محبت عبادت قسط نمبر:7
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
رات کا وقت تھا، گھر کے تمام کاموں سے فارغ ہو کے سلیماں بیگم اور فرحان صاحب اپنے کمرے میں تھے۔ سلیماں بیگم کے ذہن میں وہی باتیں چل رہی تھیں جو انہوں نے لاہور میں دیکھی تھیں۔۔۔
فرحان! علی بہت اچھا لڑکا ہے نا؟” سلیماں بیگم نے خاموشی توڑی۔ “لاہور میں اس نے رحال کا جتنا خیال رکھا، وہ میں بتا نہیں سکتی۔ ہر مشکل میں وہ رحال کے ساتھ کھڑا تھا۔”
فرحان صاحب نے اخبار ایک طرف رکھا، “ہاں، لڑکا تو سلجھا ہوا ہے، ماشاءاللہ اپنا بزنس بھی بہت اچھے سے سنبھال رہا ہے۔”
سلیماں بیگم نے تھوڑی جھجھک کے بعد کہا، “مجھے لگتا ہے فرحان، علی رحال کو پسند کرتا ہے۔ زرینہ باجی نے مجھ سے رحال کا رشتہ بھی مانگا تھا، لیکن میں نے ان سے کہہ دیا کہ جب تک علی خود نہیں کہے گا، میں کوئی وعدہ نہیں کروں گی۔ اور آپ سے بھی مشورہ کرنا تھا۔”
فرحان صاحب کچھ دیر خاموش رہے، پھر سنجیدگی سے بولے، “دیکھو سلیماں! علی کی شرافت میں کوئی شک نہیں، مگر تمہیں نہیں لگتا کہ اپنی بیٹی کو دوسرے شہر میں بیاہنا تھوڑی زیادتی ہو گی؟ رحال ہم سے بہت دور ہو جائے گی۔ میں مان لیتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں گے، لیکن اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ بہت ہے، میں فی الحال اس بارے میں نہیں سوچنا چاہتا۔”
لیکن فرحان۔۔۔” سلیماں بیگم نے کچھ کہنا چاہا مگر فرحان صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
“سلیماں! ابھی رحال کا یونیورسٹی کا آخری سال ہے۔ اسے اپنی پڑھائی مکمل کرنے دو۔ اگر کبھی علی نے خود ہمت کر کے مجھ سے بات کی، تو تب سوچیں گے۔ ابھی اس موضوع کو یہیں ختم کرو، مجھے صبح جلدی آفس جانا ہے۔”
لائٹ بند کر کے سو گئے، مگر سلیماں بیگم کی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے مستقبل کے خواب اب بھی جاگ رہے تھے۔۔۔
سورج ڈھل چکا تھا جب علی کی گاڑی لاہور کی جانی پہچانی سڑکوں سے گزرتی ہوئی “مصطفیٰ محل” کے عالی شان گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ گھر کے در و دیوار وہی تھے، مگر علی کو ان میں وہ اپنائیت محسوس نہیں ہو رہی تھی جو اسے پچھلے کچھ دن اسلام آباد میں ملی تھی۔ یہ نانی کے گھر میں جو پل گزرے تھے ویسے کوئی پل یہاں نہیں تھا ۔۔
علی تھکا ہارا لاؤنج میں پہنچا تو سامنے ہی زرینہ بیگم تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ علی کو دیکھ کر ان کے چہرے پر سکون آ گیا۔
“آ گئے علی ۔۔۔ سفر کیسا رہا اسلام آباد کا؟ سب خیریت سے پہنچ گئے؟” زرینہ بیگم نے اس کے ماتھے پر پیار دیا۔
“جی امی، سب ٹھیک سے پہنچ گئے۔ بس تھکن بہت زیادہ ہو گئی ہے،” علی نے مختصر جواب دیا اور صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔
اسی وقت اس کی چھوٹی بہن کنزہ کچن سے نکلی۔ “بھائی! آپ آ گئے؟ میں آپ کے لیے کھانا لگاؤں؟ آپ نے راستے میں بھی کچھ خاص نہیں کھایا ہوگا۔”
“نہیں کنزہ، بھوک نہیں ہے،” علی نے آنکھیں بند کیے ہوئے جواب دیا۔ “بس آرام کرنا چاہتا ہوں، صبح آفس میں بہت کام جمع ہیں، مجھے ٹائم سے نکلنا ہوگا۔”
علی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ تازہ دم ہونے کے بعد اس نے آرام دہ کپڑے پہنے اور بیڈ پر لیٹ گیا، مگر نیند کوسوں دور تھی۔ کمرے کی ہر چیز اپنی جگہ پر تھی، مگر ایک عجیب سی اداسی دیواروں سے جھانک رہی تھی۔ اسے بار بار رحال کا وہ چہرہ یاد آ رہا تھا جب اس نے پوچھا تھا، “آپ اسلام آباد کیوں نہیں آتے تھے؟” علی نے کروٹ بدلی، مگر رحال کا اداس لہجہ اس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔۔۔۔
اگلی صبح جب علی بیدار ہوا، تو وہ رات والا جذباتی علی کہیں غائب ہو چکا تھا۔ اس نے استری شدہ گرے تھری پیس سوٹ پہنا، بالوں کو نفاست سے سیٹ کیا اور مہنگی گھڑی پہنی۔ آئینہ اسے ایک سخت گیر بزنس مین کی تصویر دکھا رہا تھا۔
ناشتے کی میز پر بھی وہ خاموش رہا۔ کنزہ اور امی نے چند باتیں کرنی چاہیں، مگر علی کے سپاٹ چہرے نے انہیں خاموش کر دیا۔ وہ خاموشی سے ناشتہ کر کے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور اپنی پرفیوم کمپنی کی طرف روانہ ہو گیا۔
جیسے ہی علی کی گاڑی کمپنی کے پورچ میں رکی، سیکیورٹی گارڈز اور عملہ الرٹ ہو گیا۔ علی جب کیبن کی طرف بڑھا، تو اس کے جوتوں کی ‘ٹھک ٹھک’ پورے فلور پر سنائی دے رہی تھی۔ اس کے چہرے پر نہ مسکراہٹ تھی، نہ ہی وہ کسی سے غیر ضروری سلام دعا کر رہا تھا۔
وہ اپنے کیبن سے باہر نکلا اور پروڈکشن یونٹ کی طرف گیا۔ “مجھے پچھلے ایک ہفتے کی سیلز رپورٹ ابھی اپنی میز پر چاہیے،” اس نے مینیجر سے گزرتے ہوئے کہا۔ اس کا لہجہ اتنا باوقار اور سخت تھا کہ مینیجر نے فوراً فائلیں نکال لیں۔۔۔
ہانیہ، جو پچھلے کچھ دنوں سے علی کے انتظار میں تھی، اپنی فائلز لے کر اس کے پیچھے پیچھے آ گئی۔ “علی! ویلکم بیک۔ میں نے تمام نئی خوشبوؤں کے سیمپلز تیار کر لیے ہیں، اگر تم دیکھو تو—”
علی نے چلتے چلتے رک کر اسے ایک سرد نظر سے دیکھا۔ “مس ہانیہ! یہ آفس ہے۔ یہاں مجھے ‘سر’ یا ‘مسٹر علی’ کہہ کر مخاطب کریں۔ اور سیمپلز میٹنگ روم میں لے آئیں، میں پانچ منٹ میں وہاں پہنچ رہا ہوں۔”
ہانیہ کا چہرہ فق ہو گیا، اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسلام آباد سے واپسی پر علی اتنا بدل جائے گا۔
میٹنگ روم میں علی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے کمپنی کے اہم ڈائریکٹرز اور مارکیٹنگ ٹیم موجود تھی۔ علی ایک ایک پوائنٹ پر سختی سے بحث کر رہا تھا۔
“ہماری خوشبو میں وہ ‘نفاست’ کم ہو رہی ہے جس کے لیے ALIHAL PERFUMES مشہور ہے۔ اگر کوالٹی پر کمپرومائز ہوا، تو میں پوری ٹیم کو بدل دوں گا،” علی نے میز پر انگلی مارتے ہوئے کہا۔
پوری میٹنگ کے دوران علی کا رویہ بالکل پیشہ ورانہ اور سخت رہا۔ ہانیہ بار بار اسے کچھ بتانے کی کوشش کرتی، مگر علی صرف کام کی بات سنتا اور پھر اگلی فائل کی طرف بڑھ جاتا۔ اس کے اندر کی اداسی نے اسے ایک ایسا انسان بنا دیا تھا جو جذبات کو کام کے پیچھے چھپا رہا تھا۔ وہ ایک ایسا باس بن چکا تھا جس سے نظریں ملاتے ہوئے بھی ملازمین ڈر رہے تھے۔۔۔۔ وہ ایسا ہی تھا ۔۔
وہ اپنے گھر والوں کے لیے کچھ اور تھا ۔۔ افس والوں کے لیے کچھ اور ۔۔ اور رحال کے لیے کچھ اور ۔۔۔۔
جب میٹنگ ختم ہوئی، علی واپس اپنے کیبن میں آیا اور بڑی شیشے والی کھڑکی سے لاہور کا شہر دیکھنے لگا۔۔۔۔
اسلام آباد کی صبح خوشگوار تھی، مگر رحال کے لیے یونیورسٹی کا یہ پہلا دن کچھ بوجھل سا تھا۔ شادیوں کا ہنگامہ، لاہور کی رونقیں اور علی کا وہ خاموش مگر مضبوط ساتھ اب ایک یاد بن چکا تھا۔ رحال یونیورسٹی کے سبزہ زار میں ایک بینچ پر بیٹھی اپنی کتابیں سمیٹ رہی تھی کہ اسے قدموں کی چاپ سنائی دی۔…
رحال نے سر اٹھایا تو سامنے قیسن کھڑا تھا۔ مگر آج کا قیسن بدلا ہوا تھا۔ اس کے لباس میں وہ چلبلا پن نہیں تھا، بلکہ اس نے گہرے نیلے رنگ کی قمیض پہنی تھی جس کے بٹن طریقے سے بند تھے، بال نفاست سے بنے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پر وہ مخصوص شرارتی مسکراہٹ کے بجائے ایک سنجیدگی تھی۔.. اُس کی نیلی آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔۔۔
کیسی ہو رحال؟” قیسن نے نہایت دھیمے اور باوقار لہجے میں پوچھا۔ وہ بالکل اسی انداز میں کھڑا تھا جیسے علی مصطفیٰ کھڑا ہوتا تھا۔
رحال اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ “قیسن؟ تم۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو؟ یہ بات کرنے کا طریقہ، یہ انداز؟ تم بالکل علی مصطفیٰ کی نقل کیوں کر رہے ہو؟”
قیسن نے ایک گہرا سانس لیا اور رحال کے برابر بینچ پر ذرا فاصلے سے بیٹھ گیا، بالکل ویسے ہی جیسے علی بیٹھتا تھا۔ “میں نے سوچا رحال۔۔۔ کہ شاید تمہیں وہ انداز پسند ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب وہ (علی) بات کرتا ہے تو تم اسے کتنے غور سے سنتی ہو۔ میں نے سوچا اگر میں علی جیسا بن جاؤں، ویسا ہی سنجیدہ اور باوقار، تو شاید میں تمہیں پسند آ جاؤں۔”
وہ رحال کی آنکھوں میں دیکھ کر بہت سنجیدگی سے بولا، “کیا میں تمہیں پسند آ جاؤں گا اگر میں خود کو بدل لوں؟”
رحال نے اسے دیکھا، ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر اس نے اپنا بیگ کندھے پر لٹکایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کی آواز میں ایک ایسی سچائی تھی جو قیسن کے دل کو چیر گئی۔
“نہیں قیسن۔۔۔ تم علی مصطفیٰ نہیں ہو سکتے۔ کوئی بھی علی مصطفیٰ نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک ہی ہے، اور اس جیسا بننا کسی کے بس کی بات نہیں۔ علی ہونا صرف ایک انداز نہیں ہے، وہ ایک شخصیت ہے جو بنائی نہیں جاتی، وہ ہوتی ہے۔”
قیسن اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا، اس کے چہرے پر چھائی وہ مصنوعی سنجیدگی جیسے بکھرنے لگی۔ رحال نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور تیزی سے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
میڈیکل یونیورسٹی کا بڑا سا “لیکچر ہال” طلباء سے بھرا ہوا تھا۔ سامنے ایک بڑی اسکرین پر انسانی دل (Human Heart) کی تھری ڈی ڈائیگرام بنی ہوئی تھی اور میز پر ایک انسانی ڈھانچہ (Skeleton) رکھا تھا۔ فضا میں فارمالین کی ہلکی سی بو رچی بسی تھی جو میڈیکل کالجز کا خاصہ ہوتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر وقار اپنی عینک درست کرتے ہوئے لیزر پوائنٹر سے اسکرین پر اشارہ کر رہے تھے۔
“کلاس! آج ہم ‘کارڈیو ویسکولر سسٹم’ (Cardiovascular System) کے اس حصے پر بات کریں گے جو انسانی جذبات اور دھڑکن سے جڑا ہے، مگر میڈیکل کی زبان میں یہ محض ایک پمپ ہے،” ڈاکٹر وقار کی آواز گونج رہی تھی۔…
رحال پہلی نشستوں میں سے ایک پر بیٹھی تھی، اس نے سفید لیب کوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے گلے میں اسٹیتھوسکوپ (Stethoscope) لٹک رہا تھا۔ اس کے سامنے کھلی نوٹ بک پر دل کی ایک ہاتھ سے بنی ڈائیگرام تھی، مگر اس کے کنارے پر اس نے غیر ارادی طور پر چھوٹے چھوٹے حروف میں ‘A.M’ (علی مصطفیٰ) لکھ دیا تھا۔
پروفیسر صاحب کہہ رہے تھے، “جب انسانی دل پر کوئی جذباتی دباؤ پڑتا ہے یا خون کی گردش (Blood Circulation) میں تیزی آتی ہے، تو ‘ایڈرینالین’ (Adrenalin) کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ اس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔”
رحال نے قلم وہیں روک دیا۔ اسے یاد آیا جب علی نے بادشاہی مسجد میں اس کا دفاع کیا تھا، تو اس کے اپنے دل کی دھڑکن بھی کچھ ایسی ہی بے ترتیب ہوئی تھی۔ کیا وہ بھی صرف ایک ہارمونل ردِعمل تھا؟ نہیں۔ وہ تو کچھ اور تھا۔
“مس رحال!” پروفیسر کی آواز نے اسے حال میں واپس کھینچ لیا۔ “کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ ‘مایو کارڈیم’ (Myocardium) کا اصل کام کیا ہے؟”
رحال فوراً کھڑی ہوگئی۔ اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا اور پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا، “سر! مایو کارڈیم دل کی درمیانی پٹھوں والی تہہ ہے جو دل کے سکڑنے اور پھیلنے (Contraction and Relaxation) کے عمل کو سنبھالتی ہے، تاکہ خون پورے جسم میں پمپ ہو سکے۔”
ڈاکٹر وقار نے سر ہلایا۔ “بہت اچھا! مگر یاد رکھیں، اگر اس پٹھے پر ضرورت سے زیادہ بوجھ پڑ جائے، تو یہ تھک جاتا ہے اور ‘ہارٹ فیلر’ کا سبب بنتا ہے۔ انسان ہو یا اس کا دل، ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔”.
لیکچر ختم ہوا تو رحال اپنی میڈیکل کٹ سمیٹنے لگی۔ اس کی سہیلیوں نے اسے کینٹین چلنے کو کہا، مگر اس کا دل نہیں مانا۔ وہ ہال سے باہر نکلی تو کوریڈور میں وہی قیسن دوبارہ نظر آیا، جو اب بھی علی کے اسٹائل میں چلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
رحال نے اسے دیکھ کر نظریں پھیر لیں۔ اس نے سوچا کہ میڈیکل سائنس شاید جسم کے ہر درد کا علاج ڈھونڈ لے، مگر اس ‘دردِ دل’ کا کوئی نسخہ کسی کتاب میں نہیں لکھا جو اسے علی سے دور ہو کر محسوس ہو رہا تھا۔
وہ لائبریری کی طرف بڑھ گئی، جہاں خاموشی تھی، بالکل ویسی ہی خاموشی جیسی اسلام آباد چھوڑتے وقت علی کی گاڑی میں تھی۔ اس نے اپنی کتاب کھولی، مگر صفحوں پر لکھے طبی اصطلاحات کے بجائے اسے علی کا وہ سپاٹ مگر پرکشش چہرہ نظر آنے لگا۔۔۔۔۔
لاہور میں سورج غروب ہو رہا تھا اور ALIHAL PERFUMES کی فیکٹری کی اوپری منزل پر بنے اپنے کیبن میں علی اکیلا بیٹھا تھا۔ میز پر شیشے کی مختلف چھوٹی بوتلیں بکھری ہوئی تھیں، جن میں نئے تیار کردہ عطر کے نمونے (Samples) رکھے تھے۔ علی کے چہرے پر وہی روایتی سنجیدگی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں تھکن کے ساتھ ساتھ ایک انجانی سی تڑپ تھی۔…
ہانیہ، جو اس کی سب سے قابل اسسٹنٹ تھی فائل لے کر اندر داخل ہوئی۔ “سر! ہم نے اس نئی خوشبو کا فارمولا فائنل کر لیا ہے۔ یہ بہت نایاب ہے—اس میں صندل کی گرمائش اور رات کی رانی کی ٹھنڈک کو ایک خاص تناسب سے ملایا گیا ہے۔ اب بس اس کے برانڈ نیم (Brand Name) کا فیصلہ کرنا باقی ہے۔”
علی نے ایک شیشی اٹھائی اور اس کا ڈھکن کھول کر خوشبو کو فضا میں بکھیرا۔ ایک لمحے کے لیے اس نے اپنی آنکھیں موند لیں۔ اسے لگا جیسے وہ آفس میں نہیں بلکہ اسلام آباد کی اس ٹھنڈی شام میں کھڑا ہے جہاں رحال نے سرخ لہنگا پہنا ہوا تھا اور اس کے پاس سے ایسی ہی ایک معصوم اور دلکش مہک آ رہی تھی۔۔۔۔
علی نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور سپاٹ مگر پختہ لہجے میں کہا، “اس کا نام ‘رحال’ (RIhal) ہوگا۔”
ہانیہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گئی۔ “رحال؟ سر، یہ نام تھوڑا مختلف نہیں؟ میرا مطلب ہے، عام طور پر پرفیومز کے نام ‘فرینچ’ یا ‘انگریزی’ میں رکھے جاتے ہیں۔”
علی نے کھڑکی سے باہر پھیلے لاہور کے شہر کو دیکھتے ہوئے کہا، جس کے ماتھے پر اب رات کا اندھیرا چھا رہا تھا۔ “اس کا نام وہی ہوگا جو میں نے کہا ہے۔ اس خوشبو میں وہ ٹھہراؤ ہے جو کسی کے انتظار میں ہوتا ہے۔ اس کی بوتل پر صرف ایک ‘R’ کندہ کیا جائے گا—خالص سنہری رنگ میں۔”
ہانیہ خاموشی سے چلی گئی، اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اس نام کے پیچھے کوئی گہرا راز ہے۔ علی نے وہ سیمپل اٹھا کر اپنے دراز کے اس خفیہ خانے میں رکھ دیا جہاں وہ اپنی قیمتی چیزیں رکھتا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ پرفیوم نہیں، بلکہ رحال کی یاد کو ایک بوتل میں قید کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ جب وہ پاس نہ ہو، تب بھی وہ اسے اپنے قریب محسوس کر سکے۔۔۔۔
اسلام آباد کی میڈیکل یونیورسٹی کی لائبریری میں اس وقت موت جیسی خاموشی تھی۔ رحال ایک دور دراز کونے میں بیٹھی اپنی “کارڈیالوجی” (Cardiology) کی موٹی کتاب کھولے ہوئے تھی۔ اس کی انگلیاں کتاب کے صفحات پر تھیں، مگر اس کا ذہن پروفیسر کے بتائے ہوئے “دل کے والوز” سے کہیں دور علی کی یادوں میں الجھا ہوا تھا۔
اس نے اپنا موبائل نکالا اور کانپتی انگلیوں سے علی کا نمبر کھولا۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا شاید پوری لائبریری میں اس کی آواز سنائی دے رہی ہو۔
اس نے ٹائپ کرنا شروع کیا: “السلام علیکم۔۔
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ لاہور کیسا ہے؟ آج یہاں لائبریری میں بہت خاموشی تھی تو بس آپ کی یاد آ گئی۔۔۔”
رحال نے ‘ لکھ کر تھوڑی دیر اسے گھورا۔ اسے یاد آیا کہ علی نے اسے کتنے مان سے، کتنی شدت سے صرف ‘رحال’ پکارا تھا۔ اس نے وہ پورا میسج ڈیلیٹ کر دیا۔
پھر اس نے دوبارہ لکھا: “علی! میں اپنے دل کی دھڑکن کا توازن کھو چکی ہوں۔ کیا آپ وہاں ٹھیک ہیں؟”
یہ لکھتے ہی وہ گھبرا گئی۔ “نہیں، یہ بہت زیادہ ہو جائے گا۔ وہ کیا سوچیں گے؟” اس نے پھر سب مٹا دیا۔
اس نے ایک لمبی سانس لی اور موبائل کو ایک طرف رکھ دیا۔ اس نے اپنی نوٹ بک کا آخری صفحہ کھولا جہاں وہ اکثر ڈرائنگ بناتی تھی۔ وہاں اس نے نہایت نفاست سے لکھا: A.M. (علی مصطفیٰ)۔
اس نے سوچا کہ میڈیکل سائنس چاہے جتنی بھی ترقی کر لے، وہ ان جذبوں کی جراحی (Surgery) نہیں کر سکتی جو خاموشی سے انسان کے اندر جڑیں پکڑ لیتے ہیں۔ رحال نے اپنی آنکھیں بند کیں تو اسے علی کی وہ آواز سنائی دی جب اس نے کہا تھا، “میرا ڈر سچ ثابت ہوا رحال۔”
لائبریری کی پیلی روشنی میں رحال اکیلی بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ کیا علی بھی اسے اسی طرح یاد کرتا ہوگا جیسے وہ اسے یاد کر رہی ہے؟ یا وہ لاہور پہنچ کر دوبارہ وہی سپاٹ اور بے حس “بزنس مین” بن چکا ہے؟
یونیورسٹی کا طویل دن ختم ہوا تو رحال کا تھکا ہوا وجود گھر کی دہلیز تک پہنچا، مگر وہ تھکن جسمانی سے زیادہ ذہنی تھی۔ اس پورے دن میں اس نے میڈیکل کی سینکڑوں اصطلاحات سنی تھیں، انسانی جسم کی پیچیدگیوں کو سمجھا تھا، لیکن اس کے اپنے اندر جو الجھن تھی اس کا کوئی طبی علاج اسے نظر نہیں آ رہا تھا۔…
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب رحال اپنے گھر میں داخل ہوئی۔ لاؤنج میں معراج بیٹھی کسی میگزین کے پنے پلٹ رہی تھی اور سلیماں بیگم باورچی خانے میں رات کے کھانے کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔
“آ گئی میڈیکل کی شہزادی؟” معراج نے شرارت سے کہا، “آج تو شکل سے لگ رہا ہے جیسے پورے پاکستان کا علاج تم نے ہی کر دیا ہے۔”
رحال نے بمشکل ایک مسکراہٹ اپنے لبوں پر سجائی۔ “بس معراج، آج لیکچر بہت ہیوی تھے، دماغ سن ہو رہا ہے۔” وہ صوفے پر ڈھیر ہوگئی۔ اس کے کانوں میں ابھی بھی پروفیسر کے وہ الفاظ گونج رہے تھے کہ ‘ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے’۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اس کی برداشت کی حد بھی ختم ہو رہی ہے؟ علی کے بغیر یہ اسلام آباد اسے ایک پردیس جیسا لگنے لگا تھا۔۔۔۔
رحال بیٹا، ہاتھ منہ دھو لو، میں نے تمہارے لیے گرما گرم سوپ بنایا ہے،” سلیماں بیگم نے کچن سے آواز دی۔
رحال اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس نے اپنا سفید لیب کوٹ اتارا اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں کے گرد ہلکے سائے اس کی بے خواب راتوں اور علی کی یادوں کی گواہی دے رہے تھے۔ اس نے تازہ دم ہو کر سادہ سے کپڑے پہنے اور کھانا کھایا، مگر وہ چہکتی ہوئی رحال جیسے کہیں گم ہو چکی تھی۔ رات بھر وہ اپنی بالکونی میں کھڑی مارگلہ کی پہاڑیوں کو دیکھتی رہی، یہ سوچتے ہوئے کہ کیا لاہور کی ہواؤں میں بھی وہی اداسی ہے جو یہاں کی فضاؤں میں رچی بسی ہے؟
دوسری طرف لاہور میں، “مصطفیٰ محل” کے در و دیوار علی کے انتظار میں ساکت کھڑے تھے۔ رات کے بارہ بج رہے تھے جب علی کی گاڑی پورچ میں رکی۔ آفس کا کام اتنا زیادہ تھا کہ اسے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔ وہ گاڑی سے اترا تو پورچ کی لائٹس کی مدھم روشنی اس کے تھکے ہوئے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
وہ نہایت آہستگی سے گھر کے اندر داخل ہوا۔ پورا محل خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ زرینہ بیگم اور کنزہ کب کے سو چکے تھے۔ علی نے جوتے اتارے اور ننگے پاؤں لکڑی کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔ اس کی اپنی پرچھائی دیواروں پر اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے رحال کی یادیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھیں۔
وہ اپنے کمرے میں پہنچا اور بیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔ اس نے آج پورے دن میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں کیں، لاکھوں کے سودے فائنل کیے، کئی ملازمین پر غصہ کیا، مگر اب اس تنہائی میں وہ خود کو بہت کمزور محسوس کر رہا تھا۔ اس نے وہ پرفیوم کی شیشی نکالی جس پر ‘R’ لکھا تھا اور اسے اپنے تکیے کے پاس رکھ دیا۔
علی کو بھوک محسوس ہو رہی تھی، مگر وہ نیچے جا کر کسی کو جگانا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے صرف پانی کا ایک گلاس پیا اور دوبارہ بیڈ پر آ گیا۔ اسے یاد آیا کہ کیسے اسلام آباد میں رحال نے اس کے لیے چائے بنائی تھی اور وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ وہ پل اب اسے کسی خواب کی طرح لگ رہے تھے۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کیں، مگر نیند کے بجائے اسے رحال کا وہ چہرہ نظر آیا جب وہ اداس تھی۔ “تمہارا دھیان کہاں ہے؟” علی نے خود سے سوال کیا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنی سوچوں کو جھٹکنے کی کوشش کی۔ وہ اب ایک ایسا “باس” بن چکا تھا جو دن بھر دوسروں کو حکم دیتا تھا، مگر رات کو وہ خود اپنی یادوں کا غلام بن جاتا تھا۔
رات گزرتی گئی، گھڑی کی ٹک ٹک پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ علی نے کروٹ بدلی اور آخر کار تھکن کی وجہ سے اس کی آنکھ لگ گئی۔ وہ ایک ایسی نیند میں ڈوب گیا جہاں اسے دوبارہ وہی لاہور کی گلیاں، وہی بادشاہی مسجد کا صحن اور وہی سرخ لباس میں ملبوس رحال نظر آنے والی تھی۔
اسی طرح ایک اور دن گزر گیا—ایک ایسا دن جہاں جسم تو اپنے اپنے شہروں میں تھے، مگر روحیں ایک دوسرے کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد میں پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ہی رحال کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے رات کا زیادہ تر وقت بالکونی میں گزارا تھا، اس لیے اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ اس نے تیار ہو کر اپنا لیب کوٹ اٹھایا اور ناشتے کی میز پر آئی۔
“رحال بیٹا! آج تم کچھ زیادہ ہی خاموش ہو، طبیعت تو ٹھیک ہے؟” فرحان صاحب نے اخبار سے نظریں ہٹا کر پوچھا۔
“جی پاپا، بس وہ پڑھائی کا تھوڑا بوجھ ہے،” رحال نے جھوٹ بولا اور چائے کا کپ اٹھا لیا۔
معراج نے اسے چھیڑنے کی کوشش کی، “پڑھائی کا بوجھ ہے یا لاہور کی یادوں کا؟”
رحال نے اسے گھورا اور چپ چاپ ناشتہ کرنے لگی۔ اسے بار بار علی کا وہ آخری جملہ یاد آ رہا تھا کہ وہ اپنا دل یہیں ہار بیٹھا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگر علی ایسا محسوس کرتا ہے تو وہ اسے فون کیوں نہیں کرتا؟ کیا وہ واقعی اتنا مصروف ہو گیا ہے؟
لاہور میں “مصطفیٰ محل” کے وسیع و عریض ڈائننگ ہال میں علی ناشتہ کر رہا تھا۔ آج اس نے گہرے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا تھا جو اس کی شخصیت کو مزید باوقار اور کچھ حد تک خوفناک بنا رہا تھا۔
“علی! تم نے پچھلے دو دنوں سے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا،” زرینہ بیگم نے فکر مندی سے کہا۔
“امی، مجھے بھوک نہیں ہے۔ آفس میں ایک بہت بڑی میٹنگ ہے، بس وہیں نکل رہا ہوں،” علی نے سرد لہجے میں کہا اور ٹشو سے ہاتھ صاف کر کے کھڑا ہو گیا۔
وہ اپنی کالی مرسڈیز میں بیٹھ کر جب آفس پہنچا، تو پورے فلور پر سناٹا چھا گیا۔ سب جانتے تھے کہ آج “باس” کا موڈ بہت خراب ہے۔ علی اپنے کیبن میں داخل ہوا اور میز پر پڑی فائلوں کا ڈھیر دیکھ کر اس کا سر چکرانے لگا۔
ALIHAL PERFUMES کے ہیڈ آفس میں ہر ملازم فائلیں سینے سے لگائے ادھر سے ادھر بھاگ رہا تھا۔ آج کمپنی کی سالانہ اسٹریٹجک میٹنگ تھی، جہاں نئے پرفیوم ‘رحال’ کی لانچنگ اور مارکیٹنگ پلان فائنل ہونا تھا۔
آفس کے بڑے کانفرنس ہال میں کمپنی کے تمام ڈائریکٹرز، مارکیٹنگ ہیڈز اور ڈیزائنرز موجود تھے۔ لمبی میز کے سرے پر علی مصطفیٰ بیٹھا تھا۔۔۔۔
ماتھے پر پڑی شکنیں اس کی شخصیت کو انتہائی پُر رعب بنا رہی تھیں۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا تھا اور وہ بڑی اسکرین پر چلنے والی پریزنٹیشن کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
ہانیہ اسٹیج پر کھڑی نئے پرفیوم کے ڈیزائن اور اشتہاری مہم (AD Campaign) کے بارے میں بتا رہی تھی۔
“سر! ہم نے اس پرفیوم کی تھیم ‘ادھوری محبت اور دائمی خوشبو’ رکھی ہے۔ اس کی بوتل کا ڈیزائن ہم نے سنہری رکھا ہے تاکہ یہ شاہی وقار کو ظاہر کرے۔۔۔” ہانیہ نے بریفنگ جاری رکھی۔
اچانک علی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔ پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ علی نے اپنی کرسی تھوڑی آگے کی اور نہایت سرد لہجے میں پوچھا:
“مارکیٹنگ ہیڈ کہاں ہیں؟”
ایک ادھیڑ عمر شخص گھبراتے ہوئے کھڑا ہوا۔ “جی سر، میں یہاں ہوں۔”
“آپ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہم اس کی لانچنگ کسی عام ہوٹل میں کریں گے؟” علی کی آواز میں غصہ صاف چھپا ہوا تھا۔ “یہ صرف ایک پرفیوم نہیں ہے، یہ ‘رحال’ ہے۔ اس کی لانچنگ لاہور کے شاہی قلعے کے سامنے ہوگی، کھلے آسمان تلے۔ مجھے اس میں وہ وقار چاہیے جو بادشاہی مسجد کے میناروں میں ہے۔ کیا آپ کو میری بات سمجھ آ رہی ہے؟”
مارکیٹنگ ہیڈ نے جلدی سے سر ہلایا۔ “جی سر، بالکل۔ ہم انتظامات بدل دیں گے۔”۔۔۔۔
میٹنگ کے دوران ہانیہ نے ایک تجویز پیش کی جو علی کو بالکل پسند نہ آئی۔ “سر، میرا خیال ہے کہ ہمیں اس برانڈ کے لیے کسی مشہور ماڈل کو ہائر کرنا چاہیے جو اس کی تشہیر کرے۔”
علی نے اپنی فائل بند کی، جس کی آواز پورے ہال میں گونجی۔ اس نے ہانیہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “اس خوشبو کو کسی ‘چہرے’ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ احساس کی خوشبو ہے۔ اس کے اشتہار میں کوئی ماڈل نہیں ہوگی، صرف اس کی مہک اور اس کا نام ہوگا۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہر قیمتی چیز کی نمائش ضروری ہے؟ کچھ چیزیں صرف محسوس کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔”
علی کی اس بات نے سب کو خاموش کر دیا۔ وہ اس وقت ایک ایسا باس بن چکا تھا جس کی بات پتھر پر لکیر تھی۔ اس کے لیے یہ پرفیوم اب بزنس نہیں بلکہ اس کی روح کا حصہ بن چکا تھا۔۔۔۔۔
دو گھنٹے کی طویل اور تھکا دینے والی میٹنگ کے بعد جب سب لوگ باہر نکل گئے، تو علی وہیں بیٹھا رہا۔ ہانیہ فائلیں سمیٹتے ہوئے رکی۔
“علی۔۔۔ میرا مطلب ہے سر،” اس نے احتیاط سے کہا۔ “آپ اس پرفیوم کے لیے بہت زیادہ جذباتی ہو رہے ہیں۔ کیا سب کچھ ٹھیک ہے؟”
علی نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے ہانیہ کی طرف دیکھے بغیر کہا، “کچھ چیزیں سمجھنے کے لیے میڈیکل کی ڈگری یا بزنس مائنڈ نہیں چاہیے ہوتا ہانیہ، صرف دل چاہیے ہوتا ہے۔ اور میرا دل کہتا ہے کہ یہ پرفیوم میری زندگی کا سب سے بڑا شاہکار ہوگا۔”
وہ تیز قدموں سے ہال سے باہر نکل گیا۔ راہداری میں کھڑے ملازمین اسے دیکھ کر دیواروں سے لگ گئے تاکہ باس کو راستہ مل سکے۔ علی اپنے کیبن میں آیا اور شیشے کی دیوار سے باہر دیکھنے لگا۔ اس کے ذہن میں میٹنگ کے اعداد و شمار نہیں بلکہ اسلام آباد کی وہ شام گھوم رہی تھی جہاں رحال نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا۔
اس نے اپنے دراز سے وہ ‘R’ والی بوتل نکالی اور اسے میز پر رکھ دیا۔ اس کی چمک میں اسے رحال کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس پرفیوم کی لانچنگ کے بعد پورا لاہور اس نام سے واقف ہو جائے گا، مگر رحال کے لیے اس کا جو جذبہ تھا، وہ ہمیشہ ایک راز ہی رہے گا۔۔۔۔۔۔
قیسن کے گھر کا ماحول ہمیشہ سے ہی ویسا تھا جیسا وہ خود تھا—بے ترتیب اور پرشور۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور آسمان پر سرمئی بادل چھائے ہوئے تھے، جو اسلام آباد کی اس شام کو مزید پراسرار بنا رہے تھے۔ قیسن اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا مہنگا پرفیوم خود پر چھڑک رہا تھا، مگر اس کے چہرے پر وہ روایتی اطمینان نہیں تھا۔…
قیسن نے کالے رنگ کی چست جینز اور چمڑے کی جیکٹ پہنی۔ اس نے اپنے بالوں کو ایک بار پھر جیل لگا کر سیٹ کیا، مگر اس کی نظریں بار بار اپنے موبائل کی اسکرین پر جا رہی تھیں۔ رحال کا وہ دو ٹوک جواب کہ “تم علی مصطفیٰ نہیں ہو سکتے” اس کے کانوں میں کسی ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا۔
اس نے غصے سے اپنی بائیک کی چابی اٹھائی اور کمرے سے باہر نکلا۔ لاؤنج میں اس کے والد کسی بزنس میگزین میں غرق تھے، انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“قیسن! اتنی رات گئے کہاں جا رہے ہو؟…
بس ڈیڈ ذرا دوستوں سے ملنے جا رہا ہوں،” قیسن نے لاپروائی سے جواب دیا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
اس کے اندر ایک عجیب سی آگ لگی تھی جسے بجھانے کے لیے اسے اپنے کسی ہم پیالہ دوست کی ضرورت تھی۔
باہر نکلتے ہی اس نے اپنی بھاری بائیک (Heavy Bike) اسٹارٹ کی اور انجن کا شور خاموش گلیوں میں گونجنے لگا۔ وہ سڑکوں پر تیزی سے بائیک دوڑا رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، مگر اس کے دماغ میں چلنے والا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اسلام آباد کی کشادہ سڑکیں لائٹوں سے جگمگا رہی تھیں۔ وہ ایف سیون (F-7) کے ایک مشہور کیفے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں اس کا دوست حمزہ اس کا انتظار کر رہا تھا۔ قیسن کے ذہن میں بار بار علی مصطفیٰ کا وہ پُر رعب چہرہ اور رحال کی وہ تیکھی نظریں آ رہی تھیں۔ وہ خود سے لڑ رہا تھا کہ آخر اس میں ایسی کیا کمی ہے جو رحال اسے گھاس نہیں ڈالتی۔۔۔۔۔
وہ کیفے کے باہر پہنچا جہاں حمزہ پہلے سے ایک میز پر بیٹھا سگریٹ کے مرغولے اڑا رہا تھا۔ قیسن نے جھٹکے سے بائیک روکی اور غصے میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“اوہ ہو! کیا بات ہے قیسن میاں؟ آج تو لگ رہا ہے جیسے پورے شہر کو آگ لگا دو گے،” حمزہ نے اس کی حالت دیکھ کر طنزیہ پوچھا۔
“آگ تو لگی ہوئی ہے حمزہ، بس جلنے والا میں اکیلا ہوں،” قیسن نے کرسی پیچھے گھسیٹتے ہوئے کہا۔ “تمہیں پتا ہے، وہ لڑکی (رحال) اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہے؟ اس کا وہ لاہور والا کزن کیا آگیا، اس نے تو مجھے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا ہے۔”
حمزہ ہنسا، “یار قیسن، تم بھی ایک لڑکی کے پیچھے اپنی جان جلا رہے ہو۔ چھوڑو اسے، اور بھی بہت ہیں۔”
میں اس کو پسند کرتا ہوں ۔۔ سن رہے ہو تم ۔۔ مجھے وہ اچھی لگتی ہے ۔۔۔ اور ۔۔ اور وہ ۔۔؟
وہ تو اس کے نام کی تسبیح پڑھ رہی ہے،” قیسن نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ “وہ سمجھتا ہے کہ وہ بہت بڑا بزنس مین ہے تو کچھ بھی کر لے گا؟ اسے نہیں پتا کہ اسلام آباد میں قیسن کا کتنا اثر ہے۔”۔۔۔۔
قیسن جب اپنے دوست سے مل کر واپس گھر پہنچا تو ہر طرف ایک عجیب سا ہو کا عالم تھا۔ اس نے اپنی بائیک کی چابی غصے میں سائیڈ ٹیبل پر پھینکی، جس کی آواز پورے خاموش کوریڈور میں گونجی۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں داخل ہوا اور پیچھے سے دروازہ بند کر لیا۔
اس نے کمرے کی بڑی لائٹ آن نہیں کی، بس کھڑکی کے پردے ایک طرف ہٹا دیے۔ باہر سے آتی ہوئی اسٹریٹ لائٹس کی مدھم اور زرد روشنی کمرے میں پھیل گئی، جو اس کے چہرے کی سختی اور پریشانی کو صاف ظاہر کر رہی تھی۔ قیسن نے اپنی لیدر جیکٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی اور خود وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس کا دماغ اس وقت ایک ایسی جنگ کا میدان بنا ہوا تھا جہاں اسے اپنی ہار صاف نظر آ رہی تھی۔
وہ چھت کو گھورتے ہوئے لیٹ گیا۔ اس کے کانوں میں بار بار رحال کی وہی بات گونج رہی تھی کہ وہ علی مصطفیٰ جیسا کبھی نہیں بن سکتا۔ قیسن کو پہلی بار یہ احساس چبھ رہا تھا کہ شاید اس نے رحال کو متاثر کرنے کی کوشش میں خود کو بہت گرا دیا ہے…
وہ علی مصطفیٰ بنے کے کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
جب کے وہ قيسن کمیار تھا ۔۔۔۔
اگر اس لڑکی نے اس کو پسند کرنا ہوا تو وہ اس کو اس کے اصل روپ میں پسند دکرے گی جیسا وہ تھا ۔۔م
وہ بیڈ سے اٹھا اور اندھیرے کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا تو کبھی کھڑکی سے باہر سنسان سڑک کو دیکھتا۔ اس کے کمرے میں ہر وہ آسائش تھی جس کی ایک امیر باپ کا بیٹا خواہش کر سکتا ہے—مہنگے گیجٹس، برانڈڈ کپڑے اور ایک پرتعیش زندگی—مگر اس کے سینے کے اندر ایک ایسا خالی پن تھا جسے اب کوئی مہنگی چیز نہیں بھر سکتی تھی۔
رات ڈھل رہی تھی، مگر قیسن کی بے چینی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ تھک کر کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ اس وقت اس کے دل میں نہ علی کے لیے نفرت تھی، نہ رحال کے لیے غصہ—صرف ایک عجیب سی تھکن تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کہاں غلط ہوا۔ ۔۔۔۔
علی مصطفیٰ کی شخصیت کا جادو اتنا زیادہ تھا کہ قیسن اس کے سامنے بالکل پھیکا پڑ گیا تھا؟
وہ پوری رات اس اندھیرے کمرے میں اپنی سوچوں سے لڑتا رہا۔ جب صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آئی، تب جا کر اس کی آنکھیں تھکن سے موندنے لگیں۔ وہ وہیں کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو گیا—ایک ایسا انسان جو دنیا کے سامنے تو بہت اکڑ دکھاتا تھا، مگر رات کی تنہائی میں خود اپنی ذات سے ہارا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نے اسلام آباد کو منور کیا، تو قیسن کی آنکھ اسی کرسی پر کھلی جہاں وہ رات بھر اپنی سوچوں سے لڑتا رہا تھا۔ اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا، مگر ذہن میں ایک عجیب سی ٹھہراؤ والی کیفیت تھی، جیسے طوفان کے بعد کی خاموشی۔
قیسن نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ آنکھیں سرخ تھیں اور چہرہ رات بھر کی بیداری کی کہانی سنا رہا تھا۔ اس نے غسل کیا اور نہایت نفاست سے سفید شرٹ اور گہرے رنگ کی پینٹ پہنی۔ آج اس نے وہ مہنگی اور شوخ جیکٹ نہیں پہنی جو وہ اکثر رحال کو متاثر کرنے کے لیے پہنتا تھا۔ اس نے بال سلیقے سے بنائے اور خاموشی سے اپنا بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آیا۔
ناشتے کی میز پر اس کی خاموشی دیکھ کر گھر والے بھی حیران تھے، مگر قیسن کا دھیان کہیں اور تھا۔ اس نے گاڑی نکالی اور خاموشی سے یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گیا۔ آج نہ اس نے بائیک دوڑائی، نہ ہی اونچی آواز میں میوزک لگایا۔ وہ بس خود کو اس آخری فیصلے کے لیے تیار کر رہا تھا جو اس کے اندر پنپ رہا تھا۔….
یونیورسٹی کے میڈیکل ونگ میں فضا ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھی۔ پروفیسر صدیقی آج ‘نفسیاتی صدمات اور انسانی رویوں’ (Psychological Trauma and Human Behavior) پر لیکچر دے رہے تھے۔ رحال ہمیشہ کی طرح پہلی صف میں بیٹھی تھی، اس کا قلم تیزی سے کاغذ پر چل رہا تھا، مگر اس کی نظریں کبھی کبھی کھڑکی سے باہر بھٹک جاتیں جہاں خزاں کے پتے گر رہے تھے۔
پروفیسر کہہ رہے تھے، “کلاس! انسان کا رویہ اس کے اندرونی کرب کا عکاس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ہم جس انسان کو سب سے زیادہ سخت سمجھتے ہیں، وہ اندر سے اتنا ہی ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔”
رحال نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ کیا علی بھی اندر سے ایسا ہی ہے؟ کیا اس کا سخت لہجہ بھی کسی درد کا پردہ ہے؟ اسی دوران اس کی نظر دور ہال کے دروازے پر پڑی جہاں سے قیسن گزر رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ آج قیسن کی چال میں وہ پرانی اکڑ نہیں تھی، وہ کچھ بوجھل سا لگ رہا تھا۔
لیکچر ختم ہونے کے بعد جب رحال لائبریری سے نکل کر پارکنگ کی طرف جا رہی تھی، تو قیسن ایک درخت کے سائے میں کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر رحال کے قدم تھم گئے۔
“رحال! کیا میں دو منٹ بات کر سکتا ہوں؟” قیسن کی آواز میں آج وہ پرانی جھنجھلاہٹ یا حکم نہیں تھا، بلکہ ایک عاجزی تھی۔
رحال نے گھڑی دیکھی اور پھر خاموشی سے اس کے قریب جا کر رک گئی۔ “کہو قیسن، کیا کہنا چاہتے ہو؟”
قیسن نے ایک لمبی سانس لی اور براہ راست رحال کی آنکھوں میں دیکھا۔ “رات بھر میں نے بہت سوچا رحال۔ میں جانتا ہوں میں نے تمہیں ہمیشہ تنگ کیا، غلط طریقے سے متاثر کرنے کی کوشش کی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ۔۔۔ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ یہ پسندیدگی صرف ایک ضد نہیں ہے، یہ میرا وہ سچ ہے جو میں نے اب تک خود سے بھی چھپایا تھا۔”….
میں قيسن کمیار اپنے موم ڈیڈ کو تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں تمھارا رشتہِ مانگنے کے لیے ۔۔۔
رحال خاموش رہی، اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔ اس نے سکون سے پوچھا، “پسندگی؟ قیسن، تم پسندیدگی میں کیا کر سکتے ہو؟ کیا یہ بھی تمہاری کوئی نئی مہم ہے؟”
قیسن کے لبوں پر ایک اداس مسکراہٹ آئی۔ “میں پسندیدگی میں تمہارا ساری زندگی انتظار کر سکتا ہوں رحال۔ میں وہ قیسن بن سکتا ہوں جسے دیکھ کر تمہیں شرمندگی نہ ہو، بلکہ فخر ہو۔ میں صرف تمہاری ایک ‘ہاں’ کے لیے خود کو مٹا کر دوبارہ بنا سکتا ہوں۔”
رحال نے ایک گہرا سانس لیا اور تھوڑا پیچھے ہٹ گئی۔ “قیسن، تمہارا انتظار کرنا یا خود کو بدلنا تمہارا اپنا فیصلہ ہو سکتا ہے، مگر میرا جواب وہی رہے گا۔ میرے لیے معیار کا نام علی مصطفیٰ ہے۔”
قیسن کا چہرہ فق ہو گیا، مگر رحال رکنے والی نہیں تھی۔
“تم علی مصطفیٰ کو نہیں جانتے قیسن۔ وہ شخص صرف ایک نام نہیں ہے، وہ ایک احساس ہے۔ اس کے پاس وہ وقار ہے جو تمہاری اس مہنگی گاڑی یا تمہارے اس مصنوعی رعب سے کہیں بلند ہے۔ اس کی ایک نظر میں وہ تحفظ ہے جو میں نے پوری دنیا میں کہیں نہیں پایا۔ علی جب بات کرتا ہے تو اس کے الفاظ میں سچائی ہوتی ہے، وہ دکھاوا نہیں کرتا۔ وہ ٹوٹ کر بکھر سکتا ہے مگر اپنا وقار نہیں کھوتا۔”
رحال کی آنکھوں میں علی کا ذکر کرتے ہوئے ایک خاص چمک آ گئی۔ “علی مصطفیٰ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا، قیسن۔ وہ ریگستان میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح ہے جو انسان کے پورے وجود کو سکون دے دیتا ہے۔ میں نے اس کے کردار میں وہ بلندی دیکھی ہے جو تم جیسے لوگ شاید پوری زندگی میں نہ سمجھ سکیں۔ اس لیے، میں تمہیں وہ جگہ کبھی نہیں دے سکتی جو علی کے لیے میرے دل میں مخصوص ہو چکی ہے۔”
قیسن خاموشی سے سنتا رہا۔ اسے محسوس ہوا جیسے رحال کے ہر لفظ نے اس کی انا کے قلعے کو گرا دیا ہو۔ رحال اپنی بات مکمل کر کے مڑی اور بغیر پیچھے دیکھے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ قیسن وہیں کھڑا رہا، اسے اب احساس ہوا کہ علی مصطفیٰ سے اس کا مقابلہ کبھی تھا ہی نہیں، کیونکہ علی وہ منزل تھی جسے رحال پا چکی تھی، اور قیسن صرف ایک بھٹکا ہوا مسافر تھا۔
یونیورسٹی سے واپسی کا سفر قیسن کے لیے ایسا تھا جیسے وہ اپنی ہی میت کے پیچھے چل رہا ہو۔ گاڑی کی رفتار آہستہ تھی، بالکل اس کے بجھے ہوئے دل کی طرح۔ جب وہ اپنے گھر کے عالیشان پورچ میں داخل ہوا، تو اسے وہ در و دیوار بھی اجنبی محسوس ہونے لگے۔…
قیسن جب لاؤنج میں داخل ہوا، تو اس کی والدہ اور والد صوفے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ گھر میں ٹی وی کی مدھم سی آواز آ رہی تھی، مگر قیسن کے لیے وہاں ایک ہولناک سناٹا تھا۔
“آ گئے بیٹا؟ آؤ بیٹھو، تمہارے لیے ابھی گرما گرم کافی بنواتی ہوں،” اس کی والدہ نے اسے دیکھتے ہی مامتا بھرے لہجے میں کہا۔ وہ اس کے چہرے پر پھیلی زردی دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔ “قیسن؟ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟ رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟”
قیسن کے والد نے بھی اخبار ایک طرف رکھا۔ “قیسن، میں تم سے کچھ بزنس کے سلسلے میں بات کرنا چاہ رہا تھا۔ ذرا ادھر آؤ۔”
قیسن نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں، اس کی نظریں فرش پر جمی تھیں۔ “نہیں امی۔۔۔ بس سر میں درد ہے، مجھے آرام کرنا ہے،” اس نے نہایت بوجھل آواز میں کہا۔
“ارے سنو تو سہی، تمہارے پسند کے کباب بنے ہیں،” والدہ نے اسے روکنا چاہا، مگر قیسن ان کی آواز کو پیچھے چھوڑتا ہوا تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اس وقت کسی بھی رشتے، کسی بھی آواز کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ ایک پل بھی وہاں رکا تو وہ سب کے سامنے چیخ پڑے گا۔…..
اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے پیچھے سے دروازہ بند کیا اور اس کی چٹخنی چڑھا دی۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، بس کھڑکی سے شام کی ڈھلتی ہوئی اداس روشنی اندر آ رہی تھی۔ قیسن لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ سفید شرٹ جو صبح اس نے بڑے مان سے پہنی تھی، اب اس پر شکنیں پڑ چکی تھیں۔ اس کی آنکھیں، جو کبھی شرارت سے چمکتی تھیں، اب سرخی مائل اور آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
پہلا آنسو اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر گال پر پھسلا، تو قیسن کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ آئینے میں اپنی ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سرگوشی کرنے لگا، اس کی آواز میں ایک ایسا کرب تھا جو روح کو چھلنی کر دے۔
“وہ میری کبھی نہیں ہوگی۔۔۔ کبھی نہیں،” اس نے روہانسی آواز میں خود سے کہا۔ “میں نے تو اپنا سب کچھ اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیا تھا۔ میں نے تو اسے بتایا تھا کہ میں بدل جاؤں گا، میں زندگی بھر اس کا انتظار کروں گا۔۔۔ پر اسے میرا انتظار نہیں چاہیے تھا۔”اس نے آئینے پر ہاتھ رکھا، جیسے وہ اپنے آپ کو چھونا چاہ رہا ہو۔ “اسے تو بس وہ علی مصطفیٰ نظر آتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں علی کے لیے جو عزت ہے، جو مان ہے، وہ میں اپنی پوری زندگی لٹا کر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ اسے میں کبھی نظر ہی نہیں آیا۔۔۔ میں تو بس اس کے لیے ایک بدتمیز لڑکا تھا جو اسے تنگ کرتا تھا۔”
قیسن کا سر جھک گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ “وہ اس علی مصطفیٰ کی ہے۔۔۔ وہ اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہے۔ اسے اس کے وقار کی قسمیں یاد ہیں، اسے اس کی خاموشی میں تحفظ نظر آتا ہے۔ اور میں؟ میں نے تو اپنی محبت کا تماشہ بنا دیا۔”
اس نے ایک گہری سسکی لی۔ “میں ہار گیا قیسن۔۔۔ تم ہار گئے ہو۔ تم نے ایک ایسی لڑکی سے دل لگایا جس کا دل پہلے ہی کسی اور کی جاگیر بن چکا تھا۔ وہ علی مصطفیٰ کا معیار اتنا بلند ہے کہ میں جتنا بھی اوپر اٹھوں، اس کے قدموں تک نہیں پہنچ سکتا۔”
کمرے میں صرف قیسن کے رونے کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ شخص جو پورے شہر میں اپنی اکڑ کے لیے مشہور تھا، آج ایک لڑکی کی بے رخی اور دوسرے مرد کے وقار کے سامنے اپنی ہستی مٹا بیٹھا تھا۔ رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا اور قیسن اسی آئینے کے سامنے بیٹھا اپنی قسمت پر ماتم کر رہا تھا، کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ کچھ جنگیں لڑنے سے پہلے ہی ہاری جا چکی ہوتی ہیں۔……
جاری ہے۔۔۔
