Qasas by Rida Fatima episode : 10…

قصاص قسط نمبر:10

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

یہ شدید تھکا ہوا دن گزرا تھا ۔۔ موسم ٹھنڈا تھا لیکن اج ہیر کی طبیعت بوجھل تھی ۔۔
یہ ان کی میتھ کی کلاس سے کچھ وقت پہلے کا منظر تھا وہ یونی کی لائبریری میں بیٹھی تھی ۔۔۔
جب کوئی اس کے پاس ایا تھا ۔۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو افق تھا ۔۔
پروفیسر اپ یہاں ؟
کیوں میں یہاں نہیں ہو سکتا ۔۔۔
نہیں میں نے ایسا کب کہا ۔۔
اپ نے نہیں کہا مجھے لگا ایسا کہنا چاہتی ہیں اپ ..
نہیں میں ایسا نہیں کہنا چاہتی۔۔۔
چلیں یہ تو اچھی بات ہے ۔۔ ویسے پوچھ سکتا ہوں اپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں ۔۔؟
ابھی کچھ دیر میں کلاس شروع ہونے والی ہے نہ اپ کی ۔۔
جی پتہ ہے مجھے۔۔!!!
پتہ ہے تو یہاں کیوں بیٹھی ہیں ۔۔؟
بس ایسے ہی ۔۔
اچھا تو ہیر اپ نے اسئنمنٹ پورا کیا ہے۔۔؟
ن۔۔و ۔ہیر اٹکی ۔کل قاسم کے چکر میں وہ
اسسائنمنٹ کو تو بھول ہی گئی تھی ۔۔
نہیں کیا ؟ افق نے اس کی انکھوں کو با غور دکھتے
ہوئے کہا تھا ۔۔ ہیر نے نفی میں گردن ہلا دی ۔۔
کیوں نہیں کیا ؟وہ اب ذرا آگے ہوا تھا اور ٹیبل پر ہاتھ رکھے تھے ۔۔
و۔۔ وہ گھر میں کچھ رشتے دار ائے تھے ۔۔ اس لیے نہیں کر سکی ۔۔۔
تو اب اپ کو پتہ ہے 10 منٹ میں میری کلاس شروع ہونے والی ہے ۔۔ جب اسئنمنٹ چیک کروں گا۔۔ تو آپ نے نہیں کیا ہو گا ۔۔
اور اس لیے آپ کو کلاس میں ڈانٹ بھی پڑ سکتی ہے اپ جانتی ہیں نہ ۔۔۔؟
و۔۔وہ سوری پروفیسر ۔۔ہیر شرمندہ ہوئی تھی
افق نے کچھ دیر اس کو دیکھا ۔۔
ہیر اس کی نظروں سے اوجھل ہونا چاہتی تھی لیکن وہ یہ نہیں کر سکتی تھی ۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔ ایک وقفے کے بعد اس نے افق کو کہتے سونا تھا ۔۔
کیا ۔۔؟
میں نے کہا کوئی بات نہیں ۔۔اب چلیں ۔۔
کہاں ؟
کلاس میں اور کہاں ۔۔
افق اٹھتے ہوئے بولا تو ہیر خاموشی سے کھڑی ہو گئی وہ ابھی لائبریری سے نکل ہی رہے تھے جب اس کو زر مان اور رخسار نظر اگئی ۔۔ حیات اج نہیں ائی تھی ۔۔۔ ۔
پھر وہ بنا کیسی بات کے ساتھ ہی باہر نکلے تھے
اور کچھ دیر میں ان کی کلاس شروع ہو گئی ۔۔

افق کلاس میں کھڑا سب کے اسسائنمنٹ چیک کر
رہا تھا ۔۔ ہیر کی باری ائی تو افق نے بس اُس کو دیکھا ۔۔
اپ رہنے دیں ہیر ۔۔ اپ کا اسئنمنٹ میں کلاس
کے بعد چیک کروں گا ۔۔۔ مجھے پتہ ہے اپ نے کیا ہو گا ۔۔
ساری کلاس نے ہیر کی طرف دیکھا تھا خود زر مان بھی حیران ہوا تھا ۔۔
لیکن ہیر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اس کو کلاس کے اگے شرمندہ ہونے سے کیوں بچا رہا تھا
رخسار قریب ہوئی اور ہیر کے کان میں بولی
یہ کیا چکر ہے ۔۔؟یہ کلاس میں چیک کیوں نہیں
کر رہے تیرا سائنمنٹ ۔۔
اُن کو پتہ ہے میں نے نہیں کیا اس لیے ۔۔ہیر نے سچ بتایا تو رخسار کا موں کھول گیا ۔۔
کیا۔۔۔۔ تو انہوں نے تُجھے کلاس سے باہر کیوں
نہیں نکلا ۔۔۔؟
مجھے نہیں پتہ۔۔۔
میں بول رہی ہوں یہ پروفیسر تُجھے پسند کرتا ہے
رخسار نے کہا تو ہیر نے اس کو گھورا ۔۔
فٹے حل دماغ خراب ہے کیا ۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے موں بند کر اب ۔۔۔
رخسار خاموش ہو گئی تھی ۔۔ پیچھے بیٹھے زرمان کو
اواز نہیں گئی تھی اگر زرمان رخسار کی بات سن
لیتا تو پھر بے چین ہی رہتا ۔۔۔
کلاس ختم ہوئی اور ہیر کو افق نے اپنے افس میں
بولا لیا ۔۔
ہیر اندر داخل ہوئی افق کھڑکی کے پاس کھڑا نیچے
جھانک رہا تھا ۔۔
جی پروفیسر آ پ نے بلایا ۔۔
جی میں نے بلایا ہے بیٹھیں ۔۔ افق نے چیئر کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے
وہاں پر بیٹھ گئی ۔۔
افق اب اس کے سامنے اپنی چیر کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔
ہیر آ پ کو اج کا اسائنمت سمجھ اگیا یا نہیں ۔۔
افق نے پوچھنا مناسب سمجھا
افق نے اج کچھ زیادہ تفصیل سے سمجھایا تھا
کے ہیر کو سمجھ آ سکے ۔۔ اور یہی ہوا تھا ۔۔ ہیر کو سمجھ آگئی تھی اج کے اسسائنمنٹ کی ۔۔
جی سر اگیا تھا سمجھ ۔۔ ہیر نے کہا اور پھر جلدی سے بولی ۔۔
میں جاؤں اب ۔۔ ؟
روکیں کیا ہو گیا ہے ۔۔ !!! افق نے کہا تو ہیر خاموش ہو گئی ۔۔
پھر دماغ میں ایا تو فورا سے سوال پوچھ لیا
آ پ نے آ ج کلاس میں جھوٹ کیوں بولا کہ میں نے اسسائنمنٹ کیا ہے اور میں اپ کو افس میں ا کر چیک کرواؤں ۔۔۔؟
بس ایسے ہی ۔۔”
ایسے ہی کیوں ۔۔؟ یہ غلط ہے اپ اس طرح نہیں کر سکتے ۔۔ پوری کلاس نے مجھے دکھا تھا ۔۔ اور میری دوست نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔۔
کیا کیا سوچ رہی تھی ۔۔؟افق اب اس کو دیکھے ہوئے بڑی دلچسپی سے بولا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔ ہیر نے جلدی سے کہا ۔۔۔میں بس
اپ سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ پلیز دوبارہ اس طرح نہ کیجئے گا میں نے اگر اسسائنمنٹ نہ کیا ہو تو بے شک مجھے کلاس سے باہر نکال دیں لیکن اس طرح سے دوبارہ نہیں کیجئے گا۔۔اس وقت پوری کلاس کو یہی لگ رہا ہوگا اپ مجھے سپیشل ٹریٹمنٹ دے رہے ہیں
جبکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے پتہ نہیں کیا سوچ رہی ہوگی کلاس ۔۔۔
جو سوچتی ہے سوچنے دیں ۔۔ لوگوں کا کام ہی سوچنا ہے ۔۔”
لیکن یہ غلط ہے میں نہیں چاہتی کوئی بھی کچھ غلط
سوچے اپ کے اور میرے بارے میں ۔۔ہیر اب کی بار جھنجھلا سی گئی تھی
اچھا ٹھیک ہے ۔۔دوبارہ نہیں کروں گا ایسے ”
میں بس اپ کی مدد کرنا چاہتا تھا اور کچھ نہیں
افق نے کہا تو ہیر خاموش ہو گئی ۔۔
پھر کچھ لمحے خاموشی کے حوالے ہوئے ۔۔ اور پھر ہیر بولی ۔۔۔ اب میں جاؤں ؟
افق نے کچھ دیر اس کو دیکھا ۔۔ ایک لمبا سانس لیا ۔۔ جی جائیں ۔۔۔ “
شکریہ ۔۔ وہ کہتی اُٹھ گئی ۔۔
وہ چلی گئی افق اب اپنی چیر پر بیٹھا پیچھے کو ٹیک لگائے چھت کو دیکھ رہا تھا ۔۔ اور پھر وہ خود ہی مسکرا دیا ۔۔
افق مصطفی۔۔ لگتا ہے اب اگلی کہانی تیری اپنی
زندگی پر لکھنی پڑے گی
خاموشی میں افق کی اواز گونجی وہ خود سے ہی کہہ رہا تھا ۔۔

وہ گھر میں داخل ہونے والی تھی جب اس کو
باہر ایک گلدستہ زمین پر پڑا ملا تھا ۔۔
ہیر کو سمجھ نہیں آئی کے اس کو اٹھا لے یا رہنے
دے ۔۔ لیکن ہیر نے وہ گلدستہ اٹھا لیا ۔وہ کوئی
پھولوں کا گلدستہ نہیں تھا بلکہ چاکلیٹس سے
بھرا گلدستہ تھا ۔۔۔ گلدستے پر ایک کارڈ تھا ۔۔ اس نے وہ کھولا ۔۔
دس از فور ہیر خان ۔۔ مائی لو مائی سویٹ ہارٹ
ہیر اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی بت کی طرح ۔۔
یہ کیا مذاق تھا ۔۔اور اگر یہ مذاق تھا تو نہایت ہی
گھٹیا مذاق تھا ۔۔ ہیر نے گلدستہ پکڑے اپنے قدم
باہر کی طرف گھما دیے ۔۔
باہر گیٹ پر گارڈ کھڑا تھا ۔۔
انکل یہ کس نے رکھے ہیں یہاں پر ۔۔
میں نہیں جانتا بیٹی ۔۔ ایک 10 12 سال کا بچہ دے کے گیا تھا ۔۔ کہہ رہا تھا ہیر اپی کے لیے ہیں ۔۔ مجھے نہیں پتہ بیٹی ۔۔
ہیر اب کی بار شدید پریشان ہوئی تھی اگر یہ گلدستہ اس کے گھر والوں میں سے کوئی دیکھ لیتا تو وہ اچھے طریقے سے جانتی تھی اس کے ساتھ کیا ہونا تھا ۔۔۔
ہیر نے وہ گلدستہ اندر لے کے جانے کی غلطی نہیں کی تھی ۔۔ اُس نے وہ گلدستہ گارڈ کو دیا ۔۔
انکل اس کو کہیں پھینک دینا ہمارے گھر سے بہت دور ٹھیک ہے نہ ۔۔۔
جی بیٹا ٹھیک ہے گارڈ بولا تو ہیر کا دل ہلکا ہوا اور پھر وہ خاموشی سے اندر داخل ہو گئی ۔۔
البتہ گلدستہ اس نے پھینک دیا تھا لیکن وہ کارڈ اس نے اپنے پاس ہی رکھا تھا ۔۔
وہ اندر داخل ہوئی بنا کسی سے بات کیے وہ
سیدھی اپنے کمرے میں ہی ائی تھی ۔۔۔ ریحان گھر پر تھا دلاور اور کامران خان کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔۔۔
کمرے میں آ کر ہیر نے اپنی چادر اتار کر اپنے بیڈ پر رکھی اور اپنے بالوں کو جوڑے کی قید سے ازاد کیا ۔۔ ہاتھ میں پکڑا کارڈ اس نے اپنی سٹڈی
ٹیبل کے اوپر رکھا۔۔ اب دماغ میں گونج رہا تھا کہ یہ کارڈ بھیجا کس نے تھا وہ گلدستہ بھیجا کس نے تھا لیکن جواب نہیں مل رہا تھا ۔۔۔
کیا یہ قاسم کا کام تھا ۔۔؟
یہ پھر زر مان ۔۔؟
یہ پھر ۔۔۔ افق مصطفی ۔۔۔؟
ان تینوں کا خیال اس کے دماغ میں تھا ۔۔
اس نے زر مان کو میسج کیا ۔۔ جس کا جواب زرمان نے فورا ہی دیا تھا ۔۔
جی کہیں ۔۔۔ کیا ہوا ہے ۔۔۔؟زرمان کے جواب ملنے پر ہیر نے اس کو بس اتنی ہی بات پوچھی تھی تم نے میرے گھر کوئی چیز بھیجی تھی کیا میرے لیے یا کسی کے بھی لیے ۔۔۔؟
ارے کیا ہو گیا ہے ۔۔ میرا دماغ خراب نہیں ہوا ہیر کے میں اپ کو بھی مشکل میں ڈالوں اور خود کو بھی ۔۔ میں بھلا کیوں اپ کو کوئی بھی چیز بھیجوں گا اپ نے اپنے بھائی کی شکل نہیں دیکھی کیا نام ہے ان کا دلاور خان ۔۔ ایسے گھور کے دیکھتے ہیں ایسا لگتا ہے روح تک جھانک رہے ہیں ۔۔۔ میں ان کے ہوتے ہوئے ایسا کچھ کیوں بھیجوں گا ۔۔ اور ہیر میں
اپ کو ایسا ویسا لڑکا لگتا ہوں کیا ۔۔ اتنا لمبا میسج
زر مان نے سینڈ کیا تھا اور ہیر کا شک زر مان سے تو غائب ہو گیا تھا ۔۔ کیوں کے زرمان
ایسا نہیں کر سکتا تھا ۔۔ وہ جانتی تھی ۔۔
یقیناً یہ کام قاسم یہ پھر افق میں سے کسی کا تھا ۔۔۔
اب ہیر کے دماغ میں تھا ۔۔ کے صبح یونیرسٹی جا کر خود افق سے پوچھے گی ۔۔ وہ ویسے ہی مشکوک لگتا تھا اور قاسم سے تو وہ کچھ پوچھ ہی نہیں سکتی تھی فون نمبر ہی نہیں تھا ۔۔ اور گھر میں کسی کو کچھ بتا نہیں سکتی تھی ۔۔۔ یہ مصیبت اس کے گلے پڑ گئی تھی اور اس کا حل خود ڈھونڈنا تھا ہیر کو ۔۔۔ تب ہی اس کی امی کمرے میں داخل ہوئی اس نے اپنی پریشانی چھپائی ؟
ہیر ایک دم کمرے میں اگئی ہو کچھ ہوا ہے کیا ۔۔
نہیں اماں سر درد کر رہا ہے ہمارا ۔۔۔ بس اس لیے ہی اگئی تھی وہ پشتو میں بولی ہیر کی امی نے اس کو دیکھا ۔۔ خیال رکھا کرو نہ اپنا ۔۔ میں کھانا لے کے اتی ہوں کھا کے ارام کر لو
نہیں اماں ابھی بھوک نہیں ہے رہنے دو جب لگے۔ گی تو کھا لو گی خود ہی ۔۔
بھوک تو ویسے ہی ہوا ہو گئی تھی کھانا کھانے کا تو اب دل ہی نہیں تھا ۔۔۔

یوسف نے اج ہی ڈیوٹی جوائن کی تھی وہ اس وقت اپنے افس میں ہی بیٹھا تھا یونیفرم پہنے ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے ۔۔
جب اچانک شور کی اواز سنائی دی تھی یوسف اٹھ کر اپنے افس سے باہر نکلا تو کوئی آدمی اندر انے کی کوشش کر رہا تھا ایک کانسٹیبل نے روک کے رکھا تھا ۔۔
یوسف اس تک ایا یہ کون ہے ۔۔ ؟اس نے پوچھا تو کانسٹیبل بولا ۔۔ سر یہ آ پ کے پاس انے کی کوشش کر رہا تھا اندر آفس میں ۔۔اس کو میں کہہ رہا تھا تھوڑا انتظا رکر لے ابھی بریک ٹائم ہے لیکن اس نے نہیں سنی اور زور ازمائی کرنے لگا ۔۔
یوسف نے اس آ دمی کو دیکھا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھی ۔۔ یوسف نے کانسٹیبل کو دیکھا ۔۔ ان کو آ نے دو اندر ۔۔
یوسف نے کہتے ہوئے قدم گھما دیے اور واپس افس میں آگیا وہ ادمی بھی اس کے پیچھے ہی آ یا تھا ۔۔
یوسف اب چیر پر بیٹھا اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔ سنجیدہ ۔۔
پرسکون ۔۔ جی کہیں کیا مسئلہ ہے ؟یوسف نے پوچھا
تو وہ ادمی پھٹ پڑا ۔۔ میری بیٹی سکول گئی تھی ۔۔ چھوٹی کے وقت جب میں اُس کی لینے گیا تو وہ وہاں تھی ہی نہیں ۔۔ گارڈ سے پوچھا اُس نے کہا کہ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ ہی سکول سے نکلی ہے جب کے وہ خود اکیلی گھر نہیں آ تی ۔۔ ہمیشہ میں یہ اُس کی ماں جا کے اُس کو سکول سے لے کے اتے ہیں۔۔
نام کیا ہے آ پ کی بیٹی کا ۔۔ یوسف کی سنجیدگی میں اضافہ ہوا
مناہل نام ہے ۔۔۔
عمر ۔۔۔؟ یوسف نے اگلا سوال پوچھا ۔۔
عمر 8 سال ہے ۔۔
کوئی تصویر ہے اُس کی آ پ کے پاس ۔۔ ؟
ادمی نے اپنی بیٹی کی تصویر دکھائی ۔۔۔۔ مجھے
سینڈ کر دیں یہ ۔۔ یوسف نے کہا ۔۔ تو تصویر سینڈ کرتے ہوئے اس ادمی نے یوسف کو دیکھا ۔۔
سر کب تک ڈھونڈ دے گے میری بیٹی کو
میری اکلوتی بیٹی ہے بہت دعاؤں سے ملی ہے سر ۔۔ خدا کا واسطہ اُس کو ڈھونڈ دیں وہ ادمی اب یوسف کے اگے ہاتھ چھوڑتا رو پڑا تو یوسف نے اس کے ہاتھ پکڑے ۔۔ یہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
انشاءاللہ اگلے 24 گھنٹوں میں ڈھونڈ کے دوں گا
آ پ کی بیٹی ۔۔۔
آف آئی ار لکھ لی گئی تھی اور یوسف اب اور
تفصیلات لے رہا تھا ۔۔
آ پ کو شک ہے کیسی پر کوئی ایسا کر سکتا ہے ۔۔؟
نہیں کیسی پر شک نہیں ہے مجھے کوئی مجھ جیسے غریب کی بیٹی کو کیوں پکڑنا چاہے گا ۔۔۔
چلیں ہم پتہ لگوا لیں گے اب آپ جائیں ضرورت پڑی تو اپ کو بولا لے گے ۔۔ یوسف نے کہا تو وہ
آ دمی چلا گیا ۔۔
یوسف نے یاسر کو بلایا ۔۔ جو تھانے میں نہ
جانے کس کی چھمری ادھیڑ رہا تھا ۔۔ وہ اندر آ یا اُس کی سانس بھولی ہوئی تھی
جی سر کہیں ۔۔۔ یاسر آ تے ہی بولا تو یوسف نے اس کو دیکھا ۔۔ پانی کا گلاس اس کے آ گے کیا ۔۔ بیٹھ جا بھائی پانی پی پھر بتاتا ہوں
یاسر بیٹھا اس نے پانی پیا یوسف نے اپنی بات
شروع کی ۔۔۔
یاسر ۔۔ اس بچی کے سکول میں جا ۔۔ یوسف نے سکول کا نام بتایا ۔۔ اور جا کے پتہ لگا کے بچی کس وقت نکلی تھی ۔۔ اور اس کے گارڈ کو تو اٹھا کے لے آ اُس کو تو میں خود سیدھا کروں گا ۔۔
یوسف نے کہا تو یاسر نے بچی کی تصویر یاسر نے اپنے فون میں کی اور باہر کی طرف نکل گیا ۔۔۔
یوسف کو اب انتظار تھا یاسر کے واپس آنے کا ۔۔۔

زر مان اپنی ماں کے سامنے کھڑا تھا ۔۔ اج تم نے افس نہیں جانا کیا ۔۔؟
نہیں امی اج نہیں جانا ۔۔۔
کیوں ؟
بس ایسے ہی امی اج دل نہیں ہے ۔ زر مان اُلجھا ہوا تھا
کیا ہوا ہے زر مان !
ہیر نے مجھے میسیج کیا تھا کہ رہی تھی میں نے ان کے گھر کچھ بھجا ہے ۔۔ میں نے کہا نہیں ۔۔
امی وہ پریشان لگ رہی تھی
کچھ نہیں ہوتا زر مان ۔۔ اللہ خیر کرے گا ۔۔
وہ تو پتہ ہے امی ۔۔ بس وہی بات سوچ رہا تھا میں ۔۔ اور اج میرے سر میں درد ہے بس اس لیے نہیں جانا مجھے ۔۔۔ ۔
اچھا تم ارام کرو ۔۔ میں ذرا کچن میں جا رہی ہوں ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ زر مان نے گردن ہلا دی تو ماں کچن
میں اگئی ۔۔۔

رخسار کے فون کی بیل بجی ۔۔ لیکن فون شاہان نے اٹھایا تھا ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔
دوسری طرف شاہا ن کی اواز سن کر ریحان
حیران ہوا تھا ۔۔۔
ہیلو کون ہے ۔۔۔ شاہان نے دوبارہ کہا تھا ۔۔۔
لیکن فون بند کر دیا گیا تھا ۔۔۔
رخسار جو کچن میں تھی اس کو تو خبر ہی نہیں ہوئی
کے فون کس کا تھا ۔۔ شاہان نے فون پکڑا اور جا کر اپنی بہن کو دیا ۔۔
یہ لے کیسی کا فون ا رہا تھا تمھارے فون پر ۔۔۔
رخسار نے فون۔ پکڑا ۔۔ تو نے فون اٹھایا تھا ۔۔۔؟
رخسار نے فون اب ڈائننگ ٹیبل پر رکھا تھا
ہاں تو اور ۔۔۔ شاہان نے بری آسانی سے کہا۔۔۔
میرا فون میری اجازت کے بنا کیسے اٹھایا تو نے
رخسار اب اس کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔
ایسے اٹھایا ۔۔۔۔ شاہان نے رخسار کا فون ایک بار پھر اٹھایا ۔۔ رخسار اس کو دیکھ کر رہ گئی
نکل کچن سے ۔۔
او میڈم یہ میرا بھی گھر ہے ۔۔۔شاہان نے بولتے ہوئے اس کے بالوں سے پونی اتر دی بال آزاد ہو گئے اور شاہان اپنے کمرے کی طرف بھاگا تھا اور رخسار اس کے پیچھے ۔۔

یاسر اس وقت سکول کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔
گارڈ کو بچی کی تصویر دکھائی اور اپنے ساتھ جانے کا کہا تو گارڈ کے چہرے کے رنگ ہوا ہو گئے ۔۔۔ لیکن مجھے کیوں لے کے جا رہے ہیں اپ
پولس اسٹیشن ؟
کیوں کے آ پ کے فادر صاحب نے آپ کو یاد
ہے یاسر کے کہنے پر گارڈ حیران ہوا
کون فادر؟
اے ایس پی یوسف ملک ۔۔۔
یوسف کا نام سن کے گارڈ کے چہرے پر جو رنگ تھے وہ بھی ہوا ہو گئے ۔۔ اُس کو کون نہیں جانتا تھا وہ اکثر خبروں میں نظر آتا تھا ۔۔۔ یہ کیس یوسف صاحب سولو کر رہے ہیں
جی وہی کر رہے ہیں ۔۔ اس لیے بہتر ہے کہ چلیں
نہیں تو مجھے بالوں سے پکڑ کے بھی لے کے جانا
آ تا ہے ۔۔
یاسر بولا تو گارڈ خاموشی سے اس کے آ گے
چل پڑا اس سے پہلے کے یاسر گاڑی کا دروازہ کھولتا اور اس کو بیٹھنے کے لئے کہتا گارڈ نے دوڑ لگا دی تھی یاسر نے اپنی گاڑی چوڑی اور اس کے پیچھے بھاگنے لگا ۔۔
گارڈ روک ہی نہیں رہا تھا ۔۔ بس بھاگ رہا تھا ۔۔
وہ جانتا تھا اگر وہ پکڑا گیا تو یوسف اس کو نہیں
چھوڑے گا ۔۔۔
یاسر اس کے پیچھے تھا کبھی ایک گلی میں جاتا تو کبھی دوسری گلی سے نکلتا ۔۔ کبھی دوسری سے تیسری میں ۔۔
اور پھر ۔۔ گارڈ ایک گلی میں داخل ہو گیا ۔۔
جو بند تھی ۔۔
یاسر نے اس کو دیکھا ۔۔ اب کہیں اور بھاگنا ہے
کُتے کمینے ۔۔۔ یاسر اس کو گریبان سے پکڑتا بولا ۔۔
چل تُجھے تو سر خود سیدھا کریں گے ۔۔
تیری موت ہی لکھی ہے ۔۔کمینہ ۔۔ یاسر نے ایک زور دار تھپڑ اس کے موں پر مارا تھا یاسر کی اُنگلیاں چھپ گئی تھی اُس کے چہرے پر ۔۔
اور پھر یاسر اس کو گھسیٹتا ہوا اپنی گاڑی تک لے
کے آ یا تھا اور گارڈ بس بار بار بول رہا تھا
صاحب معاف کر دو غلطی ہو گئی ۔۔ دوبارہ ایسا
نہیں ہو گا معاف کر دو ۔۔۔ لیکن یاسر کچھ نہیں بولا اور گاڑی کو پوری رفتار سے لے گیا ۔۔۔۔
یاسر جب پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا تو یوسف
افس میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا یاسر نے سامنے لا کے گارڈ کو کھڑا کیا ۔۔
سر یہ رہا گارڈ اس نے بھگنے کی کوشش بھی کی تھی
لیکن پکڑ لیا ۔۔
یاسر نے بتایا یوسف اپنی چیر سے کھڑا ہوا اور اس
تک آ یا ۔۔
ہاں جی تو اجمل صاحب اجمل نام ہے نہ ۔۔؟
ج۔۔جی سر ۔۔۔
ہاں جی تو اجمل صاحب اپ بتائیں گے بچی
کہاں پر ہے ۔۔
س۔۔ صاحب جی ۔۔ معاف کر دیں مجھے نہیں پتہ ۔۔ میں تو غریب آدمی ہوں ۔۔ میں ایسے کام نہیں کرتا ۔۔
یوسف اب کی بار اس کو دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑا تھا ۔۔ میں پاگل نظر آ تا ہوں تُجھے ۔۔۔ ؟
یوسف نے کہا تو گارڈ چُپ ہو گیا ۔۔
بتا میں پاگل نظر آ تا ہوں ۔۔ تُجھے کیا لگتا ہے میں
فارغ بیٹھا رہا تھا مجھے نہیں پتہ تو کیسا آدمی ہے ۔۔
اگر تو بھول گیا ہے تو میں بتا دیتا ہوں ۔۔ تو پہلے
بھی 3 بار جیل گیا تھا ایک بار ڈرگ کے
اڈے پر ملا تھا اور دوسری بار تو نے کسی آدمی کو
سڑک کے درمیان بری طرح مارا تھا کیسی کے کہنے پر تُجھے پیسے ملے تھے نہ ۔۔۔؟
گارڈ کے رنگ ہوا ہو رہے تھے ۔۔ اور تیسری بار تو نے ایک 15 سال کے لڑکے کو اغوا کروایا تھا کیسی کے کہنے پر ۔۔” صحیح کہہ رہا ہوں نہ میں ۔۔
سر جی میں پہلے ایسا تھا اب میں ایسا ا نہیں ہوں
میں نے یہ سب کام چھوڑ دیا ہے ۔۔ گارڈ بولا تو
یوسف ذرا آگے ہوا ۔۔
تو نے وہ کہاوت سنی ہے ۔۔ کُتے کی دوم سیدھی
نہیں ہوتی ۔۔ تو وہی کُتے کی دوم ہے ۔۔ اب بتا
بچی کو کس کے کہنے پر اغوا کروایا ہے ۔۔۔ اور
کہاں رکھا ہے ۔۔۔؟ یوسف اب کی بار دہاڑا تھا ۔۔
مجھے نہیں پتہ سر جی معاف کر دیں مجھے ۔۔
میری توبہ دوبارہ کہیں نوکری بھی کروں تو ۔۔۔
یاسر ۔۔۔ یوسف نے یاسر کو دکھا جو خاموشی سے
ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔۔ جی سر ۔۔۔ یاسر اس کو لے
کے جا اور اتنا مار اتنا مار کے خود ہی سچ بتا دے
اور اگر سچ نہ بتائے تو اس کو مار ہی دے ۔۔۔
یاسر گردن ہلاتا گارڈ کو لے گیا جو شور مچا رہا تھا ۔۔
میں نے نہیں کیا کچھ ۔۔ میں بے قصور ہوں ۔۔
میں نے کیسی بچی کو اغوا نہیں کروایا ۔۔
لیکن یاسر رکا نہیں اُس کو لے گیا ۔۔
اور کچھ دیر بعد اس گارڈ کی چیخنے کی اواز انے لگی ۔۔
یاسر اب اس کو بری طرح مارر ہا تھا ۔۔۔۔

قاسم کمرے میں کھڑا تھا ۔۔ فون کی بیل بجی تو قاسم نے فون اٹھایا ۔۔ ہیر کا فون تھا ۔۔ ہیر سے رہا نہیں گیا تو فون کر دیا ۔۔ اُس کو گلدستے کا بھی تو پتہ لگوانا تھا نمبر اُس نے اپنے بابا کے کمرے میں پڑی ایک ڈائری سے لیاتھا جس میں سب جاننے والوں کا نمبر تھا ۔۔
قاسم نے فون اٹھایا تو ہیر کی اواز گونجی ۔۔
قاسم اس کی اواز پرمسکرایا ۔۔۔
زہے نصیب ۔۔۔ اج کہاں سے خیال اگیا کے
ہمیں فون کر دیا تم نے ۔۔۔
اس کی بات پر ہیر پچھتائی تھی فون کرنے کے لیے ۔۔
نہیں بس ویسے ہی اپ سے کچھ پوچھنا تھا ۔۔
یہ تو نہیں پوچھنا کے میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں ۔۔
اس کی بات پر ہیر نے اپنا سر پکڑا تھا ۔۔
اور ہیر کا دل چاہا تھا کے وہ اُس کو گلیاں دینا شروع ہو جائے ۔۔۔ ۔
نہیں میری بات سنے ۔۔
اچھا ہاں کہو سن رہا ہوں ۔۔ اب کی بار قاسم
سنجیدہ تھا ۔۔۔
آ پ ۔۔نے کچھ بھجا تھا کیا ہمارے گھر پر ۔۔؟
قاسم حیران ہوا ۔۔نہیں تو ۔۔ کیوں ۔۔۔؟
نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔ ہیر نے بات بدلی قاسم کچھ پل کو خاموش ہوا ۔۔ پھر بولا ۔۔
کھو تو بھیج دوں کچھ تمھارے لیے۔۔۔”””””””””
کیا چاہیے ۔۔۔؟
نہیں کچھ نہیں اللہ حافظ ۔۔۔
ہیر بولی اور فون بند دکرنے لگی تو وہ جلدی سے بولا ۔۔
روکو تو اب کیوں اتنا ڈرتی ہو مجھ سے ۔۔ اب تو
شادی بھی میرے سے ہی ہونی ہے ۔۔
میں تو نہیں ڈرتی ۔۔ہیر نے بُرا موں بنایا تھا شادی
کی بات پر ۔۔
تو بات کیوں نہیں کرتی میرے سے ۔۔
ایسے ہی ۔۔۔ ہیر نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔
قاسم فون کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جو مجھے جانتے ہیں وہ
خوف کھاتے ہیں اور ایک یہ ہے جو سیدھے موں
بات بھی نہیں کرتی ۔۔ قاسم نے کہتے ہوئے فون بیڈ پر پھنکا ۔۔ اور وشروم میں چلا گیا

یوسف کے فون پر بیل بجی تو اس نے فون اٹھایا سکرین پر حیات کا نام چمکا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ ئی اس نے فون کان سے لگایاتھا ۔۔
آ پ اسلام اباد سے واپس بھی اگے اور بتایا بھی نہیں آ پ نے مجھے ۔۔۔ ‘
کیوں آ پ نے ایئرپورٹ پر لینے آنا تھا مجھے
یوسف بولا ۔۔
نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔بھلا میں کیوں لینے اؤں اپ کو ۔۔ اچھا یہ سب چھوڑیں کیسا گیا اپ کا سفر اور کیا کر رہے ہیں ۔۔۔؟
سفر اچھا گیا اور ابھی پولیس اسٹیشن میں ہوں ایک کیس کی وجہ سے ۔۔ بس اُس کو ہی سالو کرنے میں لگا ہوں ۔۔ اپ کیا کر رہی ہیں ۔۔
کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی بیٹھی ہوں
ہیر نے بتایا تھا کہ اپ اگئے ہیں واپس سوچا اپ کا حل احوال پوچھا لوں
اب آپ کیس پر دھیان دیں پھر بات ہو گی
چلیں ٹھیک ہے اللہ حافظ ۔۔ یوسف نے
مسکرا کر کہتے ہوئے فون بند کر دیا

یاسر سامنے آ یا ۔۔ سر وہ کہہ رہا ہے سچ بتائےگا۔۔ رات چھا رہی تھی یاسر کو اچھا خاصا وقت لگا تھا اُس سے سچ نکلوانے میں
اور پھر اس نے سب سچ بتا دیا ۔۔۔
وہ یوسف کےسامنے بیٹھا تھا چہرے پر تھپڑ کے
نشانات تھے اور جسم پر جگہ جگہ نیل کے نشان
صاف دکھائی دے رہے تھے
تم نے کس کے کہنے پر بچی کو اغوا کروایا ہے اور وہ کہاں پر ہے یوسف نے اس سے پوچھا تو اس نے کہنا شروع کیا۔۔
میں نے یہ کام کسی کے کہنے پر نہیں کیا میں نے
خود کیا ہے۔۔۔ سوچا تھا بچی کے گھر والوں سے
کچھ رقم نکلوا لوں گا لیکن اس سے پہلے ہی اس نے پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کر دی تھی۔۔۔
میرا ارادہ نہیں تھا بچی کو نقصان پہنچانے کا۔۔۔
اچھا جب ارادہ نہیں تھا تو اس کو اغوا کیوں کیا تم
نے۔۔۔؟
مجھے لگا تھا کہ بچی کے گھر والوں کے پاس
اچھی رقم ہوگی لیکن مجھے کیا پتہ کہ وہ خود غریب ہیں
بچی کھاتے پیتے گھر کی لگتی تھی۔۔۔۔ یوسف نے اس کو دیکھا جس کی کسی بات کا کوئی تک بنتا ہی نہیں تھا۔۔۔
تم ابھی بھی سچ نہیں بتا رہے کچھ ہے جو تم چھپا رہے ہو وہ الگ بات ہے تم بتانا نہیں چاہتے اور تم جانتے ہو نہیں بتایا تو تمہارے ساتھ کیا ہوگا یوسف بولا تو وہ ادمی اس کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
وہ اس بچی کا باپ میرے بھائی کا دوست تھا ۔۔۔
میرے بھائی نے ایک دو بار کچھ رقم اس کو دی تھی اور جب واپس کرنے کی باری ائی میرا بھائی جب اس سے وہ رقم لینے واپس گیا تو اس نے منع کر دیا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اس کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔
میرا بھائی واپس اگیا تھا کچھ دنوں بعد جب
وہ دوبارہ گیا تو اس نے پھر وہی بات کی کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اس کے حالات ٹھیک نہیں ہیں وہ خود بھوکے مر رہے ہیں۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا نا کہ وہ ہمیں ہمارا ادھار واپس نہ کرتا ۔۔
اس کی ان سب باتوں سے ہمیں یقین ہو گیا تھا
کہ وہ ہمیں ہمارے پیسے جلدی واپس نہیں کرے گا اس لیے ہم نے اس کی بچی کو اغواکرنے کا سوچا کہ جب بچی اغوا ہوگی تو یقینا بیٹی کے لیے وہ پیسے دینے کو تیار ہو جائے گا اور ہم اس سے کچھ زیادہ رقم نکلوا لیں گے۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اسے فون کرتے رقم کے لیے۔۔۔۔ وہ پولیس اسٹیشن میں اگیا اس نے کیس اپ کو دے دیا۔۔میں نہیں جانتا تھا یہ کیس اپ حل کرنے والے ہیں اور جب مجھے یاسر صاحب
نے بتایا کہ یہ کیس اپ سالو کر رہے ہیں اسی لیے میں وہاں سے بھاگا تھا کہ اگر ہم پکڑے گئے تو یقینا اپ ہمیں نہیں چھوڑیں گے میرے سے غلطی ہو گئی میں معافی مانگتا ہوں دوبارہ زندگی میں یہ
سب کچھ نہیں کروں گا گناہ سے کوسو دور رہوں گا مجھے ایک بار معاف کر دیں۔۔۔
میں اپ کو بچی کا پتہ بھی بتا دیتا ہوں کہ وہ اس وقت کہاں پر ہے۔۔۔ یوسف خاموشی سے اس کی پوری بات سن رہا تھا یوسف نے اس سے ایڈریس لیا اور پھر اس نے یاسر کو دیکھا۔۔ یاسر تم جانتے ہو نا اب تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔۔ کچھ اور پولیس اہلکاروں کو بھی ساتھ لے لو ۔۔ اور اس کو بھی ساتھ ہی لے لو

یوسف نے کہتے ہوئے ٹیبل سے اپنی گن اٹھائی اپنا فون اٹھایا اور اپنا چشمہ اٹھایا۔۔۔
اور پھر افس سے باہر نکل گیا جبکہ یاسر گارڈ کا گریبان پکڑتا اس کو بھی اپنے ساتھ لے
کر یوسف کے پیچھے ہی نکلا تھا

یاسر یوسف اور وہ گارڈ وہاں پر پہنچ چکے تھے جو جگہ
گارڈ نے بتائی تھی ارے یار یہ کھنڈر نما جگہ کون سی
ہے یہاں پر تمہارا بھائی وہ بچی کو لے کر ایا ہے یاسر نے ایک ائی برو اچکا کر گارڈ کو دیکھا تو گارڈ نے ڈرتے ہوئے یاسر اور یوسف کی جانب دیکھتے ہوئے جلدی سے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔
کہیں جھوٹ تو نہیں بول رہے تم یوسف نے کہا
نہیں نہیں صاحب جتنی مار مجھے پر چکی ہے میں کیوں جھوٹ بولو گا وہ گارڈ اپنے زخموں پر ہاتھ لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔””
اچھا چلو اچھی بات ہے کہ تم جھوٹ نہیں بول
رہے اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو تمہیں مار کر یہیں قبر کھود کے تمہیں دفنا دیں گے یوسف نے گارڈ کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر کہا ۔۔۔
چلو اب یوسف نے کہا
یوسف کو تو پہلے ہی بہت غصہ ارہا تھا
وہ تینوں ہی اندر چلے گئے۔۔۔۔
وہ کھنڈر نما عمارت کچھ زیادہ ہی بڑی تھی وہ اندر
جاتے جا رہے تھے پتھروں کو ٹھوکریں مرتے اور پھر اس سے گارڈ اجمل کا بھائی اکرم
نظر ا ہی گیا اور وہ بچی کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب کہ بچی مسلسل رو رہی تھی یوسف نے اس بچی کو دیکھا جو کہ کرسی پر بندھی ہوئی تھی اور روتے ہوئے اسے چھوڑنے کا کہہ رہی تھی اور اسے اپنے بابا کے پاس جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑ دو مجھے۔۔جانے دو۔۔
اکرم۔۔۔۔۔۔گارڈ نے جب اپنے بھائی اکرم کو
پکارا تو اکرم نے اجمل کی جانب دیکھا اور ساتھ میں پولیس کو دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
تم یہاں پہ پولیس کیوں لے کر ائے ہو
اکرم نے غصے سے اپنے بھائی کو کہا کہ وہ پولیس والوں کو یہاں پر کیوں لے کر ایا ہے۔۔۔۔۔
اکرم انہوں نے مجھے پکڑ لیا تھا دیکھو نا کتنا مارا ہے
انہوں نے مجھے مجبوکر دیا تمہارے بارے میں
بتانے کے لیے۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایک چھوٹی سی بچی کو
پکڑنے کی وہ بھی صرف پیسوں کے لیے یوسف
کا تو دل کر رہا تھا وہ سامنے کھڑے اکرم کو جان سے مار دے۔۔۔۔
یہ میرے اور اس بچی کے باپ کا لینا دینا ہے تم
لوگ بیچ میں کیوں ا رہے ہو اکرم نے بھی غصے
سے کہا تو یوسف نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا
تم اس بچی کو چھوڑو گے یا تمہاری قبر اسی عمارت میں کھود دوں یوسف نے غصے سے کہا جب کہ اکرم کا قہقہ وہاں پر گونجا تھا اس بچی کو چھڑوا سکتے ہو تو چھڑوا لو اکرم نے جیسے ہی کہا کافی زیادہ لوگ پولیس والوں کے سامنے ا کر کھڑے ہوئے تھے جو شاید ان کے ہی ادمی تھے
اور یوسف کی طرف سے محض یوسف
اور یاسر اور کچھ چند اہلکار تھے
تمہارے یہ دو ٹکے کے ادمی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔۔یوسف نے اپنی کلائی سے استین اوپر کی اور گن نکال کر ان ادمیوں کی جانب کی۔۔۔۔۔
گارڈ بھی جلدی سے ان دونوں کے پاس سے اکرم
کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا معاف کرنا
مجھے انہیں بتانا پڑا لیکن اب ان لوگوں کو چھوڑنا مت انہوں نے مجھے بہت مارا ہے گارڈ نے غصے سے یاسر اور یوسف کی جانب دیکھ کر کہا تو یاسر نے نفی میں سر ہلایا ایک تو اسے میرے ہاتھوں سے اتنی مار پڑی ہے لیکن اسے پھر بھی اثر نہیں ہوا سر جی یہ پھر اپنے بھائی کے ساتھ جا کر مل گیا ہے۔۔
مارو ان دونوں کو اکرم نے اپنے ادمیوں کو کہا تو وہ یوسف اور یاسر کی جانب بڑھے تھے جب باقی
پولیس اہلکاروں نے اپنی بندوکے تانی تھی
اور پھر ان میں ایک مقابلہ شروع ہو گیا
جب ادھے گھنٹے بعد وہاں پر صرف اکرم اور
گارڈ ہی بچا تھا جبکہ مناہل بری طرح
رو رہی تھی گولیوں کی اواز کی وجہ سے ۔۔۔
اکرم اور اکرم کا بھائی تو حیران تھے کہ اتنی جلدی
پولیس والوں نے ان کے ادمیوں کو مار دیا ہے
جب اکرم نے اپنی گن مناہل کی کنپٹی پر رکھی
اگر ہمیں کچھ کیا تو اس بچی کو مار دوں گا میں اکرم
نے ڈرتے ہوئے کہا کیونکہ اسے پتہ تھا اب اس کی
باری ہے۔۔۔۔۔
اگر تم نے اس بچی کو کچھ بھی کیا تو سر جی تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دے گے اور
وہ کُتے لے کے اؤں گا میں یاسر نے اپنی گن اپنی
ہونٹوں کے پاس کرتے ہوئے پھونک مارتے ہوئے کہا تو یوسف نے یاسر کو دیکھا ایک تو اس کی بے تکی باتیں جو ہے نا وہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔
یوسف نے اپنی پسٹل کا رخ بنا
سوچے سمجھے اکرم کی جانب کرتے اس کے ہاتھ پر
گولی چلائی تھی جن ہاتھوں سے اس نے مناہل
پر پسٹل تانی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
اکرم کے ہاتھوں سے پسٹل نیچے گری تھی
اس سے پہلے کہ اکرم وہاں سے بھاگتا یوسف نے
دو گولیاں اکرم کی ٹانگوں پر چلائی تھی اکرم دھرم سے نیچے گرا اور گارڈ بھی بھاگنے لگا جب یاسر نے گولیاں چلا کر اس کے سینے میں گولیاں اتارتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔۔
اجمل میں جان ختم ہو گئی تھی
اپنے بھائی کو مرا دیکھ کر اکرم خوف زدہ ہوتے ہوئے بولا نہیں نہیں چھوڑ دو مجھے چھوڑ دو میں اس بچی کو
چھوڑ دوں گا یوسف کو اپنے پاس اتے ہوئے دیکھ کراکرم بولا تو یوسف کو اور غصہ ایا پہلے تو بڑی باتیں کر رہے تھے اب کیا ہو گیا
مناہل کو تو ہم یہاں سے لے جائیں
گے لیکن تمہاری موت تو ہمارے ہی ہاتھوں سے ہوگی یوسف نے اپنی پسٹل
اکرم کی جانب کرتے ہوئے اس کے سینے میں گولیاں اتاری تھی وہ موقع پر ہی مر گیاتھا۔۔
یاسر اس بچی کو کھولو یوسف نے یاسر کو کہا تو یاسر نے اس بچی کو اٹھایا اور پولیس اسٹیشن لے ائے وہاں پر جا کر انہوں نے مناہل کے باپ کو کال کی کہ اس کی بیٹی مل چکی ہے۔۔۔۔۔
مناہل کا باپ تو بے حد خوش ہوا تھا وہ جلدی سے
پولیس اسٹیشن آ یا

مناہل کے باپ نے آ تے ہی مناہل کو اپنے سینے سے لگایا اور رونے لگا۔۔۔۔
یوسف صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو میری بچی مجھے
نہ مل پاتی میں اپ کا کیسے شکریہ ادا کروں مجھے سمجھ
نہیں آ رہی ۔۔ وہ روئے جا رہا تھا ۔۔۔
شکریہ کی ضرورت نہیں ہے یہ میرا کام ہے مجھے یہ کرنا ہی ہے ۔۔
اور کہا تھا نا 24 گھنٹے میں لے کے اؤں گا مناہل کو ۔۔۔
مناہل نے یوسف کو دیکھا اور مسکرا دی ۔۔
تو یوسف بھی ہنس پڑا ۔۔ پھر یوسف اپنی کرسی
سے اٹھا اور مناہل کے پاس آ کے کھڑا ہوا ۔۔
پھر وہ گھٹنوں پر بیٹھ گیا ۔۔۔ مناہل میری دعا ہے
جب کبھی میری شادی ہو نہ اور میری بیٹی ہو وہ
آپ کی طرح ہو بہادر کیسی سے نہ ڈرنے والی
یوسف نے مناہل کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا
اور کھڑا ہو گیا ۔۔ مناہل اور اس کا باپ جا چکے
تھے ۔۔۔۔

وہ سفید شرٹ اور سرمئی پینٹ پہنیں گھر کے
اندر داخل ہوا۔۔۔ بازو پر سرمئی کوٹ ڈال رکھا تھا اور شرٹ کی استینیں موڑ رکھی تھی ۔۔۔
اندر داخل ہوا سامنے اس کی ماں عالیشان لاؤنچ
میں بیٹھی تھی ۔۔۔ گھر کیسی محل سے کم نہیں لگتا
تھا ۔۔ اور گھر میں بھگتے دوڑتے نوکر ۔۔۔ وہ بس
ان دونوں کی خدمات کے لیے رکھے گئے تھے ۔۔
افق صوفے پر جا کے بیٹھا اور اپنا کورٹ ایک طرف رکھ دیا ۔۔۔
ماں نے بیٹے کے سر پر لب رکھ کر پیار دیا یہ روز کا کام تھا ۔۔
کیسا گیا اج اپ کا دن افق ۔۔۔؟
ماں نے پوچھا ۔۔ وہ ہمیشہ افق کو اپ کہہ کر مخاطب کرتی تھی
ٹھیک تھا ممی بس تھک گیا ہوں میں ۔۔
اچھا آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگواتی ہوں اپ کے لیے حرین بیگم نے کہا ۔۔
اور پھر وہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی ۔۔
خوبصورت عالیشان کچن ۔۔ جہاں خان ساما نا
جانے کیا بنا رہا تھا ۔۔
کوفتے تیار ہیں ۔۔؟ انہوں نے پوچھا ۔۔
جی بیگم صاحبہ تیار ہیں بس کھیر بنا رہا ہوں ۔۔ کباب بھی تل لیے ہیں ۔۔ اور چپاتیاں بھی تیار ہیں ۔۔
چلیں ٹھیک ہے آ پ یہ بنا کر ٹیبل تیار کر لیں افق کو بھوک لگی ہے ۔۔
جی بیگم صاحبہ ۔۔
حرین اپنی سیاہ ساڑی کا پلو سنبھالتی کچن سے باہر کی طرف نکل گئی

وہ باہر آ ئی تو افق صوفے پر نہیں تھا نا ہی اُس کا
سرمئی کوٹ وہاں پڑا تھا ۔۔۔ ماں سمجھ گئی وہ
کمرے میں گیا ہے ۔۔۔
افق کمرے میں آ یا ۔۔ فون ایک طرف اپنے بیڈ پر
پھنکا ۔۔ ہاتھ کی گھڑی اُتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ۔۔
پھر اپنی سیاہ الماری کے پاس آ یا۔ ۔۔ خوبصورت سیاہ الماری جو کمرے کی دائیں طرف کی آدھی دیوار کو گھیرے ہوئے تھی ۔۔ اُس نے الماری کا دروازہ سلائیڈ کی طرح کھسکایا اور ہنگرز پر لٹکے استری شدہ کپڑے دیکھے ۔۔ وہاں سے سفید شرٹ نکلی جس کے بازو کہنیوں سے اوپر تھے ۔۔ اور سیاہ پینٹ نکلی ۔۔
الماری بند کی اور واشروم میں چلا گیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کے باہر آ یا ہاتھوں میں تولیہ پکڑ رکھا تھا جس سے وہ بال سکھائے جا رہاتھا
پھر ائینے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔ بالوں کو
تولیے سے سکھانے کے باد اس نے بالوں میں برش یہ کنگھی کرنے کی زحمت نہیں کی ۔۔ بلکہ ایک نظر خود کو ائینے میں دیکھا ۔۔ شرٹ کے آدھے بازو ہونے کی وجہ سے اس کے کسرتی بازو نظر آ رہے تھے ۔۔
جو اس کو اور خوبصورت بنا رہے تھے ۔۔ اور پھر
اس نے اپنے قدم کمرے سے باہر کی طرف گھما دیے ۔۔
کھانا لگوا دیا ہے میں نے ۔۔ ماں نے کہا تو وہ گردن ہلاتا ڈائننگ ٹیبل کے پاس کسری کھسکا کے بیٹھ گیا۔۔
اپنی پلیٹ میں کھانا نکلتا وہ ماں کو دن کے قصے بھی
سونا رہا تھا ۔۔۔ اپ کو پتہ ہے ممی ایک لڑکی ہے
یونیورسٹی میں ۔۔ ہیر خان ۔۔ اچھی لڑکی ہے ۔ ۔
اُس جیسی پہلے کبھی دیکھی ہی نہیں ۔۔ !!
کہیں اپ یہ تو نہیں کہنا چاہتے افق کے اپ کو
وہ اچھی لگنے لگی ہے ۔۔؟ماں تھیں وہ ایک نظر
دیکھ کر جان جاتی تھی اُس کے دل میں کیا ہے ۔۔
افق ایک پل کو گڑیا ۔۔ ن۔ہ۔۔ پھر گہرا سانس
لیا ۔۔ اپ یہ کہہ سکتی ہیں ممی ۔۔ کیوں کے وہ
الگ ہیں سب سے ۔۔ وہ عام لڑکیوں کی طرح
نہیں نظر آتی وہ سب سے الگ ہیں۔۔۔۔
بس بس افق ۔۔ وہ الگ نہیں ہے اپ کو وہ پسند
ہے اس لیے سب سے مختلف لگتی ہیں ۔۔ جس
سے محبت ہوتی ہے نہ ۔۔ اُس کو دیکھ کر ایسا ہی
لگتا ہی کے اس جیسا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔۔
محبت ۔۔ “””‘ وہ محبت الفاظ پر اٹکا ۔۔
ہاں جی ۔۔ محبت ۔۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ کو ان سے محبت ہے۔ ۔۔ ممی میں نے اُس کو بس ایک دو بار دیکھا ہے محبت کیسے ہو سکتی ہے ۔۔؟
محبت تو پہلی بار دیکھنے سے بھی ہو جاتی ہے افق
افق نے کچھ دیر سوچا ۔۔ پھر لقمہ موں میں لیتے ہوئے وہ مسکرا اٹھا ۔۔
کھانے کے بعد نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا وہ اٹھ گیا ۔۔ میں کمرے میں جا رہا ہوں ۔۔۔
اور پلیز اپنے ہاتھ کی ایک کپ سٹرنگ سی کافی بنا کے دے دیجئے گا ۔۔
اچھا تو ہمارا بیٹا اب اپنی کوئی نئی کتاب پر کام
کرنے والا ہے ۔۔؟
ماں نے مسکرا کر پوچھا ۔۔ افق جب بھی
سٹرانگ کافی مانگتا تھا اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ وہ رات کو جاگ کر اپنی کتاب پر کام کرنے والا ہے۔۔
افق نے بہت وقت سے کوئی نئی کہانی کوئی ناول لکھی ہی نہیں تھی ۔۔۔
کوئی ٹاپک کوئی موضوع ہی نہیں تھا ۔۔
لیکن اب موضوع مل گیا تھا ۔۔
ہیر خان ۔۔
بس یہی سمجھ لیں ۔۔ اور میں بتا رہا ہوں ممی یہ
میری آخری کہانی ہو گی ۔۔ اس کے بعد افق
مصطفی کوئی کہانی نہیں لکھے گا ۔۔افق نے نہ جانے کیوں کہہ دیا۔۔۔ شاید الفاظ موں سے نکل گئے ۔۔
ہمیں کبھی کبھی سمجھ نہیں اتی ہمارے لبوں سے
کچھ ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں کے پھر وہ ہماری قسمت بن جاتے ہیں ۔۔ افق کے ساتھ بھی یہی ہونے والا ۔۔
افق مصطفی کے لبوں سے نکلے الفاظ الفاظ نہیں تھے ۔۔ الہام تھا ۔۔
اور ہاں یہ افق مصطفی کی آ خری کہانی تھی ۔۔
جس نے افق مصطفی کی زندگی بدل کر رکھ دینی تھی ۔۔۔ وہ کہتا کمرے میں چلا گیا تو ماں نے حیرانی سے دیکھا ۔۔
پھر سر جھٹکتی وہ کچن میں آ گئی ۔۔اور کافی میکر میں کافی بنانے لگی
کچھ دیر بعد وہ افق کے کمرے کا دروازہ ناک کرتی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔ افق اسٹڈی ٹیبل پر ایک ریجستر کھول کے بیٹھا تھا ۔۔ ارد گرد ۔۔ اور بھی کاغذات تھے ۔۔ اور افق ہاتھوں میں کلم پکڑے بیٹھا تھا ماں کو اتے دیکھ کر کلم چھوڑ دی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔
ماں نے کافی سے بھرا مگ ٹیبل پر رکھا اور پاس
ہی پڑے سرمئی صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔ جس کے
اگے سیاہ ٹیبل رکھا تھا ۔۔ کمرے میں انے والے
شخص کو پہلی نظر میں ہی اندازہ ہو جاتا تھا کے کمرے میں رہنے والے کا پسندیدہ رنگ سرمئی تھا ۔۔ افق کی اسٹڈی ٹیبل سوفا بیڈ ۔۔ہر ایک کا رنگ سرمئی تھا ۔۔ لیکن تھوڑا بہت سیاہ رنگ بھی نظر اتا تھا ۔۔
ماں بیٹھ گئی اور افق کو دیکھا ۔۔تو کہانی کا نام کیا
رکھیں گے اپ بیٹا کچھ سوچا ہے ۔۔ ممی سوچنے
کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔۔
کہانی کا نام ہو گا ۔۔ ہیر ۔۔۔ ماں پل کو حیران ہوئی ۔۔ پھر مسکرا دی ۔۔
ہیر ۔۔۔ اچھا نام ہے ۔۔۔ تو کہانی میں کیا لکھیں
گے اپ ؟ ماں نے اگلا سوال پوچھاوہ مسکرایا ۔۔ ممی ۔۔ ایک مصنف لکھنے سے پہلے اپنی کہانی سے پردہ نہیں سرکتا ۔۔ اور میں تو بالکل بھی ایسا نہیں کروں گا کہانی مکمل ہو جائے گی تو بے شک اپ پڑھ لیجئے گا ۔۔۔
چلیں صحیح ہے ۔۔ جب آپ لکھ لیں گے تو میں ضرور پڑھوں گی ۔۔۔اب اپ لکھیں میں زیادہ اپ کو تنگ نہیں کروں گی ماں کہتی ہوئی اٹھ گئی ۔۔ افق نے کافی کا ایک گھونٹ بھرا راحت اندر تک محسوس ہوئی تھی افق کو ۔۔
اور ایک بار پھر اس نے قلم اٹھا لیا اور پھر سے
لکھنے لگا ۔۔۔ ادھی رات تو ایسے ہی گزر گئی تھی
اور پھر اخر کار افق نے لکھنا بند کیا ۔۔ پھر وہ اٹھا ۔۔ بازوؤں کو ہوا میں پھیلاتا جیسے بازوؤں کو سکون دے رہا تھا ۔۔ پھر بازوؤں کو اپنے سر تک لے کے ائییا ۔۔ اور پھر بازو نیچے کر لیے ۔۔ اور وشرم میں چلا گیا کچھ دیر بعد وہ باہر آ یا ۔۔ بازو گیلے تھے چہرے پر پانی کی بوندیں تھی ۔۔ پاؤں بھی گیلے تھے وہ شاید وضو کر کے آ یا تھا ۔۔۔ پھر ۔۔ اپنے بیڈ کے ایک کونے کی طرف اگیا جائے نماز بچھایا اور نماز پڑنے لگا تہجّد کی نماز ۔۔
اک ہوک سے دل میں اٹھتی ہے۔۔
اک درد جگر میں ہوتا ہے۔۔
ہم رات کو اٹھ اٹھ روتے ہیں۔۔
جب سارا عالم سوتا ہے۔۔۔
یہ نماز بھی کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ۔۔
افق کو کوئی نماز پڑتے نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔
لیکن خدا تو دیکھ رہا تھا ۔۔ بہت قریب سے ۔۔
جب سب سو رہے ہوتے ہیں اور چند نمازِ تہجّد پر
رہے ہوتے ہیں اللہ اُن پر مسکراتا ہے ۔۔
افق کی آنکھیں نیند سے سرخ تھی ۔۔۔ وہ پوری
رات نہیں سویا تھا اور اب افق کا برا حال تھا ۔۔
لیکن افق نے نماز مکمل کی ۔۔ پھر دعا کے لیے
ہاتھ اٹھائے ۔۔۔ وہ موں میں کوئی آیات پڑ رہا تھا ۔۔
شاید سورہ یاسین ۔۔ ہاں افق کو قرآن جلدی یاد ہو جاتاتھا ۔۔ کوئی جانتا نہیں تھا ۔۔ اُس کے اور اس کی ماں کے سوا ۔۔ افق مصطفی حافظ قرآن تھا ۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *