قصاص قسط نمبر :6
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
ہیر اپنے گھر میں داخل ہوئی اور سامنے کھڑے اپنے بھائی کو دیکھا ریحان کو نہیں دلاور خان کو ہیر کے رنگ ہوا ہو گئے پہلا دیدار ہی جب خطرے کا ہو تو کس کا دل کرتا ہے سانس لینے کا۔۔۔
اج بہت لیٹ ہو گئی ہو تم کہاں پر اوراگردی کرتی رہی ہو پورا دن ۔۔دلاور کے پہلے سوال پر ہی ہیر کے دل کو ٹھیس پہنچی تھی لیکن خیر اب عادت ہو گئی تھی۔۔۔
کہیں نہیں بھائی یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھی تھی یقین نہیں اتا تو حیات یا پھر رخسار سے پوچھ لیں۔۔۔۔اور پھر ہیر نے دیکھا تھا کہ رخسار کا نام سنتے ہی دلاور کے ماتھے پر پڑی سلوٹیں غائب ہوئی تھی۔۔نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے یقین کر لیتا ہوں۔۔۔۔ دلاور نے کہتے ہوئے قدم گھما دیے تو ہیر نے شکر کا سانس لیا۔۔۔
ہیر ابھی جانے ہی لگی تھی تو ایک بار پھر دلاور اس کو پکار کر بولا سنو لڑکی ۔۔۔۔ ہیر نے ایک بار پھر اس کو دیکھا۔۔ جی بھائی۔
تمہاری وہ دوست کا کیا نام ہے دلاور نے بھلکڑ بننے کی کوشش کی۔۔
رخسار ہیر فورا بولی ۔۔۔
ہاں رخسار وہ اج نہیں ائی تمہارے ساتھ۔۔
جی اس کو گھر جانا تھا۔۔
اچھا صحیح۔۔۔۔۔۔ کل تمہیں یونیورسٹی سے میں لینے کے لیے اؤں گا دلاور بولا تو ہیر
نے حیران ہو کر اپنے بھائی کو دیکھا کیوں ۔۔ ؟
کیوں ۔۔۔۔کا کیا مطلب ہے اب سوال کرنے لگو گی میرے ساتھ۔۔۔
دلاور نے تیکھی نظروں سے ہیر کو دیکھا۔۔۔ ن ۔۔ نہیں مطلب پہلے تو کبھی نہیں ائے۔۔۔ پہلے کی بات اور تھی اب اور بات ہے تمہارا کیا بھروسہ اب کون سا چکر چلا لو تم۔۔۔
ہیر کا تو دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے بنا کچھ کہے بنا کچھ سنیں اپنے کمرے میں چلی گئی
کمرے میں ائی تو اس کے کمرے میں ریحان کھڑا تھا وہ نہ جانے اس کے کمرے میں کیا کر رہا تھا۔۔۔
تم ہمارے کمرے میں کیا کر رہے ہو ہیر نے فورا پوچھا۔۔۔ کچھ نہیں میں بس ایک کتاب لینے ایا تھا ۔۔
اچھا تم کب سے کتابیں پڑھنے لگے۔۔۔
بس ایسے ہی دل کر لیا کتاب پڑھنے کا یہیں کہیں پڑھی ہوتی ہیں نا تمہاری کتابیں
اتنی بڑی انکھیں ہیں تمہارے پاس سامنے بک شلف نظر نہیں ارہی کیا ۔۔
ریحان مسکراتے ہوئے بک شلف کی طرف بڑھا اور پھر اپنی پسند کی ایک کتاب اٹھائی وہ شاید ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے کمرے میں ایا تھا وہ کم ہی اس کے کمرے میں ایا کرتا
تھا اور ہیر ائے دن اپنے کمرے کی سیٹنگ وغیرہ بدلتی ہی رہتی تھی
لے لی کتاب ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔؟
ہاں لے لی ہے۔۔۔
ہاں تو پھر جاؤ ہمارا منہ کیا دیکھ رہے ہو پہلے ہی ہمارا موڈ بہت خراب ہے
کیوں کیا ہوا تمہارے موڈ کو دلاور بھائی نے پھر کچھ کہا ہے تمہیں۔۔؟
کہنا کیا ہے کہہ رہے تھے کل یونیورسٹی خود چھوڑ کے ائیں گے لیکن مجھے ان کے ساتھ نہیں جانا پورے راستے باتیں سناتے ہیں رہیں گے ہمیں۔۔۔
ریحان اس کی بات پر مسکرایا۔۔ تو کوئی بات
نہیں میں چھوڑ دوں گا۔۔۔
پکا۔۔ ہاں تو اور بہن صاحبہ پکا میں چھوڑ دوں گا تمہیں ویسے بھی اسی بہا نے تمہاری اس دوست
کو بھی دیکھ لوں گا ۔۔
کس دوست کی بات کر رہے ہو۔۔۔
رخسار کی بات کر رہا ہوں اور کس کی بات کر رہا ہوں گا حیات کی تو کروں گا نہیں ۔۔۔
ہیر نے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے ان کو دیکھا ایک تو میرے دونوں بھائی ایک ہی لڑکی پر فدا ہو گئے ہیں لگتا ہے ہیر بولی۔۔
تو ریحان نے ہیر کی طرف دیکھاکیا مطلب۔۔۔
مطلب یہ کہ دلاور بھائی بھی مجھے چھوڑنے کے لیے نہیں بلکہ رخسار کو دیکھنے کے لیے جا رہے ہیں اور اب تم بھی۔۔۔
مطلب دلاور بھائی کے دل میں بھی کچھ ہے رخسار کے لیے ریحان بے ساخت بولا ۔۔
نہیں ایسا لگتا تو نہیں ہے میرا نہیں خیال ایسا کچھ ہوگا ویسے بھی دلاور بھائی کسی سے پیار کر لیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہیر فورا بولی تھی ہیر یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھی کہ دلاور کو کبھی محبت ہو بھی سکتی تھی اور یہ بات ایک طریقے سے حقیقت ہی
تھی دلاور خان کو قید پسند نہیں تھی وہ کبھی بھی اپنے گلے میں محبت کی رسی کو برداشت نہ کرتا۔۔۔۔۔
تو اب تمہارا کیا ارادہ ہے تم کیا کرو گے۔۔۔
کچھ نہیں کروں۔۔ گا دیکھتے ہیں رخسار کو ہم میں سے کون پسند اتا ہے
اچھا اور مان لو رخسار نے تمہیں پسند کر لیا تو پھر تم کیا کرو گے۔۔
کیا کروں میں شادی کی عمر ہو رہی ہے شادی کروں گا۔۔۔ کیا تمہیں پھوپھو بننے کا شوق نہیں ہے۔۔۔
دفع ہو جاؤ بھرے بچپنے میں ہمیں پھو پھو بنانے چلے ہو تم۔۔۔
اس کی بات پر وہ بے ساختہ ہنسا۔۔۔
تو لازمی سی بات ہے شادی کی عمر ہو گئی ہے میری اب شادی کرنا تو بنتی ہے نا بابا کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا میں جانتا ہوں۔۔۔۔
اچھا صحیح چلو دیکھتے ہیں وہ تم دونوں میں سے کس کی قسمت میں لکھی ہے کیونکہ تم جانتے ہو اگر وہ دلاور بھائی کو پسند اگئی تو وہ چھین لیں گے تم سے۔۔۔۔
دیکھتے ہیں کہ وہ ہم دونوں میں سے کس کو پسند کرتی ہے ریحان نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال پیچھے کو سیٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
حیات اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جب اس کے فون پر یوسف کا نام چمکا اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ ائی اس نے فون اٹھایا اور کان سے لگایا دوسری طرف سے اس کا حال احوال پوچھا گیا تھا۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں اپ کا بہت شکریہ۔۔۔
کتنی عجیب بات ہے میں نے اپ کا حال
پوچھا ہے لیکن اپ میرا نہیں پوچھ رہی انسان کو تھوڑا تو خیال ہونا چاہیے مانا اپ میں بہت غصہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اپ میرا حال ہی نہ پوچھیں۔۔۔
اچھا تو کیا حال ہے اپ کا اپ خود ہی بتا دیں حیات نے کہا۔۔۔
میرا حال بے حال ہے میں کیا بتاؤں اپ کو۔۔۔
کیوں کیا ہوا ہے اپ کو۔۔؟حیات نے پوچھا
ہونا کیا ہے ایک کیس سالو کرنے گیا تھا بہت
دماغ کھپایا پورے دن سے میں تھک گیا ہوں
اچھا تو اپ نے وہ کیس ایک دن میں ہی سالو کر دیا۔۔۔
تو اور اتنا دن تو میں نہیں لگاتا کسی بھی کیس میں ویسے ہی بہت فائل پڑی ہیں میرے سامنے ۔۔ اچھا صحیح تو پھر ایک کیس میری طرف سے بھی لکھ لیں۔۔۔
یوسف کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی کیوں اپ کو کیا ہوا ہے اپ نے کیوں کیس لکھوانا ہے کچھ ہوا ہے کیا اپ کے ساتھ ہوا نہیں ہے ہو رہا ہے اپ کیس لکھیں۔۔۔۔
اچھا بتائیں میں لکھتا ہوں حیات مسکرائی۔۔۔اچھا لکھیں
ایک پاگل پولیس افیسر میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔۔۔
اپنے کمرے میں بیٹھا یوسف بے ساختہ مسکرایا اب اپ مجھے پاگل کہہ رہی ہیں۔۔۔
اچھا مطلب اپ کو پتہ چل گیا میں اپ کی بات کر رہی تھی
تو میرے علاوہ کون پولیس افیسر ہے جو اپ کے پیچھے بڑا ہے حیات صاحبہ۔۔۔
یہی تو میں کہہ رہی ہوں۔۔۔ ابھی وہ فون پر بات کر ہی رہی تھی جب پیچھے سے حیات کی امی نے
اس کو اواز دی تھی اور پھر وہ کمرے میں اندر ہی اگئی۔۔ ذرا باہر اؤ۔۔ رحیم ایا
اور عریشا ائے ہیں ۔۔ اچھا امی بٹھائیں میں اتی ہوں بس
کس سے بات کر رہی ہو ہیر ہے۔ ۔۔۔ اس کی ماں نے پوچھا تھا تو حیات بولی ۔۔ نہیں امی ہیر نہیں ہے یوسف ہے۔۔
فون پر اس کی اواز سنتا یوسف ٹھٹکا کیا اس کے گھر والوں کو پتہ تھا کہ وہ اس سے بات کرتی تھی۔۔۔۔
اچھا صحیح میری بھی بات کرواؤ یوسف سے۔۔۔
اور پھر حیات نے کان سے لگایا فون اپنی ماں کی طرف بڑھا دیا
اس کی ماں نے یوسف کا حال احوال پوچھا اور یوسف نہایت ہی کنفیوز ہوا تھا۔۔۔۔ وہ پہلے اتنا کنفیوز کبھی نہیں ہوا تھا جتنا اب ہو رہا تھا۔۔۔
تم ہیر کے بھائی ہو نا۔۔۔موں بولے بھائی حیات نے مجھے بتایا تھا
جی انٹی میں ہیر کا بھائی ہوں ۔۔۔
ہاں صحیح حیات نے بتایا تھا تم بہت اچھے ہو۔۔۔
جی صحیح کہا۔۔وہ شدید کنفیوز تھا اور اپنے کمرے میں بیٹھی حیات دھیما دھیما مسکرا رہی تھی
فون اس کی ماں نے کان سے ہٹایا اور پھر یوسف نے حیات کو فورا بولا اپ لگی رہیں اپنی امی کے ساتھ میں بعد میں بات کرتا ہوں اس نے فورا فون بند کر دیا اور حیات بےساختہ ہنس پڑی
اس کی ماں اس کو ہی دیکھ رہی تھی اب ا جاؤ باہر۔۔۔۔
جی میں بس ا رہی ہوں۔۔
اچھا ویسے یوسف اچھا لڑکا ہے
جی اچھا تو ہے لیکن سر پھرا بھی بہت ہے۔۔۔ سر پھرا سے مطلب تمہارا۔۔۔
کچھ نہیں امی کچھ دن پہلے کی بات ہے وہ میرے سے باہر ٹکرا لیا
تھا پھر ہم کافی پیتے پیتے باہر نکلے تھے اور ایک لڑکے نے مجھے
بائک پر تنگ کیا تھا۔۔۔ یوسف کو تو اس پر غصہ اگیا تھا۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا کہ بتاؤں گا اس کو میں
بہت مشکل سے میں نے اس کو کہا کہ رہنے دو ضرورت نہیں ہے اس کی بات پر حیات کی امی مسکرائی مطلب اچھی بات ہے نا وہ اپنی ہونے والی بیوی کا بہت خیال رکھے گا۔۔
۔ویسے کہا تو صحیح ہے اپ نے کہ وہ اپنی بیوی کا تو بہت خیال رکھے گا,۔۔
ویسے کیسا ہو کہ اس کی بیوی ہی تم بن جاؤ تو ماں نے ایک دم جیسے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا
استغفراللہ کیا سوچ رہی ہیں اپ ۔۔اپ کو پتہ ہے نا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے فحال شادی کرنے کا اپ کیا سوچ رہی ہیں امی نہیں میں نے تو بس اپنے دل کی بات بتائی ہے جس طرح تم
اس کی تعریفیں کر رہی ہو لگتا ہے تمہیں وہ پسند اگیا ہے یا پھر وہ تمہیں پسند کرتا ہے جس طرح وہ تمہیں بچانے کے لیے بھڑک اٹھا تھا اس بائک والے لڑکے کے اوپر ۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے امی اپ بہت زیادہ سوچ رہی ہیں میرا خیال ہے اپ کو ریسٹ کرنی چاہیے میں ذرا باہر جا رہی ہوں رحیم اور عریشہ سے ملنے
وہ اٹھ کر باہر اگئی جہاں پر اس کے دونوں کزن اس سے ملنے کے لیے ائے ہوئے وہ دونوں عمر میں اس سے چھوٹے تھے۔۔۔
اور دونوں ہی اس کو اپی کہتے تھے ۔۔۔۔
بہت دنوں بعد ائے ہو کوئی کام اگیا ہے کیا میرے سے حیات باہر اتی ہوئی ان کو دیکھ کر بولی۔۔۔اپ ا گئی اپ کو پتہ ہے
ہمیں کتنا مشکل پروجیکٹ ملا ہے سکول کی طرف سے۔۔۔
کیا ملا ہے۔ ۔۔۔ ہمیں ایک اچھا سا گھر بنا کر لے کر جانا ہے لیکن ہمیں سمجھ نہیں ارہی اب ہم کریں کیا۔۔۔ اچھا چلو
پھر میں تم لوگوں کو بتا دیتی ہوں کیسے بنے گا باقی تم لوگ اپنے گھر جا کر بنا لینا کیونکہ میرا بالکل دل نہیں ہے اس وقت تمہاری مدد کرنے کا تم دونوں ہی مطلب پرست ہو۔۔۔
ایسا تو نہ کہیں اتنے بھی مطلب پرست نہیں ہیں ہم اچھا اپ ہمیں سمجھا دیں ہم چلے جائیں گے رحیم برا سا منہ بناتے ہوئے بولا
اور پھر حیات نے ان کو سمجھانا شروع کیا کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر واپس چلے گئے تھے حیات جب واپس اپنے کمرے میں ائی تو یوسف کا فون بار بار ارہا تھا۔۔۔ فون اٹھایا اور کان سے
لگایا کتنی بار اپ کو فون کر چکا ہوں اپ نے اٹھایا ہی نہیں کہاں چلی گئی تھی اپ۔۔۔ اپ کو پتہ ہے میں پریشان ہو گیا تھا میں نے کہا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے جو اپ میرا فون نہیں اٹھا
رہی۔۔ وہ یک دم ہی بول پڑا تھا۔۔
بریک لگائیں انسپیکٹر صاحب بریک۔۔۔ حیات گڑبڑا کر بولی۔۔۔ اپ کہاں پر چلی
گئی تھی اور میں اپ سے پوچھنا بھول گیا یہ رحیم کون ہے۔۔۔
اس کے بات پر حیات مسکرائی میرا کزن ہے
تو وہ اپ سے ملنے اپ کے گھر پر کیوں ایا ہے کیونکہ کزن ہے اس لیے میرے سے ملنے اگیا۔۔۔
اچھا اب چلا گیا ہے کیا
ہاں اب تو چلا گیا ہے اس نے بس کچھ پوچھنا تھا پوچھ لیا اور اب واپس چلا گیا بہت دنوں بعد ایا تھا مجھے تو ویسے بہت خیال ا رہا تھا اس کا میرا دل کر رہا تھا میں خود ہی مل اؤں اس سے
جا کر یوسف کو عجیب سی جلن ہوئی اپ کیوں ملنے جائیں گی اس سے اگیا نا وہ بس اب اپ کے گھر بات ختم۔۔۔ میری تو مانیے تو ایسے چھچھورے لوگوں سے دور رہنا چاہیے اپ کو ۔۔۔ حیات نے گہرا سانس لیا انسپیکٹر صاحب وہ بچہ ہے۔۔
اس کی بات پر یوسف گڑبڑایا۔۔ ا۔۔ اچھا ۔۔ ب۔ ۔بچا۔ہے ۔۔
جی ہاں وہ بچہ ہے اور اس کی بہن بھی اس
کے ساتھ ائی تھی ان کو سکول سے پروجیکٹ ملا ہے میرے سے وہ پوچھنے کے لیے ائے تھے اپ اتنا کیوں جلنے لگ گئے ہیں
کون جل رہا ہے میں تو نہیں چل رہا۔۔۔
لیکن مجھے تو بدبو ارہی ہے کسی چیز کے جلنے کی حیات اب اسے تنگ کرنے لگی۔۔۔
مجھے نہیں ارہی بدبو اپ کا ناک خراب ہو گیا ہے حیات کہیں تو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں اپ کو یوسف اب بات بدلنا چاہ رہا تھا۔۔۔
ویسے اتنا تو کنفرم ہو گیا ہے اپ بہت الٹا سیدھا سوچ لیتے ہیں۔
اپ نے کیا کچھ سوچ لیا ہوگا اب تک۔۔۔ ن۔۔ نہیں میں نے تو کچھ نہیں سوچا۔۔۔ مجھے پہلے ہی شک تھا وہ اپ
کا کزن ہی ہے اور یقینا وہ بچہ ہی ہے۔۔۔ جی تبھی اپ اتنا پوچھ رہے تھے ویسے میں پوچھ سکتی ہوں اپ کس حق سے اتنی پوچھ گچ کر رہے ہیں ۔ اپ کا فرینڈ ہوں اس لیے۔
اچھا تو کیا میں نے اپ کو کہا کہ اپ میرے فرینڈ ہیں یا میں یہ مانتی ہوں کہ اپ میرے فرینڈ ہیں۔ نہ مانے میں اپ کی فرینڈ کا بھائی ہوں ۔۔ اب اتنی تو خبر ہونی چاہیے نا کہ میری بہن کی دوست کن لوگوں سے ملتی ہے۔ اس کو بات پر
حیات ہنسنے لگی اپ پاگل ہو گئے ہیں ۔۔۔ نہیں فی الحال تو ٹھیک ہوں اگے کا کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔ ہو جاؤں تو مجھے ڈاکٹر کے
پاس لے جائے گا خدا حافظ یوسف پہلے ہی بہت گڑبڑایا ہوا تھا اور اس نے بے ساختہ فون بند کر دیا۔۔۔۔ وہ حیران تھی پولیس افیسر بھی اتنی کنفیوز ہو سکتے تھے پورا دن لوگوں کو۔ مارنے والا ان پر غصہ کرنے والا اس کے سامنے بھیگی بلی بن
جاتا تھا وہ حیران تھی یہ کیا چیز تھا ۔۔۔۔۔
ریحان اس وقت کسی بیکری میں کھڑا کچھ لے رہا تھا۔۔۔۔
وہ شاید کوئی کولڈ ڈرنک لینے کے لیے اندر گیا تھا۔۔۔ ریحان ادھر ادھر نظر دوڑاتا ہوا۔۔۔ کولڈ ڈرنک کے ساتھ کچھ اور چیزیں لے رہا تھا جب اس کی نظر دور سے چادر میں اتی رخسار پر پڑی وہ حیران ہوا پھر غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ہاں
وہ رخسار ہی تھی وہ چلتا ہوا اس تک اگیا۔۔۔ رخسار۔۔۔
ا اپنا نام سن کر وہ بری طرح ٹھٹکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا ریحان
اپ یہاں پر جی میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے کے لیے ایا تھا اپنے اور ہیر کے لیے ہم نے سوچا کیوں نہ اج ہم کوئی مووی وغیرہ دیکھ لیں اپ بھی ا جائیں ہماری طرف ۔۔
جی میں ضرور اتی لیکن فی الحال میرے پاس ٹائم نہیں ہے میں اپنے بھائی کے ساتھ ائی ہوں کچھ چیزیں وغیرہ لینی تھی مجھے یہاں سے ۔۔
اچھا صحیح ہے ایک بات پوچھوں اپ سے رخسار نے ریحان کو مخاطب کیا جی پوچھیں یہ اتفاق سے ہم ملے ہیں یا اپ میرا پیچھا کر رہے ہیں ۔۔۔؟
استغفراللہ مجھ جیسا شریف ادمی اپ کا پیچھا کر سکتا ہے بھلا ریحان نے فورا انکار کیا
نہیں مجھے بس ایسے لگا کہ شاید اپ میرا پیچھا کر رہے ہیں
نہیں میں اپ کا پیچھا نہیں کر رہا پاس میں ہی تو میرا گھر ہے اپ کو بھی پتہ ہے
میں بس کچھ چیزیں ہی لینے ایا تھا مجھے نہیں پتہ تھا اپ یہاں پر موجود ہوں گی
اچھا صحیح چلیں ٹھیک ہے اپ اپنی چیزیں لیں
میں اپنی لے کر گھر جاتی ہوں
جی صحیح کہا اپ نے اچھا ایک اور بات پوچھوں اپ سے
جی پوچھیں۔۔۔؟
اپ نے اس دن پشتو
میں مجھے کیا کہا تھا میں اس دن سے یہ بات سوچ رہی ہوں اور میرا سر روز درد کرنے لگ جاتا ہے اپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔۔
ریحان اس کی بات پر مسکرایا مطلب اپ باتیں بھولتی نہیں ہیں بہت ذہین لگتی ہیں اپ
ہاں ویسے تو میں بہت ذہین ہوں لیکن پڑھائی سے میں اپنی جان چھڑوانا چاہتی ہوں دماغ بہت
خراب کرتی ہے پڑھائی میرا۔۔
اچھا خیر یہ سب چھوڑیں۔۔۔ریحان نے بات پلٹی ۔۔
رخسار پھر بولی اپ بتائیں اپ نے کیا بولا تھا اس دن پشتو میں۔
اچھا بتا دوں تو وعدہ کریں کہ مجھے تھپڑ نہیں ماریں گی۔۔۔
کیوں اپ نے کوئی فضول قسم کی بات کی تھی نہیں ویسے فضول قسم کی بات تو نہیں تھی اب اپ کو فضول لگے تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔
نہیں مارتی تھپڑ اپ بتائیں۔
میں نے اس دن بس اپ کو پشتو میں یہ کہا تھا کہ اپ بہت خوبصورت ہیں۔ ۔
اس کی بات پر رخسار کے گال سرخ پڑے
سچ میں۔۔۔
جی بالکل میں نے بس یہی کہا تھا اس کے علاوہ میں نے کچھ بھی نہیں کہا اپ سے اور میری کہاں مجال میں اپ کو کچھ کہہ سکوں ابھی وہ
یہ باتیں کر ہی رہے تھے جب بیکری کے اندر رخسار کا بھائی شاہان
بھی داخل ہوا۔۔۔ کتنی دیر لگانی ہے تم نے دو چار چیزیں لینے ائی ہو اور اتنی دیر لگا رہی ہو۔۔۔ اس کو کسی سے بات کرتا دیکھ کر شاہان اس کے پاس اگیا ۔۔۔ پھر اس لڑکے کو دیکھا
جو رخسار سے بات کر رہا تھا یہ کون ہے رخسار۔۔ یہ ریحان ہے ہیر کا بھائی۔۔۔ اس نے ہیر کے بارے میں اپنے گھر میں بتا رکھا تھا شاہان نے گردن ہلا دی۔۔ ریحان نے ہاتھ اگے بڑھایا تو شاہان نے اس کا ہاتھ تھام کر مسکرا کر اس کو دیکھا۔۔۔ اور بتاؤ بڈی کیا حال ہے ۔۔۔ اس کے دوستانہ انداز پر ریحان ہلکا سا مسکرایا میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو۔۔۔ ریحان بھی
اسی کے انداز میں بولا۔۔
اللہ کا شکر ہے میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔
او ہیلو تم دونوں مجھے بھول گئے ہو کیا میری وجہ سے تم دونوں ملے ہو اور اپس میں لگ پڑے ہو میرا کوئی خیال نہیں ہے کیا۔۔۔
رخسار ان کو باتیں کرتا دیکھ کر بیچ میں بولی۔۔۔ تم نے دو لڑکوں کی بات میں کیا کرنا ہے چھوٹی بچی ہو ابھی تم شاہان بولا تو ریحان نے اس کو دیکھا۔۔۔
اچھا صحیح مطلب شا ہان بڑا ہے عمر میں۔۔۔
ریحان بولا تو رخسار نے گھور کر اپنے بھائی کو دیکھا
یہ بڑا نہیں ہے یہ عمر میں میرے سے چھوٹا ہے 17 سال کا ہے بس یہ اس کو بڑا بننے کا شوق ہے بس۔۔۔ ریحان شاہان کے قد اور جسامت کی دیکھ کر حیران رہ گیا یہ 17 سال کا ہے۔۔۔
لگتا تو نہیں ہے کہ یہ 17 کا ہے۔۔۔
ہاں لگتا نہیں ہے کیونکہ اپنی عمر سے بہت بڑی بڑی باتیں کرتا ہے اور اللہ نے اس کو قد بھی بہت بڑا ہی دے دیا ہے ائی فل ٹاور کہیں تو زیادہ صحیح ہے۔۔۔ رخسار اور شاہان دونوں
یہاں پر بھی لڑنے شروع ہو گئے تھے اور ریحان خاموشی سے ان کو لڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ریحان کو بالکل ہیر اور اپنے جیسی لڑائی لگی تھی وہ دونوں بھی ایسے ہی لڑتے جھگڑتے تھے
چلو تم دونوں کسی دن اؤ ہمارے گھر۔۔۔ میں تو کہتا ہوں ہم کہیں پر گھومنے چلیں گے سب مل کر
سب کون شاہان بولا تھا۔۔۔
ہیر کے کچھ اور دوست بھی ہیں یونیورسٹی میں حیات اور کیا نام تھا اس لڑکے کا۔۔۔ ا۔۔۔ ہاں زرمان۔۔۔ زرمان راجپوت
کیوں نہ ہم سب کہیں پر گھومنے پھرنے کا پلان بنائے بہت وقت ہو گیا ہے ہم کہیں پر گئے نہیں ہیں اور دوستوں کے ساتھ گھومنا بہت صحیح ہے۔۔۔
چلیں صحیح ہے کل ہم اپ کی طرف ا جائیں گے پھر کہیں جانے کا پلان بناتے ہیں۔۔۔
میں کل یونیورسٹی سے ہی ہیر اور حیات کے ساتھ اپ کی طرف ا جاؤں گی اور زرمان کو بھی پلان کا بتا دیں گے۔۔۔
نہیں تم ایک کام کرنا جب تم لوگ ہماری طرف اؤ تو زرمان کو بھی ساتھ ہی لے انا کافی سلجھا ہوا لڑکا ہے وہ بابا سے ملواؤں گا اس کو۔۔۔لیکن ہیر بتا رہی تھی کہ اپ کے بڑے بھائی
بہت غصے والے ہیں جب ان کو پتہ چلے گا کہ وہ ہیر کی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے تو بہت غصہ کریں گے۔۔۔
نہیں غصہ کریں گے نہ ان کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ ہیر کے ساتھ پڑھتا ہے میں بس یہ بتاؤں گا کہ وہ میرا دوست ہے چلیں صحیح ہے میں بتا دوں گی
سب کو۔۔۔۔ ریحان نے باہر نکل کر ان کو خدا حافظ کہا اور شاہان نے گاڑی اگے بڑھا دی۔۔۔۔
ریحان اپنے گھر ایا تو ہیر اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے ابھی میں باہر گیا تھا اور مجھے کون ملا تھا۔۔
کون ملا تھا۔۔
میری ملاقات رخسار سے ہوئی تھی ہیر اور اس کا
چھوٹا بھائی بھی ساتھ ہی تھا۔۔
اچھا وہ یہاں پر کیا کر رہے تھے ۔۔۔
یہ پاس میں ہی ایک بیکری ہے وہاں پر کچھ چیزیں لینے کے لیے ائے تھے دونوں بہن بھائی۔۔
صحیح۔۔۔۔
وہ کل ہماری طرف ائیں گے دونوں ۔۔تم اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کو بھی اپنے گھر
لے انا۔۔
کون دوست۔۔
ارے حیات اور زرمان کی بات کر رہا ہوں۔۔ ہیر کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ گئی ۔۔ ہ۔۔
حیات تو ٹھیک ہے ۔۔ لیکن زرمان۔۔۔؟
ہاں زرمان بھی ہم نے سوچا ہے کہیں گھومنے پھیرنے کا پلان بنائیں گے۔کسی اچھے پارک میں چلے جائیں گے یا پھر ہیر کے مزار پر چلیں گے ہیر صحیح ہے نا۔۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن میں سوچ رہی ہوں کہ دلاور بھائی کو اگر پتہ چلا نا کہ وہ میرے ساتھ پڑھتا ہے یونیورسٹی میں تو دلاور بھائی میری جان لے لیں گے اور دوسری بات یہ کہ وہ اس کو گھر
میں بھی داخل نہیں ہونے دیں گے کیا تم نہیں جانتے ان کے غصے کو ہیر کو اب سچ میں ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
وہ کچھ بھی نہیں کہیں گے اور میں اچھے طریقے سے جانتا ہوں ان کے غصے کو لیکن مجھے اتا ہے ان کو سنبھالنا تم یہ نہیں بتانا کہ
زرمان تمہارے ساتھ یونیورسٹی میں پڑتا ہے میں بس خود بابا اور دلاور بھائی سے زرمان کو یہ کہہ کر ملواؤں گا کہ وہ میرا دوست
ہے اور ہم ایک وقت سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔ اس طرح سے اس کو گھر میں انے سے کوئی بھی نہیں روکے گا اور تمہیں بھی کوئی کچھ نہیں کہے گا میں ہوں نا۔۔۔
لیکن ریحان مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے دلاور بھائی نے اگر۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں میں سنبھال لوں گا کچھ بھی نہیں ہوتا اور اگر انہیں پتہ چل بھی گیا کہ وہ تمہاری یونیورسٹی میں پڑتا ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کسی کی مجال نہیں ہے کوئی تمہیں کچھ کہہ سکے۔۔۔۔ میں ابھی ہوں ہیر تم کیوں ڈرتی ہو۔۔۔
تم بس تیاری کرو کل ہم چلیں گے میرے خیال سے ہمیں جانا چاہیے ہیر کے دربار پر۔ ہم کبھی نہیں گئے اتنے وقت سے ہم بچپن سے جھنگ میں رہتے ہیں ہم یہاں پیدا ہوئے ہیں لیکن کبھی ہم نے ہیر کا مزار نہیں دیکھا۔۔۔
ویسے بات تو تمہاری صحیح ہے چلو دیکھ لیتے ہیں کل ہم ہیر کے مزار پر ہی چلیں گے۔۔۔ نیا ایکسپیرینس بھی ہو جائے گا ہمارا۔۔۔
یہ بات بالکل صحیح کہی ہے دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے ۔۔۔
چلو اب تم ارام کرو رات بہت ہو گئی ہے ارام سے سو جاؤ صبح تمہیں ویسے بھی جلدی اٹھنا ہے اخری دن ہے تمہارے اسئنمنٹ کا۔۔۔
ہاں بس میری دعا ہے کہ اب میں کامیاب
ہو جاؤں۔۔
اللہ تمہیں کامیاب کرے گا ٹینشن لینے کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ ریحان نے اس کو تسلی دی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔
یہ صبح کا وقت تھا۔۔ ہیر اپنے بستر سے اٹھی اور اپنے بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں باندھ کر واش روم میں فریش ہونے کے لیے چلی گئی کچھ دیر بعد وہ نہا کر باہر ائی تو اس کے گیلے بال کمر پر لہرا رہے تھے وہ باہر ائی اور ہیئر ڈرائر سے اپنے بال سکھائے
اج اس نے جامنی رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی
وہ اس میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی بالوں
کو ڈھیلے جوڑے میں باندھتے ہوئے اس نے سر پر دوپٹہ لیا اور کمرے سے باہر نکلی وہ یونیورسٹی جانے کے لیے تیار تھی اور اج تو ویسے بھی
ریحان نے چھوڑ کر انا تھا
وہ باہر نکلی تو ریحان گاڑی کی چابی پکڑے پہلے سے ہی تیار کھڑا تھا چلو چلیں اس سے پہلے کہ دلاور بھائی ا جائیں۔۔۔
بابا سے اجازت لے لی ہے تو بابا نے کہا ہے کہ چھوڑ اؤ اس لیے اگر دلاور بھائی اب پوچھیں تو کچھ نہیں کہہ سکیں گے وہ
چلو ٹھیک ہے ہیر کہتی ہوئی ریحان کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی
اور پھر وہ گاڑی میں ا کر بیٹھے کچھ دیر بعد ریحان نے اس کو یونیورسٹی کے باہر اُترا تو باہر ہی اس کو حیات اور رخسار مل گئی تھی زرمان تھوڑا فاصلے پر اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔
اس کا دھیان ان کی طرف نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔تو اج کا پکا پلان ہے نا ہم نے ہیر کے دربار پر جانا ہے۔۔
اچھا مطلب جگہ اپ لوگوں نے ہیر کے دربار سوچی ہے جانے کے لیے رخسار نے پوچھا ۔۔
ہاں میں نے سوچا اتنے وقت سے ہم جھنگ
میں رہتے ہیں لیکن ہم نے کبھی ہیر کا دربار نہیں دیکھا تو اج ہم ہیر کا دربار گھومیں گے میں نے سنا ہے اتنا بڑا نہیں ہے لیکن خوبصورت ہے۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے جاتے ہیں تو پھر دیکھتے ہیں کیا ہوگا پہلے ہم اسئنمنٹ دیکھ لیں کیا ہوتا ہے اس کا
رخسار اور حیات ہیر کے ساتھ کہتی اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔
زرمان اپنے دھیان میں اندر داخل ہو رہا تھا جب رخسار اور حیات اور ہیر بھاگتے ہوئے اس کے ساتھ ا کر چلنے لگی ہم اج ہیر کے مزار پر جا رہے ہیں لیکن اس سے پہلے سب میرے
گھر پر ا رہے ہیں تم چلو گے ہمارے گھر پر اس کے الفاظوں پر زرمان ٹھٹکا۔۔۔
ل۔۔۔ لیکن اپ نے تو کہا تھا کہ اپ کے بھائی اپ کو ڈانٹیں گے۔۔۔
تم یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ بن کر وہاں نہیں جا رہے نہ ہی میرے کلاس فیلو بن کر جا رہے ہو تم ریحان کے دوست بن کر جاؤ گے کیونکہ سب دوستوں نے مل کر گھومنے کا پلان بنایا ہے۔۔۔اس لیے دلاور بھائی تمہیں یا کسی کو بھی کچھ نہیں کہیں گے تم ہمارے بابا سے ملنا دیکھنا وہ کتنے پیار سے تم سے ملتے ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے میں اؤں گا زرمان نے ہاں کہہ دی۔۔۔۔
ان کی کلاس شروع ہو گئی تھی اور اب باری تھی اسسائنمنٹ چیک کروانے کی سب نے اپنا اپنا اسسائنمنٹ چیک کروایا اور جب ان چاروں کی باری ائی تو انہوں نے بھی اپنا اسئنمنٹ
چیک کروایا۔۔۔ اور ان کا اسسائنمنٹ پروفیسر کو خاصے اچھا لگا تھا۔۔۔ ۔۔۔ انہوں نے بنا کیسی غلطی کے بہت توجہ سے اسسائنمنٹ تیار کیا تھا۔۔۔۔ پروفیسر ان کی توجہ پر بہت
خوش ہوئے تھے۔۔۔۔
اج کا دن ہم کوئی پڑھائی نہیں کریں گے تم لوگوں نے ویسے ہی بہت دماغ لگا کر اسسائنمنٹ پورا کیا ہے اج کا دن ہم بس باتیں کریں گے گیمز کھیلیں گے یا جو بھی کرنا ہے وہ کریں گے اپنے دل سے۔۔۔۔۔
اچھا تو یہاں پر ہم دو طرح کے گیمز کھیلیں گے۔۔۔ ایک کوئی اٹھ کر غزل گائے گا۔۔۔ اور دوسرا کوئی شاعری سنا دے جو بھی صحیح لگے ہم دو ٹیمز بنا رہے ہیں جس کو شاعری سنانی ہے
وہ شاعری والی ٹیم میں ا جائے اور جس کو غزل گانی ہے وہ غزل کی ٹیم میں اجائے۔۔۔۔
ہیر کا کوئی ارادہ نہیں تھا گیم کھیلنے کا لیکن حیات اور رخسار کے کہنے پر وہ مان گئی تھی۔۔۔۔۔ زرمان نے غزل والوں کی ٹیم
چنی تھی جبکہ ہیر شاعری کے لیے تیار تھی ۔۔۔۔
غزل کی محفل شروع ہوئی تو زرمان کھڑا ہو گیا
پہلا نمبر ہی اس کا تھا اس کے سامنے ہیر بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ہیر کی انکھوں میں دیکھا اور پھر بولنا شروع کیا۔۔۔۔
کب تک رہو گے اخر یوں دور دور ہم سے۔۔۔۔
ملنا پڑے گا تم کو ایک دن ضرور ہم سے
زرمان نے ہیر کی انکھوں میں دیکھا وہ شاید اسی کے لیے تو بول رہا تھا۔۔۔ کم سے کم ہیر کو اس وقت یہی احساس ہو رہا تھا
دامن بچانے والے یہ بے رخی کیسی ۔۔؟
کہہ دو اگر ہوا ہے کوئی قصور ہم سے ۔۔۔۔
ہیر کی دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھی ۔۔۔
ہم چھین لیں گے تم سے یہ شان بے نیازی
تم مانگتے پھرو گے اپنا غرور ہم سے
زرمان کو وہ لمحہ یاد ایا جب پہلی بار اس انا پرست لڑکے نے ہیر کو دیکھا تھا۔۔۔ اس کی انا مٹی میں مل گئی
ہم چھوڑ دیں گے تم سے یوں بات چیت کرنا
پوچھتے پھرو گے اپنا قصور ہم سے۔۔۔
زرمان کو وہ لمحہ یاد ایا جب اس نے ہیر کو کہا تھا کہ وہ اس کے سامنے انا بھی چھوڑ دے گا۔۔۔
اور پھر ہیر کے سامنے وہ نہیں ایا تھا جبکہ ہیر نے خود اسے ڈھونڈا تھا۔۔۔۔
کب تک رہو گے یوں دور دور ہم سے۔۔۔
ملنا پڑے گا تم کو ایک دن ضرور ہم سے ۔۔۔۔
زرمان اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گیا دل کے حال تو ویسے ہی اس نے بیان کر دیے تھے
اس کے بعد پروفیسر نے ہیر کو اٹھنے کے لیے کہا تو وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ ہیر اپ کو کیا سننا ہے ۔۔۔
پتہ نہیں سر ۔۔ ہیر کو سمجھ ہی نہیں ائی کیا بول
چلیں ہیر اپ کو جو سننا ہے سنئے ۔۔ پروفیسر بولا تھا اس نے زرمان کو دیکھا اور پھر بولنا شروع کیا۔۔۔
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ ۔۔۔
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات ۔۔۔ترا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات ۔۔۔ تیری
انکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔۔۔
ہیر کا دل چاہا اج وہ کہہ دے زر مان کی تعریف میں جو وہ کہہ سکتی تھی ۔۔۔۔
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے ۔۔یوں نہ تھا، میں نے
فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانہ میں محبت کے سوا۔۔۔ راحتیں اور بھی
ہیں وصل کی راحت کے سوا
اور ہمت نہیں ہوئی اور ہیر خاموش ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔
زر مان نے بے ساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
کوئی اواز تھی جو اندر تک بالکل چھو کر گئی تھی۔۔۔
وہ اس کے لیے ہی تو پڑھ رہی تھی وہ اس کے لیے ہی تو بول رہی تھی۔۔۔ وہ اس کے بارے میں ہی تو بول رہی تھی
سب باری باری کھڑے ہوتے اور پھر کبھی شاعری سناتے تو کبھی غزل ۔۔۔ لیکن زرمان اور ہیر کسی سحر میں کھوئے ہوئے تھے۔۔۔۔ زرمان کو تو جیسے ہوش ہی نہیں تھی وہ تو
جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا تھا الفاظ تھے جو اس کے کانوں میں گونج رہے تھے
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔۔۔
تیری صورت سے ہے عالم بہاروں کو صباحت۔۔۔
تیری انکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیاہے۔۔۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔
وہ انکھیں بند کیے ہیر کے الفاظوں کو سن رہا تھا اس کے کانوں میں ابھی بھی ہیر کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔۔
گہرا سانس لے کر اس نے اپنی انکھیں کھول دی ۔۔۔۔
کچھ دیر میں یونیورسٹی سے اف ہونا تھا۔۔۔
یونیورسٹی سے اف کے بعد وہ سب ایک ساتھ ہی ہیر کے گھر ائے تھے۔۔۔
جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئے تو دلاور اور کامران خان سامنے صوفے پر ہی بیٹھے تھے۔۔ ایک نئے چہرے کو دیکھ کر کامران اور دلاور ایک دم سیدھے ہو کر بیٹھے۔۔۔
یہ کون ہے ریحان۔۔ کامران خان نے لہجے کو
نرم رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
بابا یہ میرا دوست ہے بہت اچھا دوست ہے میں بہت پہلے سے اسے جانتا ہوں۔۔۔
صحیح۔۔۔
بابا ہم نے اج ہیر کے مزار پر جانے کا پلان بنایا
تھا تو سوچا کیوں نہ سب دوست مل کر چل یں صحیح کیا۔۔۔کامران نے کہا ۔۔
دلاور بھائی اپ بھی چلیں نا ریحان نے اس کو دیکھ کر پوچھا تو دلاور نے نفی میں گردن ہلا دی میرے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں ہے
مجھے بابا کے ساتھ کہیں باہر جانا ہے۔۔۔
چلو ٹھیک ہے۔۔۔۔ ریحان کو پتہ تھا کہ دلاور منا ہی کرے گا اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔
زرمان اب صوفے پر بیٹھا تھا ہیر کی امی نے اس کے لیے جوس لا کر ٹیبل پر رکھا تھا کچھ دیر بعد چائے اور کچھ بسکٹ وغیرہ بھی اگئے تھے۔۔۔۔
زر مان خاموشی سے بیٹھا چائے پی رہا تھا البتہ بسکٹ کو اس نے چھوا تک نہیں تھا۔۔۔
ہاں تو بیٹا کیا کام کرتے ہو تم۔۔
کامران خان نے اس سے پوچھا۔۔
جی انکل میں کال سینٹر میں جاب کرتا ہوں۔۔۔
اچھا ماشاءاللہ گھر میں کون کون ہیں۔۔
بس میں اور میری امی ہی ہیں انکل بابا کا انتقال ہو گیا ہے۔۔۔
اچھا بہت افسوس ہوا مجھے اللہ تمہاری امی کو لمبی زندگی دی۔۔۔ انہوں نے زرمان
کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے ہیر کا دل بھر ایا۔۔۔ اس کو توقع نہیں تھی کہ کامران کبھی اپنے بیٹوں کے
علاوہ بھی کسی کے سر پر اس طرح ہاتھ رکھ سکتے تھے ۔۔۔
لیکن انہوں نے زرمان کے سر پر شفقت اور محبت بھرا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔ ریحان مسکرایا تھا۔۔۔ اور پھر کامران خان اٹھے اور دلاور کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئے انہیں کہیں پر جانا تھا کسی زمین کے سلسلے میں۔۔۔۔
اب سارے دوست بیٹھے باہر گھومنے کا پلان بنا رہے تھے۔۔۔۔
ہیر کی امی نے پوچھا تھا کہ کھانا کھانا ہے لیکن سب نے ہی منع کر دیا کہ نہیں ہم باہر سے ہی کھا کر ائیں گے ۔۔۔
ان کا پورا پلان تھا اج پورا دن باہر گھومنے کا۔۔۔۔
ہیر نے ابھی تک اپنے چہرے کے اوپر سے چادر نہیں ہٹائی تھی
زرمان کے دل میں تھا کہ شاید وہ چادر ہٹا کر اپنا چہرہ دکھائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔ ہیر نے اپنا چہرہ نہیں دکھایا تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہیر ایک بار پھر اپنے کمرے سے جب منہ ہاتھ دھو کر فریش ہو کر باہر ائی تو چادر ویسے ہی چہرے کے گرد تھی۔۔۔۔
چلیں ۔۔؟ان سب نے ہیر کو دیکھتے ہوئے کہا تو ہیر نے اسبات میں سر ہلا دیا۔۔ ہاں چلو۔۔۔
البتہ جاتے ہوئے ہیر نے ایک بار لاؤنج میں لگے بڑے سے شیشے میں اپنی چادر سر سے درست کی تھی۔۔۔
وہ شیشہ ان کے لاؤنچ میں لگا ہوا تھا ۔۔۔ جو پورا لباس دیکھنے کے لیے لگایا گیا تھا ۔۔ اور جب کوئی گھر کے اندر داخل ہوتا تو نظر سیدھی طرف دیوار پر لگے ایک شیشے پر ہی پڑتی تھی۔۔۔
جس میں پورا لباس نظر اتا تھا ۔۔۔ وہ سب گھر سے باہر نکل گئے۔۔۔
وہ دو گاڑیاں ساتھ لے کر گئے تھے ۔۔۔۔
انہوں نے ہیر کے مزار کے باہر اپنی گاڑیاں روک دی اور پھر جوتی اتار کر اندر داخل ہوئے۔۔۔ اج بہت رش تھا اندر داخل ہوئے تو زمین پر کچھ فقیر بیٹھے تھے ۔۔۔
زر مان اور ہیر اور سب ہی اندر داخل ہو گئے اس پاس قطار میں قبریں بنی تھی۔۔۔
سامنے دیوار پر لکھا تھا
دربار عاشق صادق مائی ہیر میاں رانجھا
انہوں نے اس پر نظر ڈالی ۔۔۔ ۔۔ اور پھر ہیر کی قبر ارام گھا ۔۔ کے قریب ائے ۔۔۔
اُس دربار پر انے والے آدھے سے زیادہ نہ کام محبت والے تھے ۔۔۔
اور آدھے جن کی محبت انجام تک پہنچی تھی۔۔۔
پھر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے سب اپنی اپنی دعا مانگ رہے تھے اور ہیر اپنی دعا مانگ رہی تھی۔۔۔ میں نے ہیر رانجھا کی محبت کے قصے سن رکھے ہیں اللہ زرمان نے دھیمی اواز میں کہا۔۔۔۔
میں ان کے مزار پر ایا ہوں اپ سے اپنی محبت مانگنے۔۔۔۔
لوگ ان کی ادھوری محبت کا واسطہ دے کر اپنی محبت پوری ہو جانے کی دعا کرتے ہیں اللہ۔۔۔
مجھے ہیر خان کا رانجھا بنا دو ان کو میری قسمت میں لکھ دے اللہ ۔۔۔ یہ دربار ایک سچی محبت کی نشانی ہے وہ عام انسان تھے ۔۔۔ وہ انسان جنہوں نے پاک محبت کی لیکن وہ دونوں جدا ہو گئے ۔۔ میں ان سے کچھ مانگنے نہیں ایا ۔۔ میں تو آپ سے مانگنے ایا ہوں ۔۔ کیوں کے جانتا ہوں اپ ہی دے سکتے ہیں ۔۔
اس عورت کو میرا نصیب بنا دو مجھے ہیر کا رانجھا بنا دو۔۔۔۔
میں اس کے لیے پوری زندگی انتظار کر سکتا ہوں ۔۔۔ لیکن اس کے علاوہ اب کیسی کو اپنے دل میں انے نہیں دوں گا ۔۔ اُن کو میری قسمت بنا دو ۔۔۔ میں نے سنا ہے یہ دو محبت کرنے والوں کا مزار ہے ۔۔۔
میں ان سے پاک محبت کرتا ہوں بنا کیسی کوتاہی کے ۔۔۔ وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔ ان کو میرا بنا دو اللہ ۔۔۔
زرمان نے امین کر لیا اور پھر سامنے کھڑی ہیر کو دیکھا وہ بھی دعا کر رہی تھی۔۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی تھی ہیر نے امین کیا۔۔۔۔۔
وہ مزار سے باہر نکلنے لگے تو زرمان ان سب سے پیچھے تھا۔۔۔
سب اگے نکل گئے اور رش میں سمجھ ہی نہیں ائی کسی نے۔ زرمان کا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔ زرمان بے ساختہ ٹھٹک کر رکا۔۔۔
کیا دعا مانگی ہے تو نے۔۔۔ ایک فقیر نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اپنی ہیر کے مل جانے کی دعا مانگی ہے۔۔
فقیر کہکا لگا کر ہنسنے لگا۔۔۔
اگر ہیر ملنی ہوتی تو ۔۔تو رانجھانا بنتا۔۔۔
ہیر تو خود رانجھے کی قسمت میں نہیں تھی ۔۔۔ کیا تو نے نہیں سنی ہیر رانجھا کی محبت کی داستان۔۔۔ محبت تو ان کی بھی ادھوری رہ گئی تھی۔ ۔۔۔ تو تیرے نصیب میں پھر ہیر کیسے
ائے گی۔۔۔
زرمان کا رنگ پیلا پڑنے لگا۔۔۔۔
لیکن میں نے دعا کی ہی اللہ سے وہ ضرور ملیں گی مجھے
فقیر نے انکھ بھر کر زرمان کو دیکھا۔۔۔
ہیر کے مزار پر پہلی بار لوگ فریاد لے کر اتے ہیں بچے۔۔۔ اور دوسری بار یا تو اللہ کا شکر ادا کرنے اتے ہیں یا پھر جوگی بن کر دیوانے بن کر۔۔۔
جیسے رانجھا دیوانہ بن گیا تھا۔۔۔ میری دعا ہے تو دیوانہ بن کرنا ائے شکر ادا کرنے ائے۔۔۔
فقیر نے کہا اور پھر زرمان نے اپنے قدم تیزی سے باہر کی طرف بڑھا دیے۔۔۔
یقینا وہ سب لوگ اس کا انتظار کر رہے ہوں گے اس نے سوچا تھا اور پھر وہ باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔ وہ تیزی سے گاڑی میں ا کر بیٹھا تو ریحان نے فورا پوچھا تم ہمارے ساتھ ہی باہر ا رہے تھے کہاں پر رہ گئے تھے تم ۔۔
نہیں وہ بس مجھے ٹھوکر لگ گئی تھی گرتے گرتے بچا تھا۔۔۔
زرمان نے بات بدلی اچھا ٹھیک۔۔۔
ریحان ایک بات پوچھوں۔۔
ہاں پوچھو نا۔۔ تم نے ہیر کی
مزار کے قصے تو سن رکھے ہوں گے
ہاں میں نے بہت قصے سن رکھے ہیں۔۔۔
تو کوئی ایسا قصہ یاد ہے کہ یہاں پر کسی نے
دعا کی ہو اور اس کی دعا قبول ہو گئی ہو۔۔۔
ہاں ایسے بہت سے قصے سن رکھے ہیں میں نے زرمان لوگ اپنی محبت مانگنے یہاں پر اتے تھے اور ان کو ان کی محبت مل بھی گئی۔۔۔
اور اب وہ اپنی خوشحال زندگی گزار رہے ہیں میرا ایک دوست تھا میں تمہیں بتاتا ہوں ریحان نے کہنا شروع کیا ساتھ ساتھ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ ہیر رخسار اور حیات کے ساتھ
دوسری گاڑی میں تھی
میرے دوست کو ایک لڑکی سے محبت ہو گئی تھی لیکن وہ لڑکی اسے پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔ میرا دوست ایک بار ہیر کے مزار پر ایا تھا اور بہت رویا تھا یہ ساری بات اس نے خود مجھے
بتائی ہے وہ اتنا رویا تھا کہ اس کی انکھوں کے نیچے ہلکے پڑ گئے تھے میں نے اس کے حلقے دیکھے ہیں زرمان اور اس نے یہاں پر اپنی محبت کی بھیک مانگی تھی ۔۔۔
اور وہ کہتے ہیں نا اللہ دینے پر ائے تو فورا سے دے دیتا ہے بس سمجھ لو یہی ہوا تھا۔۔۔ کچھ وقت بعد اس لڑکے کے گھر ایک لڑکی کا رشتہ ایا تھا میرے دوست کے گھر۔۔ اور وہ لڑکی کوئی
اور نہیں اس لڑکے کی ہی محبت تھی جس کو میرے دوست نے چاہا تھا۔۔۔ وہ لڑکی میرے دوست کو پسند کرنے لگ گئی
تھی پتہ نہیں کب کیسے اس نے یہ مجھے نہیں بتایا نہ ہی میں جانتا ہوں لیکن وہ اسے پسند کرنے لگ گئی تھی اس کو محبت ہو گئی تھی میرے دوست سے۔۔۔
اور پھر کیا تھا بنا انتظار کیے ان کی شادی ہو گئی فورا سے۔۔۔ اب اس کے دو بچے ہیں ماشاءاللہ۔۔۔
زرمان کے دل کو سکون ملا تھا مطلب اس کی بھی دعا قبول ہو جائیں گی۔۔۔
ویسے تم یہ سب کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔
بس ویسے ہی ۔۔۔
کہیں تمہیں تو کسی سے محبت نہیں ہو گئی لڑکے ریحان نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا تھا۔۔
ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو۔۔۔
مطلب کہ تمہیں سچ میں کوئی لڑکی پسند اگئی ہے اور تم نے ہیر کے دربار پر اس لڑکی کو مانگا ہے۔۔۔
ہا میں نے اس کو مانگا تو ہے دیکھتے ہیں اب وہ ملتی ہے یا نہیں۔۔۔
وہ محبت کرنے سے ڈرتی ہے ریحان۔۔
اچھا نام کیا ہے اس کا ۔۔۔۔
تمہیں نام بتا دیا تو تم جان سے مار دو گے ۔۔
کس کو تمہیں یا ہیر کو ۔۔۔ زرمان کا رنگ فورا ہوا ہو گیا وہ یہ توقع بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ریحان اس طرح سے ہیر کا نام لے سکتا تھا۔۔۔۔ ت۔۔ تم ۔۔۔
اس کے اٹکنے پر ریحان مسکرایا
ڈرو نہیں کچھ نہیں کہوں گا میں دلاور بھائی جیسا نہیں ہوں۔۔۔ پتہ ہے مجھے تم اس کو پسند کرتے ہو اور کہیں نہ کہیں وہ بھی تمہیں کرتی ہے۔۔۔
میرے اندر وہ انا نہیں ہے زرمان۔۔۔ جو دلاور بھائی کے اندر ہے میری جگہ اگر وہ ہوتے تو یقینا انہوں نے ابھی تک تمہیں گولی مار دی ہوتی لیکن میں ویسا بھائی نہیں ہوں کہ اپنی بہن کو قید کر کے رکھوں۔۔۔۔
ل۔۔ م۔۔ لیکن زرمان ا ابھی بھی کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔۔۔
دیکھو میں نے تمہیں دوست کہا ہے میں نے تمہیں دیکھا ہے تم اچھے لڑکے ہو سلجھے ہوئے بھی ہو۔۔۔ لیکن یہ قسمت کی بات ہے میں اس میں کچھ نہیں کر سکتا جو اللہ نے چاہا وہ ہوگا۔۔
تم سچ میں میری بہن سے محبت کرتے ہو پاک محبت کرتے ہو سچی محبت کرتے ہو تو یقینا اللہ تمہارا ساتھ دے گا میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ لیکن اگر اس محبت میں ذرا سا بھی
مطلب نکلا زر مان تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔
ریحان کے لہجے میں اب کچھ تھا کہ زرمان نے بے ساختہ کہا۔۔ نہیں میں کبھی بھی ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔
میں ان سے سچ میں بہت محبت کرتا ہوں کبھی انہیں دھوکہ نہیں دوں گا۔۔۔۔
ریحان خاموش ہو گیا ۔۔۔۔
پھر زرمان بولا۔۔
تمہیں کیسے پتہ کہ میں انہیں۔۔۔
اندھا تو میں ہوں نہیں۔۔ میری بہن نے کبھی کسی لڑکے سے اس طرح سے دوستی نہیں کی۔۔۔ وہ محبت سے بہت ڈرتی
ہے دلاور بھائی کی وجہ سے لیکن میں نے اس کی انکھوں میں ایک چمک دیکھی ہے جب وہ تمہیں دیکھتی ہے تو۔۔۔
جب تم وہ پینٹنگ والے ٹائم ملے تھے ایگزیبیشن میں۔۔۔ اس وقت ہی میں سمجھ گیا تھا کہ وہ نظر عام نظر نہیں تھی وہ تمہیں عام نظر سے نہیں دیکھتی اور نہ ہی تم اسے عام نظر سے دیکھتے ہو۔۔۔۔
چھوٹا بچہ نہیں ہوں میں جو سمجھوں نا دنیا دیکھی ہے میں نے ہیر کی طرح گھر پہ نہیں رہا میں۔۔۔۔
وعدہ کرتا ہوں کبھی ان کو دھوکا نہیں دوں گا اپنی اخری سانس تک نہیں۔۔۔
ریحان نے گردن ہلا دی ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.
