Taqdeer e azal 2nd Last Episode

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی)

قسط نمبر ۳۲

شام کا وقت تھا۔
گھر کے در و دیوار پر ہلکی سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
زیدان جب گھر میں داخل ہوا تو اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ جیسے آج کے دن نے اُسے کوئی چھوٹی سی جیت دے دی ہو۔
وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
دروازہ کھولا تو اندر کائنات بیڈ پر بیٹھی تھی۔ مگر آج اُس کے چہرے پر وہ سنجیدگی نہیں تھی جو اکثر رہتی تھی۔ آج اُس کی آنکھوں میں چمک تھی… اور بےقراری بھی۔
زیدان کو دیکھتے ہی وہ فوراً بیڈ سے اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
آپ کو پتہ ہے؟ آپ کو پتہ ہے؟
وہ تقریباً اچھلتی ہوئی اُس کے قریب آئی۔
زیدان نے ابرو اُٹھائے۔
کیا ہوا؟
کائنات کے چہرے پر خوشی جیسے قابو میں ہی نہیں آ رہی تھی۔
میں پاس ہو گئی…! میں پاس ہو گئی…
وہ بچوں کی طرح خوشی سے بتا رہی تھی۔
اتنے سارے لوگوں میں سے… میں سلیکٹ ہو گئی ہوں۔ میں ڈاکٹر بن گئی… میں بن گئی ڈاکٹر…
زیدان نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
اُس کی آنکھوں کی چمک… اُس کے چہرے کی معصوم خوشی…
پھر اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے ہاتھ میں پکڑی نیلی فائل اُس کی طرف بڑھا دی۔
ابھی تو یہ دیکھ کر اور خوش ہو گی…
کائنات نے حیرت سے فائل لے لی۔
یہ کیا ہے…؟
تمہارا حصہ۔
وہ الجھ گئی۔
کون سا حصہ؟
زیدان نے سادہ انداز میں جواب دیا۔
تمہارے بابا کا حصہ۔
کائنات کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہ… وہ تو… تایا ابو نے کہا تھا کہ…
سب جھوٹ کہا تھا تایا ابو نے۔ زیدان کا لہجہ پرسکون تھا مگر الفاظ سخت تھے۔
کائنات فوراً سر ہلانے لگی۔
نہیں… وہ اتنے اچھے ہیں… وہ میرے ساتھ ایسا تھوڑی کر سکتے ہیں…
جیسے جیسے پیسہ آتا جاتا ہے نا… ویسے ویسے انسان کا دل تنگ ہوتا جاتا ہے۔
کائنات نے فوراً کہا۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔
ایسا ہی ہوتا ہے۔ شاید میرے پاس بھی اتنا پیسہ ہوتا تو میں بھی ایسا کر جاتا۔ بڑا مشکل ہوتا ہے کائنات… جب انسان کے پاس بہت پیسہ ہو اور پھر بھی اُس کا دل تنگ نہ ہو… اور وہ کسی کا حق نہ مارے۔
کائنات نے اُسے غور سے دیکھا۔
آپ کسی کا حق مار سکتے ہیں؟
نہیں… کیونکہ میں سیدھا بندہ ہی مار سکتا ہوں۔
کائنات نے فوراً ناک چڑھائی۔
فضول باتیں کروا لو بس آپ سے…
پھر اُس نے فائل کی طرف دیکھا۔
لیکن تایا ابو نے آپ کو یہ دیا کیسے؟
زیدان نے کندھے اُچکائے۔
تُم… آم کھاؤ، گٹھلیاں کیوں گن رہی ہو؟
پھر اُس نے اچانک سوال کیا۔
اور تم اسوان بھائی سے پیسے کیوں نہیں لے رہی تھیں؟
کائنات ذرا رُکی۔ وہ…
ان کا پیسہ مطلب میرا پیسہ۔ کمپنی میں میرے بھی کافی شیئرز ہیں۔
کائنات نے حیرت سے آنکھیں سکیڑیں۔
لیکن آپ کمپنی جاتے تو نہیں نا۔
پیسے لگانے والا بندہ کمپنی جاتا ہے کیا؟ وہ بس نظر رکھتا ہے۔ میں نے کمپنی میں انویسٹ کیا ہے۔
کہاں سے کیا انویسٹ؟
اپنی جائیداد سے۔
کائنات نے ہنکارا بھرا۔
ہُنہ… کبھی خود بھی کچھ کمایا ہے؟
ہاں۔
زیدان نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند ہزار کے نوٹ نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔
کائنات کی آنکھیں پھیل گئیں۔
یہ کہاں سے آئے؟
یہ میرے جم کے پیسے ہیں۔ میں پارٹ ٹائم جم ٹرینر ہوں۔ وہ سنجیدگی سے بتا رہا تھا، وہ بات جس کا اُس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا یہاں تک کہ اسوان کو بھی نہیں۔۔۔۔
ہیں؟! وہ واقعی حیران ہو گئی۔ تو آپ روزانہ ناشتہ کر کے صبح وہاں جاتے تھے؟
ہاں۔
کیوں؟
زیدان نے کندھے اُچکائے۔شوق ہے مجھے۔
کائنات فوراً سوالوں پر آ گئی۔
کون سا جم ہے؟ کہاں ہے؟ وہاں لڑکیاں بھی ہوتی ہیں کیا؟
زیدان نے آنکھیں تنگ کر کے اُسے دیکھا۔
کیوں؟ تمہیں جانا ہے؟
کائنات نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
نہیں… ویسے ہی پوچھ رہی ہوں…
زیدان ہلکا سا مسکرایا۔ جانا ہے تو بول دو۔
کائنات نے آہستہ سے کہا۔ ہاں… جانا تو ہے… لیکن لڑکیاں ہو تو۔۔۔
بس کل چلنا میرے ساتھ۔ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا۔
کائنات کے چہرے پر فوراً خوشی پھیل گئی۔
ٹھیک ہے۔۔۔
وہ واقعی خوش ہو گئی تھی۔
اور زیدان…
وہ اُسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا۔
کائنات نے پہلی دفعہ کوئی خواہش کا اظہار کیا بھی تو کیا؟ جم جانے کا۔۔اب تو وہ اُسے ہر حال میں وہاں لے کر جائے گا۔۔۔

++++++++++++

پریشے جب اسوان کے گھر سے نکلی تھی تو اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے قدموں پر چل کر آئی ہے… یا صرف عادت کے زور پر۔
گھر کا دروازہ کھلا تو سامنے اس کی ماں کھڑی تھیں۔
صفیہ بیگم نے اسے دیکھا…
چہرہ زرد، آنکھیں سوجی ہوئی، اور ہاتھ خالی۔
انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔
بس خاموشی سے ایک طرف ہٹ گئیں۔
پریشے اندر آ گئی۔
اس کے بعد کے دن… جیسے دھند میں گزرے۔
وہ بیمار پڑ گئی تھی۔
بخار کبھی اترتا… کبھی چڑھ جاتا۔
اکثر وہ خاموش لیٹی چھت کو دیکھتی رہتی۔
گھر میں کسی نے اس سے سوال نہیں کیا۔
نہ کسی نے الزام دیا۔
نہ کسی نے یہ کہا کہ واپس جاؤ۔
نہ ہی کسی نے اس کے فیصلے پر انگلی اٹھائی۔
بس… خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جاتے تھے۔
کبھی عشا اس کے لیے سوپ لے آتی۔
کبھی عشال اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ دیتی۔
اور راؤف صاحب…
وہ اکثر دروازے کے پاس کھڑے ہو کر بس ایک نظر اسے دیکھتے… اور چلے جاتے۔
جیسے دل میں بہت کچھ ہو… مگر بیٹی کو مزید بوجھ نہ دینا چاہتے ہوں۔
کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔
پھر آج…
آج پہلی بار پریشے نے خود خاموشی توڑی۔
ڈرائنگ روم میں سب بیٹھے تھے۔
پریشے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
سب کی نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔ چند لمحے وہ خاموش بیٹھی رہی۔
پھر اس نے دھیرے سے کہا۔
اسوان کی یہ دوسری شادی تھی…
کمرے میں سناٹا پھیل گیا۔
پریشے کی آواز دھیمی تھی… مگر صاف۔
ان کی ایک بیٹی بھی ہے…
عشاء کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اور…
وہ چند لمحے رکی۔
جیسے الفاظ گلے میں اٹک گئے ہوں۔
اور اب جب ان کی پہلی بیوی واپس آ گئی… تو انہوں نے مجھے گھر سے جانے کو کہہ دیا۔
خاموشی۔
گہری… بوجھل خاموشی۔
صفیہ بیگم کے ہاتھ بے اختیار ایک دوسرے میں جکڑ گئے۔
عشال نے پریشے کو دیکھا… اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔
کوئی چیخا نہیں۔
کوئی اسے قصوروار ٹھہرانے نہیں لگا۔
بس چند لمحے بعد راؤف صاحب نے گہری سانس لی۔
ٹھیک ہے۔
سب نے چونک کر انہیں دیکھا۔ وہ آہستہ سے بولے۔
جو ہونا تھا ہو گیا۔
پھر انہوں نے نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
اب اگر تم اسی طرح ٹینشن لے کر بیمار پڑی رہو گی… تو کیسے چلے گا، پریشے؟
پریشے نے سر جھکا لیا۔
عشال فوراً بولی۔ ہاں آپی، اٹھیں۔ یونیورسٹی جائیں۔
بس آخری سال ہے آپ کا۔ جلدی سے نکال لیں اسے۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔ ایسے تو آپ کا پورا سال ضائع ہو جائے گا۔
صفیہ بیگم نے آہستہ سے کہا۔
ہمیں اس کی شادی کروانے سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لینی چاہیے تھی۔
راؤف صاحب نے تھکے ہوئے انداز میں سر ہلایا۔
کی تھی میں نے… ان کی آواز میں افسوس تھا۔
لیکن وہ بہت تیز نکلا۔ سب لوگ اس کے بارے میں اچھا ہی کہتے تھے… ہمیں کیا پتا تھا۔
عشال نے فوراً کہا۔ اچھا، جو ہو گیا سو ہو گیا۔
پھر اس نے سیدھا سوال کیا۔ اب آگے کیا کرنا ہے؟
راؤف صاحب نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا۔
میں ابھی وکیل کے پاس جا رہا ہوں۔
سب کی نظریں ان پر جم گئیں۔
طلاق کے لیے خلع کا نوٹس بھیجتا ہوں۔
پریشے کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا۔
یہ رشتہ… جسے وہ اتنی دیر تک تھامے رہی…
آج اس کے والد ایک جملے میں ختم کرنے جا رہے تھے۔
اور عجیب بات یہ تھی… اس بار اس کے دل نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔
بس کہیں بہت اندر… ہلکا سا درد اٹھا۔

++++++++++

وہ صبح ناشتے کے بعد اُسے بھی اپنے ساتھ جم لے آیا۔۔۔ سڑک کے کنارے زیدان کی بائیک رکی اور کائنات آہستگی سے اُتری۔
وہ آج بھی اپنے سادہ انداز میں تھی۔ ہلکے رنگ کا شلوار قمیض اور اُس پر دوپٹہ سر پر اوڑھا ہوئے
زیدان نے بائیک اسٹینڈ پر لگائی اور اُس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔تم ابھی رکو… میں ابھی آیا۔
کائنات نے فوراً پوچھا۔ کہاں جا رہے ہیں؟
بس آ رہا ہوں نا… یہیں میری بائیک کے پاس کھڑی رہو۔ کہیں جانا مت۔۔۔
کائنات نے ہلکا سا سر ہلایا۔ اچھا…
زیدان تیزی سے اندر چلا گیا۔

اندر کا ماحول ویسا ہی تھا جیسا اُس نے کل رات خاص طور پر ترتیب دیا تھا۔
جب اسے اندازہ ہوا تھا کہ کائنات واقعی جم دیکھنے کی خواہش رکھتی ہے تو اُس نے فوراً اپنے لڑکوں کو فون کر کے ہدایات دے دی تھیں کہ صبح سب ایک ہی وقت میں جم پہنچیں… اور ہر بندہ اپنے ساتھ ایک ایک لڑکی بھی لے کر آئے۔
کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ جم تقریباً صرف لڑکوں کا ہی تھا۔
اس جم کے آس پاس تو عام دنوں میں لڑکیاں نظر بھی نہیں آتی تھیں۔
اس لیے آج جو لڑکیاں یہاں موجود تھیں…
وہ سب صرف ایک مقصد کے لیے آئی تھیں۔
تاکہ کائنات کو یہ محسوس ہو کہ یہاں لڑکیاں بھی آتی ہیں… اور وہ بےجھجھک یہاں آ سکے۔۔۔ ورنہ وہ یہ سن کر ہی پیچھے ہٹ جاتی کہ یہ صرف لڑکوں کا جم ہے۔۔۔
اُس کے گینگ کے لڑکے اِدھر اُدھر کھڑے تھے۔ کچھ لڑکیوں کو سمجھا رہے تھے، کچھ کو خاموشی سے ہدایات دے رہے تھے۔
کچھ لڑکیاں پیسوں کے لالچ میں آئی تھیں… کچھ کو ڈرا دھمکا کر لایا گیا تھا۔ مگر اب سب کو ایک ہی بات سمجھائی جا رہی تھی۔
زیدان نے اندر آتے ہی دھیمی آواز میں پوچھا۔
سب کو سمجھا دیا ہے نا…؟ کوئی گڑبڑا نہیں ہونی چاہیے۔
سلمان نے فوراً جواب دیا۔
ہاں بھائی… سب کو سمجھا دیا ہے۔
زیدان کی نظریں ایک ایک چہرے پر گھومیں۔
وہ کسی سے بھی بات کرے… یا پوچھے… تو کیا کہنا ہے؟
علی فوراً لڑکیوں کی طرف مُڑا۔
کہ ہم روز آتی ہیں یہاں… ٹھیک ہے؟
ساری لڑکیوں نے ایک ساتھ سر ہلا دیا۔
زیدان نے سخت لہجے میں مزید کہا۔
اور زیادہ فری ہونے کی کسی کو ضرورت نہیں ہے… اور تم سب بھی سن لو۔
سلمان نے اعتماد سے کہا۔
ہاں بھائی… تم فکر ہی نہ کرو۔ سب سیٹ ہے۔
زیدان نے ایک لمحہ سب کو دیکھا… پھر ہلکا سا سر ہلایا۔۔ٹھیک ہے۔
وہ مڑا اور تیزی سے باہر آ گیا۔
کائنات اب بھی بائیک کے پاس کھڑی تھی۔
اُسے دیکھ کر زیدان بولا۔۔چلو۔
کائنات اُس کے ساتھ چلنے لگی۔
اب کیا کر رہے تھے اندر؟
زیدان نے لاپرواہی سے کہا۔
میں اندر دیکھنے گیا تھا… کہیں زیادہ رش تو نہیں۔
کائنات نے حیرت سے پوچھا۔۔اتنے لوگ آتے ہیں آپ کے جم میں؟ کہ اتنا رش لگ جاتا ہے؟
زیدان نے مسکرا کر کہا۔ ہاں نا…
کائنات نے فوراً سنجیدہ ہو کر کہا۔۔لیکن یہ تو غلط ہے۔
زیدان نے بھنویں اٹھائیں۔ کیا غلط ہے؟
لڑکا لڑکی کا ساتھ جم کرنا۔
زیدان نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔
تم الگ کروا لینا۔
کائنات فوراً بولی۔ ہاں… الگ ہونا چاہیے۔ دو ٹائمنگ رکھیں۔ ایک ٹائمنگ لڑکوں کی… ایک لڑکیوں کی۔
زیدان نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ رکھ لیں گے۔ اب اندر تو چلو۔
ہاں…
جب کائنات اندر آئی تو اُس کی نظریں حیرت سے پھیل گئیں۔
ہر طرف لوگ مصروف تھے۔
کچھ لڑکیاں جوگنگ ٹریک پر دوڑ رہی تھیں…
کچھ مشینوں پر ایکسرسائز کر رہی تھیں…
کچھ لڑکے ویٹ اٹھا رہے تھے۔
کائنات نے آہستہ سے کہا۔ آپ کے جم میں تو کافی لوگ ہیں…
زیدان نے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھا۔ ہاں نا… اب بتاؤ پہلے کیا استعمال کرو گی؟
کائنات ابھی بھی اردگرد دیکھ رہی تھی۔
اور زیدان…
وہ چوری چوری اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
جیسے اُس کے لیے یہ سب انتظام صرف ایک چیز کے لیے کیا گیا ہو…
کائنات کی ایک مسکراہٹ کے لیے۔

کائنات نے جوگنگ ٹریک کی طرف دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا،
میں دوڑوں گی پہلے… مجھے یہ بہت پسند ہے۔ میں تو بس یہی کرنے آئی ہوں یہاں… ورنہ میں موٹی تھوڑی ہوں۔
وہ معصومیت سے بولی تھی اور اپنے دوپٹے کو ذرا سا سنبھالتے ہوئے ٹریک کی طرف دیکھنے لگی۔
زیدان نے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر آ گئی۔
ہاں… یہ تو ہے۔ موٹی تو تم بالکل نہیں ہو۔
کائنات نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔ تو پھر…؟
زیدان نے کندھے اُچکائے۔
پھر بھی دوڑ لو۔ شوق پورا کرلو۔۔۔
کائنات نے سر ہلایا۔۔پھر وہ جوگنگ ٹریک کی طرف بڑھ گئی۔
وہ ذرا سنبھل سنبھل کر دوڑنے لگی کیونکہ شلوار قمیض میں دوڑنا آسان نہیں تھا۔ دوپٹہ بھی بار بار سرک رہا تھا جسے وہ ہر چند لمحوں بعد ٹھیک کر لیتی۔
زیدان تھوڑا فاصلے پر کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔
اُس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
اُدھر جم کے لڑکے بھی چوری چوری یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
سلمان نے ہلکے سے علی کو کہنی ماری اور دھیمی آواز میں کہا،
زیدان بھائی تو گئے کام سے… دیکھ لے، شادی نہیں کرنا… ورنہ تیرا بھی یہی حال ہوگا۔
علی نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا،
ہاں توبہ میری توبہ… میں تو کبھی نہیں کروں گا شادی۔ مُجھے تو ان عورتوں سے سخت قسم کی نفرت ہے۔۔ شادی نہیں کرتی اپنا غلام بنا لیتی ہیں۔۔
ساتھ کھڑے ایک اور لڑکے نے ہنستے ہوئے کہا،
ویسے بھائی خوش ہیں… اور اتنا خوش رہنے کا حق تو ہمیں بھی ہونا چاہیے۔
علی نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا،
ہم سے زیادہ اسے ہے۔
کسے…؟ سلمان نے حیرانی سے پوچھا۔
علی نے ٹھوڑی کے اشارے سے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ اُسے…
سب کی نظریں ایک ساتھ اُس طرف مڑ گئیں۔
وہ سنان تھا۔
سنان اس وقت ویٹ اٹھا رہا تھا۔ اُس کے بازوؤں کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں اور پیشانی پر پسینے کی ہلکی بوندیں چمک رہی تھیں۔ وہ پوری توجہ سے اپنی ایکسرسائز میں مصروف تھا، جیسے اردگرد کی دنیا سے اُسے کوئی غرض ہی نہ ہو۔
کہنے کو تو وہ بہت خوش مزاج اور کسی کی پرواہ نہ کرنے والا انسان تھا…
لاپرواہ… بےفکر… ہمیشہ ہنستا ہوا۔ اپنی ہی دنیا میں مگن رہنے والا باقی دنیا کو اپنے پاؤں کی چوٹی پر رکھنے والا۔۔۔
لیکن جو لوگ اُسے قریب سے جانتے تھے… وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اُس کی اس لاپرواہی کے پیچھے ایک عجیب سی خاموشی چھپی ہوئی تھی۔
ایسی خاموشی… جس کے بارے میں وہ کبھی کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔
سلمان نے آہستہ سے کہا، یار… کبھی کبھی لگتا ہے سنان واقعی کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔
علی نے ویٹ ریک کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا،
پرواہ تو کرتا ہے… بس ظاہر نہیں ہونے دیتا۔
اسی لمحے سنان نے ویٹ واپس رکھا اور گردن موڑ کر اُن کی طرف دیکھا۔
تم لوگ ایکسرسائز کرنے آئے ہو… یا میری غیبت کرنے؟
سلمان فوراً سیدھا ہو گیا۔
توبہ ہے بھائی… کتنے تیز کان ہیں تمہارے..
سِنان نے ویٹ تولیے سے اپنے ہاتھ صاف کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
کان کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی بہت تیز ہیں میری…
وہ جو بھی کہہ رہا تھا، سچ کہہ رہا تھا۔
اُس کی آنکھیں واقعی بہت تیز تھیں… اور کان بھی۔
وہ دور سے لوگوں کے ہونٹ ہلتے دیکھ کر اندازہ لگا لیتا تھا کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔ اور بہت دور سے بھی اُسے صاف سنائی بھی دیتا تھا۔۔۔
علی نے ہنستے ہوئے پوچھا،
تو ابھی آنکھوں نے بتایا تھا یا کانوں نے؟
سِنان نے کندھے اُچکائے۔
دونوں نے… پہلے آنکھوں نے دیکھا، پھر کانوں نے سنا۔
ایک اور لڑکا جو ساتھ کھڑا تھا فوراً بول پڑا،
بھائی ہمیں بھی دے دو ایسے کان اور آنکھیں۔
سِنان نے بے نیازی سے ویٹ دوبارہ اٹھاتے ہوئے کہا،
کان میں روئی ڈال کے رکھ… اور سارا دن سوتا رہ۔ دیکھنا ہو جائیں گے۔
وہ لڑکا سنجیدگی سے بولا، واقعی؟
علی نے فوراً اُس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔
ابے پاگل! پاگل بنا رہا ہے تجھے۔
سِنان نے ویٹ اوپر اٹھاتے ہوئے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
ٹرائے کر کے دیکھ لے…
اور پھر وہ دوبارہ اپنی ایکسرسائز میں مصروف ہو گیا۔
لیکن ایک لمحے کے لیے اُس کی نظر پھر سے جم کے اُس کونے کی طرف گئی…
جہاں ٹریڈمل پر دوڑتی ہوئی کائنات ہنستے ہوئے زیدان سے کچھ کہہ رہی تھی۔
سِنان نے نظریں فوراً ہٹا لیں۔
جیسے اُس منظر سے اُس کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

زیدان نے کائنات کو ٹریڈمل کے پاس چھوڑا اور ایک لمحے کے لیے گردن موڑ کر سِنان کو دیکھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ گیا۔
سِنان اس وقت ویٹ اٹھا کر ایک طرف رکھ رہا تھا۔
زیدان اُس کے سامنے جا کر رک گیا۔
تو اس وقت یہاں کیا کر رہا ہے؟ زیدان نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔
اور لڑکی کہاں ہے؟ لڑکی نہیں لایا ساتھ؟
سِنان نے تولیہ کندھے پر ڈالا اور بےنیازی سے جواب دیا، لڑکی؟ کوئی لڑکی ملی ہی نہیں۔
زیدان نے ہلکا سا طنزیہ قہقہہ لگایا۔
اچھا چھوڑ… آفس کا بتا۔ کیا سین ہے؟
سِنان کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
ادھر بھی وہی ہے…
زیدان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ کون؟
سِنان نے سیدھا جواب دیا۔ تیرے سے جلنے والا۔
زیدان ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر بولا،
اب وہ اسوان بھائی کے پیچھے کیوں لگا ہے؟
سِنان نے آنکھیں تنگ کر کے اسے دیکھا، اوئے… سچ سچ بتا… کہیں وہ تیرا سوتیلا بھائی تو نہیں؟ دیکھ ابھی بھی وقت ہے ڈی ان ائے ٹیسٹ کروا لے۔۔۔ پتہ لگا۔۔۔
زیدان نے فوراً گھور کر دیکھا۔ بکواس نہیں کر۔
سِنان نے کندھے اچکائے۔ ابے تو مجھے کیا پتا۔ جا کے اپنے بھائی سے پوچھ۔ اُن کا کوئی معاملہ ہوا ہوگا۔
زیدان نے سر ہلایا۔ مجھے نہیں لگتا…
اب وہ کیوں؟ سِنان نے بھنویں اٹھائیں۔
کیونکہ بھائی اُس کو بہت مانتے ہیں… اُس کی بہت پروا بھی کرتے ہیں۔
سِنان چند لمحے اُسے دیکھتا رہا، جیسے ذہن میں کوئی بات جوڑ رہا ہو۔ پھر بولا،
تو پھر اب بھائی سے پوچھ کہ ایسا اسے کیا بول دیا ہے… جو وہ اُس کے پیچھے لگ گیا۔۔ غصے میں گلی ولی دے دی ہوگی۔۔
ابھی ایک مسئلہ حل ہوا نہیں تھا کہ دوسرا گھس آیا… وہ بڑبڑایا۔
میرے پاس اب اتنا وقت نہیں ہے۔ میں جا رہا ہوں۔ باقی کا معاملہ خود دیکھ لے۔
زیدان نے فوراً پوچھا،کہاں جا رہا ہے؟
سِنان نے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اب جاؤں گا… ملتان۔
زیدان نے حیرانی سے دیکھا۔ یہاں کیوں آیا تھا پھر؟
سِنان نے بےپروا سا جواب دیا۔ ڈانس کرنے آیا تھا۔ کر لیا… اب جا رہا ہوں۔
زیدان نے طنزیہ انداز میں کہا، تو کراچی میں ہی رہتا ہے نا؟ گھر تو چینج نہیں کر لیا؟
سِنان نے ایک لمحے کو رُک کر اُسے دیکھا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، میں کراچی میں نہیں رہتا… پاکستان میں رہتا ہوں۔ ہر شہر میں سنان رہتا ہے ہر شہر میرا گھر ہے۔۔۔
اور یہ کہہ کر وہ ویٹ دوبارہ اٹھانے لگا، جیسے بات ختم ہو چکی ہو۔
زیدان نے چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھا۔
یہ لڑکا عجیب تھا۔
نہ کسی جگہ سے بندھا ہوا… نہ کسی رشتے سے۔
آج کراچی… کل ملتان… پرسوں شاید اسلام آباد۔
جیسے پورا ملک اس کے لیے صرف ایک نقشہ ہو، اور وہ اس نقشے پر اپنی مرضی سے چلنے والا مسافر۔
زیدان نے ہلکا سا طنز کیا۔۔۔
بڑے آیا خانہ بدوش۔
سِنان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے گنگنایا
میں تھا مسافر راہوں کا تیری
تجھ تک مرا تھا دائرہ
میں بھی کبھی تھا مہرباں تیرا
خانہ بدوش میں اب ٹھہرا
خانہ بدوش میں اب ٹھہرا
زیدان نے جھنجھلا کر کہا، کبھی تو سیریس ہو جایا کر۔
سِنان نے کندھے اچکائے۔ تو رہ سیریس… اب نکل۔
زیدان نے جاتے جاتے کہا، اور ہاں… اگر کبھی فیصل آباد آنا ہو تو سیدھا پہلے مجھ سے ملنا۔ پتا نہیں کب سے اِدھر آئے ہوئے تھے تم…
سِنان جھنجھلا گیا۔۔۔ ابے جا نا…
اور زیدان وہاں سے ہٹ گیا۔
زیدان جب دوبارہ کائنات کی طرف آیا تو وہ وہاں نہیں تھی۔
اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔
چند قدم دور وہ کھڑی کسی لڑکی سے بات کر رہی تھی۔
زیدان نے دور سے ہی اسے دیکھا اور آہستہ سے مسکرا دیا۔ ہاں… یہ تو لازمی کرنا ہے۔
وہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھنے لگا۔

++++++++++++

آفیس کے کمرے میں ہلکی سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ شام ڈھلنے کو تھی اور کھڑکی سے آتی دھندلی روشنی میز پر بکھری فائلوں پر پڑ رہی تھی۔
زیدان سیدھا جم سے آفس آیا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی سختی۔ وہ کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ اسوان میز کے دوسری طرف فائل دیکھ رہا تھا۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد زیدان نے سیدھا ہو کر کہا۔
مجھے معلوم ہو گیا ہے کون ہے کمپنی کے پیچھے۔
اسوان نے چونک کر سر اٹھایا۔ کون؟
زیدان نے بغیر ہچکچاہٹ کے جواب دیا۔ ارسم۔
اسوان کے چہرے پر ناگواری سی پھیل گئی۔
پھر سے ارسم…؟
زیدان نے ٹھنڈی سانس لی مگر لہجہ اب بھی سخت تھا۔
جا کر پوچھ لو اس سے… اگر میں گیا نا اس کے پاس تو اچھا نہیں ہوگا۔
اسوان نے فوراً سر ہلایا۔
تم بلاوجہ شک کر رہے ہو… وہ ایسا نہیں ہے۔
زیدان ہلکا سا آگے جھکا۔ اس کی نظریں سیدھی اسوان کے چہرے پر تھیں۔
کوئی نہیں ہے جو تمہاری ہر موو جانتا ہو… سوائے ارسم کے۔ کوئی نہیں جسے تم نے اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ تمہارے ہر معاملے میں گھسے۔ لیکن ارسم کو دے رکھی ہے۔ تم کیسے کمپنی چلاتے ہو… تم کیسے ڈیل کرتے ہو… اسے سب معلوم ہے۔
اسوان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔
وہ چند لمحے سوچ میں پڑ گیا۔
واقعی… ارسم کو بہت سی باتیں معلوم تھیں۔
شاید ضرورت سے زیادہ۔
اسوان نے دھیرے سے کہا۔
لیکن وہ مجھے اپنا بڑا بھائی مانتا ہے… وہ کیوں کرے گا ایسا؟
زیدان کے ہونٹوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ آئی۔
یہی تو جا کر پوچھو اس سے۔ مجھے تو شروع دن سے جلتا ہے وہ… اور اب جب کائنات کی مجھ سے شادی ہو گئی ہے تو اور جلنے لگا ہے۔
اسوان فوراً چونکا۔
کائنات…؟ تمہیں کیسے پتا… وہ کائنات…؟
زیدان کی آنکھوں میں سختی اتر آئی۔
ایک نمبر کا گرا ہوا انسان ہے وہ۔ دوسرے کی بیوی پر نظر رکھتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے اس کی آنکھوں میں کائنات کے لیے پسندیدگی۔ میرا دل تو چاہتا ہے اس کی آنکھیں نوچ ڈالوں۔
اس کے جبڑے سخت ہو گئے۔
اور اتنا گھٹیا انسان کہ مجھے مارنا بھی چاہتا ہے۔ وہ تو اپنی بچپن کی دوست کا لحاظ کر کے تمہیں بتا رہا ہوں ورنہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اُسے قبر میں پہنچا چکا ہوتا۔۔۔
اسوان چند لمحے تک زیدان کو دیکھتا رہا۔ جیسے وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا۔
تم فکر نہ کرو… میں دیکھ لوں گا۔ بات کروں گا اس سے۔
زیدان فوراً کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
کر لو بات… نہیں تو اگر میں کُچھ کرونگا تو زندہ نہیں بچے گا وہ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ مڑا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
کمرے میں صرف اسوان رہ گیا تھا…

+++++++++++++

کمرے میں سنجیدہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
رضوان صاحب کرسی پر بیٹھے تھے جبکہ ہادی سامنے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر بے چینی صاف نظر آ رہی تھی۔
آخرکار ہادی نے ہار مان کر سب کچھ بتا ہی دیا تھا۔
کچھ لمحے گزرے… پھر ہادی نے گہری سانس لے کر کہا،
دیکھ لیں آپ… اگر اب اسوان کو پتا لگ گیا نا تو وہ اسے چھوڑے گا نہیں۔ میں نے ہزار دفعہ بات کر لی اس سے، لیکن وہ اپنی ضد سے پیچھے ہٹ ہی نہیں رہا۔
رضوان صاحب کے چہرے پر سنجیدگی اور سختی اتر آئی۔
انہوں نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹائی اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
میں کروں گا بات اس سے۔ ابھی کے ابھی اسے یہاں سے باہر بھیجتا ہوں۔
پھر ان کی آواز قدرے بھاری ہو گئی۔
اور… تم نے اچھا کیا پہلے مجھے بتا دیا۔ اسوان کا تو پتہ نہیں… لیکن کائنات کے ساتھ جو حرکت کر کے آیا ہے نا وہ… اگر اُس بارے میں زیدان کو پتہ لگ گیا تو پھر وہ قہر بن کے ہم سب پر برس پڑے گا۔
ہادی نے فوراً سر ہلایا۔
اس کے چہرے پر بھی وہی خوف تھا جو رضوان صاحب کے لہجے میں جھلک رہا تھا۔
وہی تو… اللّٰہ نے تو حساب لینا ہی لینا ہے۔۔۔ پہلے یہ لوگ لے لیں گے۔۔۔ اسی لیے کہہ رہا ہوں، ابھی روک لیں اسے۔
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی پھیل گئی۔
رضوان صاحب گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے۔
اگر دونوں بھائی میں سے کسی کو بھی علم ہوگیا تو ارسم کا کیا ہوگا۔۔۔؟؟

+++++++++++

اسوان آفس سے نکلنے کے بعد سیدھا گھر جانے کے بجائے ارسَم کے گھر آ گیا تھا۔
اس کی آنکھوں میں اس وقت ایک عجیب سی سختی اور غصہ تھا۔
گیٹ پر کھڑے گارڈ نے اسے پہچان لیا تھا، اس لیے بغیر کسی سوال کے اندر جانے دیا۔
وہ ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گیا۔
چہرے پر بے صبری صاف نظر آ رہی تھی۔
ملازمہ ارسَم کو بلانے اندر گئی تھی اور اسوان اسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک کچن کی طرف سے کسی چیز کے زور سے ٹوٹنے کی آواز آئی۔
آواز اتنی تیز تھی کہ اسوان فوراً چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ تیزی سے آواز کی طرف بڑھا۔
کچن کے دروازے تک پہنچا تو اندر کا منظر دیکھ کر ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
وہاں زرتاشہ کھڑی تھی۔
اور اس کے ساتھ ایک ملازمہ بھی۔
فرش پر شیشے کے برتن کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔
کھیّر کا سفید میٹھا آمیزہ زمین پر پھیل گیا تھا۔
شاید ملازمہ کے ہاتھ سے کھیّر کا پیالہ گر کر ٹوٹ گیا تھا۔
زرتاشہ اسے افسوس سے دیکھ رہی تھی۔
یہ کھیّر اس نے بڑی محنت سے خود بنائی تھی…
کیونکہ ہادی کو کھیّر بہت پسند تھی۔
لیکن اب…
ملازمہ بار بار گھبراہٹ میں بول رہی تھی۔
سوری میم… سوری… میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ آئی ایم ریلی سوری… آپ نے اتنی محنت سے بنایا تھا اور میں نے… میں اتنی نالائق ہوں نا… سب گرا کر برباد کر دیا…
زرتاشہ نے ہلکے سے سر ہلایا۔
اس کے چہرے پر ناراضی نہیں… بس ہلکی سی اداسی تھی۔
کوئی بات نہیں… جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ اسے اب صاف کر لو۔ میں دیکھتی ہوں پتیلی میں تھوڑا بہت تو ہوگا ہی… صرف ہادی کو دے دوں گی۔ باقی گھر والوں کے لیے کل دوبارہ بنا لوں گی۔
دروازے کے پاس کھڑا اسوان خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر حیرت واضح تھی۔
زرتاشہ… اور معافی؟
یہ وہ زرتاشہ نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا۔
وہی زرتاشہ جو اس کے گھر میں رہتی تھی…
جس کی ناک پر ہر وقت غصہ رکھا رہتا تھا…
جو ذرا ذرا سی بات پر چیخنے چلانے لگتی تھی۔
اور یہ…؟
یہ لڑکی تو بالکل مختلف تھی۔
پرسکون۔
نرم۔
اور عجیب حد تک برداشت کرنے والی۔
اسوان چند لمحے تک وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا…
جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ یہ واقعی وہی زرتاشہ ہے۔

زرتاشہ کی نظر جیسے ہی دروازے پر کھڑے شخص پر پڑی تو وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گئی۔
تم یہاں…؟
اسوان نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا۔ اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
کافی بدل گئی ہو۔
زرتاشہ کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر آیا۔
آپ کی مہربانی ہے…
اسوان نے بھنویں سکیڑیں۔
میری…؟
زرتاشہ نے سر ہلایا۔
ہاں آپ کی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو میں یہاں نہ ہوتی… اور یہاں نہ ہوتی تو میں ایسی نہ ہوتی۔
اسوان نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔
طنز کر رہی ہو؟
زرتاشہ نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں، سچ دل سے شکریہ کر رہی ہوں۔ پہلی دفعہ تمہاری غلط حرکت کی وجہ سے کوئی صحیح جگہ پہنچا ہے۔
اسوان کے چہرے پر سختی آگئی۔
غلطی تمہاری بھی تھی… کس نے کہا تھا الزام لگاؤ؟
زرتاشہ ہلکا سا ہنسی۔
ہاں، میری ہی غلطی تھی۔ صحیح کہا تم نے۔ تمہارے بہکاوے میں آ گئی تھی… پھر کائنات کی دعا سن لی… پھر میرے اندر کا شیطان جاگ گیا۔
لیکن اگر کائنات کی دعا نہ بھی سنتی نا… تو میں یہی کرتی۔ کیونکہ تمہارے منہ سے یہ سن لیا تھا کہ ارسام کائنات کو پسند کرتا ہے۔
تمہیں پتا تھا نا کہ میں ارسم کو پسند کرتی ہوں…؟
اسوان نے بغیر ہچکچاہٹ کے جواب دیا۔
ہاں… مجھے پتا تھا۔ تمہارا بھی، زارا کا بھی… اور کائنات کا بھی۔
زرتاشہ نے تلخی سے مسکرا کر کہا۔
ہاں، جانتی ہوں… سب تمہارا پلان تھا۔
اسوان نے کندھے اچکائے۔
ہاں تھا تو… لیکن سب کے سامنے اُس لڑکے کو تمہارا بوائے فرینڈ بنانا میرا پلان نہیں تھا۔
میں تو بس کائنات کی شادی زیدان سے کروانا چاہتا تھا… اور تم میرا راستہ تھیں، جس کے ذریعے میں یہ آسانی سے کر سکتا تھا۔
لیکن مجھے تمہیں پھسانے کا ارادہ بالکل نہیں تھا۔
زرتاشہ کی آنکھوں میں چنگاریاں سی ابھریں۔
تو کیوں اس لڑکے کو دھمکایا اور اسے میرا بوائے فرینڈ بنا دیا؟
اسوان نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
تمہیں بھی دنیا میں اور کوئی لڑکا نہیں ملا تھا… وہی ملا تھا؟ وہ جو زیدان کا دوست نکلا۔
زرتاشہ چونکی۔۔تو زیدان…؟
اسوان نے سر ہلایا۔
ہاں۔ زیدان نے کہا تھا اس لڑکے کو یہ کرنے کے لیے۔
پہلے مجھے پریشے سے شادی کرنی تھی… تو میں نے زارا کو راستے سے ہٹانا تھا۔
اور پری کو بھی کہیں بھیجنا تھا تاکہ میں آرام سے شادی کر سکوں اور پریشے کی فیملی کو علم نہ ہو۔
تو میں نے پہلے بڑے آرام سے زارا کو راستے سے ہٹا دیا۔
وہ اس وقت وہاں ہوتی تو ضرور کچھ نہ کچھ کرتی۔
اور پھر میں چاہتا تھا کائنات کی شادی زیدان سے ہو۔
پھر میں نے تمہیں استعمال کیا… تمہیں بھڑکایا… اور تم نے وہ کر دیا جو میں چاہتا تھا۔
مجھے پتا تھا پھر تم کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرو گی کائنات کو راستے سے ہٹانے کے لیے… اور تم نے کر دیا۔
اور میرا کام آسان ہو گیا۔
آرام سے شادی ہو رہی تھی… لیکن مایوں والے دن اگر وہ لڑکا نہ آتا نا… تو تم یہاں نہ ہوتیں۔
بچ جاتی تم۔
زرتاشہ نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔
ہم انسان اکثر بھول جاتے ہیں کہ کوئی ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے… جو ہر وقت ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے… جو ہمارے ہر عمل سے واقف ہے۔
میں نے کسی پر جھوٹا الزام لگوانے کی کوشش کی تھی… ایسے کیسے بچ جاتی؟
جیسی رسوائی میں کائنات کی کرنا چاہتی تھی… اس کی تو اٹھنی ہوئی نہیں… میری ہو گئی۔
میں ہر وقت اسے باپ نہ ہونے کی وجہ سے اس پر ظلم کرتی تھی… اسے الٹا سیدھا کہتی تھی…
اور اب دیکھو… میرا باپ مجھ سے ناراض ہو کر بیٹھا ہے۔ صحیح کہتا ہے جو کہتا ہے… جو دوسرے کے لیے گڑھا کھودتا ہے، خود ہی اس میں گرتا ہے۔
میں گر چکی ہوں… اور اب سنبھل بھی چکی ہوں۔
لیکن میں نے اپنے اللہ سے معافی مانگ لی ہے۔
تم بھی مانگ لو… سنبھل جاؤ اسوان… نہیں تو برباد ہو جاؤ گے۔
اسوان کی نظریں چند لمحوں کے لیے زمین پر جم گئیں۔ ہو چکا ہوں… خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کی ہے میں نے۔
زرتاشہ نے آہستہ سے پوچھا۔ پریشے کو بھیج کر…؟
اسوان خاموش رہا۔
زرتاشہ نے ایک اور سوال کیا۔
یمنہ سے محبت نہیں کرتے تم…؟
اسوان نے گہری سانس لی۔
نہیں معلوم… عجیب الجھن میں ہوں۔
یمنہ کو دیکھا تو اپنے حواس کھو بیٹھا میں… اس کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آیا۔
اور اب… پریشے کا جانا میرا دل کو کاٹ رہا ہے۔
پل پل اس کی یاد آتی ہے… سمجھ نہیں آتا…
زرتاشہ نے نرمی سے کہا۔
پری کے لیے شادی کی تھی نا اس سے؟
اسوان نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
کی تو تھی… لیکن اب… شاید مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے۔ اور عادت بہت جان لیوا ہوتی ہے۔
اسی لمحے پیچھے سے قدموں کی آہٹ آئی۔
ارسم ان کی طرف آ رہا تھا۔
ارے اسوان بھائی تم… یہاں کیسے…؟
وہ ابھی بات مکمل ہی کر رہا تھا کہ اسوان نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر زور دار گھونسہ مار دیا۔
گھونسہ اتنا اچانک تھا کہ ارسم ایک قدم پیچھے لڑکھڑا گیا۔ اس کے ہونٹ کے کونے سے خون کی باریک سی لکیر بہہ نکلی۔
زرتاشہ ایک دم ساکت رہ گئی۔
اسوان بھائی… یہ کیا—؟
ارسم نے سنبھلتے ہوئے کہا، مگر اسوان کی آنکھوں میں اس وقت ایسی سختی تھی جو اس نے شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
اسوان نے اس کا کالر پکڑ لیا۔
یہ سب کیا سن رہا ہوں میں…؟
اس کی آواز دھیمی تھی مگر اس میں دبے ہوئے غصے کی لرزش صاف محسوس ہو رہی تھی۔
ارسم نے اس کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی۔
پہلے چھوڑیں مجھے…
اسوان نے کالر کی گرفت اور مضبوط کر دی۔
پہلے جواب دو۔ کمپنی کے پیچھے تم ہو…؟
ارسم نے چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پھر ہلکی سی کڑوی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔
اگر ہوں تو…؟
یہ سن کر اسوان کی آنکھوں میں غصے کی چمک اور تیز ہو گئی۔
میں نے تمہیں بھائی سمجھا تھا ارسم…
اور میں نے بھی…
وہ ایک لمحہ رکا، پھر بولا۔
لیکن بھائی ایسے نہیں کرتے اسوان بھائی۔
اسوان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
کیا نہیں کرتے…؟
ارسم کی آواز اب بھاری ہو چکی تھی۔
اپنے بھائی سے اس کی محبت نہیں چھینتے…
کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
زرتاشہ کا دل جیسے ایک دھڑکن کے لیے رک گیا۔
اسوان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
کائنات…؟
ارسم کی آنکھوں میں ایک عجیب سا دکھ اتر آیا۔
ہاں… کائنات۔
وہ ہلکا سا ہنسا۔
جسے تم نے زیدان کے حوالے کر دیا۔
اسوان نے تیز لہجے میں کہا۔
وہ زیدان کی ہی تھی۔۔۔
ارسم نے اس کی بات کاٹ دی۔۔اس کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔
زیدان کی کہاں سے تھی زیدان تو اُسے پسند بھی بھی کرتا تھا۔۔۔ مجھے پسند تھی وہ… میں نے آپ کو بتایا تھا… یاد ہے؟
اسوان خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
ارسم کی آواز ٹوٹنے لگی۔
لیکن آپ نے کیا کیا…؟ اسے زیدان کے نام کر دیا۔
اسوان نے آہستہ سے کہا۔ میں نے جو کیا… کسی وجہ سے کیا تھا۔
میں جانتا ہوں وہ آپ کا سگا بھائی ہے، اس کے لیے کرو جو کرنا ہے… لیکن… کائنات… جب میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے کائنات پسند ہے تو… پھر کیوں دے دی اُسے… کیوں…؟
ارسم کی آواز میں شکستہ پن تھا، مگر اسوان کے چہرے پر سختی جم گئی تھی۔
اگلے ہی لمحے اُس کا گھونسہ پھر ارسم کے چہرے پر پڑا۔
چیخ و پکار کی آواز سن کر گھر کے سب لوگ اپنے کمروں سے نکل آئے تھے۔
رضوان صاحب تیزی سے آگے بڑھے اور ارسم کو پکڑ لیا جبکہ ہادی نے اسوان کو روکنے کی کوشش کی۔
اسوان کی آنکھوں میں عجیب سا جنون اتر آیا تھا۔
صرف پسند ہی تھی نا… کون سا تم اس کے بغیر مر گئے۔ تم مجھے ابھی بولو… کائنات جیسی ہزار لڑکیاں لا کر تمہارے قدموں میں ڈال دوں گا… لیکن کائنات…  کائنات ہرگز نہیں۔۔۔
ارسم کی آنکھوں میں درد کی چمک تھی۔
اگر یہی بات ہے تو پھر… اپنے بھائی کو ہی اُس جیسی ہزار لڑکیاں دے دیتے نا… میری کائنات کو کیوں دیا…؟
اسوان کے اندر جیسے آگ بھڑک اٹھی۔
دل تو چاہ رہا ہے تیری جان لے لوں میں۔۔۔
وہ پھر آگے بڑھا تھا کہ ہادی نے فوراً اسے روک لیا۔
اسوان نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔ اس کی آواز اب بھاری ہو چکی تھی۔
میں تمہیں اپنے سگے بھائی کی طرح ہی چاہتا تھا… لیکن اگر تم میرے سگے بھائی بھی ہوتے نا… تو تم پھر بھی زیدان کی جگہ نہیں لے سکتے تھے… کبھی نہیں۔
ارسم نے بے بسی سے چیخ کر کہا۔
کیوں…؟ آخر کیوں…؟
اسوان کی نظریں ایک لمحے کو زرتاشہ کی طرف مڑیں۔
کیونکہ تمہارے ساتھ وہ سب نہیں ہوا… جو اُس کے ساتھ ہوا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اسوان کی آواز اب آہستہ تھی، مگر ہر لفظ میں برسوں کا بوجھ تھا۔
پتا ہے میں نے کائنات کو کیوں چنا…؟
وہ زرتاشہ کی طرف دیکھ کر بولا۔
تم بھی سن لو۔
پھر اس نے گہری سانس لی۔
کائنات کے اندر… میری ماں کی جھلک ہے… میری سگی ماں کی۔ میری ماں بھی ایسی ہی تھی… بالکل ویسی ہی باتیں کرتی تھی… ویسا ہی سوچتی تھی…
اس کی نظریں کہیں دور جا ٹھہریں۔
اور زیدان… وہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے۔
وہ بہت ٹراماٹائزڈ ہے۔
اس کی آواز میں پہلی بار نرمی آئی۔
مجھے آج بھی افسوس ہوتا ہے… کاش میں اُس وقت اُس کے لیے موجود ہوتا… جب اسے میری ضرورت تھی۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
تمہیں پتا ہے… ماں کے جانے کے بعد زیدان پر کیا گزری تھی…؟
کمرے میں سب خاموش کھڑے تھے۔
اسوان آہستہ آہستہ بولتا گیا۔
وہ اپنی ماں سے بہت زیادہ اٹیچ تھا۔
میں اُس وقت بڑا تھا… میں اپنے باپ کے قریب تھا… اور وہ اپنی ماں کے۔
اسوان نے سر جھکا لیا۔
ابا… فائزان صاحب… کی شادی ہماری ماں سے گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی۔
شروع میں سب ٹھیک تھا۔
پھر ہم دونوں بھائی ہوئے… میں اور زیدان۔
اس کی آواز میں تلخی گھلنے لگی۔
لیکن پھر ابا کا باہر کسی اور عورت سے تعلق بن گیا۔
آہستہ آہستہ گھر بدلنے لگا۔
امی پر چیخنا… جھگڑنا… نظرانداز کرنا…
اور پھر ایک دن ابا نے دوسری شادی کر لی۔
عائشہ بیگم سے۔
زرتاشہ خاموش کھڑی سب سن رہی تھی۔ اُس وقت وہ بھی بہت چھوٹی تھی کُچھ کُچھ جانتی تھی، لیکن مکمل بات اُسے بھی معلوم بھی تھی۔۔۔
امی نے طلاق نہیں لی… صرف ہماری وجہ سے۔
اسوان کی نگاہ کہیں دور جا ٹھہری۔
پھر زیدان آٹھ نو سال کا تھا جب امی بیمار ہو کر دنیا سے چلی گئیں۔
اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں۔
میں بارہ تیرہ سال کا تھا… میں سنبھل گیا۔
لیکن زیدان… وہ بھی سنبھلا اُسے سنبھلنے کی ضرورت تھی۔۔۔
عائشہ امی کو بچوں سے مسئلہ نہیں تھا… کیونکہ وہ خود ماں نہیں بن سکتی تھیں۔ لیکن… محبت بھی نہیں تھی۔ بس نام کے لیے ہم ان کے بچے تھے۔ اور آج بھی ہیں۔۔۔
وہ ہلکا سا کڑوا مسکرایا۔
زیدان ویسا بچہ نہیں تھا جو خود سنبھل جاتا۔
وہ ضدی بھی تھا… شرارتی بھی… اور امی نے اسے بہت لاڈ سے پالا تھا۔
اسوان نے ارسم کی طرف دیکھا۔
میں تو بڑا تھا اپنا کام خود کرتا تھا۔۔ لیکن زیدان وہ چھوٹا تھا اُسے محبت چاہیے تھی اٹینشن چاہیے تھی۔۔ جو بس اُسے گھر میں دادی سے ملا وہ بھی بلاوجہ کی آزادی والی محبت۔۔۔ یہ کرلو دادی ہاں کرلو غلط کام ہو صحیح کام ہو سب میں زیدان کو دادی کی طرف سے اجازت تھی۔۔ تبھی وہ اور بیگار گیا۔۔۔وہ اپنا سارا غصّہ چیخ کر چلا کر نکلتا تھا۔۔۔اور عائشہ امی کو بھی بہت تنگ کرتا تھا۔۔۔ اور پھر ایک دن عائشہ امی واقعی تنگ آگئی۔۔۔۔ عائشہ امی نے گھر کی قیمتی چیزیں توڑ دیں… اور الزام زیدان پر لگا دیا۔ آئے دِن پھر ایک چیزیں توڑتی اور الزام زیدان پر ڈال دیتی۔۔۔ اور ابّا نا جانے کیوں اُس کی بے تمیزی کی وجہ سے تنگ تھے۔۔۔ جب سے ابّا نے دوسری شادی کی تھی، زیدان اُنہیں خالی الٹا سیدھا ہی کہتا پھرتا تھا۔۔۔
وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا۔
اور پھر… زیدان کو ہاسٹل بھیج دیا گیا۔
نہ دادی نے کچھ کہا… نہ کسی اور نے… حتیٰ کہ میں نے بھی نہیں۔ سب ہی تنگ آچکے تھے اُس سے۔۔۔
وہ تلخی سے ہنسا۔
میں بھی اُس وقت بچہ تھا… جو دکھایا گیا وہی سچ مان لیا۔ کہ زیدان کو واقعی سدھرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔
کمرے میں موجود سب لوگ خاموش تھے۔
اس کا سارا بچپن ہاسٹل میں گزرا۔
ہاسٹل کے بچوں کی ظالمانہ مستیاں… ان کی شرارتیں… اور پھر زیدان کا اُن سے اُلجھ جانا۔ یہ سب روز کا معمول بن گیا تھا۔ کبھی کسی سے لڑائی، کبھی کسی سے تلخ کلامی… اور پھر شکایت سیدھی وارڈن تک پہنچ جاتی۔ پھر وارڈن کال کرتا… اور کال سیدھی اس کے والد تک پہنچتی۔ وہ اکثر ہاسٹل آ جاتے… اور سب کے سامنے زیدان کو ذلیل کرتے۔ اتنی سخت باتیں کرتے کہ دیکھنے والوں کو بھی عجیب لگتا تھا۔
شاید اُنہیں لگتا تھا کہ اس طرح وہ اسے سدھار لیں گے… مگر ہوا بالکل اُلٹا۔
بار بار کی اس بے عزتی نے اس کے اندر کا خوف ختم کر دیا… اور آہستہ آہستہ وہ اتنا ڈھیٹ ہو گیا کہ اُسے کسی چیز کی پروا ہی نہیں رہی۔
اسوان کی آواز اب بوجھل ہو چکی تھی۔
ایک دن اس نے خود ہی کہہ دیا تھا… ‘ بھاڑ میں گئے سب… اب جو دل کرے گا وہی کروں گا۔’
اس نے گہری سانس لی۔
اور اس دن کے بعد… زیدان واقعی بدل گیا تھا۔ ایسا بدل گیا کہ پھر اُسے روکنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔۔۔
اسوان کی نظریں زمین پر تھیں۔
شاید… اللہ کو بھی اس پر رحم آ ہی گیا تھا۔
وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں عجیب سی تھکن تھی۔
جب میرا انٹر پاس ہوا… تو نہ جانے کیسے میرے اندر اچانک عقل آ گئی۔ ویسے تو میں پہلے بھی زیدان سے ملنے ہاسٹل جاتا تھا… مگر وہاں جا کر وہ مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔
اسوان نے نظریں جھکا لیں۔
میں ہی بولتا رہتا… اپنی باتیں سناتا… اس کے لیے چیزیں لے جاتا… اور پھر واپس آ جاتا۔ وہ بس خاموشی سے سب لے لیتا… مگر دل کی دیوار کبھی نہ گراتا۔
پھر انٹر کے قریب نہ جانے میرے دل میں اچانک بھائی کی محبت جاگ اٹھی… میں سیدھا ہاسٹل گیا… اسے گھر لے جانے کے لیے۔
مگر زیدان نے صاف انکار کر دیا۔
اسوان کی آواز دھیمی ہو گئی۔
تب میں نے اس سے کہا… ‘مجھے پچھلے دنوں امّاں کی ڈائری ملی ہے۔ اور تم جانتے ہو… اس ڈائری میں صرف تم ہی تم تھے۔’
وہ جیسے الفاظ یاد کر کے دہرا رہا تھا۔
شروع کے چند صفحوں میں انہوں نے ابّا کی اچھی عادتوں کے بارے میں لکھا تھا… جب ان کی شادی ہوئی تھی۔ پھر میری پیدائش کا ذکر تھا… میری کچھ شرارتیں، کچھ تعریفیں…
اسوان نے گہری سانس لی۔
لیکن اس کے بعد کی تقریباً ساری ڈائری… بس تم سے بھری ہوئی تھی۔
اس نے زیدان کے انداز کی نقل کرتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
زیدان کو یہ پسند ہے… زیدان نے آج یہ کہا… زیدان بہت شرارتیں کرتا ہے… زیدان نے آج کھانا نہیں کھایا… اور اسی وجہ سے میرا دل بھی اداس ہے…
اسوان نے سر اٹھایا۔
زیدان میری پوری بات سنتا رہا… مگر میں سمجھ رہا تھا وہ کیا سوچ رہا ہے۔ اسے لگ رہا تھا شاید امّاں نے بس روزمرہ کی چھوٹی موٹی باتیں ہی لکھی ہوں گی… انہوں نے وہ اصل درد کبھی ڈائری میں لکھا ہی نہیں ہوگا جو ان کے دل پر ٹوٹ کر گرا تھا۔
وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا۔
پھر میں نے اس سے کہا… ‘مجھے اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ تمہاری زندگی میں امّاں کی اتنی اہمیت تھی۔ میں تمہیں سنبھال ہی نہیں پایا… مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے جانے کے بعد تم پر کیا گزری ہوگی۔’
اسوان کی آواز بھاری ہو گئی۔
میں نے بس اتنا کہا… ‘اب چلو… میں تمہیں لینے آیا ہوں۔’
مگر زیدان نے پھر بھی صاف انکار کر دیا۔
لیکن میں بھی اس کا بھائی تھا… اور ضد میں اس سے کم نہیں تھا۔
اسوان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
میں روز ہاسٹل جاتا رہا… اسے مناتا رہا۔ وہ دھیٹ تھا… مگر میں بھی اپنی بات سے پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔
وہ کچھ دیر رکا، جیسے اس لمحے کو یاد کر رہا ہو۔
آخرکار… میں اسے منا ہی لایا۔
اسوان کی آواز میں اب ایک عجیب سا بوجھ تھا۔
پھر اس کی آواز میں درد گھل گیا۔
اور اس دن کے بعد… وہ سب کے لیے وحشی، بدتمیز اور نہ جانے کیا کیا بن گیا۔
اس نے گہری سانس لی۔
وہ جان بوجھ کر ایسا کرتا تھا… تاکہ میں اسے چھوڑ دوں۔
لیکن میں پیچھے نہیں ہٹا۔
کمرے میں خاموشی تھی۔
انٹر کے بعد اس نے کہا کہ وہ باہر جانا چاہتا ہے۔
میں نے شرط رکھی…
اسوان کی نگاہ سخت ہو گئی۔
کہ وہ شادی میری پسند کی لڑکی سے کرے گا۔
اس نے آہستہ سے کہا۔
اور اسی لیے… کائنات کو چنا میں نے۔
پھر اس نے ارسم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
کیونکہ مجھے معلوم تھا…
وہی لڑکی ہے… جو زیدان کو سنبھال سکتی ہے۔ اگر میں کائنات کی جگہ کوئی بھی اُس جیسی لڑکی سے اُس کی شادی کروا دیتا تو پتہ ہے وہ کیا کرتا۔۔؟؟ دوسرے دن ہی اُسے مار دیتا۔۔۔
ارسم کی آنکھوں میں ایک لمحے کو سناٹا سا اتر آیا۔
اسوان نے دھیرے سے کہا،
تم تو جانتے ہو نا اُسے… زیدان کو۔
پھر اُس نے نظریں ذرا جھکا لیں۔
ایسی حالت میں صرف ایک ہی لڑکی تھی… جو اُس کے سامنے کھڑی رہ سکتی تھی۔
اُس نے آہستہ سے کہا۔
کیونکہ صرف مجھے ہی نہیں… زیدان کو بھی کائنات میں اپنی ماں کی جھلک نظر آتی تھی۔
یہ کہتے ہوئے اُس کی آواز میں ایک مدھم سی نرمی آگئی۔
اور شاید اسی وجہ سے… کائنات ہمیشہ بچ جاتی تھی۔
وہ اچانک زرتاشا کی طرف مڑا۔
تمہیں یاد ہے… تم دونوں اکثر کہا کرتی تھیں کہ یہ کائنات ہر بار اُس کے کمرے سے صحیح سلامت کیسے باہر آجاتی ہے؟
زرتاشا خاموش کھڑی رہی۔ اسوان نے گہرا سانس لیا۔
اسی وجہ سے آجاتی تھی۔
چند لمحے رک کر وہ پھر بولا۔
زیدان کا غصہ… حد سے زیادہ بے قابو ہے۔
ایسے میں کائنات ہی اُس کے لیے ٹھیک تھی۔
وہ دھیرے سے بولا۔۔
وہ اُس پر چیخ سکتا ہے… اُس سے لڑ سکتا ہے… مگر اُسے کبھی جانی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
اسوان نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔
اور اب… وہ پہلے سے بہتر بھی ہوگیا ہے۔
کمرے میں پھر خاموشی پھیل گئی۔
ٹھیک بھی ہو رہا ہے…
اس کی آواز مدھم ہو گئی، جیسے یہ جملہ وہ دوسروں سے زیادہ خود کو یقین دلانے کے لیے کہہ رہا ہو۔
کمرے میں چند لمحوں تک کوئی آواز نہ آئی۔
جیسے سب لوگ اسوان کی باتوں کو اپنے اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
اور پھر اسوان رضوان سے مخاطب ہُوا۔۔۔
اگر اب بھی یہ نہ سمجھا تو اسے اپنی زبان میں سمجھ لیجیے گا نہیں تو اب اگر یہ میرے یہ زیدان کے راستے میں آیا تو بھائی مان جو چھوڑ رہا ہوں نہ اب نہیں چھوڑو گا۔۔۔۔
یہ کہتا ہی وہ یہاں سے نکل گیا۔۔۔
اسوان کے جاتے ہی ہادی ارسم کی طرف بڑھا
اب سکون مل گیا ہو نہ تمہیں سب برباد کر کے۔۔۔
اس کی آواز میں ایسا سرد غصہ تھا کہ کمرے کی فضا تک سہم سی گئی۔
اسے جلدی جلدی سے باہر بھجوا دیں… اس کو رضوان صاحب سے مخاطب ہُوا۔۔۔ میں اب اس کی شکل مزید نہیں دیکھنا چاہتا۔
یہ کہتے ہوئے وہ مڑا اور تیز قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
زرتاشہ ایک لمحے کو وہیں ساکت کھڑی رہی، پھر بولی
زرتاشہ ایک لمحے کو وہیں ساکت کھڑی رہی، پھر آہستہ مگر صاف لہجے میں بولی،
ایک بات سچ بتاؤں…؟ تم کائنات کو اتنا پسند نہیں کرتے جتنا تم نے اسے لے کر اپنے سر پر چڑھا رکھا ہے۔
ارسم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، مگر وہ رکی نہیں۔
تم بس زیدان سے جل رہے ہو… اور کچھ نہیں۔ ورنہ اگر اسوان تمہیں اس وقت کہتا نا، تو کیا تُم ایسی لڑکی سے شادی کر لیتے جس کا پہلے سے کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہو…؟ کبھی نہیں کرتے۔ میں نے سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا تھا…
حسد…؟ اس نے آہستہ سے دہرایا۔
تمہیں لگتا ہے مجھے زیدان سے حسد ہے؟
زرتاشہ نے اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھتے ہوئے کہا،
لگتا نہیں… ہے۔
کمرے کی فضا ایک بار پھر سنجیدہ ہو گئی۔
زرتاشہ نے دھیرے سے بات جاری رکھی،
تمہیں کائنات سے محبت نہیں تھی ارسم… تمہیں یہ برداشت نہیں ہو رہا کہ وہ زیدان کے پاس ہے۔
ارسم کے چہرے کے تاثرات سخت ہونے لگے۔
یہ حسد ہی تو ہے… جب انسان کو لگے کہ جس چیز پر اس کا حق ہونا چاہیے تھا وہ کسی اور کے پاس چلی گئی ہے۔
ارسم نے ایک لمحہ اسے گھورا، پھر قدرے سخت لہجے میں بولا، میں کیوں حسد کروں گا اُس سے…؟ میرے پاس سب کچھ ہے۔ اُس کے پاس کیا ہے…؟
زرتاشہ نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے جواب دیا،
اسوان… اور کائنات۔
ارسم کے چہرے کے تاثرات ایک پل کو بدل گئے، مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
زرتاشا آہستہ آہستہ بولتی رہی، جیسے ہر لفظ سوچ کر کہہ رہی ہو۔
ہم انسانوں کو حسد سے بچنا چاہیے، ارسم… کیونکہ یہ دل کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، میرے پاس بھی سب کچھ تھا… لیکن پھر بھی میں کائنات کی خوبصورتی سے جلتی تھی۔
ارسم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
حالانکہ میں بھی کوئی کم خوبصورت نہیں ہوں… مگر پھر بھی ہر وقت یہی کوشش کرتی تھی کہ کائنات مجھ سے زیادہ اچھی نہ لگے۔
اس کی آواز میں اب اعتراف کی سی تھکن تھی۔
یہی تو حسد ہوتا ہے… انسان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود بھی دل میں کسی اور کے لیے چبھن باقی رہتی ہے۔
پھر اس نے سیدھا ارسم کی آنکھوں میں دیکھا۔
اور تم… تم صرف کہہ رہے ہو کہ اسوان بھائی زیدان کے لیے جو کچھ کریں، مجھے کیا… کرتے رہیں۔
وہ ذرا قریب آئی۔
لیکن حقیقت میں تم اُس سے اس طرح حسد کر رہے ہو… کہ تم چاہتے ہی نہیں کہ اسوان بھائی زیدان کے لیے کچھ کریں۔ اسی لیے تُم سے یہ برداشت ہی نہیں ہورہا۔۔
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
ارسم کے چہرے پر اب صاف الجھن اور غصہ ایک ساتھ نظر آ رہے تھے… جیسے زرتاشہ نے وہ بات کہہ دی ہو جسے وہ خود بھی دل میں ماننے سے ڈرتا تھا۔
تبھی سائرہ بیگم کی الجھی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔ یہ سب ہو کیا رہا ہے…؟ کوئی مجھے بتائے گا بھی؟
وہ حیرت اور بے چینی سے کبھی زرتاشا کو دیکھتی تھیں، کبھی ارسم کو۔ گھر کی فضا اس قدر بوجھل ہو چکی تھی کہ جیسے ہر دیوار ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہو۔
مگر وہاں کھڑے کسی شخص میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ سچ زبان پر لا سکے۔
زرتاشہ نے ایک لمحے کو سائرہ بیگم کی طرف دیکھا… پھر بغیر کچھ کہے نظریں جھکا لیں۔
پھر وہ خاموشی سے مڑی… اور آہستہ آہستہ وہاں سے نکل گئی۔
کمرے میں رہ جانے والوں کے درمیان ایک بار پھر گہری خاموشی اتر آئی تھی۔
رضوان صاحب نے گہری سانس لے کر فضا کی کشیدگی کو توڑنے کی کوشش کی۔
ان کے چہرے پر تھکن اور سنجیدگی واضح تھی۔
بس… چھوڑو اب۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔
انہوں نے دھیرے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
اور اب تم یہاں سے جانے کی تیاری کرو۔
ارسم چونکا لیکن… میں کیوں جاؤں یہاں سے؟
اس کی آواز میں حیرت بھی تھی اور ہلکی سی ضد بھی۔
رضوان صاحب نے چند لمحے اسے خاموشی سے دیکھا، پھر آہستہ سے بولے،
ابھی چلے جاؤ، ارسم… ابھی تمہارا جانا ہی بہتر ہے۔
وہ ذرا قریب آئے اور قدرے نرم لہجے میں کہا،
بعد میں… جب یہاں سارا معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا… تب واپس آ جانا۔
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
ارسم کے چہرے پر الجھن کے سائے تھے…
یعنی… آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میں چلا جاؤں؟
اس کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ دھیمی تھی۔
رضوان صاحب نے نظر چرا لی۔
بات چاہنے یا نہ چاہنے کی نہیں ہے، ارسم۔
وہ سنجیدگی سے بولے۔ بات اس وقت حالات کی ہے۔
ارسم کی نظریں ایک لمحے کے لیے اوپر ہادی کے روم کی طرف اُٹھتی۔۔۔ پھر اس نے دھیرے سے کہا، ٹھیک ہے…
رضوان صاحب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
شاید انہیں امید نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے مان جائے گا۔
ارسم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ویسے بھی… یہاں اب میرا ہے ہی کون؟
اس کے الفاظ ہلکے تھے مگر ان میں چھپا ہوا درد واضح تھا۔
ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ انہوں نے آہستہ سے کہا۔
مگر ارسم نے بات کاٹ دی۔
نہیں… بالکل ایسی ہی بات ہے۔
وہ مڑا اور چند قدم چل کر دروازے کے قریب جا کر رک گیا۔
پھر بغیر پیچھے دیکھے بولا،
فکر نہ کریں… میں چلا جاؤں گا۔
اس کی آواز میں عجیب سی خاموش شکست تھی۔
اور شاید… واپس بھی نہ آؤں۔
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ باہر نکل گیا۔
سائرہ بیگم نے الجھن اور بےچینی سے رضوان صاحب کی طرف دیکھا۔
کیوں بھیج رہے ہیں اسے…؟
ان کی آواز میں صاف پریشانی تھی، جیسے وہ ابھی تک سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ اچانک سب کچھ اتنا بگڑ کیسے گیا۔
رضوان صاحب نے تھکے ہوئے انداز میں پیشانی مسلی اور آہستہ سے بولے،.جو یہ یہاں رہ کر کرتا پھر رہا ہے نا… اُس سے بہتر یہی ہے کہ کچھ دن کے لیے یہاں سے دور چلا جائے۔
سائرہ بیگم نے حیرت سے پوچھا،
مگر ایسا بھی کیا کر دیا میرے بچے نے۔۔۔
رضوان صاحب چند لمحے خاموش رہے، پھر دھیمی آواز میں بولے، میں تمہیں آرام سے ابھی سب بتا دونگا۔۔۔ فلحال اُسے روکنا نہیں جانے دینا۔۔۔
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
سائرہ بیگم نے آہستہ سے سر جھکا لیا، مگر ان کے دل میں بیٹے کو فکر ستا رہی تھی۔۔۔

+++++++++++

آفس کی مصروفیات اچانک بہت بڑھ گئی تھیں۔
اسوان کے پاس اب پری کے لیے تو کیا… خود اپنے لیے بھی وقت نہیں بچتا تھا۔
کمپنی ابھی پوری طرح دوبارہ قائم ہو رہی تھی، اور اس کو سنبھالنا آسان نہیں تھا۔
چھوٹی سی غلطی بھی انہیں خسارے میں لے جا سکتی تھی۔
اسی لیے دونوں بھائی دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔
زیدان تو پہلے جیسا ہی تھا۔۔
لیکن اسوان…
وہ آہستہ آہستہ پریشانی میں نڈھال ہوتا جا رہا تھا۔
ایسا لگتا تھا جیسے اس کی ساری زندگی اسی کمپنی کے ساتھ بندھی ہوئی ہو۔
اگر کمپنی ڈوب گئی…
تو اسوان بھی ڈوب جائے گا۔
دفتر کی فائلیں، میٹنگز، فون کالز اور مسلسل بھاگ دوڑ… یہ سب اس کی زندگی کا معمول بن چکے تھے۔
مگر اس سب کے بیچ…
اسے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کتنا بڑا فیصلہ کر چکا ہے۔
یا شاید…
وہ جان بوجھ کر اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہا تھا۔۔۔
ایک شام وہ بہت دیر سے گھر پہنچا۔
سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
دروازہ کھول کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ چند لمحوں کے لیے رک گیا۔
پھر آہستہ سے بیڈ پر بیٹھ گیا۔
کمرہ ویسا ہی تھا…
لیکن پھر بھی ویسا نہیں تھا۔
کسی چیز کی کمی واضح محسوس ہوتی تھی۔
اور وہ کمی… پریشے تھی۔
وہ چاہے جتنا بھی خود کو مصروف رکھتا،
پریشے کی یاد بار بار اس کے ذہن میں آ ہی جاتی۔
کبھی اچانک اسے یاد آتا۔۔
پریشے اس کے آفس جانے سے پہلے اس کے کپڑے استری کر دیتی تھی اُس کے سارا سامان بنا بولے میز پر سجا دیتی تھی تاک اُسے کوئی سامان ڈھونڈنے میں مسئلہ نہ ہو۔۔۔۔
کبھی یاد آتا۔۔
وہ رات کو دیر سے آتا تو پریشے جاگ رہی ہوتی۔
چاہے دونوں کے درمیان کتنی ہی خاموشی کیوں نہ ہو…
اس وقت اسے کبھی احساس نہیں ہوا تھا…
کہ کوئی اس کی فکر بھی کرتا ہے۔ وہ جیتنا بھی اُس سے لڑے لیکن اُس کا خیال بھی بہت رکھتی تھی۔۔۔
اسوان نے تھکے ہوئے انداز میں آنکھیں بند کر لیں۔
پریشے کی آواز جیسے کہیں بہت دور سے سنائی دی۔
آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
وہ اچانک آنکھیں کھول کر سیدھا بیٹھ گیا۔۔۔
آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔؟؟
میں آپ سے اب رہائی چاہتی ہوں…
میں اب آپ کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی۔
کمرے میں خاموشی تھی۔ کوئی نہیں تھا۔
بس اس کی اپنی یادیں تھیں۔
اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھ لیا۔
پریشے…
اس کے ذہن میں بار بار یہی نام گونج رہا تھا۔
وہ پہلی بار ٹھیک سے سوچنے لگا تھا۔
اس نے کیا کیا تھا؟
کیا واقعی…
اس نے پریشے کے ساتھ انصاف کیا تھا؟
اس نے اسے یاد کیا…
جب وہ آنسو پونچھ کر صرف دو لفظ بولی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔
اور چلی گئی تھی۔ وہ جانا ہی تو چاہتی تھی۔۔۔ لیکن کیا اُس نے اسے یمنہ کی وجہ سے چھوڑا یا اُس کی وجہ سے۔۔۔؟؟ وہ جانا تو شروع دِن سے چاہتی تھی لیکن تب تو اُس نے اُسے جانا نہیں دیا تو اب۔۔۔؟؟
سب خیال اُس کے دل میں خود ہی خود آرہے تھے۔۔۔
اسوان کے دل میں عجیب سا بوجھ محسوس ہوا۔

+++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *