قصاص قسط نمبر:3
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
اج اس نے یونیرسٹی سے اف لے لیا تھا
اج اس کا پورا ارادہ تھا کے وہ اپنی پینٹنگ کو نمائش کے لیے لے کر جائے گی ۔۔۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں تیار کھڑی تھی ۔۔۔
ریحان باہر اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔ ہمیشہ کی طرح سیاہ چادر کے کونے سے چہرہ چھپائے ۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی ۔۔ ہلکے نیلے رنگ کی اس نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی ۔۔ جب کے ریحان سفید
شلوار قمیض میں تھا ۔۔
چلیں بھائی ۔۔
ہاں چلو کب سے انتظار کر رہا ہوں بہن صاحبہ ۔۔
ریحان اس کو لے کر باہر کا گیٹ پار کر رہا تھا جب دلاور نے اس کو دیکھا ۔۔
اب کہاں جا رہے ہو تم دونوں ۔۔ میں دیکھ رہا ہوں ریحان تم اس لڑکی کے ساتھ آوارہ ہو گئے ہو ۔۔
اور دلوار بھائی آپ بات کرنے کی تمیز بھول گائے ہیں ہیر کوئی لڑکی نہیں ہماری چھوٹی بہن جو وہ چھوٹی بہن جس کو ہم سب بہت پیار کرتے ہیں ۔۔ کرتے تو آپ بھی تھے لیکن آپ کی انا کے پیچھے وہ پیار کہیں مر گیا ہے ۔۔
ریحان سپاٹ لہجے میں بولتا ہیر کے ساتھ باہر نکل گیا ۔۔۔
ریحان یہ کون سا طریقہ تھا دلاور بھائی سے بات کرنے کا ۔۔۔ہیر نے ریحان کو دیکھا ۔۔
ایسے لوگوں سے اسی طرح بات کی جاتی ہے ۔۔
چلو اب ۔۔ صبح صبح دلاور بھائی نے راستہ کٹا ہے سب اچھا ہی ہو اب بس ۔۔ اس سے اچھا کلی بلی گزر جاتی ۔۔ ریحان بولا تو ہیر بس اپنے بھائی کو دیکھ کے رہ گئی ۔۔
جب وہ حال میں داخل ہوئے تو ہیر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ۔۔ روشنیوں میں دیواروں پر لگی کمال کی پینٹنگز تھی ۔۔
ریحان نے ہیر کی پینٹنگ وہاں لگوائی تھی ۔۔ اُن میں سے ایک دیوار پر ہیر کی بنائی ہوئی پینٹنگ نظر آرہی تھی جو کچھ دیر پہلے ریحان نے لگوائی تھی ۔۔۔۔ ہیر آگے برتی ریحان کے ساتھ پینٹنگ دیکھ ہی رہیں تھی جب پیچھے سے کیسی نے اس کو اواز دی تھی ۔۔۔ ہیر کے پیر لرز گئے ۔۔ اخر کون تھا جس نے اس کو اواز دی تھی ۔۔ اس نے پلٹ کر دیکھا سیا ٹراؤزر شرٹ میں زرمان راجپوت کھڑا تھا۔۔
ہیر اپ یہاں پر وہ بولتا اس تک ایا تو ریحان نے بھی اس کو دیکھا ۔۔۔ ہیر تو ویسے ہی حیران تھی ۔۔ ا۔۔ تم یہاں ۔کیا کر رہے ہو۔ ۔۔
میں بس ایسے ہی ۔۔ ایک دوست کام کرتا ہے یہاں پر اُس سے ملنے ایا تھا ہم نے باہر کہیں گھومنے جانا ہے اس لیے ۔۔ زر مان نے وجہ بتائی ا۔اچھا ۔۔ ہیر نے اپنا سانس بحال کیا ۔۔
ہیر یہ کون ہے ۔۔ ریحان نے پوچھا تھا اور خود زرمان کے دماغ میں بھی یہی سوال ریحان کے لیے تھا ۔۔!رہ ۔۔ریحان یہ میرا کلاس میٹ ہے۔۔ ا۔۔ ز۔زر مان یہ میرا بھائی ہے ۔۔
اچھا۔۔ زر مان نے کہا اور ریحان نے مسکرا کر ہاتھ اگے بڑھا دیا ۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی ۔۔ ویسے آپ بس پڑھائی کرتے ہیں کیا زر مان ۔۔ نہیں میں کال سینٹر میں جوب بھی کرتا ہوں ۔۔ اچھا صحیح ۔۔ و۔ویسے ہیر اپ یہاں کیوں ائی ہیں ۔۔
وہ میں نے اپنی پینٹنگ یہاں رکھوائی ہے ہیر نے اشارہ کیا تھا پینٹنگ کی طرف ۔۔ اچھا صحیح زرمان نے پینٹنگ کو دیکھا اور پھر زرمان کی نظر تھام گئی ۔۔۔ ماشاءاللہ یہ بہت خوبصورت ہے ۔۔ وہ اللہ کے ناموں پر بنی تصویر تھی اور وہ اتنے خوبصورت انداز میں بنائی گئی تھی کے دیکھنے والے کی نظر اٹک جاتی تھی ۔۔ وہ سرخ رنگ کے اوپر الگ الگ رنگوں سے لکھے گئے اللہ کے نام تھے ۔۔ اور واحد رنگ جو صاف خوبصورت دکھائی دے رہا تھا وہ سیاہ رنگ تھا ۔۔
ویسے آپ نے اس پینٹنگ کا نام کیا رکھا ہے ۔۔ زر مان نے پوچھا تو ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔ کیا رکھ سکتی ہوں ۔۔ دیکھیں وہاں نیچے لکھا ہے ہیر نے پینٹنگ کے کونے میں اشارہ کیا ۔۔
زر مان نے نام دیکھا ۔۔ الٰہی ۔۔۔۔ نام دیکھ کے وہ مسکرایا ۔۔
اچھا تو مطلب نام بھی خدا کا ہے ۔۔۔زر مان سے داد دینے والے انداز میں کہا ۔۔
اس سے اچھا کوئی نام ہو سکتا تھا بھلا اس کے لیے ۔۔۔ ہیر چادر کے اندر سے مسکرائی ۔۔ریحان نے زر مان کو دیکھا ۔۔ ہم ابھی کافی پینے جا رہے ہیں تم نے انا ہے تو آجاؤ زر مان ۔۔۔ م۔۔ نہیں ریحان پھر کبھی زر مان نے انکار کیا اور پھر ہیر کو دیکھا ۔۔ پھر ریحان سے ہاتھ ملا کر وہ کہیں غائب ہو گیا تھا ۔۔۔
وہ تقریبا رات کے وقت گھر ایا تھا ۔۔ اس کی ماں نے اس کے لیے کھانا بنا دیا تھا وہ گھر میں ایا ۔۔ ماں نے اس کے سامنے کھانا لگایا تو وہ ارام سے بیٹھ کر کھانے لگا ساتھ ساتھ وہ دن کی باتیں بتا رہا تھا ۔۔
اور پھر ہیر کی بات بھی اس نے بتا دی ۔۔۔ ہیر کا نام لیتے ہوئے جو چمک اس کے چہرے پر ائی تھی وہ اس کی ماں سے چھپی نہیں تھی ۔۔
زر مان ۔۔تمھیں ہیر سے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے محبت ہوئی ہے کیا ؟ ان کے بولنے پر وہ چونکہ ۔۔ پھر مسکرایا نہیں امی ۔۔ مجھے محبت ہوئی تو وہ خوبصورت لگی اور میں نے تو ابھی تک بس اُن کی انکھوں کو دیکھا ہے چہرہ تو وہ دیکھتی ہی نہیں ہیں ۔۔ ماں لاجواب رہ گی تھی ۔۔
میری دعا ہے زر مان وہ تمھاری قسمت ہو ۔۔
میں تمھیں اُداس نہیں دکھ سکتی میرے بچے ۔۔۔ امی انشاءاللہ وہ میری ہی قسمت ہوں گی ۔۔
اب میں چلا کمرے میں بہت تھک گیا ہوں نیند بہت ا رہی ہے ۔۔ وہ کہتا برتن اٹھا کر کچن میں دھو کر کمرے میں چلا گیا ۔۔ اُس کو احساس تھا کے اُس کی ماں تھک جاتی ہے گھر کے کام کر کے وہ اکثر گھر میں مدد کرواتا تھا ۔۔ وہ بیٹا ہونے کے ساتھ بیٹی ہونے کا فرض بھی ادا کرتا تھا ۔۔
یہ رات کا وقت تھا ۔۔۔ اصغر ہاؤس کے گیٹ پر کیسی نے بیل دی تھی اور گارڈ نے دروازہ کھولا تھا ۔۔
جی کہیں ۔۔۔ گارڈ نے کہا تو سامنے والے نے اس کو دیکھا ۔۔۔ میں حماد کا دوست ہوں ۔۔ اُس کو ذرا باہر بولا دیں ۔۔
حماد سر گھر پر نہیں ہیں گارڈ نے جھوٹ بولا ۔۔
دیکھیں اگر وہ گھر پر ہیں تو بولا دیں نہیں تو جب اُس کو پتہ چلے گا میں ایا تھا اور اپ نے ان کو نہیں بتایا تو بہت غصّہ ہو گا وہ ۔۔ گارڈ نے سوچا اور پھر اندر چلا گیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد حماد باہر ایا تو گارڈ گیٹ کے اندر کھڑا تھا اجمل تم جاؤ ۔۔ سمر ہی ہو گا میں دیکھ لیتا ہوں ۔۔
یہ گارڈ نیا تھا پرانے والے کو نکل دیا تھا اس کو زیادہ حماد کے دوستوں کا پتہ نہیں تھا۔۔ حماد نے گیٹ کھولا ۔۔ تو سامنے اس کا دوست نہیں کوئی اور کھڑا تھا ۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو اس وقت ۔۔
کچھ نہیں بس تم سے بات کرنے ایا ہوں ۔۔ دو منٹ کے لیے باہر آجاؤ ۔۔ اواز سرگوشی میں تھی کے کوئی سن نہیں لے ۔۔
حماد نے کچھ دیر سوچا اور پھر اس کے ساتھ باہر اگیا ۔۔
ہاں کہو کیا کہنا ہے ۔۔۔
ضروری بات ہے حماد گاڑی میں ا کر بیٹھ جاؤ ذرا
کوئی سن لے گا تو مشکل ہو جائے گی ۔۔ حماد نے کچھ دیر سوچا پھر اس کے ساتھ گاڑی کی طرف چلا گیا ۔۔ کہو اب کیا بات ہے یوسف اور تم اس طرح چھُپ کر کیوں ائے ہو میں نے تو سنا ہے کہ تم نہیں ڈرتے کیسی سے ۔۔۔؟
ویسے صحیح سنا ہے ۔۔ یوسف نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے ۔۔ اس کی کنپٹی پر گن رکھی تھی ۔۔ اب اگر بھاگنے کی کوشش کی حماد تو مار دوں گا تُجھے ۔۔ یوسف کے لہجے میں کچھ تھا حماد کو لگا اج اس کا مارنا لکھا ہے
ی۔۔ یہ غلط ہے یوسف ۔۔ ت۔۔ تمھیں پت۔پتہ ہے نہ ڈیڈ چھوڑیں گے نہیں ۔۔ اگر مجھے کچھ ہوا تو ۔۔میں اکلوتا بیٹا ہوں اُن کا ۔۔ حامد لرزتی اواز میں بولا ۔۔
وہ لڑکی بھی اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی جو تو نے مار دی اور ویسے بھی تیرے باپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کیوں مارا تُجھے۔۔ تُجھے پتہ ہے صبح نیوز چینل اور نیوز پیپر میں کیا ائے گا۔۔
ک ۔۔کیا ۔۔ حامد نے ڈرتے ہوئے پوچھا ۔۔
یوسف مسکرایا ۔۔ منی خیز مسکراہٹ
صبح وہاں یہ نیوز ائے گی کے حماد اصغر ڈکیتی کرتے ہوئے پکڑا گیا ۔۔ اور پولیس والوں پرحملے کرتے ہوئے پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔۔ یوسف مسکراتے ہوئے بولا ۔۔
م۔۔ معاف کر دو مجھے ۔۔ ایک بار ۔۔ بس ۔۔ دوبارہ کچھ غلط نہیں کروں گا ۔۔ یوسف ۔۔ جانے دو مجھے۔۔گاڑی روکو ۔۔ حماد اب گڑگڑا رہا تھا۔۔۔
گن ابھی بھی حماد کی کنپٹی پر تھی ۔۔ ایک سنسان علاقے میں گاڑی روک دی گئی ۔۔ یوسف اس کو لے کر گاڑی سے نیچے اترا تو گاڑی کے باہر یاسر کھڑا تھا ۔۔۔
سر انتظام ہو گیا ہے ۔۔ جہاں اس کی لاش کو پھینکنا ہے وہاں سب ثبوت تیار ہیں جن سے ایسا ہی لگے گا کے یہ ڈاکو بھی تھا ۔۔۔
یہ تو اچھا ہو گیا ہے تو چلو پھر یاسر شروع کرتے ہیں
یہ بولتے ہوئے پہلے زور دار مکا اس نے حماد کے چہرے پر مارا تھا اور اس کے نک کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ۔۔ وہ درد سے زمین پر جا کے گرا ۔۔ جا معاف کیا تُجھے ۔۔ لیکن دو منٹ سے پہلے بھاگ جا نہیں تو مار دوں گا ۔۔ یوسف نے حماد کو دیکھتے ہوئے کہا تو حماد اپنی نک پکڑے کھڑا ہوا اور پھر اس نے بھاگنا شروع کر دیا۔۔ یوسف نے ہاتھ میں پکڑی گن اوپر کی ۔۔
اور پھر حماد کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے گولی چلا دی
گولی عین حماد کے سر کے پیچھے لگی تھی ۔۔ اور وہ ایک دم زمین پر جا کے گرا ۔۔
یاسرانصاف مل گیا اس لڑکی کو ۔۔ جاؤ اب اس خبیث کی لاش کو پھنک اؤ۔۔ وہ بولتا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی زوم سے آگے لے گیا ۔۔
صبح کا وقت تھا اور جیسے کے یوسف ملک نے کہا تھا ویسا ہی ہوا تھا۔۔ خبروں میں ا رہا تھا ۔۔ حماد اصغر جو ایک بہت بڑے بزنس مین کے بیٹے تھے ۔۔ وہ نکلے ڈاکو ۔۔ رات کو پولیس مقابلے میں مارے گئے۔۔۔
یوسف کی آنکھ فون کی بیل پر کھلی تھی ۔۔ کون ہے ۔۔؟اس نے بیڈ پر لیٹے ہوئے ہی کہا تھا۔۔۔
خبیث انسان تم نے میرے بیٹے کو مار دیا میں تُجھے چھوڑو گا نہیں۔۔۔
اصغر صاحب زبان سنبھال کر بات کریں ۔۔ اور میں نے نہیں کیا تھا اُس کو قتل ۔۔۔اور ڈاکو بنائے اپنے بگڑا تھا اُس کو ۔۔ رات کو کسی کے گھر سے زیور لے کر بھاگ رہا تھا ۔۔
اور زیور بھی اچھا خاصا ۔۔۔ کوئی 16 17 لکھ کا ہو گا ۔۔بس پکڑا گیا دو لڑکے اور تھے اس کے ساتھ اس کا کوئی دوست ہے سمر ۔۔ ہاسپٹل میں ہے وہ اور ایک اور دوست تھا بھاگ نکلا ۔۔۔ اصغر نے فون بند کر دیا تو یوسف مسکرایا۔۔۔
اپنی اولاد سنبھالی نہیں جاتی اور اتے ہیں ہمیں باتیں سنانے والے ۔۔ وہ اٹھا اور اس نے اپنا زخمی بازو دیکھا ۔۔
وہاں شاید گولی لگی تھی ۔۔ پٹی ابھی بندی ہوئی تھی ۔۔۔ اس کو رات کا واقع یاد ایا ۔۔۔
یاسر نے اس کی لاش ٹھکانے لگا دی اور پھر وہ واپس یوسف کے پاس ایا تھا ۔۔ لیکن یاسر اکیلا نہیں ایا تھا ۔۔ کیسی اور کو لے کے اس کے گھر ایا تھا ۔۔ سراس سے ملے یہ ہے سمر ۔۔ حماد کا دوست ۔۔اور اس کے بہت سے کارناموں کا ساتھی ۔۔
اور سر کیسی حد تک یہ بھی اس لڑکی کی موت میں ملوث تھا ۔۔
بہت اچھا ہو گیا یاسر یہ تو ۔۔
مجھے کیوں لے کے ائے ہو ۔۔ سمر نے کہا ۔۔
تُجھے نہیں پتہ کیوں لے کے ائے ہیں ۔۔ روک ابھی بتاتا ہوں ۔۔ یوسف نے اس کے پیٹ میں
مکا مارا ۔۔ اور پھر وہ اس کو بری طرح مارنے لگا ۔۔
جب وہ مرنے کے قریب پہنچ گیا تو یوسف بولا
اس کو چھوڑ اؤ ہاسپٹل ۔۔ صبح جب اصغر کو حماد کی خبر ملے گی کے کیا ہوا اس کے ساتھ تو یقین نہیں کرے گا ۔۔۔
اس کو اس لیے مارا ہے تا کے اُس کو زیادہ نہیں تھوڑا تو یقین ا ہی جائے گا کے اُس کا بیٹا چوری کرتے مارا گیا ہے ۔۔ اوردوسری بات یاسر اس پر نظر رکھنا اگر یہ کبھی بھی کسی کو بھی سچ بتانے کی کوشش کرے اس کو مار دینا ۔۔ ٹھیک ہے سر یاسر جانے لگا جب یوسف نے اس کو روکا
روکو ۔۔ ایک اور کم کرتے جاؤ ۔۔
کیا سر ۔۔۔
یہ گن پکڑو اور مجھ پر گولی چلاؤ۔۔۔
سر۔۔ یہ اپ کیا۔۔ کہہ رہے ہیں سر میں کیسے یہ کر سکتا ہوں۔۔یاسر ڈر گیا ۔۔
یاسر گولی مارو اور دھیان رکھنا گولی چھو کر گزرے بازو سے ۔۔۔
سر ۔پر سر اگر نشانہ چونک گیا تو ۔۔
تو بعد میں دیکھیں گے پہلے گولی چلاو ۔۔
مجھے زخمی دیکھ کے لوگوں کو سچ میں یقین آجائے گا کے حماد نے مجھے پر حملہ کیا تھا۔۔
یاسر نے گن پکڑ لی ۔۔ س۔۔ سر اپ دور جا کے کھارے ہوں یوسف تھوڑا دور جا کر کھڑا ہوا ۔۔
س۔۔ سر ۔۔ کہیں اور لگ گئی تو ۔۔؟ یاسر عجیب شکلیں بنتا بولا ۔۔
یاسر ٹریننگ کیا تم نے فالتو میں لی ہے مارو تم
یاسر نے گولی چلا دی ۔۔۔ گن کی اواز نہیں ائی تھی یوسف نے گن سائلنسر لگا دیا تھا ۔۔۔
تا کے اواز باہر نہ جائے ۔۔۔ گولی چلی تھی لیکن گولی چو کر نہیں گزری تھی ۔۔ بلکہ این یوسف کے کندھے پر لگی تھی۔۔
یوسف نے بے ساختہ اپنے بازو کو پکڑا ۔۔
یاسر ۔۔ کیا نشانہ ہے بھائی تیرا ۔۔ تُجھے پولس میں نہیں جہنم میں ہونا چاہیے حساب کرنے والے فرشتوں کے ساتھ ۔۔ وہ بولتا ہوا بازو پکڑ کر زمین پر بیٹھتا۔ چلا گیا ۔۔
یاسر ایک دم ڈر گیا ۔۔ اس۔۔ سر س۔۔ سوری سر ۔۔غلطی سے ہو گیا میں ڈاکٹر کو بولتا ہوں ۔۔ وہ فون کرنے لگا تو یوسف بولا۔۔
یاسر۔۔بھائی پاگل ہو گیا ہے ۔۔ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آ اور گولی نکال۔۔ ڈاکٹر اتنی رات کو کہاں سے ائے گا ۔۔ اور صبح تک میرا بازو کام کرنا چھوڑ دے گا ۔۔
ج۔۔ جی سر۔۔ یاسر فرسٹ ایڈ باکس لے ایا
اور پھر اس نے یوسف کی گولی نکالی تھی البتہ یوسف اتنا نہیں چیخا تھا ۔۔ جیتنا یاسر ڈر سے چیخ رہا تھا ۔۔ ۔۔
یاسر بار بار ہاتھ میں پکڑے اوزار پیچھے کر لیتا اور بولتا سر میں بیہوش ہو جاؤں گا ۔۔ سر مجھے چکر ا رہے ہیں ۔۔ سر اپ کو کچھ ہو جائے گا تو ۔۔۔میں کیا کروں گا اور یوسف بار بار کہتا ۔۔ بھائی پہلے گولی نکل لے بعد میں تُجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا ۔۔ اور پھر آخر اس کی گولی نکل ائی تھی ۔۔
اور پھر پٹی کر کے وہ سو گیا تھا اور یاسر سمر کو اٹھا کر لے گیا جو بیہوش پڑا تھا ۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی ۔۔ اور وہ یونیرسٹی سے لیٹ تھا وہ جلدی سے تیار ہوا اور یونیرسٹی کے لیے نکل گیا وہ کلاس میں داخل ہوا
ذر مان اج اپ دیر سے ائیں ہیں ۔۔
سوری پروفیسر ۔۔ اج لیٹ ہو گیا ۔۔
کوئی بات نہیں آجائیں اندر ۔۔ ہیر پہلے سے ہی وہاں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
زر مان ساتھ جا کر بیٹھ گیا البتہ اس نے درمیان میں بیگ رکھا تھا ۔۔ آپ کے بھائی نے کچھ کہا تو نہیں اپ کو زر مان نے ہلکی اواز میں پوچھا
ریحان نے ۔۔ ہیر نے زر مان کی طرف دیکھ کے پوچھا ۔۔۔
جی ۔۔ اسی نے ۔۔
نہیں وہ کچھ نہیں کہتا ۔۔ دلاور بھائی غصے والے ہیں ۔۔۔
اچھا صحیح مطلب کے ریحان سے دوستی ہو جائے گی ۔۔
ہاں ہمارا بھائی ریحان بہت اچھا ہے ۔۔
چلیں یہ تو صحیح ہو گیا ۔۔
کلاس کے بعد وہ باہر گارڈن میں اگائے تھے ۔۔ حیات بھی ساتھ ہی تھی ۔۔ اب ہوتا کچھ ایسے تھا کے حیات زر مان اور ہیر جہاں نظر اتے ایک ساتھ ہی نظر اتے تھے ۔۔
وہ بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے جب دور سے ایک لڑکی چلتی ہوئی ان تک ائی ۔۔ وہ بیٹھنے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھی اور ان کو دیکھ کے ان تک اگئی ۔۔ وہ سیاہ پینٹ شرٹ میں تھی ڈوبتا نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں اس کے پاس لیکن چہرے سے اتنی پیاری اور معصوم ۔۔ موم کی گڑیا جیسی ۔۔
ہیلو ۔۔ وہ ان کے پاس اگئی ۔۔
ہیلو۔۔ حیات نے اس کو دیکھ کے کہا
کیا میں آپ کے پاس بیٹھ جاؤں ۔۔۔ جی بیٹھ جائے ۔۔ اس بار ہیر نے کہا تھا ۔۔
ویسے آپ لوگ بیسٹ فرینڈز لگتے ہیں ۔۔
جی ہم ہیں ۔۔ اچھا نام کیا ہیں اپ کے ۔۔
میں ہیر ہوں ہیر خان ۔۔ ہیر نے کہا ۔۔ میں حیات ہوں ۔۔ حیات مسکرائی ۔۔ میرا نام زر مان راجپوت ہے ۔۔ زر مان ن نظریں جُھکا کے کہا۔۔۔ وہ ہیر کے علاوہ کسی کی دیکھتا ہی نہیں تھا ۔۔۔
اچھا صحیح میں رخسار ہوں ۔۔
ماشاءاللہ نام تو بہت پیارا ہے تمھارا ۔۔ ہیر بولی تھی ۔۔
رخسار خاصا خوش اخلاق لڑکی تھی اور وہ ہیر کی طرف ہی کھینچی ائی تھی ۔۔ شاید اُس کی چادر دیکھ کر ۔۔ پوری
یونیرسٹی میں شاید ہیر ہی تھی اس انداز میں چادر لینے والی ۔۔ نہیں تو جو دوپٹے والی لڑکیاں تھیں ان کا ڈوبتا گلے میں تھا ۔۔
یاپھر اُنہونے نے اپنے ڈوبتے گردنوں پر چپکا رکھے تھے کچھ ہی تھی جنہوں نے سر پر دوپٹہ لیا تھا۔۔ اور وہ بھی ایسی تھی کے ہوا سے دوپٹہ سرک کر سر سے نیچے ہو جاتا تو اوپر کرنا ہی یاد نہیں رہتا تھا ۔۔ البتہ حیات نے سر پر ڈوبتا لے رکھا تھا وہ ہوا سے بھی نہیں گرنے دیتی تھی ۔۔ لیکن ہیر کا تو چہرہ بھی نظر نہیں ا رہا تھا ۔۔
اچھا تو ہیر میں اپ سب کی دوست بن سکتی ہوں۔۔؟
ہاں کیوں نہیں ۔۔ہیر خوش ہو کر کہہ۔۔۔
اچھا تو ہیر ویسے آپ کے لہجے سے لگتا ہے اپ پٹھان ہیں ۔۔ لہجے سے لگتا نہیں ہے ہم سچ میں پٹھان ہی ہے۔۔۔
اچھا ۔۔ انکھوں سے تو نہیں لگتی پٹھان ۔۔؟ رخسار نے ہیر کی انکھوں کو اور اس کے رنگ کو دیکھتے کہا۔۔۔
اچھا پھر روکو ۔۔ ٹوپی والا برخا اور نسوار لے کے اتی ہوں ۔۔
ہیر سپاٹ لیجئے میں بولی تو زر مان کی ہنسی نکل گئی ۔۔ اور رخسار اور حیات کی بھی
بعد میں ہیر خود بھی ہنسنے لگی ۔۔۔
حد ہوتی ہے رخسار ۔۔
لازمی ہے کے میں پٹھان لگوں ۔۔ انسان لگ رہی ہوں یہ بہت نہیں ہے ۔۔۔
یہ بھی صحیح کہا ویسے ایک سوال پوچھوں ہیر ۔۔
ہاں پوچھو نہ ۔۔
میں نے دیکھا ہے کوئی بھی تمہاری طرح چہرہ نہیں ڈھکتا ۔۔
یہ پردہ کرنا لازمی ہے کیا ؟نہیں مطلب میرے حساب سے انسان کی نظر صاف ہونی چاہیے۔۔۔ اور مردوں کو تو چاہیے کہ اپنی انکھیں
نیچے رکھ کر چلا کریں۔۔۔
ہیر اس کی بات پر مسکرائی تم اج کے مردوں کی بات کر رہی ہو۔۔۔ نبی کے دور میں ان سے بڑھ کر نیک کون تھا ان کی عورتیں بھی تو پردہ کرتی تھیں ۔۔۔ جب نبی کی بیٹیوں کو یہ حکم تھا کہ وہ خود کو ڈھک کر رکھیں تو ہم کون ہیں۔۔۔؟
ہیر بولی تو رخسار لا جواب ہو گئی ۔۔ کیا اس سوال کا کوئی جواب تھا ۔۔ نہیں کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔
ہر عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو ڈھک کر رکھیں۔۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ تم نقاب کر کے ہی باہر نکلو
یا شرعی پردہ ہی شروع کر دو۔۔۔
تم کوئی بڑی چادر لے کر نکلو اپنا چہرہ ڈھکو خود کو ڈھکو ۔۔۔ میری بات کا برا نہیں منانا لیکن یہ جو تم لڑکیاں ماڈرن بن کر گھومتی ہو نا یہ تم لوگ زمانہ جاہلیت کو ایک بار پھر دنیا میں لے کر ارہی ہو ۔۔۔
اور میرے حساب سے مسلمان لڑکیوں کو جہیل نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
اصل ماڈرن ہم لڑکیاں۔۔ ہم لاکھوں میں الگ دکھتی ہیں چھپی ہوئی ڈھکی ہوئی مسلمان دکھتی ہیں اسلام کی پہچان دکھتی ہیں۔۔۔ اور پھر کسی کی مجال کہاں کوئی ہمارا چہرہ بھی دیکھ سکے۔۔۔ اتنی عام تو نہیں ہیں ہم کے کوئی بھی ہمیں دیکھ سکے
خد کو کیچڑ نہ بناؤ ۔۔ خد کو ہیرا بناؤ یہ پھر موتی بناؤ ۔۔ ایسا کے دکھنے والے کی نظر چندھے اجائے۔۔۔ ہیر الفاظ ایسے بولی تھی کے سمجھنا آسان نہیں تھا لیکن زر مان سمجھ گیا تھا ۔۔ زرمان کو جیسے سکون ملا تھا ۔۔ اُس نے غلط لڑکی سے محبت نہیں کی تھی ۔۔ اُس نے تو دل کی حسین ملکہ سے محبت کی تھی ۔۔ رخسار چُپ بیٹھی اب سوچ رہی تھی ۔۔
اور اس کو اپنے لباس پر شرم ا رہی تھی ۔۔۔
اچھا ویسے ایک بات پوچھوں تم سے ہیر ۔۔
یہ اپنی دوسری کلاس میں بیٹھے رخسار بولی تھی
ہاں پوچھو۔۔؟
کبھی محبت کی ہے تم نے ۔۔ ؟ پتہ نہیں رخسار نے یہ سوال کیوں پوچھ لیا تھا ۔۔
ہیر نے گہرا سانس بھرا۔۔۔ہاں کی ہے ۔۔
اچھا تو مل گیا کیا۔۔۔
نہیں ملا ۔۔
کیوں ؟
اُس کو اپنی جان زیادہ پیاری تھی اس لیے چھوڑ گیا ۔۔۔
رخسار بے ساختہ مسکرائی ۔۔ محبت کرنے والوں کو جان کی پرواہ نہیں ہوتی ہیر ۔۔ وہ محبت نہیں کرتا تھا اس لیے خود کی جان بچا کر بھاگ گیا ۔۔۔ ہیر نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔ رخسار نے صحیح کہا تھا ۔۔۔
اچھا حیات تم بتاؤ کبھی محبت ہوئی ۔۔
نہیں یار کہاں ۔۔ ابھی تک تو نہیں ہوئی ۔۔ اور میں تو ویسے بھی انتظار میں ہوں کوئی شہزادہ بنا ہو گا میرے لیے ۔۔ وہ خود ہی آجائے گا میری قسمت میں ۔۔ حیات خوابوں کی دنیا میں گم ہوتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں میرا شہزادہ ائے اور مجھے گھر کے کاموں سے بچا لے ۔۔
رخسار تو خاموش ہو گئی ہیر نے اس کو دیکھا ۔۔ کیسی عام لڑکی کو بچانے کے لیے کوئی نہیں اتا
اور تم شہزادوں کا انتظار کر رہی ہو ہر عام لڑکی کو اپنا محافظ خد ہونا چاہیے ۔۔۔
حیات خاموش ہو گئی ۔۔ ہیر نے ایک تلخ حقیقت دکھائی تھی ۔۔ صرف حیات کو نہیں ہر اُس لڑکی کو جو کیسی کے انتظار میں ہے ۔۔۔ زرمان بس خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھاحقیقت کہنیوں سے مختلف ہوتی ہے۔۔
کہانیوں میں ہیپی اینڈنگ ہوتی ہے دو پیار کرنے والے مل جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ
نہیں ہوتا ایسا کچھ ہو جائے تو دنیا کو رشک کرنا چاہیے اور شکر ادا بھی ۔۔۔
یونیرسٹی کے بعد وہ گھر اگئی تھی البتہ اس نے رخسار کو اپنے گھر انوائیٹ کیا تھا کے اب دوست ہیں تو گھر انا جانا تو بنتا ہے ۔۔
درمیان میں زر مان بولا تھا ۔۔
تو مجھے نہیں بلائیں گی اپنے گھر ۔۔ ہیر نے اس کو دیکھا اور مسکرا اٹھی ۔۔
تمھیں بولا لیا تو ہم دونوں کا جنازہ گھر سے باہر نکلے گا ۔۔ راجپوت صاحب ۔۔
زر مان اس کے انداز پے بے ساختہ چہرہ جھکا کر ہنسا تھا ۔۔ ٹھیک ہے پھر بارات لے کر اؤں گا آپ کے گھر یہ صحیح ہے نہ ۔۔؟
زر مان نے کہا تو ہیر بس اس کو دیکھ کے رہ گئی
البتہ کیسی نے چادر کی وجہ سے یہ نہیں دیکھا تھا کے ہیر کے گال سرخ پڑے تھے ۔۔ رخسار نے اس کو کہا تھا کے وہ کل یونیرسٹی سے سیدھا اس کے گھر چلے گی اس کے اور حیات کے ساتھ ۔۔۔
وہ گھر ائی ۔۔ اج وہ بہت تھک گئی تھی ۔۔ کھانا کھا کر وہ ۔۔
کمرے میں بس بیٹھ گئی ۔۔ پورا دن یاد کرتے زرمان راجپوت یاد ایا تھا ۔۔ وہ کب یاد نہیں آتا تھا ۔۔وہ تو ہمیشہ یاد آتا تھا ۔۔ دل کے کہیں اندر بہت اندر زر مان اچھا لگتا تھا لیکن اپنے جذبات کو وہ باہر نہیں انے دے سکتی تھی ۔۔۔ویسے ہی دلاور کو غصّہ رہتا تھا اس پر اور اب اگر غلطی دوبارہ ہوئی تو دلاور یا تو اس کی جان لے لیتا یا پھر زر مان کی ۔۔۔
وہ ان سوچوں میں گم تھی جب ریحان کمرے میں ایا ۔۔۔
کیسی ہے گڑیا ۔۔
میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو ۔۔
میں بھی ٹھیک۔۔ کب ائی یونیرسٹی سے تم ۔؟
بس تھوڑی دیر پہلے تم کہاں تھے ۔۔ میں بابا کے ساتھ ذرا زمین پر گیا تھا وہ جو نئی خریدی ہے۔۔ اچھا صحیح ۔۔
ہاں اور تم بتاؤ دن کیسا گیا تمھارا یونیورسٹی میں
دن تو میرا اچھا تھا وہ سب چھوڑو یہ بتاؤ میری پینٹنگ کا کیا بنا۔۔۔
ویسے ابھی تک تو کچھ بھی نہیں بنا کچھ لوگ خریدنا چاہتے تھے ۔۔ لیکن پیسے کم بتا رہے ۔۔ میں نے مانا کر دیا ۔۔ ویسے۔۔ ریحان نے تھوڑا سوچا ۔۔
وہ جو لڑکا تھا ۔۔ کیا نام ہے اُس کا ۔۔
زر مان ۔۔ ہیر نے کہا ۔۔
ہاں زر مان راجپوت ۔۔ بہت سلجھا ہوا لڑکا ہے
نہیں تو یونیرسٹیوں میں پڑنے والے لوفر ہوتے ہیں زیادہ ۔۔
ہاں وہ اُس کے بابا نہیں ہے شاید اس لیے ہی سلجھا ہوا ہے اور دوسری وجہ گھر میں بس اس کی اماں ہی رہتی ہیں اس کے گھر کی ساری ذمہ داری اس پر ہی ہے
اچھا۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں اللہ ہے نہ اللہ اُس کو خوش رکھے ۔۔ ریحان کہتا باہر چلا گیا ۔۔
اور ہیر کے چہرے پر مسکراہٹ ائی۔۔۔ کم سے کم ریحان تو تھا جس کی وہ سب بتا سکتی تھی۔۔
ریحان کبھی اس کی اماں بن جاتا تھا تو کبھی بھائی اور کبھی بہت اچھا دوست جس کو ہر بات بتائی جا سکتی ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصغر اس وقت اپنے گھر میں بیٹھا تھا ۔۔ اور انتظار کررہا تھا یوسف ملک کا۔۔ یوسف یاسر کے ساتھ چلتا ہوا اس کے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔ اصغر نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ بجھایا اوریوسف کی طرف بڑھا اور اس نے یوسف کا گریبان پکڑ لیا ۔۔
گھٹیا انسان میں تُجھے چھوڑوں گا نہیں تو نے میرے بیٹے کو مار دیا ۔۔ میں تیری جان لوں گا ۔۔۔ تو دکھ میں کیا کرتا ہوں تیرے ساتھ تیری موت میرے ہی ہاتھوں سے لکھی ہے یوسف۔۔ اصغر غصے میں بولے جا رہا تھا ۔۔
اور یوسف نے بس عصگر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنا گریبان چھڑوایا تھا۔۔
اصغر صاحب میں اپ سے لڑائی کرنے نہیں ایا اپ نے مجھے بلایا تو میں اگیا۔۔۔ لیکن آپ گھر ائے مہمان کی یہ عزت کرتے ہیں سوچ کر افسوس نہیں ہوا ۔۔ کیوں کے اپ میں تمیز نام کی تو چیز ہی نہیں ہے ۔۔
اپ کا بیٹا چور تھا۔۔ چوری کرتے ہوئے ہی پکڑا گیا ہے اور اگر اپ میری جان لیں گے تو اپ کو لگتا ہے عوام اپ کو چھوڑ دے گی۔۔۔؟کیا آپ نہیں جانتے کامران خان کو ۔۔ وہ کیسی ایسے انسان کو معاف نہیں کرتے جو بے گناہ کو مارتا ہو۔۔ میں بے گناہ ہوں ۔۔ اور ویسے بھی کامران صاحب کے ایک اشارے پر پورا جھنگ آپ کے گھر پر ہو گا اور دوسری بات یہ کے اپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کامران خان انصاف کرنے والوں میں سے ہے۔۔ میں اُن کے سامنے
چلا جاؤں گا ۔۔اور سب سے بڑی بات اصغر صاحب وہ مجھے بہت اچھے سے جانتے ہیں سمجھ لیں میں اُن کے بیٹوں جیسا ہوں اگر آپ نے مجھے کچھ کرنے کی کوشش کی تو پھر
اس کے ذمہ دار اپ خود ہوں گے ۔۔۔
اصغر اب خاموش ہو گیا تھا ۔۔ وہ کیا ہی بولتا۔
تمھیں میں دیکھ لوں گا یوسف ۔۔
جی ضرور جب مجھے دیکھنے کا دل کرے ۔۔ اپ میرے گھر آجائیں ۔۔ نہیں تو ابھی ایک انٹرویو دینے جا رہا ہوں میڈیا میں وہاں پر نظر آجاؤں گا آپ کو دیکھ لیں ۔۔۔ اور اپ کا بیٹا اگر اتنا ہی اچھا ہوتا تو
ایک پولیس افیسر کے اوپر اس
نے حملہ کیا۔۔ میرا بازو دیکھ رہے ہیں اپ ۔۔ یہ حماد نے گولی ماری ہے مجھے ۔۔ وہ بے قصور نہیں تھا ۔۔ یوسف کہتا اب باہر کی طرف چلا گیا ۔۔۔ اور اصغر دیکھتا رہ گیا ۔۔
دوسرا کام جو یوسف نے کرنا تھا وہ رپورٹرز کو ایک ضروری انفارمیشن دینی تھی ۔۔
وہ اس وقت اپنی فلیٹ کی بلڈنگ کے باہر کھڑا تھا
اور اس کے گرد میڈیا اور رپورٹرز کا جھنڈ تھا ۔۔ اور وہ ان کو کچھ بتا رہا تھا ۔۔
میں نے اپ کو ویڈیو سینڈ کر دی ہے ۔۔ اگر کیسی کو یقین نہیں آتا تو دیکھ لیں ۔۔ اصغر صاحب کے گھر گیا تھا میں اور انہوں نے مجھے جان سے مرنے کی دھمکی دی ہے۔۔ اگر مجھے کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمے دار اصغر صاحب ہوں گے ۔۔
اور جہاں تک حماد کی بات ہے ہاں یہ بات صحیح ہے کہ میں ایک کیس پر کام کر رہا تھا جو حماد سے جوڑا ہوا تھا ۔۔
اُس کیس میں حماد کے اوپر سارے ثبوت جاتے تھے ۔۔ کے اُس نے ایک لڑکی کا قتل کیا ہے
لیکن ہمیں یہ بھی اطلاع تھی کے وہ ڈاکو بھی ہے
کیسی کو کچھ پوچھنا ہے ؟یوسف نے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا تو ایک رپورٹر بول اٹھا ۔ ۔۔ سر اگر آپ پر جملہ ہوا تو اپ کیا کریں گے ۔۔
میں کیا کر سکتا ہوں بڑے لوگوں کے سامنے
میں ایک عام سا پولیس افیسر ہوں ۔۔۔ اپ دکھ سکتے ہیں میرے بازو پر گولی لگی ہے ۔۔ میں پھر بھی افسوس کرنے اصغر صاحب کے گھر گیا لیکن آپ نے ویڈیو دیکھ ہی لی ہو گی کے انہوں نے میرے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے۔۔۔
سر ہم اپ کے ساتھ ہیں ۔۔ ایک نیوز اینکر بیچ میں سے بولا تھا۔۔
مجھے خوشی ہے کہ اپ سب میرا ساتھ دے رہے ہیں۔۔ میرے سے اب زیادہ کھڑا نہیں ہوا جہ رہا میں چلتا ہوں ۔۔
وہ یاسر کے ساتھ اوپر فلیٹ میں آگیا البتہ اس کا جانے کا سن کر رپورٹرز اس کی طرف لپکے تھے
سوال جواب کرنے لیکن وہ چلا گیا ۔۔
وہ اوپر فلیٹ میں ایا اور یاسر کو دیکھا ۔۔
گڈ جاب یاسر ۔۔۔ تم نے بالکل صحیح کیا تھا اپنی شرٹ میں کیمرہ لگوا کر ۔۔۔۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اصغر مجھے ضرور کچھ کہے گا
اور دیکھو اُس نے تو جان کی دھمکی دے دی ۔۔ لیکن اس کی اب ویڈیو میڈیا میں جا چکی ہے عوام اس پر غصے میں ہے ۔۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا اب اور اگر اس نے مجھے کچھ کرنے کی کوشش کی تو بات کامران انکل تک پہنچ ہی جائے گی اور ویسے بھی کامران انکل مجھے اچھے سے جانتے ہیں دوسری بات اگر خبر اُن تک نہ گئی تو کم سے کم عوام نہیں چھوڑے گی اور ایک پولیس افیسر پر حملہ کرنے کی جرم میں وہ جیل بھی جا سکتا ہے ۔۔
سر چال تو اپ نے بہت سمجھداری سے چلی ہے
سمجھداری سے ہی چلنی تھی یاسر۔۔ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلا تھا میں نے گھی کو چولہے
پر گرم کر لیا۔۔۔
بات ختم ۔۔ اور میں فی الحال اب اپنے کمرے میں جا رہا ہوں کیونکہ میرا برا حال ہے درد سے۔۔ اللہ نے ایک وفا در کانسٹیبل دیا ہے وہ بھی نالائق ہی ہے۔۔۔
سوری سر ۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں ماری تھی گولی اپ کو۔۔۔
کوئی بات نہیں یاسر ایک طریقے سے اچھا ہی ہوا ہے۔۔۔
عوام کو اور یقین آگیا میرے پر میں اب جا رہا ہوں سونے ۔۔۔ وہ کہتا کمرے میں چلا گیا ۔۔
اور خوش قسمتی سے کامران خان اس وقت ٹی وی کے سامنے ہی بیٹھے ٹی وی ہی دیکھ رہے تھے جس پر یوسف ملک کا انٹرویو چل رہا تھا کامران کو اس وقت شدید غصہ تھا اصغر پر انہوں نے ریحان کو دیکھا۔۔ ریحان گاڑی نکالو۔۔ یہ خبیث کا بچہ ہوتا کون ہے یوسف کو کچھ کہنے والا۔۔۔
ریحان نے اپنے بابا کی بات سن کر فورا گاڑی باہر نکالی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اصغر کے گھر موجود تھے۔۔کامران اندر داخل ہوئے ریحان بھی ساتھ ہی داخل
ہوا تھا اور اصغر کے سیکرٹری یا گارڈ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان کو روک پاتے۔۔
اصغر اندر لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا تھا اور نیوز چینل پر نیوز ہی سن رہا تھا جب پیچھے سے اس نے کامران کی اواز سنی تھی
اصغر ۔۔وہ اس کا نام لیتے اس تک ائے ۔۔ ج۔۔ کامران س۔صاحب ۔ا۔۔اپ یہاں بیٹھے نہ ۔۔وہ اپنی جگہ چھوڑ کے اٹھا ۔۔
بیٹھنے نہیں ائے ہم ۔۔ بس یہ دکھنے ائیں ہیں کے اتنی ہمت کیسے اگئی تم میں کے یوسف کا گریبان پکڑ لیا تم نے۔۔۔
ہم تو بس تُجھے ملنے ائے ہیں وہ بھی پہلی بار اصغر ہم بار بار نہیں کہیں گے۔۔ یوسف کو اگر غلطی سے بھی کچھ ہوا۔۔ تو تم جیل تو جاؤ گے لیکن پھر وہاں سے باہر نہیں ا سکو گے ۔۔ ہم بتا رہے ہیں ۔۔ کامران بولے تھے ۔۔ اور اصغر خاموش ہو گیا
ک۔۔کامران صاحب ۔یوسف نے میرے بیٹے کو مارا ہے۔۔۔
تو تمہارا بیٹا کیا بے قصور تھا۔۔
وہ تو ڈاکو تھا قاتل تھا۔۔
وہ ڈاکو نہیں تھا ۔۔ ۔اصغر نے جلدی سے اپنے مرے بیٹے کی حمایت کی ۔۔۔
چلو مان لیتے ہیں ڈاکو نہیں تھا قاتل تو تھا نا کیا قتل کم گناہ ہے۔۔ اُس نے ایک معصوم لڑکی کو مار دیا ۔۔
کیا تمہاری نظر میں یہ کم ہے۔۔
اور میرے حساب سے تو یوسف نے جو کیا ہے بالکل صحیح کیا ہے اصغر اس سے بھی برا ہونا چاہیے تھا تمہارے بیٹے کے ساتھ۔۔۔ تم اسے جیل بھیج دیتے تو اج وہ زندہ تو ہوتا۔۔
لیکن اب دیکھو وہ مر گیا اللہ نے اس کو سزا دی لیکن اصغر یوسف کو کچھ نہیں ہونا چاہیے
ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا کامران کہتے جن قدموں سے ائے تھے انہی قدموں سے
واپس مڑ گئے۔۔۔
ہیر کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔ اور سوچ میں پڑی ہوئی تھی جب ریحان اندر ایا ۔۔ ہیر تم ٹھیک ہووہ اس کے پاس ا کر بولا ۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔ بس کچھ سوچ رہی تھی
کیا سوچ رہی تھی میری بہن ۔۔
ویسے ہی ریحان ۔۔ دلاور بھائی کے بارے میں وہ کیوں ایسے کرتے ہیں میرے ساتھ ۔۔ میں نے اتنی بری غلطی نہیں کی جو یہ سب کر رہے میرے ساتھ وہ ۔۔
ہیر میں لڑکا ہوں لیکن میں تم لڑکیوں
کے دل جانتا ہوں تم بہت نازک ہوتی ہو ۔۔ لیکن ہیر مشرقی لڑکیوں کے دل کانچ کے نہیں پتھر کے ہونے چاہیے اور پتھر بھی ایسا کے ٹوٹے نہ ۔۔ میں تمھارے چہرے پر پورا دن مُسکراہٹ دیکھتا ہوں لیکن تمہاری انکھوں
میں پانی بھی ہوتا ہے ۔۔ اور تمھیں دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا ہے لڑکیاں بہت بہادر ہوتی ہیں مشرقی لڑکیاں آنکھوں میں سمندر لے کے ہونٹوں سے مسکراتی ۔۔۔ریحان بولا ۔۔
ریحان تمھیں اتنا سب کیسے پتہ ہے ہمارے بارے میں ۔۔۔؟
میں ہر مرد جیسا نہیں ہوں نہ ۔۔ مجھے ہر لڑکی کی قدر ہے ۔۔ کیوں کے وہ اللہ کی مخلوق ہیں ۔۔۔ اور دلاور بھائی ۔۔ ریحان نے گہرا سانس لیے ۔۔
میری دعا ہے وہ اپنی انا کو چھوڑ دیں ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
