رُسوائی
از قلم:احمد بیگ
انتساب:
جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اُن تمام خواتین کے نام جو اپنی ہمت اور خلوص سے انصاف کے لئے ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
❀❀❀
پیش لفظ
“رُسوائی” ناول صرف ایک کہانی نہیں ،بلکہ اُن بے شمار خاموش آوازوں کی ترجمانی ہے جو ہمارے معاشرے میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ “رُسوائی” ایک ایسی حقیقت کو بیان کرتی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، یا جس پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
اس کہانی کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں، بلکہ اُن لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو مشکل حالات کے باوجود جینے اور لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ اُن تمام خواتین کے لیے ایک پیغام ہے کہ اُن کی آواز اہم ہے، اُن کا درد حقیقی ہے، اور انصاف کے لیے اُن کی جدوجہد قابلِ احترام ہے۔
اگر یہ کہانی کسی ایک دل کو بھی ہمت دے سکے، کسی ایک آواز کو بھی بولنے کی طاقت دے سکے، تو یہی اس تحریر کی کامیابی ہوگی۔
احمد بیگ
باب 1
صبح کے سات بج رہے تھے۔سڑک پر کافی بھیڑ لگی تھی۔زمین پر زخمی حالت میں ایک لڑکی بےہوش تھی جس کے گرد تمام آدمی دائرہ بنا کر کھڑے تھے۔اس لڑکی نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں، اسے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی دھندلے وجود دِکھائی دے رہے تھے۔پیچھے سے ایک عورت اُس بھیڑ کو کاٹتی ہوٰئی اُس لڑکی کی جانب بڑھی۔وہ اُس لڑکی کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئی۔اُس نے وہاں کھڑے تمام آدمیوں کو وہاں سے جانے کا کہا اور اپنے اوپر سے چادر اُتار کر زمین پر گری اس لڑکی کے اوپر ڈالی اور اس لڑکی کو سہارا دیتے ہوئے اٹھایا۔
❀❀❀
گھر کا ماحول کافی بوجھل تھا۔ سامنے بیڈ پر بیٹھی بہار بانو کافی پریشان تھیں۔ برابر میں اُن کی بیٹی آیت اُنہیں تسلّی دےرہی تھی۔
“پتہ نہیں کہاں اور کس حال میں ہوگی میری بچی۔۔۔کل رات سے اب تک کچھ پتہ نہیں چلا” وہ اپنی بیٹی کے لیے کافی پریشان تھیں۔
چند لمحوں بعد
کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک دراز قد لڑکا کمرے میں داخل ہوا۔
“روحان۔۔۔کچھ پتہ چلا؟” بہار بانو یکدم کھڑی ہوئیں۔
“نہیں امی، کچھ پتہ نہیں چلا۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کیا کروں کہاں ڈھونڈوں میں کَشَف کو فون بھی بند جارہا ہے اُس کا۔۔۔”
“پتہ نہیں کہاں ہوگی میری بچی۔۔۔”
گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔بہاربانو دوڑتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھیں۔بہار بانو نے جیسے ہی دروازہ کھولا، اُن کے پیروں تلے زمین کِھسَک گئی۔
سامنے اُن کی پڑوسن کھڑی تھی، اور اُس کے سہارے اُن کی بیٹی، کَشَف، نیم بے ہوشی کی حالت میں جھکی ہوئی تھی۔ کَشَف کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، بال بکھرے ہوئے تھے، اور کپڑے بے ترتیب تھے۔ اُس کے ہاتھوں اور چہرے پر زخموں کے گہرے نشانات تھے، جیسے اُس پر بے رحمی سے تشدد کیا گیا ہو۔آیت اور روحان، جو اُن کے ساتھ ہی دروازے تک آئے تھے، یہ منظر دیکھ کر وہیں ساکت رہ گئے۔بہار بانو کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے فوراً کَشَف کو تھاما اور اندر کی طرف لائیں۔ آیت کے لبوں سے سسکی نکل گئی، جبکہ روحان کی آنکھوں میں حیرت اور غصہ ایک ساتھ اُبھرا۔
اسی لمحے گھر کا دروازہ دوبارہ کھلا اور اُن کے والد اندر آئے۔ جیسے ہی اُن کی نظر کَشَف پر پڑی، اُن کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
“کَشَف…؟” وہ ایک قدم آگے بڑھے، مگر اچانک اُنہیں چکر سا آیا اور وہ دیوار کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے۔
بہار بانو نے کَشَف کو صوفے پر لِٹایا، مگر وہ اب مکمل بے ہوش ہو چکی تھی۔ اُس کی سانسیں بے ترتیب تھیں، اور چہرے پر درد کی ہلکی سی جھلک اب بھی موجود تھی۔
“کَشَف… آنکھیں کھولو بیٹا…” مگر کوئی جواب نہ آیا۔
گھر میں ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی… ایسی خاموشی، جس میں ایک آنے والے طوفان کی آہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
❀❀❀
گھر کا ماحول ابھی تک صدمے میں ڈوبا ہوا تھا آیت نے ڈاکٹر کو کال کی۔
“وانیا آپی آپ پلیز جلدی گھر آجائیں۔۔۔پلیز۔۔۔” اس نے سسکتے ہوئے کہا۔
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر وانیا آگئیں۔ انہوں نے کشَف کے قریب آ کر اُس کی حالت کا جائزہ لینا شروع کیا۔ جیسے ہی انہوں نے اُس کا ہاتھ تھام کر نبض چیک کرنے کی کوشش کی، کشَف اچانک بُری طرح چونک اُٹھی۔
“نہیں… نہیں… مجھے ہاتھ مت لگاؤ…!مجھے جانے دو پلیز…امی…ابو…”
اُس کی چیخ پورے کمرے میں گونج اٹھی۔ وہ بے ترتیب انداز میں خود کو سمیٹنے کی کوشش کرنے لگی، جیسے کسی انجانے خوف سے بچنا چاہتی ہو۔ اُس کی آنکھوں میں دہشت صاف نظر آ رہی تھی، اور وہ زار و قطار رونے لگی۔بہار بانو کا دل جیسے ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ آیت سہم کر پیچھے ہٹ گئی، جبکہ روحیل کے چہرے پر صرف بے بسی تھی۔
“ڈاکٹر … یہ کیا ہو رہا ہے میری بیٹی کو؟”بہار بانو کی آواز لرز رہی تھی۔
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کشَف کو دیکھا، پھر نرمی سے اُسے پرسکون کرنے کی کوشش کی، مگر اُس کی حالت قابو میں نہیں آ رہی تھی۔
“مجھے اسے انجیکشن دینا پڑے گا… ابھی یہ بہت زیادہ صدمے میں ہے۔”
یہ کہہ کر ڈاکٹر نے احتیاط سے انجیکشن دیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد کشَف کی چیخیں آہستہ آہستہ مدھم ہو گئیں، اور وہ دوبارہ بے ہوشی میں چلی گئی۔کمرے میں ایک بھاری خاموشی چھا گئی۔ڈاکٹر نے گہری سانس لی، پھر بہار بانو اور باقی سب کی طرف دیکھا۔ اُن کے چہرے کی سنجیدگی نے جیسے آنے والے لفظوں کا بوجھ پہلے ہی واضح کر دیا تھا۔
“آپ لوگ خود کو سنبھال لیں…”
چند لمحے کی خاموشی کے بعد وہ آہستہ سے بولی:
“آپ کی بیٹی کا… ریپ ہوا ہے۔”
یہ الفاظ سنتے ہی بہار بانو سکتہ میں چلی گئیں اور قریب ہی صوفے پر بے جان سی بیٹھ گئیں۔ آیت کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے، جبکہ روحان کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اُٹھا تھا۔اسلم نے بھی دیوار کا سہارا لے رکھا تھا، جیسے یہ صدمہ اُن کے وجود سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ اُن کی آنکھیں کشَف پر جمی تھیں، مگر لبوں سے کوئی لفظ ادا نہیں ہو پا رہا تھا۔
کمرہ اب صرف ایک کمرہ نہیں رہا تھا…
وہ ایک ایسے درد کا گواہ بن چکا تھا، جس نے اس گھر کی ہر خوشی کو یک لخت چھین لیا تھا۔
❀❀❀
رات گہری ہو چکی تھی۔بہار بانو کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔
وہ صحن کے ایک کونے میں بیٹھی تھیں… اُن کے سامنے کشَف کے وہ کپڑے پڑے تھے، جو اُس کے ساتھ ہونے والے ظلم کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔اُن کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔آنسو بار بار اُن کی آنکھوں سے ٹپک کر اُن کپڑوں پر گر رہے تھے، جیسے وہ اُن داغوں کو دھو دینا چاہتی ہوں… جیسے وہ اُس دن کو مٹا دینا چاہتی ہوں۔
“یا اللہ… میری بچی کے ساتھ یہ کیوں ہوا…؟”اُن کی آواز ٹوٹ کر رہ گئی۔
کافی دیر تک وہ اُن کپڑوں کو دھوتی رہیں… مگر کچھ داغ ایسے ہوتے ہیں جو پانی سے نہیں دھلتے۔
اُنہوں نے تمام کپروں کو سمیٹا اور باہر جاکر وہ کپڑے جلا دیے۔وہ جلتے رہے… اور بہار بانو کی آنکھوں سے آنسوںبے اِختیار بہہ رہے تھے۔جیسے وہ صرف کپڑے نہیں، بلکہ اپنی بیٹی کا درد جلا رہی ہوں… مگر درد تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
❀❀❀
کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور کمرے میں سبین داخل ہوئی۔
“زاویار۔۔۔اٹھو۔۔۔” سبین زاویار کے پاس آکر بولی۔
“سبین تم کب آئی ؟” زاویار نیند میں پوچھتا ہے۔
“مجھے آئے ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا۔تم یہ بتاؤ گھر میں اتنا سنّاٹا کیوں ہے ؟ سارے ہلپرز کہاں ہیں؟” سبین بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھتی ہے۔
“ا۔۔و۔۔وہ سب چھٹی پر ہیں۔ ” وہ ہچکچاہٹ کے ساتھ کہتا ہے۔
“کیوں؟مجھ سے تو ایسی کوئی بات نہیں کی تھی انہوں نے۔ ” سبین کہتی ہے۔
“تم اُنہیں چھوڑو یہ بتاؤ کے تمہاری امی کی طبعیت کیسی ہے اب؟” زاویار بات بدلتے ہوئے پوچھتا ہے۔
“امی ٹھیک ہیں۔۔۔اور آنے دو ان سب كو ان کے کان کھینچتی ہوں میں۔”
“چھوڑو سبین وہ بھی انسان ہیں۔ اُنہیں میں نے چھٹی دی تھی۔اب سب باتیں چھوڑو اور مجھے اچھا سا ناشتہ بنا دو۔” زاویار نے مسکراتے ہوئے کہا۔
❀❀❀
“امی۔۔۔امی۔۔۔کہاں ہیں آپ؟” کَشَف کمرے میں داخل ہوئی۔
“کیا ہوا؟’ بہار بانو سرد لہجے میں پوچھتی ہیں۔
“ایسے کیوں بات کر رہی ہیں؟” وہ اداسی ظاہر کرتے ہوئے کہتی ہے۔
“تم نے کہیں منہ دکھانے کے قابل چھوڑا ہے؟سارے زمانے میں رسوا کر کے رکھ دیا۔۔۔” بہار بانو نےغصّے میں کہا۔
“امّی؟اس میں میری کیا غلطی ہے؟جرم زاویار نے کیا ہے۔۔۔میرا کیا قصور ہے؟” اُس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔
“تم گئی کیوں تھی وہاں؟ منع کیا تھا نا؟ پھر بھی تم گئی تھی۔۔۔اب بھگتو”
کشَف بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
❀❀❀
کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔کھڑکی کے سامنے بیٹھی کشَف اپنے خیالوں میں گُم تھی۔آیت کمرے میں داخل ہوتی ہے۔وہ کشَف کی جانب بڑھتے ہوئے پوچھتی ہے۔
“کیا سوچ رہی ہیں؟”
” مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکا کہ میرا قصور آخر تھا کیا۔ وہ ایک رات تھی جس نے میری پوری زندگی کو اندھیرے میں دھکیل دیا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ سزا مجھے ہی دی جا رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں عزت چلی گئی، جیسے عزت کوئی چیز ہو جو صرف لڑکی کے وجود سے جڑی ہو، جیسے انسانیت، کردار اور احساسات کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میرے ساتھ کیا ہوا، میں کن اذیتوں سے گزری، میری روح پر کیا بیتی، بس ہر ایک کے پاس سوال ہیں اور وہ سب سوال مجھ سے ہیں۔ تم وہاں کیوں گئی تھی، تم نے ایسا لباس کیوں پہنا تھا، تم نے مزاحمت کیوں نہیں کی، تم نے پہلے کسی کو بتایا کیوں نہیں۔ ہر سوال میرے زخموں کو اور گہرا کر دیتا ہے، جیسے میں ہی مجرم ہوں اور مجھے ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہے۔
وہ شخص جس نے میری زندگی تباہ کی، آج بھی آزاد گھوم رہا ہے، اس کے لیے دلائل دیے جاتے ہیں، اس کے کردار کو بچانے کے لیے کہانیاں گھڑی جاتی ہیں، اور میں ہوں کہ اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھائے زندہ ہوں۔ اس کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا، اس کی ہنسی ویسی ہی ہے، اس کے دن ویسے ہی روشن ہیں، مگر میری دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ میری پہچان اب میرا نام نہیں رہا، میرا خواب نہیں رہا، میرا مستقبل نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا واقعہ بن گیا ہے جسے میں چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتی۔ میں جہاں بھی جاتی ہوں، لوگوں کی نظریں میرا پیچھا کرتی ہیں، جیسے وہ میرے اندر جھانک کر میری کہانی پڑھ لینا چاہتے ہوں، مگر کوئی بھی میرا درد محسوس نہیں کرنا چاہتا۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں عزت بھی لڑکی کی ہوتی ہے اور رسوائی بھی اسی کے حصے میں آتی ہے۔ جہاں مجرم کی حفاظت کی جاتی ہے اور مظلوم کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ مجھے اکثر لگتا ہے کہ مجھے انصاف نہیں چاہیے، مجھے صرف یہ چاہیے کہ کوئی ایک بار سچ کو سچ کہہ دے، کوئی ایک بار یہ مان لے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا تھا اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ مگر یہاں سچ سے زیادہ رسم و رواج کی اہمیت ہے، اور رسم و رواج ہمیشہ لڑکی کو ہی غلط ٹھہراتے ہیں۔میں نے جینے کی بہت کوشش کی ہے، خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی ہے، مگر ہر دن ایک نئی جنگ لے کر آتا ہے۔ میں باہر سے شاید ٹھیک لگتی ہوں، مگر اندر سے ٹوٹ چکی ہوں۔ میں ہنستی ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں سب ٹھیک ہے، مگر وہ نہیں جانتے کہ میری ہنسی کے پیچھے کتنی چیخیں دفن ہیں۔ کبھی کبھی میں خود سے سوال کرتی ہوں کہ کیا زندہ بچ جانا واقعی خوش نصیبی ہے یا ایک ایسی سزا ہے جسے میں عمر بھر بھگتنے والی ہوں۔ شاید میں زندہ تو ہوں، مگر ہر دن تھوڑا تھوڑا مر رہی ہوں، صرف اس لیے کہ میں ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہی ہوں جہاں میرا درد بھی میرا اپنا قصور بنا دیا گیا ہے۔
میں انصاف مانگنا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ میری آواز سنی جائے اور میرے ساتھ ہونے والے ظلم کا حساب لیا جائے، مگر جب بھی میں بولنے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے اپنے ہی میرے ہونٹ سی دیتے ہیں۔ امی، ابو اور بھائی کہتے ہیں کہ خاموش رہو، لوگوں کو پتہ چلا تو بدنامی ہوگی، گھر کی عزت مٹی میں مل جائے گی۔ وہ مجھے سمجھاتے نہیں، بس ڈراتے ہیں، اور یوں میری آواز میرے ہی گھر کی دیواروں میں قید ہو کر رہ جاتی ہے۔” کشَف افسوس بھرے لہجے میں کہتی ہے۔
“تمہیں پتا ہے نا کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے… ہم لڑکیوں کے ساتھ۔ قصور کسی اور کا ہوتا ہے، مگر کٹہرے میں ہمیں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں ہی اپنے ہونے کا، اپنے سانس لینے کا، اپنے چلنے پھرنے کا، حتیٰ کہ اپنے خاموش رہنے کا بھی حساب دینا پڑتا ہے۔ اگر ہم بولیں تو ہمیں بے حیا، بدتمیز اور زبان دراز کہا جاتا ہے، اگر ہم خاموش رہیں تو ہمیں کمزور سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ہمیں ہی یہ سکھایا جاتا ہے کہ انہیں چھپاؤ، انہیں دفنا دو، کیونکہ سچ باہر آ گیا تو بدنامی ہوگی۔ مگر یہ کوئی نہیں سوچتا کہ بدنامی کس کی ہونی چاہیے… اس کی جس نے ظلم کیا یا اس کی جس پر ظلم ہوا۔تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ تم اکیلی ہو؟ نہیں، تم اکیلی نہیں ہو۔ یہ کہانی ہر اس لڑکی کی ہے جس نے کبھی کسی نہ کسی شکل میں یہ سب سہا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ کچھ بول نہیں پاتیں اور کچھ کو بولنے نہیں دیا جاتا۔ ہمیں بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ اپنی عزت کی حفاظت کرو، مگر کوئی یہ نہیں سکھاتا کہ اگر کوئی تمہاری عزت پر ہاتھ ڈالے تو اس کے خلاف کیسے کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ گھر کی عزت تم سے ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ تمہاری اپنی عزت بھی کوئی چیز ہوتی ہے، تمہارا اپنا وجود بھی اہم ہے، تمہاری اپنی آواز بھی کوئی معنی رکھتی ہے۔
اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب باہر والے کچھ نہیں کہتے تب بھی اپنے ہی لوگ ہمیں خاموش کرا دیتے ہیں۔ وہی لوگ جن سے ہمیں سہارا ملنا چاہیے، وہی ہمیں ڈراتے ہیں، ہمیں روکتے ہیں، ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ شاید واقعی ہم ہی غلط ہیں۔ مگر نہیں، تم غلط نہیں ہو۔ تم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ تم پر ظلم ہوا ہے، اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا کبھی غلط نہیں ہوتا۔ یہ خوف، یہ شرمندگی، یہ بوجھ… یہ سب تمہارا نہیں ہے، یہ اس معاشرے کا ہے جو سچ سننے سے ڈرتا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ یہ سب کہنا آسان ہے اور کرنا بہت مشکل، میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ہر قدم پر تمہیں روکا جائے گا، تمہیں ڈرایا جائے گا، تمہیں یہ محسوس کروایا جائے گا کہ خاموشی ہی تمہاری حفاظت ہے۔ مگر یاد رکھو، خاموشی کبھی کسی کی حفاظت نہیں کرتی، یہ صرف ظلم کو مضبوط بناتی ہے۔ اگر تم بولنا چاہو، اگر تم لڑنا چاہو، اگر تم انصاف مانگنا چاہو، تو یہ تمہارا حق ہے، اور کوئی بھی تم سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا… تمہارا فیصلہ تمہارا ہوگا۔ تم جو بھی راستہ چنو گی، وہی صحیح ہوگا کیونکہ وہ تمہاری زندگی ہے، تمہارا درد ہے، تمہاری کہانی ہے۔ میں تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گی، میں تمہیں کسی ایک راستے پر مجبور نہیں کروں گی۔ بس اتنا جان لو کہ تم اکیلی نہیں ہو۔ تم جو بھی فیصلہ کرو گی، میں تمہارے ساتھ ہوں، ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ چاہے کوئی اور تمہارے ساتھ دے یا نہ دے، میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑی رہوں گی۔”
❀❀❀
“وانیہ۔۔۔وانیہ۔۔” رمشاء کوریڈور میں دوڑتی ہوئی وانیہ کی جانب بڑھتی ہے۔
“کیا ہوا؟سانس لےلو۔۔۔” وانیہ رمشاء سے کہتی ہے۔
“یار یہ کشَف کیوں نہیں آرہی ہسپتال؟نہ ہی کال اٹنڈ کر رہی ہے۔۔۔” رمشاء پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کہتی ہے۔
“اس کا ریپ ہوا ہے۔۔۔” وانیہ دھیمی آواز سے کہتی ہے۔
“واٹ؟کب؟” رمشاء گھبرا کر پوچھتی ہے۔
“ایک ہفتہ پہلے۔۔۔” وانیہ کی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔
سامنے سے زاویار ان کی جانب آرہا تھا۔وہ ایک سینیر ڈاکٹر تھا۔ وانیہ زاویار کو بہت غصے سے دیکھ رہی تھی۔
“ہیلو میٹز!” زاویار قریب آکر کہتا ہے۔
“دور ہوجائو۔۔۔ہمارے آس پاس بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے۔” وانیہ سرد لہجے میں کہتی ہے۔
“ایسے کیوں بات کر رہی ہو؟” زاویار پوچھتا ہے۔
“چلو رمشاء” وانیہ رمشاء کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔
“وانیہ کیا ہوا ہے؟تم اس سے ایسے کیوں بات کر رہی تھی؟ کچھ ہوا ہے؟”
“چلو کیبن میں۔۔۔بتاتی ہوں۔۔۔”
چند لمحوں بعد۔۔۔
وہ دونوں ڈاکٹر وانیہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔
“زاویار نے ہی کشَف کا ریپ کیا ہے۔۔۔”
“واٹ دا ہیل؟؟؟”
“کب کیا؟ اور تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟میں وہیں سر پھاڑ دیتی اس کا۔۔” رمشاء بہت غصے میں تھی۔
“یاد ہے جب پچھلے ہفتے زاویار نے عشان، مجھے، تمہیں، روحان اور کشَف کو ڈنر پر انوائٹ کیا تھا۔اور بعد میں کینسل کردیا تھا کیونکہ سبین کی امی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔۔۔”
“ہاں ہاں یاد ہے”
“اس نے صرف ہم لوگوں کو منع کیا تھا۔کشَف کو نہیں۔۔۔”
“مطلب اس نے پورا پلین بنایا تھا۔۔۔اوہ تبھی اس رات میرے پاس کشَف کی اتنی کالز آئی تھیں۔۔۔صبح کال بیک کیا تھا تو اٹھایا نہیں۔۔۔اور اس کے بعد سے اس سے کوئی رابتہ نہیں ہو پایا۔۔۔”
“سبین کو پتہ ہے؟” رمشاء وانیہ کی جانب دیکھ کر پوچھتی ہے۔
“نہیں۔۔۔ابھی تو نہیں پتہ۔۔۔”
“چلو میرے ساتھ۔۔۔” رمشاء وانیہ سے کہتی ہے۔
“کہاں ؟” وانیہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے پوچھتی ہے۔
“زاویار کے پاس۔۔۔اس کا تو دماغ میں ٹھیک کرتی ہوں” رمشاء غصّے میں کمرے سے باہر کی جانب بڑھتی ہے۔وانیہ اس کے ساتھ چل رہی تھی۔
“زاویار۔۔۔” رمشاء زاویار کے کنسلٹنگ روم میں داخل ہوتی ہے۔
“ارے۔۔۔وانیہ۔۔۔رمشاء۔۔۔آؤ” زاویار اپنی کرسی سے کھڑا ہوکر کہتا ہے۔
“تم نے کشَف کے ساتھ کیا کیا ہے؟شرم نہیں آئی تمہیں؟تمہاری ایک بیوی ہے، اس کے باوجود تم۔۔۔۔ڈسگسٹنگ۔۔۔” رمشاء اپنی بات ادھوری چھور دیتی ہے۔
“کیا کر دیا میں نے؟” زاویار انجانے انداز میں پوچھتا ہے۔
“معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے زاویار۔۔۔اپنا جرم قبول کر لو۔۔۔” وانیہ سخت لہجے میں کہتی ہے۔
“کون سا جرم؟ میں نے ایسا کیا کر دیا؟”
“تمہیں کشَف کا ریپ کرتے ہوئے شرم نہیں آئی؟” رمشاء تیز آواز سے کہتی ہے۔
“اپنی آواز ہلکی رکھو۔۔۔میں نے کوئی ریپ نہیں کیا۔۔۔” زاویار اپنے ارد گرد نظر گھُماتے ہوئے کہتا ہے۔
“کیوں آواز ہلکی رکھوں میں؟شرم آنی چاہیے ۔۔۔ ڈوب کر مر جانا چاہیے تمہیں۔” رمشاء چیخ کر کہتی ہے۔
“چپ رہو۔۔۔بلکل چپ” وہ کانپتی ہوئی آواز سے کہتا ہے۔
“چپ رہنے کے لئے پیدا نہیں ہوئی میں۔۔۔جب تک تمہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھوں گی۔۔۔چین سے نہیں بیٹھوں گی میں۔۔۔یاد رکھنا۔” یہ کہہ کر رمشاء پلٹ کر کمرے سے باہر آگئی۔وانیہ بھی اس کی جانب بڑھی۔
“کل جاؤں گی میں کشَف سے ملنے۔۔۔یہ بہت ٹف ٹائم ہے اس کے لئے” رمشاء ایک گہرے سانس لے کر کہتی ہے۔
❀❀❀
“رمشاء۔۔۔تم لوگوں کی زاویار سے کوئی لڑائی ہوئی ہے؟” روحیل رمشاء سے پوچھتا ہے۔
“نام مت لو اس بدکردار کا۔۔۔” رمشاء غصے میں کہتی ہے۔
“کیا ہوا ہے؟ کچھ کہا ہے اس نے۔۔۔” روحیل پریشانی ظاہر کرتے ہوئٰے کہتا ہے۔
“ریپ کیا ہے اس نے کشَف کا۔۔۔”
روحیل ساکت رہ گیا تھا۔
“کیا؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔”
“ایسا ہوا ہے۔۔۔پوچھو اپنے چہیتے دوست سے۔”
❀❀❀
بلیک پنٹ کوٹ میں ملبوس روحیل کمرے کے باہر رکھے صوفے پر بیٹھا رمشاء کا انتظار کر رہا تھا۔
“رمشاء جلدی آ۔۔۔” روحیل کی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔
سامنے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے۔رمشاء کمرے سے باہر کی جانب آتی ہے۔روحیل کی بھوری آنکھیں ایک پل کے لئے رمشاء پر جمی رہ گئیں۔
سفید بال گاؤن میں ملبوس رمشاء اپنے لمبے کرلی بال سنوارتے ہوئے روحیل کی جانب بڑھتی ہے۔اس کی غزالی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔اُس نے سفید پینسل ہیلز پہنی تھیں، اس کے ہر قدم کے ساتھ ٹک ٹک کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ وہ روحیل کی جانب بڑھی اور روحیل دو قدم پیچھے کی جانب ہوا۔
“کیسی لگ رہی ہوں میں؟” رمشاء چہک کر پوچھتی ہے۔
“آسمان سے اتری ہوئی اپسرا لگ رہی ہو۔۔۔جتنی تعریف کروں کم ہے” روحیل مسکراتے ہوئے کہتا ہے۔
“یہ تو تم جان چھڑانے کے لیے کہہ رہے ہو۔۔۔” وہ طنزیہ انداز میں کہتی ہے۔
“میں آپ کے لیے گانا گاؤں محترمہ؟”
“ضرور”
روحیل گانا گانے کا شوقین تھا۔سنگر بننا اس کا خواب تھا مگر وہ ڈاکٹر بن گیا۔
اس نے گہرا سانس لے کر گانا شروع کیا۔
“ہمم۔۔۔”
تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوں،
کہنا چاہوں بھی تو تم سے کیا کہوں،
کسی زبان میں بھی۔۔۔وہ لفظ ہی نہیں،
کہ جن میں تم ہو کیا تمہیں بتا سکوں،
میں اگر کہوں تم سا حسین،
کائنات میں۔۔نہیں ہے کوئی،
تعریف یہ بھی تو سچ ہے کچھ بھی نہیں،
تم کو پایا ہے تو جیسے کھویا ہوں،
رمشاء اپنی مسکراہٹ نہیں چھپا پائی۔
“اب چلیں ڈنر کے لئے؟” رمشاء کہتی ہے۔
“اپنی تعریف کروالی لیکن میں نے گانا کیسا گایا یہ نہیں بتایا۔۔۔” روحٰیل طنز کرتے ہوئے کہتا ہے۔
“بعد میں بتاؤں گی ابھی نہیں۔۔۔” رمشاء مسکراہٹ چھپا کر باہر کی جانب بڑھی۔
❀❀❀
رمشاء اور روحیل گاڑی میں بیٹھے تھے۔روحیل گاڑی چلا رہا تھا۔اس کی نظر سامنے گارڈن کے باہر رکھی بنچ پر پڑی۔
ایک دراز قد لڑکا ٹریک سوٹ میں ملبوس بنچ پر بیٹھا ہوا تھا۔روحیل نے غور سے اسے دیکھا۔وہ زاویار تھا۔روحیل نے گاڑی روکی۔
“رمشاء۔۔۔وہ زاویار ہے نا؟” روحیل پوچھتا ہے۔
“ہاں۔۔۔” رمشاء اس کی جانب دیکھ کر کہتی ہے۔
“تم رکو میں اس سے مل کر آتا ہوں” روحیل سیٹ بلٹ کھولتےہوئے کہتا ہے۔
“میں بھی آتی ہوں۔۔۔دیکھوں تو کیا بکواس کرے گا وہ۔”
“شیور!”
“زاویار۔۔۔زاویار۔۔۔” روحیل زاویار کو پکارتے ہوئے رمشاء کا ہاتھ پکڑ کر اس کی جانب بڑھتا ہے۔
“ارے روحیل کیسے ہو دوست؟ اور اتنا تیار ہو کر کہاں جا رہے ہو؟” زاویار روحیل سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا ہے۔
“ٹھیک۔۔۔ڈنر پر جارہے تھے۔” روحیل جواب دیتا ہے۔
“اب تو کالی بلّی راستہ کاٹ گئی۔۔۔پتہ نہیں کیا ہوگا!” رمشاء دھیمی آواز سے کہتی ہے۔
“ہیں؟؟؟” زاویار حیران ہو کر پوچھتا ہے۔
“تم وہ چھورو ایک بات تو بتاؤ۔” روحیل بات بدلتا ہے۔
“ہاں پوچھو۔۔۔”
“تم نے کشَف کا ریپ کیا ہے؟”روحیل اپنے آس پاس دیکھ کر سخت لہجے میں پوچھتا ہے۔
“ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔” زاویار کایپتی آواز سے کہتا ہے۔
“جھوٹ بولنے سے پہلے سوچ لینا کے میں تمہارے ماضی سے بہت اچھے طرح واقف ہوں۔” روحیل سرد لہجے میں کہتا ہے۔
“ہاں۔۔۔”
“شرم نہیں آئی تمہیں؟ ایک مرتبہ بھی اپنی بیوی کا خیال نہیں آیا؟” روحیل غصّے میں کہتا ہے۔
زاویار روحیل کے قریب ہو کر دھیمی آواز سے کہتا ہے۔
“جب گوشت سامنے پڑا ہوتا ہے تو کتے تو جھپٹتے ہیں اسے۔۔۔”
“تو تم کتّے ہو؟” رمشاء سرد لہجے میں کہتی ہے۔
“نسلی کتّوں میں اور آوارا کتّوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔۔۔تم تو آوارہ کتّوں سے بھی گئے گزرے ہو۔” روحیل اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا ہے۔رمشاء روحیل کی جانب دیکھ کر مسکراتی ہے۔اسے اپنے شوہر پر فخر ہوتا ہے۔
“چلو رمشاء۔۔۔” روحیل رمشاء کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی جانب برھتا ہے۔
زاویار بے اختیار کھڑے ہوکر انہیں دیکھ رہا تھا۔
❀❀❀
“مجھے پتا چلا کشَف۔۔۔جو تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔۔۔مجھے واقعی بہت افسوس ہے۔” رمشاء کشَف کی جانب دیکھ کر کہتی ہے۔
“اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی رمشاء میرا یقین کرو۔۔۔” کشَف گھبرا کر کہتی ہے۔
“مجھے پتا ہے تمھاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔خود کو الزام دینا بند کرو۔” رمشاء اسے حوصلہ دیتے ہوئےکہتی ہے۔
“سب تو مجھے ہی قصوروار ٹہرا رہے ہیں۔۔۔یہی کہہ رہے ہیں کے میں غلط ہوں۔۔۔میں وہاں گئی کیوں تھی۔۔۔” کشَف نم آنکھوں سے کہتی ہے۔
“نہیں کشَف۔۔۔جرم زاویار نے کیا ہے۔۔۔تم کیسے غلط ہوگئی؟” رمشاء نرم لہجے میں کہتی ہے۔
“تم اپنے حق کے لیے آواز اٹھاؤ۔اپنے لیے انصاف مانگو۔ڈٹ کر کھڑی رہو انصاف کے لیے۔میں ، واننیہ اور روحیل تینوں تمہارے ساتھ ہیں۔”
رمشاء کشَف کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہتی ہے۔
“تھینک ہو!” کشَف نم آنکھیں لیے مسکرا کر کہتی ہے۔
❀❀❀
“امی مجھے پولیس سٹیشن جانا ہے۔۔۔زاویار کے خلاف کیس کرنا ہے۔۔۔مجھے انصاف چاہئیے۔۔”
“کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں جانے کی۔۔۔” بہار بانو اونچی آواز سے کہتی ہیں۔
“کیوں؟؟؟”
“تم نے ایک لفظ بھی اس بارے میں کہا تو یاد رکھنا، سب سے پہلے میرا مرا منہ دیکھو گی۔ یہ دنیا تمہارا درد نہیں دیکھے گی، یہ صرف ہماری بدنامی دیکھے گی۔ لوگ تم سے ہمدردی نہیں کریں گے، وہ سوال کریں گے، انگلیاں اٹھائیں گے، اور ہر الزام تم پر ڈال دیں گے۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو کہ اس معاشرے میں سچ کی نہیں، عزت کی بات ہوتی ہے، اور عزت ایک بار چلی جائے تو واپس نہیں آتی۔ تم کہتی ہو کہ تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے، مگر کون مانے گا؟ کون تمہاری بات پر یقین کرے گا؟ ہر کوئی یہی کہے گا کہ لڑکی میں ہی کچھ نہ کچھ کمی ہوگی، ورنہ ایسا کیوں ہوتا۔
اور ہمارے رشتہ دار… تمہیں اندازہ بھی ہے وہ کیا کہیں گے؟ ہر محفل میں ہمارا ذکر ہوگا، ہر زبان پر ہمارا نام ہوگا، مگر عزت کے ساتھ نہیں بلکہ طعنے کے ساتھ۔ تمہارے کزنز، تمہاری خالائیں، تمہاری پھوپھیاں… سب ہمیں ہی قصوروار ٹھہرائیں گے۔ وہ کہیں گے ہم نے تمہاری تربیت ٹھیک نہیں کی، ہم نے تمہیں زیادہ آزادی دی، ہم نے تمہیں سنبھالا نہیں۔ تمہاری ایک آواز پورے خاندان پر داغ بن جائے گی، اور یہ داغ کبھی نہیں مٹے گا۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں، وہ تمہاری کہانی کو تمہارے خلاف استعمال کریں گے، تمہیں ہی غلط ثابت کریں گے، اور ہمیں جینے نہیں دیں گے۔تمہیں لگتا ہے کہ عدالت میں جا کر تمہیں انصاف مل جائے گا؟ وہاں بھی تمہیں ہی بار بار یہ سب دہرانا پڑے گا، تمہیں ہی اپنے زخم دکھانے پڑیں گے، تمہیں ہی اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑے گا۔ ہر وکیل تم سے ایسے سوال کرے گا جیسے تم کوئی مجرم ہو۔ تمہارے کردار کو اچھالا جائے گا، تمہاری زندگی کو کھنگالا جائے گا، اور آخر میں بھی کوئی ضمانت نہیں کہ تمہیں انصاف ملے گا۔ صرف ایک لمبی جنگ ہوگی جو تمہیں اندر سے اور توڑ دے گی۔ میں اپنی بیٹی کو اس آگ میں نہیں جھونک سکتی۔
اور سن لو، آج کے بعد تم کہیں نہیں جاؤ گی۔ نہ تم اپنی نوکری پر جاؤ گی، نہ تم گھر سے باہر نکلو گی۔ میں نہیں چاہتی کہ کوئی تمہیں دیکھے، کوئی تمہارے بارے میں بات کرے، کوئی تمہارا نام لے کر ہمیں شرمندہ کرے۔ تم بس یہی رہو گی، اس گھر کے اندر، خاموش۔ یہی تمہاری حفاظت ہے، یہی تمہاری بھلائی ہے۔ تم جتنا باہر جاؤ گی، اتنی باتیں بنیں گی، اتنے قصے گھڑے جائیں گے۔ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔
اور یہ کیس ویس کی باتیں اپنے دل سے نکال دو۔ کوئی کیس نہیں ہوگا، کوئی شکایت نہیں ہوگی، کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ہم اس بات کو یہی ختم کر دیں گے، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہی بہتر ہے، یہی واحد راستہ ہے۔ تم چاہے جتنا بھی اصرار کر لو، میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔ میں تمہاری ماں ہوں، اور میں جانتی ہوں کہ تمہارے لیے کیا صحیح ہے۔ تمہاری ایک ضد ہم سب کو برباد کر دے گی، اور میں یہ ہونے نہیں دوں گی۔ اس لیے خاموش رہو… یہی تمہارے لیے بھی بہتر ہے اور ہمارے لیے بھی۔”
“آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ کچھ ہوا ہی نہیں… کیسے مان لوں میں کہ وہ سب صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا جو گزر گیا؟ امی، وہ سب حقیقت تھی، میں نے اسے جیا ہے، ہر لمحہ محسوس کیا ہے۔ آپ کہتی ہیں خاموش رہو، بھول جاؤ، مگر میں کیسے بھول جاؤں جب ہر سانس کے ساتھ وہ یادیں میرے اندر زندہ ہو جاتی ہیں۔ آپ کہتی ہیں عزت بچانی ہے، مگر میری عزت تو اسی دن روند دی گئی تھی، اور آج آپ مجھے کہہ رہی ہیں کہ میں اسے ماننے سے بھی انکار کر دوں۔ کیا میری تکلیف، میرا درد، میری چیخیں اتنی بے معنی ہیں کہ انہیں صرف اس لیے دبا دیا جائے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
آپ کو دوسروں کی باتوں کا خوف ہے، مگر مجھے اپنی ذات کے بکھرنے کا ڈر ہے۔ میں روز اپنے آپ کو سنبھالتی ہوں، روز اپنے آپ کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہوں، مگر جب آپ ہی یہ کہہ دیتی ہیں کہ کچھ ہوا ہی نہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے میرا وجود ہی جھوٹا ہے۔ میں انصاف مانگ رہی ہوں، کوئی گناہ نہیں کر رہی، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ جو میرے ساتھ ہوا اسے تسلیم کیا جائے، اسے غلط کہا جائے۔ مگر یہاں تو مجھے ہی غلط ثابت کیا جا رہا ہے۔
آپ کہتی ہیں کہ عدالت میں مجھے تکلیف ہوگی، لوگ سوال کریں گے… ہاں کریں گے، شاید بہت تکلیف ہوگی، مگر کیا یہ خاموشی کم تکلیف دے رہی ہے؟ کیا یہ گھٹن، یہ اندر ہی اندر جلنا، یہ خود سے نظریں نہ ملا پانا آسان ہے؟ میں باہر کی دنیا سے نہیں ڈرتی امی، میں اس بات سے ڈرتی ہوں کہ اگر میں آج بھی خاموش رہی تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی۔ میں اپنی زندگی ایسے نہیں گزار سکتی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، کیونکہ میرے اندر سب کچھ بدل چکا ہے۔
آپ میری ماں ہیں… مجھے آپ سے سہارا چاہیے تھا، یقین چاہیے تھا، مگر آپ مجھے ہی روک رہی ہیں، مجھے ہی خاموش کرا رہی ہیں۔ میں کمزور نہیں بننا چاہتی، میں بھاگنا نہیں چاہتی، میں سچ کا سامنا کرنا چاہتی ہوں۔ آپ کہہ رہی ہیں کہ یہ سب بھول جاؤ، مگر امی… کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو بھولنے سے نہیں، انصاف سے بھرے جاتے ہیں۔”وہ نم آنکھوں سے کہتی ہے۔
پیچھے سے روحان کمرے میں داخل ہوتا ہے۔
“کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔” روحان نے غصے سے کہا۔
“میں جاؤں گی روحان بھائی۔۔۔”
روحان اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیتا ہے اور اسے اس کے کمرے میں دھکیل کر کمرے کے باہر سے کنڈی لگا دیتا ہے۔
“امی۔۔روحان بھائی۔۔دروازہ کھولیں۔۔۔” وہ اندر زور زور سے چیخ رہی تھی۔
“اسے کمرے سے باہر نکلنے نہیں دیجئے گا ورنہ سارے زمانے میں رسوا کر دے گی ہمیں۔۔۔” روحان سرد لہجے میں کہتا ہے۔
“بے فکر رہو۔۔۔”
❀❀❀
کمرہ کا دروازہ کھلتا ہے۔کشَف بیڈ پر بیٹھی سامنے کی جانب دیکھتی ہے۔
“آیت۔۔۔!”
آیت کھانا لے کر داخل ہوتی ہے۔
“آیت مجھے کیس فائل کرنے جانا ہے۔۔۔انہوں نے کمرے میں قید کر رکھا ہے۔”
آیت اس کے کان میں کہتی ہے۔
“رات میں سب کے سونے کے بعد میں باہر سے کمرے کا دروازہ کھول دوں گی۔تم تھانے سے ہو آنا۔۔۔”
“شکریہ آیت۔۔۔”
“یہ لیں آپ کا موبائل۔۔۔بہت مشکل سے لائی ہوں۔۔۔”
❀❀❀
رات کے بارہ بج رہے تھے۔آیت کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی ہے۔
“یہ لیں گاڑی اور گھر کی چابی۔۔۔سب سو گئے ہیں۔۔۔آیت الکرسی پڑھ کر نکلنا۔”
“ٹھک ہے۔۔۔خدا حافظ۔۔۔” کشَف گھر سے نکل جاتی ہے۔
آیت اپنے کمرہ میں آکر لیت جاتی ہے۔
آدھے گھنٹے بعد:
“امی۔۔۔ابو۔۔آیت۔۔۔” روحان زور زور سے سب کو پکار رہا تھا۔
“ہائے اللّٰہ کشَف کے کمرے کا تو دروازہ بند کرنا ہی بھول گئی تھی میں۔۔”
“آیت۔۔”
“جی بھائی۔۔۔”
“کشَف کہاں ہے؟ جواب دو۔۔” وہ چیخ کر پوچھتا ہے۔
“ایف آئی آر کٹوانے گئی ہیں۔۔۔زاویار کے خلاف!”
جاری ہے۔۔۔۔۔
