Qasas Episode 1 written by Rida Fatima

قصاص

ردا فاطمہ
انتساب
نمرہ احمد لکھتیں ہیں “بیٹوں کے قصور جلدی معاف
کر دیے جاتے ہیں “سلیب پر لٹکانے کے لیے صرف
بیٹیاں ہوتی ہیں۔۔

بننے چلا تھا رانجھا ہستی بھی دی لوٹا
خود ہی بنا لوٹیرا اور میں ہی میں لوٹا
ایک رات نے ڈالا ہے ڈیرا
کوئی سحر دکھا دو ہیر جی مجھے رانجھا بنا دو ہیر جی

اماں ہم جا رہی ہے یونیورسٹی۔۔ اج اس کا پہلا دن تھا یونیورسٹی میں ۔۔وہ پٹھانوں کے خاندان میں سے تھی اور اس کے گھر والے انتہا کے سخت مزاج تھے۔۔ اس کے دو بھائی تھے جو اس سے بڑے تھے
وہ اپنے گھر کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔ اور لڈلی بھی ۔۔بڑا بھائی تھوڑا سخت مزاج تھا تھوڑا نہیں شاید کچھ زیادہ ہی جب کے چھوٹا بھائی اس سے بہت محبت کرتا تھا ۔۔ اس کے خاندان میں اجازت نہیں تھی سکول سے اگے پڑھنے کی لیکن یہ اس کا حوصلہ تھا کہ یہ یونیورسٹی کے سفر تک اگئی تھی ۔۔۔
اس کے بابا اس کی ہر فرمائش مانتے تھے جب کے بڑے بھائی نے کہا کہ کالج پڑ لیا ہے اتنا بہت
ہے لیکن پھر اس نے اپنے بابا سے خود بات کی تھی کے اُس کو ابھی پڑنا ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے چلی جاؤ ماں نے کہا تھا ۔۔
تو وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔ وہ امیر گھرانے میں سے تھی ۔۔
اس کے بابا زمین دار تھے اور بہت ہی امیر تھے ۔۔۔ پورے جھنگ شہر میں اس کے بابا کو لوگ جانتے تھے ۔۔ وہ کمرے سے باہر ائی تو اس کا الشان لاؤنج شروع ہوا ۔۔
جو انتہا کا بڑا تھا ۔۔ خوبصورت ۔۔ سامنے صوفے پر اس
کے بابا بیٹھے تھے ۔۔ اور بڑا بھائی دلاور خان بھی وہیں پر تھا ۔۔ جب کے چھوٹا
بھائی اس وقت سو رہا تھا ۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی اور لونچ میں ا کر اپنے بابا کے اگے
اس نے سر جھکایا تو کامران خان نے اس کے سر پر شفقت
بھرا ہاتھ رکھا ۔۔
بابا ہم جا رہی ہے یونی ۔۔
ٹھیک ہے جاؤ اور سنبھال کے رہنا ۔۔ کوئی تنگ کرے
تو بس ایک بار ہم کو بتانا بوٹی بوٹی کر دے گا ہم اُس کی ۔۔
باپ نے کہا تو بیٹی خاموش ہو گئی ۔۔ وہ دروازے سے باہر نکلنے لگی جب پیچھے سے بھائی نے آواز دی تھی ۔۔ ہیر دوبارہ کوئی گل کھلا کر خاندان کا نام خراب نہیں کر دینا
ہیر کے قدم روک گئے تھے بھائی کی بات سن کر ۔۔
باپ نے اس کو ٹوکا تھا ۔۔ تم کیا پرانی باتوں کو نکالتے رہتے ہو۔۔ بھول جاؤ اُس
وقت وہ ندان تھی ۔۔
بابا ندان تھی اس لیے معاف کر دیا تھا ۔۔
اب سمجھدار ہے اب کوئی غلطی کی تو قبر میں دفنا کر اوں گا
دلاور خان۔۔ باپ نے آواز اونچی کی تو دلاور خاموش ہو گیا
تمھاری کوئی حیثیت نہیں ہے ہمارے اگے ۔۔
اور دوبارہ ہماری بیٹی کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ۔۔
اس سے ایک غلطی کیا ہو گئی تم اُس کو باتیں سننے لگ گئے ہو
میں معذرت چاہتا ہوں بابا ۔۔ لیکن وہ میری بہن ہے مجھے
اُس کی پرواہ ہے ۔۔ ابھی وہ دنیا کے فریبوں سے واقف نہیں ہے صحیح سے۔۔
وہ اب واقف ہے دنیا کے فریبوں سے ۔۔
اس سے جو غلطی ہوئی ۔۔ اُس نے سابق حاصل کیا ہے
اس کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ وہ کامران خان کی بیٹی ہیر خان ہے ۔۔
اور وہ جانتی ہے اپنا اچھا بُرا ۔۔۔ باپ بولا تو دروازے میں کھڑی ہیر کا دل کھل اٹھا تھا
خدا حافظ بابا ۔۔ وہ دروازے میں بولی
خدا حافظ بابا کی جان ۔۔

وہ اپنے گھر میں تیار ہو رہا تھا ۔۔
سفید شلوار قمیض پہنے استینوں کو اس نے کہنیوں تک گھوما رکھا تھا۔۔ اور اس وقت وہ ٹیبل پر پڑی گھڑی اٹھا کر پہن رہا تھا ۔۔ پھر اس نے خود کوائینے میں دیکھتے ہوئے
اپنے بال ہاتھوں سے صحیح کیے تھے ۔۔ اس کا کمرا خوصورت طریقے سے تیار کیا گیا تھا وہ صاف صفائی پسند کرتا تھا ۔۔ اس لیے اس کی ہر چیز صحیح سے رکھی گئی تھی ۔۔ وہ کمرے سے باہر اگیا ۔۔
وہ اپنے گھر کا اکلوتا چشموں چراغ تھا۔۔ اس کے گھر میں بس اس کی ماں اور وہ ہی رہتے تھے ۔۔
اس کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا کسی نے مار دیا تھا
وہ خود کو سیاہ بخت کہتا تھا ۔۔ وہ لوگ جن کی قسمت سیاہ اندھیروں میں ہوتی ہے ۔۔۔
وہ کہتا تھا میرے جوان ہونے سے پہلے میرے ابو چلے گئے ۔۔ اس سے اچھا میں پیدا ہی نہ ہوتا ۔۔
اس کی ماں اس سے بہت پیار کرتی تھی ۔۔
امی میں یونی جا رہا ہوں ۔۔
اچھا ٹھیک ہے چلے جاؤ ۔۔ لیکن دھیان سے جانا زرمان
ٹھیک ہے امی میں دھیان رکھو گا ۔۔۔

ہیر یونیرسٹی میں داخل ہوئی اس کی دوست پہلے سے وہاں پڑتی تھی ۔۔ حیات ۔۔
اس نے حیات کو دیکھا اور پھر اس کے پاس اگئی ۔۔ حیات پنجابی گھرانے میں سے تھی ۔۔
حیات نے اس کو اتے دیکھ کر مسکرا کر گلے لگانے اگے بڑھی ہی تھی کے ہیر ایک دم پیچھے ہوئی ۔۔
دور رہو ہم سے ۔۔
کیوں ۔۔
ہم کو یہ چپکنا اچھا نہیں لگتا ۔۔ ہیر بولی تو حیات نے اس کو دیکھا فٹے حال ہے تمہارا ۔۔ تم پٹھان سڑے ہی رہتے ہو اگ کی طرح ہر وقت۔۔
ہم کو ایسا نہیں کہو تم ۔۔ اور بتاؤ کے کلاس کون سی ہے
آجاؤ میں لے جاتی ہوں حیات نے کہا ۔۔
البتہ وہ پاس سے گزرتے لڑکوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اوئے ہیر یہاں تمھیں ایک سے بڑ کر ایک فضول اور چھپری لڑکا نظر ائے گا ۔۔
ہیر اس کی بات پر ہنسی ۔۔ اچھا مطلب تمھاری یونیورسٹی میں سب چھپری لوگ پڑھتے ہیں۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے ابھی تم نے زرمان راجپوت کو نہیں دیکھا
کیوں وہ زیادہ بڑا چھپری ہے کیا
نہیں وہ یونی کا سب سے حسین انسان ہے ۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ کے اُس کو لڑکیوں سے کوئی
غرض ہی نہیں ہے ۔۔ وہ لڑکیوں سے بات ہی نہیں کرتا ۔۔
وہ بہت مغرور لگتا ہے لیکن ہے نہیں ۔۔ حیات بتا رہی تھی چلتے ہوئے ۔۔
لڑکیوں کا کرش ہے وہ ۔۔
اچھا تو تمھارا بھی ہے کیا ۔۔
نہیں ایسا تو نہیں ہے میں تو دل سے بھائی مانتی ہوں اُس کو
حیات بولی تو ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔ اچھا ۔۔ صحیح۔۔ چلو باتیں چھوڑو اب جلدی چلو کلاس میں۔۔
پھر وہ دونوں فورا بھاگی ہی تھی کلاس کی طرف کیونکہ ان
کے گلاس شروع ہو گئی تھی اور یہ لیٹ تھی۔۔۔ پہلا دن اور اوپر سے لیٹ ۔۔
ابھی وہ بھگتی ہوئی کلاس کے قریب پہنچی ہی تھی کے کیسی سے ٹکڑا گئی ۔۔
اس کی ہاتھ میں پکڑی کچھ کتابیں نیچے گری تھی۔۔ ہیر یک دم پیچھے ہوئی تھی ۔۔ دونوں کی نظر ٹکرائی تھی زرمان نےاس کو دیکھا نظر ہیر کی انکھوں پر گئی بھوری انکھیں جن میں سورج کی روشنی پڑتی تھی تو وہ اور چمکنے لگتی تھی۔۔
سفید رنگت سر پر کالی چادر جس کے ایک کونے سے اس نے اپنا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔۔۔
وہ یونیورسٹی میں اس کا سینیئر تھا۔۔ اور اتنا ذہین کے پروفیسر اس کی ذہانت کی داد دیتے تھے۔۔
اور سب کا پسندیدہ ۔۔ انا پرست وہ ایسا تھا کے پورے یونی کی لڑکیاں اس پر فدا تھی۔۔
لیکن وہ کیسی کو دیکھتا بھی نہیں تھا ۔۔ کالی سیاہ انکھوں کا ملک اور سیاہ کالے بال چہرے پر ہلکی
داڑھی اور ساولی رنگت ۔۔ انتہا کی کشش تھی اس شخص میں ۔۔ کے ہر کسی کو اپنی طرف کھینچاتا تھا ۔۔

تم کو نظر نہیں اتا اندھے ہو کیا۔۔ ہمارا ساری کتابیں تم
نے گرا دی ہیں۔۔ ہیر کے لہجے سے ہی پتہ چلتا تھا کہ وہ پٹھان تھی
ہیر چلو کیا ہو گیا ہے ۔۔ حیات بولی ۔۔
رکو ذرا ہم کو پتہ ہے یہ لوفر لڑکا جان بوجھ کر ہم سے ٹکرایا ہے وہ بول رہی تھی اور زرمان راجپوت اپنے ہوش میں ہی نہیں تھا ۔۔ جب وہ ہوش میں ایا تو اس نے ہیر کو دیکھا
م۔۔ میں معافی چاہتا ہوں ۔۔ہیر اب اس کو باتیں سناتی زمین پر بیٹھی کتابیں اٹھا رہی تھی۔۔
وہ بھی نیچے بیٹھ کر اس کی مدد کرنے لگا ۔۔ لیکن نظر ٹھہر گئی تھی اس لڑکی کی انکھوں پر ۔۔۔
اس کی اواز پر ۔۔ غلطی سے ہو گیا میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔
میں اپنے دھیان میں جا رہا تھا اور اپ سامنے اگئی۔۔
م ۔۔ میں ایک بار پھر معافی چاہتا ہوں وہ کتابیں پکڑ کر اٹھتے ہوئے بولا اور پھر کتابیں ہیر کے ہاتھ
میں پکڑوا دی۔۔۔ وہ گمبھیر لہجے میں بولا۔۔ جس میں شہر جھنگ کی
چاشنی گھول رکھی تھی۔۔۔ ٹھیک ہے ہم تم کو معاف کر دیتی ہے ۔۔ دوبارہ دیکھ کر چلنا
زرمان نے گردن جھکا دی تھی ۔۔ وہ جیسے تابعدار بن گیا تھا وہ انا پرست لڑکا اس کی انا تو مٹی میں مل گئی تھی بس ایک جھلک کی بات تھی اور وہ خاک ہو گیا تھا۔۔۔

ان کی کلاس شروع ہو گئی تھی پروفیسر سامنے کھڑا لیکچر دے رہا تھا۔۔ ہیر بڑے دھیان سے لیکچر کو سن رہی تھی۔۔ زرمان۔۔ پروفیسر نے دیکھا کہ زرمان کا دھیان لیکچر کی طرف نہیں تھا تو اس کو پکارا۔۔ لیکن زرمان نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔ زرمان راجپوت۔۔ پروفیسر تھوڑا اونچی اواز میں بولا تو زرمان ٹھٹکا پوری کلاس کا دھیان اس کی طرف ہو گیا تھا اور ہیر نے بھی اپنے پیچھے بیٹھے اس لڑکے کو دیکھا
تھا گردن گھما کر ۔۔ ج۔۔ جی سر ۔۔
زرمان اپ کا دھیان کہاں ہے اپ کو کب سے اواز دے رہا تھا۔۔
س ۔۔ سوری سر۔۔
پروفیسر نے ایک بار پھر لیکچر دینا شروع کر دیا۔۔ ہیر نے جب گھوم کر دیکھا تو زرمان شرمندہ ہوا ۔۔

کلاس ختم ہوئی تو سب کینٹین میں اگئی۔۔
ہیر ایک چیئر پر بیٹھی تھی اور حیات اس کے ساتھ والی چیئر پر۔۔ زرمان سامنے کاؤنٹر کے پاس لگی چیئر پر بیٹھا اس کو دیکھ رہا تھا۔۔ ہیر کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی وہ اس سے دور تھا ۔۔۔
کچھ لڑکیاں ہیر سے باتیں کر رہی تھی وہ شاید اس کی سینیئر تھی۔۔۔
یہ وہ لڑکیاں تھی جن سے سب دور رہتے تھے کیوں کے وہ کیسی کو تنگ کرنے سے نہیں بعض اتی تھی
ہیر کو محسوس ہوا کوئی اس کو دیکھا رہا ہے ۔۔ ہیر نے اِدھر اُدھر نظر گھوما کر دیکھا ۔۔ لیکن کوئی نہیں تھا
نام کیا ہے تمہارا ان لڑکیوں میں سے ایک نے اس سے پوچھا تھا۔۔
ہیر خان ۔۔۔ اس نے نام بتایا تو وہ لڑکیاں ہنسنے لگی
تو تمہارا رانجھا کہاں پر ہے پھر۔۔ ہیر کو ان کا مذاق شدید ناگوارہ لگا تھا۔۔
یار نام رکھنے سے پہلے تمہارے گھر والے سوچ تو لیتے کہ کتنا عجیب نام رکھ رہے ہیں۔۔۔
کیوں ہمارے نام کو کیا ہے اتنا پیارا تو ہے۔۔
اچھا چھوڑو ہمارے سوال کا جواب تو دو تمہارا رانجھا نہیں نظر ارہا کہاں پر ہے۔۔
وہ لڑکی بولی تو ہیر نے اس کو دیکھا۔۔
وہ ابھی پیدا نہیں ہوا جب ہو جائے گا تو اس کی شادی تمہارے سے کروا دوں گی ٹھیک ہے نا۔۔
ہیر اتنے تیکھے لہجے میں بولی کے وہ لڑکیاں اس کا چہرہ دیکھنے لگ گی ۔۔۔
دور بیٹھے زرمان کو الگ ہی خوشی ہوئی تھی۔۔ وہ کتنے ارام سے دوسرے کی بیزتی کرتی تھی۔۔

چھوٹی کے بعد وہ گھر ائی تو اس نے اپنی ماں کو دیکھا ۔۔
اماں ایک بات تو بتاؤ ہم کو
ہاں پوچھو ۔۔
یہ ہمارا نام ہیر کس نے رکھا تھا
تمہارے بابا نے رکھا تھا کیوں کیا ہوا۔۔
بابا کو خیال نہیں ایا کہ لوگ ہم کو تنگ کریں گے ہمارے نام سے۔۔۔
اچھا کس نے تنگ کیا ہے۔۔
کچھ نہیں اماں ہم کو کالج میں کچھ لڑکیاں بولی کہ ہمارا رانجھا کدھر ہے ہمارا نام ہیر جو رکھا ہے۔۔۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولی تو اس کی ماں نے اس کو دیکھا
اپنے بھائی کے سامنے یا اپنے باپ کے سامنے یہ الفاظ نہ نکالنا تمہارا جان لے لیں گے وہ ہیر۔۔
ہاں تو لے لیں میں ڈرتی تھوڑی ہوں کیسی سے
لڑکی ایک دن تمھارا بھائی تمھیں جان سے مار دے گا بس تمھاری ایک غلطی کی بات ہے ۔۔
ہاں تو مار دے ۔۔ ایک غلطی کی تو اس وقت ہی مار دیتا نہ کیوں زندہ رکھا ہے
تا کے روز میں اُس کی باتیں سنتی رہوں ۔۔ اس کے دوست نے پسند کیا تھا مجھے ۔۔ اُس کے دوست
نے پھسیا تھا مجھے میری تو کوئی غلطی نہیں ہے نہ اماں ہیر بولی تو مہرین بیگم نے اس کو دیکھا ۔۔موں بند رکھو اپنا تمھارے بھائی نے سن لیا نہ تو ۔۔
اماں میری غلطی نہیں تھی ۔۔ ہم اُس وقت بے وقوف تھی۔۔ ہم کو کیا پتہ تھا کے محبت
کا اظہار کر لینے سے کیسی کو سچ میں محبت نہیں ہو جاتی ۔۔ اس لڑکے نے محبت کا اظہار کیا اور میں سمجھ بیٹھی کے سچ میں محبت کرتا ہے ۔۔ جب کے وہ تو بس ہمارا مذاق بنانا چاہتا
تھا گھر والوں کے سامنے۔۔
ہیر خدا کا واسطہ ہے خاموش ہو جاؤ لڑکی ۔۔

ابھی وہ بول ہی رہیں تھی جب ہیر کا چھوٹا بھائی کمرے
میں ایا ۔۔
ہیر ہمیں ایک کپ کافی بنا دو ۔۔ ریحان نے کہا تو ہیر گردن ہلاتے کچن میں اگئی ایک کپ اس نے ریحان
کے لیے کافی بنائی اور ایک خود کے لیے ۔۔ اور پھر باہر اگئی پھر ماں کو دیکھا ۔۔ ہم اوپر چھت پر جا رہی ہے وہ کہتی اوپر چھت پر آگئی ہاتھوں میں ہیڈ فون پکڑ رکھے تھے اس کو عادت تھی یہ اکثر اوپر چھت پر لگے پھولوں کے پاس بیٹھ کر کانوں میں ہیڈ فون لگائے گانے سنتی تھی ۔۔
اور پورے دن کی یادیں یاد کرتی تھی۔۔ وہ اوپر ا کے بیٹھی ۔۔ اج کا دن وہ سوچ رہی تھی
کے کیا ہوا کیا کیا ۔۔ خیال یونیورسٹی تک گیا اور پھر اس کو وہ لڑکا یاد اگیا ۔۔ وہ تو اس کا نام بھی نہیں جانتی تھی ۔۔ اس کے لیے وہ عام سی شکل و صورت کا لڑکا تھا کیوں كے وہ سانولا تھا ۔۔ لیکن عجیب کشش تھی اس میں ۔۔
کون تھا وہ ۔۔ ؟اس کے دل نے سوال کیا تو اس نے خود کو جھٹکا کیا سوچ رہی ہے تو ہیر ۔۔ یہ غلط ہے ۔۔ ایک غلطی کی سزا کاٹ رہی ہے دوسری غلطی نہیں کرنی ۔۔ محبت کے نام سے بھی دور رہنا ہے ۔۔ محبت لڑکیوں کی قسمت نہیں ہوتی ۔۔ لڑکیاں کریں تو جرم بن جاتی ہے اور لڑکے کریں تو گھر میں
خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔۔ کے ہمارے لڑکے کو محبت ہو گئی ہے ۔۔۔ اس نے خود کو سمجھایا ۔۔ اور اس کے دل میں جاگنے والے احساس کو اس نے سولہ دیا ۔۔

یہ رات کھانے کا وقت تھا وہ اپنی ماں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا ساتھ ساتھ باتیں کر رہا تھا ۔۔
تمھارا دن کیسا گیا یونی میں ۔۔ ٹھیک۔۔ یک لفظی جواب ۔ وہ جیسے کہیں گم تھا ۔۔ امی کبھی اپ کو محبت ہوئی ہے اچانک سوال پر اس کی ماں نے اس کو دیکھا ۔۔۔
ہاں ہوئی ہے ۔۔
کس سے ۔۔ ؟
تمھارے بابا سے ہوئی ہے زرمان
اچھا شادی سے پہلے ہوئی تھی بعد میں ۔۔
پہلے ہوئی تھی پھر ہماری شادی پسند سے ہوئی تھی اس لیے ہمارے گھر والوں میں بن نہیں ائی ۔۔ لیکن
ایک وقت میں سب ٹھیک ہو گیا تھا ۔۔ پھر وہ اللہ کے
پاس چلے گئے ۔۔۔
امی یہ محبت کا احساس کیسا ہوتا ہے ۔۔
کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔؟
ویسے ہی امی بتائیں نہ ۔۔
بیٹا جس سے محبت ہوتی ہے نہ بس وہ ہی اچھا لگتا ہے ۔۔ یہ بہت الگ احساس ہے ۔۔ ہمیں محبوب کی برائیاں دیکھنا بند ہو جاتی ہے یا یہ سمجھو کے اُس کی برائیاں بھی اچھی لگنے لگتی ہیں ۔۔۔
وہ دنیا سے حسین لگنے لگتا ہے ایسا لگتا تھا جیسے اُس سے حسین کوئی ہے ہی نہیں ۔۔

اور امی محبوب کی آنکھیں کیسی ہوتی ہے ۔۔ بیٹا آنکھیں تو عام ہوتی ہے عاشق کو حسین لگتی ہے ۔۔
وہ خاموش ہو گیا ۔۔ کھانا اس نے ختم کر لیا تھا تو اٹھ کر کمرے میں آگیا
اس کی ماں برتن دھونے لگ گئی ۔۔ زرمان یونی کے ساتھ ساتھ ایک جوب بھی کرتا تھا ۔۔
ایک چھوٹے سے کال سینٹر میں ۔۔ جس سے ان کے گھر کا گزرا اچھا ہو جاتا تھا ۔۔
50 ہزار تنخا تھی اور گھر تو ویسے ہی اپنا تھا ۔۔۔ وہ جیسے بھی زندگی گزر رہے تھے ۔۔ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے ۔۔ کیوں کے وہ احسان فراموش نہیں تھے ۔۔

اس نے ایشا کی نماز پڑی اور پھر سونے کے لیے لیٹ گیا لیکن نیند تو ا ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔
دماغ میں دل میں کچھ اٹک گیا تھا ۔۔ کیسی کی آنکھیں ۔۔ ؟ کیسی کا لہجہ ۔۔ یا پھر کسی کی اواز ۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا

وہ صبح جلدی اٹھی تھی ۔۔ پھر تیار ہو کر باہر اگئی ۔۔ کھانا اس نے کمرے میں کھایا تھا ۔۔
صبح خیر بابا ۔۔
آجاؤ بابا کی جان ۔۔ آجاؤ ۔۔ کامران خان نے اپنی بیٹی کو دیکھ کے کہا ۔۔
تو وہ صوفے پر کچھ فاصلے پر ہو کے بیٹھ گئی ۔۔
کل تو تم سے بات کرنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔۔
جی جب ہم ائی تھی اپ گھر میں نہیں تھے ۔۔۔
اچھا تو بتاؤ پھر کیسا گیا کل یونیرسٹی کا دن ۔۔
اچھا تھا ۔۔۔
کیسی نے تنگ تو نہیں کیا ۔۔
نہیں ۔۔ کیسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔ کیسی میں ہمت کہاں کے کامران خان کی بیٹی کو کچھ کہہ سکے ۔۔

اس کے بابا مسکرائے ۔۔۔ یہ بات تو ٹھیک کہیں ہے کیسی میں ہمت نہیں ہماری بیٹی ہیر خان کو کوئی کچھ کہہ سکے
ہاں نہ بابا اور ا گر کیسی نے کہا تو ۔۔ ہم اُس کے سر پر ایک بال نہیں چھوڑے گی ۔۔۔

تب ہی ریحان کمرے سے باہر ایا ۔۔
ہیر ہم کو کافی بنا کے دو۔۔
ہم نہیں بنا کے دے رہی ابھی ہم کو یونی جانا ہے
ہیر بنا کے دے دو نہ ۔۔ ریحان بولا تو کامران خان نے دیکھا اوئے اپنی اماں کو جا کے بولو ہماری بیٹی کو دیر ہو رہی ہے

اچھا بابا میں بول دیتا ہوں اماں کو ۔۔ ریحان موں بناتا چلا گیا ۔۔۔
اور ہیر نے اپنے بابا کے سامنے سر جھکایا ٹھیک ہے بابا ہم جاتی ہے
اس کے بابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔ اللہ خیر کرے جاؤ ۔۔۔
اور پھر وہ چلی گئی ۔۔۔

اج سہانا دن تھا اسمان پر کالی گھٹائیں چھا رہی تھی جب
وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ اج اس کو دیر ہو گئی تھی ۔۔ جب کے اس کو جلدی
انے کی عادت تھی ۔۔ اس کی کلاس شروع ہو گئی جب وہ کلاس میں دروازے
سے داخل ہونے لگی ۔۔ ہیر خان اج اپ دس منٹ دیر سے ائی ہیں ۔۔۔
ہیر کے قدم روک گئے ۔۔
سر دس منٹ نہیں 7 منٹ دیر ہوئی ہے ہم کو ۔۔ اس کی بات پر سب نے اس کو دیکھا پہلی قطار میں لگی
چیر پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے زرمان راجپوت نے بھی ۔۔ ہیر کو دیکھ کر اس کو جیسے سکون ملا تھا اُس کے انے سے جیسے اُداسی ختم ہو گئی تھی ۔۔ اس کے اندر بہار اگئی تھی اس نے ہیر کو دیکھا جو پروفیسر کے ساتھ لڑائی کرنے میں لگی تھی ۔۔ اس کا پروفیسر زیادہ عمر کا نہیں تھا لیکن وہ اس سے بڑا تھا ۔۔
دیکھیں ہیر اپ اس طرح بات نہیں کر سکتی ۔۔
ہم نے آپ سے لڑائی تو نہیں کی ۔۔ ہم نے تو بس وقت بتایا ہے کہ اپ غلط ٹائم دیکھ رہے ہیں سر جی ۔۔
اور ہم ٹائم کی پکی ہے اج دیر ہو گئی ہماری غلطی نہیں تھی راستے میں ٹریفک بہت مل گیا تھا۔۔۔
اس کی باتوں پر پروفیسر چُپ ہو گیا ۔۔۔ٹھیک ہے اپ بیٹھ جائیں ۔۔
پروفیسر نے سامنے لگی چیئر کی طرف اشارہ کیا۔۔ ساتھ میں ایک لڑکا بیٹھا تھا ۔۔۔ ہیر نے اس کے چہرے
کو دیکھا اس کو یاد ایا کے وہ اس سے ٹکرائی تھی حیات اج نہیں ائی تھی اُس کی طبیعت خراب تھی ۔۔
سر کوئی اور جگہ نہیں ہے ۔۔
کیوں اپ کو کوئی مسئلہ ہے ہیر
نہیں سر بس ہم لڑکوں کے ساتھ نہیں بیٹھتی ۔۔
اب آپ کے لیے کوئی جگہ تو نہیں چھوڑے گا ہیر اپ یہاں ہی بیٹھ جائیں ۔۔پروفیسر بولا ہی تھا ہیر نے چادر کے اندر سے شکل بنائی
اور پھر جا کے بیٹھنے ہی لگی جب اس نے زرمان کو اپنی جگہ سےاُٹھتےدیکھا ۔۔
اور پھر اس نے ہیر کی انکھوں میں دیکھا ۔۔ وہ آنکھیں بہت خوبصورت تھی وہ عام نظر نہیں تھی ۔۔ اس کے لیے ۔۔ آپ بیٹھ جائیں میں پیچھے جا کر بیٹھ جاتا ہوں ۔۔
وہ بولتا ہوا چلا گیا ۔۔ تو ہیر نے اس کو پیچھے جاتے دیکھا ۔۔ اب وہ کلاس کے درمیان میں بیٹھا تھا ۔۔
اس کو عادت تھی اور وہ ذہین اتنا تھا کہ وہ کبھی پیچھے یا درمیان میں نہیں بیٹھا تھا وہ آگے والی دو قطاریں میں سے ایک پر ہی بیٹھتا تھا لیکن اج اس نے اپنی جگہ ہیر کے لیے چھوڑ دی تھی ۔۔۔
لکچر شروع ہوا تو بہت دھیان سے سب نے پڑھائی پر دھیان دے دیا تھا ۔۔
لکچر کے بعد کلاس ختم ہوئی تو وہ باہر گارڈن میں اگئی ۔۔ اس سے آگے وہ لڑکا چل رہا تھا ۔۔
لیکن ہیر روک گئی اور گارڈن سے اندر جانے والی سریوں
پر ایک کونے میں بیٹھ گئی ۔۔

وہ لڑکا آگے چلا گیا تھا ۔۔
ہیر اس کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ آگے گیا اور پھر سبز گھاس پر بیٹھ گیا ۔۔ اور کتاب کھول لی ۔۔
جب کوئی اس کے پاس ایا تھا ۔۔
ہیلو راجپوت صاحب ۔۔۔ کیسے ہو ۔۔ زر مان نے اس لڑکی کا چہرہ دیکھا یہ وہ تھی جس نے ہیر کے نام
کا مذاق بنایا تھا اور بعد میں ہیر نے اس کی جھار کی تھی ۔۔ زارمان نے اس کو دیکھا لیکن خاموش رہا اور کتاب پر دھیان
کر لیا ۔۔
لگتا ہے دل نہیں ہے بات کرنے کا ۔۔ ویسے تو ہمیشہ ہی دل نہیں ہوتا تمھارا ۔۔ لیکن وہ خاموش رہا ۔۔ ہیر ان کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ہیر کو کہیں انتظار تھا کے وہ ایک بار بولے تو صحیح ۔۔۔ وہ کیا بولے گا اس لڑکی کو کینٹن سے کافی لا کر دوں اگر تھک گئے ہو تو ۔۔
زرمان نے کالی آنکھیں اٹھا کر اس کو دیکھا ۔۔
میرا خیال ہے زویا اپ کو اس طرح تنگ نہیں کرنا چاہیے مجھے۔۔۔
ہائے ایک بار پھر لو میرا نام کتنا پیارا بولتے ہو تم ۔۔ زویا کا کوئی ارادہ نہیں تھا جانے کا۔۔
زرمان نے اس کو گھور کے دیکھا۔ ۔۔ لگتا ہے تمھیں ایک بار سمجھ نہیں آتی ۔۔
میں نے کہا ہے میرے سے دور رہا کرو۔۔
میں پسند کرتی ہوں تمھیں سچ میں ۔۔۔
لیکن میں پسند نہیں کرتا ۔۔ میں تمھیں کیا کسی لڑکی کو پسند نہیں کرتا جو تم جیسی ہو ۔۔۔
تو تم کیسی لڑکی پسند کرتے ہو زویا کا اب دماغ گرم ہو گیا تھا اپنی عزت کروانے کے بعد ۔۔
زارمان ایک پل کے لیے خاموش ہو گیا ۔۔۔
پھر نظر گھوما کر دیکھا ۔۔ دور سریوں پر ایک لڑکی نظر ائی جس کی آنکھیں بند تھی اور
وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔ لیکن ہاتھ اس کا اب بھی چادر کے ایک کونے پر تھا جس سے اس نے چہرہ ڈھک رکھا تھا ۔۔
میں ایسی لڑکی کو پسند کرتا ہوں جس کی آنکھیں نظر آتی ہو ۔۔ بس آنکھیں ۔۔
جس کو اپنی حفاظت کرنی اتی ہو ۔۔ جو باتمیز نہ ہو لیکن اپنے لیے لڑائی کر سکے ۔۔
جس کا چہرہ سیاہ چا۔۔۔ ابھی وہ بولنے ہی لگا جب زویا ہنسنے
لگی۔۔ تو تم کیا کسی پری کو پسند کرو گے یا کسی فرشتے کو۔۔
یا کوئی ابصرہ ائے گی تمہارے لیے اسمان سے اتر کر۔۔۔ ایسی لڑکیاں نہیں ہوتی زرمان۔۔ اور تمھارے لیے تو ہو گی ہی نہیں ۔۔ تم کیا ہو سوچا ہے کبھی ۔۔ تم ایک عام انسان ہو
جھنگ کے کامران خان کے بیٹے نہیں ہو ۔۔ جو تم مانگو اور تمھیں مل جائے ۔۔۔
تم ایک عام انسان ہو اور تمھیں دیکھ کے لگتا ہے میرے
سے تو غریب ہی ہو گے ۔۔ زویا کی اواز اب ہیر تک آسانی سے ا رہی تھی ۔۔
ہیر نے اس کو دیکھا اور اُٹھ کر اس تک اگئی ۔۔۔
ہم کب سے دیکھ رہی ہے تم اس کو تنگ کر رہی ہو۔۔ تمھیں شرم ہے کے نہیں ۔۔ لڑکی ہو کراس طرح بتمزی کرتی ہو۔۔
تم کون ہوتی ہو ہماری باتوں میں انے والی ۔۔ میں ذرمان سے بات کر رہی ہوں تم سے نہیں ہیر ۔۔۔
وہ اب مذاق بناتے بولی تو ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔
ہم جو بھی ہے ۔۔ تمھارا حق نہیں کیسی کا دل دکھانا تمھیں پتہ ہے لڑکی یہ لڑکا تم سے تو زیادہ امیر ہے ۔۔
ہیر بولی تو زویا نے زرمان کو دیکھا ۔۔ وہ خاموش بس ہیر کو دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ امیر دولت سے نہیں دل سے ہے لڑکی ۔۔ تمھارے پاس دولت ہو گی لیکن تمھارے پاس بڑا دل نہیں ہے ہوتا تو یہ سب نہ کہہ رہی ہوتی ۔۔ ۔۔
اور اس کے پاس بڑا دل ہے اس لیے ہی تمھارا کینچی جیسی
زبان کاٹ نہیں دیا ۔۔ ہم ہوتی تو تمھارا یہ زبان سلامت نہ رہتا ۔۔ زرمان اس کو دیکھ رہا تھا وہ کیوں اس کی طرفداری کر رہی تھی ۔۔ لیکن اچھا لگ رہا تھا کیسی نے تو اس کی حمایت کی تھی
نہیں تو ابھی تک تو خد دنیا سے لڑتا ایا تھا وہ ۔۔۔
زویا کا دماغ اب صحیح میں۔ گرم ہو گیا تھا
تم ہوتی کون ہو مجھے یہ سب بولنے والی ۔۔۔۔
اُس کامران خان کی بیٹی ہوں جس کے نام اور شہرت کا تانا تم نے اس لڑکے کو دیا ہے ۔۔ ہیر کا یہ بولنا تھا کے زویا کے ساتھ زر مان بھی حیران رہ گیا ۔۔ وہ کامران خان کی بیٹی تھی ۔۔۔ تب ہی وہ اس کی طرف
داری کر رہی تھی ۔۔ کامران خان کی بیٹی ہو اور کیسی بے قصور کی مدد نہ کرے یہ تو ہو نہیں سکتا تھا ۔۔ اور زر مان راجپوت کو سمجھ اگئی کے وہ کیوں اس کی طرف تھی ت ۔۔ تم خان صاحب کی بیٹی ہو ۔۔ زویا بولی تو ہیر نے بس اس کو دیکھا۔ ۔۔
م۔۔ میں۔مجھے معاف کر دو ۔۔ کل تمھارا نام ۔۔خ۔۔
خراب کرنے کے لیے
وہ تو ہم معاف کر دے گی ۔۔ لیکن ۔۔ دوبارہ تم نے کسی کو اپنی یہ زبان دکھائی تو اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلا دباؤں گی کیوں کے کامران خان کی بیٹی اُن پر گئی ہے

وہ بولتی چلی گئی اور زر مان دیکھتا رہ گیا
اس نے تو شکریہ بھی نہیں بولا تھا ۔۔ وہ کتنا احسان فراموش تھا ۔۔

جب یونیرسٹی سے چھوٹی ہوئی تو گھر جانے کے لیے وہ یونی کے گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی جب اس کو زرمان
اتا دکھائی دیا ۔۔ وہ دور سے اس کا نام لیتے ہوئے ارہا تھا ۔۔ ہیر ۔۔ اس نے روک کر اس کو دیکھا ۔۔
بولو ۔۔ ہیر نے بس اتنا کہا ۔۔
و۔۔ وہ مجھے آپ کو شکریہ کہنا تھا ۔۔
کیوں۔ ۔۔؟
وہ میری مدد کے لیے ۔۔
ضرورت نہیں ہے شکریہ کی ۔۔
ک۔۔ کیا آپ ۔۔ دوستی کریں گی ۔۔
تمھیں مرنا ہے کیا لڑکے ۔۔۔ ہیر نے ایک کو دیکھتے ہوئے کہا تو زر مان نے اس کو ٹوکا ۔۔۔م۔۔ زر مان راجپوت ۔۔۔۔ہاں وہی ۔۔ تو زر مان راجپوت صاحب اپ کو مرنے کا
شوق ہے کیا ۔۔ مطلب۔۔ ہمارے بابا ہم کو کچھ نہیں کہیں کے لیکن تمھاری جان نکل
لے گے ۔۔۔ وہ ایک پل کو خاموش ہوا ۔۔
اور ہیر اب چادر کے اندر سے مسکرائی تھی ۔۔
کے شاید وہ ڈر گیا ۔۔
منظور ہے ۔۔ اس نے زر مان کو کہتے سونا تو اس کی
مسکراہٹ تھم گئی ۔۔۔
منظور ہے مرنا ۔۔ بس ۔۔ اپ سے دوستی ۔۔
تم مرو گے لکھوا لو ہم سے ۔۔ ہیر مسکرا کر کہتی چلی گئی
زر مان اب بس پیچھے سے اس کو جاتے دکھ رہا تھا ۔۔ اور نہ جانے دل میں تھا ۔۔ اُس نے مان جانا تھا دوستی کے لیے کے نہیں ۔۔۔ لیکن دل میں ایا ۔۔ دوستی کا کیوں کہا
نکاح کا کیوں نہیں کہا ۔۔ اور اگر وہ کہہ دیتا تو ہیر نے خود اس کو مارنا تھا وہ مسکرایا ۔۔
اور پھر چل پڑا ۔۔۔۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو اس نے اپنی ماں کو دیکھا امی اپ کو پتہ ہے اج میری ملاقات کس سے ہوئی ۔۔
کس سے ہوئی ۔۔ اس کی امی نے اس کو دیکھا ۔۔
امی اج میں کامران خان کی بیٹی سے ملا ۔۔ ہیر خان ۔۔
اور انہوں نے میری مدد کی ۔۔
اچھا کیسے ۔۔
اس نے ساری بات بتائی اپنی اور اس کی دوستی کی بات بھی تو
اس کی امی کے چہرے کی مسکرہٹ غائب ہو گئی۔۔ زر مان تم بچ کے رہو ۔۔تم جانتے نہیں ہو پٹھان لوگ کیسے ہوتے ہیں ۔۔ تمھاری بوٹی بوٹی کر دیں گے اگر اُن کو پتہ چلا کے تم ان کی
لڑکی سے بات کی ہے ۔۔
کچھ نہیں ہوتا امی اللہ ہے نہ وہ سب سنبھال لے گے ۔۔
وہ حیران تھی اس کو خوش دیکھ کر ۔۔ اور اب انہوں نے روز دعا کرنی تھی کے ان کا بیٹا اور اس کی خوشی سلامت رہے

وہ گھر میں داخل ہوئی تو اس کے بابا اور بڑا بھائی گھر میں نہیں تھا ۔۔ اس نے اپنی اماں کو دیکھا اور کچن میں ان کی طرف اگئی ۔۔ کہاں گئے ہیں بابا اور بھائی۔۔وہ ذرا گئے ہیں باہر ایک
مسئلہ ہو گیا تھا۔۔۔ اچھا صحیح ۔۔ ہمیں بہت زور سے بھوک لگی ہے کچھ کھانے کے لیے
تو دو اماں۔۔
ہاں تم بیٹھو کھانا لگتی ہوں میں ۔۔ ہیر بیٹھ گئی تھی ۔۔ جب ریحان بھی آگیا ۔۔ وہ فلحال
گھر پر ہی تھا۔۔۔اس کے بابا نے اس کو ساتھ لے جانے کے لیے نہیں کہا تو اس لیے وہ گیا بھی نہیں۔۔۔۔
اگئی تم ۔۔ کب ائی ہو۔۔
ہاں تو انا ہی تھا ہم نے کون سا ساری عمر یونیورسٹی میں گزار دیں گے۔۔
ہم نے ایسا نہیں کہا تمھیں ۔۔ ہیر ۔۔۔
ہاں تو پھر زیادہ بولو نہیں ۔۔
تم کو شرم نہیں آتی ۔۔ بڑا ہوں تم سے ۔۔
زیادہ بڑے نہیں ہو تم۔۔ ریحان اس کو دیکھ کے رہ گیا
اچھا چھوڑو بتاؤ دن کیسا گزرا تمھارا ۔۔۔
کیسا گزرنا ہے ۔۔ اچھا گزرا تھا ۔۔
صحیح چلو تم باتیں کرو ہم اپنے کمرے میں جا رہا ہے ۔۔ریحان بولتا ہوا چلا گیا اس کی ماں کھانا لے ائی ۔۔
اچھا بتاؤ اج تو کوئی جھگڑا کر کے نہیں ائی نا۔۔ ۔اپ جھگڑے کی بات کرتی ہو۔۔ اسی لڑکی سے جھگڑا ہوا تھا ہمارا جب اس کو پتہ چلا کہ کامران خان کی بیٹی ہے ہم تو ایک دم سے معافی مانگنے لگی ہم سے۔۔۔
اچھا اور جھگڑا کیوں ہوا تھا بس ایسے ہی ہو گیا تھا ۔۔ وہ کیسی کو تنگ کر رہی تھی
ہم نے اچھی سنائی اُس کو ۔۔
اچھا صحیح ۔۔
کھانا کھا کر ارام کر لو ۔۔ تمھیں دیکھنے کے لیے رشتے والے
آرہے ہیں ۔۔ ماں کی بات پر ہیر کا رنگ بدلا۔۔
کیوں ۔۔۔
کیوں کا کیا مطلب ہے شادی کے لیے ہی ائیں گے نہ
لیکن ابھی تو ہم پڑ رہی ہے نہ ۔۔
یہ ہم کو نہیں پتہ اپنے بابا سے پوچھنا ۔۔ وہ تمھارے بابا کے دوست کا بیٹا ہے ۔۔
کہیں ایا تھا گھر کیسی کام سے ۔۔ اُس نے تم کو دیکھ لیا
تم پسند اگئی اُس کو ۔۔
جہنم میں جائے ۔۔ ہم نے نہیں کرنی شادی کیسی سے ۔۔
ہاں تو یہ اپنے بابا کو بولنا ہم کو نہیں ۔۔
ہاں ہم بول دے گی انے دو ۔۔ لیکن ابھی تو ہم کمرے میں
جا رہی ارام کرنے ۔۔
ہاں جاؤ ۔۔
ہیر موں بناتے کمرے میں اگئی ۔۔ کپڑے بدلے اور تھوڑا آرام کرنے کے لیے لیٹ گئی ۔۔

ابھی وہ ارام کر ہی رہیں تھی جب اس کو اپنے بابا کی اواز سنائی دی تھی وہ شاید اگئے تھے یہ جلدی سے اٹھی اور باہر اگئی۔۔
السلام علیکم بابا۔۔ وعلیکم اسلام ۔۔
کیا حال ہے میری بیٹی کا اور دن کیسا گزرا ہے اج یونیورسٹی میں۔۔
اچھا گزرا ہے بابا لیکن ہم کو اپ سے کوئی بات کرنی ہے۔۔۔
ہاں کہو ۔۔
م۔۔ وہ ۔۔ ہم ۔نے سنا۔۔ ہے کے ہ۔۔اپ
ہمارا رشتا کرنے لگے ہیں ۔۔
صحیح سنا ہے تم نے۔۔
ل۔۔ لیکن ۔۔ ابھی ہم کو ۔۔ شادی نہیں کرنی ۔۔
لیکن اچھا لڑکا ہے وہ ۔۔
وہ۔۔ بابا بس ابھی۔۔ ہم کو پڑھائی کرنی ہے ۔۔ ہیر مشکل سے ہی بول سکی تھی ۔۔ ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کچھ کہنے کی ۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے ۔۔ تم پڑھائی مکمل کر لو ہم منگنی کرتے ہیں اس سے۔۔
نہیں بابا ابھی منگنی بھی نہیں کریں۔۔
اچھا رشتا دیکھ تو لے ۔۔ ابھی نہیں کریں گے ۔۔
ت۔۔ ٹھیک ہے ۔۔
لیکن ہیر شادی تمہاری قاسم خان سے ہی ہو گی ادم خان کے بیٹے سے ۔۔ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور ہمیں
بھی بہت پسند ہے دوسری بات یہ کہ اس کو تم بھی پسند ہو اچھا کماتا ہے۔۔
ت ۔۔ ٹھیک ہے بابا۔۔ ج۔۔ جیسا اپ کو صحیح لگے اندر سے
تو دل جل کے رہ گیا تھا اُس نے قاسم خان کو دیکھا بھی نہیں تھا
وہ کہتی کمرے میں واپس اگئی ۔۔ اب وہ کیا ہی کہتی ۔۔
ہیر کا فلحال بالکل بھی ارادہ نہیں تھا شادی کرنے کا نہ ہی کوئی منگنی کرنے کا۔۔
اور ویسے بھی اس کو ابھی پڑھائی کرنی تھی لیکن ماں باپ کے اگے کہاں چلتی ہے ۔۔
یہ تو بیٹے ہوتے ہیں جو دل کی بات کہہ دیتے ہیں بیٹیاں کہاں کہتی ہیں ۔۔ اُس نے اپنے دل کی بات بتائی تھی اور اس کا انجام یہ نکلا تھا کے جس کو اس نے پسند کیا تھا وہ
انسان ہی اپنی محبت سے پھر گیا تھا وہ تو شکر خدا کا کے یہ زندہ بچ گئی تھی نہیں تو دلاور خان کا پورا ارادہ تھا اپنی بہن کی جان لینے کا۔۔۔
اور اس وقت کی سزا وہ اج تک کٹ رہی تھی ۔۔ اس کو بنا اجازت کے گھر سے باہر نہیں جانے دیا جاتا تھا
یونیورسٹی کے علاوہ کہیں بھی جانا ہوتا اس کی ماں کو اس کے ساتھ بھیجا جاتا تھا۔۔ یا پھر ریحان جاتا تھا ۔۔۔
وہ کمرے میں ا کر بیٹھ گئی کے اب کچھ کرنے کو نہیں تھا پھر سوچ زرمان راجپوت پر چلی گئی۔۔
وہ لڑکا جس کی صبح اس نے حمایت کی تھی۔۔ دل نے سوال پوچھا تھا ۔۔ کیا دوستی کر لینی چاہیے ۔۔
نہیں نہیں ۔۔ اس نے ایک دم سوچا ۔۔ اگر گھر والوں کو پتہ چلا تو کیا ہو گا ۔۔
لیکن کچھ بھی ہو اپنی ماں کو سب بتانا چاہیے ۔۔ بیٹیوں کے لیے ماں ہی تو ہوتی ہے ۔۔ اور ماں کو اولاد کی بات سن لینی چاہیے ۔۔ اولاد کو ڈرنا نہیں چاہیے ۔۔ بلکہ اولاد اگر صحیح ہے تو ساتھ
دینا چاہیے ۔۔ خاص کر بیٹیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے ۔۔ کہنے کو تو بیٹیاں رحمتیں ہوتی ہیں ۔۔ لیکن ان رحمتوں کا خیال کوئی نہیں رکھتا ان کے دل کے حل کوئی نہیں جانتا ۔۔
رحمتوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔۔ بیٹوں میں احساس کم ہوتے ہے
جب کے بیٹیوں کے دل ہی احساس سے بھرے ہوتے ہیں ۔۔ ماں باپ کا احساس بہن بھائی کا احساس ۔۔ وہ اپنے سے بڑ کر دوسروں کا احساس کرتی ہیں ۔۔ اتنا کے کبھی کبھی وہ اپنی ذات بھول جاتی ہیں ۔۔
عورت تو خدا کا بنایا انمول تحفہ ہے ۔۔ جو کبھی ماں کے روپ میں ملتا ہے پھر بیوی کے روپ میں اور پھر بیٹی کے روپ میں ۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *