلام آباد کی فضاؤں میں بھی اس کے ساتھ جائے گا۔۔۔

اسلام آباد کی شام اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ان کا استقبال کر رہی تھی۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا اور فضا میں ایک خنک سی ٹھنڈک تھی۔ گاڑی جب اسلام آباد کی کشادہ سڑکوں پر دوڑی تو دور سے فیصل مسجد کے بلند و بالا سفید مینار آسمان کی وسعتوں کو چھوتے ہوئے نظر آنے لگے۔…

علی ڈرائیونگ سیٹ پر تھا، مگر اس کی توجہ بار بار آئینے میں پیچھے بیٹھی رحال کی طرف جا رہی تھی۔
“رحال! دیکھو فیصل مسجد کے مینار کتنے واضح نظر آ رہے ہیں۔ لاہور کی بادشاہی مسجد اور یہاں کی سادگی میں کتنا فرق ہے نا؟” علی نے گفتگو کا آغاز کیا۔
رحال نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے دھیمے سے مسکرایا۔ “ہاں…
لاہور میں ایک تاریخ کی خوشبو تھی اور یہاں ایک عجیب سا سکون ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ بے مثال ہیں۔”
علی اور رحال باتوں میں مگن تھے، مگر معراج جو عام طور پر پورے گھر کو سر پر اٹھائے رکھتی تھی، آج بالکل خاموش گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ شاید لاہور کی وہ رونقیں یاد آ رہی تھی
گاڑی جب گھر کے سامنے رکی تو فرحان صاحب (رحال کے والد) پہلے سے ہی گیٹ پر موجود تھے۔ جیسے ہی گاڑی سے سلیماں بیگم، رحال اور معراج اتریں، فرحان صاحب کے چہرے پر ایک بڑی مسکراہٹ آگئی۔
“خوش آمدید! میری بیٹیاں آگئیں،” انہوں نے باری باری دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔ سلیمان اور عثمان ابھی آفس میں تھے، اس لیے گھر میں خاموشی تھی۔ سب لوگ اندر چلے گئے، تازہ دم ہوئے اور پھر لاؤنج میں چائے کے لیے جمع ہوئے۔۔۔۔
رحال نے چائے کا کپ اپنے پاپا کی طرف بڑھاتے ہوئے تھوڑی شکایت بھرے لہجے میں پوچھا، “پاپا! آپ نے تو کہا تھا کہ آپ سارہ اور زارا کی شادی میں آئیں گے۔ آپ، سلیمان بھائی اور عثمان بھائی۔۔۔ کوئی بھی نہیں آیا۔ نانی کتنا انتظار کر رہی تھیں۔”
فرحان صاحب نے ایک گہرا سانس لیا، “بیٹا! تم جانتی ہو آفس کے معاملات کتنے الجھے ہوئے تھے۔ سلیمان اور عثمان تو بالکل وقت نہیں نکال سکے اور میں بھی ایک ضروری میٹنگ میں پھنس گیا تھا۔ پر خیر، تم لوگوں نے تو خوب انجوائے کیا ہوگا؟”
“بہت زیادہ پاپا!” معراج چہک کر بولی۔ “اور علی بھائی نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ ہمیں کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ ہمیں لاہور گھمایا، بادشاہی مسجد لے کر گئے، اور ہر وقت ہمارے ساتھ رہے۔”
فرحان صاحب نے علی کی طرف دیکھ کر شکریہ ادا کیا، “علی بیٹا! تمہارا بہت احسان ہے، تم نے ان دونوں شرارتیوں کو سنبھال لیا۔”۔۔
خالو اپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں مجھے ۔۔۔
ابھی باتیں جاری تھیں کہ اچانک گھر کی گھنٹی بجی۔ علی قریب ہی تھا، اس لیے وہ خود اٹھ کر دروازہ کھولنے گیا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، سامنے قیسن اپنے مخصوص اسٹائل میں کندھے پر جیکٹ ڈالے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی شرارتی اور بے پرواہ مسکراہٹ تھی۔
“اوہ! علی میاں، تم ابھی تک یہاں ہو؟” قیسن نے طنزیہ سے لہجے میں کہا۔
علی نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی اور بغیر کچھ کہے اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔ علی نے خاموشی سے دروازہ بند کیا اور دبے قدموں قیسن کے پیچھے لاؤنج میں آگیا۔
“اسلام علیکم انکل! اسلام علیکم سب کو!” قیسن نے بلند آواز میں سلام کیا اور سیدھا رحال کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ “میں نے انکل سے پوچھا تھا کہ آپ لوگ کب پہنچ رہے ہیں، تو جیسے ہی پتا چلا کہ آج واپسی ہے، میں نے سوچا سب سے مل لوں۔”
یسن نے رحال کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری، “اور رحال بی بی! کیسا رہا لاہور؟ سنا ہے وہاں تو تم نے بہت دھوم مچائی ہے۔ ویسے یہاں کی رونق تو تمہارے بغیر بالکل ختم ہو گئی تھی۔ اب بتاؤ، میرے لیے کیا لائی ہو؟”
تمہارے لیے تو کچھ نہیں لے کے ائی لیکن بہت ساری جوتیاں لے کے ائی ہوں ۔۔۔ کہو تو کھیلا دوں ۔۔۔؟
قيسن گڑبڑا گیا ۔۔۔
علی ایک طرف کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا اور اسے اپنا اندر جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ قیسن کا رحال سے اس قدر بے تکلف ہونا اسے ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔۔۔۔
تمہارے چہرے کی رونق بتا رہی ہے کہ لاہور میں کسی نے تمہارا بہت زیادہ ہی خیال رکھا ہے،” قیسن نے شرارت سے علی کی طرف دیکھا۔
علی نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “خیال تو اپنوں کا ہی رکھا جاتا ہے قیسن، اور رحال میری اپنی ہے۔ ۔۔۔
قیسن نے قہقہہ لگایا، “ارے علی بھائی! آپ تو ایسے پروٹیکٹو (Protective) ہو رہے ہیں جیسے رحال کوئی چھوٹی بچی ہو۔۔۔۔
ہاں چھوٹی بچی ہی ہے ۔۔ علی نے گھور کے کہا
اب دماغ نہ کھاؤ ي بتاؤ جا کب رہے ہو ۔۔؟
علی نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔۔
قيسن نے علی کو دیکھا ۔۔۔
میرے جانے کی تو تم چھوڑو ۔۔۔ اپنی بتاؤ تم کب جاؤ گے ۔۔۔
قيسن بھی مُسکرا کے بولا ۔۔
میری مرضی میں جاؤں نہ جاؤں ۔۔ تمھیں اس سے کیا ۔۔؟علی نے کہا ۔۔۔
قيسن جلدی سے بولا ۔۔ میں تو بس رحال کا حال پوچھنے ایا تھا اور یہ پوچھنے کے میڈیم یونی کب سے انا ہے ۔۔۔
جب دل کرے گا ۔ سامنے بیٹھی لڑکی جلدی سے بولی علی کی ہنسی نکل گئی ۔۔۔
مل گیا جواب قيسن اب جاؤ بیٹا ۔۔۔
علی نے اسے کہا جیسے قيسن چھوٹا بچہ ہو ۔۔۔
وہ اٹھا ۔۔ رحال ہر بار میں اپنی بیزتی برداشت نہیں کرو گا ۔۔۔
قيسن کہتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
وہ پہلی بار ایسے بول کے گیا تھا ۔۔۔

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک خاموش اداسی چھائی ہوئی تھی۔ رحال اور معراج اپنے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ معراج، جو ہمیشہ چہکتی رہتی تھی، آج بوجھل دل کے ساتھ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
“رحال! صبح علی بھائی نے چلے جانا ہے۔ پتا نہیں پھر کب ملنا ہو گا، کب ہم دوبارہ ایسے ہنسیں گے،” معراج نے رنجیدہ آواز میں کہا، “مجھے تو ابھی سے گھر خالی خالی لگ رہا ہے۔”
رحال خاموش تھی، مگر اس کی خاموشی معراج سے زیادہ گہری تھی۔ وہ معراج کی باتیں سن تو رہی تھی پر اس کا دھیان کہیں اور ہی تھا۔ وہ ان یادوں میں کھوئی ہوئی تھی جو ابھی کچھ دن پہلے لاہور کی گلیوں اور بادشاہی مسجد کے صحن میں بنی تھیں۔ اسے علی کا وہ روپ یاد آ رہا تھا جب وہ اسے گرنے سے بچاتا تھا یا جب اس نے قیسن کے سامنے اس کی ڈھال بن کر اسے تحفظ کا احساس دلایا تھا۔…..
ادھر علی اپنے کمرے میں اکیلا لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔ اسی وقت اس کے پکے دوست عمر کا فون بجا۔
“ہاں بھئی لاہور کے شہزادے! اسلام آباد کی ٹھنڈی ہوا لگ گئی یا واپسی کا ارادہ ہے؟” عمر نے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔
علی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری، “ارادہ تو ہے عمر، کل صبح نکل اؤں گا۔”
“اچھا؟ ویسے تم نے بتایا نہیں کہ سارہ اور زارا کی شادی کیسی رہی؟ لاہور میں تو تم بہت مصروف تھے،” ملاقات ہی نہیں ہوئی ۔۔
عمر نے پوچھا۔۔۔
علی مسکرایا اور اسے شادی کی تمام تفصیلات، ہنسی مذاق اور رونقوں کے بارے میں بتانے لگا۔ عمر خاموشی سے سب سنتا رہا، پھر اچانک ایک ایسا سوال کیا جس نے علی کو ساکت کر دیا۔
“علی۔۔۔ سچ بتانا، جب تم کل لاہور واپس آ جاؤ گے، تو کیا تمہیں وہاں وہ یاد آئے گی؟” عمر جانتا تھا کہ وہ رحال کا تذکرہ کر رہا ہے۔۔۔

علی نے فون کان سے لگائے ایک لمبی سانس کھینچی۔ کمرے کی کھڑکی سے نظر آتی اسلام آباد کی لائٹس اسے دھندلی محسوس ہونے لگیں۔ “ہاں عمر۔۔۔ بہت یاد آئے گی۔ اتنا کہ شاید لاہور میں رہ کر بھی میرا دل یہیں بھٹکتا رہے۔”
عمر خاموش رہا، وہ علی کے لہجے کی سنجیدگی سمجھ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد فون کٹ گیا، مگر علی کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی تھی۔۔۔

صبح کا وقت تھا، علی کلف لگی سیاہ شلوار قمیض میں تیار ہو کر ڈائننگ ٹیبل پر آیا۔ ناشتے کی میز پر ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ رحال نے خاموشی سے علی کے لیے چائے بنائی اور کپ اس کے سامنے رکھا۔ ناشتے کے بعد جب سب سے ملنے کا وقت آیا تو علی اور رحال ہال کے ایک کونے میں آمنے سامنے آ گئے۔
“اب آپ دوبارہ اسلام آباد کب آئیں گے؟” رحال نے ہمت کر کے پوچھا، اس کی آواز میں ایک لرزش تھی۔علی نے اپنی گردن تھوڑی نیچے جھکائی، وہ رحال کی اداس آنکھوں کا سامنا نہیں کر پا رہا تھا۔ “پتا نہیں رحال۔۔۔ مصروفیت بہت ہے، شاید جلد نہ آ سکوں۔ لیکن اگر میں نہ آ سکا، تو تم لاہور آ جانا۔”
رحال کا دل جیسے ڈوب گیا، اس نے مدھم آواز میں پوچھا، “آپ پہلے اسلام آباد کیوں نہیں آتے تھے؟ اتنا عرصہ کیوں لگا دیا آنے میں؟”
علی نے سر اٹھا کر سیدھا رحال کی آنکھوں میں دیکھا۔ “میں اس لیے نہیں آتا تھا رحال، کیونکہ میں ڈرتا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرا دل اسلام آباد میں نہ رہ جائے۔۔۔ اور میرا وہ ڈر آج سچ ثابت ہوا ہے۔ میں اپنا دل یہیں ہار بیٹھا ہوں۔”
رحال کا سانس رک گیا، علی نے اس کا نام اتنی شدت سے پکارا تھا کہ پورے وجود میں ایک سنسنی دوڑ گئی۔ علی نے یہ تو نہیں کہا کہ وہ رحال کے آگے دل ہار بیٹھا ہے، مگر اس کی نظریں سب کہہ رہی تھیں۔
پھر علی مڑا، معراج کے پاس گیا اور ایک بڑے بھائی کی طرح اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا۔ وہ بغیر پیچھے مڑے باہر نکلا، اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور تیزی سے اسے بھگا لے گیا، جیسے وہ خود کو اس اداسی سے دور لے جانا چاہتا ہو۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *