قصاص قسط نمبر:۵
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
یہ اگلی صبح کا وقت تھا زرمان اس وقت اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا۔۔۔
اس نے سرمئی رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اب وہ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی اپنی گھڑی اٹھا کر اپنی کلائی پر باندھ رہا تھا پھر اس نے ٹیبل پر پڑے ہوئے پرفیوم میں سے ایک پرفیوم اٹھا کر خود پر لگایا پرفیوم کی مہک پورے کمرے میں گھوم گئی۔۔۔بالوں کو ہاتھوں سے سیٹ کرتے ہوئے وہ باہر کی طرف اگیا۔
اس کی ماں نے کھانا تیار کر کے رکھا ہوا تھا وہ کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گیا کھانے کے دوران کوئی بات نہیں ہوئی تھی ماں بس خاموشی سے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھ رہی تھی جہاں محبت کے رنگ بکھرے پڑے تھے۔۔
میں تو کہتی ہوں اج یونیورسٹی سے اف لے لو زرمان۔۔
نہیں امی اج بہت ضروری اسئنمنٹ کرنا ہے۔۔وقت بہت کم ہے تین دن کا ٹائم ہے اور اسئنمنٹ مشکل ہے۔۔
اچھا تو مطلب تم اکیلے ہو اسئنمنٹ پورا کرنے کے لیے۔۔
نہیں امی ہیر رخسار اور حیات بھی میری ہی ٹیم میں ہیں
اچھا صحیح اللہ کامیاب کرے تمہیں۔۔۔
جی ۔۔انشاءاللہ ۔۔ امی بس اپ کی دعا ساتھ ہیں تو انشاءاللہ ہم کامیاب ہوں گے ۔۔
کھانا کھا کر زرمان نے اپنا بیگ اٹھایا اور کندھے پر ڈالتا کھڑا ہو گیا۔۔۔
میں چلتا ہوں امی دوپہر میں ملاقات ہوگی۔۔ وہ کہتا چلا گیا وہ یونیورسٹی پہنچا تو ان کی پہلی کلاس شروع ہو چکی تھی۔۔۔
وہ چپ چاپ اب کلاس میں بیٹھے لیکچر سن رہے تھے جب حیات نے ہیر کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا ہو گیا ہے تمہارا منہ کیوں سڑا ہوا ہے۔۔
نہیں منہ نہیں سڑا ہوا بس میں کچھ سوچ رہی تھی کیا سوچ رہی تھی۔۔۔؟
بس ایسے ہی دلاور بھائی کے بارے میں سوچ رہی تھی کل تم نے دیکھا تھا رخسار کے سامنے وہ کتنے اچھے بن رہے تھے ۔۔ہیر نے سوچتے ہوئے کہا ۔۔
حیات فٹ سے بولی کہیں انہیں رخسار پسند تو نہیں اگئی۔۔۔
حیات نے کہا تو ہیر نے حیات کی طرف دیکھا رخسار نے اج یہ کلاس اٹینڈ نہیں کی تھی
اس نے کہا تھا کہ وہ اگلی کلاس میں ائے گی۔۔ تمہیں غلط لگتا ہے دلاور بھائی اور کسی کو پسند کر لیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
کیا تمہیں نہیں پتا محبت کی رسی کسی کو بھی پڑھ سکتی ہے۔۔۔ جیسے تمہیں پڑ گئی ہے۔۔۔ ہیرکے رنگ ہوا ہو گئے۔۔
م۔۔ مجھے
ہاں تمھیں ۔۔ حیات نے کہا توہیر نے نفی میں گردن ہلائی۔۔ ن۔نہیں م۔۔ مجھے نہیں ہے کسی سے محبت ۔۔۔ہیر گربرہ گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو ۔۔۔
تمہیں کسی سے نہیں بلکہ زرمان بھائی سے محبت ہے ہیر ۔۔
اب ہیر کا رنگ زرد پڑھنے لگا تھا۔۔۔ جس چیز کو وہ اتنے وقت سے خود سے بھی چھپاتی ارہی تھی وہ کسی اور کو نظر اگئی تھی یہ کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔
نہیں۔۔ ایسا نہیں ہے ۔۔ مجھے محبت نہیں ہے
تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔
تم کس کو پاگل بنانا چاہتی ہو مجھ کو یا خود کو۔۔ کوئی اندھا بھی تمہیں دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ جب زرمان بھائی تمہارے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جو تمہارے چہرے کی چمک کس طرح سے محبت میں بدلتی ہے۔۔۔ اور تمہیں لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں جو مجھے نہیں پتہ چلے گا۔۔۔ جب زرمان بھائی نے مجھ سے تمہارا نمبر مانگا تھا اتنا تو مجھے پتہ تھا کہ وہ تمہیں پسند کرتے ہیں لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ تم بھی انہیں پسند کرنے لگو گی۔۔۔حیات بولتی چلی گئی جب ہیر نے اس کی بات کاٹ دی ۔۔
میں اس کو پسند نہیں کرتی حیات ۔۔ اور یہ فضول کی باتیں نہ کرو میرے سامنے۔۔کیا تم نہیں جانتی کہ اگر میں نے دوبارہ وہ غلطی دہرائی تو اس بار دلاور بھائی میرا گلا دبا دیں گے۔۔۔
میں جانتی ہوں ہیر اسی لیے تمہیں یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ تمہیں محبت نہیں کرنی کسی سے بھی نہیں۔۔۔ حیات نے الفاظوں پر زور دیا
کیا تم فضول باتیں کر رہی ہو۔۔۔
میں کوئی فضول بات نہیں کر رہی تم میری دوست ہو اور تمہارا مقام میرے دل میں بہت خاص ہے۔۔ میں تمہیں کسی بھی صورت میں کھونا نہیں چاہتی۔۔۔ میں جانتی ہوں
محبت پر اختیار نہیں ہوتا انسان کا۔۔۔ لیکن مجھے بھی تم سے محبت ہے۔۔۔ تم جیسی دوست کو کبھی نہیں کھونا چاہتی ہیر۔
ہیر نے گہرا سانس لے کر حیات کا چہرہ دیکھا ۔۔
میں محبت نہیں کروں گی میں نے سوچ کر رکھا ہے۔۔
لیکن میرا اختیار نہیں ہے میرے دل پر۔۔ ہیر نے جیسے اطراف جرم کیا تھا ۔۔
زرمان نے کہا تھا محبت کرنے والوں کو جان کی پرواہ نہیں ہوتی ۔۔۔
اگر مجھے محبت ہو گئی تو میں اپنی پرواہ کرنا چھوڑ دوں گی ۔۔
حیات اب کی بار خاموش ہو گئی تھی۔۔۔
اور جہاں تک دلاور بھائی کی بات ہے انہیں محبت نہیں ہو سکتی وہ محبت کی رسی کو بھی کاٹ کر پھینک دیں گے ۔۔۔ ان کو قید پسند نہیں ہے حیات ۔۔۔
ہاں لیکن یہ کہہ سکتے ہیں ۔۔ہیر نے اب بات بدلی ۔۔کہ ریحان کے دل میں کچھ کچھ ہو رہا ہے جب اس نے رخسار کو دیکھا ۔۔تو اس نے رخسار کو پشتو میں بولا تھا کہ وہ بہت پیاری ہے جو کہ رخسار کو سمجھ نہیں ائی تھی ریحان کسی بھی لڑکی کو اس طرح سے کبھی نہیں کہتا یہ میں نے پہلی بار دیکھا ہے یہ میرے بھائی کے منہ سے بے ساختہ یہ
الفاظ نکلے تھے۔۔۔
اچھا تو تمہیں لگتا ہے کہ ریحان رخسار کو پسند کرتا ہے حیات نے کہا ۔۔
ہاں یہ کہہ سکتے ہیں ایسا ممکن ہے کہ وہ پسند کرنے لگے اور رخسار نے بھی ریحان سے بہت اچھی طرح سے بات کی تھی جبکہ دلاور بھائی کے سامنے وہ منہ بنا کر بیٹھی تھی۔۔۔
چلو دیکھتے ہیں پھر کیا ہوتا ہے ان کی قسمت میں کیا لکھا ہے لیکن تم اپنا سوچو تمہیں اپنی قسمت خود لکھنی ہے۔۔۔حیات ابھی تک اپنی بات پر اٹک گئی تھی ۔۔۔
میں تمہیں بتا چکی ہوں دل پر اختیار نہیں ہوتا اور میں اپنے دل کو روکوں گی نہیں۔۔دیکھتے ہیں اب میرا دل کیا چاہتا ہے۔۔۔
زرمان خاموشی سے ان سے پچھلی دو قطاروں میں سے ایک پر بیٹھا تھا اور زرمان کو ان کی اواز نہیں ارہی تھی وہ خاموشی سے لیکچر سن رہا تھا ۔۔کلاس ختم ہونے کے بعد وہ لائبریری میں اگئے تھے
اسئنمنٹ پر کام کرنے کے لیے بہت سے سٹوڈنٹ وہیں پر بیٹھے تھے یہ چاروں بھی اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔۔ اور پھر کتابیں کھول لی اب ان کا پورا دھیان یونیورسٹی کے دیے گئے کام پر تھا۔۔۔
اگلے دو سے تین گھنٹے وہ لائبریری میں بیٹھے اس پر کام کرتے رہیں
البتہ رخسار بار بار بیچ میں تھک جاتی تھی کبھی وہ کہتی میرے سے نہیں ہو رہا کبھی وہ کہتی چلو گھر چلتے ہیں بس کرتے ہیں لیکن ہیر اور زرمان کا پورا ارادہ تھا کہ زیادہ نہیں تو کسی حد تک تو وہ اسسائنمنٹ کو کمپلیٹ کریں اور انہوں نے رخسار کو بھی ساتھ ہی بٹھا کر رکھا تھا۔۔۔
جب کتابیں بند کی رخسار نے شکر کا سانس لیا اس کو تو ویسے بھی پڑھائی پسند ہی نہیں۔۔۔
ہیر نے انکھیں اٹھا کر زرمان کی طرف دیکھا ۔۔
دونوں کی نظر ایک دوسرے سے ٹکرائی۔۔ دل کی دھڑکنیں بے ساختہ بڑھی ۔۔۔ اور پھر دونوں نے نظریں چرا لی۔۔۔
زرمان نے تو نظر اس لیے چرائی تھی کہ کہیں ہیر کی انکھوں کو زرمان کی ہی نظر نہ لگ جائے جبکہ ہیر نے اپنی نظر اس لیے جھکائی کہ کہیں انکھوں میں چھپا راز باہر نہ ا جائے ۔۔۔کہتے ہیں محبت کرنے والا انکھوں کو پڑنا جان جاتا ہے ۔۔ اور ہیں زرمان آنکھیں پڑنا جانتا تھا ۔۔ اور ہیر نہیں چاہتی تھی کے وہ اس کی آنکھیں پڑ لے ۔۔
وہ ایک بڑا کمرہ تھا۔۔۔ جہاں خاموشی کا راج تھا درمیان میں سفید شلوار قمیض پہنے کوئی ادمی بیٹھا تھا نہ جانے کون تھا وہ کوئی جادوگر کوئی عالم۔۔۔ نہ جانے کون۔۔
اس کے عین سامنے گھٹنوں پر قاسم خان
بیٹھا تھا۔۔۔
بولو کس لیے ائے ہو تم۔۔ سامنے بیٹھے بوڑھے ادمی نے اس سے پو چھا وہ نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔۔ نظر اٹھائی اور بات کرنی شروع کی۔۔
بابا میں چاہتا ہوں کہ میں جس لڑکی سے محبت کرتا ہوں اسے بھی میرے سے محبت ہو جائے۔۔ وہ میرے بابا کے دوست کی بیٹی ہے ہمارا بہت انا جانا ہے ان کے گھر میں۔۔۔ میں بہت وقت سے اس کو دیکھتا ایا ہوں مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے۔۔۔ مجھے اس سے محبت ہے لیکن مجال ہے کہ وہ میرے سے سیدھے منہ بات بھی
کر لے ۔۔اس کو میں پسند نہیں ہوں شاید۔۔۔
بابا کوئی ایسا تعویز کریں کہ اسے میرے سے محبت ہو جائے۔۔۔ بوڑھا ادمی اس کو دیکھ کر مسکرایا۔۔۔
بالکل صحیح جگہ پر ائے ہو
بابا اپ کا مجھے میرے ایک دوست نے بتایا تھا۔۔ اس نے کہا تھا بہت اثر ہے اپ کے تعویز میں ۔۔۔
بالکل میں تمہیں ایسا تعویز دوں گا کہ تم حیران رہ جاؤ گے تمہاری محبت کو تم سے محبت ہو جائے گی وہ لڑکی تمہارے اگے بھیک مانگے گی محبت کی۔۔ وہ تم پر فدا ہو جائے گی۔۔ وہ تمہاری
غلام بن جائے گی۔۔۔ اس کو تمہارے قدموں میں نہ گرا دیا تو میرا نام بدل دینا ۔۔
اس کے پہلے جملے تک تو قاسم خاموش تھا لیکن اس کی اخری بات پر قاسم کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی۔۔۔ عالم اب بیٹھا کوئی تعویز لکھ رہا تھا۔۔ قاسم بے ساختہ مسکرایا۔۔۔
میں اس کو اپنا غلام نہیں بنانا چاہتا اپنے قدموں میں نہیں گرانا چاہتا اس کو ۔۔۔اس کو اپنی سر انکھوں پر بٹھانا چاہتا ہوں اپنے سر کا تاج بنانا چاہتا ہوں۔۔۔
اپ اس کو میرے قدموں میں گرانے کا سوچ رہے ہیں مجھے ایسا تعویز نہیں چاہیے قاسم کہتا کھڑا ہو گیا۔۔
لیکن اس کو تم سے محبت ہو جائے گی عالم
یکدم بولا۔۔۔ کے کہیں قاسم چلا نا جائے ۔۔
نہیں چاہیے وہ محبت جو اس کو قدموں میں بٹھا دے۔۔۔ میرے سے غلطی ہو گئی جو میں اپ کے پاس اگیا۔۔ قاسم نے کہتے ہوئے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے۔۔۔ محبوب قدموں میں نہیں انکھوں پر بٹھانے کی چیز ہے۔۔۔۔
اور محبوب واقعی قدموں میں بٹھانے کے نہیں بلکہ انکھوں میں بٹھانے کی چیز ہوتی ہے۔۔۔
لیکن اج کل کے زمانے میں انسان نے محبت کو بھی مذاق سمجھ کر رکھا ہے ایک دن انسان کو محبت ہوتی ہے اور اگلے دن محبت ختم۔۔۔۔
رخسار اپنے گھر پر ائی تو۔۔اس کے ماما بابا لاؤنچ میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اس کے ماں باپ اس بہت پیار کرتے تھے۔۔
اس کا ایک چھوٹا بھائی تھا جو سکول پڑھتا تھا نویں کلاس میں وہ بس گھر انے ہی والا تھا وہ اپنی بہن سے بہت پیار کرتا تھا لیکن لڑتے بھی یہ بہت تھے۔۔ رخسار اپنے بھائی کے انے کا ہی انتظار کر رہی تھی جب وہ گھر پہ داخل ہوئی تو ماں باپ
سے سلام کیا۔۔۔
رخسار میں پوچھنا بھول گئی اج تم چادر میں گئی۔۔۔ تم تو شلوار کا میز کبھی نہیں پہنتی تو پھر اج خیال کیسے اگیا۔۔ ماں نے حیرانی سے پوچھا تھا ۔۔۔
بس ایسے ہی امی دل کر پڑا تھا شلوار قمیض پہننے کا اور اج سے میں ایسے ہی کپڑے پہنوں گی میرے جتنے بھی دوسرے کپڑے ہیں وہ اپ کسی کو دے دیں یا پھر بے شک جلا دیں۔۔۔
ثانیہ بیگم رخسار کے اندر اس قدر بدلاؤ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن ایک انجانی سی خوشی بھی ہوئی تھی وہ اکثر اپنی بیٹی کو کہتی تھی کہ انسانوں والے کپڑے پہنا کرو لیکن وہ نہیں سنتی تھی اس
کو وہ کپڑے پسند تھے ۔۔۔
لیکن اب وہ پسند ختم ہو گئی تھی۔۔۔۔
اس کا چھوٹا بھائی گھر ایا۔۔ تو اس کو شلوار قمیض میں دیکھ کر تو جیسے اس کے ہوش اڑ گئے تھے۔۔۔ یہ اتنا بڑا کرشمہ کہاں سے ہو گیا ہے لڑکی۔۔۔ تم کب سے شلوار قمیض پہننے لگ گئی تم تو وہ چھپریوں والے کپڑے نہیں پہنتی تھی۔۔
دفع ہو جاؤ تم ۔۔آپی کیوں نہیں کہتے مجھے بڑی بہن ہوں میں تمہاری شرم نام کی چیز ہی نہیں ہے تم میں شاہان ۔۔۔
اب اس میں کون سی شرم ۔۔۔ جس دن تم مجھے احترام سے بلانا سیکھ لو گی میں تمہیں آپی کہنا شروع کر دوں گا اور ویسے بھی بھائیوں کا درجہ تو بڑا ہی ہے نا۔۔۔ وہ واقعی بہت ذہین تھا
اور ایک حد تک شرارتی بھی وہ 17 سال کا تھا جب کے رخسار 21 سال کی تھی لیکن مجال ہے کہ وہ اس کو کبھی اپی کہہ کر بلا لے۔۔۔
اج اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے سکول سے انے میں۔۔۔
بس راستے میں گرل فرینڈ مل گئی تھی مجھے۔۔ اس کو ڈراپ کرنے گیا تھا میں۔۔۔
بس بس تمہاری شکل پر تمہیں کوئی ایک ٹافی نہ
دے تم گرل فرینڈ بنانے کی بات کرتے ہو۔۔۔ شاہان نے برا سا منہ بنایا۔۔ وہ سیاہ کالی انکھوں کا مالک تھا۔۔۔
اور اس کو اپنے بالوں سے بہت محبت تھی جنہیں وہ ہمیشہ کبھی سٹریٹنر سے سٹریٹ کر کے رکھتا تھا ۔۔۔ تو کبھی جيل لگا کر سیٹ کر کے رکھتا تھا وہ اپنے پورے سکول میں ہینڈسم لڑکا تھا
بس کرو زیادہ بولو نہیں لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر سکول میں۔۔۔
ویسے انہیں سچ میں ہی مر جانا چاہیے جو تم پر مرتی ہیں بھائی۔۔۔
رخسار اب مذاق اڑاتی ہوئی بولی۔۔۔ شاہان کا غصہ سات اسمان پر پہنچ گیا تھا وہ اپنا بیک کندھے سے اتارتا رخسار کی طرف بھاگا تھا۔۔۔ اور رخسار فورا سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی اس کو بہت مزہ اتا تھا اپنے بھائی کو غصے میں دیکھ کر۔۔۔
اس نے کمرے میں جا کر جلدی سے دروازہ بند کر دیا اور شاہان باہر ہی کھڑا رہ گیا۔۔۔
ماما اپنی اس چڑیا کو کہیں دروازہ کھولے نہیں تو توڑ دوں گا۔۔۔
کیا ہو گیا ہے کس طرح سے لڑتے ہو تم دونوں بہن بھائی۔۔۔جانور لگتے ہو دونوں ۔۔۔
ہاں تو ماما اس کو کہا کریں نا ۔۔ نا لیا کریں میرے سے پنگا۔۔۔ بعد میں بھاگتی پھرتی ہے ۔۔۔۔
شرم کرو تم شاہان بڑی ہے وہ تم سے۔۔۔
عمر میں بڑی ہے نا وہ۔۔ قد میں تو میں اس سے بڑا ہوں اور دوسری بات میرا درجہ بھی اس سے بڑا ہے۔۔۔
شاہان کا قد واقع ہی بہت بڑا تھا ۔۔۔۔ رخسار کا قد اتنا بڑا نہیں تھا وہ بڑی ہونے کے باوجود بھی اپنے بھائی کے سامنے چھوٹی بہن لگتی تھی۔۔۔ شاہان کے گمبھیر لہجے میں کہیں بھی بچپنا
ظاہر نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔ دیکھنے والا اس کو دیکھ کر یہی سمجھتا ہوگا کہ اس کی عمر کم سے کم 20 21 سال کے قریب تھی۔۔۔
وہ بہت میچور لگتا تھا۔۔۔ کچھ دیر گزری تو شاہان ایک بار پھر دروازے پر کھڑا ہو کہ اونچی اواز میں بولا۔۔۔
رخسار صاحبہ باہر تشریف لے ائیں مما نے کھانا لگا دیا ہے ویسے بھی تم تو گھر کا کوئی کام کرتی ہی نہیں ہو۔۔۔
رخسار جو بیڈ پر بیٹھی تھی منہ بنا کر اٹھی اور دروازہ کھولا۔۔۔
زیادہ بولو نہیں میرے سامنے ساس نہ بنو میری ۔۔۔ جب دیکھو یہ ساس والےطانے دینے شروع کر دیتے ہو ۔۔۔
ہاں تو اپنی حرکتیں ٹھیک کرو نا۔۔ رخسار کو اب شدید غصہ ایا اور اس نے شاہان کے بال پکڑ لیے تھے جس پر شاہان فوری طور پر اپنے بال چھڑواتا پیچھے ہوا تھا۔۔۔
کرو مذاق جتنا کرنا ہے لیکن میرے بالوں کو ہاتھ نہیں لگانا ایک بال بھی اگر ٹوٹا نا تو تمہیں میں
گنجا کر دوں گا۔۔۔شاہان اور اس کے حسین بال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو پھر نہ کیا کرو تنگ کسی دن تم سوئے ہو گے اور تمہارے سارے بال کاٹ دوں گی میں۔۔۔
رخسار نے دھمکی دی تھی ۔۔
اتنی ہمت ہے تمہارے میں کہ میرے بال کاٹ سکو میرے کاٹے تو پھر اپنے دیکھنا صبح کو بچیں گے نہیں۔۔۔ بددعا دے دوں گا میں تمہیں بددعا۔۔۔۔۔
رخسار یہ بات قبول کرتی تھی کہ اس کو ساس کی ضرورت نہیں تھی فی الحال اس کا بھائی ہی
کافی تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوسف اس وقت پولیس اسٹیشن میں تھا اس کے سامنے ایک لڑکا کھڑا تھا یوسف اپنی کرسی پر بیٹھا اس کو گھور رہا تھا یہ شاید وہی تھا جس نے پچھلی رات حیات کو تنگ کیا تھا۔۔ یوسف نے تو ویسے ہی ڈھان کر رکھا تھا کہ وہ اس کو چھوڑے گا تو
نہیں اور یہی ہونے والا تھا وہ جو کہتا تھا وہ کر کرے دکھاتا تھا۔۔۔
ویسے مجھے پتہ چلا ہے تم بہت لڑکیوں کو چھیڑتے ارہے ہو ۔۔
س۔۔ سر جی معاف کر دیں غلطی ہو گئی دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔۔وہ خوف زدہ ہو گیا تھا ۔۔
دوبارہ ایسا کرنے کا موقع نہیں دوں گا سالے ۔۔۔۔ ابھی یہ پچھلی رات کی بات ہے تو نے ایک لڑکی کو چھیڑا تھا بائک پر یاد ہے کہ نہیں تجھے کوئی اندازہ ہے اس کے ساتھ کون چل رہا تھا
یوسف نے کہا اور بے ساختہ اس لڑکے کو یوسف کا چہرہ یاد ایا۔۔ س۔۔ سر۔ج۔ہی۔۔ وہ آپ تھے۔۔وہ کمتے ہوئے بولا ۔۔
نہیں میرا جن تھا۔۔۔یوسف نے اس کو گھور کے دیکھا ۔۔
دوبارہ تو نے اگر کسی لڑکی کو چھیڑا نہ تو تیرا وہ حال کروں گا کہ تو اپنی شکل بھی پہچان نہیں سکے گا۔۔۔
جی مجھے معاف کر دیں میں نے اپ کی بہن کو چھیڑا ۔۔۔
وہ بولا تو یوسف بے ساختہ استغفراللہ کہتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا۔۔۔ بہن نہیں تھی کمینے وہ میری ۔۔
سر۔۔ جی معاف کر دیں وہ اب اور ڈر گیا تھا۔۔۔ دوبارہ نہیں چھیڑوں گا کسی بھی لڑکی کو نہ اپ کی بیوی کو نہ کسی اور کو۔۔
ایک بار یوسف کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی۔۔۔
ہاں بیوی کہہ سکتا ہے لیکن فی الحال نہیں ہے وہ۔۔
ان سب باتوں کو چھوڑ یوسف نے یاسر کی طرف دیکھا یاسر میرے بھائی پتہ ہے نا کیا کرنا ہے اس کا۔۔۔
یاسر الارٹ کھڑا تھا جوش سے بولا ۔۔
جی سر اندھیری رات میں گولی مار دینی ہے۔۔۔۔
واہ بھائی اللہ تیرے جیسی عقل کسی کو نہ دے۔۔۔ گولی نہیں مارنی ۔۔ یاسر اس کو اندر جیل میں ڈال اور اچھے سے اس کے اوپر سے دھول مٹی صاف کر دے بہت گندا ہو گیا ہے۔۔۔
یوسف کہتا ہوا واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور ایک کپ چائے کا منگوایا۔۔۔ یاسر اتنے میں اس لڑکے کو شرٹ سے پکڑتا حوالات کے اندر لے گیا۔۔۔ اجا تجھے ذرا حوالات کی سیر کرواتا ہوں۔۔۔۔ اور اب یاسر نے اس کو الٹا لٹکا کر بری طرح سے مارنا شروع کر دیا تھا وہ چیختا چلاتا رہا لیکن یاسر رکا نہیں ۔۔۔ جب تک یوسف نہ کہتا وہ رکتا نہیں۔۔۔ اس کو بری طرح مارتا رہا
اس لڑکے کا برا حال ہو چکا تھا وہ دوبارہ اپنی زندگی میں بھی کسی لڑکی کو چھیڑنے کی کوتاہی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ کچھ دیر لگاتار مار کھانے کے بعد جب اس کا برا حال ہو گیا تو یاسر نے
یوسف کے کہنے پر اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔ اور پھر واپس ایا یوسف چائے پی رہا تھا۔۔ سر جی دوبارہ وہ ایسی کوئی غلط ہی نہیں کرے گا اتنا مار کے ایا ہوں نا کہ پوری زندگی یاد رکھے گا۔۔۔۔
بہت اچھا کیا یاسر ۔۔۔ کوئی اور کام ہے سر جی۔۔
نہیں فی الحال تو کوئی اور کام نہیں ہے۔۔۔ تیرے لیے بھی چائے منگوائی ہے۔۔۔۔ یاسر پھر سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
سر جی اپ نے فائل کھول کر دیکھا ہے یاسر کسی روبوٹ کی طرح کہہ رہا تھا۔۔۔
نہیں میں نے تو ابھی نہیں دیکھا
کیا کیس ہے۔۔۔۔۔
سر جی ایک بہن نے اپنے بھائی کے خلاف ایف ائی ار لکھوائی ہے۔۔۔ وہ اس کی بھابھی کو مارتا تھا بہت بری طرح اس کی بیوی اس وقت ہاسپٹل میں داخل ہے اور اس کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔
ایک دو بار اس نے اپنی بہن کو بھی مارا ہے اور صرف اس لیے کیونکہ وہ اپنی بھابھی کو بچانے کے لیے سامنے ائی تھی۔۔۔۔
اس ادمی کو نہیں پتہ کہ اس کے خلاف ایف ائی ار لکھوائی گئی ہے۔۔۔ اس کی بہن پولیس اسٹیشن میں ا کر بہت بری طرح سے روئی تھی کہ اس کو اور اس کی بھابی کو بچا لیا جائے اس کا بھائی جان کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔۔۔۔ وہ بتاتی ہے کچھ عرصہ پہلے تک اس کا بھائی بہت اچھا تھا۔۔ لیکن شاید وہ کوئی ڈرگز وغیرہ لینے لگا ہے۔۔۔ سننے میں ایا ہے کہ اج کل وہ بہت شراب بھی پیتا ا رہا ہے ۔۔۔۔ تقریبا روز
ہی وہ شراب پی کر اتا ہے ۔۔۔ اس کے بارے میں کچھ پتہ لگوایا تھا تو پتہ چلا کہ وہ جوا بھی کھیلنے کا عادی ہے۔۔۔
تو یاسر وہ عورت اس طرح کے نیچ ادمی کے ساتھ کیوں رہ رہی ہے۔۔۔
سر جی اس عورت کی ایک بیٹی ہے چھوٹی سی اس کے ماں باپ کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ واپس اپنے گھر میں نہیں جانا چاہتی۔۔۔
وہ کہتی ہے کہ وہ اپنے بھائی اور اپنے بھائی کے بیوی بچوں پر بوجھ نہیں بننا چاہتی اپنی بیٹی کے ساتھ۔۔۔ وہ جیسے بھی روتے دھوتے زندگی گزار رہی تھی اس ادمی کے ساتھ لیکن کل رات کو تو انتہا ہو گئی سر اس نے اتنی بری طرح اس
عورت کو مارا تھا۔۔ اس عورت کا سر پھٹ گیا اس نے کوئی لوہے کا راڈ مارا تھا شاید ۔۔یا کوئی لکڑی کی چیز۔۔۔ اس کی بہن کو بھی چوٹ وغیرہ ائی ہے لیکن وہ ٹھیک ہے اب وہ ہاسپٹل میں ہی ہے اپنی بھابی کے ساتھ ابھی بھی۔۔۔
لیکن اس کی بھابھی کی حالت بہت خراب ہے اس کے چہرے پر جگہ جگہ تھپڑ کے نشان واضح نظر اتے ہیں ۔۔۔
چلو پھر یاسر انتظار کس چیز کا ہے ایک اور درندے کا خاتمہ کرتے ہیں دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے اس کا۔۔۔ یاسر چائے کا اخری گھونٹ لیتا یوسف کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اور پھر
یوسف نے ٹیبل پر پڑا اپنا فون اٹھایا اور اپنی کیپ اٹھا کر ہاتھ میں پکڑتا باہر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
وہ گاڑی میں ا کر بیٹھا تو یاسر بھی اس کے ساتھ فورا بیٹھا۔۔۔ یوسف نے گاڑی یاسر کے بتائے ہوئے راستے پر چلا دی۔۔۔
یوسف اور یاسر پہلے جھنگ کے ایک ہاسپٹل میں داخل ہوئے تھے
ریسپشن سے اس عورت کا نام پوچھ کر وہ اگے چل پڑے کچھ دیر بعد وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔۔
سامنے وینٹیلیٹر پر اس عورت کی حالت بہت خراب تھی
اس کو ہوش ایا ہوا تھا لیکن اس کو اس وقت شدید سر میں درد ہو رہی تھی اس کے پاس اس کی ساس بیٹھی تھی۔۔۔
یوسف نے انویسٹیگیشن شروع کی۔۔۔۔
اپ کے شوہر کے خلاف اپ کی نند نے ایف ائی ار درج کروائی تھی کیا اپ اس بارے میں جانتی ہیں ؟
اس عورت نے انکھوں کے اشارے سے اسبات میں کہا۔۔ ٹھیک ہے ہم زیادہ نہیں اپ سے تھوڑے بہت سوالات کریں گے اور اس کے بعد پھر ہم چلے جائیں گے۔۔۔
اپ کا شوہر اپ کو کیوں مارتا ہے۔۔۔۔
اس عورت میں تو بولنے کی بھی سکت نہیں تھی وہ بہت دھیمی اواز میں بولی تھی۔۔
میں نہیں جانتی وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔۔
وہ پہلے ایسے نہیں تھے ابھی کچھ وقت گزرا ہے وہ ایسے ہو گئے ہیں وہ مجھے بہت پیار
کرتے تھے وہ ہمیشہ جب بھی باہر سے اتے تھے میرے لیے کوئی نہ کوئی چیز لے کر اتے تھے۔۔۔ ہماری زندگی بہت خوشحال تھی وہ اپنی بیٹی سے بھی بہت پیار کرتے تھے لیکن اب وہ بدل گئے ہیں۔۔۔ اج کل وہ اپنے دوستوں میں بہت
بیٹھنے لگے تھے۔۔اور جب گھر اتے تھے تو وہ بہت پریشان رہتے تھے ان سے میں کچھ پوچھ لیتی تو وہ غصہ کرنے لگتے چلانے لگتے میرے پر۔۔۔ اور پھر اہستہ اہستہ ان کا غصہ بڑھتا چلا گیا انہوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔ میں نہیں جانتی وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں میں نے
ان کا کچھ نہیں بگاڑا وہ میرے سے بہت محبت کرتے تھے ایک دم سے وہ اتنا بدل گئے ہیں۔۔۔
تو اپ اپنے گھر کیوں نہیں جانا چاہتی ۔۔۔
میں اپنے بھائی اور اپنی بھابھی کے اوپر بوجھ نہیں بننا چاہتی میری بھابھی کو میرا وہاں جانا ناپسند ہے ۔۔ اور میرا بھائی میری بھابھی اور اپنے بچوں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔۔۔ امی ابو کی فوتگی کے بعد میری بھابھی کو لگتا ہے کہ میں خاندان
جائیداد میں سے حصہ مانگوں گی اور وہ اس لیے نہیں چاہتی کہ میں ان کے گھر جاؤں میں ان کے گھر بہت کم جاتی ہوں میں وہاں رہتی بھی نہیں ہوں امی ابو ہیں نہیں تو میں وہاں رہ کر کیا کروں گی۔۔۔۔ یوسف نے بےچارگی سے اس کا چہرہ دیکھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے اپ کے گھر میں اس وقت کون ہے مطلب اپ کے سسرال میں ۔۔؟
سسرال میں اس وقت بس میری نند ہے جو میری بچی کا خیال رکھ رہی ہے ۔۔۔۔ میرے شوہر اس وقت گھر پر نہیں ہیں۔۔
وہ رات کو مجھے مارنے کے بعد سے غائب ہیں ان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے دیکھ لیتے ہیں کیا بنتاہے۔۔۔۔۔
یوسف نے کہتے ہوئے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے۔۔۔
یاسر اس کے شوہر کو اتنا تو پتہ ہوگا کہ اس کی بیوی ہاسپٹل میں ہوگی یقینا کیونکہ یاسر اس نے اگر مارا ہے تو۔۔۔ وہ اتنا تو جانتا ہوگا کہ بہت برے طریقے سے مارا ہے اس کو ہاسپٹل جانا ہی پڑے گا۔۔ تو یاسر ہو سکتا ہے اس وقت وہ اپنے گھر پر ہی موجود ہو اس کی بیوی کو پتہ ہی نہ ہو۔۔۔
سر اپ کی بات ٹھیک ہے لیکن ہم پہلے اس کے کچھ دوستوں سے پتہ کر لیتے ہیں۔۔۔۔
ٹھیک ہے یاسر ویسے تمہاری بات بھی ٹھیک ہے کے پاس ہی اس کے دوست کی دکان ہے نا جس سے وہ بہت ملتا جلتا تھا
جی سر گھر کے پاس ہی ہے بالکل۔۔
ٹھیک ہے یاسر تم اس کے دوست کی دکان پر چلو اور میں اس کے گھر جاتا ہوں۔۔۔
جی سر جیسا اپ صحیح کہیں۔۔۔۔۔
یاسر اور یوسف ا کر گاڑی میں بیٹھ گئے ۔۔۔ کچھ دیر گزری تھی اور یوسف گاڑی سے نیچے اترا اور گھر کا دروازہ بجایا۔۔۔
اندر سے پہلے ہی بہت شور شرابے کی اواز ارہی تھی۔۔۔
یاسر کو یوسف نے دکان پر اتار دیا تھا اور یاسر اب اس دکان والے شخص سے معلومات حاصل کر رہا تھا جو کہ اس ادمی کا ہی دوست تھا۔۔۔ یوسف نے دروازہ بجایا لیکن ایک دم سناٹا چھا گیا کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔۔۔ یوسف نے پھر دروازہ بجایا اور دوسری دفعہ پر دروازہ کھو لیا گیا تھا
کھولنے والی لڑکی تھی یقینا وہ اس لڑکے کی بہن ہی تھی۔۔۔ جی کہیں۔۔۔
ہمیں اپ کے گھر کی تلاشی لینی ہے اپ نے
ہی ایف ائی ار درج کروائی تھی پولیس اسٹیشن میں میں یوسف ملک ہوں۔۔۔۔
ج۔۔ اپ کو کیا ڈھونڈنا ہے۔۔۔
اپ نہیں جانتی ہم کس کو پکڑنے کے لیے ائے ہیں ؟
لازمی سی بات ہے اپ نے اپنے بھائی کے خلاف ایف ائی ار درج کروائی تھی تو ہم اپ کے بھائی کو ہی ڈھونڈنے کے لیے ائے
ہیں کیا وہ اندر ہیں۔۔۔؟
ن۔۔۔ نہیں ۔۔ اندر نہیں ہے۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن ہم تلاشی لیے بنا نہیں جائیں گے یوسف نے کہتے ہوئے قدم اگے بڑھا دیے تو اس لڑکی کو پیچھے ہونا پڑا۔۔۔ یوسف نے چاروں طرف گھر میں نظر گھمائی تو کوئی نظر نہیں ایا
یوسف نے پورے گھر کی تلاشی لینی شروع کی پھر بھی کوئی نظر نہیں ایا۔۔۔ یوسف نے اپنے قدم گارڈن کی طرف بڑھائے تو اسے گارڈن میں کوئی کرسی پر بیٹھا ہوا نظر ایا تھا۔۔۔ یوسف تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔ وہ ادمی اس
وقت نشے میں ہی لگ رہا تھا اور شاید وہ لڑکی اسی سے لڑ رہی تھی یقینا وہی اس کا بھائی تھا ۔۔۔۔ اس نےیوسف کو دیکھا اور یک دم اٹھ کر لڑکھڑاتا ہوا کھڑا ہو گیا اور پھر اپنی بہن کو ملامت کرنے لگا جو کہ یوسف کے پیچھے ہی ا رہی تھی۔۔۔۔ اس کے بھائی نے اپنی بہن کو دھمکی دی
تھی یقینا اسی لیے وہ دروازے پر منع کر رہی تھی اندر انے سے۔۔۔
گھٹیا لڑکی۔۔ تو نے بلا لیا پولیس والے کو۔۔۔ تیرے جیسی بہن کو جان سے مار دینا چاہیے تو کیسی بہن ہے۔۔۔
وہ اپ لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ اسے ملامت کر رہا تھا اور بہن خاموش کھڑی تھی۔۔
انسپیکٹر یہی میرا بھائی ہے اس کی وجہ سے میری بھابھی کے برے حالات ہیں اور میری
بھتیجی کا برا حال ہے خوف سے وہ لڑکی اب پھٹ پڑی تھی۔۔یوسف اس کی طرف بڑھا تو وہ ادمی وہیں کھڑا رہا اس نے کوئی بھاگنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔
اکرم اپ کو اریسٹ کرنے ایا ہوں۔۔۔یوسف نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
تو ہوتا کون ہے مجھے اریسٹ کرنے والا۔۔۔ نشے میں دھت بولا تھا اور یوسف کے چہرے کا رنگ بدلا۔۔۔
دیکھیں اپ ارام سے ہمارے ساتھ پل اسٹیشن چلیں نہیں تو ہمیں زور ازمائی بھی اتی ہے۔۔ یوسف کے کہنے پر اس ادمی کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی تھی
اور پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر یوسف کو مارنا چاہا۔۔۔۔
یوسف فورا سے بچ گیا تھا جبکہ یوسف نے برق رفتاری سے اپنے ہاتھ کا مکہ بنا کر اس ادمی کے ناک پر دے مارا اس کی ناک سے ایک دھار کی طرح خون نکلنے لگا۔۔۔۔ اس ادمی کے 14
طبق روشن ہو گئے تھے۔۔۔
بےغیرت خبیث انسان تجھے کہہ رہا ہوں نا تمیز سے چل ۔۔ تیری ہمت کیسے ہوئی میرے پر ہاتھ اٹھانے کی ۔۔
دوبارہ اگر یہ غلطی کی تو تیری لاش اس گھر سے لے کر نکلوں گا یوسف کا چہرہ غصے سے سرخ پڑنے لگا تھا۔۔۔ وہ ادمی اب خاموشی سے دیکھ رہا تھا یوسف کے چہرے کو ۔۔
اس کی بہن ڈری ہوئی تھی ۔۔۔۔
اب کے بار یوسف نے کھینچ کر ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا اس کا سارا نشہ ہوا ہو گیا تھا ایک تھپڑ کی بات تھی اور اسے ہوش اگیا تھا۔۔۔
انسپیکٹر۔۔ س۔۔ صاحب ۔معاف کر دیں
۔۔۔ بیٹا تو تو جیل جائے گا ۔۔۔ تو نے تو
ایک پولیس افیسر کے اوپر ہاتھ اٹھایا ہے تجھے تو نہیں چھوڑوں گا۔۔ یوسف اب کی بار اس کو سر سے گھسیٹتے ہوئے باہر لے کر ایا
تھا اور پھر گاڑی میں بٹھا دیا یاسر جو کچھ فاصلے پر ہی کھڑا تھا جس کو دکان سے کچھ خاص معلومات نہیں ملی تھی اس کو دیکھتا ہوا فورا گاڑی میں ا کر بیٹھا۔۔۔۔
گھر میں ہی تھا یہ خبیث ۔۔
تو سر اب اس کا کیا کرنا ہے ۔۔۔
اس کا کچھ نہیں کرنا یاسر اس کو جیل میں ڈالنا ہے۔۔۔
اندر بہت اڑ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن ابھی ایک چیز کرنی باقی ہے یوسف نے گاڑی ہاسپٹل کے
راستے کی طرف گھما دی۔۔۔۔
وہ اس کو لے کر گھسیٹتے ہوئے ہاسپٹل میں داخل ہوا اور پھر اس کمرے میں گیا جہاں پر اس ادمی کی بیوی وینٹیلیٹر پر لگی تھی۔۔۔ اس نے ملزم کو کھینچ کر اس عورت کے سامنے کھڑا کیا۔۔۔ اور سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں پر ستم نہ ڈھایا کرے وہ اللہ کی بنائی ہوئی معصوم مخلوق میں سے ایک ہے ۔۔۔ یوسف نے اس ادمی کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ جو شرمندگی سے پانی پانی ہو رہا تھا۔۔۔ اس کو تو ہوش ہی اب ایا تھا وہ کر کیا رہا تھا اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔۔
اور ایک مرد کو چاہیے کہ عورت کا اتنا صبر نہ ازمائے کہ اس کی روح مر جائے وہ سانس تو لیتی ہو لیکن زندہ نہ ہو اس عورت کی انکھوں میں اب بے ساختہ انسو انے لگے تھے ملزم بھی اب انسو بہا رہا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کا جیل جانا تو پکا تھا لیکن اس کو اپنے کیے پر پچھتاوا تھا کہ وہ نشے کی حالت میں کس طرح سے درندوں کی طرح اپنی بہن اور اپنی بیوی کو مارتا تھا۔۔ اس نے انکھ بھر کے اپنی بیوی کو دیکھا اور پھر کھڑے
ہو کر اپنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑا کر رونے لگا۔۔۔ مجھے معاف کر دو ماہی ۔۔ مجھے۔ معاف کر دو ۔۔ مجھ سے بہت بڑے غلطی ہو گئی ۔۔ میں نے یہ سب کیا تمہارے ساتھ ۔۔ میں بہت گرا ہوا انسان
ہوں
یوسف نے ایک نظر وینٹیلیٹر پر لگی اس عورت کو دیکھا۔۔۔۔ اور یوسف ایک بات پھر بولا ۔۔
اور عورتوں کو چاہیے کہ کمزور رہنا چھوڑ دیں کمزور لوگوں کو یہ دنیا جینے نہیں دیتی۔۔۔۔ یہ دنیا بہت ظلم ہے ۔۔۔۔
اس عورت نے گردن ہلا دی۔۔۔ یوسف ملک بہت بڑی نصیحت دے کر اس ادمی کو گھسیٹتا ہوا باہر کی طرف واپس لے گیا۔۔۔
عورت کبھی ایک مرد سے کم نہیں ہوتی۔۔۔ اللہ نے عورت کو بہت صبر سے نوازا ہوتا ہے۔۔۔۔ عورت کا دل بہت مضبوط ہوتا ہے لیکن اللہ نے عورت کو وجود بہت نازک دے دیا ہے۔۔۔ یہ جو مرد سوچتے ہیں نا کہ اپنی عورت کو ماریں گے ڈرائیں گے
تو یہ مرد کہلائیں گے یہ ان کی نیچ حرکت ہے ۔۔۔ عورت کو مارنا اور ڈرانا ایک نیچ حرکت ہے ۔۔۔ مرد کو اللہ نے عورت کی حفاظت کے لیے بنایا ہے۔۔۔ اللہ نے ایک عورت کے لیے چار
پہرے دار مقرر کیے ہیں۔۔ باپ بھائی شوہر اور بیٹا۔۔۔۔ اللہ نے مرد کو عورت کی حفاظت کے لیے بنایا ہے نہ کہ اس پر ستم ڈھانے کے لیے۔۔۔ اللہ نے مرد کو طاقتور اس لیے بنایا ہے تاکہ وہ اپنی عورت کی حفاظت کر سکے نہ کہ اسی عورت پر ستم کرے ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
