Taqdeer e azal Episode 13 written by siddiqui

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۳

دو بجنے والے تھے جب وہ گھر پہنچی۔ باہر کی تپتی دوپہر جیسے اس کے قدموں سے لپٹ گئی تھی۔ دروازہ کھولتے ہی ایک ٹھنڈی سی ہوا کا جھونکا آیا — لیکن پیاس پھر بھی حلق میں اٹکی ہوئی تھی۔
وہ سیدھا ڈائننگ ٹیبل کی طرف آ گئیں۔ پیاس سے گلہ سکھ رہا تھا۔۔۔ جگ میں رکھا شفاف سا پانی روشنی میں چمک رہا تھا۔ اس نے جلدی سے ایک گلاس بھرا اور لبوں سے لگایا۔

ابھی پہلا گھونٹ ہی لیا تھا کہ کچن سے زینب بیگم نکلی۔

اچھا ہوا تم آگئی،
انہوں نے قریب آتے ہوئے کہا۔
اب ذرا جلدی سے یہ کپڑے بدل لو… اور میرے لیے پاستا بنا دو۔۔۔

کائنات نے گلاس پکڑے پکڑے چونک کر دیکھا۔ گھونٹ حلق میں پھنسا، اور وہ ہڑبڑا کر کھانسنے لگی۔

ارے آہستہ۔۔ زینب بیگم نے آگے بڑھ کر اس کی پیٹھ سہلائی۔

کائنات نے سانس بحال کرتے ہوئے کہا،
مامی، اب کسی سے بھی کہہ دیں، وہ بنا دے گی۔

بات تو تمہاری ٹھیک ہے… لیکن تمہیں تو پتا ہے، تم پاستا کتنا اچھا بناتی ہو۔
پھر ذرا توقف کے بعد بولیں،
اور ہاں، تھوڑا زیادہ بنانا… میں کھانے میں وہیں کھاؤں گی۔۔

کائنات نے آہستہ سے گلاس میز پر رکھا۔ پانی کے چند قطرے اس کی انگلیوں سے پھسل کر میز پر گر گئے۔۔۔

آپ کو نظر نہیں آرہا؟
اس کی آواز میں تھکن بھی تھی اور دبی ہوئی خفگی بھی۔
میں ابھی پیپر دے کر آئی ہوں…

زینب بیگم نے ذرا حیرت سے دیکھا، پھر بالکل معمولی لہجے میں بولیں
ہاں تو کپڑے بدل لو، فریش ہو جاؤ… پھر بنا دو۔

کائنات نے ایک لمحے کو ان کی طرف دیکھا، پھر سر نفی میں ہلایا۔
میں نہیں بنا رہی۔

زینب بیگم کے چہرے پر لمحے بھر کو خاموشی چھا گئی، پھر لہجہ سخت ہوا۔
کیا؟

میں ابھی اتنا تھک کر آئی ہوں، مامی… میں نہیں بنا رہی۔

زینب بیگم کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔
تمہاری اتنی ہمت؟ تم مجھے منع کر رہی ہو؟

کائنات کے لب تھر تھرا گئے، مگر اس بار اس نے نگاہ نیچی نہیں کی۔
ہاں… کر رہی ہوں۔
اب میں آپ کو بڑی اور مامی سمجھ کر پاستا بنا دوں…
اور پھر آپ مجھ پر یقین نہ کریں…
الٹا مجھ پر الزام لگا دیں…
اور پھر میری شادی کروا دیں، ہے نا؟

زینب بیگم کے غصے سے کہا
کیا بکواس کر رہی ہو تم؟

کائنات کی آنکھوں میں ایک نمی سی چمکی — مگر وہ آنسو نہیں تھے، وہ اندر جلتے اعتماد کے ذرے تھے۔
بھلائی کا زمانہ چلا گیا، مامی…
میں نے اب کسی پر بھلائی نہیں کرونگی۔

وہ تیز قدموں سے پلٹی،
پیچھے سے زینب بیگم کی آواز ابھری —
تم مجھ سے بدتمیزی کر کے جا رہی ہو، کائنات۔۔۔

کائنات نے پلٹ کر نہیں دیکھا، بس کہتے ہوئے زینے  چڑھ گئی
ابھی میں نے بدتمیزی نہیں کی ہے، مامی…

روم میں داخل ہوتے ہی دروازہ زور سے بند کیا۔۔۔اور چیخی۔۔۔
سمجھ کے کیا رکھا ہے انہوں نے مجھے

زیدان الماری کے پاس کھڑا کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
اچانک اس کی آواز پر چونک کر کہا
کیا…؟

سامنے دیکھتی۔۔۔کائنات بھی یکدم ٹھٹھک گئی۔
وہ اپنے غم اور غصے میں زیدان کو بھول گئی تھی۔۔ کہ وہ اب اُس کے ساتھ رہتی ہے۔۔۔

کچھ نہیں…
وہ خفکی سے بولی، اور اکر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

زیدان نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔۔۔۔ پھر بولا۔۔۔
کچھ تو ہے۔۔۔۔

کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔
وہ خفکی سے بولی جُھک کر اپنے شوز اترنے لگی۔۔۔

زیدان نے الماری بند کی، اور بیڈ کے کنارے آ بیٹھا۔

کائنات نے شوز ایک طرف رکھے، اور صوفے پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
اس کے ہاتھ گود میں جڑے ہوئے تھے، نگاہیں کہیں خلا میں۔

میرا دل چاہتا ہے…
اس نے آہستہ سے کہا — جیسے خود سے بات کر رہی ہو۔

زیدان چونکا، فوراً بولا،
کیا چاہتا ہے؟

کائنات نے اس کی طرف دیکھا…
کہ میں آپ کا گلا دبا دوں!

کیا ہے آپ کو ؟ اپنا کام کریں نا
وہ غصے سے بولی۔۔۔

زیدان نے سنجیدگی سے کہا
لو، اب اپنی جان لیتے لیتے، میری جان پر بھی آ گئی…

آپ کو سمجھ نہیں آ رہا؟
کائنات نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔

بالکل نہیں سمجھ آ رہا۔۔۔
زیدان نے بے نیازی سے کہا،
ویسے… میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
جاؤ، میرے لیے کچھ کھانے کا لے کر  آؤ۔

کیااااا؟
کائنات کی آنکھیں پھیل گئیں۔
اس گھر میں میرے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا آپ لوگوں کو؟

زیدان نے کندھے اچکائے،
مجھے تو کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔باقی کا پتہ نہیں۔۔۔

کائنات نے گھور کر دیکھا۔
میں اس گھر کی ملازمہ نہیں ہوں جس کو دیکھو جب دیکھو آرڈر دیتا رہتا ہے مُجھے۔۔ آئندہ مُجھے کِسی نے آرڈر دیا نہ تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔

زیدان نے آہستہ سے بھنویں اٹھائیں،
اچھا۔۔۔کیا کرو گی۔۔؟؟

وہ زیدان کو گھورتی بولی۔۔۔
جان لے لوں گی…

کس کی؟

سب کی…
وہ تیزی میں غصے سے بولی

اپنی تو لے لو پہلے…
زیدان نے کہا، اب وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے مزے سے بیٹھ گیا تھا…

کائنات نے بھنویں سکیڑیں،
نہیں، پہلے آپ کی لوں گی…

زیدان نے سنجیدگی سے کہا،
کیوں؟ میرے بغیر جنت میں جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا؟

کائنات نے خفکی بھری آواز میں کہا،
آپ کو لگتا ہے آپ جنت میں جائیں گے؟

نہیں جاؤں گا… زیدان نے کندھے اچکائے،
ہاں، اگر تم میری جان لے لو… تو شاید جنت جا سکوں…

ہنہ! پھر جہنم میں جائیں آپ۔۔۔
وہ خفکی سے بولی۔۔۔

زیدان نے مصنوعی حیرت سے کہا،
لو، اب جان نہیں لے رہی میری…

کائنات نے ہونٹ بھینچے،
نہیں۔۔۔۔۔

لیکن ابھی تُم میرے لیے کچھ کھانے کا نہیں لے کر آئی نہ۔۔۔ تو میں سچ میں بھوک سے مار جاؤنگا۔۔۔

یہ سن کر کائنات کا غصّہ مزید چڑھ گیا۔
میں ہی تو سب کو ملتی ہوں… وہ تیزی سے بولی
جارہی ہوں کھانا لینے مریے گا مت۔۔۔
اور صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

زیدان نے آہستہ سے کہا
پہلے کپڑے تو بدلو۔

نہیں، رہنے دیں۔ پہلے آپ کو کچھ کھلا دوں، ورنہ آپ واقعی مر جائے گے…
یہ کہہ کر وہ غصے میں تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔

++++++++++++++

وہ نیچے آئی۔
کچن میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک لمبی سانس لی جیسے اپنے غصے کو زبردستی قابو میں کر رہی ہو۔

برتن میں سے کھانا نکالا، پلیٹ میں سجا کر ترتیب سے رکھا۔

پلیٹ کو ٹرے میں رکھا اور جانے ہی لگی تھی کہ پیچھے سے راضیہ بیگم کی آواز گونجی،
اے! کہاں جا رہی ہے تُو؟

کائنات نے قدم روکے، سرد لہجے میں کہا،
موت کے مُنہ میں…

راضیہ بیگم چونک گئیں،
اے، کیا بول رہی ہے تُو؟

کائنات نے بیزاری کے عالم میں کہا
یا اللہ… ان کے لیے کھانا لے کر جا رہی ہوں۔۔۔

ان کے لیے؟ کن کے لیے؟ راضیہ بیگم کو سمجھ نہیں آئی۔۔۔

کائنات نے ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
اپنے شوہر کے لیے…

راضیہ بیگم کے چہرے پر اچانک نرمی آ گئی۔
اَچھا، جا… جلدی جا، ٹھنڈا نہ ہو جائے کھانا۔۔

کائنات نے بنا کچھ کہے سر ہلایا،
اور ٹرے اٹھا کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی،
دل میں اب بھی بھاپ کی طرح غصہ ابل رہا تھا،
مگر چہرے پر عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی۔

+++++++++++++

کمرے کی خاموشی میں اسوان اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے جھکا بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں میں وہی مانوس چمک تھی جو ہمیشہ پری سے بات کرتے ہوئے جگمگاتی تھی۔ اسکرین کے اس پار پری بیٹھی تھی—مسکراتی ہوئی، شوخ انداز میں،

کب آرہی ہے پھر میری شہزادی… اپنے بابا کے پاس؟
اس کی آواز میں ایک نرمی تھی، جیسے ہر لفظ میں پیار ٹپک رہا ہو۔

بابا، ابھی تو میں نے کل ہی بتایا تھا کہ ایک ہفتے بعد آؤں گی…
پری نے منہ بنائے کہا

اسوان نے مسکرا کر سر ہلایا،
لیکن بابا تمہیں اب بہت زیادہ مِس کر رہے ہیں…

پری نے فوراً آنکھیں پھیلا کر کہا،
اللہ بابا… آجاؤں گی نا، اب مجھے ایموشنل مت کریں…

اچھا یہ بتاؤ، تمہارا خیال تو رکھتے ہیں نا وہاں سب؟

پری نے پیار سے کہا،
ہاں بابا، بہت۔ یہاں سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔

اچھا… بابا کے پاس اپنی شہزادی کے لیے ایک سرپرائز ہے۔

پری کی آنکھیں چمک اٹھیں،
وہ کیا بابا؟

اسوان نے نرمی سے کہا،
وہ تو جب میری شہزادی اپنے بابا کے پاس آئے گی تب ہی ملے گا…

پری نے ہنستے ہوئے منہ بنایا،
یا اللہ بابا…

اسوان نے فوراً چھیڑ دیا،
یہ تم نے کائنات سے سیکھا ہے نا؟

پری نے حیرانی سے کہا،
کیا بابا؟

یہ ’یا اللہ‘ کہنا…

پری کے لبوں پر شوخ مسکراہٹ کھیل گئی،
ہاں بابا، اب وہ میری دوست ہے نا، کچھ تو اثر آئے گا ان کا مجھ پر…

اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
اچھا… پھر تو تمہارے لیے ایک اور سرپرائز ہے…

پری نے مصنوعی ناراضی سے کہا،
بابا بس کریں، اتنے سارے سرپرائز رکھ کے آپ چاہتے ہیں میں جلدی سے آجاؤں… لیکن ایسا نہیں ہوگا۔۔۔

اس کی بات پر اسوان بے اختیار مسکرا دیا۔
تم اپنے بابا کو اچھی طرح جانتی ہو… ہُم؟

پری نے فوراً کہا،
بالکل، میں نہیں جانوں گی اپنے بابا کو تو اور کون جانے گا…

اسوان کی مسکراہٹ گہری ہوئی،
بات تو بالکل سچ کہی تم نے…

اور اس لمحے اسوان کے دل میں ایک سکون سا اتر آیا۔ اسکرین کے اس پار بیٹھی وہ چہکتی ہوئی بیٹی گویا اس کے کمرے کی دیواروں میں جان ڈال رہی تھی۔

++++++++++++++

وہ کھانا لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو لمحے بھر کے لیے ٹھٹھک گئی۔
کمرے میں زیدان کہیں نہیں تھا۔
اس کی نظریں بے اختیار چاروں طرف دوڑنے لگیں، بیڈ، صوفہ، میز… ہر جگہ لیکن وہ کہیں نہیں تھا۔۔۔

شاید واش روم میں ہوگا… اس نے سوچا۔۔۔

کھانے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
پانچ منٹ گزرے… پھر دس۔
لیکن دروازہ ہلکا سا بھی نہیں کھلا۔

اب بےچینی نے اسے آ لیا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی، تیز قدموں سے واش روم کی طرف بڑھی۔
دروازے کے باہر جا کر آواز دی،
آپ؟ اندر ہیں آپ؟

خاموشی۔
اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔

اس نے دوبارہ پکارا،
آپ کو میری آواز آ رہی ہے؟ کیا آپ… اندر ہیں؟

لیکن دوسری طرف سے پھر وہی خاموشی تھی۔۔

پھر اس نے دھڑکتے دل سے لاک گھمایا۔
دروازہ کھل گیا۔
اندر کوئی نہیں تھا۔
واش روم بالکل خالی تھا

یہ… یہ کہاں جا سکتا ہے؟
ذہن میں خیال آیا، شاید باہر گیا ہو۔
لیکن وہ تو نیچے ہی تھی اُس نے تو جاتے دیکھا نہیں۔۔۔۔
پھر کیسے…؟
کیسے وہ یوں اچانک غائب ہو گیا؟

اس کے قدم خودبخود کھڑکی کی طرف بڑھنے لگے۔
بیڈ کے دائیں جانب وہ بڑی سی کھڑکی، جو ہمیشہ بند رہتی تھی۔
زیدان کو اپنے کمرے میں روشنی زیادہ پسند نہیں تھی، اس لیے پردے بھی ہمیشہ گرے رہتے تھے۔

اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے پردہ ہٹایا اور کھڑکی کا لاک کھولا۔
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر آیا،

کھڑکی واقعی اتنی بڑی تھی کہ کوئی آسانی سے اس میں سے نکل سکتا تھا…
لیکن… کیا واقعی وہ کھڑکی سے گیا؟

اس نے باہر جھانکا۔
نیچے زمین بہت نیچے تھی۔ وہاں سے اترنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
نہ سیڑھی، نہ پائپ، نہ کوئی نشان۔
وہ یہاں سے تو نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ تو وہ گیا کہاں؟

لیکن کیا اُس کے گھر میں دروازہ نہیں تھا جو وہ کھڑکی سے جائے گا۔۔۔؟؟
دِل نے سوال کیا۔۔۔۔
لیکن وہ گیا کہاں۔۔۔؟؟

دِل میں عجیب سی بےچینی ہونے لگی۔۔۔۔ وہ اِدھر اُدھر ٹہلنے لگی پھر یاد آیا۔۔۔ اسوان بھائی کو بتایا۔۔
وہ یہ سوچتی کمرے سے نکلا گئی۔۔۔۔

++++++++++++

کائنات نے آہستگی سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر سے مانوس، پرسکون آواز آئی…
آجاؤ اندر…

وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ اور اسوان اپنے بیڈ پر بیٹھا تھا شاید ابھی ابھی پری سے بات ختم ہوئی تھی۔ اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ دیا۔

خیریت؟ ابھی تم تھوڑی دیر پہلے آتی نا تو میں تمہاری بات پری سے کروا دیتا، ابھی میں اسی سے بات کر رہا تھا۔

اچھا… کیسی ہے وہ؟ کائنات نے پوچھا۔۔۔

بہت خوش ہے۔ وہاں بھی اب ایڈجسٹ ہو گئی ہے۔

ہاں… وہ ہے ہی اتنی اچھی۔

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر اسوان نے نظریں اٹھائیں۔
اچھا، تم بتاؤ، خیریت؟ کوئی پیپر کا مسئلہ ہے یا کالج کا؟

وہ جانتا تھا — کائنات کبھی بلاوجہ اس کے کمرے میں نہیں آتی تھی۔
ہمیشہ کوئی نہ کوئی اُسے پڑھائی کے حوالے سے مسئلہ پیش آتا۔۔۔ کوئی فارم، کوئی کالیج کے مسئلے کی وجہ سے ہی آتی تھی۔۔

میری طرف سے سب خیریت ہے… اور اگر نہ بھی ہو تو اب میں آپ کے پاس اپنے مسئلے لے کر نہیں آؤں گی۔۔
کائنات نے سپاٹ لہجے میں کہا

اسوان نے چونک کر دیکھا۔
کیوں؟ اپنے مسئلے میرے پاس نہیں لاؤ گی تو پھر کس کے پاس لے کر جاؤ گی؟

کائنات کے چہرے پر ایک اداس مگر پُراعتماد مسکراہٹ ابھری۔
کسی کے پاس نہیں۔
میں اپنے مسئلے خود دیکھ لوں گی۔
کیونکہ میرے پاس اب اس دنیا میں کوئی ایسا رشتہ نہیں بچا جس کے پاس جا کر مجھے یہ امید ہو کہ وہ بغیر کسی غرض کے میرا مسئلہ حل کرے گا…

کمرے کی فضا ایک دم بوجھل ہو گئی۔
اسوان نے گہری سانس لی،
ابھی تک ناراض ہو؟

ناراض… نہیں۔ ہمارے بیچ جو رشتہ تھا، میں نے اب وہ ختم کر دیا ہے۔

اسوان کو دکھ ہوا۔۔۔
ایسا مت کہو، میں تمہیں سچ میں اپنی بہن مانتا ہوں…

کائنات نے سرد لہجہ میں کہا
فی الحال ہمارے درمیان ایک ہی رشتہ ہے،
جسے آپ نے زبردستی باندھا ہے۔۔۔
تو بس اسی رشتے کے تحت… میں آپ کے پاس آپ کے بھائی کا مسئلہ لے کر آئی ہوں۔

اسوان کے چہرے پر جو پری سے بات کرتے ہوئے دکھائی دیکھ رہی تھی اب وہ خوشی کہیں کھو سی گئی تھی۔۔۔

کیا ہوا … زیدان کو؟

کائنات کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔
وہ اچانک اپنے کمرے سے غائب ہوگئے ہیں

کیا…؟ اسوان چونکا

میں پیپر دے کر آئی، انہوں نے کہا کھانا لے آؤ۔
میں نیچے گئی، کھانا لیا، واپس آئی،
تو وہ کمرے میں کہیں نہیں تھے۔

تو باہر چلا گیا ہوگا۔
اسوان نے آرام سے کہا

لیکن میں تو نیچے ہی تھی، میں نے اُسے جاتے نہیں دیکھا۔تو وہ باہر کیسے جا سکتے ہیں؟
کائنات کی آواز میں بےچینی تھی

چلا گیا ہوگا، جیسے بھی۔ آ جائے گا تھوڑی دیر میں۔

لیکن کیسے گئے؟ کہاں سے گئے؟

تم جب کچن میں تھی تب وہ نکلا ہوگا۔

لیکن نانی تو وہیں تھیں!
اگر وہ باہر گئے ہوتے تو نانی نے دیکھا ہوتا نا؟

تو کھڑکی سے چلا گیا ہوگا۔

کائنات نے حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں۔
کھڑکی سے؟
کوئی کھڑکی سے کیسے جا سکتا ہے؟

اسوان نے پرسکون لہجے میں کہا،
زیدان جا سکتا ہے۔
وہ کہیں سے بھی جا سکتا ہے…

ہنہ… ان کے گھر میں دروازہ نہیں لگا ہوا جو وہ کھڑکی سے گئے، وہ بھی اتنی اونچی کھڑکی سے۔۔
کائنات نے خفکی سے کہا

ہاں، تم اب پریشان نہیں ہو، ٹھیک ہے؟
اسوان نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔

ہنہ، میں کیوں پریشان ہونے لگی بھلا؟
وہ دروازے سے جائے یا کھڑکی سے، کہیں سے بھی جائے… مجھے کیا؟
وہ تیزی سے بولتی ہوئی پلٹی،
دروازہ کھولا،
اور باہر نکل گئی۔

++++++++++++

ہادی اور زرتاشہ اس وقت مال میں تھے۔ ایک گھنٹہ گزر چکا تھا مگر زرتاشہ کو ابھی تک کوئی سا سوٹ پسند نہیں آیا تھا—وہ دکان سے دکان تک گھوم رہی تھی، آنکھوں میں الجھن، لبوں پر ہلکی سی بےچینی۔ ہادی خاموشی سے اس کے ساتھ اِن دکانوں کے درمیان چل رہا تھا،

ہادی اس کے ساتھ چلتے ہوئے مسکرا کر بولا،
آج کے دن آپکو سوٹ پسند آ ہی جائے گا نا؟

زرتاشہ نے رُک کر اسے دیکھا،
طنز کر رہے ہو؟

ہادی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اُبھری،
نہیں، پوچھ رہا ہوں۔ اگر نہیں پسند آ رہا تو کل آ جاتے ہیں۔

زرتاشہ نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا،
تم عجیب ہو ہادی، کب مذاق کرتے ہو، کب سنجیدہ ہوتے ہو، کچھ سمجھ نہیں آتا۔

ہادی نے نرمی سے کہا،
ابھی تمہیں مجھے سمجھنے میں وقت لگے گا،

زرتاشہ نے گہری سانس لی، پھر کچھ سوچ کر بولی،
ایک بات پوچھوں؟ تم اپنی ماما کو اچھی طرح جانتے ہو نا؟

ہادی نے چونک کر دیکھا،
یہ کیسا سوال ہے؟

بس، بتاؤ نا…

ہاں، جانتا ہوں۔

زرتاشہ کے چہرے پر سنجیدگی اتر آئی،
تو پھر یہ بتاؤ، میں اُنہیں کیسے متاثر کروں؟

ہادی کے ماتھے پر بل پڑ گئے،
کیا مطلب؟ تمہیں انہیں متاثر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

زرتاشہ کی آواز مدھم ہوئی،
پتا نہیں… ان کا رویّہ میرے ساتھ عجیب سا ہے۔ نہ وہ مجھ سے ناراض ہوتی ہیں، نہ خوش۔ نہ ہنستی ہیں، نہ بات کرتی ہیں۔ جیسے میں گھر کی بہو نہیں، کوئی مہمان ہوں۔ صرف ضرورت کی بات کرتی ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میں ان کی نظروں میں موجود ہی نہیں۔۔۔

ہادی نے گہری سانس لی، پھر دھیرے سے بولا،
میری ماما ایسی ہی ہیں… اُنہیں ابھی وقت لگے گا تمہیں اپنی بہو تسلیم کرنے میں۔۔۔

لیکن کیوں؟؟ اگر اُنہیں بھی باقیوں کی طرح غصّہ ہے مُجھے پر۔۔۔تو وہ اپنا غصّہ مُجھے پر نکلتی کیوں نہیں۔۔۔؟؟

وہ ڈرتی ہیں۔ ہادی نے دھیرے سے کہا

کس بات کا ڈر؟ زرتاشہ نے فوراً پوچھا۔

اسی بات کا کہ کہیں تم ان کے منہ بولے بیٹے کو ان سے چھین نہ لو۔ اسی لیے وہ تم سے نہ ناراض ہوتی ہیں، نہ بہت قریب۔ بس ایک درمیانی فاصلہ رکھتی ہیں… 

زرتاشہ نے سر جھکا کر دھیرے سے کہا،
لیکن ہادی… مُجھے وہ ایسے اچھی نہیں لگتی۔۔۔وہ مُجھے سے بات کرے۔۔۔بھلے مُجھے الٹا سیدھا بولے۔۔۔کم سے کم کو اُن کے دل میں ہے وہ تو باہر نکلے۔۔۔میری ساسس بنے ۔۔۔زرتاشہ نے الجھ کر کہا،
ہادی… مجھے بتاؤ نا، میں کیا کروں؟ میں ان کے قریب کیسے آؤں؟

ہادی ہلکا سا مسکرایا،
ارے آپ کو باتیں سننے کا بڑا شوق ہو رہا ہے آج… اجازت ہو تو میں بھی دو چار باتیں سنا دوں؟

زرتاشہ نے خفگی سے کہا،
مذاق مت کرو ہادی، میں سنجیدہ ہوں۔

ہادی نے کندھے اچکائے، تو پھر کچھ بھی مت کرو۔ اچھا ہی ہے نا؟ وہ بھی سکون میں ہیں، آپ بھی، اور میں بھی۔

زرتاشہ نے حیرت سے اسے دیکھا،
کیا مطلب؟

ہادی نے نظر ہٹا لی،
اگر وہ تمہاری ساس بن گئیں، یا تمہاری دوست بن گئیں، تو مسئلہ میرے لیے ہی ہوگا۔

اُف، عجیب انسان ہو تم۔۔۔ زرتاشہ جھنجھلا کر بولی۔
میں چاہتی ہوں سب ٹھیک ہو جائیں، سب نارمل سا ہو، اور تم ہو کہ—

ہادی نے آہستگی سے بات کاٹی،
سب ٹھیک ہی تو ہے، زرتاشہ۔ بس تم تھوڑا جلدی چاہتی ہو۔ وقت لگتا ہے دلوں کو نرم ہونے میں۔

زرتاشہ نے تھوڑا خاموش رہ کر کہا،
اچھا، چھوڑو۔ میں آنٹی کو خود دیکھ لوں گی۔

ہادی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
جیسا آپ کہیں۔

+++++++++++++

وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو قدموں میں جیسے غصہ لپٹا ہوا تھا۔
دروازہ زور سے بند کیا۔۔۔

کائنات تیز سانس لیتی، الجھی ہوئی سی بولی،
عجیب ہی ہیں دونوں بھائی…
جب باہر ہی جانا تھا، تو مجھ سے کھانا کیوں منگوایا تھا؟

غصہ جیسے دل میں ابلتا ہوا شور مچا رہا تھا۔
وہ بیڈ کے قریب آئی، پھر چکر کاٹتی ہوئی صوفے پر جا بیٹھی۔
چہرے پر خفگی، آنکھوں میں حیرت۔

پھر اچانک دل نے ایک سرگوشی کی
کیا وہ واقعی باہر گئے ہیں…؟

یہ سوچ آتے ہی غصہ کچھ لمحوں کے لیے کم ہوا،
اور تجسس نے جگہ لے لی۔

وہ صوفے پر نیم دراز تھی کہ اچانک نظر سامنے دروازے پر جا ٹکی۔۔۔
دروازے پر وہی جگہ…
جہاں صبح اس نے ایک پرچی چپکائی تھی۔
میں پیپر دینے جا رہی ہوں
وہی لفظ، وہی کاغذ، وہی انداز۔۔۔
مگر اب…
اس کے نیچے ایک نیا پیغام چپکا ہوا تھا۔

کائنات کے چہرے کا رنگ لمحے بھر میں بدل گیا۔
وہ آہستہ آہستہ اٹھی، دروازے کے قریب گئی،
اور پرچی کو غور سے دیکھا۔

اس پر لکھا تھا۔۔۔
میں باہر جا رہا ہوں۔
اور جو کھانا تم میرے لیے لائی ہو،
وہ خود کھا لینا…

ایک لمحے کے لیے وہ پلکیں جھپکنا بھول گئی۔
پھر اس کے چہرے پر حیرت اور غصے کا ملا جلا رنگ ابھرا۔
لکھائی تو بہت خوبصورت ہے ان کی…
اس نے خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔

پھر اگلے ہی لمحے اس کے اندر کا غصہ پھر جاگ اٹھا۔
حد ہے۔۔۔۔
منہ سے بتا کر نہیں جا سکتے تھے کیا؟
یہ کیسی عجیب حرکت ہے؟
اور… یہ پرچی ابھی تک تھی کہاں؟ مجھے پہلے دکھی کیوں نہیں؟

وہ جھنجھلا کر صوفے پر واپس بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد جو کھانا وہ زیدان کے لیے لائی تھی کھانے لگی۔۔۔اب صبح سے اب تک کچھ نہیں کھائے تھا بھوک تو لگنی ہی تھی۔۔۔
کھانا کھا کر اُس نے کپڑے چینج کیے اور بیڈ پر نیم دراز ہوگئی۔۔۔۔

+++++++++++++

کچھ دیر مال کے شور میں گھومتے رہنے کے بعد آخرکار زرتاشہ کو ایک سوٹ پسند آ ہی گیا۔
ہلکی سی نیلی چھاپ والا، نفیس سا کپڑا — بالکل ویسا جیسا وہ چاہتی تھی۔

اسی وقت ہادی کے فون پر کال آئی۔
وہ فون کان سے لگاتے ہوئے بولا،
آپ یہ دیکھ لو، پسند ہے تو پیک کروا لو۔ میں ابھی بات کر کے آتا ہوں۔

زرتاشہ نے ہلکا سا سر ہلایا،
اوکے۔

ہادی کے جانے کے کچھ ہی لمحے بعد دکاندار نے نرمی سے کہا،
میم، یہ سوٹ پیک کروا دوں؟

ہاں، کروا دیں۔ زرتاشہ نے مسکرا کر جواب دیا۔

دکاندار نے ذرا ہچکچاتے ہوئے کہا،
میم… دراصل ایک چھوٹی سی پرابلم ہے۔

زرتاشہ نے چونک کر پوچھا،
کیا مطلب؟ کون سی پرابلم؟

وہ بولا،
میم، ویسے تو آپ بہت پڑھی لکھی لگ رہی ہیں…

زرتاشہ کے چہرے پر خفیف سی حیرت ابھری،
جی؟

تو آپ کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا نا… مگر میں بتا دوں، اس سوٹ میں آستین نہیں ہیں۔

کیا؟ آستین نہیں ہیں؟

جی نہیں، میم۔ یہ ڈیزائنر سوٹ ہے، بہت مہنگا اور بہت ڈیمانڈ والا۔ ڈیزائنر نے جیسا بنایا ہے، ویسا ہی آتا ہے — بغیر آستین کے۔

زرتاشہ نے دھیرے سے کہا،
یعنی اس میں کسی صورت آستین لگ نہیں سکتیں؟

“نو میم، یہ possible نہیں ہے۔

زرتاشہ نے گہری سانس لی، پھر ہلکی سی خفگی سے بولی،
تو آپ مجھے یہ بات سیدھے سیدھے بھی بتا سکتے تھے۔ یہ ‘آپ پڑھی لکھی لگتی ہیں’ والا جملہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟

دکاندار ذرا گھبرا گیا،
میم، میرا مطلب تھا کہ آپ پڑھی لکھی ہیں، تو آپ کو ان باتوں سے فرق نہیں پڑے گا۔۔۔

زرتاشہ نے پلکیں جھپکائیں، جیسے اس کے الفاظ سمجھنے میں ایک لمحہ لگا ہو۔
پھر وہ دھیرے سے بولی —
واہ… مطلب آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں پڑھ لکھی ہوں،
تو مجھے یہ بغیر آستین کے کپڑے پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا؟

اور اگر میں پڑھ لکھی نہ ہوتی… وہ بولی، تو تب شاید آپ سمجھتے کہ مجھے یہ پہننے میں مسئلہ ہو سکتا ہے؟

دکاندار نے بےنیازی سے کندھے اُچکائے،
جی میم، ادھر تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگ آتے ہیں۔..

یہ انسان کی اپنی پسند ہوتی ہے، کہ وہ کیا پہنے اور کیسا پہنے۔
اس کی آواز میں سکون تھا، مگر لہجے میں ایک مضبوطی چھپی ہوئی تھی۔
اس کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پڑھائی انسان کو سمجھ دیتی ہے،
سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں۔

دکاندار نے شرمندگی سے سر ہلایا۔۔۔ پھر آہستہ سے کہا،
اچھا میم… میں سمجھ گیا آپ کی بات۔
اب بتائیں، یہ سوٹ پیک کر دوں یا نہیں؟

دکاندار کی بات سن زرتاشہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔
سوٹ اسے واقعی بہت پسند آیا تھا۔
اس کا رنگ، اس کی بناوٹ، اس کی نزاکت — سب کچھ اس کے پسند کے بالکل مطابق تھا۔۔۔

اور اصل بات یہ تھی کہ
زرتاشہ کو ایسے کپڑے پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
نہ کبھی تھا۔

لیکن…
ہادی؟

ہادی کو ہرگز ایسے کپڑے نہیں پسند ہوگئیں۔۔۔اور وہ تو حافظ قرآن بھی ہے۔۔ وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ اُس کی بیوی ایسے کپڑے پہنے،
ہادی نے کپڑے کے حوالے سے اُس سے کبھی اس طرح کی بات ابھی تک تو کی نہیں تھی۔۔۔ یہ اُس کا اپنا خیال تھا۔۔۔۔

وہ ہادی کا سوچتے پھر زیرِ لب بولی،
عجیب مصیبت میں پھنس گئی ہوں میں…

کہاں سوچا تھا ارسم سے شادی کروں گی… اچھی زندگی گزاروں گی…
اور یہ دیکھو۔۔۔۔
میں کہاں کی کہاں آ گئی۔
ہادی کی بیوی بن گئی… ایک تو وہ ڈاکٹر۔۔۔ پھر حافظ قرآن۔۔۔ پھر نہ ہینڈسم ۔۔۔

اس کے دل میں دکھ تھا…
حیرانی تھی۔
اپنی قسمت پر، اپنے سفر پر، اور اس موڑ پر کھڑی اپنی ذات پر۔۔

زرتاشہ نے سوٹ کی طرف دوبارہ دیکھا۔
نیلے رنگ میں وہی نرمی تھی، وہی کشش جو پہلی نظر میں دل کھینچ لیتی ہے۔
وہ بے اختیار سوچنے لگی…

کیا اب وہ کسی اور کی سنے گی۔۔۔ اپنی پسند بدلے گی۔۔۔

اس نے خود ہی نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔
وہ ایسی لڑکی کبھی نہیں رہی تھی۔

اسے وہ وقت یاد آیا جب کالج میں سب لڑکیاں ایک جیسے ڈیزائن کے کپڑے پہنتی تھیں،
مگر زرتاشہ اپنے کپڑے خود سلواتی تھی —
اپنے انداز سے، اپنی پسند سے۔
لوگ کہتے تھے
ٹوپ ٹرینڈ یہی ہے، سب یہ پہن رہی ہیں۔
اور وہ ہنس کر کہتی
میرے لیے ‘سب’ کا کیا پہننا اہم نہیں… میں کیا پہننا چاہتی ہوں، یہ زیادہ اہم ہے۔

وہ اسی زرتاشہ تھی،
جو اپنی پسند، اپنی پسندیدگی اور اپنی مرضی پر اڑ کر کھڑی رہتی تھی —
نہ کسی کے خوف میں بدلتی،
نہ کسی کے کہنے پر جھکتی۔

لیکن آج…
زندگی تبدیلی کا تقاضا کر رہی تھی۔

ہادی کا خیال درمیان میں آ کر سب کچھ بدل دیتا تھا۔
مگر ہادی کا خیال بھی ایسا نہیں تھا کہ وہ زرتاشہ کو اپنی ذات ختم کرنے پر مجبور کرے —
ہادی کبھی ایسا نہیں چاہتا۔
یہ تو زرتاشہ خود سوچ رہی تھی…
اپنے دل میں، اپنے مقام سے۔

دکاندار اب بھی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ دھیرے سے دوبارہ بولا۔۔۔
میم… پھر میں سوٹ رکھ دوں؟ یا پیک…؟

رہنے دو… مجھے کوئی اور سوٹ دکھا دو۔
زرتاشہ نے سادے سے لفظوں میں جواب دیا۔۔۔۔

دکاندار فوراً دوسرے سوٹ نکالنے لگا،
لیکن زرتاشہ کی نظر کہیں اور تھی۔۔۔

++++++++++++++

کائنات اُس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب میں گم تھی، مگر اچانک اُس کی نظر گھڑی پر پڑی۔
رات کے دس بج چکے تھے…
دل بےچین سا ہوا۔ زیدان صبح سے گیا ہوا تھا اور اب تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ ایک انجانی گھبراہٹ اُس کے دل میں اُتری۔

وہ آہستگی سے بستر سے اٹھی، کتاب ایک طرف رکھی اور بےچینی کے قدموں سے کمرے سے باہر نکل آئی۔

وہ سیدھی اسوان کے کمرے کے دروازے تک آئی اور ہلکے سے ناک کیا۔

اندر سے اسوان کی مانوس سی آواز آئی،
آجاؤ… اندر۔

دروازہ دھکیل کر وہ اندر آئی تو دیکھا، پریشے بھی وہاں موجود تھی۔ شاید ابھی ابھی اسوان اسے میکے سے واپس لایا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سنوار رہی تھی،

اسوان نے کائنات کو دیکھا، کر کہا
کیا ہوا، کائنات؟

اس نے لب بھینچتے ہوئے کہا،
مجھے اُن کی فکر ہورہی ہے… وہ صبح سے گئے ہوئے ہے، اب تک گھر نہیں آئے۔

اسوان نے چونک کر پوچھا،
کیا؟ اب تک نہیں آیا؟

نہیں۔۔۔ اس کے لہجے میں لرزش تھی۔

اچھا، تم فکر نہ کرو۔ میں ابھی جاتا ہوں۔ اس کے دوستوں سے پتا کرتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ جلدی سے کمرے سے باہر چلا گیا، جیسے اسے بھی بے چینی نے گھیر لیا ہو۔

کائنات دروازے میں ہی کھڑی رہ گئی۔ پلٹنے ہی لگی تھی کہ اچانک پیچھے سے پریشے کی نازک سی آواز آئی۔

ہائے ہائے۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے ہائے کا اشارہ کرتی مسکرا رہی تھی۔

اور کائنات چونک کر اس کی طرف مڑی…
اور اُس نے بھی اُسے کے انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا
بائے بائے۔۔۔۔۔
اور وہ بائے بائے کرتی پلٹ گئی۔۔۔۔۔

+++++++++++++

رن وے پر جہاز لینڈ ہونے کا اعلان ہوا تو لوگوں کا ہجوم قدرے متحرک ہوگیا۔
کانچ کی دیواروں کے اُس پار روشنیوں کا ایک ہالہ سا پھیل گیا تھا۔

اسی رش میں زارا اور پری آہستگی سے چلتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
ان کے تھکے چہرے مسافرت کی چپ میں لپٹے ہوئے تھے، لیکن آنکھوں میں گھر پہنچنے کی ایک عجیب سی چمک تھی۔

آخر ہم آگئے… پری نے خوشی سے کہا۔۔۔

زارا نے نیم مسکراہٹ کی،
ہاں… بس اب جلدی سے گھر پہنچ جائیں،

ٹرمینل کے باہر پہنچ کر ان کی نظریں بےتابی سے چہرے تلاش کرنے لگیں۔
چند ثانیے بعد زارا کے چہرے پر پہچان کی روشنی سی پھوٹی۔

وہ دیکھو…
اس نے آگے کی طرف اشارہ کیا۔

سامنے زینب بیگم کھڑی تھیں،
سلیقے سے لپٹا ہوا دوپٹہ، چہرے پر مادری شفقت کی ایک نرم سی لہر۔
ان کے برابر عدنان صاحب کھڑے تھے، گہری نگاہوں سے رش کو دیکھتے ہوئے۔

جیسے ہی زارا اور پری ان کے قریب پہنچیں، زنیب بیگم کے چہرے پر ایک خوشگوار سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
الحمدللہ، تم دونوں خیریت سے پہنچ گئیں…

عدنان صاحب نے آگے بڑھ کر بیگز تھام لیے۔
چلو بچوں، دیر ہو رہی ہے۔ گھر چل کر آرام کرو،

اپنے بابا کو تو نہیں بتایا نہ۔۔۔؟؟
پری نے پوچھا۔۔۔۔

زنیب بیگم فوراََ بولی۔۔۔
نہیں۔۔۔نہیں بتایا۔۔۔۔

بس میں اب بابا کو سرپرائز دونگی۔۔۔۔ بابا ایک دام مُجھے دیکھتے ہی خوش ہوجائے گے۔۔۔۔
پری خوشی سے کہتی گاڑی کی طرف بھاگنے لگی۔۔۔۔

پری آرام سے۔۔۔۔
زارا نے پیچھے سے آواز لگائی۔۔۔
ایئرپورٹ کی خنکی کو چیرتے ہوئے وہ چاروں پارکنگ کی طرف بڑھنے لگے…

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *