Pressure and comparison on GEN-Z
By Meerab Malik
تمہید
آج کی ابھرتی ہوئی نوجوان نسل ہے جو جدید دنیا سوشل میڈیا ، ٹیکنالوجی اور نئی سوچ کا ساتھ پروان چڑ رہی ہے Gen -Z طلباء آج کی جدید نسل ہے جو ہر جگہ آپکو ہائی لائٹڈ نظر آئے گی Gen -Z کو پڑھائی اور مستقبل کے بارے میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور اایک اہم بات :-
والدین بچوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس پوائنٹ پر سب بگڑ جاتا ہے میں یہ لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی بٹ مجھے یہ کرنا پڑے گا جو ہے
“Toxic parents”
طلباء جب اسکول کے کام ، گھر کے مسائل معاشرے کے توقعات ، اور ٹاکسک رشتے داروں کی باتیں ان سب سے ڈیل کر رہے ہوتے ہیں اور جب ان مسائل سے سکون حاصل کرنے کے پاس والدین کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان کو اور زیادہ ڈانٹ دیتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ اپنا والدین سے دوری حاصل کر لیتے ہیں جس سے ان کے ذہن پر اچھا خاصا فرق پڑتا ہے اور ان کی زندگی کا ہا ف سے زیادہ حصہ خراب ہوجاتا ھے اور وہ جتنا مرضی کامیاب ہو جائیں وہ کبھی اپنی باتیں نہی شیئر کر پائیں گیں اور اور آہستہ آہستہ ان کو اندر سا کھوکھلا کر دیتا ہے
:-تعلیمی دباؤ
کچھ والدین چاہتے کے ان کا بچہ ہر مضمون میں زیادہ نمبر لے یہ غلط بات نہیں لیکن دباؤ ڈالنا غلط ہے اکثر والدین چاہتے ہے کے ان کا بیٹا ڈاکٹر یا انجینئر بنے چاہے بچے کی اُس میں دلچسپی ہو یا نہ ہو جس کی وجہ سے وہ دباؤ اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں اور آگے جا کر انہیں پڑنے میں بھی مشکلات آتی ہے اور وہ صحیح سے پر نہیں پاتے
اایک اور مسئلہ بچوں کا موازنہ کرنا ہے کُچھ والدین اپنے بچوں کا موازنہ کزنز يا کلاس میٹ سے کرتے ہیں
کے دیکھو “وہ تم سے بہتر ہے” کاش تم ہماری اولاد نہ ہوتی یہ وہ غصے میں بول تو دیتے ہیں لیکن یہ بچوں کو کتنا ہارٹ کرتی ہے بار بار موازنہ کرنا بچے کو کم اعتماد کر دیتا ہے اور وہ خود کو ناکافی محسوس کرتا ہے
آج کل نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے اور ان کے جذبات کو سمجھا جائے۔ وہ اپنے والدین سے دوستوں کی طرح بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن اکثر والدین پرانے طریقوں سے سوچتے ہیں۔ وہ موبائل، سوشل میڈیا اور نئے خیالات کو غلط سمجھ لیتے ہیں۔ اس وجہ سے نوجوان خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں اور اپنی بات دل میں رکھ لیتے ہیں۔ یہی نسلی فرق گھر میں فاصلے اور غلط فہمیوں کو پیدا کرتا ہے
اختتامیہ
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ دباؤ اور مسلسل موازنہ جنریشن زی کے طلبہ کی ذہنی صحت، اعتماد اور خوشی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ آج کے نوجوان صرف کامیابی ہی نہیں بلکہ سمجھ اور حوصلہ افزائی بھی چاہتے ہیں۔ جب والدین بچوں کی بات سنے بغیر صرف توقعات مسلط کرتے ہیں تو بچے خود کو اکیلا اور غیر اہم محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل سختی نہیں بلکہ بہتر بات چیت، اعتماد اور باہمی احترام میں ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کی صلاحیتوں اور احساسات کو سمجھیں تو گھر کا ماحول مثبت اور پُرسکون بن سکتا ہے، جہاں بچے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی کے فیصلے کر سکیں۔
