Qasas by Rida Fatima episode 11…

قصاص قسط نمبر:۱۱

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

ہیر اس وقت اپنی انگلش کی کلاس میں بیٹھی تھی ۔۔۔ لیکن اج کوئی لیکچر نہیں ہو رہا تھا اج اس کے تمام پروفیسر اکٹھے ہوئے تھے ۔۔
جس میں افق مصطفی بھی تھا ۔۔ اور اس وقت وہ سب پروفیسرز کے درمیان میں کھڑا مائک پکڑے کچھ بول رہا تھا ۔۔
السلام علیکم ایوری ون ۔۔۔ کیسے ہیں آپ سب ۔۔۔ ؟ تو اپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ اج کوئی لیکچر کوئی کلاس کیوں نہیں ہو رہی ۔۔۔ ہوگی ۔۔ کلاس بھی ہوگی ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں اپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔۔ کے ہماری یونیورسٹی نے اگلے ہفتے ۔۔ مطلب نیکسٹ ویک ۔۔ کہیں ٹرپ پر جانے کا ارادہ کیا ہے یہ ٹرپ کوئی عام نہیں ہوگی ۔۔۔ بلکہ بہت ہی مزے
دار سی ہسٹریکل ٹرپ ہوگی ۔۔۔ جس میں آپ لوگوں کو مغلوں کی کہانی بتائیں جائے گی ۔۔۔ اور اُن سے جڑی بہت خوبصورت عمارت بھی دکھائی جائے گی ۔۔۔ اور وہ آپ کے اگلے ویک
کے ٹیسٹ کا حصہ ہو گا ۔۔۔ !!!!
اس لیے آپ کو وہ یاد رکھنا ہو گا ۔۔۔ دوسری اور اہم بات یہ کہ ۔۔۔ اپ سب مجھے یہ بتائیں کے اپ سب میں سے لاہور کون کون گیا ہے ۔۔۔ ؟
افق کے پوچھنے پر بہت ہی کم لڑکے لڑکیوں نے اپنے ہاتھ بلند کیے تھے ۔۔۔ اور ان میں سے ہیر کی ٹولی کا کوئی افراد نہیں تھا ۔۔
مطلب اُن میں سے کسی نے لاہور دیکھا ہی نہیں تھا ہیر بہت ہی توجہ سے افق کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔
رخسار اپنے میں گم تھی ۔۔ حیات زرمان سے یہاں وہاں کی باتیں بھی کر رہی تھی اور افق کی باتوں پر بھی اس کی توجہ تھی ۔۔
۔ تو ٹھیک ہے ہماری یونیورسٹی کی طرف سے یہی پلان بنایا گیا ہے کہ ہم اگلے ہفتے لاہور کا وزٹ کریں گے ۔۔۔ اور ہم کچھ مقام پر گھوم گے ہمارا وزٹ تقریبا دو دن کا ہوگا ۔۔۔ جس میں اپ سب کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام بھی کیا جائے گا ۔۔۔
اور ہم کون سی ہسٹری کل پلیس پر جائیں گے یہ اپ کو میں اگلے ہفتے لاہور کی زمین پر ہی بتاؤں گا ۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔
افق کے كہنے پر سب نے اپنی گردن ہلائی تو افق نے مائک واپس رکھ دیا ۔۔۔ اور پھر سب ہی پروفیسرز کے ساتھ وہ کلاس سے باہر چلا گیا تھا اس کی کلاس کچھ دیر میں ہونی تھی ۔۔۔ اور اب
انگلش کی کلاس شروع ہو گئی تھی ۔۔۔۔ کلاس سے فارغ ہونے کے بعد ہیر اور اس کی ٹولی ۔۔ لائبریری میں آ کر بیٹھ گئے تھے ۔۔
جہاں رخسار ہلکی ہلکی اواز میں سب سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
ہیر تم جاؤ گی لاہور ۔۔۔۔؟ ہمیں نہیں پتہ پہلے بابا سے اجازت لینی پڑے گی ۔۔۔ ہیر نے کہا تو پھر رخسار نے حیات سے پوچھا جس نے فورا ہی کہہ دیا تھا کہ ہاں میں تو جاؤں گی مجھے تو بہت شوق ہے گھومنے پھرنے کا ۔۔ پھر زرمان سے پوچھا تو
اس نے کچھ دیر سوچا ۔۔ پھر بولا ویسے جانے میں کوئی حرج تو نہیں ہے ۔۔ تو ہاں میں بھی جاؤں گا ۔۔۔ لیکن اگر ہیر کے بابا مان گئے تو جاؤں گا ۔۔ نہیں تو دل نہیں لگے گا وہاں پر ۔۔
دو دن کیسے گزاروں گا میں ۔۔۔۔ زرمان کے اس طرح کہنے پر ہیر نے تو اس کو گھور کر دیکھا تھا جبکہ رخسار اور حیات ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر ہنس پڑی تھی ۔۔۔۔ کاش ہماری زندگی میں بھی زرمان بھائی جیسا کوئی ہوتا رخسار نے کہا اور پھر خاموش ہو گئی ۔۔ دماغ میں ریحان کا خیال
جو اگیا تھا ۔۔ اور پھر وہ خود ہی مسکرا دی ۔۔۔
لائبریری میں بیٹھے ہوئے ایسے ہی باتیں کر رہے تھے جب ہیر اپنی جگہ سے اُٹھی اور کتابوں سے بھری شیلف کے پاس آئی جہاں بہت کتابیں رکھی گئی تھی ۔۔۔ ہیر نے ایک کتاب نکلی اور
دوسری طرف اس کو افق کھڑا نظر آیا ۔۔ جو کوئی کتاب نکلنے میں مصروف تھا دونوں کی نظر ملی ۔۔۔ پھر افق نے اس سے پوچھ لیا ۔۔۔
آپ لاہور ائیں گی ۔۔۔۔ ؟
میں نہیں جانتی ۔۔ بابا نے اجازت دے دی تو ضرور سر ۔۔ ہیر کہتے ہوئے ہٹنے لگی تو وہ دوبارہ بولا
پلیز اپنے بابا کو منا لیجیے گا ۔۔۔ اپ نہ ائی تو لاہور دیکھنے میں دلچسپی ختم ہو جائے گی ۔۔ میرے انے یہ نہ انے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔؟
ہیر نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔ فرق پڑتا ۔۔ محبوب کے ساتھ لاہور دیکھنا مطلب جنت کا نظارہ ۔۔۔ یہ افق اتنی دھیمی اواز میں بولا تھا کہ ہیر کو تو سنائی بھی نہیں دی تھی ۔۔ آپ نے کچھ کہا ۔۔
نہیں ۔۔ کچھ نہیں کہا میں نے ۔۔۔ وہ کہتا پیچھے ہو گیا تو ہیر بھی کتاب پکڑ کے واپس آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔
اتنی دیر کیوں لگا دی ایک کتاب لینے گئی تھی تم ۔۔۔ رخسار نے پوچھا ۔۔۔ نہیں دیر تو نہیں لگائی دیکھو جلدی آگئی ہوں ۔۔
اور پھر وہ کتابیں کھول کر بیٹھ گئی تھی کچھ دیر میں ان کی میتھ کی کلاس ہونی تھی ۔۔

یوسف کے فلیٹ میں آ ؤ تو اندھیرا تھا ۔۔۔ اور یوسف صوفے پر بیٹھا ۔۔ کوئی فلم دیکھ رہا تھا ۔۔ اج یوسف نے چھوٹی لی تھی ڈیوٹی سے ۔۔۔ جب اچانک اس کا فون بجا ۔۔ پہلے تو اس
نے دھیان نہیں دیا لیکن پھر نہ جانے کیوں اس نے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا ۔۔۔۔ کوئی انجن اواز گونجی تھی ۔۔ لیکن
نمبر تو یاسر کا تھا نہ ؟””””” کیا یاسر ٹھیک تھا ۔۔ یوسف کا دل گھبرایا ۔۔ اور یہ پہلی بار ہوا تھا جب یوسف ملک گھبرایا تھا ۔۔۔۔
یاسر صرف اس کے لیے ایک کانسٹیبل نہیں تھا ۔۔۔ وہ اس کا دوست تھا بھائی تھا ۔۔۔ بہت پیارا بھائی ۔۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ اس نے کہا تو دوسری طرف اواز گونجی ۔۔۔ ہاں تو یوسف صاحب ۔۔ بہت حیران ہو گئے ہو گے نا تم کہ
تمہارے یاسر تمہارے جان سے پیارے دوست کا فون میرے پاس کیا کر رہا ہے ۔۔۔ یوسف وہ اواز پہلے بھی سن چکا تھا لیکن
پہچاننے میں وقت لگا یوسف کو اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔ کے جو بھی ہے ۔۔ یوسف اور یاسر کی دوستی کو جانتا ہے ۔۔۔۔
مطلب ان دونوں پر نظر رکھی جا رہی تھی ۔۔۔۔””””” کو ن ہو تم ۔۔۔ یوسف بولا تو ۔۔ وہ ادمی ہنسنے لگا ۔۔ میں بتانا نہیں
چاہتا کہ کون ہوں میں اچھا ویسے ۔۔۔ تُجھے پتہ ہے یوسف اگر میں یاسر کو اغوا نہیں کرتا تو کس کو کرتا ۔۔ اس ادمی نے یوسف کے پوچھنے کا انتظار نہیں کیا ۔۔۔ میں تیری اُس حیات کو اغوا کرتا ۔۔۔
پسند کرتا ہے نا تو اُسے ۔۔۔۔ ؟ یوسف کے ہوش ہوا ہو گئے تھے ۔۔
مطلب نظر یوسف پر رکھی جا رہی تھی ۔۔ لیکن یہ کون کر سکتا تھا اخر یہ کس کا کام تھا ۔۔۔؟ یوسف اتنا تو جانتا تھا کہ اس کے
بہت دُشمن تھے ۔۔۔ پولیس جوائن کرنے کے بعد یوسف نے بہت سے لوگوں سے پنگا لیا تھا ۔۔۔ بہت ہی امیر گھرانوں کے بچوں کو مارا تھا ۔۔۔ بگڑے ہوئے بچوں کو ۔۔۔ لیکن یہ کس
بچے کا باپ تھا یوسف کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔ ابے تو ہے کون نام بتا ایک بار پھر بتاتا ہوں میں تُجھے ۔۔۔۔۔ “”””
بہت افسوس ہوتا ہے مجھے یوسف کہ تمہاری یادداشت اتنی کمزور ہے کہ تم مجھے اتنی جلدی بھول گئے ۔۔۔۔
آخری بار پوچھ رہا ہوں کون ہے تو نہیں تو تیرے گھر میں آکے تُجھے گھسیٹ کر لے آؤں گا ۔۔
اصغر ہوں میں اصغر ۔۔۔دوسری طرف سے غصے بھری اواز ائی تھی ۔۔۔
اور اصغر کا نام سنتے ہی یوسف کو یاد آگیا ۔۔۔ کچھ وقت پہلے ہی یوسف نے کیس سالو کیا تھا اس کے بیٹے حماد کو مار کے ۔۔۔
لیکن اس کو تو جیل ہو گئی تھی ۔۔
تم تو جیل میں تھے ۔۔۔؟ یوسف نے پوچھا
تجھے کیا لگتا ہے میں جیل سے نکل نہیں سکتا میرے لیے بہت آسان ہے جیل سے نکلنا میرے بہت جاننے والے تھے جو مجھے جیل سے بھگا سکتے تھے اور دیکھ وہی ہوا میں جیل سے بھاگ گیا ویسے اب تیرے دوست کو کون بچائے گا یوسف کیونکہ میں تو اس کو مار دوں گا میں تجھے ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں تو نے میرے بیٹے
کو مارا مجھے جیل بھجوایا میں تیرے دوست کو ماروں گا تیرے بہت ہی اچھے دوست کو۔۔۔ اصغر اگر یاسر کو کچھ ہوا تو تیری جان لے لوں گا میں۔۔ یوسف اب کی بار چلا کر بولا تھا تو اصغر نے ہنستے
ہوئے فون یاسر کے کان سے لگا دیا۔۔ جس کی حالت بہت خراب تھی جس کے سر پر چوٹ کا نشان تھا اور اس سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔ چہرے پر جگہ جگہ تھپڑ کے نشان تھے ہونٹوں سے
بھی خون بہہ رہا تھا۔۔۔ کندھے پر کسی چاقو کا نشان تھا گہرا چاکو جو شاید اصغر نے اس کے بازو پہ مارا تھا ۔۔ جس سے خون کسی دھار کی طرح بہہ رہا تھا ۔۔۔۔ یاسر کے کان سے فون لگا تو وہ
مدہوش تھا یاسر یوسف کی اواز سن کر ہوش میں انے لگا۔۔
یاسر تو مجھے سن رہا ہے۔۔۔ یاسر۔۔۔ یاسر میرے بھائی میں تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔دیکھ میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔۔
س۔۔ سر ۔۔ سر جی ۔۔ ا۔۔اپ یہاں نہیں انا ۔۔ م۔میں ٹھیک ہوں ۔۔ م۔۔ سر جی یہ ۔۔ لوگ ۔۔ اپ کو ۔۔ نو ۔ نقصان پہنچائیں گے ۔۔۔ ۔۔ ا۔۔اپ ن۔نہیں انا
یوسف کی انکھوں میں انسو آگے آنکھیں سرخ ہو رہی تھی چہرہ بھی غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔۔۔ یوسف نے اپنے انسو آ نکھوں سے باہر نہیں گرنے دیے ۔۔ ۔۔ کچھ نہیں ہونے دوں گا تجھے
میں یاسر ۔۔ وعدہ کرتا ہوں اب کی بار اصغر کی چمری اُدھر دوں گا تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔ یوسف نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا ۔۔۔۔

اور فوراً اُٹھ کر وہ جس حال میں تھا فلیٹ سے باہر نکلا سیاہ ٹراؤزر شرٹ پہنے البتہ اپنی گن اس نے لے لی تھی ۔۔۔ وہ گاڑی میں بیٹھا ۔۔ اس کو سب سے پہلے پولیس اسٹیشن جانا تھا ۔۔
اس کو یاسر کے فون کی آخری لوکیشن ٹریس کروانی تھی ۔۔ آدھے گھنٹے کا راستہ یوسف نے 10 منٹ میں طے کیا تھا ۔۔۔
گاڑی میں بیٹھے دماغ میں بس ایک ہی جنون سوار تھا کہ یاسر کی جان بچانی تھی ۔۔۔ بس یاسر ۔۔۔ یاسر ۔۔ اور یاسر ۔۔ ۔۔
وہ کچھ دیر میں پولیس سٹیشن پہنچا ۔۔۔ تھوڑی ہی دیر لگی تھی کہ یاسر کی فون کی آخری لوکیشن ٹریس ہو گئی تھی ۔۔ اصغر کی کمبختی یہ تھی کہ اس نے فون سے سم نہیں نکلی تھی ۔۔ جو شاید یہ
تو یوسف کی یہ پھر اصغر کی موت کی وجہ بننے والی تھی ۔۔۔
یوسف فوراً اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھا تھا اور گاڑی کو تیز رفتار سے اگے لے گیا۔۔۔
لوکیشن اسے معلوم ہو چکی تھی کون سی تھی البتہ اس کے پیچھے کچھ اور پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں بھی دوڑ لگا رہی تھی۔۔۔۔
یوسف اس وقت گاڑی چلا نہیں رہا تھا گاڑی اُڑا رہا تھا اس کو کسی بھی حال میں یاسر کو بچانا تھا۔۔۔
دماغ میں یاسر کی باتیں گونج رہی تھیں ۔۔۔
وقت انے پر جان بھی داؤ پر لگا سکتا ہوں اور جان دے بھی سکتا ہوں ۔۔۔۔
یوسف کو یاسر کے ساتھ گزارے پل یاد آرہے تھے ۔۔۔ جب یوسف نے اس کو خود پر گولی چلانے کو کہا تھا اور وہ کیسے ڈر رہا تھا
اور پھر گولی چلانے کے باد بار بار یاسر کا معافی مانگنا ۔۔۔۔
جب یوسف پر اس کے کزن کی سابقہ بیوی نے حملہ کیا تھا تو کیسے سارا خوف بھولا کر وہ اس کی طرف بڑھا تھا
سر جی آپ کے معاملے میں میرا دل مضبوط ہو جاتا ہے آپ بھائی جو ہیں ۔۔۔۔ آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔۔۔
یاسر کے کہے الفاظ کیسی سیسہ کے طرح یوسف کے کانوں میں انڈیلے جا رہے تھے کم سے کم یوسف کو اس وقت گاڑی چلاتے یہی محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ کے اگر وہ یاسر کو کھو دیتا تو ۔۔ اگر
یاسر مر جاتا ۔۔ تو یوسف کا ہر پل ساتھ دینے کے لیے کون ہوتا ۔۔۔یوسف کے ہراچھے غلط کام میں کون کھڑا رہتا اس کے ساتھ ۔۔
۔ یوسف کو تنگ کون کرتا ۔۔۔؟
وہ بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔۔ کچھ وقت بعد وہ اُس جگہ موجود تھا جہاں کی لوکیشن یوسف کے پاس تھی ۔۔
وہ کوئی پرانے طرز کا بنا گھر تھا ۔۔ جس کا دیواروں پر لگا رنگ خراب تھا ۔۔ دروازے ٹوٹے پھوٹے تھے ۔۔ چھت سے پانی ٹپکتا تھا ۔۔۔

یوسف ہاتھ میں گن پکڑے الرٹ سا اندر داخل ہو رہا تھا پیچھے اس کے اور پولیس اہلکار بھی تھے ۔۔۔ وہ گھر میں داخل ہوا ۔۔
تو ایک کمرے سے کچھ آوازیں آ رہی تھی ۔۔۔ یوسف ۔۔
نے کمرے کا دروازہ دھرم سے کھولا ۔۔۔ سامنے یاسر کو ٹوٹے بیڈ پے رسیوں سے باندھ رکھا تھا ۔۔۔ یاسر کے چہرے کی حالت خراب تھی ۔۔ کمرے کی زرد روشنی میں یاسر کا چہرہ نظر ایا
وہ بھی زرد ہی لگ رہا تھا ۔۔۔ کچھ لوگ یاسر کے پاس کھڑے تھے ۔۔ جو یاسر کے زخمی بازو پر مرچی کا پاؤڈر ڈال رہے تھے۔ ۔۔
اور زخم پر جلن محسوس کر کے یاسر کی مدہوش انکھیں پل کے لیے کھول گئی تھیں ۔۔۔ سامنے اس نے یوسف کو کھڑے دیکھا ۔۔۔
زرد چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔ وہ اگیا تھا ۔۔۔ وہ اس بچانے کے لیے اگیا تھا ۔۔۔ یوسف نے بھائی ہونے
کا فرض ادا کیا تھا ۔۔۔ یوسف کو دیکھ کر وہ ادمی ایک دم روک گئے ۔۔ اصغر دور صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔۔ آؤ ۔۔ آؤ یوسف ۔۔
پتہ تھا تم آؤ گے ۔۔۔ یوسف یاسر کی طرف بڑھا ۔۔ اس نے یاسر کو کھولا ۔۔
کھول لو تم یاسر کو لیکن اس میں تو اٹھنے کی بھی سکت نہیں ہے وہ یہاں سے جا بھی نہیں سکے گا ۔۔۔ تم اب کیا کرو گے ۔۔
جیسی تمہاری دوست کی حالت ہے مجھے نہیں لگتا وہ زیادہ دن زندہ رہے گا اب ۔۔ دیکھو ۔۔ اپنے دوست کو ۔۔۔
اصغر کے بولنے پر یوسف اس تک ایا ۔۔ اور یوسف نے اصغر کا گریبان پکڑ لیا ۔۔ تُجھے میں بعد میں دیکھوں گا ۔۔ یوسف نے کہتے ہوئے اُس کو چھوڑا ۔۔۔۔ اور جب وہ یاسر کی طرف
جانے لگا تو اصغر نے گن تان لی ۔۔ روک جاؤ یوسف ۔۔
اگر تم اگے بڑھے نا یہ یاسر کو بچانے کی کوشش کی تو تمہارے دوست کو مار دوں گا میں ۔۔ اپنی گن نیچے زمین پر رکھو ۔۔۔
اصغر کے باقی آدمیوں کو پولیس اہلکاروں نے مار مار کر تقریبا ادمراہی کر دیا تھا ۔۔۔ بس یوسف کھڑا تھا یوسف نے اپنی گن نیچے رکھ دی ۔۔ آخر یاسر کی زندگی کا سوال تھا نہیں تو شاید اصغر سچ میں اسے مار دیتا ۔۔ گن یاسر پر تان رکھی تھی ۔۔۔ اب کام کی بات کرتے ہیں یوسف ۔۔
یا تو یاسر کو جان سے ماروں گا یا تُجھے ۔۔ بتا کس کو ماروں اب دیکھ اصغر یاسر کو کچھ نہیں ہونا چاہیے نہیں تو تیری جان لے لوں گا میں ۔۔۔
چل پھر تُجھے مار دیتا ہوں ۔۔۔ اصغر نے کہا
اور گن یوسف پر تانی ۔۔۔ س۔۔ سر ۔جی ا۔۔ آپ کیوں اپنی ۔۔ جان ۔۔ خطرے۔۔ میں ڈال رہے ۔۔ ہیں ۔۔ م۔۔ میں تو ویسے ہی م ۔۔۔ مرنے ۔والا ہوں ۔۔ یاسر بولا تو یوسف نے
اس کو جھڑکا ۔۔ فضول باتیں نہ کر تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا میں منہ بند رکھ اب تو اپنا ۔۔۔
بس بہت ہو گیا۔۔۔ اصغر نے کہا ۔۔۔ چل یوسف اب میں گھنتی گنتا ہوں تیری موت کی گھنتی ۔۔ تین تک گننے پر میں گولی
چلا دوں گا اور تو سیدھا اوپر ۔۔ جس طرح تو نے حماد کو مارا تھا ۔۔۔
ایک ۔۔یوسف کا دل دھڑک رہا تھا ۔۔
دو ۔۔ یاسر میں نا جانے کہاں سے ہمت اگئی تھی اٹھنے کی ۔۔۔
تین۔۔ اور۔ ٹھا ۔۔ گولی کی زور در اواز آئی تھی ۔۔ یوسف کو محسوس ہوا کوئی اس کے اگے ا کر کھڑا ہوا تھا ۔۔ اور پھر ایک جھٹکے سے زمین پر گرا تھا ۔۔۔ یوسف نے انکھوں میں
بھرے آنسوؤں کے ساتھ نیچے دیکھا ۔۔۔ زمین پر یاسر گرا تھا ۔۔ بے ہوش تھا یا مر گیا تھا یوسف یہ اندازہ نہیں کر پایا تھا ۔۔
یوسف نے نظر اُٹھا کر اصغر کی طرف دیکھا ۔۔ کم سے کم اصغر کو اتنی تو سمجھ اگئی تھی کہ اب اس کی موت تو پکی تھی ۔۔
اصغر کے ہاتھوں سے گن نیچے گر گئی ۔۔ یوسف نے اپنی گن تانی ۔۔
اور گن کی ساری گولیاں اصغر کے سینے میں اُتار دی ۔۔۔
اصغر ایک جھٹکے سے نیچے زمین پر گر گیا ۔۔ بے جان وجود کے ساتھ۔۔ پھر یوسف نے یاسر کی طرف دیکھا اور نیچے زمین پر بیٹھ کر اسے ہلانے لگا ۔۔ ی ۔۔ یاسر ۔۔ یاسر ۔ اُٹھ ۔۔ یاسر ۔۔
تُجھے ۔۔ تُجھے کچھ نہیں ہو گا ۔۔ یوسف نے یاسر کو اپنے بازوؤں میں اُٹھایا ۔۔ اور اپنی گاڑی کی طرف بھاگا ۔۔ اُس کو کسی بھی حال میں ہاسپٹل لے کے جانا تھا ۔۔۔ گاڑی میں یاسر کو بٹھاتے
ہوئے یوسف بار بار اس کو ہلا رہا تھا پھر یوسف نے دوسری طرف سے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور پوری رفتار سے آگے لے گیا ۔۔۔
وقت آنے پر جان بھی داؤ پر لگا سکتا ہوں اور جان دے بھی سکتا ہوں ۔۔۔۔
سر جی آپ کے معاملے میں میرا دل مضبوط ہو جاتا ہے آپ بھائی جو ہیں ۔۔۔۔
آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔۔۔
یاسر نے اپنی بات سچ کر دی تھی ۔۔ وہ یوسف کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔ اج اس نے کر کے دکھایا تھا ۔۔ اور اب باری تھی یوسف کی ۔۔۔ اُس کو یاسر کو بچانا تھا اپنا وعدہ نبھانا تھا ۔۔
پاس میں ہی ہاسپٹل تھا ۔۔ یوسف اس کو وہاں لے کے آیا تھا ۔۔
ڈاکٹر یاسر کو اندر لے کے جانے سے پہلے بولے ۔۔ یہ پولیس کیس ہے انہیں گولی لگی ہے ۔۔
میں خود پولیس والا ہوں۔۔
اپنا کارڈ دکھائیں ۔۔۔ پولیس کیس ہے یہ آپ باہر کمپلین کروا سکتے ہیں کچھ پولیس اہلکار باہر کھڑے ہیں ۔۔ ڈاکڑ بولا ۔۔
میں نے کہا نا میں خود پولیس والا ہوں A.S.P Yousuf Mailk ہوں میں ۔۔۔
علاج کرو اس کا ۔۔ اگر اسے کچھ ہوا تو آ گ لگا دوں گا تمھارے ہاسپٹل کو ۔۔ سن رہے ہو تم ڈاکٹر ۔۔ میں جان لے لوں گا تمھاری ۔۔
اس کو ٹھیک کرو۔۔۔۔
یوسف دہاڑتا ہوا بولا تو ڈاکٹر فورا یاسر کو اپریشن تھیٹر میں لے گئے ۔۔۔
یوسف نے ریحان کو فون کرنا مناسب سمجھا ۔۔ اور تقریباً 20منٹ بعد ریحان اور ہیر ہاسپٹل میں دخل ہو رہے تھے ۔۔۔
یوسف نے ساری بات ان کو بتائی ۔۔۔ ریحان اور ہیر اس کو دلاسہ دینے لگے ۔۔ کچھ نہیں ہوتا یوسف بھائی یاسر بھائی ٹھیک ہو جائیں
گے ۔۔ آپ فکر نہ کریں۔ ۔۔۔
ہیر تمھیں پتہ ہے ۔۔ جیسے ریحان تمھارا بھائی ہے نہ ۔۔ یاسر میرا بھائی ہے ہیر ۔۔ وہ میرا سگا نہیں ہے لیکن وہ سگوں سے بڑ کر ہے ۔۔ اگر اج اس کو کچھ ہو جاتا ہے تو میں کبھی خود سے نظریں نہیں ملا سکوں گا ۔۔ میں نے اُس سے وعدہ کیا
ہے میں اس کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔ اگر میرا وعدہ ٹوٹ گیا تو ۔۔؟
ایسا کچھ نہیں ہو گا یوسف ۔۔ اللہ سے دعا کرو ریحان بولا ۔۔
اور یوسف خاموش ہو کر بیٹھ گیا ۔۔ ہاں وہ دل میں بہت دعائیں کر رہا تھا ۔۔ وہ دل میں اللہ کو نہ جانے کیا کیا کہہ رہا تھا ۔۔ منتیں کر رہا تھا ۔۔
تقریباً 2 سے تین گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر ایثا ۔۔
یوسف اس کی طرف گیا ۔۔۔ یاسر کیسا ہے اب ڈاکٹر ۔۔ دیکھیں ہم نے گولی نکل دی ہے ۔۔ آپ وقت رہتے انہیں لے تو آے تھے لیکن اگلے 3 سے 4 گھنٹے ان کے لیے مشکل ہے ۔۔ آپ دعا کریں کہ وہ ٹھیک ہو جائیں باقی اللہ کی مرضی ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے ۔۔ اب اللہ اُن کو لمبی زندگی دے۔۔ ڈاکٹر کہتا
چلا گیا تو یوسف واپس بیٹھ گیا ۔۔۔
ایک گھنٹہ گزرا ۔۔ پھر دوسرا ۔۔ پھر تیسرا ۔۔۔ پھر چوتھا ۔۔۔ اور تقریباً چار گھنٹے بعد یاسر کو ہوش آیا تھا اب وہ خطرے سے باہر تھا ڈاکٹر اطلاع دیتا اور کچھ میڈیسنز وغیرہ بتا کر چلا گیا ۔۔۔
اپریشن تھیٹر سے یاسر کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ہیر اور ریحان بھی یوسف کے ساتھ ہی وہاں بیٹھے تھے ۔۔۔ یاسر بھائی اب آپ ٹھیک ہیں ہیر نے پوچھا تھا ۔۔ جی ۔۔ میں اب ۔۔ ٹھیک ۔۔
ہوں ۔۔ یاسر بس اتنا ہی بولا تھوڑے بہت حال احوال کے بعد ریحان اور ہیر روم سے باہر آگئے تھے اور یوسف اندر بیٹھا تھا ۔۔۔
تو جوس پیے گا ۔۔ یوسف نے یاسر سے پوچھا تو یاسر نے ہلکی سی ہاں میں گردن ہلائی ۔۔ پاس میں پڑا جوس کا گلاس اٹھایا اور سٹرا یوسف نے یاسر کے لبوں کے ساتھ لگا دیا ۔۔۔ یاسر کو ٹھیک دیکھ کر یوسف اب خوش تھا ۔۔ اور یوسف کی انکھوں سے پہلا انسو کا قطرہ اُس وقت ہی نکلا تھا ۔۔۔ س۔۔ ست۔۔سر جی۔۔ ا۔۔ اپ رو کیوں ۔۔رہے۔۔ ہیں
یاسر نے اس کی انکھوں میں انسو دیکھ کر پوچھا ۔۔
یہ خوشی کے انسو ہیں اگر تجھے کچھ ہو جاتا تو تجھے ذرا سا بھی اندازہ ہے کہ میں کتنا اکیلا ہو جاتا یاسر ۔۔اپ اکیلے کہاں ہوتے ہیں اب کے تایا ابو ہیں تو ۔۔
میں کون سا ان کے پاس رہتا ہوں ۔۔
پورا دن تو میرا تیرے ساتھ گزرتا ہے ۔۔ اور ہفتے میں پانچ دن تو ۔۔
تو میرے گھر پر ہی رہتا ہے نا ۔۔
س۔۔ سر جی ۔۔ ک۔۔ کچھ ۔ نہیں ہوا میں۔۔ میں ٹھیک ہوں اب ۔۔
یاسر نے یوسف کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔ ایک گزارش کروں تیرے سے ۔۔
یوسف اس طرح کہنے پر یاسر ہنس پڑا۔۔ واہ گزارش کرنے کا کہہ کون رہا ہے ۔۔ جو حکم کرتا ہے ۔۔۔ یاسر بولا تو یوسف نے اس
کو دیکھا ۔۔ زیادہ بول نہیں ۔۔
اچھا سر جی کہیں نہ
یاسر تو مجھے بھائی کہاکر نہ ۔۔ تو بس بولتا ہے کے میں تیرا بھائی ہو تو نے کبھی بھائی کہا نہیں ہے مجھے ۔۔ مجھے بھائی کہنا والا ہیر کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔۔۔ یوسف کو اتنا جذباتی یاسر نے پہلی
بار دیکھا تھا ۔۔ اور ہاں یہ بات سچ ہے کہ یاسر بولتا تھا کہ یوسف اس کا بھائی ہے لیکن یاسر نے کبھی اسے بھائی نہیں کہا تھا شاید پولیس کی نوکری کی وجہ سے ۔۔ یہ شاید اس وجہ سے کہ یوسف
غصہ نہ کر جائے کہیں ۔۔
ت۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ بھائی کہا کروں
گا میں آپ کو ۔۔ میری جان بچا کر آپ نے بڑے بھائی ہونے کا فرض ادا کیا ہے ۔۔ بھائی کہوں کا اج سے آپ کو ۔۔ یاسر کی بھی انکھوں میں انسو اگئے

کچھ دیر بعد یوسف روم سے باہر اگیا تھا ۔۔ ہیراور ریحان باہر بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے اس کو باہر اتا دیکھ کر اُٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔۔ تم دونوں کا بہت شکریہ ۔۔ یوسف نے ان کا شکریہ
ادا کیا توہیر فورا بولی ۔۔ ہمیں شرمندہ تو نہ کرو لالا بھائی ہو ہمارے اتنا تو فرض بنتا تھا کہ تمہارے مشکل وقت میں ہم ائیں ۔۔
ہیر کے اس طرح کہنے پر یوسف نے ہیر کے سر پر پیار بھرا ہاتھ رکھا ۔۔اللہ تم جیسی بہن سب کو دے ۔۔ تم بہت اچھی ہو ۔۔
ہاں وہ تو مجھے پتہ ہے کہ میں بہت اچھی ہوں ۔۔ ہیر اب کی بار مسکرا کر بولی ۔۔ ریحان اور ہیر اب تم دونوں گھر پر جاؤ ارام کرو ۔۔
ویسے بھی ساری رات سے تم دونوں یہیں پر ہو۔۔ یہ تقریبا صبح چھ بجے کا وقت ہو رہا تھا پوری رات ہاسپٹل میں ہی گزر گئی تھی۔۔
یوسف کے کہنے پر وہ دونوں نہیں مانے۔۔نہیں ہم یہیں پر رکتے ہیں اپ ارام کر لو جا کر گھر ۔۔ نہیں یاسر کو میری ضرورت ہے
میں یہیں پر رکتا ہوں تم دونوں جاؤ اب گھر تم دونوں نے گھر پر بھی نہیں بتایا ہوگا کسی کو سب پریشان ہو رہے ہوں گے ۔۔
اس وقت تو کوئی جاگ بھی نہیں رہا ہوگا لالا جب تک وہ اٹھیں گے تب تک ہم گھر پہنچ چکے ہوں گے ۔۔۔ ہاں تو پھر جاؤ جلدی۔۔
یوسف نے کہا تو ریحان اور ہیر نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں میں گردن ہلاتے ہوئے کوریڈور سے باہر کی طرف نکل گئے ۔۔۔

یہ صبح 10 بجے کا وقت تھا قاسم اس وقت اپنے ہوٹل میں کھڑا اپنی ٹیم کو کوئی خوشخبری دے رہا تھا پرجوش انداز میں۔۔۔
نئی ریسپشنسٹ قاسم نے جلدی ہی رکھوا لی تھی ۔۔۔
اور وہ کیس کچھ دن کے بعد خود ہی بند ہو گیا تھا وہ بھی یہ کہہ کر کے لڑکی نے خود کشی ہی کی ہے ۔۔۔ قاسم کے ہوٹل کی امیج خراب نہیں ہوئی تھی۔۔۔ لوگ بھول ہی گئے تھے کہ وہاں
کسی کی موت ہوئی تھی ۔۔۔ بس کچھ وقت کا ہی غم ہوتا ہے جب انسان مر جائے تو بعد میں تو کسی کو بھی یاد نہیں اتا۔۔۔۔
چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔۔
تو آپ لوگوں کو میں خوشخبری دینا چاہتا ہوں قاسم اس وقت اپنے افس میں بیٹھا بول رہا تھا یہ ان کی ٹیم کی میٹنگ تھی جو کہ کچھ وقت پہلے ہی قاسم نے
رکھوائی تھی ۔۔۔ قاسم اپنی چیئر پر بیٹھا اپنے خوبصورت ہاتھ ٹیبل پر رکھے ان سے بات کر رہا تھا ۔۔۔ لمبی اُنگلیاں ۔۔ نیلی رگیں سفید ہاتھ ۔۔۔تو میں آپ سب کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ ۔۔
ہمارا ہوٹل جھنگ کے سب سے اچھے ہوٹل کی لسٹ میں ٹاپ آف دی لسٹ ہے ۔۔۔ قاسم کا کہنا تھا کہ سبھی وہاں بیٹھے لوگ پرجوش ہو گئے ۔۔۔
اور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ ہمارا عملہ بہت اچھا ہے ۔۔ آپ لوگوں کی محنت کے بغیر یہ بالکل بھی نہیں ہو پاتا ۔۔
ہمارے ہوٹل کے سارے روم فل ہیں ۔۔ اور تو اور ۔۔ ہمارے ہوٹل میں پاکستان کی بڑی سے بڑی ہستی بھی یہاں سٹے کر کے گئی ہے ۔۔۔ اور ہماری ٹیم نے کمپلین کا کوئی موقع نہیں
چھوڑا تھا میں بہت خوش ہوں۔۔۔ ایسے ہی کام کرتے رہے اور ہوٹل کا نام بڑھاتے رہے جلد ہی ہم ایک نئی برانچ کھولیں گے ۔۔
جو اس سے بھی بڑی ہو گئی ۔۔
قاسم کہتا ہوا میٹنگ ختم کر کے اپنے افس سے باہر نکل گیا ۔۔
وہ کوری ڈور سے گزر رہا تھا جہاں پر زرد رنگ کی جگمگاتی بتیاں جل رہی تھی ۔۔۔ جو ہوٹل کو سونے کی طرح چمکا رہی تھی۔۔
چھت پر لگے خوبصورت فانوس جو انتہا کے خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔۔ ہوٹل کی شان و شوکت بڑھا رہے تھے ۔۔۔
نیچے سفید ٹائلوں والا چمکتا فرش ۔۔ جس کو پورا دن صاف کیا جاتا تھا اور ہوٹل میں اتے جاتے امیر کبیر لوگ ۔۔۔ جن کی ڈریسنگ سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپر کلاس تھے ۔۔۔۔
خود قاسم خان بھی اس وقت سیاہ پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھا ۔۔۔
جو لوگ اس کو جانتے تھے جب وہ ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس کو سلام کر کے جاتے کچھ اس سے ہاتھ بھی ملا کر جاتے وہ بھی بہت پرجوش انداز میں سامنے والے کے ہاتھوں کو دونوں
ہاتھوں سے تھامتا سلام لیتا حال احوال پوچھتا اور پھر اگے نکل جاتا ۔۔ بالوں کو جل سے ایک طرف سیٹ کیے وہ اس وقت انتہا کا گریس فل ادمی لگ رہا تھا ۔۔۔۔ یہ ہمیشہ ہوتا تھا جب
بھی قاسم خان اپنے ہوٹل میں قدم رکھتا تھا یا پھر باہر جانے والا ہوتا ۔۔۔
وہ لوگوں کی طرف نہیں جاتا تھا نہ ہی وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا لوگ خود اس کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے لوگ خود اس کی طرف اتے تھے۔۔۔۔
وہ اپنے گھر ایا اس کے گھر میں اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کچھ بتانے کی تو ضرورت ہی نہیں تھی خبروں میں ا رہا تھا ۔۔
سوشل میڈیا پہ ا رہا تھا قاسم خان کے ہوٹل کی نیوز ۔۔۔
وہ ماں باپ کے پاس بیٹھا اس بات کی خوشی منا ہی رہا تھا جب ادم خان کے فون پر کامران کا نمبر چمکا تھا۔۔انہوں نے خوشی سے فون اٹھایا اور کان سے لگایا ہاں کامران کیسے ہو۔۔حال
احوال کے بعد دوسری طرف سے کامران خان بولے تھے۔۔۔
تمہارا بیٹا تو بہت ترقی کر رہا ہے آدم ۔۔ ہم نے ابھی ہی خبروں میں دیکھا ہے اس کو۔۔
بس اللہ کا کرم ہے ۔۔ انہوں نے کہا
تو کامران نے اپنی اگلی بات کی۔۔۔ ہم نے سوچا ہے کہ ہم تمہارے گھر والوں کو اور قاسم کو ایک دعوت دینا چاہتے ہیں
اپنے نئے فارم ہاؤس پر۔۔۔بس گھر کے ہی لوگ ہوں گے اور کوئی بھی نہیں ہیر کی کچھ دوستیں ہوں گی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے کامران میں قاسم سے پوچھ کر بتاتا ہوں۔۔۔
چلو ٹھیک ہے تم قاسم سے پوچھو اور ہمیں دوبارہ فون کرنا ساتھ میں ہماری طرف سے اس کو مبارک باد بھی دینا۔۔اور دعوت کا وقت کل شام کا ہوگا۔۔۔
ٹھیک ہے خدا حافظ ادم خان نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا تو قاسم نے ان کو دیکھا کیا کہہ رہے ہیں بابا کامران انکل۔۔

انہوں نے تمہارے لیے ایک دعوت رکھی ہے اپنے نئے فارم ہاؤس میں۔۔۔انہوں نے ہمیں بھی انوائٹ کیا ہے قاسم تم چلو گے۔۔۔
ہاں بابا ضرور چلوں گا۔۔۔اسی بہانے میں نیا فارم ہاؤس بھی دیکھ لوں گا انکل کا ۔۔۔ وہ کچھ وقت پہلے ہی بنایا ہے نا ۔۔؟,
ہاں ابھی کچھ وقت پہلے ہی بنایا تھا اس کو۔۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے۔۔۔فلحال تو میں بہت تھک گیا ہوں تھوڑا ارام کرنا چاہتا ہوں قاسم کہتا ہوا اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔
ہمارا بیٹا کتنا نیک ہے نا آدم قاسم کی ماں نے کہا۔۔۔تو آدم نے فخریہ انداز میں ہاں میں گردن ہلا دی۔۔۔یہ اس کی نیکیوں کا ہی صلہ ہے بیگم جو اس کو مل رہا ہے۔۔۔دیکھو نا اب اللہ نے اس
کا کتنا نام بنا دیا ہے۔۔۔ آدم نے کہا تو قاسم کی امی نے خوشی سے ہاں میں گردن ہلائی۔۔۔اپ کچھ کھائیں گے۔۔ نہیں کچھ بھی نہیں بس میرے لیے ایک کپ چائے بنا کر لا دو
ٹھیک ہے آپ بیٹھیں میں لے کر آتی ہوں ابھی۔۔۔وہ کہتی ہوئی اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی۔۔۔۔

ہیر جو اپنے کمرے میں خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی اپنے بابا کی اواز سن کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی وہ شاید اسی کو اواز دے رہے تھے اور ساتھ میں ریحان کو بھی ریحان نہ جانے کہاں پر
تھا ہیر اپنے کمرے سے باہر نکلی تو ہیر نے ریحان کو گارڈن کی طرف سے اندر آتے ہوئے دیکھا,۔۔ہمیں تم دونوں کو ایک بات بتانی ہے
جی بابا بتائیں۔۔دلاور خان بھی وہیں صوفے پر خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
ہم نے ایک دعوت رکھی ہے قاسم خان کے لیے جیسا کہ صبح خبروں میں ہم نے دیکھا ہی تھا کہ قاسم کا ہوٹل جھنگ کے سب سے اچھے ہوٹل میں گنوایا گیا ہے تو ہم نے سوچا ہے کیوں نہ ہم
قاسم کو ایک دعوت دیں۔۔۔۔
یہ تو اچھا فیصلہ کیا ہے آپ نے بابا ریحان بولا۔۔۔تو ہیر نے تو منہ ہی بنا لیا تھا۔۔۔ہم نے
دعوت کل شام کی رکھی ہے اور ریحان یہ ساری تیاری تمہیں اور دلاور خان کو مل کر کرنی ہے۔۔۔تم اپنے دوستوں کو بھی بتا دینا کہ دعوت میں ضرور ائیں۔۔ٹھیک ہے بابا میں بتا دوں گی
اور دلاور تم یوسف کو فون کر کے بتا دینا کہ ہم نے اسے بھی دعوت میں بلایا ہے۔۔۔
اور ہاں ریحان وہ تمہارا دوست ہے نا کیا نام ہے اس کا۔۔ بابا زرمان۔۔۔ ہاں اس کو بھی ضرور بلانا۔۔ٹھیک ہے بابا میں اس سے پوچھ لوں گا اگر اسے انا ہوا تو وہ ضرور ا جائے گا۔
ہاں اسے لازمی انوائٹ کرنا۔۔۔اوکے بابا۔۔۔
تو چلو پھر لگ جاؤ اپنے اپنے کام پر اور دیکھنا کھانے پینے میں کوئی کمی نہ رہ جائے اور دعوت کا اچھے سے انتظام کیا جائے فارم ہاؤس پر۔۔۔
ٹھیک ہے بابا آپ بے فکر ہو جائیں بالکل بھی شکایت کا موقع نہیں دیں گے ہم دلاور کہتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
ریحان بھی اس کے ساتھ ہی گھر سے باہر نکلا تھا انہیں اب فارم ہاؤس پر جانا تھا۔۔۔۔۔
ہیر اپنی دوستوں کو کل شام کا پلان بتا رہی تھی۔۔۔راستے میں نکلتے ہوئے ریحان نے زرمان کو فون کر کے بتایا تھا لیکن اس نے
معذرت کر لی تھی کہ وہ نہیں ا سکتا تھا اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس نے منع کر دیا تھا اواز بھی اس کی بوجھل بوجھل سی لگ رہی تھی ۔۔۔ریحان نے اس کو ارام کرنے کا کہہ کر
فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔
یوسف کو دلاور نے بتا دیا تھا اور اس نے آنے کے لیے حامی بھر لی تھی۔۔۔یاسر کی حالت اب پہلے سے بہتر تھی اور یوسف نے سوچا تھا کہ وہ یاسر کو بھی ساتھ ہی دعوت میں لے کر جائے گا
وہ یاسر کی طرف سے بالکل بھی خطرہ نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔۔
وہ یاسر کو اپنی انکھ سے بھی اوجھل نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔
یاسر کو ہاسپٹل سے چھٹی مل گئی تھی اور یوسف گھر پر ہی اس کا بھر پور خیال رکھ رہا تھا۔۔۔۔ سب کو اب کل کا انتظار تھا مطلب کہ دعوت کا انتظار تھا۔۔۔
ہیر اپنے کمرے میں کھڑی اپنے کپڑوں کا انتظام کر رہی تھی کہ کون سے کپڑے پہننے ہیں۔۔۔
سب کا ہی ارادہ تھا کہ چمک دھمک والے کپڑے پہنے جائیں اور وہی ہونا تھا ہیر نے اپنی الماری کھولی ۔۔ اور اپنے لیے کپڑے دیکھنے لگی۔۔۔ ہیر کی الماری میں ایسا کوئی چمک دھمک والا لباس
نہیں تھا جو وہ پہن سکتی کل کی دعوت کے لیے۔۔۔ہیر نے فکر کرنا چھوڑ دی کہ کل یونیورسٹی سے واپس ا کر وہ دوپہر میں جا کر کوئی
کپڑے لے ائے گی۔۔۔۔

یہ اگلے دن کا منظر تھا ہیر اپنے کمرے میں تھی اور ائینے کے سامنے کھڑی اپنی چادر سر پر لے رہی تھی کچھ دیر میں اس کو یونیورسٹی کے لیے نکلنا تھا اور وہ ابھی ہی لیٹ تھی اج ریحان نے سوچا تھا کہ وہ اس کو یونیورسٹی چھوڑ کر وہیں سے فارم ہاؤس کی طرف چلا جائے گا تھوڑی بہت تیاریاں رہ گئی تھی جو کرنی تھی ۔۔۔ سب کے کپڑے تیار تھے سوائے ہیر کے ہیر نے کبھی کوئی چمک
دھمک والا لباس لیا ہی نہیں تھا کبھی کوئی ایسا موقع ہی نہیں ایا تھا شادیوں میں بھی وہ چمک دھمک والے لباس سے گریز ہی کرتی تھی نا جانے کیوں اس کو ایسے کپڑے پسند ہی نہیں تھے
لیکن اب شاید پہننا ضروری تھا کیونکہ سب ہی پہن رہے تھے۔۔ وہ یونیرسٹی پہنچی تو رخسار اور حیات اس کو کلاس میں داخل ہوتی مل ہی گئی ۔۔ زر مان اج نہیں ایا تھا اُس کی طبیعت
خراب تھی ۔۔ اور اس کے بنا ہیر کو یونیورسٹی میں گزرا دن فضول لگ رہا تھا۔ ہاں ہیر کو اس کی عادت ہو گئی تھی ۔۔
اُس کے موں سے روز محبت کا اظہار سننے کی عادت ہو گئی تھی ۔۔

اور اج وہ نہیں ایا تھا۔ ہیر کو فکر بھی ہو رہی تھی اُس کی طبیعت جو خراب تھی ۔۔۔ وہ بورنگ سا دن تھا ۔۔ افق نے لیکچر دیا ۔۔۔
ہیر نے خاموشی سے لے لیا ۔۔ کوئی فضول بات ہوئی نہیں تھی ۔۔
افق نے محسوس کیا تھا ہیر کا یہ رویہ ۔۔ لیکن در گزر کر دیا ۔۔۔
اور پھر کلاس کے بعد وہ گارڈن میں بیٹھی اپنی دعوت میں جانے کی باتیں کر رہی تھی ۔۔ اور حیات نے پوچھ ہی لیا ۔۔ کون ۔کون
آرہا ہے دعوت میں ۔۔۔
زیادہ کوئی نہیں سب جاننےوالے ہے ۔۔
تم دونوں ہو یوسف بھائی ہیں اور یاسر بھائی یوسف بھائی کے دوست ہیں وہ ہیر نے بتایا ۔۔۔ اور قاسم کے گھر والے اور تو کوئی نہیں ہے ۔۔۔ یوسف کا نام سن کے حیات کے
چہرے پر مسکراہٹ آئی اور پھر وہ دن یاد آیا جب یوسف نے اس کو بچایا تھا اور اپنی محبت کا اظہار کر دیا تھا جانے انجانے میں اور پھر شاید یوسف بھول بھی گیا ۔۔۔؟ حیات کے دماغ
میں آیا تو مسکراہٹ چہرے سے غائب ہو گئی ۔۔ کیا وہ سچ میں بھول گیا کے اُس نے اظہار کیا تھا ۔۔؟ لیکن وہ کیسے بھول سکتا ہے ۔۔۔؟ شاید غصے میں تھا اس لیے بھول گیا ہے کے اُس نے محبت کا اظہار کیا تھا میرے سامنے ۔۔ نہیں مطلب میرے سامنے نہیں ۔۔ اُن لوگوں کو مارتے ہوئے ۔۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ بھولا نہیں ہے ۔۔۔ اُس کو یاد ہے بس بتانا
نہیں چاہتا ۔۔ اج پوچھ کے رہوں گی ۔۔
کے اُس کو یاد ہے یا بھول گیا ۔۔
لیکن پوچھوں گی کیسے اُس سے میں ۔۔۔؟ حیات اب سوچ رہی تھی ۔۔ جب ہیر اور رخسار نے اس کو ہلایا۔ کہاں گم ہو تم ۔۔
کب سے آواز دے رہے ہیں ہم
ن۔۔ نہیں ۔۔کہیں نہیں ۔۔ میں سن رہی ہوں ۔۔ کہو ۔۔
رہنے دو تم خیالوں میں رہو ۔۔۔۔
نہیں میں خیالوں میں تو نہیں ہوں ۔۔۔ حیات نے انکار کیا تو ہیرا رور رخسار نے اس کو گھورا لیکن کچھ بولی نہیں تو حیات خود ہی
چُپ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔

ہیر کے دماغ میں تھا کے اُس کو اپنے کپڑے لینے ہیں ۔۔
یونیورسٹی کے بعد وہ گھر اگئی ۔۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ ایک پل کو روکی ۔۔۔ اس کے بیڈ پر کوئی گفٹ باکس پڑا تھا ۔۔
اس نے وہ پکڑا ۔۔ اُس کو اُٹھایا اور حیران ہوئی یہ کس نے رکھا ہے ۔۔۔؟ اس نے پاس میں پڑے کارڈ کو دیکھا ۔۔۔ اُس کو کھولا اور پڑھا ۔۔
میں جانتا ہوں تم حیران ہو گی کے گفٹ میں کیا ہے لیکن وہ کھولوگی تو پتہ چل جائے گا ۔۔ اور ہاں ۔۔ تمھاری مرضی ہے تم یہ گفٹ رکھنا چاہوں تو رکھنا نہیں تو پھنک دینا ۔۔۔ بس کارڈ میں اتنا ہی لکھا تھا ۔۔ ہیر حیران ہوئی ۔۔ آخر کون ہےیہ سب بھجنے والا ۔۔۔ ؟ ہیر نے گفٹ کھولا ۔۔۔ اندر ۔۔ سیاہ رنگ کی لونگ گاؤن تھی ۔۔ خوبصورت ۔۔ گاؤن ۔۔ جو ستاروں کی
طرح چمک رہی تھی ۔۔۔ ہیر نے اس کو باہر نکلا ۔۔ ساتھ میں ایک سیاہ گلاب بھی رکھا تھا ۔۔۔ ہیر نے اس کو بھی پکڑا ۔۔
اخر یہ کون تنگ کر رہا تھا اس کو ۔۔ ایسا کون تھا جو اس کو اتنا جانتا تھا ۔۔ کے اُس کویہ بھی پتہ تھا میرے پاس کپڑے نہیں دعوت میں پہنے کے لیے ۔۔۔ جب کے یہ بات میرے اپنے گھر والے نہیں جانتے ۔۔ ۔۔ اس کا مطلب صاف تھا ۔۔۔ جو ہیر کو سمجھ اگئی تھی ۔۔ کے اس پر نظر رکھی جا رہی تھی ۔۔ ہیر نے اپنے کمرے کے کونے کونے میں دیکھا کوئی کمرا تو نہیں تھا کہیں ۔۔ پھر نظر کھڑکی پر پڑی جو بند رہتی تھی اور جو گارڈن کی طرف کھلتی تھی ۔۔ لیکن کھڑکی
سے کوئی کیوں دیکھے گا ۔۔۔ گھر کے اندر تو کوئی ا ہی نہیں سکتا تھا کے گارڈن تک جاتا ۔۔۔ گردن تو گھر کی پچھلی طرف بنایا گیا تھا ۔۔

اب ہیر سوچ رہی تھی یہ کپڑے پہنے کے نہیں ۔۔۔ اور اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ یہ کپڑے نہیں پہنے گی۔۔ کبھی نہیں پہنے گی ۔۔۔ پھر ہیر کمرے سے باہر آئی ۔۔ اماں
ریحان کہاں ہے وہ تو فارم ہاؤس پر ہی ہے آیا نہیں ہے ابھی تک ۔۔۔ اچھا تو بابا کہاں ہیں ۔۔ ؟ وہ ارام کر رہے ہیں ہیر ۔۔ اماں میرے پاس کپڑے نہیں ہے
کوئی اچھے پہنے کے لیے ۔۔ میں کیا پہنوں ۔۔ دیکھو ہیر اتنے کپڑے تو ہے۔ کوئی ہو گا اُن میں سے پہن لو ابھی تو نہیں لا سکتے نہ نئے کپڑے ۔
اماں آؤ میرے ساتھ بازار چلتے ہیں
نہیں ہم نہیں جا رہی بہت کام ہے ابھی ہمیں ماں نے منع کر دیا تو ہیر کمرے میں واپس آگئی ۔۔ مطلب اب وہی گاؤن پہنی پڑے گی اس نے دل میں سوچا ۔۔
اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ گاؤن کو پکارتی واشروم چلی گئی ۔۔۔
پھر کچھ دیر بعد باہر آئی ۔۔ گاؤن پہنے ۔۔ بال گیلے تھے جن کو تولیے میں بند رکھ تھا ۔۔ پھر وہ آئینے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔۔ بالوں کو ہیر ڈرائر سے سکھاتے ہوئے ۔۔ اس نے بالوں کو اونچی
پونی میں باندھا۔۔ جو ہوا میں جھولتی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔۔ نیچے سے اس نے بالوں کو سٹریٹ کر رکھا تھا ۔۔ پھر اس نے کاجل اٹھا کر آنکھوں میں لگایا ۔۔ پھر ہلکے گلابی رنگ کی لپسٹک
لبوں پر لگائی ۔۔ کانوں میں سیاہ ہیرے والے ایئر رنگز پہنیں ۔۔ گاؤن پاؤں تک آتی تھی ۔۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
وہ جب کمرے سے باہر نکلی تو رخسار اور حیات تیار اس کے گھر میں باہر ہی صوفے پر بیٹھی تھی جو تھوڑی دیر پہلے ائی تھی کیوں کے
ان کو ہیر کے ساتھ ہی جانا تھا ۔۔
رخسار اور حیات خود گاؤن میں تھی ۔۔ گولڈن گاؤن اور گلابی گاؤن ۔
۔ وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
لیکن ہیر کو دیکھ کر سب ہی حیران رہ گئے تھے ہیر کسی اپسرا سے کم نہیں لگتی تھی ۔۔ البتہ گلے میں دوپٹہ ڈال رکھا تھا ۔۔ جو اس کو اور خوبصورت بنا رہا تھا ۔۔
وہ گاڑی میں ا کر بیٹھے ۔۔ اور فارم ہاؤس کے لیے نکل گئے ۔۔۔ قاسم لوگ اپنے گھر میں تیار ہو رہے تھے ۔۔۔ قاسم نے ڈارک بلو کلار کا پینٹ کورٹ پہن رکھا تھا ۔۔ اور بالوں کو ہمیشہ کی طرح جیل سیٹ کیا تھا ۔۔ پرفیوم کی خوشبو قاسم کے پاس سے ارہی تھی ۔۔۔ ہاتھوں میں سیاہ گھڑی پہنے جو نہ جانے کتنے لاکھوں کی تھی ۔۔
وہ بہت پر کشش لگ رہا تھا ۔۔ ابھی ان کو نکلنے میں تھوڑی دیر تھی ۔۔۔ وہ گاڑی نکل رہا تھا ۔۔۔
ہیر پورے فارم ہاؤس میں گھوم رہی تھی ۔۔ جب اچانک ہیر کے فون پر زر مان کا فون ایثا ۔۔ یوسف اور یاسر بھی ابھی نہیں ائے تھے ۔۔ اور قاسم کے گھر والے بھی نہیں ائے تھے ۔۔۔ سب اُن کا ہی انتظار کر رہے تھے ۔۔
ہیر فون اٹھاتی اوپر والے فلور پر چلی گئی جس کی سیڑھیاں لاؤنچ کے درمیان میں سے اوپر کو جاتی تھی ۔۔۔ وہ اوپر گئی اور فون کان سے لگایا ۔۔
آپ تو دعوت خوب انجوائے کر رہی ہوں گی ۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بس فارم ہاؤس گھوم رہی تھی ابھی قاسم کے گھر والے اور یوسف بھائی بھی نہیں ائے ۔۔۔
دیکھیں میری بات سنیں اس قاسم کے بچے سے تو دور ہی رہیے گا ۔۔ جتنا میں نے اس کو جانا ہے مطلب اپ نے جتنا مجھے اس کے بارے میں بتایا
ہے ان سب سے میں نے یہی اندازہ لگایا ہے کہ وہ نہایت ہی ٹھرکی قسم کا ادمی ہے نہیں میرا مطلب ہے چپکو قسم کا ادمی ہے
اس لیے اپ اس سے دور ہی رہیے گا میں جانتا ہوں اپ اس وقت بہت خوبصورت لگ رہی ہوں گی ۔۔
تم کیسے جانتے ہو ۔۔؟
اپ ہمیشہ ہی خوبصورت لگتی ہیں لازمی سی بات ہے اج بھی لگ رہی ہوں گی میں وہاں پر نہیں ہوں کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے نہیں تو میں ضرور اتا ہیر ۔۔
کوئی بات نہیں تم ارام
کرو زرمان کی اواز سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ اس کی طبیعت واقعی خراب تھی ۔۔ تھوڑی بہت باتوں کے بعد ہیر نے فون بند
کر دیا کیونکہ ایک دم نیچے باتوں کی اواز سنائی دینے لگی تھی مطلب قاسم کے گھر والے اور یوسف بھائی بھی شاید اگئے تھے۔۔۔۔
ہیر نے اپنے قدم سیڑھیوں سے نیچے اتار دیے قاسم ہاتھ میں کوئی جوس کا گلاس پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔ جو اس کو میڈ نے تھوڑی
دیر پہلے ہی دیا تھا ۔۔۔ وہ اس وقت ریحان کے پاس کھڑا تھا اور کچھ باتیں کر رہا تھا جب
اس نے ہیر کو اپنی سیاہ گاؤن سنبھالتے اوپر سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھا ۔۔ ہیر بے نیاز سی اپنی سیاہ گاؤن سنبھالتی سیڑیوں سے نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔ انکھوں میں کاجل ڈالے بالوں کو
اونچی پونی میں باندھے گلابی لپسٹک لگائے ۔۔ وہ کسی ابسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ قاسم کی نظر اس پر پڑی اور قاسم خان کے ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس گرتے گرتے بچا ۔۔ ریحان اس
سے کچھ کہہ رہا تھا لیکن قاسم کو سنائی نہیں دے رہا تھا قاسم اپنی بات بھی بھول گیا تھا نظریں ہیر پر تھیں ۔۔ قاسم کھو گیا تھا کسی سحر میں کسی جادو میں۔۔۔۔

وہ چلتی ہوئی اپنی اماں تک اگئی جن کے پاس رخسار اور حیات کھڑی تھی پاس میں یوسف بھی کھڑا تھا جو یاسر کا تعارف کروا رہا تھا ۔۔
یاسر کے بازو میں پٹی بندھی تھی جو اس کی گردن تک اتی تھی ۔۔۔ لیکن یاسر کی حالت اب پہلے سے بہتر تھی۔۔۔
یوسف کی نظر حیات سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی اور ریحان وہ تو رخسار کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
سب کی اپنی اپنی انکھیں سب کا اپنا اپناچاند
کچھ وقت گزرا اور پھر وہ ڈائننگ ایریا میں اگئے جہاں کھانے کا بہت ہی اعلی انتظام کیا گیا تھا ۔۔۔ بہت ساری چیزیں بنائی گئی تھیں کھانے میں۔۔۔ سب ڈائننگ ایریا میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ کھانا کھا رہے تھے
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد۔۔۔سب بڑے لاؤنج میں ا کر صوفوں پر بیٹھ گئے جبکہ۔۔
سب چھوٹوں نے اپنی الگ ہی ٹولی بنائی ہوئی تھی ہیر رخسار اور حیات خاموشی سے باہر گارڈن میں لگی چیئرز پر بیٹھے تھے جبکہ ریحان یوسف قاسم اور یاسر اور شاہان یہاں وہاں ٹہل رہے تھے ۔۔۔
حیات اپنی جگہ سے اٹھی اور اٹھ کر یوسف تک آئی ۔۔۔ مجھے اپ سے ایک بات کرنی ہے ۔۔جی کریں نا کب روکا ہے میں نے اپ کو ۔۔ یہاں نہیں کرنی اکیلے میں کرنی ہے
یوسف اس کی بات سمجھتا ذرا سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔
جی کہیں سن رہا ہوں۔۔۔
میں اپ کو کیسی لگ رہی ہوں ۔۔۔؟
اچھی لگ رہی ہیں آپ ۔۔۔
اچھا یہ سب چھوڑیں مجھے اپ سے پوچھنا تھا کہ اپ نے۔۔
میں نے کیا۔۔؟
وہ اپ نے ۔۔
اگے کچھ اور بھی بولیں ؟
مطلب یوسف اپ نے اس دن ۔۔ حیات سے کہا ہی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ کیا حیات اپ کیا کہنا چاہتی ہیں صحیح سے بتائیں۔۔۔
میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اس دن جب اپ نے مجھے بچایا تھا وہ ان لڑکوں سے تو اپ نے اس غصے میں وہ جلدی جلدی میں کچھ کہا تھا اپ کو یاد ہے کیا۔۔۔؟
میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا۔۔۔!!! یوسف بات سمجھ گیا تھا لیکن اس کا ارادہ حیات کو تنگ کرنے کا تھا۔۔
اپ کو یاد نہیں ہے اپ بھول گئے ہیں اپ نے میرے بارے میں کچھ کہا تھا۔۔۔
حیات اپ بات کو گھما کیوں رہی ہیں صحیح سے بات کریں نا۔۔۔
یوسف اب کی بار بولا تو حیات جھنجھلا گئی مجھے کچھ بولنا ہی نہیں ہے۔۔۔
اللہ اپ جیسا بلکڑ انسان کسی کو نہ دے۔۔۔ مجھے بات ہی نہیں کرنی حیات پیر پٹخ کر جانے لگی تو یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑا اور پھر ہنسنے لگا۔۔۔ اچھا سمجھ گیا ۔۔
کیا سمجھ گئے ہیں۔۔ اپ تو ہیں ہی بہت بھلکڑ ہاتھ چھوڑیں میرا حیات اب سچ میں غصے میں تھی ۔۔۔ گالوں پر لگا بلشون تھوڑا اور سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
اچھا سنیں تو صحیح میں اپ کو بتاتا ہوں۔۔۔
اپ یہی پوچھنا چاہتی ہیں نا کہ اس دن میں نے کہیں غصے میں اپنی محبت کا اظہار تو نہیں کر دیا تھا
یوسف کے اس طرح کہنے پر حیات کا دل بے ساختہ دھڑکا۔۔۔
ج۔۔ جی ۔۔
تو ٹھیک ہے میں اپ کو بتا دیتا ہوں کہ ہاں اس دن میں نے غصے میں اپنی محبت کا اقرار کر دیا تھا۔۔۔ اج میں محبت سے اپنی محبت کا اقرار کرتا ہوں ۔۔۔ کہ حیات میں اپ سے محبت کرتا
ہوں ۔۔۔ بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اپ سے بے انتہا اتنی محبت کہ میں اپ کو اپنی بیوی کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں اپنی دلہن کے روپ میں ۔۔۔ یوسف بولتا جا رہا تھا اور حیات کے گال شرم سے سرخ ہوتے جا رہے تھے وہ یہ توقع بھی نہیں کر سکتی تھی یوسف اس طرح
سے کہے گا کچھ ۔۔۔۔

جب کہ دوسری طرف ریحان رخسار سے بات کر رہا تھا۔۔۔
جو کچن میں شاید پانی پینے کے لیے آئی تھی ۔۔۔
اور ریحان صاحب بھی ان کے پیچھے ہی اگئے تھے۔۔۔
ویسے اج آپ پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔
اچھا جی ۔۔وہ تو میں روز ہی لگتی ہوں ۔۔۔ نہیں اج اپ کچھ زیادہ پیاری لگ رہی ہیں میری نظر سے دیکھیں نا اپ کی نظر سے میں کیسے دیکھوں ۔۔۔رخسار کا پورا ارادہ تھا ریحان کو تنگ کرنے کا ریحان نے اس کی طرف قدم بڑھائے اور بالکل اس کے سامنے ا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ میری انکھوں میں دیکھیں ۔۔۔
ریحان نے ہلکی اواز میں کہا رخسار پل بھر کو خاموش ہو گئی ۔۔۔۔
ن۔۔ نہیں مجھے نہیں دیکھنا۔۔
رخسار نے کہتے ہوئے قدم کچن سے باہر کی طرف بڑھائے ہی تھے کہ وہ پیچھے سے بولا ۔۔۔
اپ مجھے اچھی لگتی ہیں میڈم ۔۔۔۔ بہت زیادہ اچھی ۔۔۔ ریحان بولا رخسار نے مسکراتے ہوئے قدم باہر کی طرف ہی بڑھا دیے ۔۔۔ اور ریحان پیچھے سے اس کو دیکھ کر رہ گیا ۔۔۔
اس نے کچھ بولا کیوں نہیں۔۔۔””””
ریحان نے سوچا اور پھر خود بھی اس نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے۔۔۔
یاسر شاہان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا ساتھ میں جوس پی رہا تھا ۔۔
ان کے کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔۔۔
جب کے قاسم ہیر کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔
میں توقع بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میں کبھی تمہیں اس طرح سجے سنورے روپ میں دیکھوں گا ۔۔۔ لیکن دیکھو اج وہ تمنا پوری ہو گئی ۔۔ قاسم تھوڑا فاصلہ بنائے کھڑا بول رہا تھا ۔۔
تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو جیسے اندھیری رات میں چاندنی ہو ۔۔ بہت حسین ۔۔۔ ہیر کچھ گربرائی ۔۔۔ میں چلتی ہوں ہیر نے کہتے ہوئے گارڈن سے قدم اندر کی طرف بڑھائے ہی تھے کہ وہ بھی اس کے پیچھے ایا تو ہیر رک گئی اپ
کیوں اس طرح میرے پیچھے ارہے ہیں۔۔۔
بس ایسے ہی۔۔۔۔
دیکھیں قاسم ۔۔۔ اللہ ۔۔ ایک با رپھر کہو ۔۔
کیا ۔۔۔۔؟ میر ا نام کہو ۔۔ کتنا پیارا لگتا ہے تمہاری اواز میں میرا نام ۔۔
قاسم میرے بات سنے ۔۔ ہیر کا اج ارادہ تھا کہ وہ اس کو بتا دے کہ وہ اس کو پسند نہیں کرتی نہ ہی وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے
ابھی وہ بولنے ہی لگی تو قاسم فورا سے بول دیا ۔۔ میں تمہاری نہیں تم میری سنو ۔۔۔ دیکھو ہیر ۔۔ تم بہت اچھی ہو ۔۔ اس لیے
ہی مجھے پسند ہو ۔۔۔ تم اور لڑکیوں کی طرح نہیں ہو ۔۔۔ اور میں تمھیں بتا دوں میں بھی اور مردوں کی طرح نہیں ہوں قاسم کی اواز میں گہرائی تھی ۔۔ جیسے وہ کچھ جاتا رہا تھا ۔۔۔
اور میں تمہیں پسند کرتا ہوں ہیر ۔۔ ہماری شادی بھی ہو جائے گی ایک دن ۔۔ تم کتنا بھی بھاگنے کی کوشش کرو لیکن تمہاری شادی میرے ساتھ ہی ہونی ہے یہ تمہارے بابا نے تح کیا ہے ۔۔
اور میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔۔ بس ایک بات کہنا چاہتا ہوں کے ہیر ۔۔۔۔ قاسم روکا ۔۔۔ ہیر کا سانس تھام سا گیا میری پسندگی کا فائدہ نہیں اٹھانا ۔۔ اور مجھے دھوکہ دینے والے
لوگ نہیں پسند ۔۔ مجھے وہ لڑکیاں نہیں پسند جو دل میں کسی اور کو رکھیں اور شادی کسی اور سے کریں ۔۔۔ اس لیے ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تمھارے دل میں بھی میں ہی رہوں ۔۔
اگر تم نے کسی کو پسند کیا ۔۔ یہ مجھے دھوکہ دیا ہیر ۔۔۔ تو ۔۔ تمھاری جان لے لوں گا میں ۔۔۔۔ قاسم اس کے کان میں لٹکتے ایئر رنگ کو چھوتا اُس کے کان کو ٹچ کرتا اس کے پاس سے گزر گیا ۔۔ اور ہیر وہاں کھڑی پتھر کی ہو گی ۔۔۔
ی ۔۔ یہ جان سے مرنے کی دھمکی تھی ۔۔۔ ؟ اور یہ اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ٹچ کرنے کی ۔۔۔ “”” ہیر بس دیکھ کر رہ گئی ۔۔ وہ ایسے کیسے کر سکتا ہے ۔۔۔ ہیر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔ اور پھر ہیر کو محسوس ہوتا رہا کے پورے وقت قاسم کی نظر اس پر ہی تھی ۔۔۔ وہ اس کو ہی دکھ رہا تھا ۔۔ جب ہیر اُس کو دیکھتی تو وہ مسکرا دیتا ۔۔۔۔ ہیر نے ہمیشہ قاسم کا نرم مزاج ہی دیکھا تھا ۔۔ تو اج پھر یہ جان سے مارنے کی دھمکی ۔۔ یہ کیا تھا ۔۔۔۔ ؟”””””””

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *